#925
Anas b. Malik reported:The Messenger of Allah (ﷺ) fell down from his horse and his right side was grazed, and the rest of the hadith is the same. In this hadith there are no additions (of words) as transmitted by Yunus and Malik
معمر نے زہری سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ نبیﷺ گھوڑے سے گر پڑے جس سے آپ کا دایاں پہلو چھل گیا ... آگے سابقہ حدیث کے مانند حدیث بیان کی ، اس میں یونس اور مالک والا اضافہ نہیں ہے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي أَنَسٌ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم سَقَطَ مِنْ فَرَسِهِ فَجُحِشَ شِقُّهُ الأَيْمَنُ . وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَلَيْسَ فِيهِ زِيَادَةُ يُونُسَ وَمَالِكٍ .
#926
A'isha reported:The Messenger of Allah (ﷺ) fell ill and some of his Companions came to inquire after his health. The Messenger of Allah (ﷺ) said prayer sitting, while (his Companions) said it (behind him) standing. He (the Holy Prophet) directed them by his gesture to sit down, and they sat down (in prayer). After finishing the (prayer) he (the Holy Prophet) said: The Imam is appointed so that he should be followed, so bow down when he bows down, and rise upp when he rises up and say (prayer) sitting when he (the Imam) says (it) sitting
عبدہ بن سلیمان نے ہشام ( بن عروہ ) سے روایت کی ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ بیمار ہو گئے ، آپ کے صحابہ میں سے کچھ لوگ آپ کے پاس آپ کی بیمار پرسی کے لیے حاضر ہوئے ۔ رسول اللہﷺ نے بیٹھ کر نماز پڑھی تو انہوں نے آپ کی اقتدا میں کھڑے ہو کر نماز پڑھنی شروع کی ۔ آپ نے انہیں اشارہ کیا کہ بیٹھ جاؤ تو وہ بیٹھ گئے ۔ جب آپ نماز سے فارغ ہو گئے تو آپ نے فرمایا : ’’ امام اسی لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے ، جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو اور جب وہ ( رکوع وسجود سے سر ) اٹھائے تو ( پھر ) تم ( بھی سر ) اٹھاؤ اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتِ اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَدَخَلَ عَلَيْهِ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ يَعُودُونَهُ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَالِسًا فَصَلَّوْا بِصَلاَتِهِ قِيَامًا فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنِ اجْلِسُوا . فَجَلَسُوا فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ " إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا " .
#927
This hadith is narrated with the same chain of transmitters by Hisham b. 'Urwa
۔ حماد بن زید اور عبد اللہ بن نمیر نے ہشام بن عروہ سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت بیان کی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي جَمِيعًا، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
#928
Jabir reported:The Messenger of Allah (ﷺ) was ill and we said prayer behind him and he was sitting. And Abu Bakr was making audible to the people his takbir. As he paid his attention towards us he saw us standing and (directed us to sit down) with a gesture. So we sat down and said our prayer with his prayer in a sitting posture. After uttering salutation he said: You were at this time about to do an act like that of the Persians and the Romans. They stand before their kings while they sit, so don't do that; follow your Imams. If they say prayer standing, you should also do so, and if they say prayer sitting, you should also say prayer sitting
۔ لیث نے ابو زبیر سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ كی بیماری میں ہم نے آپ كے پیچھے اس طرح نماز پڑھی كہ آپ نے بیٹھ كر نماز پڑھائی اور حضرت صدیق اكبر رضی اللہ عنہ مكبر كی حیثیت میں تكبیرات كہتے تھے . نماز میں ہمیں كھڑا دیكھ كر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بیٹھنے كا حكم دیا تو ہم بیٹھ گئے پھر بعد فراغت نماز ارشاد عالی ہوا تم نے اس وقت وہ كام كیا جیسا كہ فارس اور روم والے اپنے بادشاہ كے سامنے كھڑے رہتے ہیں اور بادشاہ بیٹھا رہتا ہے . اب آئندہ ایسا نہ كرنا بلكہ ہمیشہ اپنے امام كی پیروی كرو اگر وہ بیٹھ كر نماز پڑھائے تو تم بھی بیٹھ كر نماز پڑھو
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ وَهُوَ قَاعِدٌ وَأَبُو بَكْرٍ يُسْمِعُ النَّاسَ تَكْبِيرَهُ فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا فَرَآنَا قِيَامًا فَأَشَارَ إِلَيْنَا فَقَعَدْنَا فَصَلَّيْنَا بِصَلاَتِهِ قُعُودًا فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ " إِنْ كِدْتُمْ آنِفًِا لَتَفْعَلُونَ فِعْلَ فَارِسَ وَالرُّومِ يَقُومُونَ عَلَى مُلُوكِهِمْ وَهُمْ قُعُودٌ فَلاَ تَفْعَلُوا ائْتَمُّوا بِأَئِمَّتِكُمْ إِنْ صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا وَإِنْ صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا " .
#929
Jabir said:The Messenger of Allah (ﷺ) led the prayer and Abu Bakr was behind him. When the Messenger of Allah (ﷺ) recited the takbir, Abu Bakr also recited (it) in order to make it audible to us. And the rest of the hadith is like one transmitted by Laith
۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی اور ابو بکر رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے تھاے ۔ جب رسول اللہﷺ تکبیر کہتے تو ابو بکر رضی اللہ عنہ بھی تکبیر کہتے تاکہ ہمیں سنائیں .... پھر لیث کی مذکورہ بالا روایت کی طرح بیان کیا ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّؤَاسِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو بَكْرٍ خَلْفَهُ فَإِذَا كَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَبَّرَ أَبُو بَكْرٍ لِيُسْمِعَنَا . ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ اللَّيْثِ .
#930
Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: The Imam is appointed, so that he should be followed, so don't be at variance with him. Recite takbir when he recites it; bow down when he bows down and when he says:" Allah listens to him who praises Him," say:" O Allah, our Lord, to Thee be the Praise." And when he (the Imam) prostrates, you should also prostrate, and when he says prayer sitting, you should all observe prayer sitting
اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’امام اقتدا ہی کے لیے بنایا گیا ہے ، اس لیے اس کی مخالفت نہ کرو ، چنانچہ جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو اور جب وہ سمع الله لمن حمده كہے تو تم اللهم ، ربنا لك الحمد کہو اور جب وہ سجدہ کرے تو تم سجدہ کرو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ، - يَعْنِي الْحِزَامِيَّ - عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّمَا الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَلاَ تَخْتَلِفُوا عَلَيْهِ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ . فَقُولُوا اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ . وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ " .
#931
A hadith like this has been transmitted by Hammam b. Munabbih from the Messenger of Allah (ﷺ) on the authority of Abu Huraira
ہمام بن منبہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی اکرمﷺ سے اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند روایت بیان کی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ .
#932
Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (ﷺ) while teaching us (the principles of faith), said: Do not try to go ahead of the Imam, recite takbir when he recites it, and when he says: "Nor of those who err" you should say Amin, bow down when he bows down, and when he says: "Allah listens to him who praises Him" say: "O Allah, our Lord, to Thee be the praise
اعمش نے ابو صالح سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ ہمیں تعلیم دیتے تھے ، فرماتے تھے : ’’ امام سے آگے نہ بڑھو ، جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو ، جب وہ ﴿ولا الضالين﴾ کہے تو تم آمین کہو اور جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو اور جب وہ سمع الله لمن حمده کہے تو تم اللهم ، ربنا لك الحمد کہو ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ، خَشْرَمٍ قَالاَ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُعَلِّمُنَا يَقُولُ " لاَ تُبَادِرُوا الإِمَامَ إِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا قَالَ وَلاَ الضَّالِّينَ . فَقُولُوا آمِينَ . وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ . فَقُولُوا اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ " .
#933
Abu Huraira reported from the Messenger of Allah (ﷺ) (a hadith) like it, except the words:" Nor of those who err, say Amin" and added:" And don't rise up ahead of him
۔ سہیل بن ابی صالح نے اپنے والد ( ابو صالح ) سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبیﷺ سے اسی ( سابقہ حدیث ) کے ہم معنیٰ روایت کی ، سوائے اس حصے کے : ’’ جب وہ ﴿ولا الضالين﴾ کہے تو تم آمین کہو ‘ ‘ اور یہ حصہ بڑھایا : ’’ اور تم اس سے پہلے ( سر ) نہ اٹھاؤ ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ - عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِنَحْوِهِ إِلاَّ قَوْلَهُ " وَلاَ الضَّالِّينَ . فَقُولُوا آمِينَ " . وَزَادَ " وَلاَ تَرْفَعُوا قَبْلَهُ " .
#934
Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: Verily the Imam is a shield, say prayer sitting when he says prayer sitting. And when he says:" Allah listens to him who praises Him," say:" O Allah, our Lord, to Thee be the praise." and when the utterance of the people of the earth synchronises with that of the beings of heaven (angels), all the previous sins would be pardoned
ابو علقمہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ یقینا امام ایک ڈھال ہے ( تم اس کے پیچھے پیچھے رہو ) ، چنانچہ جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو اور جب وہ سمع الله لمن حمده كہے تو تم اللهم ، ربنا لك الحمد کہو کیونکہ جب زمین والے کا کہا ہوا آسمان والوں کے کہنے کے موافق ہو جائے گا تو اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جائیں گے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَعْلَى، - وَهُوَ ابْنُ عَطَاءٍ - سَمِعَ أَبَا عَلْقَمَةَ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّمَا الإِمَامُ جُنَّةٌ فَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ . فَقُولُوا اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ . فَإِذَا وَافَقَ قَوْلُ أَهْلِ الأَرْضِ قَوْلَ أَهْلِ السَّمَاءِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
#935
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) saying:The Imam is appointed to be followed. So recite takbir when he recites it, and bow down when he bows down and when he utters:" Allah listens to him who praises Him," say" O Allah, our Lord, for Thee be the praise." And when he prays, standing, you should pray standing. And when he prays sitting, all of you should pray sitting
(ابو علقمہ کے بجائے ) ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابو یونس نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہﷺ سے روایت کرتے سنا کہ آپﷺ نے فرمایا : ’’امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے ، جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع اور جب وہ سمع الله لمن حمده کہے تو تم اللهم ، ربنا لك الحمد کہو ، اور جب وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر پڑھو اور جب وہ بیٹھ کر پڑھے تو تم بھی سب کے سب بیٹھ کر نماز پڑھو ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ حَيْوَةَ، أَنَّ أَبَا يُونُسَ، مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ . فَقُولُوا اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ . وَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعُونَ " .
#936
Ubaidullah b. Abdullah reported:I visited 'A'isha and asked her to tell about the illness of the Messenger of Allah (ﷺ). She agreed and said: The Apostle (ﷺ) was seriously ill and he asked whether the people had prayed. We said: No, they are waiting for you, Messenger of Allah. He (the Holy Prophet) said: Put some water in the tub for me. We did accordingly and he (the Holy Prophet) took a bath;and, when he was about to move with difficulty, he fainted. When he came round, he again said: Have the people said prayer? We said: No, they are waiting for you, Messenger of Allah. He (the Holy Prophet) again said: Put some water for me in the tub. We did accordingly and he took a bag, but when he was about to move with difficultyhe fainted. When he came round, he asked whether the people had prayed. We said: No, they are waiting for you, Messenger of Allah. He said: Put some water for me in the tub. We did accordingly and he took a bath and he was about to move with difficulty when he fainted. When he came roundhe said: Have the people saidprayer? We said: No, they are waiting for you, Messenger of Allah. She ('A'isha) said: The people were staying in the mosque and waiting for the Messenger of Allah (ﷺ) to lead the last (night) prayer. She ('A'isha) said: The Messenger of Allah (ﷺ) sent (instructions) to Abu Bakr to lead the people in prayer. When the messenger came, he told him (Abd Bakr): The Messenger of Allah (ﷺ) has ordered you to lead the people in prayer. Abu Bakr who was a man of very tenderly feelings asked Umar to lead the prayer. 'Umar said: You are more entitled to that. Abu Bakr led the prayers during those days. Afterwards the Messenger of Allah (ﷺ) felt some relief and he went out supported by two men, one of them was al-'Abbas, to the noon prayer. Abu Bakr was leading the people in prayer. When Abu Bakr saw him. he began to withdraw, but the Messenger of Allah (ﷺ) told him not to withdraw. He told his two (companions) to seat him down beside him (Abu Bakr). They seated him by the side of Abu Bakr. Abu Bakr said the prayer standing while following the prayer of the Apostle (ﷺ) and the people Bald prayer (standing) while following the prayer of Abu Bakr. The Apostle (ﷺ) was seated. Ubaidullah said: I visited 'Abdullah b. 'Abbas, and said: Should I submit to you what 'A'isha had told about the illness of the Apostle (ﷺ)? He said: Go ahead. I submitted to him what had been transmitted by her ('A'isha). He objected to none of it, only asking whether she had named to him the man who accompanied al-'Abbas. I said: No. He said: It was 'Ali
