#1625
Anas b. Malik reported:When the Messenger of Allah (ﷺ) set out on a journey before the sun declined (from the meridian), he delayed the noon prayer till the afternoon prayer, and then dismounted (his ride) and combined them (noon and afternoon prayers), but if the sun had declined before his setting out on a journey, he observed the noon prayer and then mounted (the ride)
مفضل بن فضالہ نے عقیل سے ، انھوں نے ابن شہاب سے اور انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ کرتے تو ظہر کو اس وقت تک موخر فرماتے کہ عصر کا وقت ہوجاتا ، پھر آپ ( سواری سے ) اترتے ، دونوں نمازوں کوجمع کرتے ، اور اگر آپ کے کوچ کرنے سے پہلے سورج ڈھل جاتا تو ظہر پڑھ کر سوار ہوتے ۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ، - يَعْنِي ابْنَ فَضَالَةَ - عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ أَنْ تَزِيغَ الشَّمْسُ أَخَّرَ الظُّهْرَ إِلَى وَقْتِ الْعَصْرِ ثُمَّ نَزَلَ فَجَمَعَ بَيْنَهُمَا فَإِنْ زَاغَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَرْتَحِلَ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ رَكِبَ .
#1626
Anas reported:When the Messenger of Allah (ﷺ) intended to combine two prayers on a journey, he delayed the noon prayer till came the early time of the afternoon prayer, and then combined the two
لیس بن سعد نے عقیل بن خالد سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ روایت کی کہ ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں جب دو نمازوں کو جمع کرنا چاہتے توظہر کو موخر کرتے حتیٰ کہ عصر کا اول وقت ہوجاتا ، پھر آپ دونوں نمازوں کو جمع کرتے ۔
وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ الْمَدَايِنِيُّ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عُقَيْلِ بْنِ خَالِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَرَادَ أَنْ يَجْمَعَ بَيْنَ الصَّلاَتَيْنِ فِي السَّفَرِ أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى يَدْخُلَ أَوَّلُ وَقْتِ الْعَصْرِ ثُمَّ يَجْمَعُ بَيْنَهُمَا .
#1627
Anas reported that when the Messenger of Allah (ﷺ) had to set out on a journey hurriedly, he delayed the noon prayer to the earlier time for the afternoon prayer, and then he would combine them, and he would delay the sunset prayer to the time when the twilight would disappear and then combine it with the 'Isha' prayer
جابر بن اسماعیل نے بھی عقیل بن خالد سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب سفر میں جلدی ہوتی تو ظہر کو عصر کے اول وقت تک موخر کردیتے ، پھر دونوں کو جمع کرلیتے اور مغرب کو موخر کرتے اور عشاء کے ساتھ اکٹھا کرکے پڑھتے جب شفق غائب ہوجاتی ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِذَا عَجِلَ عَلَيْهِ السَّفَرُ يُؤَخِّرُ الظُّهْرَ إِلَى أَوَّلِ وَقْتِ الْعَصْرِ فَيَجْمَعُ بَيْنَهُمَا وَيُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ حَتَّى يَجْمَعَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْعِشَاءِ حِينَ يَغِيبُ الشَّفَقُ .
#1628
Ibn 'Abbas reported:The Messenger of Allah (ﷺ) observed the noon and afternoon prayers together, and the sunset and Isha' prayers together without being in a state of fear or in a state of journey
امام مالک ؒ نے ابو زبیر سے ، انھوں نے سعید بن جبیر سے اور انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اور عصر کو اکھٹا پڑھا اور مغرب اور عشاء کو اکھٹا پڑھا کسی خوف اور سفر کے بغیر ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا فِي غَيْرِ خَوْفٍ وَلاَ سَفَرٍ .
