#6700
Abu Huraira reported that he (the Holy Prophet) said:Three (children) who die in childhood
محمد بن جعفر اور معاذ نے کہا : ہمیں شعبہ نے عبدالرحمان بن اصبہانی سے اسی سند کے ساتھ اس کے ہم معنی روایت کی اور دونوں نے شعبہ سے ( روایت کرتے ہوئے ) مزید یہ کہا : عبدالرحمن بن اصبہانی سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : میں نے ابوحازم سے سنا ، وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے ، کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تین بچے جو بلوغت کی عمر کو نہیں پہنچے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ، اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَصْبَهَانِيِّ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ . بِمِثْلِ مَعْنَاهُ وَزَادَا جَمِيعًا عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَصْبَهَانِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ " ثَلاَثَةً لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ " .
#6701
ہمیں سوید بن سعید اور محمد بن عبدالاعلیٰ نے حدیث بیان کی ۔ ۔ دونوں کے الفاظ ملتے جلتے ہیں ۔ ۔ دونوں نے کہا : ہمیں معتمر ( بن سلیمان تیمی ) نے اپنے والد سے روایت کی ، انہوں نے ابوسلیل سے اور انہوں نے ابوحسان سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا : میرے وہ بچے فوت ہو گئے ہیں ، آپ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کون سی حدیث سنا سکتے ہیں جس سے آپ ہمیں ہمارے فوت ہونے والوں کے متعلق ہمارے دلوں کی تسلی دلا سکیں؟ ( ابوحسان نے ) کہا : ( حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ) کہا : ہاں ۔ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) " چھوٹے بچے جنت کے پانی کے کیڑے ہیں ( وہ جنت کے اندر ہی رہتے ہیں ) ان میں سے کوئی اپنے باپ ۔ ۔ یا فرمایا : اپنے ماں باپ ۔ ۔ کو ملے گا تو وہ اسے اس کے کپڑے سے پکڑ لے گا ۔ ۔ یا کہا : اس کے ہاتھ سے ۔ ۔ جس طرح میں نے تمہارے اس کپڑے کے کنارے سے پکڑا ہوا ہے ، پھر اس وقت تک نہیں ہٹے گا ۔ ۔ یا کہا : نہیں رکے گا ۔ ۔ یہاں تک کہ اللہ اسے اور اس کے والد کو جنت میں داخل کر دے گا ۔ " اور سوید کی روایت میں ( ابوسلیل سے روایت ہے کے بجائے یوں ) ہے : ہمیں ابوسلیل نے حدیث سنائی ۔
#6702
یحییٰ بن سعید نے تیمی سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور کہا : آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی ایسی بات سنی ہے جس سے آپ ہمارے فوت ہو جانے والوں کے حوالے سے ہمارے دلوں کو تسلی دلا سکیں؟ ( حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ) کہا : ہاں ۔
#6703
Abu Huraira reported that a woman came to Allah's Apostle (ﷺ) with her child and said:Allah's Apostle, invoke Allah's blessing upon him for I have already buried three. He said: You have buried three! She said: Yes. Thereupon he (the Holy Prophet) said: You have, indeed, safeguarded yourself against the torment of Hell with a strong safeguard. 'Umar has made a mention of his father, whereas others have not made a mention of his father
ابوبکر بن ابی شیبہ ، محمد بن عبداللہ بن نمیر اور ابوسعید اشج نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ ۔ الفاظ ابوبکر کے ہیں ۔ ۔ انہوں نے کہا : ہمیں حفص بن غیاث نے حدیث بیان کی ، نیز ہمیں عمر بن حفص بن غیاث نے حدیث بیان کی ۔ انہوں نے کہا؛ ہمیں میرے والد نے اپنے دادا طلق بن معاویہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوزرعہ بن عمرو بن جریر سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے بچے کو لے کر آئی اور کہا : اللہ کے نبی! اللہ تعالیٰ سے اس کے حق میں دعا فرمائیے ، میں تین بچے دفن کر چکی ہوں ۔ آپ نے فرمایا : "" تم نے تین ( بچوں ) کو دفن کیا ہے؟ "" اس نے کہا : جی ہاں ، آپ نے فرمایا : "" تم نے دوزخ سے بچنے کے لیے ایک مضبوط باڑ لگا دی ہے ۔ "" عمر ( بن حفص ) نے کہا : انہوں نے اپنے دادا ( طلق ) سے روایت کی اور باقیوں نے کہا : طلق سے روایت ہے اور دادا کا ذکر نہیں کیا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ - وَاللَّفْظُ لأَبِي بَكْرٍ - قَالُوا حَدَّثَنَا حَفْصٌ، - يَعْنُونَ ابْنَ غِيَاثٍ ح وَحَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ، بْنِ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ جَدِّهِ، طَلْقِ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَتَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بِصَبِيٍّ لَهَا فَقَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ لَهُ فَلَقَدْ دَفَنْتُ ثَلاَثَةً قَالَ " دَفَنْتِ ثَلاَثَةً " . قَالَتْ نَعَمْ . قَالَ " لَقَدِ احْتَظَرْتِ بِحِظَارٍ شَدِيدٍ مِنَ النَّارِ " . قَالَ عُمَرُ مِنْ بَيْنِهِمْ عَنْ جَدِّهِ . وَقَالَ الْبَاقُونَ عَنْ طَلْقٍ . وَلَمْ يَذْكُرُوا الْجَدَّ .