موسیٰ بن ابی عائشہ نے عبید اللہ بن عبد اللہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے کہا : کیا آپ مجھے رسول اللہﷺ کی بیماری کے بارے میں نہیں بتائیں گی؟ انہوں نے کہا : کیوں نہیں! جب ( بیماری کے سبب ) نبی ( کے حرکات وسکنات ) بوجھل ہونے لگے تو آپ نے فرمایا : ’’ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ ‘ ‘ ہم نے عرض کی : اللہ کے رسول! نہیں ، وہ سب آپ کا انتظار کر رہے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : میرے لیے بڑے طشت میں پانی رکھو ۔ ‘ ‘ ہم نے پانی رکھا تو آپ نے غسل فرمایا : پھر آپ نے اٹھنے کی کوشش کی تو آپ پر بے ہوشی طاری ہو گئی ، پھر آپ کو افاقہ ہوا تو فرمایا : ’’ کیا لوگوں نے نماز پڑھی لی؟ ‘ ‘ ہم نے کہا : نہیں ، اللہ کے رسول! وہ آپ کے منتظر ہیں ۔ آپ نے فرمایا : ’’ میرے لیے بڑے طشت میں پانی رکھو ۔ ‘ ‘ ہم نے رکھا تو آپ نے غسل فرمایا : پھر آپ اٹھنے لگے توآپ پر غشی طاری ہو کئی ، پھر ہوش میں آئے تو فرمایا : ’’ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے؟ ‘ ‘ ہم نے کہا : نہیں ، اللہ کے رسول! وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : ’’میرے لیے بڑے طشت میں پانی رکھو ۔ ‘ ‘ ہم نے رکھا تو آپ نے غسل فرمایا : پھر اٹھنے لگے تو بے شہوش ہو گئے ، پھر ہوش میں آئے تو فرمایا : ’’ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ ‘ ‘ ہم نے کہا : نہیں ، اللہ کے رسول! وہ رسول اللہﷺ کا انتظار کرر ہے ہیں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : لوگ مسجد میں اکٹھے بیٹھے ہوئے عشاء کی نماز کے لیے رسول اللہﷺ کا انتظار کر رہے تھے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : پھر رسول اللہﷺ نے ابو بکر رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ پیغام لانے والا ان کے پاس آیا اور بولا : رسول اللہﷺ آپ کو حکم دے رہے ہیں کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا ، اور وہ بہت نرم دل انسان تھے : عمر! آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : آپ ہی اس کے زیادہ حقدار ہیں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : ان دنوں ابو بکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی ، پھر یہ ہوا کہ رسول اللہﷺ نے کچھ تخفیف محسوس فرمائی تو دو مردوں کا سہارا لے کر ، جن میں سے ایک عباس رضی اللہ عنہ تھے ، نماز ظہر کے لیے نکلے ، ( اس وقت ) ابو بکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے ، جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کو دیکھا تو پیچھے ہٹنے لگے ، اس پر نبیﷺ نے انہیں اشارہ کیا کہ پیچھے نہ ہٹیں اور آپ نے ان دونوں سے فرمایا : ’’ مجھے ان کے پہلو میں بٹھا دو ۔ ‘ ‘ ان دونوں نے آپ کو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بٹھا دیا ، ابو بکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر نبیﷺ کی اقتدا میں نماز پڑھ رہے تھے اور لوگ ابو بکر رضی اللہ عنہ کی نماز کی اقتدا کر رہے تھے اور نبیﷺ بیٹھے ہوئے تھے ۔ ( حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرنے والے راوی ) عبید اللہ نے کہا : پھر میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے عرض کی : کیا میں آپ کے سامنے وہ حدیث پیش نہ کروں ، جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے نبی ﷺ کی بیماری کے بارے میں بیان کی ہے؟ انہوں نے کہا : لاؤ ۔ تو میں نے ان کے سامنے عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث پیش کی ، انہوں نے اس میں سے کسی بات کا انکار نہ کیا ، ہاں! اتنا کہا : کیا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے تمہیں اس آدمی کا نام بتایا جو عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے؟ میں نے کہا : نہیں ۔ انہوں نے کہا : وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْتُ لَهَا أَلاَ تُحَدِّثِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ بَلَى ثَقُلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " أَصَلَّى النَّاسُ " . قُلْنَا لاَ وَهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ " . فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ " أَصَلَّى النَّاسُ " . قُلْنَا لاَ وَهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ " ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ " . فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ " أَصَلَّى النَّاسُ " . قُلْنَا لاَ وَهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ " ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ " . فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ " أَصَلَّى النَّاسُ " . فَقُلْنَا لاَ وَهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَتْ وَالنَّاسُ عُكُوفٌ فِي الْمَسْجِدِ يَنْتَظِرُونَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِصَلاَةِ الْعِشَاءِ الآخِرَةِ - قَالَتْ - فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فَأَتَاهُ الرَّسُولُ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُكَ أَنْ تُصَلِّيَ بِالنَّاسِ . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَكَانَ رَجُلاً رَقِيقًا يَا عُمَرُ صَلِّ بِالنَّاسِ . قَالَ فَقَالَ عُمَرُ أَنْتَ أَحَقُّ بِذَلِكَ . قَالَتْ فَصَلَّى بِهِمْ أَبُو بَكْرٍ تِلْكَ الأَيَّامَ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَجَدَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً فَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا الْعَبَّاسُ لِصَلاَةِ الظُّهْرِ وَأَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ لاَ يَتَأَخَّرَ وَقَالَ لَهُمَا " أَجْلِسَانِي إِلَى جَنْبِهِ " . فَأَجْلَسَاهُ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي وَهُوَ قَائِمٌ بِصَلاَةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلاَةِ أَبِي بَكْرٍ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَاعِدٌ . قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَدَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ لَهُ أَلاَ أَعْرِضُ عَلَيْكَ مَا حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ هَاتِ . فَعَرَضْتُ حَدِيثَهَا عَلَيْهِ فَمَا أَنْكَرَ مِنْهُ شِيْئًا غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ أَسَمَّتْ لَكَ الرَّجُلَ الَّذِي كَانَ مَعَ الْعَبَّاسِ قُلْتُ لاَ . قَالَ هُوَ عَلِيٌّ .
