#1075
Abdullah b. 'Abbas reported:The Messenger of Allah (ﷺ) drew aside the curtain and his head was bandaged on account of illness in which he died. He said: O Allah, have I not delivered (Thy Message)? (He repeated it) three times. Nothing has been left out of the glad tidings of apostlebood, but good vision. which a pious servant (of Allah) sees or someone else is made to see for him. He then narrated like the hadith transmitted by Sufyan
۔ اسماعیل بن جعفر نے سلیمان سے باقی ماندہ سابقہ سند سے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے پردہ اٹھایا ، اس مرض کے عالم میں جس میں آپ کا انتقال ہوا ، آپ کا سر پٹی سے بندھا ہوا تھا ، آپ نے فرمایا : ’’اے اللہ! کیا میں نے پیغام پہنچا دیا؟ ‘ ‘ تین بار ( یہ الفاظ کہے ، پھر فرمایا : ) ’’نبوت کی بشارتوں میں سے اب صرف سچے خواب باقی رہ گئے ہیں جو کوئی نیک انسان خود دیکھے گا یا اس کے لیے ( دوسرے کو ) دکھائے جائیں گے ... ‘ ‘ اس کے بعد اسماعیل نے سفیان کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ سُحَيْمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم السِّتْرَ وَرَأْسُهُ مَعْصُوبٌ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ فَقَالَ " اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ " . ثَلاَثَ مَرَّاتٍ " إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ إِلاَّ الرُّؤْيَا يَرَاهَا الْعَبْدُ الصَّالِحُ أَوْ تُرَى لَهُ " . ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ سُفْيَانَ .
#1076
Ali b. Abi Talib reported:The Messenger of Allah (ﷺ) forbade me to recite (the Qur'an) in a state of bowing and prostration
۔ ابن شہاب زہری نے کہا : مجھے ابراہیم بن عبد اللہ بن حنین نے حدیث سنائی کہ ان کے والد نے ان سے بیان کیا ، انہوں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے کہا کہ مجھے رسول اللہﷺ نے رکوع اور سجدے میں قرآن پڑھنے سے منع فرمایا ۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ أَقْرَأَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا .
#1077
Ali b. Abi Talib reported:The Messenger of Allah (ﷺ) forbade to recite the Qur'an, while I am in the state of bowing and prostration
ولید بن کثیر سے روایت ہے کہ مجھے ابراہیم بن عبد اللہ بن حنین نے اپنے والد سے بیان کیا ، انہوں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : مجھے رسول اللہﷺ نے ، جب میں رکوع یا سجدے میں ہوں ، قرآن پڑھنے سے روکا ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ، - يَعْنِي ابْنَ كَثِيرٍ - حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، يَقُولُ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ وَأَنَا رَاكِعٌ أَوْ سَاجِدٌ .
#1078
Ali b. Abi Talib reported:The Messenger of Allah (ﷺ) forbade me from the recitation (of the Qur'an) in bowing and prostration and I do not say that he forbade you
زید بن اسلم نے ابراہیم بن عبد اللہ بن حنین سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے رسول اللہﷺ نے رکوع اور سجدے میں ( قرآن کی ) قراءت کرنے سے منع کیا ۔ میں ( یہ ) نہیں کہتا : تمہیں منع کیا ۔ ( حضرت علی نے اپنے حوالےا سے جو سنا وہی بتایا ۔ پچھلی احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ حکم سب کے لیے ہے ۔)
وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّهُ قَالَ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْقِرَاءَةِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ وَلاَ أَقُولُ نَهَاكُمْ .
#1079
Ali reported:My loved one (the Holy Prophet) forbade me that I should recite (the Qur'an) in a state of bowing and prostration
داؤد بن قیس نے کہا : مجھے ابراہیم بن عبد اللہ بن حنین نے اپنے والد ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ میرے حبیبﷺ نے مجھے اس بات سے منع فرمایا تھا کہ میں رکوع یا سجدے میں قرآن پڑھوں ۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ، قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ نَهَانِي حِبِّي صلى الله عليه وسلم أَنْ أَقْرَأَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا .
#1080
This hadith has been narrated by some other narrators, Ibn 'Abbas and others, and they all reported that 'Ali said:The Apostle of Allah (ﷺ) forbade me to recite the Qur'an while I am in a state of bowing and prostration, and in their narration (there is a mention of) forbiddance from that (recital) in the state of prostration as it has been transmitted by Zuhri, Zaid b. Aslam, al-Wahid b. Kathir, and Dawud b. Qais
نافع ، یزید بن ابی حبیب ، ضحاک بن عثمان ، ابن عجلان ، اسامہ بن زید ، محمد بن عمرو اور محمد بن اسحاق سب نے مختلف سندوں سے ابراہیم بن عبد اللہ حنین سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت کی ، البتہ ان میں ضحاک اور ابن عجلان نے اضافہ کرتے ہوئے کہا : حضرت ابن عباس سے روایت ہے ، انہوں نے حضرت علی سے ، انہوں نے رسول اللہﷺ سے روایت کی کہ آپ نے مجھے رکوع کی حالت میں قرآن کی قراءت سے روکا اور ان میں سے کسی نے اپنی روایت میں ( ابراہیم کے پچھلی روایتوں : 1076 ۔ 1079 میں مذکورہ شاگردوں ) زہری ، زید بن اسلم ، ولید بن کثیر اور داؤد بن قیس کی روایات کی طرح سجدے میں قراءت کرنے سے روکنے کا ذکر نہیں کیا
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، ح وَحَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، ح قَالَ وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، - وَهُوَ الْقَطَّانُ - عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، ح وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ - أَخْبَرَنِي مُحَمَّدٌ، وَهُوَ ابْنُ عَمْرٍو ح قَالَ وَحَدَّثَنِي هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، كُلُّ هَؤُلاَءِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، - إِلاَّ الضَّحَّاكَ وَابْنَ عَجْلاَنَ فَإِنَّهُمَا زَادَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَلِيٍّ، - عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم كُلُّهُمْ قَالُوا نَهَانِي عَنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ وَأَنَا رَاكِعٌ وَلَمْ يَذْكُرُوا فِي رِوَايَتِهِمُ النَّهْىَ عَنْهَا فِي السُّجُودِ كَمَا ذَكَرَ الزُّهْرِيُّ وَزَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ وَالْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ وَدَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ .
#1081
This hadith is transmitted on the authority of 'Ali, but he made no mention of" while in prostration
۔ عبد اللہ بن حنین کے ایک اور شاگرد محمد بن مکندر نے یہی حدیث حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی لیکن سجدے میں قراءت کا ذکر نہیں کیا ۔
وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ، عَنْ حَاتِمِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ عَلِيٍّ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي السُّجُودِ .
#1082
Ibn 'Abbas reported:I was forbidden to recite (the Qur'an) while I was bowing, and there is no mention of 'Ali in the chain of transmitters
عبد اللہ بن حنین نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا : مجھے رکوع کی حالت میں قراءت سے منع کیا گیا ہے ۔ اس سند میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا ۔
وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ، وَأَنَا رَاكِعٌ، . لاَ يَذْكُرُ فِي الإِسْنَادِ عَلِيًّا .
#1083
Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: The nearest a servant comes to his Lord is when he is prostrating himself, so make supplication (in this state)
۔ ذکوان نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب اس حالت میں ہوتا ہے جب وہ سجدے میں ہوتا ہے ، لہٰذا اس میں کثرت سے دعا کرو ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ سُمَىٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا صَالِحٍ، ذَكْوَانَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَقْرَبُ مَا يَكُونُ الْعَبْدُ مِنْ رَبِّهِ وَهُوَ سَاجِدٌ فَأَكْثِرُوا الدُّعَاءَ " .
#1084
Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (ﷺ) used to say while prostrating himself: O Lord, forgive me all my sins, small and great, first and last, open and secret
ابو صالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ سجدے میں کہا کرتے تھے : ’’ اللہ! میرے سارے گناہ بخش دے ، چھوٹے بھی اور بڑے بھی ، پہلے بھی اور پچھلے بھی ، کھلے بھی اور چھپے بھی ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ سُمَىٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي كُلَّهُ دِقَّهُ وَجِلَّهُ وَأَوَّلَهُ وَآخِرَهُ وَعَلاَنِيَتَهُ وَسِرَّهُ " .