#1629
Ibn 'Abbas reported:The Messenger of Allah (ﷺ) observed the noon and afternoon prayers together in Medina without being in a state of fear or in a state of journey. (Abu Zubair said: I asked Sa'id [one of the narrators] why he did that. He said: I asked Ibn 'Abbas as you have asked me, and he replied that he [the Holy Prophet] wanted that no one among his Ummah should be put to [unnecessary] hardship
زہیر نے کہا : ہمیں ابو زبیر نے سعید بن جبیر سے حدیث سنائی ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اور عصر کو مدینہ میں کسی خوف اور سفر کے بغیر جمع کرکے پڑھا ۔ ابوزبیر نے کہا : میں نے ( ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شاگرد ) سعید سے پوچھا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم ؤ نے ایسا کیوں کیاتھا؟انھوں نےجواب دیا : میں بھی حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوا ل کیاتھا جیسے تم نے مجھ سے سوال کیا ہے تو انھوں نے کہا : آپ نے چاہا کہ اپنی امت کےکسی فرد کو تنگی اور دشواری میں نہ ڈالیں ۔
وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، وَعَوْنُ بْنُ سَلاَّمٍ، جَمِيعًا عَنْ زُهَيْرٍ، - قَالَ ابْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، - حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا بِالْمَدِينَةِ فِي غَيْرِ خَوْفٍ وَلاَ سَفَرٍ . قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ فَسَأَلْتُ سَعِيدًا لِمَ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ كَمَا سَأَلْتَنِي فَقَالَ أَرَادَ أَنْ لاَ يُحْرِجَ أَحَدًا مِنْ أُمَّتِهِ .
#1630
Ibn 'Abbas reported that the Messenger of Allah (ﷺ) combined the prayers as he set on a journey in the expedition to Tabuk. He combined the noon prayer with the afternoon prayer and the sunset prayer with the 'Isha' prayer. Sa'id (one of the rawis) said to Ibn 'Abbas:What prompted him to do this? He said: He wanted that his Ummah should not be put to (unnecessary) hardship
قزہ بن خالد نے کہا : ہمیں ابو زبیر نے حدیث بیا ن کی ، کہا : ہمیں سعید بن جبیر نے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا : ہمیں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیا ن کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے دوران ایک سفر میں نمازوں کو جمع کیا ، ظہراورعصر کو اکھٹا پڑھا اور مغرب اور عشاء کو اکھٹا پڑھا ۔ سعید نے کہا میں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیوں کیا تھا؟انھوں نے کہا : آپ نے چاہا اپنی امت کو حرج ( اور تنگی ) میں نہ ڈالیں ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - حَدَّثَنَا قُرَّةُ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَمَعَ بَيْنَ الصَّلاَةِ فِي سَفْرَةٍ سَافَرَهَا فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَجَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ . قَالَ سَعِيدٌ فَقُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ مَا حَمَلَهُ عَلَى ذَلِكَ قَالَ أَرَادَ أَنْ لاَ يُحْرِجَ أُمَّتَهُ .
#1631
Mu'adh reported:We set out with the Messenger of Allah (ﷺ) on the Tabuk expedition, and he observed the noon and afternoon prayers together and the sunset and 'Isha' prayers together
زہیر نے کہا : ہمیں ابو زبیر نے ابو طفیل عامر سے حدیث سنائی اور انھوں نے حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ہم غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے تو ( اس دوران میں ) آپ ظہر اور عصر اکھٹی پڑھتے رہے اور مغرب اور عشاء کو جمع کرتے رہے ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَامِرٍ عَنْ مُعَاذٍ، قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَكَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا .
#1632
Mu'adh b. Jabal reported:The Messenger of Allah (ﷺ) combined in the expedition to Tabuk the noon prayer with the afternoon prayer and the sunset prayer with the 'Isha' prayer. He (one of the narrators) said: What prompted him to do that? He (Mu'adh) replied that he (the Holy Prophet) wanted that his Ummah should not be put to (unnecessary) hardship
قرہ بن خالد نے کہا : ہمیں ابو زبیر نے حدیث بیا ن کی ، کہا : ہمیں عامر بن واثلہ ابو طفیل نے حدیث بیا ن کی ، کہا : ہمیں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک میں ظہر ، عصر کو اور مغرب ، عشاء کو جمع کیا ۔ ( عامر بن واثلہ نے ) کہا : میں نے ( حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ) پوچھا : آپ نے ایسا کیوں کیا؟تو انھوں نے کہا : آپ نے چاہا کہ اپنی امت کو دشواری میں نہ ڈالیں ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ وَاثِلَةَ أَبُو الطُّفَيْلِ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، قَالَ جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَبَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ . قَالَ فَقُلْتُ مَا حَمَلَهُ عَلَى ذَلِكَ قَالَ فَقَالَ أَرَادَ أَنْ لاَ يُحْرِجَ أُمَّتَهُ .