#937
A'isha reported:It was in the house ofMaimuna that the Messenger of Allah (ﷺ) first fell ill. He asked permission from his wives to stay in her ('A'isha's) house during his illness. They granted him permission. She ('A'isha) narrated: He (the Holy Prophet) went out (for prayer) with his hand over al-Fadl b. 'Abbas and on the other hand there was another person and (due to weakness) his feet dragged on the earth. 'Ubaidullah said: I narrated this hadith to the son of 'Abbas ('Abdullah b. 'Abbas) and he said: Do you know who the man was whose name 'A'isha did not mention? It was 'Ali
معمر نے بیان کیا کہ زہری نے کہا : مجھے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ نے خبر دی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے خبر کہ رسول اللہﷺ کی بیماری کا آغاز میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے ہوا ، آپ نے اپنی بیویوں سے اجازت مانگی کہ آپ کی تیمار داری میرے گھر میں کی جائے ، انہوں نے اجازت دے دی ۔ ( عائشہ رضی اللہ عنہا نے ) فرمایا : آپ اس طرح نکلے کہ آپ کا ایک ہاتھ فضل بن عباس رضی اللہ عنہ ( کے کندھے ) پر اور دوسرا ہاتھ ایک دوسرے آدمی پر تھا اور ( نقاہت کی وجہ سے ) آپ اپنے باؤں سے زمین پر لکیر بناتے جا رہے تھے ۔ عبید اللہ نے بیان کیا کہ میں نے یہ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہ کو سنائی تو انہوں نے کہا : کیا تم جانتے ہو وہ آدمی ، جس کا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نام نہیں لیا ، کون تھے؟ وہ علی رضی اللہ عنہ تھا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ رَافِعٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَأَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، أَخْبَرَتْهُ قَالَتْ، أَوَّلُ مَا اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ فَاسْـتَأْذَنَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِهَا وَأَذِنَّ لَهُ - قَالَتْ - فَخَرَجَ وَيَدٌ لَهُ عَلَى الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ وَيَدٌ لَهُ عَلَى رَجُلٍ آخَرَ وَهُوَ يَخُطُّ بِرِجْلَيْهِ فِي الأَرْضِ . فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَحَدَّثْتُ بِهِ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ أَتَدْرِي مَنِ الرَّجُلُ الَّذِي لَمْ تُسَمِّ عَائِشَةُ هُوَ عَلِيٌّ .
#938
A'isha, the wife of the Apostle (ﷺ), said:When the Messenger of Allah (ﷺ) fell ill and his illness became serious, he asked permission from his wives to stay in my house during his illness. They gave him permission to do so. He stepped out (of'A'isha's apartment for prayer) supported by two persons. (He was so much weak) that his feet dragged on the ground and he was being supported by 'Abbas b. 'Abd al-Muttalib and another person. 'Ubaidullah said: I informed 'Abdullah (b. 'Abbas) about that which 'A'isha had said. 'Abdullah b. 'Abbas said: Do you know the man whose name 'A'isha did not mention? He said: No. Ibn 'Abbas said: It was 'Ali
عقیل بن خالد نے کہا : ابن شہاب ( زہری ) نے کہا : مجھے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود نے خبر دی کہ رسول اللہﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : جب رسول اللہﷺ کی بیماری شدت اختیار کر گئی اور آپ کی تکلیف میں اضافہ ہو گیا تو آپ نے اپنی بیویوں سے اجازت طلب کی کہ ان کی تیمار داری میرے گھر میں ہو ، انہوں نے اجازت دے دی ، پھر آپ دو آدمیوں کے درمیان ( ان کا سہارا لے کر ) نکلے ، آپ کے دونوں پاؤں زمین پر لکیر بناتے جا رہے تھے ( اور آپ ) عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ اور ایک دوسرے آدمی کے درمیان تھے ۔ ( حدیث کے راوی ) عبید اللہ نے کہا : عائشہ رضی اللہ عنہا نے جو کچھ کہا تھا ، میں نے اس کا تذکرہ عبد اللہ ( بن عباس ) رضی اللہ عنہما سے کیا تو انہوں نے مجھ سے کہا : کیا تم جانتے ہو وہ آدمی کون تھا جس کا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نام نہیں لیا؟ انہوں نے کہا : میں نے کہا : نہیں ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : وہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے ۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاشْتَدَّ بِهِ وَجَعُهُ اسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِي فَأَذِنَّ لَهُ فَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ تَخُطُّ رِجْلاَهُ فِي الأَرْضِ بَيْنَ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَبَيْنَ رَجُلٍ آخَرَ . قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَأَخْبَرْتُ عَبْدَ اللَّهِ بِالَّذِي قَالَتْ عَائِشَةُ فَقَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ هَلْ تَدْرِي مَنِ الرَّجُلُ الآخَرُ الَّذِي لَمْ تُسَمِّ عَائِشَةُ قَالَ قُلْتُ لاَ . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ هُوَ عَلِيٌّ .
#939
A'isha, the wife of the Messenger of Allah (ﷺ), said:I tried to dissuade the Messenger of Allah (ﷺ) from it (i. e. from appointing Abu Bakr as the Imam.) and my insistence upon it was not due to the fact that I entertained any apprehension in my mind that the people would not love the man who would occupy his (Prophet's) place (i. e. who would be appointed as his caliph) and I feared that the people would be superstitious about one who would occupy his place. I, therefore, desired that the Messenger of Allah (ﷺ) should leave Abu Bakr aside in this matter
۔ عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود نے خبر دی کہ نبیﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں نے ( حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو امام بنانے کے ) اس معاملے میں رسول اللہ ﷺ سے بار بار بات کی ۔ میں نے اتنی بار آپ سے صرف اس لیے رجوع کیا کہ میرے دل میں یہ بات بیٹھتی نہ تھی کہ لوگ آپ کے بعد کبھی اس شخص سے محبت کریں گے جو آپ کا قائم مقام ہو گا اور اس کے برعکس میرا خیال یہ تھا کہ آپ کی جگہ پر جو شخص بھی کھڑا ہو گا لوگ اسے برا ( برے شگون کا حامل ) سمجھیں گے ، اس لیے میں چاہتی تھی کہ رسول اللہﷺ امامت ( کی ذمہ داری ) ابو بکر سے ہٹا دیں ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ لَقَدْ رَاجَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي ذَلِكَ وَمَا حَمَلَنِي عَلَى كَثْرَةِ مُرَاجَعَتِهِ إِلاَّ أَنَّهُ لَمْ يَقَعْ فِي قَلْبِي أَنْ يُحِبَّ النَّاسُ بَعْدَهُ رَجُلاً قَامَ مَقَامَهُ أَبَدًا وَإِلاَّ أَنِّي كُنْتُ أَرَى أَنَّهُ لَنْ يَقُومَ مَقَامَهُ أَحَدٌ إِلاَّ تَشَاءَمَ النَّاسُ بِهِ فَأَرَدْتُ أَنْ يَعْدِلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَبِي بَكْرٍ .