#6704
Abu Huraira reported that a woman came to Allah's Apostle (ﷺ) with her child and said:Allah's Messenger, he is ailing, and I am afraid (that he may die), as I have already buried three. Thereupon he said: It (their sad demise) would be a protection against Hell-Fire for you. Zuhair has not mentioned the kunya of Abu Ghiyath; he has mentioned his name
قتیبہ بن سعید اور زہیر بن حرب نے کہا : ہمیں جریر نے طلق بن معاویہ نخعی ابوغیاث سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوزرعہ بن عمرو بن جریر سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت اپنے بیٹے کو لے کر آئی تو اس نے کہا : اللہ کے رسول! یہ بیمار ہے اور میں اس کے بارے میں ( سخت ) خوف کا شکار ہوں ، میں ( اپنے ) تین بچے دفن کر چکی ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم نے دوزخ سے بچنے کے لیے مضبوط باڑ بنا لی ہے ۔ "" زہیر نے کہا : طلق سے روایت ہے اور کنیت ( ابوغیاث ) کا ذکر نہیں کیا ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ طَلْقِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، النَّخَعِيِّ أَبِي غِيَاثٍ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِابْنٍ لَهَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ يَشْتَكِي وَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْهِ قَدْ دَفَنْتُ ثَلاَثَةً . قَالَ " لَقَدِ احْتَظَرْتِ بِحِظَارٍ شَدِيدٍ مِنَ النَّارِ " . قَالَ زُهَيْرٌ عَنْ طَلْقٍ . وَلَمْ يَذْكُرِ الْكُنْيَةَ .
#6705
Abu Huraira reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:When Allah loves a servant, He calls Gabriel and says: Verily, I so and so; you should also love him, and then Gabriel begins to love him. Then he makes an announcement in the heaven saying: Allah loves so and so and you also love him, and then the inhabitants of the Heaven (the Angels) also begin to love him and then there is conferred honour upon him in the earth; and when Allah is angry with any servant He calls Gabriel and says: I am angry with such and such and you also become angry with him, and then Gabriel also becomes angry and then makes an announcement amongst the inhabitants of heaven: Verily Allah is angry with so-and so, so you also become angry with him, and thus they also become angry with him. Then he becomes the object of wrath on the earth also
جریر نے سہیل سے ، انہوں نے اپنے والد ( ابوصالح ) سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبریل علیہ السلام کو بلاتا ہے اور فرماتا ہے : میں فلاں سے محبت کرتا ہوں تم بھی اس سے محبت کرو ، کہا : تو جبرئیل اس سے محبت کرتے ہیں ، پھر وہ آسمان میں آواز دیتے ہیں ، کہتے ہیں : اللہ تعالیٰ فلاں شخص سے محبت کرتاہے ، تم بھی اس سے محبت کرو ، چنانچہ آسمان والے اس سے محبت کرتے ہیں ، کہا : پھر اس کے لیے زمین میں مقبولیت رکھ دی جاتی ہے ، اور جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے بغض رکھتا ہے تو جبرئیل کو بُلا کر فرماتا ہے : میں فلاں شخص سے بغج رکھتا ہوں ، تم بھی اس سے بغض رکھو ، تو جبرئیل اس سے بغض رکھتے ہیں ، پھر وہ آسمان والوں میں اعلان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں سے بغض رکھتا ے ، تم بھی اس سے بغض رکھو ، کہا : تو وہ ( سب ) اس سے بغض رکھتے ہیں ، پھر اس کے لیے زمین میں بھی بغض رکھ دیا جاتا ہے ۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ إِذَا أَحَبَّ عَبْدًا دَعَا جِبْرِيلَ فَقَالَ إِنِّي أُحِبُّ فُلاَنًا فَأَحِبَّهُ - قَالَ - فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ ثُمَّ يُنَادِي فِي السَّمَاءِ فَيَقُولُ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ فُلاَنًا فَأَحِبُّوهُ . فَيُحِبُّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ - قَالَ - ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ الْقَبُولُ فِي الأَرْضِ . وَإِذَا أَبْغَضَ عَبْدًا دَعَا جِبْرِيلَ فَيَقُولُ إِنِّي أُبْغِضُ فُلاَنًا فَأَبْغِضْهُ - قَالَ - فَيُبْغِضُهُ جِبْرِيلُ ثُمَّ يُنَادِي فِي أَهْلِ السَّمَاءِ إِنَّ اللَّهَ يُبْغِضُ فُلاَنًا فَأَبْغِضُوهُ - قَالَ - فَيُبْغِضُونَهُ ثُمَّ تُوضَعُ لَهُ الْبَغْضَاءُ فِي الأَرْضِ " .
#6706
This hadith has been reported on the authority of Suhail with the same chain of transmitters except with this variation that in the hadith transmitted on the authority of 'Ali' b. Musayyib, there is no mention of (the word)" Anger
عبدالعزیز دراوردی ، علاء بن مسیب اور امام مالک بن انس سب نے سہیل سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ، البتہ علاء بن مسیب کی حدیث میں بغض کا ذکر نہیں ہے ( صرف محبت کرنے کی بات ہے ۔)
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ - وَقَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ، ح وَحَدَّثَنَاهُ سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ح وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، - وَهُوَ ابْنُ أَنَسٍ - كُلُّهُمْ عَنْ سُهَيْلٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ، الْعَلاَءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ لَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ الْبُغْضِ .
#6707
Suhail b. Abi Salih, reported:We were in Arafa that there happened to pass Umar b. Abd al-'Aziz and he was the Amir of Hajj. People stood up in order to catch a glimpse of him. I said to my father: Father, I think that Allah loves Umar b. Abd al- 'Aziz. He said: How is it? I said: It is because of the love in people's heart for him. Thereupon he said: By One Who created your father, I heard Abu Huraira narrating from Allah's Messenger (ﷺ) a hadith like one transmitted on the authority of Suhail
عبدالعزیز بن عبداللہ بن ابی سلمی ماجثون نے سہیل سے ، انہوں نے ابوصالح سے روایت کی ، کہا : ہم عرفہ میں تھے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کا وہاں سے گذر ہوا اور وہ حج کے امیر تھے ، لوگ کھڑے ہو کر انہیں دیکھنے لگے ، میں نے اپنے والد سے کہا : ابا جان! میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ عمر بن عبدالعزیز سے محبت کرتا ہے ، انہوں نے پوچھا : اس کا کیا سبب ہے؟ میں نے کہا : اس لیے کہ لوگوں کے دلوں میں ان کی محبت پائی جاتی ہے ، انہوں ( ابوصالح ) نے کہا : تیرا باپ قربان ہو! تم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سنی ہے ۔ اس کے بعد انہوں نے سہیل سے جریر کی روایت کردہ حدیث بیان کی ۔
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، بْنِ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، قَالَ كُنَّا بِعَرَفَةَ فَمَرَّ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ عَلَى الْمَوْسِمِ فَقَامَ النَّاسُ يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ فَقُلْتُ لأَبِي يَا أَبَتِ إِنِّي أَرَى اللَّهَ يُحِبُّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ . قَالَ وَمَا ذَاكَ قُلْتُ لِمَا لَهُ مِنَ الْحُبِّ فِي قُلُوبِ النَّاسِ . فَقَالَ بِأَبِيكَ أَنْتَ سَمِعْتَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ عَنْ سُهَيْلٍ .
#6708
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) Saying:Souls are troops collected together and those who familiarised with each other (in the heaven from where these come) would have affinity, with one another (in the world) and those amongst them who opposed each other (in the Heaven) would also be divergent (in the world)
ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " روحیں ایک دوسرے کے ساتھ رہنے والی جماعتیں ہیں ۔ ان میں سے جو ایک دوسرے ( کی ایک جیسی صفات ) سے آگاہ ہو گئیں ان میں یکجائی ( الفت ) ہو گئی اور ( صفات کے اختلاف کی بنا پر ) جو ایک دوسرے سے گریزاں رہیں وہ باہم مختلف ہو گئیں ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ - عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائْتَلَفَ وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ " .
#6709
Abu Huraira narrated directly from Allah's Messenger (ﷺ) that he said:People are like mines of gold and silver; those who were excellent in Jahiliya (during the days of ignorance) are excellent In Islam, when they have, an understanding, and the souls are troops collected together and those who had a mutual familiarity amongst themselves in the store of prenatal existence would have affinity amongst them, (in this world also) and those who opposed one of them, would be at variance with one another
یزید بن اصم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا ایک حدیث بیان کی ، کہا : " لوگ سونے چاندی کی کانوں کی طرح معدنیات کی کانیں ہیں ، جو زمانہ جاہلیت میں اچھے تھے وہ اگر دین کو سمجھ لیں تو زمانہ اسلام میں بھی اچھے ہیں ۔ اور روحیں ایک ساتھ رہنے والی جماعتیں ہیں جو آپس میں ( ایک جیسی صفات کی بنا پر ) ایک دوسرے کو پہنچاننے لگیں ان میں یکجائی پیدا ہو گئی اور جو ( صفات کے اختلاف کی بنا پر ) ایک دوسرے سے گریزاں رہیں ، وہ باہم مختلف ہو گئیں ۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، بِحَدِيثٍ يَرْفَعُهُ قَالَ " النَّاسُ مَعَادِنُ كَمَعَادِنِ الْفِضَّةِ وَالذَّهَبِ خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الإِسْلاَمِ إِذَا فَقُهُوا وَالأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائْتَلَفَ وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ " .
#6710
Anas b. Malik reported that a desert Arab said to Allah's Messenger (ﷺ):When would be the Last Hour? Allah's Messenger (ﷺ) said: What preparation have you made for that? Thereupon he said: The love of Allah and of His Messenger (that is my preparation for the Last Hour) (for the Day of Resurrection). Thereupon he (the Holy Prophet) said: You would be along with one whom you love
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : قیامت کب آئے گی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : " تم نے اس کے لیے کیا تیار کر رکھا ہے؟ " اس نے کہا : اللہ اور اس کے رسول کی محبت ۔ آپ نے فرمایا : " تم اسی کے ساتھ ہو گے جس سے تم کو محبت ہے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ، أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا، قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَتَى السَّاعَةُ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا أَعْدَدْتَ لَهَا " . قَالَ حُبَّ اللَّهِ وَرَسُولِهِ . قَالَ " أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ " .
#6711
Anas reported that a person said to Allah's Messenger (ﷺ):When would be the Last Hour? He (the Holy Prophet) said: What preparation have you made for that? And he gave no details, but said: I love Allah and His Messenger. Thereupon he (the Holy Prophet) said: You would be along with one whom you love. Anas b. Malik reported through another chain of transmitters that a desert Arab came to Allah's Messenger (may peace be upon, him), the rest of the hadith is the same but with this variation that he said: I have not made much preparations which merit appreciation for myself
سفیان نے زہری سے ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک شخص نے پوچھا : اللہ کے رسول! قیامت کب ہو گی؟ آپ نے فرمایا : تم نے اس کے لیے کیا تیار کی ہے؟ " اس نے زیادہ چیزوں کا ذکر نہیں کیا ، ( چند ایک کاموں کا ذکر کر سکا ) اس نے کہا : اور لیکن میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہوں ، آپ نے فرمایا : " تم اس کے ساتھ ہو گے جس سے تمہیں محبت ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ، اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى السَّاعَةُ قَالَ " وَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا " . فَلَمْ يَذْكُرْ كَبِيرًا . قَالَ وَلَكِنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ . قَالَ " فَأَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ " . حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلاً، مِنَ الأَعْرَابِ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ مَا أَعْدَدْتُ لَهَا مِنْ كَثِيرٍ أَحْمَدُ عَلَيْهِ نَفْسِي .
#6712
Anas reported that a person said to Allah's Messenger (ﷺ):When would be the Last Hour? He (the Holy Prophet) said: What preparation have you made for that? And he gave no details, but said: I love Allah and His Messenger. Thereupon he (the Holy Prophet) said: You would be along with one whom you love. Anas b. Malik reported through another chain of transmitters that a desert Arab came to Allah's Messenger (may peace be upon, him), the rest of the hadith is the same but with this variation that he said: I have not made much preparations which merit appreciation for myself
سفیان نے زہری سے ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک شخص نے پوچھا : اللہ کے رسول! قیامت کب ہو گی؟ آپ نے فرمایا : تم نے اس کے لیے کیا تیار کی ہے؟ " اس نے زیادہ چیزوں کا ذکر نہیں کیا ، ( چند ایک کاموں کا ذکر کر سکا ) اس نے کہا : اور لیکن میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہوں ، آپ نے فرمایا : " تم اس کے ساتھ ہو گے جس سے تمہیں محبت ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ، اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى السَّاعَةُ قَالَ " وَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا " . فَلَمْ يَذْكُرْ كَبِيرًا . قَالَ وَلَكِنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ . قَالَ " فَأَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ " . حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلاً، مِنَ الأَعْرَابِ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ مَا أَعْدَدْتُ لَهَا مِنْ كَثِيرٍ أَحْمَدُ عَلَيْهِ نَفْسِي .
#6713
Anas b. Malik reported that a person came to Allah's Messenger (ﷺ) and said to Allah's Messenger:When would be the Last Hour? Thereupon he (the Holy Prophet) said: What preparation have you made for the Last Hour? He said: The love of Allah and of His Messenger (is my only preparation). Thereupon he (the Holy Prophet) said: You would be along with one whom you love. Anas said: Nothing pleased us more after accepting Islam than the words of Allah's Apostle: You would be along with one whom you love. And Anas said. I love Allah and His Messenger and Abu Bakr and Umar, and I hope that I would be along with them although I have not acted like them
حماد بن زید نے کہا : ہمیں ثابت بنانی نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی : اللہ کے رسول! قیامت کب ہو گی؟ آپ نے فرمایا : "" تم نے اس کے لیے کیا تیار کیا ہے؟ "" اس نے کہا : اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم اسی کے ساتھ ہو گے جس سے تم کو محبت ہو گی ۔ "" حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا : اسلام قبول کرنے کے بعد ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد سے بڑھ کر اور کسی بات سے اتنی خوشی نہیں ہوئی : "" تم اس کے ساتھ ہو گے جس سے تم کو محبت ہو گی ۔ "" حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا : میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما سے محبت کرتا ہوں اور مجھے امید ہے کہ میں ان کے ساتھ ہوں گا ، ہر چند کہ میں نے ان کی طرح عمل نہیں کیے ۔
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ - حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى السَّاعَةُ قَالَ " وَمَا أَعْدَدْتَ لِلسَّاعَةِ " . قَالَ حُبَّ اللَّهِ وَرَسُولِهِ قَالَ " فَإِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ " . قَالَ أَنَسٌ فَمَا فَرِحْنَا بَعْدَ الإِسْلاَمِ فَرَحًا أَشَدَّ مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " فَإِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ " . قَالَ أَنَسٌ فَأَنَا أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ فَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ مَعَهُمْ وَإِنْ لَمْ أَعْمَلْ بِأَعْمَالِهِمْ .
#6714
Anas b. Malik reported Allah's Apostle (ﷺ) this hadith through another chain of transmitters but he did not make mention of the words of Anas:I love, and what follows subsequently
جعفر بن سلیمان نے ہمیں حدیث سنائی ، کہا : ہمیں ثابت بنانی نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کا یہ قول کہ میں ( اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ) سے محبت کرتا ہوں ، اور اس کے بعد والی بات بیان نہیں کی ۔
حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ أَنَسٍ فَأَنَا أُحِبُّ . وَمَا بَعْدَهُ .
#6715
Anas b. Malik reported:Allah's Messenger (ﷺ) and I were coming out of the mosque that we met a person on the threshold of the mosque and he said to Allah's Messenger (ﷺ): When would be the Last Hour? Allah's Messenger (ﷺ) said: What preparation have you made for that? The man became silent and then said: Allah's Messenger, I have made no significant preparation with prayer and fasting and charity but I, however, love Allah and His Messenger. Thereupon (the Holy Prophet) said: You would be along with one whom you love
منصور نے سالم بن ابی جعد سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، کہا : ایک بار جب میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد سے نکل رہے تھے تو مسجد کی چوکھٹ کے پاس ہماری ایک شخص سے ملاقات ہوئی ، اس نے کہا : اللہ کے رسول! قیامت کب ہے؟ آپ نے فرمایا : " تم نے اس کے لیے کیا تیار کیا ہے؟ تو جیسے وہ ٹھٹھک گیا ، پھر اس نے کہا : اللہ کے رسول! میں نے اس کے لیے بہت زیادہ نمازیں ، بہت زیادہ روزے اور بہت زیادہ صدقات تو تیار نہیں کیے ، لیکن میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتا ہوں ، آپ نے فرمایا : " تم اسی کے ساتھ ہو گے جس سے تمہیں محبت ہو گی ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ، عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ بَيْنَمَا أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ، صلى الله عليه وسلم خَارِجَيْنِ مِنَ الْمَسْجِدِ فَلَقِينَا رَجُلاً عِنْدَ سُدَّةِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى السَّاعَةُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا أَعْدَدْتَ لَهَا " . قَالَ فَكَأَنَّ الرَّجُلَ اسْتَكَانَ ثُمَّ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَعْدَدْتُ لَهَا كَبِيرَ صَلاَةٍ وَلاَ صِيَامٍ وَلاَ صَدَقَةٍ وَلَكِنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ . قَالَ " فَأَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ " .
#6716
This hadith has been narrated on the authority of Anas through another chain of transmitters
عمرو بن مرہ نے سالم بن ابی جعد سے ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْيَشْكُرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ، جَبَلَةَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِنَحْوِهِ .
#6717
This hadith has been reported on the authority of Anas with different chains of transmitters
ابوعوانہ ، شعبہ اور ہشام نے قتادہ سے ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، سَمِعْتُ أَنَسًا، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، - يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ - حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْحَدِيثِ .
#6718
Abdullah reported that a person came to Allah's Messenger (ﷺ) and said to Allah's Messenger (ﷺ):What is your opinion about the person who loves the people but his (acts or deeds are not identical to theirs)? Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: A person would be along with one whom he loves
جریر نے ( سلیمان ) اعمش سے ، انہوں نے ابووائل سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ، کہا : ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اس نے کہا : اللہ کے رسول! آپ اس شخص کو کیسے دیکھتے ہیں جو کسی قوم سے محبت کرتا ہے مگر ابھی تک اس کے ساتھ نہیں ملا؟ ( اعمال میں ان سے بہت پیچھے ہے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " آدمی اسی کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت کرتا ہے ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ، عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تَرَى فِي رَجُلٍ أَحَبَّ قَوْمًا وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ " .
#6719
A hadith like this has been transmitted on the authority of 'Abdullah
شعبہ اور سلیمان بن قرم نے سلیمان ( اعمش ) سے ، انہوں نے ابووائل سے ، انہوں نے عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ح وَحَدَّثَنِيهِ بِشْرُ، بْنُ خَالِدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ، - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - كِلاَهُمَا عَنْ شُعْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ قَرْمٍ، جَمِيعًا عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ .
#6720
Abu Musa, reported that a person came to Allah's Messenger (ﷺ) ; the rest of the hadith is the same
ابومعاویہ اور محمد بن عبید نے اعمش سے ، انہوں نے ( ابووائل ) شقیق سے اور انہوں نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا ، پھر اعمش سے جریر کی روایت کے مانند حدیث بیان کی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ، نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَجُلٌ . فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ عَنِ الأَعْمَشِ .
#6721
Abu Dharr reported:It was said to Allah's Messenger (ﷺ): What is your opinion about the person who has done good deeds and the people praise him? He said: It is glad tidings for a believer (which he has received in this mortal world)
حماد بن زید نے ابوعمران جونی سے ، انہوں نے عبداللہ بن صامت سے ، انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی گئی : آپ کا کیا خیال ہے کہ ایک شخص اچھے کام کرتا ہے اور لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا : " یہ مومن کے لیے فوری بشارت ہے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَأَبُو الرَّبِيعِ، وَأَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يَعْمَلُ الْعَمَلَ مِنَ الْخَيْرِ وَيَحْمَدُهُ النَّاسُ عَلَيْهِ قَالَ " تِلْكَ عَاجِلُ بُشْرَى الْمُؤْمِنِ " .
#6722
This hadith has been narrated through another chain of transmitters also and the one transmitted on the authority of Shu'ba (the words are):" People love him." In the hadith transmitted on the authority of 'Abd-us-Samad (the words are):" People praise him as stated by Hammad
وکیع ، محمد بن جعفر ، عبدالصمد اور نضر سب نے شعبہ سے ، انہوں نے ابوعمران جونی سے حماد بن زید کی سند کے ساتھ ، اسی کی حدیث کے مانند روایت کی ، مگر شعبہ سے عبدالصمد کے سوا ( باقی ) سب کی حدیث میں ہے : " اور لوگ اس کی وجہ سے اس کے ساتھ محبت کرتے ہیں ۔ " اور عبدالصمد کی حدیث میں ہے : " اور لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں " جس طرح حماد نے کہا ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ وَكِيعٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، كُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، بِإِسْنَادِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ . بِمِثْلِ حَدِيثِهِ غَيْرَ أَنَّ فِي، حَدِيثِهِمْ عَنْ شُعْبَةَ غَيْرَ عَبْدِ الصَّمَدِ وَيُحِبُّهُ النَّاسُ عَلَيْهِ . وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الصَّمَدِ وَيَحْمَدُهُ النَّاسُ . كَمَا قَالَ حَمَّادٌ .
#6723
Abdullah (b. Mas'ud) reported that Allah's Messenger (ﷺ) who is the most truthful (of the human beings) and his being truthful (is a fact) said:Verily your creation is on this wise. The constituents of one of you are collected for forty days in his mother's womb in the form of blood, after which it becomes a clot of blood in another period of forty days. Then it becomes a lump of flesh and forty days later Allah sends His angel to it with instructions concerning four things, so the angel writes down his livelihood, his death, his deeds, his fortune and misfortune. By Him, besides Whom there is no god, that one amongst you acts like the people deserving Paradise until between him and Paradise there remains but the distance of a cubit, when suddenly the writing of destiny overcomes him and he begins to act like the denizens of Hell and thus enters Hell, and another one acts in the way of the denizens of Hell, until there remains between him and Hell a distance of a cubit that the writing of destiny overcomes him and then he begins to act like the people of Paradise and enters Paradise
عبداللہ بن نمیر ہمدانی ، ابومعاویہ اور وکیع نے ہمیں حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں اعمش نے زید بن وہب سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور وہ سچ بتاتے ہیں اور انہیں ( وحی کے ذریعے سے ) سچ بتایا جاتا ہے نے فرمایا : " تم میں سے ہر ایک شخص کا مادہ تخلیق چالیس دن تک اس کی ماں کے پیٹ میں اکٹھا کیا جاتا ہے ، پھر وہ اتنی مدت ( چالیس دن ) کے لیے علقہ ( جونک کی طرح رحم کی دیوار کے ساتھ چپکا ہوا ) رہتا ہے ، پھر اتنی ہی مدت کے لیے مُضغہ کی شکل میں رہتا ہے ( جس میں ریڑھ کی ہڈی کے نشانات دانت سے چبائے جانے کے نشانات سے مشابہ ہوتے ہیں ۔ ) پھر اللہ تعالیٰ فرشتے کو بھیجتا ہے جو ( پانچویں مہینے نیوروسیل ، یعنی دماغ کی تخلیق ہو جانے کے بعد ) اس میں روح پھونکتا ہے ۔ اور اسے چار باتوں کا حکم دیا جاتا ہے کہ اس کا رزق ، اس کی عمر ، اس کا عمل اور یہ کہ وہ خوش نصیب ہو گا یا بدنصیب ، لکھ لیا جائے ۔ مجھے اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں! تم میں سے کوئی ایک شخص اہل جنت کے سے عمل کرتا رہتا ہے ، یہاں تک کہ جب اس کے اور جنت کے درمیان ایک بالشت کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو ( اللہ کے علم کے مطابق ) لکھا ہوا اس پر غالب آ جاتا ہے تو وہ اہل جہنم کا عمل کر لیتا ہے اور اس ( جہنم ) میں داخل ہو جاتا ہے ۔ اور تم میں سے ایک شخص اہل جہنم کے سے عمل کرتا رہتا ہے حتی کہ اس کے اور جہنم کے درمیان ایک بالشت کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو ( اللہ کے علم کے مطابق ) لکھا ہوا اس پر غالب آ جاتا ہے اور وہ اہل جنت کا عمل کر لیتا ہے اور اس ( جنت ) میں داخل ہو جاتا ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ، اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبِي وَأَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَكِيعٌ قَالُوا حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ " إِنَّ أَحَدَكُمْ يُجْمَعُ خَلْقُهُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا ثُمَّ يَكُونُ فِي ذَلِكَ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ يَكُونُ فِي ذَلِكَ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ يُرْسَلُ الْمَلَكُ فَيَنْفُخُ فِيهِ الرُّوحَ وَيُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ بِكَتْبِ رِزْقِهِ وَأَجَلِهِ وَعَمَلِهِ وَشَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ فَوَالَّذِي لاَ إِلَهَ غَيْرُهُ إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّى مَا يَكُونَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلاَّ ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ فَيَدْخُلُهَا وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حَتَّى مَا يَكُونَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلاَّ ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَدْخُلُهَا " .
#6724
This hadith has been reported on the authority of A'mash with the same chain of transmitters and in the hadith transmitted on the authority of Waki' (the words are):" The creation of any one of you is like this that (semen) is collected in the womb of the mother for forty nights," and in the hadith transmitted on the authority of Shu'ba (the words are):" Forty nights and forty days." And in the hadith transmitted on the authority of Jarir and 'Isa (the words are):" Forty days
عثمان بن ابی شیبہ اور اسحٰق بن ابراہیم نے ہمیں حدیث بیان کی ، دونوں نے جریر بن عبدالحمید سے روایت کی ، نیز ہمیں اسحق بن ابراہیم نے عیسیٰ بن یونس سے خبر دی ۔ اور ابوسعید اشج نے مجھے بیان کیا ، کہا : ہمیں وکیع نے حدیث بیان کی کہ عبیداللہ بن معاذ نے کہا : ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں شعبہ بن حجاج نے حدیث بیان کی ، ان سب ( جریر ، عیسیٰ ، وکیع اور شعبہ ) نے اعمش سے ، اسی سند کے ساتھ روایت کی ۔ وکیع کی حدیث میں کہا : " تم میں سے ایک انسان کا مادہ تخلیق چالیس راتوں تک اپنی ماں کے پیٹ میں اکٹھا ( ہونے کے مرحلے میں ) ہوتا ہے ۔ " اور شعبہ سے معاذ کی حدیث میں " چالیس راتیں یا چالیس دن " اور جریر اور عیسیٰ کی حدیث میں " چالیس دن " ہے ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، كِلاَهُمَا عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ، الْحَمِيدِ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ، الأَشَجُّ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَاهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ، كُلُّهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . قَالَ فِي حَدِيثِ وَكِيعٍ " إِنَّ خَلْقَ أَحَدِكُمْ يُجْمَعُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً " . وَقَالَ فِي حَدِيثِ مُعَاذٍ عَنْ شُعْبَةَ " أَرْبَعِينَ لَيْلَةً أَرْبَعِينَ يَوْمًا " . وَأَمَّا فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ وَعِيسَى " أَرْبَعِينَ يَوْمًا " .