#1200
This hadith has been narrated by Yahya b. Abu Kathir with the same chain of transmitters
اوزاعی نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی ہے ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
#1201
Abdullah (b. Masu'd) reported:We used to greet the Messenger of Allah (ﷺ) while he was engaged in prayer and he would respond to our greeting. But when we returned from the Negus we greeted him and he did not respond to us; so we said: Messenger of Allah. we used to greet you when you were engaged in prayer and you would respond to us. He replied: Prayer demands whole attention
ابن فضیل نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں اعمش نے ابراہیم سے حدیث سنائی ، انھوں نے علقمہ سے اور انھوں نے حضرت عبدااللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ہم رسول اللہ ﷺ کو ، جب آب نماز میں ہوتے تھے سلام کہا کرتے تھے اور آپ ہمار ے سلام کا جواب دیتے تھے جب ہم نجاشی کے ہاں سے واپس آئے ، ہم نے آپ کو ( نماز میں ) سلام کہا تو آپ نے ہمیں جواب نہ دیا ۔ ہم نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! ہم نماز میں آپ کو سلام کہا کرتے تھے اور آ پ ہمیں جواب دیا کرتے تھے ۔ آپ نے فرمایا : ’’ نماز میں ( اس کی اپنی ) مشغولیت ہوتی ہے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ - وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ - قَالُوا حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ فِي الصَّلاَةِ فَيَرُدُّ عَلَيْنَا فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِي سَلَّمْنَا عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْنَا فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَيْكَ فِي الصَّلاَةِ فَتَرُدُّ عَلَيْنَا . فَقَالَ " إِنَّ فِي الصَّلاَةِ شُغُلاً " .
#1202
This hadith has been reported by A'mash with the same chain of transmitters
اعمش سے ( ابن فضیل کے بجائے ) ہریم بن سفیان نے مذکورہ بالا سند کے ساتھ اسی کے مثل حدیث بیان کی
حَدَّثَنِي ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ السَّلُولِيُّ، حَدَّثَنَا هُرَيْمُ بْنُ سُفْيَانَ، عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . نَحْوَهُ .
#1203
Zaid b. Arqam reported:We used to talk while engaged in prayer and a person talked with a companion on his side in prayer till (this verse) was revealed:" And stand before Allah in devout obedience" (ii, 238) and we were commanded to observe silence (in prayer) and were forbidden to speak
ہشیم نے اسماعیل بن ابی خالد سے ، انھوں نے حارث بن شبیل سے ، انھوں نے ابوعمر و شیبانی سے اور انھوں نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ہم نماز میں بات چیت کر لیا کرتے تھے ، ایک آدمی نماز میں اپنے ساتھی سے گفتگو کرلیتا تھا یہاں تک کہ یہ آیت اتری ، ( وقوم للہ قنتین ) ’’ اللہ کے حضور انتہائی خشوع و خضوع کے عالم میں کھٹرے ہو’’ تو ہمیں خاموش رہنے کاحاکم دیا گیا ہمیں گفتگوکرنے سے روک دیا گیا ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ شُبَيْلٍ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ كُنَّا نَتَكَلَّمُ فِي الصَّلاَةِ يُكَلِّمُ الرَّجُلُ صَاحِبَهُ وَهُوَ إِلَى جَنْبِهِ فِي الصَّلاَةِ حَتَّى نَزَلَتْ { وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ} فَأُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ وَنُهِينَا عَنِ الْكَلاَمِ .
#1204
A hadith like this has been transmitted by Isma'il b. Abu Khalid
(ہشیم کے بجائے ) عبداللہ بن نمیر ، وکیع اور عیسیٰ بن یونس نے اسماعیل بن ابی خالد سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَوَكِيعٌ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، كُلُّهُمْ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
#1205
Jabir reported:The Messenger of Allah (ﷺ) sent me on an errand. I (having done the business assigned to me came back and) joined him as he was going (on a ride). Qutaiba said that he was saying prayer while he rode. I greeted him. He gestured to me. When he completed the prayer. he called me and said: You greeted me just now while I was engaged in prayer. (Qutaiba said): His (Prophet's face) was towards the east, as he was praying
قتیبہ بن سیعد اور محمد بن رمح نے اپنی اپنی سند کے ساتھ لیث ( بن سعد ) سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابوزبیر سے اور انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی کہ انھوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے مجھے کسی ضرورت ے لیے بیھجا ، پھر میں آپ کو آ کر ملا ، آپ سفر میں تھے قتیبہ نے کہا : آپ نے نماز پڑھ رہے تھے میں نے آپ کو سلام کہا ، آ پ نے مجھے اشارہ فرمایا ۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو مجھے بلوایا اور فرمایا : ‘ ‘ ابھی تم نے سلام کہا جبکہ میں نماز پڑھ رہا تھا ۔ ’’ اور اس وقت ( ساری پر نماز پڑھتے ہوئے ) آپ کا رخ مشرق کی طرف تھا ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَنِي لِحَاجَةٍ ثُمَّ أَدْرَكْتُهُ وَهُوَ يَسِيرُ - قَالَ قُتَيْبَةُ يُصَلِّي - فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَأَشَارَ إِلَىَّ فَلَمَّا فَرَغَ دَعَانِي فَقَالَ " إِنَّكَ سَلَّمْتَ آنِفًا وَأَنَا أُصَلِّي " . وَهُوَ مُوَجِّهٌ حِينَئِذٍ قِبَلَ الْمَشْرِقِ .
#1206
Jabir reported:The Messenger of Allah (ﷺ) sent me (on an errand) while he was going to Banu Mustaliq. I came to him and he was engaged in prayer on the back of his camel. I talked to him and he gestured to me With his hand, and Zuhair gestured with his hand. I then again talked and he again (gestured to me with his hand). Zuhair pointed with his hand towards the ground. I heard him (the Holy Prophet) reciting the Qur'an and making a sign with his head. When he com- pleted the prayer he sa'id: What have you done (with regard to that business) for which I sent you? I could not talk with you but for the fact that I was engaged in prayer. Zuhair told that Abu Zubair was sitting with his face turned towards Qibla (as he transmitted this hadith). Abu Zuhair pointed towards Banu Mustaliq with his hand and the direction to which he pointed with his hand was not towards the Ka'ba
زہیر نے کہا : مجھے ابو زبیر نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے مجھے کا کے لیے بھیجا اور آپ بنو مصطلق کی طرف جا رہے تھے ، میں واپسی پر آپ کے پاس آیا تو آٖپ اونٹ پر نماز پڑھ رہے تھے ، میں نے آپ سے بات کی تو آپ نے مجھے ہاتھ سے اس طرح اشا رہ کیا ۔ زہیر نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے دکھایا ۔ میں نے دوبارہ بات کی تو مجھے اس طرح ( اشارے سے کچھ ) کہا ۔ زہیر نے بھی اپنے ہاتھ سے زمین کی طرف اشارہ کیا ۔ اور میں سن رہا تھا کہ آپ قراءت فرما رہے ہیں ، آپ ( رکوع و سجود کے لیے ) سر سے اشارہ فرماتے تھے ، جب آپ فارغ ہو ئے تو پوچھا ‘ ‘ جس کا م کے لیے میں بھیجا تھا تم نے ( اس کے بارے میں ) کیا کیا ؟ مجھے تم سے گفتگو کرنے سے اس کے سوا کسی چیز نے نہیں روکا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا ۔ ’’ زہیر نے کہا : ابو زبیر کعبہ کی طرف رخ کر کے بیٹھے ہوئے تھے ، ابو زبیر نےبنو مصطلق کی طرف اشارہ کیا اور انھوں ( ابوزبیر ) نے ہاتھ سے قبلے کی دوسری سمت کی طرف اشارہ کیا ( سواری پر نماز کے دوران میں آپ کا رخ کعبہ کی طرف نہیں تھا ۔)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ مُنْطَلِقٌ إِلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى بَعِيرِهِ فَكَلَّمْتُهُ فَقَالَ لِي بِيَدِهِ هَكَذَا - وَأَوْمَأَ زُهَيْرٌ بِيَدِهِ - ثُمَّ كَلَّمْتُهُ فَقَالَ لِي هَكَذَا - فَأَوْمَأَ زُهَيْرٌ أَيْضًا بِيَدِهِ نَحْوَ الأَرْضِ - وَأَنَا أَسْمَعُهُ يَقْرَأُ يُومِئُ بِرَأْسِهِ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ " مَا فَعَلْتَ فِي الَّذِي أَرْسَلْتُكَ لَهُ فَإِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أُكَلِّمَكَ إِلاَّ أَنِّي كُنْتُ أُصَلِّي " . قَالَ زُهَيْرٌ وَأَبُو الزُّبَيْرِ جَالِسٌ مُسْتَقْبِلَ الْكَعْبَةِ فَقَالَ بِيَدِهِ أَبُو الزُّبَيْرِ إِلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ فَقَالَ بِيَدِهِ إِلَى غَيْرِ الْكَعْبَةِ .
#1207
Jabir reported:We were in the company of the Messenger of Allah (ﷺ), and he sent me on an errand, and when I came back (I saw him) saying prayer on his ride and his face was not turned towards Qibla. I greeted him but he did not respond to me. As he completed the prayer, he said: Nothing prevented me from responding to your greeting but the fact that I was praying
حماد بن زید نے کثیر ( بن شنظیر ) سے ، انھوں نے عطاء سے اور انھوں حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ہم نبی ﷺ کے ہمراہ سفر میں تھے ، آپ نے مجھے کسی کام سے بھیجا ، میں واپس آبا تو اپنی سواری پر نماز پڑھ رہے تھے اور آپ کا رخ قبلے کی بجائے دوسری طرف تھا ، میں نے آپ کو سلام کہا تو آپ نے مجھے سلام کا جواب نہ دیا ، جب آپ نے سلام پھیر لیا تو فرمایا : ‘ ‘ تمھارے سلام کا جواب دینے سے مجھے صرف اس بات نے روکا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا ۔ ’’
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ كَثِيرٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَبَعَثَنِي فِي حَاجَةٍ فَرَجَعْتُ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ وَوَجْهُهُ عَلَى غَيْرِ الْقِبْلَةِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَىَّ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ " إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ إِلاَّ أَنِّي كُنْتُ أُصَلِّي " .
#1208
This hadith that the Messenger of Allah (ﷺ) sent Jabir on an errand has been reported by him through another chain of transmitters
عبدالوارث بن سعید نے کہا : ہمیں کثر بن شنظیر نے حدیث سنائی ، انھوں نے عطاء سے اور انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے مجھے کسی کام کی غرض سے بھیجا .........آگے حماد بن زید کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ شِنْظِيرٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَاجَةٍ . بِمَعْنَى حَدِيثِ حَمَّادٍ .
#1209
Abu Huraira reported that he heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying:A highly wicked one amongst the Jinn escaped yesternight to interrupt my prayer, but Allah gave me power over him, so I seized him and intended to tie him to one of the pillars of the mosque in order that you, all together or all, might look at him, but I remembered the supplication of my brother Sulaiman:" My Lord, forgive me, give me such a kingdom as will not be possible for anyone after me" (Qur'an, xxxvii)
اسحاق بن ابراہیم اور اسحاق بن منصور نے کہا : ہمیں نضر بن شمیل نے خبر دی ، انھوں نے کہا : ہمیں شعبہ نے خبر دی ، انھوں نے کہا : ہمیں شعبہ نے خبر دی ، انھوں نے کہا : ہمیں محمد نے ، جو ابن زیاد ہے ، حدیث سنائی ، انھوں نے کہا ، میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ‘ ‘ گزشتہ رات ایک سرکش جن مجھ پر حملے کرنے لگا تا کہ میری نماز توڑ دے ۔ اللہ تعالیٰ نے اسے میرے قابو میں کر دیا تو میں نے زور سے اس کا گلا گھونٹا اور یہ ارادہ کیا کہ اسے مسجد کے ستونوں میں سے کسی ستون کے ساتھ باندھ دوں تاکہ صبح کو تم سب دیکھ سکو ، پھر مجھے اپنے بھائی سلیمان علیہ السلام کا یہ قول یاد آگیا : ‘ ‘ اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھے ایسی حکومت دے جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو ’’ ( تو میں نے اسے چھوڑ دیا ) اور اللہ نے اس ( جن ) کو رسوا کر کے لوٹا دیا ۔ ’’ ابن منصور نے کہا : شعبہ نے محمد بن زیاد سے روایت کی ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، - وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ - قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ عِفْرِيتًا مِنَ الْجِنِّ جَعَلَ يَفْتِكُ عَلَىَّ الْبَارِحَةَ لِيَقْطَعَ عَلَىَّ الصَّلاَةَ وَإِنَّ اللَّهَ أَمْكَنَنِي مِنْهُ فَذَعَتُّهُ فَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَرْبِطَهُ إِلَى جَنْبِ سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حَتَّى تُصْبِحُوا تَنْظُرُونَ إِلَيْهِ أَجْمَعُونَ - أَوْ كُلُّكُمْ - ثُمَّ ذَكَرْتُ قَوْلَ أَخِي سُلَيْمَانَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لاَ يَنْبَغِي لأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي . فَرَدَّهُ اللَّهُ خَاسِئًا " . وَقَالَ ابْنُ مَنْصُورٍ شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ .
#1210
This hadith has been transmitted by Ibn Abi Shaiba
محمد بن بشار نے کہا : ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث سنائی ۔ اور ابو بکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں شبابہ نے حدیث سنائی ، ان دونوں ( ابن جعفر اور شبابہ ) نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث روایت کی ۔ ابن جعفر کی روایت میں ‘ ‘ میں نے اس کا گلا گھونٹا ’’ کے الفاظ نہیں جبکہ ابن ابی شبیہ نے اپنی روایت میں کہا : ‘ ‘ میں نے اسے پیچھے دھکا دیا ۔ ’’
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، هُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ح قَالَ وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، كِلاَهُمَا عَنْ شُعْبَةَ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ قَوْلُهُ فَذَعَتُّهُ . وَأَمَّا ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ فَقَالَ فِي رِوَايَتِهِ فَدَعَتُّهُ .
#1211
Abu Darda' reported:Allah's Messenger (ﷺ) stood up (to pray) and we heard him say:" I seek refuge in Allah from thee." Then said:" curse thee with Allah's curse" three times, then he stretched out his hand as though he was taking hold of something. When he finished the prayer, we said: Messenger of Allah, we heard you say something during the prayer which we have not heard you say before, and we saw you stretch out your hand. He replied: Allah's enemy Iblis came with a flame of fire to put it in my face, so I said three times:" I Seek refuge in Allah from thee." Then I said three times:" I curse thee with Allah's full curse." But he did not retreat (on any one of these) three occasions. Thereafter I meant to seize him. I swear by Allah that had it not been for the supplication of my brother Sulaiman he would have been bound, and made an object of sport for the children of Medina
حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ قیام ( کی حالت ) میں تھے کہ ہم نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا : ‘ ‘ میں تجھ سے اللہ کی پنا میں آتا ہوں ۔ ’’ پھر آپ نے فرمایا : ‘ ‘ میں تجھ پر اللہ کی لعنت بھیجتا ہوں ۔ ’’ آپ نے یہ تین بار کہا اور آپ نے اپنا ہاتھ بڑھایا ، گویا کہ آپ کسی چیز کو پکڑ رہے ہیں ، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! ہم نے آب کو نماز میں کچھ کہتے سنا ہے جو اس سے پہلے آب کو کبھی کہتے نہیں سنا اور ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے اپنا ہاتھ ( آگے ) بڑھایا ۔ آب نے فرمایا ‘ ‘ اللہ دشمن ابلیس آگ کا ایک شعلہ لے کر آیا تھا تا کہ اسے میرے چہرے پر ڈال دے ، میں نے تین دفعہ اعوذ باللہ منک ‘ ‘ میں تجھ سے اللہ کی پنا ہ مانگتا ہوں’’ کہا ، پھر میں نے تین بار کہا : میں تجھ پر اللہ کی کامل لعنت بھیجتا ہوں ۔ وہ پھر بھی پیچھے نہ ہٹا تو میں نے اسے پکڑ نے کا ارادہ کر لیا ۔ اللہ کی قسم ! اگر ہمارے بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا نہ ہوتی تو وہ صبح تک بندھا رہتا اور مدینہ والوں کے بچے اس کے ساتھ کھیلتے ۔ ’’
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، يَقُولُ حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيِّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَمِعْنَاهُ يَقُولُ " أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ " . ثُمَّ قَالَ " أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللَّهِ " . ثَلاَثًا . وَبَسَطَ يَدَهُ كَأَنَّهُ يَتَنَاوَلُ شَيْئًا فَلَمَّا فَرَغَ مِنَ الصَّلاَةِ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ سَمِعْنَاكَ تَقُولُ فِي الصَّلاَةِ شَيْئًا لَمْ نَسْمَعْكَ تَقُولُهُ قَبْلَ ذَلِكَ وَرَأَيْنَاكَ بَسَطْتَ يَدَكَ . قَالَ " إِنَّ عَدُوَّ اللَّهِ إِبْلِيسَ جَاءَ بِشِهَابٍ مِنْ نَارٍ لِيَجْعَلَهُ فِي وَجْهِي فَقُلْتُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ . ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قُلْتُ أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللَّهِ التَّامَّةِ فَلَمْ يَسْتَأْخِرْ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَرَدْتُ أَخْذَهُ وَاللَّهِ لَوْلاَ دَعْوَةُ أَخِينَا سُلَيْمَانَ لأَصْبَحَ مُوثَقًا يَلْعَبُ بِهِ وِلْدَانُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ " .
#1212
Abu Qatadi reported:I saw the Messenger of Allah (ﷺ) saying the prayer while he was carrying Umama, daughter of Zainab, daughter of the Messenger of Allah (ﷺ). and Abu'l-'As b. al-Rabi'. When he stood up, he took her up and when he prostrated he put her down, Yahya said: Malik replied in the affirmative
عبداللہ بن مسلمہ بن مسلمہ بن قعنب اور قتیبہ بن سعید نے کہا : ہمیں امام مالک نے حدیث سنائی ۔ دوسری سند میں یحیٰی بن یحییٰ نے کہا : میں نے امام مالک سے کہا : کہا آپ کو عامر بن عبداللہ بن زبیر نے عمر و بن سلیم زرقی سے اور انھوں نے حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہوئے یہ حدیث سنائی تھی کہ رسول اللہ ﷺ اپنی صاحبزادی زینب اور ابو العاص بن ربیع رضی اللہ تعالی عنہما کی بیٹی امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو اٹھا کر نماز پڑھ لیتے تھے ، جب آپ کھڑے ہوتے تو اسے اٹھا لیتے اور جب سجدہ کرتے تو اسے ( زمین پر ) بٹھا دیتے تھے ؟ یحیٰی نے کہا : امام مالک نے جواب دیا : ہاں ( یہ روایت مجھے سنائی تھی ۔)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قُلْتُ لِمَالِكٍ حَدَّثَكَ عَامِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي وَهُوَ حَامِلٌ أُمَامَةَ بِنْتَ زَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلأَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ فَإِذَا قَامَ حَمَلَهَا وَإِذَا سَجَدَ وَضَعَهَا قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِكٌ نَعَمْ .
#1213
Abu Qatada al-Ansari reported:I saw the Apostle (ﷺ) leading the people in prayer with Umima, daughter of Abu'l-'As and Zainab, daughter of the Messenger of Allah (ﷺ), on his shoulder. When he bowed, he put her down, and when he got up after prostration, he lifted her again
عثمان بن ابی سلیمان اور ابن عجلان دونوں نے عامر بن عبداللہ بن زبیر کو عمرو سلیم زرقی سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ، انھوں نے حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا ۔ آپ لوگوں کی امات کر رہے تھے ، اور ابو العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیٹی امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جو نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی زینب رضی اللہ عنہا کی بیٹی تھیں ، آپ کے کندے پر تھیں ، جب آپ رکوع میں جاتے تو انھیں کندھے سے اتار دیتے اور جب سجدے سے اٹھتے تو پھر سے انھیں اٹھا لیتے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، وَابْنِ، عَجْلاَنَ سَمِعَا عَامِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَؤُمُّ النَّاسَ وَأُمَامَةُ بِنْتُ أَبِي الْعَاصِ وَهْىَ ابْنَةُ زَيْنَبَ بِنْتِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَلَى عَاتِقِهِ فَإِذَا رَكَعَ وَضَعَهَا وَإِذَا رَفَعَ مِنَ السُّجُودِ أَعَادَهَا .
#1214
Abu Qatada reported:I saw the Messenger of Allah (ﷺ) leading the people in prayer with Umama daughter of Abu'l-'As on his neck; and when he prostrated he put her down
بکیر ( بن عبداللہ ) نے عمرو بن سلیم زرقی سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ، آپ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے اور ابو العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیٹی امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ کی گردن پر تھیں ، جب آپ سجدہ کرتے تو انھیں اتار دیتے ۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ بُكَيْرٍ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا قَتَادَةَ الأَنْصَارِيَّ، يَقُولُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي لِلنَّاسِ وَأُمَامَةُ بِنْتُ أَبِي الْعَاصِ عَلَى عُنُقِهِ فَإِذَا سَجَدَ وَضَعَهَا .
#1215
Abu Qatada reported:As we were sitting in the mosque, the Messenger of Allah (ﷺ) came to us, and the rest of the hadith is the same except that he made no mention that he led people in this prayer
سعید مقبری نے عمر و بن سلیم زرقی سے روایت کی ، انھوں نے حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہوئے سنا : ہم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی اثنا میں رسول اللہ ﷺ ( گھر سے ) نکل کر ہمارے پاس تشریف لائے ...... ( آگے ) مذکورہ بالا روایوں کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی ، مگر انھوں ( سعید مقبری ) نے یہ بیان نہیں کیا کہ اس نما میں آپ لوگوں کی امامت فرمائی تھی ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، جَمِيعًا عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، سَمِعَ أَبَا قَتَادَةَ، يَقُولُ بَيْنَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ جُلُوسٌ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ أَنَّهُ أَمَّ النَّاسَ فِي تِلْكَ الصَّلاَةِ .
#1216
Abu Hazim is reported on the authority of his father:Some people came to Sahl b. Sa'd and began to differ about the wood of which the (Prophet's pulpit was made. He (Sahl b. Sa'd) said: By Allah, I know of which wood it is made and who made it, and the day when I saw the Messenger of Allah (ﷺ) seated himself on it on the first day. I said to him: O Abu Abbas (kunyah of Sabl b. Sa'd), narrate to us (all these facts), He said: The Messenger of Allah (ﷺ) sent a person to a woman asking her to allow her slave, a carpenter, to work on woods (to prepare a pulpit) so that I should talk to the people (sitting on it). Abu Hazim said: He (Sahl b. Sa'd) pointed out the name of (that lady) that day. So he (the carpenter) made (a pulpit) with these three steps. Then the Messengerof Allah (ﷺ) commanded it to be placed here (where it is lying now). It was fashioned out of the wood of al-Ghaba. And I saw the Messenger of Allah (may peace he upon him) standing upon it and glorifying Allah and the people also glorified Allah after him, while he was on the pulpit. He then raised (his head from prostration) and stepped back (on his heels) till he prostrated himself at the base of pulpit, and then returned (to the former place and this movement of one or two steps continued) till the prayer was complete. He then turned towards the people and said: O people, I have done it so that you should follow me and learn (my mode of) prayer
عبدالعزیز بن ابی حازم نے اپنے والد سے خبر دی کہ کچھ لوگ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انھوں نے منبر نبوی کے بارے میں میں بخث کی تھی کہ وہ کس لکڑی سے بنا ہے ؟ انھوں ( سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : ہاں! اللہ کی قسم ! میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ وہ کس لکڑی ہے اور اسے کس نے بنایا تھا ۔ رسول اللہ ﷺ جب پہلے دن اس پر بیٹھے تھے ، میں نے آپ کو دیکھا تھا ۔ میں ( ابو حازم ) نے کہا : ابو عباس ! پھر تو ( آپ ) ہمیں ( اس کی ) تفصیل بتائیے ۔ انھوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے ایک عورت کی طرف پیغام بھیجا ۔ ابو حازم نے کہا : وہ اس دن اس کا نام بھی بتارے تھے اور کہا ۔ ‘ ‘ اپنے بڑھئی غلام کو دیکھو ( اور کہو ) وہ میرے لیے لکڑیا ں ( جوڑکر منبر ) بنا دے تا کہ میں اس پر سے لوگوں سے گفتگو کیا کروں ۔ تو اس نے یہ تین سٹرھیاں بنائیں ، پھر رسول للہ ﷺنے اس کے بارے میں حکم دیا اور اسے اس جگہ رکھ دیا گیا اور یہ مدینہ کے جنگل کے درخت جھاؤ ( کی لکڑی ) سے بنا تھا ۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ، آپ اس پر کھڑے ہوئے اور تکبیر کہی ، لوگوں نے بھی آپ کے پیچھے تکبیر کہی جبکہ آپ منبر ہی پر تھے ، پھر آپ ( نے رکوع سے سر اٹھایا ) اٹھے اور الٹے پاؤں نیچے اترے اور منبر کی جڑ میں ( جہاں وہ رکھا ہوا تھا ) سجدہ کیا ، پھر دوبارہ وہی کیا ( منبر پر کھڑے ہو گئے ) حتی کہ نماز پوری کر کے فارغ ہوئے ، پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : ‘ ‘ لوگو! میں نے یہ کام اس لیے کیا ہےتاکہ تم ( مجھے دیکھتے ہوئے ) میری پیروی کرو اور میری نماز سیکھ لو ۔ ’’
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، كِلاَهُمَا عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ نَفَرًا، جَاءُوا إِلَى سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَدْ تَمَارَوْا فِي الْمِنْبَرِ مِنْ أَىِّ عُودٍ هُوَ فَقَالَ أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لأَعْرِفُ مِنْ أَىِّ عُودٍ هُوَ وَمَنْ عَمِلَهُ وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَوَّلَ يَوْمٍ جَلَسَ عَلَيْهِ - قَالَ - فَقُلْتُ لَهُ يَا أَبَا عَبَّاسٍ فَحَدِّثْنَا . قَالَ أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى امْرَأَةٍ قَالَ أَبُو حَازِمٍ إِنَّهُ لَيُسَمِّيهَا يَوْمَئِذٍ " انْظُرِي غُلاَمَكِ النَّجَّارَ يَعْمَلْ لِي أَعْوَادًا أُكَلِّمُ النَّاسَ عَلَيْهَا " . فَعَمِلَ هَذِهِ الثَّلاَثَ دَرَجَاتٍ ثُمَّ أَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَوُضِعَتْ هَذَا الْمَوْضِعَ فَهْىَ مِنْ طَرْفَاءِ الْغَابَةِ . وَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَامَ عَلَيْهِ فَكَبَّرَ وَكَبَّرَ النَّاسُ وَرَاءَهُ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ ثُمَّ رَفَعَ فَنَزَلَ الْقَهْقَرَى حَتَّى سَجَدَ فِي أَصْلِ الْمِنْبَرِ ثُمَّ عَادَ حَتَّى فَرَغَ مِنْ آخِرِ صَلاَتِهِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ " يَا أُيُّهَا النَّاسُ إِنِّي صَنَعْتُ هَذَا لِتَأْتَمُّوا بِي وَلِتَعَلَّمُوا صَلاَتِي " .
#1217
Abu Hazim reported:They (the people) came to Sahl b. Sa'd and they asked him of what thing the pulpit of the Messenger of Allah (ﷺ) was made, and the rest of the hadith is the same
یعقوب بن عبدالرحمن بن محمد بن عبداللہ بن عبد ، قار ی قرشی نے کہا : مجھے ابو حازم نے حدیث سنائی کہ کچھ لوگ حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے ، نیز سفیان بن عیینہ نے ابو حازم سے حدیث سنائی کہ لوگ سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے اور ان سے پوچھا : نبی اکرم ﷺ کا منبر کس ( لکڑی ) سے ( بنا ہوا ) ہے ....... ( آگے ) ابن ابی حازم کی روایت کی حدیث کی طرح ہے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيُّ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، أَنَّ رِجَالاً، أَتَوْا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ ح قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ أَتَوْا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ فَسَأَلُوهُ مِنْ أَىِّ شَىْءٍ مِنْبَرُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَسَاقُوا الْحَدِيثَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي حَازِمٍ .
#1218
Abu Huraira reported from the Messenger of Allah (ﷺ) that he forbade keeping one's hand on one's waist while praying, and in the narration of Abu Bakr (the words are):The Messenger of Allah (ﷺ) forbade to do so
حکم بن موسیٰ قنطری نے کہا : ہمیں عبداللہ بن مبارک نے حدیث سنائی ، نیز ابو بکر ابن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں ابو خالد اور ابو اسامہ نے حدیث سنائی ، ان سب نے ہشام سے ، انھوں نے محمد ( بن سیرین ) سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپ نے س بات سے منع فرمایا کہ کوئی آدمی پہلو پر ہاتھ رکھے ہوئے نماز پڑھے ۔ امام مسلم کے استاد ابو بکر کی روایت میں ( نبی ﷺ کے بجائے ) ‘ ‘ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ’’ کے الفاظ ہیں ۔
وَحَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى الْقَنْطَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، وَأَبُو أُسَامَةَ جَمِيعًا عَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ نَهَى أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ مُخْتَصِرًا . وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
#1219
Mu'aiqib quoted the Messenger of Allah (ﷺ) mentioning the removal of pebbles from the ground where he prostrated himself. He (the Prophet) said:It you must do so, do it only once
ہمیں وکیع نے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں ہشام دستوائی نے حدیث سنائی ، انھوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے ، انھوں نے ابو سلمہ سے اور انھوں نے حضرت معیقیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرم ﷺ نے مسجد میں ہاتھ سے کنکریاں صاف کرنے کا تذکروہ کیا اور فرمایا : ‘ ‘ اگر تمھارے لیے اسے کیے بغیر چارہ نہ ہو تو ایک بار ( کر لو ۔ ) ’’
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ مُعَيْقِيبٍ، قَالَ ذَكَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْمَسْحَ فِي الْمَسْجِدِ - يَعْنِي الْحَصَى - قَالَ " إِنْ كُنْتَ لاَ بُدَّ فَاعِلاً فَوَاحِدَةً " .
#1220
Mu'aiqib said:They asked the Apostle (ﷺ) about the removal of (pebbles) in prayer, whereupon he said: If you do it, do it only once
یحییٰ بن سعید نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ حضرت معیقیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ لوگوں نے نبی اکرم ﷺ سے نماز ( کے دوران ) میں ہاتھ سے ( کنکریاں وغیرہ ) صاف کرنے کے بارےمیں سوال کیا تو آپ نے فرمایا : ‘ ‘ ایک بار ( کی جاسکتی ہیں ۔ ) ’’
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ مُعَيْقِيبٍ، أَنَّهُمْ سَأَلُوا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْمَسْحِ فِي الصَّلاَةِ فَقَالَ " وَاحِدَةٌ " . وَحَدَّثَنِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - حَدَّثَنَا هِشَامٌ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . وَقَالَ فِيهِ حَدَّثَنِي مُعَيْقِيبٌ، ح وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي مُعَيْقِيبٌ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فِي الرَّجُلِ يُسَوِّي التُّرَابَ حَيْثُ يَسْجُدُ قَالَ " إِنْ كُنْتَ فَاعِلاً فَوَاحِدَةً " .
#1221
خالد بن حارث نے کہا : ہمیں ہشام نے اسی سند سے حدیث سنائی اور ( عن معیقیب کے بجائے ) حدثنی معیقیب کہا ۔
#1222
(ہشام کے بجائے ) شیبان نے یحییٰ سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آدمی کے بارے میں جو سجدے کی جگہ کی مٹی برابر کرتا ہے ، فرمایا : ‘ ‘ اگر تم نے ایسا کرنا ہی ہے تو ایک بار کرو ۔ ’’
#1223
Abdullah b. Umar reported:The Messenger of Allah (ﷺ) saw spittle on the wall towards Qibla, and scratched it away and then turning to the people said: When any one of you prays, he must not spit in front of him, for Allah is in front of him when he is engaged in prayer
امام مالک نے نافع سے اور انھوں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے ( مسجد کی ) قبلے والی دیوار ( کی سمت ) میں بلغم ملا تھوک لگا ہو ا دیکھا تو اسے کھرچ دیا ، پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : ‘ ‘ جب تم میں سے کوئی نماز میں ہو تو اپنے سامنے نہ تھوکے کیونکہ جب وہ وہ نماز پڑھتا ہے تو اللہ اس کے سامنے ہوتا ہے ۔ ’’
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَى بُصَاقًا فِي جِدَارِ الْقِبْلَةِ فَحَكَّهُ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي فَلاَ يَبْصُقْ قِبَلَ وَجْهِهِ فَإِنَّ اللَّهَ قِبَلَ وَجْهِهِ إِذَا صَلَّى " .
#1224
Ibn Umar reported that the Messenger of Allah (ﷺ) saw sputum sticking to the Qibla wall of the mosque, the rest of the hadith is the same
عبید اللہ ، لیث بن سعد ، ایوب ، ضحاک بن عثمان اور موسیٰ بن عقبہ سب نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی کہ آپ ﷺ نے مسجد کے قبلے ( کی سمت ) میں بلغم دیکھا ۔ سوائے ضحاک کے کہ ان کی روایت میں ( مسجد کے قبلے کے بجائے ) ‘ ‘ قبلے ( کی سمت ) میں ’’ کے الفاظ ہیں ..... ( آگے ) امام مالک کی حدیث کے ہم معنی روایت ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو أُسَامَةَ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي جَمِيعًا، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ - عَنْ أَيُّوبَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ، - يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ ح وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، كُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ . إِلاَّ الضَّحَّاكَ فَإِنَّ فِي حَدِيثِهِ نُخَامَةً فِي الْقِبْلَةِ . بِمَعْنَى حَدِيثِ مَالِكٍ .