#940
A'isha reported:When the Messenger of Allah (ﷺ) came to my house, he said: Ask Abu Bakr to lead people in prayer. 'A'isha narrated: I said, Messenger of Allah, Abu Bakr is a man of tenderly feelings; as he recites the Qur'an, he cannot help shedding tears: so better command anyone else to lead the prayer. By Allah, there is nothing disturbing in it for me but the idea that the people may not takeevil omen with regard to one who is the first to occupy the place of the Messenger of Allah (ﷺ). I tried to dissuade him (the Holy Prophet) twice or thrice (from appointing my father as an Imam in prayer), but he ordered Abu Bakr to lead the people in prayer and said: You women are like those (who had) surrounded Yusuf
۔ ( عبید اللہ بن عبد اللہ کے بجائے ) حمزہ بن عبد اللہ بن عمر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ جب رسول اللہﷺ ( بیماری کے دوران میں ) میرے گھر تشریف لے آئے تو آپ نے فرمایا : ’’ابو بکر کو حکم پہنچاؤ کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ ‘ ‘ وہ کہتی ہیں : میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! ابو بکر نرم دل انسان ہیں ، جب وہ قرآن پڑھیں گے تو اپنے آنسوؤں پر قابو نہیں رکھ سکیں گے ، لہٰذا اگر آپ ابو بکر رضی اللہ عنہ کے بجائے کسی اور کو حکم دیں ( تو بہتر ہو گا ۔ ) عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : اللہ کی قسم! میرے دل میں اس چیز کو ناپسند کرنے کی اس کے علاوہ اور کوئی بات نہ تھی کہ جو شخص سب سے پہلے آپ کی جگہ کھڑا ہو گا لوگ اسے برا سمجھیں گے ، اس لیے میں نے دو یا تین دفعہ اپنی بات دہرائی تو آپ نے فرمایا : ’’ابو بکر ہی لوگوں کو نماز پڑھائیں ، بلاشبہ تم یوسف رضی اللہ عنہ کے ساتھ ( معاملہ کرنے ) والی عورتیں ہی ہو ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ رَافِعٍ - قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، - أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ الزُّهْرِيُّ وَأَخْبَرَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْتِي قَالَ " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " . قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ إِذَا قَرَأَ الْقُرْآنَ لاَ يَمْلِكُ دَمْعَهُ فَلَوْ أَمَرْتَ غَيْرَ أَبِي بَكْرٍ . قَالَتْ وَاللَّهِ مَا بِي إِلاَّ كَرَاهِيَةُ أَنْ يَتَشَاءَمَ النَّاسُ بِأَوَّلِ مَنْ يَقُومُ فِي مَقَامِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ فَرَاجَعْتُهُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا فَقَالَ " لِيُصَلِّ بِالنَّاسِ أَبُو بَكْرٍ فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ " .
#941
A'isha reported:When the Messenger of Allah (ﷺ) was confined to bed, Bilal came to him to summon him to prayer. He (the Holy Prophet) said: Ask Abu Bakr to lead the people in prayer. She ('A'isha) reported: I said: Messenger of Allah, Abu Bakr is a tenderhearted man, when he would stand at your place (he would be so overwhelmed by feelings) that he would not be able to make the people hear anything (his recitation would not be audible to the followers in prayer). You should better order Umar (to lead the prayer). He (the Holy Prophet) said: Ask Abu Bakr to lead people in prayer. She ('A'isha) said: I asked Hafsa to (convey) my impression to him (the Holy Prophet) that Abu Bakr was a tenderhearted man, so when he would stand at his place, he would not be able to make the people bear anything. He better order Umar. Hafsa conveyed this (message of Hadrat 'A'isha) to him (the Holy Prophet). The Messenger of Allah (ﷺ) said: (You are behaving) as if you are the females who had gathered around Yusuf. Order Abu Bakr to lead the people in prayer. She ('A'isha) reported: So Abu Bakr was ordered to lead the people in prayer. As the prayer began, the Messenger of Allah (may peace he upon him) felt some relief; he got up and moved supported by two persons and his feet dragged on earth (due to excessive weakness). 'A'isha reported: As he (the Holy Prophet) entered the mosque. Abu Bakr perceived his (arrival). He was about to withdraw, but the Messenger of Allah (ﷺ) by the gesture (of his hand) told him to keep standing at his place. The Messenger of Allah (ﷺ) came and seated himself on the left side of Abu Bakr. She ('A'isha) reported: The Messenger of Allah (ﷺ) was leading people in prayer sitting. Abu Bakr was following the prayer of the Apostle (ﷺ) in a standing posture and the people were following the prayer of Abu Bakr
ابو معاویہ اور وکیع نے اعمش سے ، انہوں نے ابراہیم سے ، انہوں نے اسود سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کہ جب رسول اللہﷺ کی بیماری شدت اختیار کر گئی تو بلال رضی اللہ عنہ آپ کو نماز کی اطلاع دینے کے لیے حاضر ہوئے ۔ آپ نے فرمایا : ’’ ابو بکر سے کہو وہ نماز پڑھائیں ۔ ‘ ‘ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! ابو بکر جلد غم زدہ ہو جانے والے انسان ہیں اور وہ جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو ( قراءت بھی ) نہیں سنا سکیں گے ، لہٰذا اگر آپ عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دے دیں ( تو بہتر بہتر ہو گا ۔ ) آپ ﷺ نے ( پھر ) فرمایا : ’’ابو بکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ ‘ ‘ میں نے حفصہ رضی اللہ عنہا سے کہا : نم نبی اکرمﷺ سے کہو کہ ابو بکر جلد غمزدہ ہونے والے انسان ہیں ، جب وہ آپ کی جگہ پر کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو ( قراءت ) نہ سنا سکیں ، چنانچہ اگر آپ عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دیں ( تو بہتر ہو گا ۔ ) حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے کہہ دیا تو آپ نے فرمایا : ’’تم یوسف رضی اللہ عنہ کے ساتھ ( معاملہ کرنے ) والی عورتوں ہی طرح ہو ، ابو بکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ ‘ ‘ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : لوگوں نے ابو بکر رضی اللہ عنہ کو حکم پہنچا دیا تو انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی ۔ جب ابو بکر رضی اللہ عنہ نے نماز شروع کر دی تو رسول اللہﷺ نے طبیعت میں قدرے تخفیف محسوس کی ، آپ اٹھے ، دو آدمی آپ کو سہارا دیے ہوئے تھے اور آپ کے پاؤں زمین پر لکیر کھینچتے جا رہے تھے ۔ وہ فرماتی ہیں : جب آپ مسجد میں داخل ہوئے تو ابو بکر رضی اللہ عنہ نے آپ کی آہٹ سن لی ، وہ پیچھے ہٹنے لگے تو رسول اللہﷺ نے انہیں اشارہ کیا کہ اپنی جگہ کھڑے رہو ، پھر رسول اللہﷺ آگے بڑے اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بائیں جانب بیٹھ گئے ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ بیٹھ کر لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر ۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ رسول اللہﷺ کی نماز کی اقتدا کر رہے تھے اور لوگ ابو بکر رضی اللہ عنہ کی اقتدا کر رہے تھے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَاءَ بِلاَلٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلاَةِ فَقَالَ " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " . قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ إِنَّهُ مَتَى يَقُمْ مَقَامَكَ لاَ يُسْمِعِ النَّاسَ فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ . فَقَالَ " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " . قَالَتْ فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ قُولِي لَهُ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ وَإِنَّهُ مَتَى يَقُمْ مَقَامَكَ لاَ يُسْمِعِ النَّاسَ فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ . فَقَالَتْ لَهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّكُنَّ لأَنْتُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ . مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " . قَالَتْ فَأَمَرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ - قَالَتْ - فَلَمَّا دَخَلَ فِي الصَّلاَةِ وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً فَقَامَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ وَرِجْلاَهُ تَخُطَّانِ فِي الأَرْضِ - قَالَتْ - فَلَمَّا دَخَلَ الْمَسْجِدَ سَمِعَ أَبُو بَكْرٍ حِسَّهُ ذَهَبَ يَتَأَخَّرُ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قُمْ مَكَانَكَ . فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى جَلَسَ عَنْ يَسَارِ أَبِي بَكْرٍ - قَالَتْ - فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي بِالنَّاسِ جَالِسًا وَأَبُو بَكْرٍ قَائِمًا يَقْتَدِي أَبُو بَكْرٍ بِصَلاَةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَيَقْتَدِي النَّاسُ بِصَلاَةِ أَبِي بَكْرٍ .
#942
A'mash reported:When the Messenger of Allah (ﷺ) suffered from illness of which he died, and in the hadith transmitted by Ibn Mus-hir, the words are: The Messenger of Allah (ﷺ) was brought till he was seated by his (Abu Bakr's) side and the Apostle (ﷺ) led the people in prayer and Abu Bakr was making takbir audible to them, and in the hadith transmitted by 'Isa the (words are):" The Messenger of Allah (ﷺ) sat and led the people in prayer and Abu Bakr was by his side and he was making (takbir) audible to the people
۔ علی بن مسہر اور عیسیٰ بن یونس نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ مذکورہ بالا روایت بیان کی ۔ ان دونوں کی حدیث میں ہے کہ جب رسول اللہﷺ اس مرض میں مبتلا ہوئے جس میں آپ نے وفات پائی ۔ ابن مسہر کی روایت میں ہے : رسول اللہﷺ کو لایا گیا یہاں تک کہ انہیں ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بٹھا دیا گیا ۔ رسول اللہﷺ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے اور ابو بکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو تکبیر سنا رہے تھے ۔ عیسیٰ کی روایت میں ہے : رسول اللہﷺ بیٹھ گئے اور لوگوں کو نماز پڑھانے لگے ، ابو بکر رضی اللہ عنہ آپ کے پہلو میں تھے اور لوگوں کو ( آپ کی تکبیر ) سنا رہے تھے ۔
حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، كِلاَهُمَا عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَفِي حَدِيثِهِمَا لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَرَضَهُ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ . وَفِي حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ فَأُتِيَ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى أُجْلِسَ إِلَى جَنْبِهِ وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي بِالنَّاسِ وَأَبُو بَكْرٍ يُسْمِعُهُمُ التَّكْبِيرَ . وَفِي حَدِيثِ عِيسَى فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي وَأَبُو بَكْرٍ إِلَى جَنْبِهِ وَأَبُو بَكْرٍ يُسْمِعُ النَّاسَ .
#943
A'isha reported:The Messenger of Allah (ﷺ) ordered Abu Bakr that he should lead people in prayer during his illness, and he led them in prayer. `Urwa said: The Messenger of Allah (ﷺ) felt relief and went (to the mosque) and Abu Bakr was leading the people in prayer. When Abu Bakr saw him he began to withdraw, but the Messenger of Allah (ﷺ) signaled him to remain where he was. The Messenger of Allah (ﷺ) sat opposite to Abu Bakr by his side. Abu Bakr said prayer following the prayer of the Messenger of Allah (ﷺ), and the people said prayer following the prayer of Abu Bakr
ایک اور سند کے ساتھ ہشام نے اپنے والد ( عروہ ) سے روایت کی اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے فرمایا : رسول اللہﷺ نے اپنی بیماری میں ابو بکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں تو وہ ان کو نماز پڑھاتے رہے ۔ عروہ نے کہا : پھر رسول اللہﷺ نے اپنی طبیعت میں کچھ ہلکا پن محسوس کیا ، تو آپ باہر تشریف لائے ، اس وقت ابو بکر رضی اللہ عنہ لوگوں کی امت کر رہے تھے ۔ جب ابو بکر رضی اللہ عنہ نے آپ کو دیکھا تو پیچھے ہٹنے لگے ۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اشارہ کیا کہ جیسے ہو ویسے ہی رہو ۔ رسول اللہﷺ ابو بکر رضی اللہ عنہ کے برابر ان کے پہلو میں بیٹھ گئے تو ابو بکر رضی اللہ عنہ رسول اللہﷺ کی امامت میں نماز ادا کر رہے تھے اور لوگ ابو بکر رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں نماز پڑھ رہے تھے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، - وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ - قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فِي مَرَضِهِ فَكَانَ يُصَلِّي بِهِمْ . قَالَ عُرْوَةُ فَوَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً فَخَرَجَ وَإِذَا أَبُو بَكْرٍ يَؤُمُّ النَّاسَ فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ اسْتَأْخَرَ فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَىْ كَمَا أَنْتَ فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ حِذَاءَ أَبِي بَكْرٍ إِلَى جَنْبِهِ . فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِصَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلاَةِ أَبِي بَكْرٍ .
#944
Anas b. Malik reported, Abu Bakr led them in prayer due to the illness of the Messenger of Allah (ﷺ) of which be died. It was a Monday and they stood in rows for prayer. The Messenger of Allah (ﷺ) drew aside the curtain of ('A'isha's) apartment and looked at us while he was standing, and his (Prophet's) face was (as bright) as the paper of the Holy Book. The Messenger of Allah (ﷺ) felt happy and smiled. And we were confounded with joy while in prayer due to the arrival (among our midst) of the Messenger of Allah (ﷺ), Abu Bakr stepped back upon his heels to say prayer in a row perceiving that the Messenger of Allah (ﷺ) had come out for prayer. The Messenger of Allah (ﷺ) with the help of his hand signed to them to complete their prayer. The Messenger of Allah (ﷺ) went back (to his apartment) and drew the curtain. He (the narrator) said:The Messenger of Allah (ﷺ) breathed his last on that very day
صالح نے ابن شہاب سے روایت کی ، انہوں نے کہا : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھے خبر دی کہ رسول اللہﷺ کی بیماری دوران ، جس میں آپ نے وفات پائی ، ابو بکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے حتیٰ کہ جب سوموار کا دن آیا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نماز میں صف بستہ تھے تو رسول اللہﷺ نے حجرے کا پردہ اٹھایا اور ہماری طرف دیکھا ، اس وقت آپ کھڑے ہوئے تھے ، ایسا لگتا تھا کہ آپ کا رخ انور مصحف کا ایک ورق ہے ، پھر آپ نے ہنستے ہوئے تبسم فرمایا ۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نماز ہی میں اس خوشی کے سبب جو رسول اللہﷺ کے باہر آنے سے ہوئی تھی مبہوت ہو کر رہ گئے ۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ الٹے پاؤں لوٹے تالکہ صف میں مل جائیں ، انہوں نے سمجھا کہ نبیﷺ نماز کے لیے باہر تشریف لا رہے ہیں ۔ نبیﷺ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا کہ اپنی نماز مکمل کرو ، پھر آپ واپس حجرے میں داخل ہو گئے اور پردہ لٹکا دیا ۔ اسی دن رسول اللہﷺ وفات پا گئے
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، - قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنِي وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ - وَحَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، كَانَ يُصَلِّي لَهُمْ فِي وَجَعِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ الاِثْنَيْنِ - وَهُمْ صُفُوفٌ فِي الصَّلاَةِ - كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سِتْرَ الْحُجْرَةِ فَنَظَرَ إِلَيْنَا وَهُوَ قَائِمٌ كَأَنَّ وَجْهَهُ وَرَقَةُ مُصْحَفٍ . ثُمَّ تَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ضَاحِكًا - قَالَ - فَبُهِتْنَا وَنَحْنُ فِي الصَّلاَةِ مِنْ فَرَحٍ بِخُرُوجِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَنَكَصَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى عَقِبَيْهِ لِيَصِلَ الصَّفَّ وَظَنَّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَارِجٌ لِلصَّلاَةِ فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ أَنْ أَتِمُّوا صَلاَتَكُمْ - قَالَ - ثُمَّ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَرْخَى السِّتْرَ - قَالَ - فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ يَوْمِهِ ذَلِكَ .
#945
Anas reported:The last glance that I have had of the Messenger of Allah (ﷺ) (before his death) was that when he on Monday drew the curtain aside. The hadith transmitted by Salih is perfect and complete
سفیان بن عیینہ نے ( ابن شہاب ) زہری سے ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہﷺ کی طرف میں نے جو آخری نظر ڈالی ( وہ اس طرح تھی کہ ) سوموار کے دن آپ نے ( حجرے کا ) پردہ اٹھایا .... جس طرح اوپر واقعہ ( بیان ہوا ) ہے ۔ ( امام مسلم فرماتے ہیں : ) صالح کی حدیث کامل اور سیر حاصل ہے ۔
وَحَدَّثَنِيهِ عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ آخِرُ نَظْرَةٍ نَظَرْتُهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَشَفَ السِّتَارَةَ يَوْمَ الاِثْنَيْنِ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ وَحَدِيثُ صَالِحٍ أَتَمُّ وَأَشْبَعُ .
#946
This hadith is narrated on the authority of Anas b. Malik by another chain of transmitters
معمر نے زہری کے حوالے سے خبر دی ، انہوں نے کہا : مجھے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ جب سوموار کا دن آیا .... اوپر والے دونوں راویوں کے مطابق ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ الاِثْنَيْنِ . بِنَحْوِ حَدِيثِهِمَا .
#947
Anas reported:The Apostle of Allah (ﷺ) did not come to us for three days. When the prayer was about to start. Abu Bakr stepped forward (to lead the prayer), and the Messenger of Allah (ﷺ) lifted the curtain. When the face of the Messenger of Allah (ﷺ) became visible to us, we (found) that no sight was more endearing to us than the face of the Messenger of Allah (ﷺ) as it appeared to us. The Apostle of Allah (ﷺ) with the gesture of his hand directed Abu Bakr to step forward (and lead the prayer). The Apostle of Allah (ﷺ) then drew the curtain, and we could not see him till he died
۔ عبد العزیز نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ نبیﷺ ( بیماری کے ایام میں ) تین دن ہماری طرف تشریف نہ لائے ، ( انہی دنوں میں سے ) ایک دن نماز کھڑی کی گئی اور ابو بکر رضی اللہ عنہ آگے بڑھنے لگے تو نبیﷺ ( کمرے کے ) پردے کی طرف بڑھے اور اسے اٹھا دیا ، جب ہمارے سامنے نبیﷺ کا رخ انور کھلا تو ہم نے کبھی ایسا منظر نہ دیکھا تھا جو ہمارے لیے ، نبیﷺ کے چہرہ مبارک کے نظارے سے ، جو ہمارے سامنے تھا ، زیادہ حسین اور پسندیدہ ہو ۔ وہ کہتے ہیں : پھر آپﷺ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ہاتھ سے اشارہ کیا کہ وہ آگے بڑھیں اور آپ نے پردہ گرا دیا ، پھر آپ وفات تک ایسا نہ کر سکے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ لَمْ يَخْرُجْ إِلَيْنَا نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثَلاَثًا فَأُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَذَهَبَ أَبُو بَكْرٍ يَتَقَدَّمُ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْحِجَابِ فَرَفَعَهُ فَلَمَّا وَضَحَ لَنَا وَجْهُ نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا نَظَرْنَا مَنْظَرًا قَطُّ كَانَ أَعْجَبَ إِلَيْنَا مِنْ وَجْهِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حِينَ وَضَحَ لَنَا - قَالَ - فَأَوْمَأَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنْ يَتَقَدَّمَ وَأَرْخَى نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْحِجَابَ فَلَمْ نَقْدِرْ عَلَيْهِ حَتَّى مَاتَ .
#948
Abu Musa reported:When the Messenger of Allah (ﷺ) became ill and illness became serious he ordered Abu Bakr to lead the people in prayer. Upon this 'A'isha said: Messenger of Allah, Abd Bakr is a man of tenderly feelings: when he would stand in your place (he would be so much overwhelmed -by grief that) he would not be able to lead the people in prayer. He (the Holy Prophet) said: You order Abu Bakr to lead the people in prayer, and added: You are like the female companions of Yusuf. So Abu Bakr led the prayer (during this period of illness) in the life of the Messenger of Allah (ﷺ)
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ بیمار ہو گئے اور آپ کی بیماری نے شدت اختیار کی تو آپ نے فرمایا : ’’ ابو بکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ ‘ ‘ اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : وہ نرم دل آدمی ہیں ، جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو نماز نہ پڑھا سکیں گے ۔ آپ نے فرمایا : ’’ ( اے عائشہ! ) ابو بکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ، تم تو یوسف رضی اللہ عنہ کے ساتھ ( معاملہ کرنے ) والیوں کی طرح ہو ۔ ‘ ‘ انہوں ( ابو موسیٰ علیہ السلام ) نے کہا : اس طرح ابو بکر رضی اللہ عنہ رسول اللہﷺ کی زندگی میں لوگوں کو نماز پڑھانے لگے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاشْتَدَّ مَرَضُهُ فَقَالَ " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " . فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ مَتَى يَقُمْ مَقَامَكَ لاَ يَسْتَطِعْ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فَقَالَ " مُرِي أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ " . قَالَ فَصَلَّى بِهِمْ أَبُو بَكْرٍ حَيَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
#949
Sahl b. Sa'd al-Sa'idi reported:The Messenger of Allah (ﷺ) went to the tribe of Bani Amr b. Auf in order to bring reconciliation amongst (its members), and It was a time of prayer. The Mu'adhdhin came to Abu Bakr and said: Would you lead the prayer in case I recite takbir (tahrima, with which the prayer begins)? He (Abu Bakr) said: Yes. He (the narrator) said: He (Abu Bakr) started (leading) the prayer. The people were engaged in observing prayer when the Messenger of Allah (ﷺ) happened to come there and made his way (through the people) till he stood in a row. The people began to clap (their hands), but Abu Bakr paid no heed (to it) in prayer. When the people clapped more vigorously, he (Abu Bakr) then paid heed and saw the Messenger of Allah (ﷺ) there. (He was about to withdraw when) the Messenger of Allah (ﷺ) signed to him to keep standing at his place. Abu Bakr lifted his hands and praised Allah for what the Messenger of Allah (ﷺ) had commanded him and then Abu Bakr withdrew himself till he stood in the midst of the row and the Messenger of Allah (ﷺ) stepped forward and led the prayer. When (the prayer) was over, he (the Holy Prophet) said: 0 Abu Bakr, what prevented you from standing (at that place) as I ordered you to do? Abu Bakr said: It does not become the son of Abu Quhafa to lead prayer before the Messenger of Allah (ﷺ). The Messenger of Allah (ﷺ) said (to the people) around him: What is it that I saw you clapping so vigorously? (Behold) when anything happens in prayer, say: Subha Allah, for when you would utter it, it would attract the attention, while clapping of hands is meant for women
امام مالک نے ابو حازم سے اور انہوں نے حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ بنوعمرو بن عوف کے ہاں ، ان کے درمیان صلح کرانے کے لیے تشریف لے گئے ۔ اس دوران میں نماز کا وقت ہو گیا تو مؤذن ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا : کیا آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں گے تاکہ میں تکبیر کہوں؟ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا : ہاں ۔ انہوں ( سہل بن سعد ) نے کہا : اس طرح ابو بکر رضی اللہ عنہ نے نماز شروع کر دی ، اتنے میں رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے جب کہ لوگ نماز میں تھے ، آپ بچ کر گزرتے ہوئے ( پہلی ) صف میں پہنچ کر کھڑے ہو گئے ۔ اس پر لوگوں نے ہاتھوں کو ہاتھوں پر مار کر آواز کرنی شروع کر دی ۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ اپنی نماز میں کسی اور طرف توجہ نہیں دیتے تھے ۔ جب لوگوں نے مسلسل ہاتھوں سے آواز کی تو وہ متوجہ ہوئے اور رسول اللہﷺ کو دیکھا تو رسول اللہﷺ نے انہیں اشارہ کیا کہ اپنی جگہ کھڑے رہیں ، اس پر ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور اللہ کا شکر ادا کیا کہ رسول اللہ رضی اللہ عنہ نے ان کو اس بات کا حکم دیا ، پھر اس کے بعد ابو بکر رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹ کر صف میں صحیح طرح کھڑے ہو گئے اور رسول اللہﷺ آگے بڑھے اور آپ نے نماز پڑھائی ۔ جب آپ فارغ ہوئے تو فرمایا : ’’اے ابو بکر! جب میں نے تمہیں حکم دیا تو اپنی جگہ ٹکے رہنے سے تمہیں کس چیز نے روک دیا؟ ‘ ‘ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا : ابو قحافہ کے بیٹے کے لیے زیبا نہ تھا کہ وہ رسول اللہﷺ کے آگے ( کھڑے ہو کر ) جماعت کرائے ، پھر رسول اللہﷺ نے ( صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہو کر ) فرمایا : ’’ کیا ہوا؟ میں نے تم لوگوں کو دیکھا کہ تم بہت تالیاں بجا رہے تھے؟ جب نماز میں تمہیں کوئی ایسی بات پیش آ جائے ( جس پر توجہ دلانا ضروری ہو ) تو سبحان اللہ کہو ، جب کہو سبحان اللہ کہے گا تواس کی طرف توجہ کی جائے گی ، ہاتھ پر ہاتھ مارنا ، صرف عورتوں کےلیے ہے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَهَبَ إِلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ فَحَانَتِ الصَّلاَةُ فَجَاءَ الْمُؤَذِّنُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ أَتُصَلِّي بِالنَّاسِ فَأُقِيمُ قَالَ نَعَمْ . قَالَ فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالنَّاسُ فِي الصَّلاَةِ فَتَخَلَّصَ حَتَّى وَقَفَ فِي الصَّفِّ فَصَفَّقَ النَّاسُ - وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ لاَ يَلْتَفِتُ فِي الصَّلاَةِ - فَلَمَّا أَكْثَرَ النَّاسُ التَّصْفِيقَ الْتَفَتَ فَرَأَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنِ امْكُثْ مَكَانَكَ فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ يَدَيْهِ فَحَمِدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى مَا أَمَرَهُ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ ذَلِكَ ثُمَّ اسْتَأْخَرَ أَبُو بَكْرٍ حَتَّى اسْتَوَى فِي الصَّفِّ وَتَقَدَّمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّى ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ " يَا أَبَا بَكْرٍ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَثْبُتَ إِذْ أَمَرْتُكَ " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ مَا كَانَ لاِبْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يُصَلِّيَ بَيْنَ يَدَىْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا لِي رَأَيْتُكُمْ أَكْثَرْتُمُ التَّصْفِيقَ مَنْ نَابَهُ شَىْءٌ فِي صَلاَتِهِ فَلْيُسَبِّحْ فَإِنَّهُ إِذَا سَبَّحَ الْتُفِتَ إِلَيْهِ وَإِنَّمَا التَّصْفِيحُ لِلنِّسَاءِ " .