#1085
A'isha reported:The Messenger of Allah (may peace be upon him') often said while bowing and prostrating himself:" Glory be to Thee, O Allah, our Lord, and praise be to Thee, O Allah, forgive me," thus complying with the (command in) the Qur'an
منصور نے ابو ضحیٰ ( مسلم بن صبیح القرشی ) سے ، انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : : رسول اللہﷺ اپنے رکوع اور سجدے میں بکثرت ( یہ کلمات ) کہا کرتے تھے : ’’تیری پاکیزگی بیان کرتا ہوں اے میرے اللہ! ہمارے رب! تیری حمد کے ساتھ ، اے میرے اللہ! مجھے بخش دے ۔ ‘ ‘ آپ ( یہ کلمات ) قرآن مجید کی تاویل ( حکم کی تعمیل ) کے طور پر فرمایا کرتے تھے ۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ " سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي " . يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ .
#1086
A'isha reported that the Messenger of Allah (ﷺ) before his death recited often:Hallowed be Thou, and with Thy praise, I seek forgiveness from Thee and return to Thee. She reported: I said: Messenger of Allah, what are these words that I find you reciting? He said: There has been made a sign for me in my Ummah; when I saw that, I uttered them (these words of glorification for Allah), and the sign is:" When Allah's help and victory..... to the end of the surah
ابو معاویہ نے اعمش سے ، انہوں نے مسلم ( بن صبیح سے ، انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول لالہﷺ وفات سے پہلے بکثرت یہ فرماتے تھے : ’’ ( اے اللہ! ) میں تیری حمد ے ساتھ تیری ستائش کرتاہوں ، تجھ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں ۔ ‘ ‘ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : میں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول! یہ کلمے کیا ہیں جو میں دیکھتی ہوں کہ آپ نے اب کہنے شروع کر دیے ہیں؟ آپ نے فرمایا : ’’میرے لیے میری امت میں ایک علامت مقرر کر دی گئی ہے کہ جب میں اسے دیکھ لوں تو یہ ( کلمے ) کہوں : ’’جب اللہ کی نصرت اور فتح آ پہنچے .... ) ‘ ‘ سورت کے آخر تک
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ " سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ " . قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا هَذِهِ الْكَلِمَاتُ الَّتِي أَرَاكَ أَحْدَثْتَهَا تَقُولُهَا قَالَ " جُعِلَتْ لِي عَلاَمَةٌ فِي أُمَّتِي إِذَا رَأَيْتُهَا قُلْتُهَا { إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ} " . إِلَى آخِرِ السُّورَةِ .
#1087
A'isha reported:Never did I, see the Messenger of Allah (ﷺ) after the revelation (of these verses):" When Allah's help and victory came." observin- his prayer without making (this supplication) or he said in it (supplication): Hallowed be Thee, my Lord, and with Thy praise, O Allah, forgive me
مفضل نے اعمش سے باقی ماندہ سابقہ سند کےساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : جب سے آپ پر ﴿إذا جاء نصر الله والفتح﴾ اتری ، اس وقت سے میں نے نبی اکرمﷺ کو دیکھا کہ آپ نے جو بھی نماز پڑھی اس میں یہ دعا مانگی یا یہ کہا : ’’اے میرے رب! میں تیری پاکیزگی بیان کرتا ہوں تیری حمد کے ساتھ ، اے میرے اللہ! مجھے بخش دے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مُنْذُ نَزَلَ عَلَيْهِ { إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ} يُصَلِّي صَلاَةً إِلاَّ دَعَا أَوْ قَالَ فِيهَا " سُبْحَانَكَ رَبِّي وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي " .
#1088
A'isha reported:The Messenger of Allah (ﷺ) recited often these words: Hallowed be Allah and with His praise, I seek the forgiveness of Allah and return to Him. She said: I asked: Messenger of Allah, I see that you often repeat the saying" subhan allahi bihamdihi astag firullahi watubuilaih" whereupon he said: My Lord informed me that I would soon see a sign in my Ummah, so when I see it I often recite (these) words: Hallowed be Allah and with His Praise, I seek forgiveness of Allah and return to Him. Indeed I saw it (when this verse) was revealed:" When Allah's help and victory came, it marked the victory of Mecca, and you see people entering into Allah's religion in troops, celebrate the praise of Thy Lord and ask His forgiveness. Surely He is ever returning to Mercy
عامر ( شعبی ) نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ کثرت سے یہ فرمایا کرتے تھے : ’’میں اللہ کی پاکیزگی بیان کرتا ہوں اس کی حمد کے ساتھ ، میں اللہ سے بخشش کا طلب گار ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔ ‘ ‘ حضرت عائشہ رضی اللہ نے کہا : میں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول! میں آپ کو دیکھتی ہوں کہ آپ بکثرت کہتے ہیں : سبحان الله وبحمده ، أستغفر الله وأتوب إليه عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا تو آپ نے فرمایا : ’’میرے رب نے مجھے خبر دی ہے کہ میں جلدی ہی اپنی امت میں ایک نشانی دیکھوں گا اور جب میں اس کو دیکھ لوں توبکثرت کہوں : سبحان الله وبحمده ، أستغفر الله وأتوب إليه تو ( وہ نشانی ) میں دیکھ چکا ہوں ۔ ’’جب اللہ کی نصرت اور فتح آ پہنچے ‘ ‘ ( یعنی ) فتح مکہ ’’ اور آپ لوگوں کو اللہ کے دین میں جوق در جوق داخل ہوتے دیکھ لیں تو اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ اس کی پاکیزگی بیان کریں اور اس سے بخشش طلب کریں بلاشبہ وہ توبہ قبول فرمانے والا ہے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُكْثِرُ مِنْ قَوْلِ " سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ " . قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَاكَ تُكْثِرُ مِنْ قَوْلِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ . فَقَالَ " خَبَّرَنِي رَبِّي أَنِّي سَأَرَى عَلاَمَةً فِي أُمَّتِي فَإِذَا رَأَيْتُهَا أَكْثَرْتُ مِنْ قَوْلِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ . فَقَدْ رَأَيْتُهَا { إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ} فَتْحُ مَكَّةَ { وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا * فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا} " .
#1089
Ibn Juraij reported:I asked 'Ata': What do you recite when you are in a state of bowing (in prayer)? He said:" Hallowed be Thou, and with Thy praise, there is no god but Thou." Son of Abd Mulaika narrated to me on the anthority of 'A'isha (who reported): I missed one night the Messenger of Allah (ﷺ) (from his bed). I thought that he might have gone to one of his other wives. I searched for him and then came back and (found him) in a state of bowing, or prostration, saying: Hallowed be Thou and with Thy praise; there is no god but Thou. I said: With my father mayest thou be ransomed and with my mother. I was thinking of (another) affair, whereas you are (occupied) in another one
۔ ابن جریج نے کہا : میں نے عطاء سے پوچھا : آپ رکوع میں کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا : جہاں تک ( دعا ) سبحانك وبحمدك ، لا إله إلا أنت ’’تو پاک ہے ( اے اللہ! ) اپنی حمد کے ساتھ ، کوئی معبود برحق نہیں تیرے سوا ‘ ‘ کا تعلق ہے تو مجھے ابن ملیکہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی ، انہوں نے کہا : ایک رات میں نے نبی ﷺ کو گم پایا تو میں نے یہ گمان کیا کہ آپ اپنی کسی ( اور ) بیوی کے پاس چلے گئے ہیں ، میں نے تلاش کیا ، پھر آپ رکوع یا سجدے میں تھے ، کہہ رہے تھے : سبحانك وبحمدك ، لا إله إلا أنت میں نے کہا : آپ پہ میرے ماں باپ قربان! میں ایک کیفیت میں تھی اور آپ ایک ہی کیفیت میں تھے ۔
وَحَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ قُلْتُ لِعَطَاءٍ كَيْفَ تَقُولُ أَنْتَ فِي الرُّكُوعِ قَالَ أَمَّا سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ فَأَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتِ افْتَقَدْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ لَيْلَةٍ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ ذَهَبَ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ فَتَحَسَّسْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ فَإِذَا هُوَ رَاكِعٌ أَوْ سَاجِدٌ يَقُولُ " سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ " . فَقُلْتُ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي إِنِّي لَفِي شَأْنٍ وَإِنَّكَ لَفِي آخَرَ .
