#1275
This hadith has been narrated by Mansur with the same chain of transmitters, with a slight modification of words
ابن بشر اور وکیع دونوں نے مسعر سے اور انھوں نے منصور سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ابن بشر کی روایت مین ہے : ’’وہ غور کرے کہ اس میں سے صحت کے قریب ترکیا ہے ؟ ‘ ‘ اور وکیع کی روایت میں ہے : ’’ وہ صحیح ( صورت کو یاد رکرنے ) کی جستجو کرے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ، ح قَالَ وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، كِلاَهُمَا عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ بِشْرٍ " فَلْيَنْظُرْ أَحْرَى ذَلِكَ لِلصَّوَابِ " . وَفِي رِوَايَةِ وَكِيعٍ " فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ " .
#1276
This hadith is reported by Mansur with the same chain of transmitters, but with these words:" He should aim at correct (prayer) and it is advisable
وہیب بن خالد نے کہا : ہمیں منصور نے اسی سند کےس اتھ حدیث بیان کی ۔ منصور نے کہا : ’’وہ غور کرے کہ اس میں صحت کے قریب تر کیا ہے ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ مَنْصُورٌ " فَلْيَنْظُرْ أَحْرَى ذَلِكَ لِلصَّوَابِ " .
#1277
This hadith has been narrated by Mansur with the same chain of transmitters with the words:He should aim at what is correct and complete
سفیان نے منصور سے مذکورہ سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی اور کہا : ’’وہ صحیح کی جستجو کرے
حَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ " فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ " .
#1278
This hadith has been narrated by Mansur with the same chain of transmitters and said:" He should aim at correctness and that is right
شعبہ نے منصور سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی اور کہا : ’’ اس میں جو صحیح کے قریب تر ہے اس کی جستجو کرے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ " فَلْيَتَحَرَّ أَقْرَبَ ذَلِكَ إِلَى الصَّوَابِ " .
#1279
This hadith has been reported by Mansur with the same chain of transwitters and he said:" He should aim at what is according to him correct
فضیل بن عیاض نے منصور سے اسی سند کے ساتھ خبر دی اور کہا : ’’وہ اس کی جستجو کرے جسے وہ صحیح سمجھتا ہے ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ " فَلْيَتَحَرَّ الَّذِي يُرَى أَنَّهُ الصَّوَابُ " .
#1280
This hadith has been narrated by Mansur and he said:" He should aim at correctness
عبدالعزیز بن عبد الصمد نے منصور سے ان سب راویوں کی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی اور کہا : ’’وہ صحیح کی جستجو کرے
وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، عَنْ مَنْصُورٍ، بِإِسْنَادِ هَؤُلاَءِ وَقَالَ " فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ " .
#1281
Abdullah (b. Mas'ud) reported:The Apostle of Allah (ﷺ) said five rak'ahs of the noon prayer and when he completed the prayer, It was said to him: Has there been (commanded) an addition In prayer? He said: What is it? They said: You have said five rak'ahs, so he performed two prostrations
حکم نے ابراہیم سے ، انھوں نے علقمہ سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی کہ نبی کریم ﷺنے ظہر کی نماز ( میں ) پانچ رکعات پڑھا دیں ، جب آپ نے سلام پھیر ا تو آپ سے عرض کی گئی : کیا نماز میں اضافہ کر دیا گیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ’’ وہ کیا ہے ؟ ‘ ‘ صحابہ نے کہا : آپ نے پانچ رکعات پڑھی ہیں ۔ توآپ نے دو سجدے کیے ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى الظُّهْرَ خَمْسًا فَلَمَّا سَلَّمَ قِيلَ لَهُ أَزِيدَ فِي الصَّلاَةِ قَالَ " وَمَا ذَاكَ " . قَالُوا صَلَّيْتَ خَمْسًا . فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ .
#1282
Alqama reported:He (the Holy Prophet) had led them five rak'ahs in prayer
ابن نمیر نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابن ادریس نے حسن بن عبید اللہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابراہیم ( بن سوید ) سے اور انھوں نے علقمہ سے روایت کی کہ آپ ﷺ نے انھیں پانچ رکعات پڑھائیں ۔
وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، أَنَّهُ صَلَّى بِهِمْ خَمْسًا .
#1283
Ibrahim b. Suwaid-reported:'Alqama led us in the noon prayer and be offered five rak'ahs; when the prayer was complete, the people said to him: Abu Shibl, you have offered five rak'ahs. He said: No, I have not done that. They said: Yes (you said five rak'ahs). He (the narrator) said: And I was sitting in a corner among people and I was just a boy. I (also) said: Yes, you have offered five (rak'ahs). He said to me: O, one-eyed, do you say the same thing? I said: Yes. Upon this he turned (his face) and performed two prostrations and then gave salutations, and then reported 'Abdullah as saying: The Messenger of Allah (ﷺ) led us in prayer and offered five rak'ahs. And as he turned away the people began to whisper amongst themselves. He (the Holy Prophet) said: What is the matter with you? They said: Has the prayer been extended? He said: No. They said: You have in fact said five rak'ahs. He (the Holy Prophet) then turned his back (and faced the Qibla) and performed two prostrations and then gave salutations and further said: Verily I am a human being like you, I forget just as you forget. Ibn Numair made this addition:" When any one of you forgets, he must perform two prostrations
عثمان بن ابی شیبہ نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ لفظ انھی کے ہیں ۔ انھوں نے کہا : ہمیں جریر نے حسن بن عبیداللہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابراہیم بن سوید سے روایت کی ، کہا : ہمیں علقمہ نے ظہر کی پانچ رکعتیں پڑھا دیں ۔ جب انھوں نے سلام پھیرا تو لوگوں نے کہا : ابو شبل! آپ نے پانچ رکعتیں پڑھائی ہیں ۔ انھوں نے کہا : بالکل نہیں ، میں نے ایسا نہیں کیا ۔ لوگوں نے کہا : کیوں نہیں ! ( آپ نے ایسا ہی کیا ہے ۔ ) ابراہیم نے کہا : میں لوگوں کے کنارے ( والے حصے ) میں تھا اور بچہ تھا ، میں نے کہا : ہاں !آپ نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں ۔ انھوں نے مجھ سے کہا : ایک آنکھ والے ! تو بھی یہی کہتا ہے ؟ میں نے کہا : جی ہاں ! تو وہ مڑے اور دو سجدے کیے ، پھر سلام پھیرا ، پھر کہا : عبداللہ رضی اللہ عنہ ( بن مسعود ) نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے ہمیں پانچ رکعتیں پڑھا دیں ، جب آپ مڑے تو لوگوں نے آپس میں کھسر پھسر شروع کر دی ۔ آپ نے پوچھا : ’’ تمھیں کیا ہوا ہے ؟ ‘ ‘ انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا نماز میں اضافہ کر دیا گیا ہے ؟آپ نے فرمایا : ’’ نہیں ۔ ‘ ‘ لوگوں نے کہا : آپ نے پانچ رکعتیں پڑھائی ہیں ۔ تو آپ پلٹے ، پھر دو سجدے کیے ، پھر سلام پھیرا ، پھر فرمایا : ’’ میں تمھاری ہی طرح کا انسان ہوں ، میں ( بھی ) بھول جاتا ہوں جس طرح تم لوگ بھول جاتے ہو ۔ ‘ ‘ ابن نمیر نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا : ’’جب تم میں سے کوئی بھول جائے تو وہ دو سجدے کر لے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ، قَالَ صَلَّى بِنَا عَلْقَمَةُ الظُّهْرَ خَمْسًا فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ الْقَوْمُ يَا أَبَا شِبْلٍ قَدْ صَلَّيْتَ خَمْسًا . قَالَ كَلاَّ مَا فَعَلْتُ . قَالُوا بَلَى - قَالَ - وَكُنْتُ فِي نَاحِيَةِ الْقَوْمِ وَأَنَا غُلاَمٌ فَقُلْتُ بَلَى قَدْ صَلَّيْتَ خَمْسًا . قَالَ لِي وَأَنْتَ أَيْضًا يَا أَعْوَرُ تَقُولُ ذَاكَ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ . قَالَ فَانْفَتَلَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَمْسًا فَلَمَّا انْفَتَلَ تَوَشْوَشَ الْقَوْمُ بَيْنَهُمْ فَقَالَ " مَا شَأْنُكُمْ " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ زِيدَ فِي الصَّلاَةِ قَالَ " لاَ " . قَالُوا فَإِنَّكَ قَدْ صَلَّيْتَ خَمْسًا . فَانْفَتَلَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ قَالَ " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ " . وَزَادَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي حَدِيثِهِ " فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ " .
#1284
Abdullah (b. Mas'ud) reported:The Messenger of Allah (ﷺ) led us five (rak'ahs in prayer). We said: Messenger of Allah, has the prayer been extended? He said: What is the matter? They said: You have said five (rak'ahs). He (the Holy Prophet) said: Verily I am a human being like you. I remember as you remember and I forget just as you forget. He then performed two prostrations as (compensation of) forgetfulness
عبدالرحمن بن اسود نے اپنے والد سے ، انھوں نےحضرت عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے ہمیں پانچ رکعتیں پڑھا دیں تو ہم نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! کیا نماز میں اضافہ کر دیا گیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ’’ وہ کیا ؟ ‘ ‘ صحابہ نے کہا : آپ نے پانچ رکعات پڑھائی ہیں ۔ آپ نے فرمایا : ’’ میں تمھاری طرح انسان ہوں ، میں بھی اسی طرح یا د رکھتا ہوں ، جس طرح تم یاد رکھتے ہو اور میں ( بھی ) اسی طرح بھو ل جاتا ہوں ، جس طرح تم بھول جاتے ہو ۔ ‘ ‘ پھر آپ نے سہو کے دو سجدے کیے ۔
وَحَدَّثَنَاهُ عَوْنُ بْنُ سَلاَّمٍ الْكُوفِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَمْسًا فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَزِيدَ فِي الصَّلاَةِ قَالَ " وَمَا ذَاكَ " . قَالُوا صَلَّيْتَ خَمْسًا . قَالَ " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ أَذْكُرُ كَمَا تَذْكُرُونَ وَأَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ " . ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَىِ السَّهْوِ .
#1285
Abdullah (b. Mas'ud) reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said prayer and he omitted or committed (something). Ibrahim (one of the narrators of this hadith) said: It is my doubt, and it was said: Messenger of Allah, has there been any addition to the prayer? He (the Holy Prophet) said: Verily I am a human being like you. I forget just as you forget so when any one of you forgets, he must perform two prostrations, and he (the Holy Prophet) was sitting and then the Messenger of Allah (ﷺ) turned (his face towards the Qibla) and performed two prostrations
(علی ) بن مسہر نے اعمش سے ، انھوں نے ابراہیم سے ، انھوں نے علقمہ سے اور انھوں نے حضر عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھائی اور اس میں کچھ اضافہ کر دیا ۔ ابراہیم نے کہا کہ یہاں وہم مجھے ہوا ہے ، علقمہ کو نہیں ۔ عرض کی گئی : اللہ کے رسول ! کیا نماز مین اضافہ کر دیا گیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ’’ میں تمھاری طرح انسان ہی ہوں ، میں بھی بھولتا ہوں ، جیسے تم بھولتے ہو ، اس لیے جب تم میں سے کوئی بھول جائے تو وہ بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے ۔ ‘ ‘ پھر رسول اللہ ﷺ نے رخ ( قبلہ کی طرف ) پھیرا اور دو سجدے کیے ۔
وَحَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَزَادَ أَوْ نَقَصَ - قَالَ إِبْرَاهِيمُ وَالْوَهْمُ مِنِّي - فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَزِيدَ فِي الصَّلاَةِ شَىْءٌ فَقَالَ " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ " . ثُمَّ تَحَوَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ .
#1286
Abdullah b. Mas'ud reported:The Apostle of Allah (ﷺ) performed two prostrations for forgetfulness after salutation and talking
حفص اور ابو معاویہ نے اعمش سے باقی ماندہ اس سند کے ساتھ حضرت عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : نبی ﷺ نے سلام اور گفتگو کےبعد سہو کے دو سجدے کیے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم سَجَدَ سَجْدَتَىِ السَّهْوِ بَعْدَ السَّلاَمِ وَالْكَلاَمِ .
#1287
Abdullah reported:We prayed along with the Messenger of Allah (may peace he upon him) and he committed or omitted (something). Ibrahim said: By Allah, this is a misgiving of mine only. We said: Messenger of Allah, is there something new about the prayer? He (the Holy Prophet) said: No. We told him about what he had done. He (the Holy Prophet) said: When a man commits or omits (something in prayer), he should perform two prostrations, and he then himself performed two prostrations
زائدہ نے سلیمان ( اعمش ) سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی ، آپ نے زیادہ پڑھا دی تھی یا کم ۔ ابراہیم نے کہا : اللہ کی قسم ! یہ ( وہم ) میری طرف سے ہے ۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا : تو ہم نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! کیانماز میں کوئی نیا حکم آگیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ’’ نہیں ‘ ‘ تو ہم نے آپ کو جو آپ نے کیا تھا اس سے آگا ہ کیا تو آپ نے فرمایا : ’’ جب آدمی زیادتی یا کمی کر لے تو دو سجدے کر ے ۔ ‘ ‘ ( عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ) کہا : اس کے بعد آپ نے دو سجدے کیے ۔
وَحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِمَّا زَادَ أَوْ نَقَصَ - قَالَ إِبْرَاهِيمُ وَايْمُ اللَّهِ مَا جَاءَ ذَاكَ إِلاَّ مِنْ قِبَلِي - قَالَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَدَثَ فِي الصَّلاَةِ شَىْءٌ فَقَالَ " لاَ " . قَالَ فَقُلْنَا لَهُ الَّذِي صَنَعَ فَقَالَ " إِذَا زَادَ الرَّجُلُ أَوْ نَقَصَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ " . قَالَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ .
#1288
Ibn Sirin reported Abu Huraira as saying:The Messenger of Allah (ﷺ) led us in one of the two evening prayers, Zuhr or `Asr, and gave salutations after two rak`ahs and going towards a piece of wood which was placed to the direction of the Qibla in the mosque, leaned on it looking as if he were angry. Abu Bakr and `Umar were among the people and they were too afraid to speak to him and the people came out in haste (saying): The prayer has been shortened. But among them was a man called Dhul-Yadain who said: Messenger of Allah, has the prayer been shortened or have you forgotten? The Apostle of Allah (ﷺ) looked to the right and left and said: What was Dhul-Yadain saying? They said: He is right. You (the Holy Prophet) offered but two rak`ahs. He offered two (more) rak`ahs and gave salutation, then said takbir and prostrated and lifted (his head) and then said takbir and prostrated, then said takbir and lifted (his head). He (the narrator) says: It has been reported to me by `Imran b. Husain that he said: He (then) gave salutation
سفیان بن عیینہ نے کہا : ہم سے ایوب نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے محمد بن سیرین سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نےحضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : ہمیں رسول اللہ ﷺ نے دوپہر کے بعد کی ایک نماز ظہر یا عصر پڑھائی اور دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا ، پھر قبلے کی سمت ( گڑے ہوئے ) کجھور کے ایک تنےکے پاس آئے اور غصے کی کیفیت میں اس سے ٹیک لگا لی ۔ لوگوں میں ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہ موجود ( بھی ) تھے ، انھوں نے آپ کی ہیبت کی بنا پر گفتگو نہ کی جبکہ جلد باز لوگ ( نماز پڑھتے ہی ) نکل گئے ، اور کہنے لگے : نماز میں کمی ہو گئی ہے ۔ تو ذوالیدین ( نامی شخص ) کھڑا ہوا اور کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا نماز مختصر کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے دائیں اور بائیں دیکھ کر پوچھا : ’’ ذوالیدین کیا کہہ رہا ہے ؟ ‘ ‘ لوگوں نے کہا : سچ کہہ رہا ہے ، آپ نے دو رکعتیں ہی پڑھی ہیں ۔ چنانچہ آپ نے دو رکعتیں ( مزید ) پڑھیں اور سلام پھیر دیا ، پھر اللہ اکبر کہا اور سجدہ کیا ، بھر اللہ اکبر کہا اور سر اٹھایا ، پھر اللہ اکبر کہا اور سجد ہ کیا ، پھر اللہ اکبر کہا اور سر اٹھایا ۔ ( محمد بن سیرین نے ) کہا : عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مجھے بتایا گیا کہ انھوں نے کہا : اور سلام پھیرا ۔
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، - قَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، - حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ، يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِحْدَى صَلاَتَىِ الْعَشِيِّ إِمَّا الظُّهْرَ وَإِمَّا الْعَصْرَ فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ أَتَى جِذْعًا فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَاسْتَنَدَ إِلَيْهَا مُغْضَبًا وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَهَابَا أَنْ يَتَكَلَّمَا وَخَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ قُصِرَتِ الصَّلاَةُ فَقَامَ ذُو الْيَدَيْنِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقُصِرَتِ الصَّلاَةُ أَمْ نَسِيتَ فَنَظَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَمِينًا وَشِمَالاً فَقَالَ " مَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ " . قَالُوا صَدَقَ لَمْ تُصَلِّ إِلاَّ رَكْعَتَيْنِ . فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَسَلَّمَ ثُمَّ كَبَّرَ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ كَبَّرَ فَرَفَعَ ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ ثُمَّ كَبَّرَ وَرَفَعَ . قَالَ وَأُخْبِرْتُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّهُ قَالَ وَسَلَّمَ .
#1289
Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (ﷺ) led us in one of the evening prayers. And this hadith was narrated like one transmitted by Sufyan
(سفیان کے بجائے ) حماد نے ہمیں حدیث بیان کی ( کہا : ) ہمیں ایوب نے محمد بن سیرین سے حدیث سنائی ، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے ہمیں دو پہر کے بعد کی دو نمازو ں میں سے ایک نماز پڑھائی ......آگے سفیان ( بن عیینہ ) کے ہم معنی حدیث ( سنائی ۔)
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِحْدَى صَلاَتَىِ الْعَشِيِّ . بِمَعْنَى حَدِيثِ سُفْيَانَ .
#1290
Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (ﷺ) led us in the 'Asr prayer and gave salutation after two rak'ahs. Dhu'l-Yadain (the possessor of long arms) stood up and said: Messenger of Allah, has the prayer been shortened or have you forgotten? The Messenger of Allah (ﷺ) said: Nothing like this has happened (neither the prayer has been shortened nor have I forgotten). He (Dhu'l-Yadain) said: Messenger of Allah, something has definitely happened. The Messenger of Allah (ﷺ) turned towards people and said: Is Dhu'l-Yadain true (in his assertion)? They said: Messenger of Allah, he is true. Then the Messenger of Allah (ﷺ) completed the rest of the prayer. and then performed two prostrations while he was sitting after salutation
ابن ابی احمد کے آزاد کردہ غلام ابو سفیان سے روایت ہے کہ اس نے کہا : میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہو ئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی اور دو رکعتوں میں سلام پھیر دیا ۔ ذوالیدین ( نامی شخص ) کھڑا ہوا اور کہا : اے اللہ کے رسول ! نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ ایسا کوئی کام نہیں ہوا ۔ ‘ ‘ اس نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! کوئی ایک کام تو ہوا ہے ۔ تب رسول اللہ ﷺ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا : ’’ کیا ذوالیدین نے سچ کہا؟ ‘ ‘ انھوں کہا : جی ہاں ! اے اللہ کے رسول ! تو رسول اللہ ﷺ نے جو نماز رہ گئی تھی پوری کی ، پھر بیٹھے بیٹھے سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کیے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلاَةَ الْعَصْرِ فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ فَقَامَ ذُو الْيَدَيْنِ فَقَالَ أَقُصِرَتِ الصَّلاَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمْ نَسِيتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كُلُّ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ " . فَقَالَ قَدْ كَانَ بَعْضُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى النَّاسِ فَقَالَ " أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ " . فَقَالُوا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَأَتَمَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا بَقِيَ مِنَ الصَّلاَةِ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ التَّسْلِيمِ .
#1291
Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said two rak'ahs of the noon prayer and then gave salutation when a man from Band Sulaim came to him and said: Messenger of Allah. has the prayer been shortened, or have you forgotten? -and the rest of the hadith is the same
علی بن مبارک نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں یحییٰ نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہمیں ابو سلمہ نےحدیث سنائی ، کہا : ہمیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نےحدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے ظہر کی دور کعتیں پڑھائیں ، پھر سلام پھیر دیا تو بنو سلیم کا ایک آدمی آپ کے قریب آیا اور عرض یک : اے اللہ کے رسول ! نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں ؟.......اور آگے ( سابقہ ) حدیث بیان کی ۔
وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْخَزَّازُ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، - وَهُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ - حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى رَكْعَتَيْنِ مِنْ صَلاَةِ الظُّهْرِ ثُمَّ سَلَّمَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقُصِرَتِ الصَّلاَةُ أَمْ نَسِيتَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ .
#1292
Abu Huraira reported:I offered with the Messenger of Allah (ﷺ) the noon prayer and the Messenger of Allah (ﷺ) gave salutation after two rak'ahs. A person from Bani Sulaim stood up, and the rest of the hadith was narrated as mentioned above
شیبان نےیحییٰ سے ، انھوں نے ابو سلمہ سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نبی اکر ﷺ کے ساتھ ( اقتدا میں ) ظہر کی نماز پڑھ رہا تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے دو رکعتوں پر سلام پھیر دیا ، اس پر بنی سلیم کا ایک آدمی کھڑا ہوا .......آگے ( مذکورہ بالا ) حدیث بیان کی
وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ بَيْنَا أَنَا أُصَلِّي، مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم صَلاَةَ الظُّهْرِ سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ . وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ .
#1293
Imran b. Husain reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said the afternoon prayer and gave the salutation. at the end of three rak'ahs and then went into his house. A man called al-Khirbaq, who bad long aims, got up and went to him, and addressed him as Messenger of Allah and mentioned to him what he had done. He came out angrily trailing his mantle, and when he came to the people he said: Is this man telling the truth? They said: Yes. He then said one rak'ah and then gave salutation and then performed two prostrations and then gave salutation
اسماعیل بن ابراہیم نے خالد ( حذاء ) سے ، انھوں نے ابو قلابہ سے ، انھوں نے ابو مہلب سے اور انھوں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نےعصر کی نماز پڑھائی اور تین رکعات پر سلام پھیر دیا ، پھر اپنے گھر تشریف لے گئے تو ایک آدمی جسے خرباق کہا جاتا تھا اور اس کے ہاتھ لمبے تھے ، وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہواا ور آپ سے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! پھر آپ ﷺ سے جو ( سہو ) ہوا تھا اس کا آپ کے سامنے تذکرہ کیا ، آپ غصے کی حالت میں ، چادر گھسیٹتے ہوئے نکلے حتی کہ لوگوں کے پا س آ پہنچے اور پوچھا : ’’ کیا یہ سچ کہہ رہا ہے ؟ ‘ ‘ لوگوں نے کہا : جی ہاں ! توآپ نے ایک رکعت پڑھائی ، پھر سلام پھیرا ، پھر سہو کے دو سجدے کیے ، پھر سلام پھیرا ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، - قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى الْعَصْرَ فَسَلَّمَ فِي ثَلاَثِ رَكَعَاتٍ ثُمَّ دَخَلَ مَنْزِلَهُ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ الْخِرْبَاقُ وَكَانَ فِي يَدَيْهِ طُولٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَذَكَرَ لَهُ صَنِيعَهُ . وَخَرَجَ غَضْبَانَ يَجُرُّ رِدَاءَهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَى النَّاسِ فَقَالَ " أَصَدَقَ هَذَا " . قَالُوا نَعَمْ . فَصَلَّى رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ .
#1294
Imran b. Husain reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said three rak'ahs of the 'Asr prayer and then got up and went to his apartment. A man possessing large arms stood up and said: Messenger of Allah, bias the player been shortened? He came out angrily, and said the rak'ah which he had omitted and then gave salutation. then performed two prostrations of forgetfulness and then gave salutation
عبدالوہاب تقفی نے خالد حذاء سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے عصر کی تیسری رکعت میں سلام پھیر دیا ، پھر اٹھ کر اپنے حجرے میں داخل ہو گئے ، ایک ( لمبے ) چوڑے ہاتھوں والا آدمی کھڑا ہوا اور عرض کی : اے اللہ کے رسول ! کیا نماز کم کر دی گئی ہے ؟ پھر آپ غصے کے عالم میں نکلے اور چھوڑی ہوئی رکعت پڑھائی ، پھر سلام پھیر دیا ، پھر سہو کے دو سجدے کیے ، پھر سلام پھیرا ۔
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - وَهُوَ الْحَذَّاءُ - عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ، قَالَ سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي ثَلاَثِ رَكَعَاتٍ مِنَ الْعَصْرِ ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ الْحُجْرَةَ فَقَامَ رَجُلٌ بَسِيطُ الْيَدَيْنِ فَقَالَ أَقُصِرَتِ الصَّلاَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَخَرَجَ مُغْضَبًا فَصَلَّى الرَّكْعَةَ الَّتِي كَانَ تَرَكَ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَىِ السَّهْوِ ثُمَّ سَلَّمَ .
#1295
Ibn 'Umar reported:The Messenger of Allah (ﷺ) while reciting the Qur'an recited its surah containing sajda, and he performed prostration and we also prostrated along with him (but we were so overcrowded) that some of us could not find a place for our forehead (when prostrating ourselves)
یحییٰ بن سعید قطان نے عبیداللہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے خبر دی کہ نبی کریم ﷺ قرآن مجید کی تلاوت فرمایا کرتےتھے ۔ آپ اس سورت کی تلاوت فرماتے جس میں سجدہ ہوتا اور سجدہ کرتے تو ہم ( سب ) بھی آپ کے ساتھ سجدہ کرتے ، حتی کہ ہم میں سے بعض کو پیشانی رکھنے کے لیے بھی جگہ نہ ملتی تھی ۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، كُلُّهُمْ عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ، - قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَيَقْرَأُ سُورَةً فِيهَا سَجْدَةٌ فَيَسْجُدُ وَنَسْجُدُ مَعَهُ حَتَّى مَا يَجِدُ بَعْضُنَا مَوْضِعًا لِمَكَانِ جَبْهَتِهِ .
#1296
Ibn 'Umar reported:Sometimes the Messenger of Allah (ﷺ) recited the Qur'an, and would pass by (recite) the verse of sajda and performed prostration and he did this along with us, but we were so crowded in his company that none of us could find a place for performing prostration. (and it was done on occasions) other than prayer
محمد بن بشر نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں عبیداللہ نےنافع سے حدیث بیان کی اور انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انھو ں نے کہا : بسا اوقات رسول اللہ ﷺ قرآن پڑھتے ہوئے سجدے ( والی آیت ) سے گزرتے تو ہمارے ساتھ سجدہ کرتے ، آپ کے پاس ہماری بھیٹر لگ جاتی حتی کہ ہم میں سے بعض کو سجدہ کرنے کےلیے جگہ نہ ملیتی ( یہ سجدہ ) نماز کے علاوہ ہوتا تھا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ رُبَّمَا قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْقُرْآنَ فَيَمُرُّ بِالسَّجْدَةِ فَيَسْجُدُ بِنَا حَتَّى ازْدَحَمْنَا عِنْدَهُ حَتَّى مَا يَجِدُ أَحَدُنَا مَكَانًا لِيَسْجُدَ فِيهِ فِي غَيْرِ صَلاَةٍ .