#1633
Ibn 'Abbas reported that the Messenger of Allah (ﷺ) combined the noon prayer with the afternoon prayer and the sunset prayer with the 'Isha' prayer in Medina without being in a state of danger or rainfall. And in the hadith transmitted by Waki' (the words are):" I said to Ibn 'Abbas: What prompted him to do that? He said: So that his (Prophet's) Ummah should not be put to (unnecessary) hardship." And in the hadith transmitted by Mu'awiya (the words are):" It was said to Ibn 'Abbas: What did he intend thereby? He said he wanted that his Ummah should not be put to unnecessary hardship
ابو معاویہ اور وکیع دونوں نے اعمش سے روایت کی ، انھوں نے حبیب بن ثابت سے انھوں نے سعید بن جبیر سے اور انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر ، عصر اور مغرب ، عشاء کو مدینہ میں کسی خوف اور بارش کے بغیر جمع کیا ۔ وکیع کی روایت میں ہے ( سعید نے ) کہا : میں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیوں کیا؟ انھوں نے کہا : تاکہ اپنی امت کو دشواری میں مبتلا نہ کریں اور ابو معاویہ کی حدیث میں ہے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا گیا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا چاہتے ہوئے ایسا کیا؟انھوں نے کہا : آپ نے چاہا اپنی امت کو دشواری میں نہ ڈالیں ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ - وَاللَّفْظُ لأَبِي كُرَيْبٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، كِلاَهُمَا عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِالْمَدِينَةِ فِي غَيْرِ خَوْفٍ وَلاَ مَطَرٍ . فِي حَدِيثِ وَكِيعٍ قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ لِمَ فَعَلَ ذَلِكَ قَالَ كَىْ لاَ يُحْرِجَ أُمَّتَهُ . وَفِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ قِيلَ لاِبْنِ عَبَّاسٍ مَا أَرَادَ إِلَى ذَلِكَ قَالَ أَرَادَ أَنْ لاَ يُحْرِجَ أُمَّتَهُ .
#1634
Ibn 'Abbas reported:I observed with the Messenger of Allah (ﷺ) eight (rak'ahs) in combination, and seven rak'ahs in combination. I (one of the narrators) said: O Abd Sha'tha', I think that he (the Holy Prophet) had delayed the noon prayer and hastened the afternoon prayer, and he delayed the sunset prayer and hastened the 'Isha' prayer. He said: I also think so
سفیان بن عینیہ نے عمرو بن دینار سے انھوں نے ( ابوشعشاء ) جابر بن زید سے اور انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آٹھ رکعات ( ظہر اورعصر ) اکھٹی اور سات رکعات ( مغرب اور عشاء ) اکھٹی پڑھیں ۔ ( عمرو نے کہا ) میں نے ابو شعشاء ( جابر بن زید ) سے کہا کہ میرا خیال ہے آپ نے ظہر کو موخر کیا اور عصر جلدی پڑھی اور مغرب کو موخر کیا اور عشاء میں جلدی کی ۔ انھوں نے کہا : میرا بھی یہی خیال ہے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثَمَانِيًا جَمِيعًا وَسَبْعًا جَمِيعًا . قُلْتُ يَا أَبَا الشَّعْثَاءِ أَظُنُّهُ أَخَّرَ الظُّهْرَ وَعَجَّلَ الْعَصْرَ وَأَخَّرَ الْمَغْرِبَ وَعَجَّلَ الْعِشَاءَ . قَالَ وَأَنَا أَظُنُّ ذَاكَ .
#1635
Ibn 'Abbas reported that the Messenger of Allah (ﷺ) observed in Medina seven (rak'ahs) and eight (rak'ahs), i. e. (be combined) the noon and afternoon prayers (eight rak'ahs) and the sunset and 'Isha' prayers (seven rak'ahs)
حماد بن زید نے عمرو بن دینار سے انھوں نے جابر بن زید سے اور انھوں نے حضرت ا بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں سات رکعات اور آٹھ رکعات نماز پڑھی ۔ یعنی ظہر ، عصر ، مغرب اور عشاء ( ملا کرپڑھیں ) ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى بِالْمَدِينَةِ سَبْعًا وَثَمَانِيًا الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ .
#1636
Abdullah b. Shaqiq reported:Ibn 'Abbas one day addressed us in the afternoon (after the afternoon prayer) till the sun disappeared and the stars appeared, and the people began to say: Prayer, prayer. A person from Banu Tamim came there. He neither slackened nor turned away, but (continued crying): Prayer, prayer. Ibn 'Abbas said: May you be deprived of your mother, do you teach me Sunnah? And then he said: I saw the Messenger of Allah (ﷺ) combining the noon and afternoon prayers and the sunset and 'Isha' prayers. 'Abdullah b. Shaqiq said: Some doubt was created in my mind about it. So I came to Abu Huraira and asked him (about it) and he testified his assertion
زبیر بن خریت نے عبداللہ بن شفیق سے روایت کی انھوں نے کہا : ایک دن حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ عصر کے بعد ہمیں خطاب کرنے لگے حتیٰ کہ سورج غروب ہوگیا اور ستارے نمودار ہوگئے اور لوگ کہنے لگے : نماز ، نماز! پھر ان کے پاس بنو تمیم کا ایک آدمی آیا جو نہ تھکتا تھا اور نہ باز آرہاتھا نماز ، نماز کہے جارہاتھا ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا تیری ماں نہ ہو!تو مجھے سنت سکھا رہا ہے؟پھر کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے ظہر وعصر کو اور مغرب وعشاء کو جمع کیا ۔ عبداللہ بن شفیق نے کہا : تو اس سے میرے دل میں کچھ کھٹکنے لگا ، چنانچہ میں حضر ت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے پوچھا تو ا نھوں نے ان ( ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کے قول کی تصدیق کی ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْخِرِّيتِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ خَطَبَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ يَوْمًا بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَبَدَتِ النُّجُومُ وَجَعَلَ النَّاسُ يَقُولُونَ الصَّلاَةَ الصَّلاَةَ - قَالَ - فَجَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ لاَ يَفْتُرُ وَلاَ يَنْثَنِي الصَّلاَةَ الصَّلاَةَ . فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَتُعَلِّمُنِي بِالسُّنَّةِ لاَ أُمَّ لَكَ . ثُمَّ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ فَحَاكَ فِي صَدْرِي مِنْ ذَلِكَ شَىْءٌ فَأَتَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ فَسَأَلْتُهُ فَصَدَّقَ مَقَالَتَهُ .
#1637
Abdullah b. Shaqiq al-'Uqaili reported:A person said to Ibn 'Abbas (as he delayed the prayer): Prayer. He kept silence. He again said: Prayer. He again kept silence, and he again cried: Prayer. He again kept silence and said: May you be deprived of your mother, do you teach us about prayer? We used to combine two prayers during the life of the Messenger of Allah (ﷺ)
عمران بن خدیرنے عبداللہ بن شقیق عقیلی سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ایک شخص نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا : نماز! آپ خاموش رہے اس نے پھر کہا : نماز! آپ پھر چپ رہے ، اس نے پھر کہا : نماز! تو آپ ( کچھ دیر ) چپ رہے ، پھر فرمایا : تیری ماں نہ ہو! کیاتو ہمیں نماز کی تعلیم دیتا ہے؟ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں دو نمازیں جمع کرلیاکرتے تھے ۔
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ، قَالَ قَالَ رَجُلٌ لاِبْنِ عَبَّاسٍ الصَّلاَةَ فَسَكَتَ . ثُمَّ قَالَ الصَّلاَةَ . فَسَكَتَ ثُمَّ قَالَ الصَّلاَةَ فَسَكَتَ . ثُمَّ قَالَ لاَ أُمَّ لَكَ أَتُعَلِّمُنَا بِالصَّلاَةِ وَكُنَّا نَجْمَعُ بَيْنَ الصَّلاَتَيْنِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
#1638
Abdullah reported:None of you should give a share to Satan out of your self. He should not deem that it is necessary for him to turn but to the right only (after prayer). I saw the Messenger of Allah (ﷺ) turning to the left
ابو معاویہ اور وکیع نے اعمش سے ، انھوں نے عمارہ سے ، انھوں نے اسود سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( بن مسعود ) سے روایت کی ، کہا : تم میں سے کوئی شخص اپنی ذات میں سے شیطان کاحصہ نہ رکھے ( وہم اور وسوسے کا شکار نہ ہو ) یہ خیال نہ کرے کہ اس پر لازم ہے کہ وہ نماز سےدائیں کے علاوہ کسی اور جانب سے رخ نہ موڑے ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اکثر دیکھا تھا ، آپ بائیں جانب سے رخ مبارک موڑتے تھے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ لاَ يَجْعَلَنَّ أَحَدُكُمْ لِلشَّيْطَانِ مِنْ نَفْسِهِ جُزْءًا لاَ يَرَى إِلاَّ أَنَّ حَقًّا عَلَيْهِ أَنْ لاَ يَنْصَرِفَ إِلاَّ عَنْ يَمِينِهِ أَكْثَرُ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْصَرِفُ عَنْ شِمَالِهِ .
#1639
A hadith like this has been narrated by A'mash, with the same chain of transmitters
جریراور عیسیٰ بن یونس نے اسی سند کے ساتھ سابقہ حدیث کے مانند حدیث بیان کی ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ، ح وَحَدَّثَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، جَمِيعًا عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
#1640
Suddi reported:I asked Anas how I should turn-to the right or to the left-when I say my prayers. He said: I have very often seen the Messenger of Allah (ﷺ) turning to the right
ابو عوانہ نے ( اسماعیل بن عبدالرحمان ) سدی سے روایت کہ ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا : جب میں نماز پڑھ لوں تو اپنارخ کیسے موڑوں ، اپنی دائیں طرف یا اپنی بائیں طرف سے؟انھوں نے کہا : میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ تردائیں طرف سے رخ پھیرتے دیکھا ہے ۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ السُّدِّيِّ، قَالَ سَأَلْتُ أَنَسًا كَيْفَ أَنْصَرِفُ إِذَا صَلَّيْتُ عَنْ يَمِينِي أَوْ عَنْ يَسَارِي قَالَ أَمَّا أَنَا فَأَكْثَرُ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْصَرِفُ عَنْ يَمِينِهِ .
#1641
Anas reported:The Apostle of Allah (ﷺ) used to turn to the right (at the end of the prayer)
سفیان بن عینیہ نے سدی سے اور انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دائیں طرف سے رخ پھیراکرتے تھے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَنْصَرِفُ عَنْ يَمِينِهِ .
#1642
Bara' reported:When we prayed behind the Messenger of Allah (ﷺ) we cherished to be on his right side so that his face would turn towards us (at the end of the prayer), and he (the narrator) said: I heard him say: O my Lord! save me from Thy torment on the Day when Thoil, wouldst raise or gather Thy servants
ا بن ابی زائدہ نے مسعر سے ، انھوں نے ثابت بن عبید سے انھوں نے حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے ( عبید ) سے اور انھوں نے حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تو پسند کرتے تھے کہ ہم آپ کی دائیں طرف ہوں ، آپ ہماری طرف رخ فرمائیں ۔ ( براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : میں نے ( ایسے ہی ایک موقع پر ) آپ کو یہ فرماتے ہوئےسنا : " اے میرےرب ! تو جب اپنے بندوں کو اٹھائے گا یا جمع کرے گا اس دن مجھے اپنے عذاب سے بچانا ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ ابْنِ الْبَرَاءِ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَحْبَبْنَا أَنْ نَكُونَ عَنْ يَمِينِهِ يُقْبِلُ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ - قَالَ - فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ " رَبِّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ - أَوْ تَجْمَعُ - عِبَادَكَ " .
#1643
This hadith has been reported by Mis'ar with the same chain of transmitters, but he made no mention of:" His face would turn towards us
وکیع نے مسعر سے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کی اور ا نھوں نےيُقْبِلُ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ ( آپ ہماری طرف رخ فرمائیں ) کے الفاظ ذکر نہیں کئے ۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ يُقْبِلُ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ .
#1644
Abu Huraira reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:When the prayer commences then there is no prayer (valid), but the obligatory prayer. This hadith has been narrated by Warqa' with the same chain of transmitters
شعبہ نے ورقاء سے انھوں نے عمرو بن دینار سے ، انھوں نے عطاء بن یسار سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، " جب نماز کے لئے اقامت ہوجائے تو فرض نماز کے سوا کوئی نماز نہیں ۔
وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ وَرْقَاءَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَلاَ صَلاَةَ إِلاَّ الْمَكْتُوبَةُ " . وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَابْنُ رَافِعٍ قَالاَ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ حَدَّثَنِي وَرْقَاءُ بِهَذَا الإِسْنَادِ .
#1645
Abu Huraira reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:When the prayer commences, there is no prayer but the obligatory one
(شعبہ کی بجائے ) شبابہ نے ورقاء سے یہی روایت اسی سند کے ساتھ بیان کی ہے ۔
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ، يَقُولُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَلاَ صَلاَةَ إِلاَّ الْمَكْتُوبَةُ " .
#1646
A hadith like this has been reported by Ishaq with the same chain of transmitters
روح نے کہا : ہمیں زکریا بن اسحاق نے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا ، ہمیں عمرو بن دینار نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : میں نے عطاء بن یسار سے سنا وہ کہہ رہے تھے : حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " جب نماز کے لئے اقامت کہی جائے تو فرض نماز کے سوا کوئی نماز نہیں ہوتی ۔
وَحَدَّثَنَاهُ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
#1647
This hadith has been narrated by Abu Huraira with another chain of transmitters. Hammad (one of the narrators) said:I then met 'Amr (the other narrator) and he narrated it to me, but it was not transmitted directly from the Messenger of Allah (ﷺ)
(روح کی بجائے ) عبدالرزاق نے خبر دی کہ ہمیں زکریا بن اسحاق نے اسی سند کے ساتھ اسی طرح خبر دی ۔
وَحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . بِمِثْلِهِ . قَالَ حَمَّادٌ ثُمَّ لَقِيتُ عَمْرًا فَحَدَّثَنِي بِهِ وَلَمْ يَرْفَعْهُ .
#1648
حماد بن زید نے ایوب سے روایت کی ، انھوں نے عمرو بن دینار سے انھوں نے عطاء بن یسار سے انہوں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سابقہ حدیث کی مانند روایت کی ۔ حماد نے کہا : پھر میں ( براہ راست ) عمرو ( بن دینار ) سے ملا تو انھوں نے مجھے یہ حدیث سنائی لیکن انہوں نے اس حدیث کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب نہیں کیا ۔ ( ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول روایت کیا)
#1649
Abdullah b. Malik b. Buhaina reported:The Messenger of Allah (ﷺ) happened to pass by a person who was busy in praying while the (Fard of the) dawn prayer had commenced. He said something to him, which we do not know what it was. When we turned back we surrounded him and said: What is it that the Messenger of Allah (ﷺ) said to you? He replied: He (the Holy Prophet) had said to me that he perceived as if one of them was about to observe four (rak'ahs) of the dawn prayer. Qa'nabi reported that 'Abdullah b. Malik b. Buhaina narrated it on the authority of his father. (Abu'l-Husain Muslim said): His assertion that he has narrated this hadith on the authority of his father is not correct
عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا ہمیں ابراہیم بن سعد نے اپنے والد سے حدیث سنائی ۔ انھوں نے حفص بن عاصم سے اور ا نھوں نے عبداللہ بن مالک ابن بحینہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گزرے جو نماز پڑھ رہاتھا جب صبح کی نماز کے لئے اقامت کہی جاچکی تھی آپ نے کسی چیز کے بارے میں اس سے گفتگو فرمائی ہم نہ جان سکے کہ وہ کیا تھی جب ہم نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے اسے گھیرلیا ہم پوچھ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کیا کہا؟اس نے بتایا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : "" لگتا ہے کہ تم میں سے کوئی صبح کی چار رکعات پڑھنے لگے گا ۔ "" قعنبی نے کہا : عبداللہ بن مالک ابن بحینہ نے رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے والد سے روایت کی ۔ ابو الحسین مسلم ؒ ( مولف کتاب ) نے کہا : قعنبی کا اس حدیث میں "" عَنْ أَبِيهِ "" ( والد سے روایت کی ) کہنا درست نہیں ۔ ( عبداللہ کے والد صحابی مالک صحابی تو ہیں لیکن ان سے کوئی حدیث مروی نہیں)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ابْنِ بُحَيْنَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَرَّ بِرَجُلٍ يُصَلِّي وَقَدْ أُقِيمَتْ صَلاَةُ الصُّبْحِ فَكَلَّمَهُ بِشَىْءٍ لاَ نَدْرِي مَا هُوَ فَلَمَّا انْصَرَفْنَا أَحَطْنَا نَقُولُ مَاذَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ قَالَ لِي " يُوشِكُ أَنْ يُصَلِّيَ أَحَدُكُمُ الصُّبْحَ أَرْبَعًا " . قَالَ الْقَعْنَبِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَالِكٍ ابْنُ بُحَيْنَةَ عَنْ أَبِيهِ . قَالَ أَبُو الْحُسَيْنِ مُسْلِمٌ وَقَوْلُهُ عَنْ أَبِيهِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ خَطَأٌ .