#1090
A'isha reported:One night I missed Allah's Messenger (ﷺ) from the bed, and when I sought him my hand touched the soles of his feet while he was in the state of prostration; they (feet) were raised and he was saying:" O Allah, I seek refuge in Thy pleasure from Thy anger, and in Thy forgiveness from Thy punishment, and I seek refuge in Thee from Thee (Thy anger). I cannot reckon Thy praise. Thou art as Thou hast lauded Thyself
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے ایک رات رسول اللہﷺ کو بستر پر نہ پایا تو آپ کو ٹٹولنے لگی ، میرا ہاتھ آپ کے پاؤں کے تلوے پر پڑا ، اس وقت آپ سجدے میں تھے ، آپ کے دونوں پاؤں کھڑے تھے اور آپ کہہ رہے تھے : ’’اے اللہ! میں تیری ناراضی سے تیری رضا مندی کی پناہ میں آتا ہوں اور تیری سزا سے تیری معافی کی پناہ میں آتا ہوں اور تجھ سے تیری ہی پناہ میں آتا ہوں ، میں تیری ثنا پوری طرح بیان نہیں کر سکتا ، تو ویسا ہی ہے جیسے تو نے اپنی تعریف خود بیان کی ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةً مِنَ الْفِرَاشِ فَالْتَمَسْتُهُ فَوَقَعَتْ يَدِي عَلَى بَطْنِ قَدَمَيْهِ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ وَهُمَا مَنْصُوبَتَانِ وَهُوَ يَقُولُ " اللَّهُمَّ أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لاَ أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ " .
#1091
A'isha reported that the Messenger of Allah (may peace he upon him) used to pronounce while bowing and prostrating himself:All Glorious, All Holy, Lord of the Angels and the Spirit
سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے اور انہوں نے مطرف بن عبد اللہ بن شخیر سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ رسول اللہﷺ اپنے رکوع اور سجدے میں ( یہ کلمات ) کہتے تھے : ’’نہایت پاک ہے ، مقدس ہے فرشتوں اور روح ( جبریل علیہ السلام ) کا پروردگار ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، نَبَّأَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ " سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلاَئِكَةِ وَالرُّوحِ " .
#1092
This hadith has been narrated on the authority of 'A'isha by another chain of transmitters
ہمیں ابوداؤد ( طیالسی ) نے شعبہ سے حدیث سنائی کہ قتادہ نے کہا : میں نے مطرف بن عبد اللہ بن شخیر سے سنا ۔ ابوداؤد نے ( مزید ) کہا : اور ہشام نے مجھے حدیث سنائی انہوں نے قتادہ سے ، انہوں نے مطرف سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے نبی اکرمﷺ سے یہ حدیث روایت کی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ، قَالَ سَمِعْتُ مُطَرِّفَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَحَدَّثَنِي هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْحَدِيثِ .
#1093
Ma'dan b. Talha reported:I met Thauban, the freed slave. of Allah's Messenger (ﷺ), and asked him to tell me about an act for which, if I do it, Allah will admit me to Paradise, or I asked about the act which was loved most by Allah. He gave no reply. I again asked and he gave no reply. I asked him for the third time, and he said: I asked Allah's Messenger (ﷺ) about that and he said: Make frequent prostrations before Allah, for you will not make one prostration without raising you a degree because of it, and removing a sin from you, because of it. Ma'dan said that then lie met Abu al-Darda' and when he asked him, he received a reply similar to that given by Thauban