#1297
Abdullah (b. 'Umar) reported:The Apostle of Allah (ﷺ) recited (Surat) al Najm and performed prostration during its recital and all those who were along with him also prostrated themselves except one old man who took a handful of pebbles or dust in his palm and lifted it to his forehead and said: This is sufficient for me. 'Abdullah said: I saw that he was later killed in a state of unbelief
حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی کہ آپ آپ ﷺ نے سورۃ نجم کی تلاوت کی اور اس میں سجدہ کیا اور آپ کے ساتھ جتنے لوگ تھے سب نے سجدہ کیا ، مگر ایک بوڑھے ( امیہ بن خلف ) نے کنکریوں یا مٹی کی ایک مٹھی بھر کر اپنی پیشانی سے لگا لی اور کہا : میرے لیے یہی کافی ہے ۔ عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) نے کہا : میں نےبعد میں دیکھا ، اسے کفر کی حالمت میں قتل کیا گیا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ الأَسْوَدَ، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَرَأَ { وَالنَّجْمِ} فَسَجَدَ فِيهَا وَسَجَدَ مَنْ كَانَ مَعَهُ غَيْرَ أَنَّ شَيْخًا أَخَذَ كَفًّا مِنْ حَصًى أَوْ تُرَابٍ فَرَفَعَهُ إِلَى جَبْهَتِهِ وَقَالَ يَكْفِينِي هَذَا . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُهُ بَعْدُ قُتِلَ كَافِرًا .
#1298
ta' b. Yasar reported that he had asked Zaid b. Thabit about recital along with the Imam, to which he said:There should be no recital along with the Imam in anything, and alleged that he recited:" By the star when it sets" (Surah Najm) before the Messenger of Allah (ﷺ) and he did not prostrate himself
عطاء بن یسار نے ( اپنے شاگرد ابن قسیط کو ) بتایا کہ انھوں نے امام کے ساتھ ( قرآن کی کسی سورت کی ) قراءت کرنے کے بارے میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے سوال کیا ؟ انھوں نے کہا : امام کے ساتھ ( فاتحہ کے سوا ) کچھ نہ پڑھے اور کہا : انھوں ( زید رضی اللہ عنہ ) نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے ( والنجم اذا ھویٰ ) پڑھی تو آپ نے سجدہ نہ کیا ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ، حُجْرٍ قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، عَنِ ابْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَأَلَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ عَنِ الْقِرَاءَةِ، مَعَ الإِمَامِ فَقَالَ لاَ قِرَاءَةَ مَعَ الإِمَامِ فِي شَىْءٍ . وَزَعَمَ أَنَّهُ قَرَأَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم { وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَى} فَلَمْ يَسْجُدْ .
#1299
Abu Salama b. 'Abual-Rahman reported:Abu Huraira recited before them:" hen the heaven burst asunder" (al-Qur'an, lxxxiv. 1) and performed prostration. After completing (the prayer) he informed them that the Messenger of Allah (ﷺ) has prostrated himself at it (this verse)
اسود بن سفیان کے آزاد کردہ غلام عبداللہ بن یزید نے ابو سلمہ بن عبدالرحمن سے روایت کی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان کے سامنے سورۃ ( اذاالسمآ ء النشقت ) پڑھی اور ا س میں سجدہ کیا ، پھر جب سلام پھیرا تو انھیں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سورت میں سجدہ کیا تھا ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، مَوْلَى الأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَرَأَ لَهُمْ { إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ} فَسَجَدَ فِيهَا فَلَمَّا انْصَرَفَ أَخْبَرَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَجَدَ فِيهَا .