۔ معدان بن ابی طلحہ یعمری نے کہا : میں رسول اللہﷺ کے آزاد کردہ غلام ثوبان رضی اللہ عنہ سے ملا تو میں نے کہا : مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جسے کروں تو اللہ اس کی وجہ سے مجھے جنت میں داخل فرما دے ، یا انہوں نے کہا : میں نے پوچھا : جو عمل اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہو ، تو ثوبان رضی اللہ عنہ نے خاموشی اختیار فرمائی ( اور میری بات کا کوئی جواب نہ دیا ) پھر میں نے دوبارہ ان سے سوال کیا ، انہوں نے خاموشی اختیار کر لی ، پھر میں نے ان سے تیسری دفعہ یہی سوال کیا تو انہوں نے کہا : میں نے یہی سوال رسول اللہﷺ سے کیا تھا تو آپ نے فرمایا تھا : ’’تم اللہ کے حضور کثرت سے سجدے کیا کرو کیونکہ تم اللہ کے لیے جو بھی سجدہ کرو گے اللہ اس کے نتیجے میں تمہارا درجہ ضرور بلند کرے گا اور تمہارا کوئی گناہ معاف کر دے گا ۔ ‘ ‘ معدان نے کہا : پھر میں ابو درداء رضی اللہ عنہ سے ملا تو ان سے ( یہی ) سوال کیا ، انہوں نے بھی مجھ س وہی کہا جو ثوبان رضی اللہ عنہ نے کہا تھا ۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ الأَوْزَاعِيَّ، قَالَ حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ هِشَامٍ الْمُعَيْطِيُّ، حَدَّثَنِي مَعْدَانُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيُّ، قَالَ لَقِيتُ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ أَعْمَلُهُ يُدْخِلُنِي اللَّهُ بِهِ الْجَنَّةَ . أَوْ قَالَ قُلْتُ بِأَحَبِّ الأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ . فَسَكَتَ ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَسَكَتَ ثُمَّ سَأَلْتُهُ الثَّالِثَةَ فَقَالَ سَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " عَلَيْكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ لِلَّهِ فَإِنَّكَ لاَ تَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلاَّ رَفَعَكَ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ عَنْكَ بِهَا خَطِيئَةً " . قَالَ مَعْدَانُ ثُمَّ لَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ لِي مِثْلَ مَا قَالَ لِي ثَوْبَانُ .
#1094
Rabi'a b. Ka'b said:I was with Allah's Messenger (ﷺ) one night. and I brought him water and what he required. He said to me: Ask (anything you like). I said: I ask your company in Paradise. He (the Holy Prophet) said: Or anything else besides it. I said: That is all (what I require). He said: Then help me to achieve this for you by devoting yourself often to prostration
حضرت ربیعہ بن کعب ( بن مالک ) اسلمی رضی اللہ عنہ نے کہا : میں ( خدمت کے لیے ) رسول اللہﷺ کے ساتھ ( صفہ میں آپ کے قریب ) رات گزارا کرتا تھا ، ( جب آپ تہجد کے لیے اٹھتے تو ) میں وضو کا پانی اور دوسری ضروریات لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا ۔ ( ایک مرتبہ ) آپ نے مجھے فرمایا : ’’ ( کچھ ) مانگو ۔ ‘ ‘ تو میں نے عرض کی : میں آپ سے یہ چاہتا ہوں کہ جنت میں بھی آپ کی رفاقت نصیب ہو ۔ آپ نے فرمایا : ’’یا اس کے سوا کچھ اور؟ ‘ ‘ میں نے عرض کی : بس یہی ۔ تو آپ نے فرمایا : ’’تم اپنے معاملے میں سجدوں کی کثرت سے میری مدد کرو ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِحٍ، حَدَّثَنَا هِقْلُ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ سَمِعْتُ الأَوْزَاعِيَّ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ كَعْبٍ الأَسْلَمِيُّ، قَالَ كُنْتُ أَبِيتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَتَيْتُهُ بِوَضُوئِهِ وَحَاجَتِهِ فَقَالَ لِي " سَلْ " . فَقُلْتُ أَسْأَلُكَ مُرَافَقَتَكَ فِي الْجَنَّةِ . قَالَ " أَوَغَيْرَ ذَلِكَ " . قُلْتُ هُوَ ذَاكَ . قَالَ " فَأَعِنِّي عَلَى نَفْسِكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ " .
#1095
Ibn 'Abbas reported:The Apostle of Allah (ﷺ) had been commanded that he should prostrate on the seven (bones) and he was forbidden to fold back the hair and clothing. And in the narration transmitted by Abu Rabi' (the words are):" on the seven bones and I was forbidden to fold back the hair and clothing". According to Abu'l-Rabi' (the seven bones are): The hands, the knees, and the (extremities) of the feet and the forehead
یحییٰ اور ابو ربیع نے حدیث بیان کی ، یحییٰ نے کہا : حماد بن زید نے ’’ہمیں خبر دی ‘ ‘ اور ابو ربیع نے کہا : ’’ہمیں حدیث سنائی ‘ ‘ انہوں نے عمرو بن دینار سے ، انہوں نے طاؤس سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ، انہوں نے کہا : نبی اکرمﷺ کو حکم دیا گیا کہ آپ سات ہڈیوں ( والے اعضاء ) پر سجدہ کیا کریں ارو آپ کو بالوں اور کپڑوں کو اڑسنے سے منع کیا گیا ۔ یہ یحییٰ کی حدیث ہےاور ابو ربیع نے کہا : سات ہڈیوں ( والے اعضاء ) پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا اور اپنے بالوں اور اپنے کپڑوں کو اڑسنے سے منع کیا گیا ( سات اعضاء سے ) دونوں ہتھیلیاں ، دونوں گھٹنے ، دونوں قدم اور پیشانی ( مراد ہیں ۔)
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ أَبُو الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أُمِرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةٍ وَنُهِيَ أَنْ يَكُفَّ شَعْرَهُ وَثِيَابَهُ . هَذَا حَدِيثُ يَحْيَى . وَقَالَ أَبُو الرَّبِيعِ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ وَنُهِيَ أَنْ يَكُفَّ شَعْرَهُ وَثِيَابَهُ الْكَفَّيْنِ وَالرُّكْبَتَيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ وَالْجَبْهَةِ .
#1096
Ibn 'Abbas reported from the Messenger of Allah (ﷺ):I was commanded to prostrate myself on seven bones and not to fold back clothing or hair
شعبہ نے عمرو بن دینار سے ، انہوں نے طاؤس اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ، انہوں نے کہا : نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ’’مجھے حکم دیا گیا کہ میں سات ہڈیوں ( والے اعضاء ) پر سجدہ کروں اور یہ کہ میں ( نماز میں ) نہ کپڑا اڑسوں اور نہ بال ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ وَلاَ أَكُفَّ ثَوْبًا وَلاَ شَعْرًا " .
#1097
Ibn 'Abbas reported:The Messenger of Allah (ﷺ) had been commanded to prostrate on seven (bones) and forbidden to fold back hair and clothing
سفیان بن عیینہ نے ( عبد اللہ ) بن طاؤس سے اور انہوں نے اپنے والد کے حوالے سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی اکرمﷺ کو حکم دیا گیا کہ سات ( اعضاء ) پر سجدہ کریں اور بالوں کو اور کپڑوں کو اڑسنے سے روکا گیا ہے ۔
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أُمِرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعٍ وَنُهِيَ أَنْ يَكْفِتَ الشَّعْرَ وَالثِّيَابَ " .
#1098
Ibn Abbas reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said:I have been commanded to prostrate myself on seven bones:" forehead," and then pointed with his hand towards his nose, hands, feet, and the extremities of the feet; and we were forbidden to fold back clothing and hair
وہیب نے عبد اللہ بن طاؤس سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ( اپنے والد ) طاؤس سے انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’مجھے سات ہڈیوں : پیشانی ، اور ( ساتھ ہی ) آپ نے اپنے ہاتھ سے اپنی ناک کی طرف اشارہ کیا ، دونوں ہاتھوں ، دونوں ٹانگوں ( گھٹنوں ) اور دونوں پاؤں کے کناروں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور یہ کہ ہم ( نماز پڑھتے ہوئے ) کپڑوں اور بالوں کو نہ اڑسیں ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ الْجَبْهَةِ - وَأَشَارَ بِيَدِهِ عَلَى أَنْفِهِ - وَالْيَدَيْنِ وَالرِّجْلَيْنِ وَأَطْرَافِ الْقَدَمَيْنِ وَلاَ نَكْفِتَ الثِّيَابَ وَلاَ الشَّعْرَ " .
#1099
Ibn Abbas reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: I was commanded to prostrate myself on the seven (bones) and forbidden to fold back hair and clothing. (The seven bones are): forehead, nose, hands, knees and feet
ابن جریح نے عبد اللہ بن طاؤس سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سات ( اعضاء ) پر سجدہ کروں ، بالوں اور کپڑوں کو اکٹھا نہ کروں ، ( سجدہ ) پیشانی اور ناک ، دونوں ہاتھوں ، دونوں گھٹنوں اور دونوں پاؤں پر ( کروں ۔ ) ‘ ‘
حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعٍ وَلاَ أَكْفِتَ الشَّعْرَ وَلاَ الثِّيَابَ الْجَبْهَةِ وَالأَنْفِ وَالْيَدَيْنِ وَالرُّكْبَتَيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ " .