#6400
Ibn Shihab transmitted on the authority of Ibn Musayyib that Abu Huraira said:People say that Abu Huraira transmits so many ahadith, whereas Allah is the Reckoner, and they say: How is it with Muhajirs and the Ansar that they do not narrate ahadith like him (like Abu Huraira)? Abu Huraira said: I tell you that my brothers from Ansar remained busy with their lands and my brothers Muhajirs were busy in transactions in the bazars, but I always kept myself attached to Allah's Messenger (ﷺ) with bare subsistence. I remained present (in the company of the Holy Prophet), whereas they had been absent. I retained in my mind (what the Prophet said), whereas they forgot it. One day Allah's Messenger (ﷺ) said: He who amongst you spreads the cloth and listens to my talk and would then press it against his chest would never forget anything heard from me. So I spread my mantle and when he had concluded his talk I then pressed it against my chest and so I never forgot after that day anything that he (the Holy Prophet) said. And if these two verses would not have been revealed in the Book I would have never transmitted anything (to anybody):" Those who conceal the clear evidence and the guidance that We revealed" (ii. 159) tip to the last verse
شعیب نے زہری سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے سعید بن مسیب اور ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن نے بتا یا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےکہا : تم لو گ یہ کہتے ہو کہ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت احادیث بیان کرتا ہے ۔ آگے ان کی حدیث کی طرح ( بیان کیا ۔)
قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَقَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ يَقُولُونَ إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَدْ أَكْثَرَ وَاللَّهُ الْمَوْعِدُ وَيَقُولُونَ مَا بَالُ الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ لاَ يَتَحَدَّثُونَ مِثْلَ أَحَادِيثِهِ وَسَأُخْبِرُكُمْ عَنْ ذَلِكَ إِنَّ إِخْوَانِي مِنَ الأَنْصَارِ كَانَ يَشْغَلُهُمْ عَمَلُ أَرَضِيهِمْ وَإِنَّ إِخْوَانِي مِنَ الْمُهَاجِرِينَ كَانَ يَشْغَلُهُمُ الصَّفْقُ بِالأَسْوَاقِ وَكُنْتُ أَلْزَمُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى مِلْءِ بَطْنِي فَأَشْهَدُ إِذَا غَابُوا وَأَحْفَظُ إِذَا نَسُوا وَلَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا " أَيُّكُمْ يَبْسُطُ ثَوْبَهُ فَيَأْخُذُ مِنْ حَدِيثِي هَذَا ثُمَّ يَجْمَعُهُ إِلَى صَدْرِهِ فَإِنَّهُ لَمْ يَنْسَ شَيْئًا سَمِعَهُ " . فَبَسَطْتُ بُرْدَةً عَلَىَّ حَتَّى فَرَغَ مِنْ حَدِيثِهِ ثُمَّ جَمَعْتُهَا إِلَى صَدْرِي فَمَا نَسِيتُ بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ شَيْئًا حَدَّثَنِي بِهِ وَلَوْلاَ آيَتَانِ أَنْزَلَهُمَا اللَّهُ فِي كِتَابِهِ مَا حَدَّثْتُ شَيْئًا أَبَدًا { إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى} إِلَى آخِرِ الآيَتَيْنِ .
#6401
Ubaidullah b. Rafi', who was the scribe of 'All, reported:I heard 'Ali (Allah be pleased with him) as saying: Allah's Messenger (ﷺ) sent me and Zubair and Miqdad saying: Go to the garden of, Khakh [it is a place between Medina and Mecca at a distance of twelve miles from Medina] and there you will find a woman riding a camel. She would be in possession of a letter, which you must get from her. So we rushed on horses and when we met that woman, we asked her to deliver that letter to us. She said: There is no letter with me. We said: Either bring out that letter or we would take off your clothes. She brought out that letter from (the plaited hair of) her head. We delivered that letter to Allah's Messenger (ﷺ) in which Hatib b. Abu Balta'a had informed some people amongst the polytheists of Mecca about the affairs of Allah's Messenger (ﷺ). Allah's Messenger (ﷺ) said: Hatib, what is this? He said: Allah's messenger, do not be hasty in judging my intention. I was a person attached to the Quraish. Sufyan said: He was their ally but had no relationship with them. (Hatib further said): Those who are with you amongst the emigrants have blood-relationship with them (the Quraish) and thus they would protect their families. I wished that when I had no blood-relationship with them I should find some supporters from (amongst them) who would help my family. I have not done this because of any unbelief or apostasy and I have no liking for the unbelief after I have (accepted) Islam. Thereupon Allah's Apostle (ﷺ) said: You have told the truth. 'Umar said: Allah's Messenger, permit me to strike the neck of this hypocrite. But he (the Holy Prophet) said: He was a participant in Badr and you little know that Allah revealed about the people of Badr: Do what you like for there is forgiveness for you. And Allah, the Exalted and Glorious, said:" O you who believe, do not take My enemy and your enemy for friends" (lx. 1). And there is no mention of this verse in the hadith transmitted on the authority of Abu Bakr and Zubair and Ishaq has in his narration made a mention of the recitation of this verse by Sufyan
ابو بکر بن ابی شیبہ ، عمرو ناقد ، زہیر بن حرب ، اسحاق بن ابراہیم اور ابن ابی عمر نے ہمیں حدیث بیان کی ، الفاظ عمرو کے ہیں ۔ اسحاق نے کہا : ہمیں خبر دی ، دوسروں نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے عمرو ( بن دینار ) سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حسن بن محمد سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے عبیداللہ بن ابی رافع نے جو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کاتب تھے ، خبر دی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : کہ ہمیں یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اور سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کو روضہ خاخ مقام پر بھیجا اور فرمایا کہ جاؤ اور وہاں تمہیں ایک عورت اونٹ پر سوار ملے گی ، اس کے پاس ایک خط ہے وہ اس سے لے کر آؤ ۔ ہم گھوڑے دوڑاتے ہوئے چلے اچانک وہ عورت ہمیں ملی تو ہم نے اس سے کہا کہ خط نکال ۔ وہ بولی کہ میرے پاس تو کوئی خط نہیں ہے ۔ ہم نے کہا کہ خط نکال یا اپنے کپڑے اتار ۔ پس اس نے وہ خط اپنے جوڑے سے نکالا ۔ ہم وہ خط رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئے ، اس میں لکھا تھا حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے مکہ کے بعض مشرکین کے نام ( اور اس میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض باتوں کا ذکر تھا ( ایک روایت میں ہے کہ حاطب نے اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تیاری اور فوج کی آمادگی اور مکہ کی روانگی سے کافروں کو مطلع کیا تھا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے حاطب! تو نے یہ کیا کیا؟ وہ بولے کہ یا رسول اللہ! آپ جلدی نہ فرمائیے ۔ میں قریش سے ملا ہوا ایک شخص تھا یعنی ان کا حلیف تھا اور قریش میں سے نہ تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مہاجرین جو ہیں ان کے رشتہ دار قریش میں بہت ہیں جن کی وجہ سے ان کے گھربار کا بچاؤ ہوتا ہے تو میں نے یہ چاہا کہ میرا ناتا تو قریش سے نہیں ہے ، میں بھی ان کا کوئی کام ایسا کر دوں جس سے میرے اہل و عیال والوں کا بچاؤ کریں گے اور میں نے یہ کام اس وجہ سے نہیں کیا کہ میں کافر ہو گیا ہوں یا مرتد ہو گیا ہوں اور نہ مسلمان ہونے کے بعد کفر سے خوش ہو کر کیا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حاطب نے سچ کہا ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہ کہ یا رسول اللہ! آپ چھوڑئیے میں اس منافق کی گردن ماروں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو بدر کی لڑائی میں شریک تھا اور تو نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ نے بدر والوں کو جھانکا اور فرمایا کہ تم جو اعمال چاہو کرو ( بشرطیکہ کفر تک نہ پہنچیں ) میں نے تمہیں بخش دیا ۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری کہ ”اے ایمان والو! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست مت بناؤ“ ۔ ( سورۃ : الممتحنہ : 1 ) ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ - وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ، عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي رَافِعٍ، - وَهُوَ كَاتِبُ عَلِيٍّ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا، رضى الله عنه وَهُوَ يَقُولُ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَا وَالزُّبَيْرَ وَالْمِقْدَادَ فَقَالَ " ائْتُوا رَوْضَةَ خَاخٍ فَإِنَّ بِهَا ظَعِينَةً مَعَهَا كِتَابٌ فَخُذُوهُ مِنْهَا " . فَانْطَلَقْنَا تَعَادَى بِنَا خَيْلُنَا فَإِذَا نَحْنُ بِالْمَرْأَةِ فَقُلْنَا أَخْرِجِي الْكِتَابَ . فَقَالَتْ مَا مَعِي كِتَابٌ . فَقُلْنَا لَتُخْرِجِنَّ الْكِتَابَ أَوْ لَتُلْقِيَنَّ الثِّيَابَ . فَأَخْرَجَتْهُ مِنْ عِقَاصِهَا فَأَتَيْنَا بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِذَا فِيهِ مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى نَاسٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ يُخْبِرُهُمْ بِبَعْضِ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا حَاطِبُ مَا هَذَا " . قَالَ لاَ تَعْجَلْ عَلَىَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ امْرَأً مُلْصَقًا فِي قُرَيْشٍ - قَالَ سُفْيَانُ كَانَ حَلِيفًا لَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ مِنْ أَنْفُسِهَا - وَكَانَ مِمَّنْ كَانَ مَعَكَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ لَهُمْ قَرَابَاتٌ يَحْمُونَ بِهَا أَهْلِيهِمْ فَأَحْبَبْتُ إِذْ فَاتَنِي ذَلِكَ مِنَ النَّسَبِ فِيهِمْ أَنْ أَتَّخِذَ فِيهِمْ يَدًا يَحْمُونَ بِهَا قَرَابَتِي وَلَمْ أَفْعَلْهُ كُفْرًا وَلاَ ارْتِدَادًا عَنْ دِينِي وَلاَ رِضًا بِالْكُفْرِ بَعْدَ الإِسْلاَمِ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " صَدَقَ " . فَقَالَ عُمَرُ دَعْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَضْرِبْ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ . فَقَالَ " إِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ " . فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ} وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَبِي بَكْرٍ وَزُهَيْرٍ ذِكْرُ الآيَةِ وَجَعَلَهَا إِسْحَاقُ فِي رِوَايَتِهِ مِنْ تِلاَوَةِ سُفْيَانَ .
#6402
Ali reported that Allah's Messenger (ﷺ) sent me and Abu Marthad al-Ghitnavi and Zubair b. 'Awwam and we were all riders, and he said:Ride on until you reach the garden of Khakh for there is a woman amongst the polytheists and there is a letter with her sent by Hatib to the polytheists; the rest of the hadith is the same
ابو عبد الرحمٰن سلمی نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ، حضرت ابو مرثد غنوی اور زبیر بن عوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو روانہ کیا ہم سب گھوڑوں پر سوار تھے آپ نے فر ما یا : " تم خاخ کے باغ کی طرف روانہ ہو جاؤ ، وہاں ایک مشرک عورت ہو گئی ، اس کے پاس مشرکین کے نام حاطب کا ایک خط ہو گا ۔ " آگے عبید اللہ بن ابی رافع کی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی حدیث کے ہم معنی بیان کیا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ح وَحَدَّثَنَا رِفَاعَةُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ - كُلُّهُمْ عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبَا مَرْثَدٍ الْغَنَوِيَّ وَالزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ وَكُلُّنَا فَارِسٌ فَقَالَ " انْطَلِقُوا حَتَّى تَأْتُوا رَوْضَةَ خَاخٍ فَإِنَّ بِهَا امْرَأَةً مِنَ الْمُشْرِكِينَ مَعَهَا كِتَابٌ مِنْ حَاطِبٍ إِلَى الْمُشْرِكِينَ " . فَذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ عَنْ عَلِيٍّ .
#6403
Jabir reported that a slave of Hatib came to Allah's Messenger (ﷺ) complaining against Hatib and said:Hatib will definitely go to Hell. (But) Allah's Messenger (ﷺ) said: You tell a lie; he would not get into that for he had taken part in Badr and in (the expedition of) Hudaibiya
حضرت جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت حاطب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایک غلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور حضرت حاطب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ( کسی بات کی ) شکایت کرتے ہو ئے کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !حاطب ضرور دوزخ میں جا ئے گا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم جھوٹ کہتے ہو ۔ وہ دوزخ میں داخل نہیں ہو گا ۔ کیونکہ وہ بدر اور حدیبیہ میں شر یک ہوا ہے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ عَبْدًا، لِحَاطِبٍ جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَشْكُو حَاطِبًا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَيَدْخُلَنَّ حَاطِبٌ النَّارَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كَذَبْتَ لاَ يَدْخُلُهَا فَإِنَّهُ شَهِدَ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَةَ " .
#6404
Umm Mubashshir reported that she heard Allah's Apostle (ﷺ) as saying in presence of Hafsa:God willing, the people of the Tree would never enter the fire of Hell one amongst those who owed allegiance under that. She said: Allah's Messenger, why not? He scolded her. Hafsa said: And there is none amongst you but shall have to pass over that (narrow Bridge). Thereupon Allah's Apostle (ﷺ) said: Allah, the Exalted and Glorious, has said: We would rescue those persons who are God-conscious and we would leave the tyrants to their fate there (xix)
ابو زبیر نے خبر دی کہا : انھوں نے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے ۔ مجھےام مبشر رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے خبر دی کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں یہ فرما تے ہو ئے سنا ، " ان شاء اللہ اصحاب شجرہ ( درخت والوں ) میں سے کو ئی ایک بھی جس نے اس کے نیچے بیعت کی تھی جہنم میں داخل نہ ہو گا ۔ وہ ( حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) کہنے لگیں ۔ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیوں نہیں ! ( داخل تو ہوں گے ۔ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں جھڑک دیا تو حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آیت پڑھی : " تم میں سے کو ئی نہیں مگر اس پر وارد ہو نے والاہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ( اس کے بعد ) اللہ تعا لیٰ نے یہ ( بھی ) فرمایا ہے ۔ پھر ہم تقویٰ اختیار کرنے والوں کو ( جہنم میں گرنے سے ) بچا لیں گے اور ظالموں کو اسی میں گھٹنوں کے بل پڑا رہنے دیں گے ۔
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ أَخْبَرَتْنِي أُمُّ مُبَشِّرٍ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ عِنْدَ حَفْصَةَ " لاَ يَدْخُلُ النَّارَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ أَحَدٌ . الَّذِينَ بَايَعُوا تَحْتَهَا " . قَالَتْ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَانْتَهَرَهَا فَقَالَتْ حَفْصَةُ { وَإِنْ مِنْكُمْ إِلاَّ وَارِدُهَا} فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " قَدْ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا}
#6405
Abu Musa reported:I was in the company of Allah's Apostle (ﷺ) as he had been sitting in Ji'rana (a place) between Mecca and Medina and Bilal was also there, that there came to Allah's Apostle (ﷺ) a desert Arab, and he said: Muhammad, fulfill your promise that you made with me. Allah's Messenger (ﷺ) said to him: Accept glad tidings. Thereupon the desert Arab said: You shower glad tidings upon me very much; then Allah's Messenger (ﷺ) turned towards Abu Musa and Bilal seemingly in a state of annoyance and said: Verily he has rejected glad tidings but you two should accept them. We said: Allah's Messenger, we have readily accepted them. Then Allah's Messenger (ﷺ) called for a cup of water and washed his hands in that and face too and put the saliva in it and then said: Drink out of it and pour it over your faces and over your chest and gladden yourselves. They took hold of the cup and did as Allah's Messenger (ﷺ) had commanded them to do. Thereupon Umm Salama called from behind the veil: Spare some water in your vessel for your mother also, and they also gave some water which had been spared for her
ابو بردہ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا اور آپ نے مکہ اور مدینہ کے درمیان جعرانہ میں پڑاؤ کیا ہوا تھا ۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی آپ کے ساتھ تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بدو شخص آیا ، اس نے کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا اسے پورا نہیں کریں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " خوش ہو جاؤ ۔ " ( میں نے وعدہ کیا ہے تو پورا کروں گا ۔ ) اس بدو نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا : آپ مجھ سے بہت دفعہ " خوش ہو جاؤ ۔ " کہہ چکے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصے جیسی کیفیت میں ابو موسیٰ اور بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف متوجہ ہو ئے اور فرما یا : " اس شخص نے میری بشارت کو مسترد کر دیا ہے اب تم دونوں میری بشارت کو قبول کرلو ۔ " ان دونوں نے کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ہم نے قبول کی ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا ایک پیالہ منگوایا آپ نے اس پیالے میں اپنے ہاتھ اور اپنا چہرہ دھویا اور اس میں اپنے دہن مبارک کا پانی ڈالا پھر فر ما یا : " تم دونوں اسے پی لو اور اس کو اپنے اپنے چہرے اور سینے پر مل لو اور خوش ہو جاؤ ۔ " ان دونوں نے پیا لہ لے لیا اور جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا تھا اسی طرح کیا تو حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے پردے کے پیچھے سے ان کو آواز دے کر کہا : جو تمھا رے برتن میں ہے اس میں سے کچھ اپنی ماں کے لیے بھی بچا لو ، تو انھوں نے اس میں سے کچھ ان کے لیے بھی بچا لیا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الأَشْعَرِيُّ، وَأَبُو كُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، قَالَ أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا بُرَيْدٌ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ نَازِلٌ بِالْجِعْرَانَةِ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ وَمَعَهُ بِلاَلٌ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلٌ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ أَلاَ تُنْجِزُ لِي يَا مُحَمَّدُ مَا وَعَدْتَنِي فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَبْشِرْ " . فَقَالَ لَهُ الأَعْرَابِيُّ أَكْثَرْتَ عَلَىَّ مِنْ " أَبْشِرْ " . فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى أَبِي مُوسَى وَبِلاَلٍ كَهَيْئَةِ الْغَضْبَانِ فَقَالَ " إِنَّ هَذَا قَدْ رَدَّ الْبُشْرَى فَاقْبَلاَ أَنْتُمَا " . فَقَالاَ قَبِلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . ثُمَّ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِقَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ فِيهِ وَمَجَّ فِيهِ ثُمَّ قَالَ " اشْرَبَا مِنْهُ وَأَفْرِغَا عَلَى وُجُوهِكُمَا وَنُحُورِكُمَا وَأَبْشِرَا " . فَأَخَذَا الْقَدَحَ فَفَعَلاَ مَا أَمَرَهُمَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَنَادَتْهُمَا أُمُّ سَلَمَةَ مِنْ وَرَاءِ السِّتْرِ أَفْضِلاَ لأُمِّكُمَا مِمَّا فِي إِنَائِكُمَا . فَأَفْضَلاَ لَهَا مِنْهُ طَائِفَةً .
#6406
Abu Burda reported on the authority of his father that when Allah's Apostle (ﷺ) had been free from the Battle of Hunain, he sent Abu 'Amir as the head of the army of Autas. He had an encounter with Duraid b. as_Simma. Duraid was killed and Allah gave defeat to his friends. Abu Musa said:He (the Holy Prophet) sent me along with Abu 'Amir and Abu 'Amir received a wound in his knee from the arrow, (shot by) a person of Bani Jusham. It stuck in his knee. I went to him and said: Uncle, who shot an arrow upon you? Abu 'Amir pointed out to Abu Musa and said: Verily that one who shot an arrow upon me in fact killed me. Abu Musa said: I followed him with the determination to kill him and overtook him and when he saw me he turned upon his heels. I followed him and I said to him: Don't you feel ashamed (that you run), aren't you an Arab? Why don't you stop? He stopped and I had an encounter with him and we exchanged the strokes of (swords). I struck him with the sword and killed him. Then I came back to Abu Amir and said: Verily Allah has killed the one who killed you. And he said: Now draw out this arrow. I drew out the arrow and there came out from that (wound) water. Abu 'Amir said: My nephew, go to Allah's Messenger (ﷺ) and convey my greetings to him and tell him that Abu Amir begs you to ask forgiveness for him. And Abu Amir appointed me as the chief of the people and he died after a short time. When I came to Allah's Apostle (ﷺ) I visited him and he had been lying on the cot woven by strings and there was (no) bed over it and so there had been marks of the strings on the back of Allah's Messenger (ﷺ) and on his sides. I narrated to him what had happened to us and narrated to him about Abu Amir and said to him that he had made a request to the effect that forgiveness should be sought for him (from Allah). Thereupon Allah's Messenger (may peace be. upon him) called for water and performed ablution with it. He then lifted his hands and said. O Allah, grant pardon to Thy servant Abu Amir. (The Prophet had raised his hands so high for supplication) that I saw the whiteness of his armpits. He again said: O Allah, grant him distinction amongst the majority of Thine created beings or from amongst the people. I said: Allah's Messenger, ask forgiveness for me too. Thereupon Allah's Apostle (ﷺ) said: Allah, forgive the sins of Abdullah b. Qais (Abu Musa Ash'ari) and admit him to an elevated place on the Day of Resurrection. Abu Burda said: One prayer is for abu 'Amir and the other is tor Abu Musa
برید نے ابو بردہ سے اور انھوں نے اپنے والد ( حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، کہا : کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حنین کی لڑائی سے فارغ ہوئے تو سیدنا ابوعامر رضی اللہ عنہ کو لشکر دے کر اوطاس پر بھیجا تو ان کا مقابلہ درید بن الصمہ سے ہوا ۔ پس درید بن الصمہ قتل کر دیا گیا اور اس کے ساتھ والوں کو اللہ تعالیٰ نے شکست سے ہمکنار کر دیا ۔ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوعامر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھیجا تھا ۔ پھر بنی جشم کے ایک شخص کا ایک تیر سیدنا ابوعامر رضی اللہ عنہ کو گھٹنے میں لگا اور وہ ان کے گھٹنے میں جم گیا ۔ میں ان کے پاس گیا اور پوچھا کہ اے چچا! تمہیں یہ تیر کس نے مارا؟ انہوں نے کہا کہ اس شخص نے مجھے قتل کیا اور اسی شخص نے مجھے تیر مارا ہے ۔ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے اس شخص کا پیچھا کیا اور اس سے جا ملا ۔ اس نے جب مجھے دیکھا تو پیٹھ موڑ کر بھاگ کھڑا ہو ۔ میں اس کے پیچھے ہوا اور میں نے کہنا شروع کیا کہ اے بےحیاء ! کیا تو عرب نہیں ہے؟ ٹھہرتا نہیں ہے؟ پس وہ رک گیا ۔ پھر میرا اس کا مقابلہ ہوا ، اس نے بھی وار کیا اور میں نے بھی وار کیا ، آخر میں نے اس کو تلوار سے مار ڈالا ۔ پھر لوٹ کر ابوعامر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا کہ اللہ نے تمہارے قاتل کو قتل کروا دیا ۔ ابوعامر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اب یہ تیر نکال لے میں نے اس کو نکالا تو تیر کی جگہ سے پانی نکلا ( خون نہ نکلا شاید وہ تیر زہر آلود تھا ) ۔ ابوعامر نے کہا کہ اے میرے بھتیجے! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر میری طرف سے سلام کہہ اور یہ کہنا کہ ابوعامر کی بخشش کی دعا کیجئے ۔ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ابوعامر رضی اللہ عنہ نے مجھے لوگوں کا سردار کر دیا اور وہ تھوڑی دیر زندہ رہے ، پھر فوت ہو گئے ۔ جب میں لوٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک کوٹھڑی میں بان کے ایک پلنگ پر تھے جس پر فرش تھا اور بان کا نشان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ اور پہلوؤں پر بن گیا تھا ۔ میں نے کہا کہ ابوعامر نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ درخواست کی تھی کہ میرے لئے دعا کیجئے ۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا کر وضو کیا ، پھر دونوں ہاتھ اٹھائے اور فرمایا کہ اے اللہ! عبید ابوعامر کو بخش دے ( عبید بن سلیم ان کا نام تھا ) یہاں تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں بغلوں کی سفیدی دیکھی ۔ پھر فرمایا کہ اے اللہ! ابوعامر کو قیامت کے دن بہت سے لوگوں کا سردار کرنا ۔ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اور میرے لئے بھی بخشش کی دعا فرمائیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے اللہ! عبداللہ بن قیس کے گناہ بھی بخش دے اور قیامت کے دن اس کو عزت کے مکان میں لے جا ۔ ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ایک دعا ابوعامر کے لئے کی اور ایک دعا ابوموسیٰ کے لئے کی ۔ رضی اللہ عنہما ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ أَبُو عَامِرٍ الأَشْعَرِيُّ، وَأَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ - وَاللَّفْظُ لأَبِي عَامِرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ لَمَّا فَرَغَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنْ حُنَيْنٍ بَعَثَ أَبَا عَامِرٍ عَلَى جَيْشٍ إِلَى أَوْطَاسٍ فَلَقِيَ دُرَيْدَ بْنَ الصِّمَّةِ فَقُتِلَ دُرَيْدٌ وَهَزَمَ اللَّهُ أَصْحَابَهُ فَقَالَ أَبُو مُوسَى وَبَعَثَنِي مَعَ أَبِي عَامِرٍ - قَالَ - فَرُمِيَ أَبُو عَامِرٍ فِي رُكْبَتِهِ رَمَاهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي جُشَمٍ بِسَهْمٍ فَأَثْبَتَهُ فِي رُكْبَتِهِ فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ يَا عَمِّ مَنْ رَمَاكَ فَأَشَارَ أَبُو عَامِرٍ إِلَى أَبِي مُوسَى فَقَالَ إِنَّ ذَاكَ قَاتِلِي تَرَاهُ ذَلِكَ الَّذِي رَمَانِي . قَالَ أَبُو مُوسَى فَقَصَدْتُ لَهُ فَاعْتَمَدْتُهُ فَلَحِقْتُهُ فَلَمَّا رَآنِي وَلَّى عَنِّي ذَاهِبًا فَاتَّبَعْتُهُ وَجَعَلْتُ أَقُولُ لَهُ أَلاَ تَسْتَحْيِي أَلَسْتَ عَرَبِيًّا أَلاَ تَثْبُتُ فَكَفَّ فَالْتَقَيْتُ أَنَا وَهُوَ فَاخْتَلَفْنَا أَنَا وَهُوَ ضَرْبَتَيْنِ فَضَرَبْتُهُ بِالسَّيْفِ فَقَتَلْتُهُ ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى أَبِي عَامِرٍ فَقُلْتُ إِنَّ اللَّهَ قَدْ قَتَلَ صَاحِبَكَ . قَالَ فَانْزِعْ هَذَا السَّهْمَ فَنَزَعْتُهُ فَنَزَا مِنْهُ الْمَاءُ فَقَالَ يَا ابْنَ أَخِي انْطَلِقْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَقْرِئْهُ مِنِّي السَّلاَمَ وَقُلْ لَهُ يَقُولُ لَكَ أَبُو عَامِرٍ اسْتَغْفِرْ لِي . قَالَ وَاسْتَعْمَلَنِي أَبُو عَامِرٍ عَلَى النَّاسِ وَمَكَثَ يَسِيرًا ثُمَّ إِنَّهُ مَاتَ فَلَمَّا رَجَعْتُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم دَخَلْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ فِي بَيْتٍ عَلَى سَرِيرٍ مُرْمَلٍ وَعَلَيْهِ فِرَاشٌ وَقَدْ أَثَّرَ رِمَالُ السَّرِيرِ بِظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَجَنْبَيْهِ فَأَخْبَرْتُهُ بِخَبَرِنَا وَخَبَرِ أَبِي عَامِرٍ وَقُلْتُ لَهُ قَالَ قُلْ لَهُ يَسْتَغْفِرْ لِي . فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ مِنْهُ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعُبَيْدٍ أَبِي عَامِرٍ " . حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ ثُمَّ قَالَ " اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَوْقَ كَثِيرٍ مِنْ خَلْقِكَ أَوْ مِنَ النَّاسِ " . فَقُلْتُ وَلِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَاسْتَغْفِرْ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ذَنْبَهُ وَأَدْخِلْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُدْخَلاً كَرِيمًا " . قَالَ أَبُو بُرْدَةَ إِحْدَاهُمَا لأَبِي عَامِرٍ وَالأُخْرَى لأَبِي مُوسَى .
#6407
Abu Musa reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:I recognise the voice of the Ash'arites while they recite the Qur'an as they arrive during the night and I also recognise their station from the recital of the Qur'an during the night time, although I have not seen their encampments as they encamp during the day time. And there is a person amongst them, Hakim; when he encounters the horsemen or the enemies he says to them: My friends command you to wait for them
ابو بردہ نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اشعری رفقاء جب رات کے وقت گھروں میں داخل ہو تے ہیں تو میں ان کے قرآن مجید پڑھنے کی آواز کو پہچان لیتا ہوں اور رات کو ان کے قرآن پڑھنے کی آواز سے ان کے گھروں کو بھی پہچان لیتا ہوں ، چاہے دن میں ان کے اپنے گھروں میں آنے کے وقت میں نے ان کے گھروں کو نہ دیکھا ہو ۔ ان میں سے ایک حکیم ( حکمت و دانائی والاشخص ) ہے جب وہ گھڑسواروں ۔ ۔ ۔ یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : دشمنوں ۔ ۔ ۔ سے ملا قات کرتا ہے تو ان سے کہتا ہے ۔ میرے ساتھی تمھیں حکم دے رہے ہیں کہ تم ان کا انتظار کرو ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا بُرَيْدٌ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنِّي لأَعْرِفُ أَصْوَاتَ رُفْقَةِ الأَشْعَرِيِّينَ بِالْقُرْآنِ حِينَ يَدْخُلُونَ بِاللَّيْلِ وَأَعْرِفُ مَنَازِلَهُمْ مِنْ أَصْوَاتِهِمْ بِالْقُرْآنِ بِاللَّيْلِ وَإِنْ كُنْتُ لَمْ أَرَ مَنَازِلَهُمْ حِينَ نَزَلُوا بِالنَّهَارِ وَمِنْهُمْ حَكِيمٌ إِذَا لَقِيَ الْخَيْلَ - أَوْ قَالَ الْعَدُوَّ - قَالَ لَهُمْ إِنَّ أَصْحَابِي يَأْمُرُونَكُمْ أَنْ تَنْظُرُوهُمْ " .
#6408
Abu Musa reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:When the Ash'arites run short of provisions in the campaigns or run short of food for their children in Medina they collect whatever is with them in the cloth and then partake equally from one vessel. They are from me and I am from them
ابو بردہ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : اشعر ی لوگ جب جہاد میں رسد کی کمی کا شکار ہو جا ئیں یا مدینہ میں ان کے اہل وعیال کا کھا نا کم پڑ جائے تو ان کے پاس جو کچھ بچا ہو اسے ایک کپڑے میں اکٹھا کر لیتے ہیں ، پھر ایک ہی برتن سے اس کو آپس میں برابر تقسیم کر لیتے ہیں ۔ وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں ۔ ( وہ میرے قریب ہیں اور میں ان سے قربت رکھتا ہوں ۔)
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الأَشْعَرِيُّ، وَأَبُو كُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، قَالَ أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنِي بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ الأَشْعَرِيِّينَ إِذَا أَرْمَلُوا فِي الْغَزْوِ أَوْ قَلَّ طَعَامُ عِيَالِهِمْ بِالْمَدِينَةِ جَمَعُوا مَا كَانَ عِنْدَهُمْ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ثُمَّ اقْتَسَمُوهُ بَيْنَهُمْ فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ بِالسَّوِيَّةِ فَهُمْ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ " .
#6409
Ibn Abbas reported that the Muslims neither looked to Abu Sufyan (with respect) nor did they sit in his company. he (Abu Sufyan) said to Allah's Apostle (ﷺ):Allah's Apostle, confer upon me three things. He replied in the affirmative. He (further) said: I have with me the most handsome and the best (woman) Umm Habiba, daughter of Abu Sufyan; marry her, whereupon he said: Yes. And he again said: Accept Mu'awiya to serve as your scribe. He said: Yes. He again said: Make me the commander (of the Muslim army) so that I should fight against the unbelievers as I fought against the Muslims. He said: Yes. Abu Zumnail said: If he had not asked for these three things from Allah's Apostle (ﷺ), he would have never conferred them upon him, for it was (his habit) to accede to everybody's (earnest) request
عکرمہ نے کہا : ہمیں ابو زمیل نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : مجھے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی ، کہا : مسلمان نہ حضرت ابو سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بات کرتے تھے نہ ان کے ساتھ بیٹھتے اٹھتے تھے ۔ اس پر انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !آپ مجھے تین چیزیں عطا فر ما دیجیے ۔ ( تین چیزوں کے بارے میں میری درخواست قبول فرما لیجیے ۔ ) آپ نے جواب دیا : " ہاں ۔ " کہا میری بیٹی ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا عرب کی سب سے زیادہ حسین و جمیل خاتون ہے میں اسے آپ کی زوجیت میں دیتا ہوں ۔ آپ نے فر مایا : " ہاں ۔ " کہا : اور معاویہ ( میرابیٹا ) آپ اسے اپنے پاس حاضر رہنے والا کا تب بنا دیجیے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ہاں ۔ " پھر کہا : آپ مجھے کسی دستے کا امیر ( بھی ) مقرر فرمائیں تا کہ جس طرح میں مسلمانوں کے خلاف لڑتا تھا اسی طرح کافروں کے خلا ف بھی جنگ کروں ۔ آپ نے فرمایا : " ہاں ۔ " ابو زمیل نے کہا : اگر انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان باتوں کا مطالبہ نہ کیا ہو تا تو آپ ( از خود ) انھیں یہ سب کچھ عطا نہ فر ما تے کیونکہ آپ سے کبھی کو ئی چیز نہیں مانگی جا تی تھی مگر آپ ( اس کے جواب میں ) " ہاں " کہتے تھے ۔
حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَعْقِرِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا النَّضْرُ، - وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ الْيَمَامِيُّ - حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ الْمُسْلِمُونَ لاَ يَنْظُرُونَ إِلَى أَبِي سُفْيَانَ وَلاَ يُقَاعِدُونَهُ فَقَالَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَا نَبِيَّ اللَّهِ ثَلاَثٌ أَعْطِنِيهِنَّ قَالَ " نَعَمْ " . قَالَ عِنْدِي أَحْسَنُ الْعَرَبِ وَأَجْمَلُهُ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ أُزَوِّجُكَهَا قَالَ " نَعَمْ " . قَالَ وَمُعَاوِيَةُ تَجْعَلُهُ كَاتِبًا بَيْنَ يَدَيْكَ . قَالَ " نَعَمْ " . قَالَ وَتُؤَمِّرُنِي حَتَّى أُقَاتِلَ الْكُفَّارَ كَمَا كُنْتُ أُقَاتِلُ الْمُسْلِمِينَ . قَالَ " نَعَمْ " . قَالَ أَبُو زُمَيْلٍ وَلَوْلاَ أَنَّهُ طَلَبَ ذَلِكَ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَا أَعْطَاهُ ذَلِكَ لأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ يُسْئَلُ شَيْئًا إِلاَّ قَالَ " نَعَمْ " .
#6410
Abu Musa reported:We were in Yemen when we heard of the migration of Allah's Messenger (ﷺ). We also set out as immigrants to him. And I was accompanied by two brothers of mine, I being the youngest of them; one of them was Abu Burda and the other one was Abu Ruhm, and there were some other persons with them. Some say they were fifty-three or fifty-two persons of my tribe. We embarked upon a boat, and the boat sailed away to the Negus of Abyssinia. There we met Ja'far b. Abu Talib and his companions. Ja'far said: Allall's Messenger (ﷺ) has sent us here and has commanded us to stay here and you should also stay with us. So we stayed with him and we came back (to Medina) and met Allah's Messenger (ﷺ) when Khaibar had been conquered. He (the Holy Prophet) allocated a share to us and in the ordinary course he did not allocate the share to one who had been absent on the occasion of the conquest of Khaibar but conferred (a share) upon him only who had been present there with him. He, however, made an exception for the people of the boat, viz. for Ja'far and his companions. He allocated a share to them, and some persons from amongst the people said to us, viz. the people of the boat: We have preceded you in migration. Asma' bint 'Umais who had migrated to Abyssinia and had come back along with them (along with immigrants) visited Hafsa, the wife of Allah's Apostle (ﷺ). (Accordingly), Umar had been sitting with her (Hafsa). As 'Umar saw Asma, he said: Who is she? She (Hafsa) said: She is Asma, daughter of 'Umais. He said: She is an Abyssinian and a sea-woman. Asma said: Yes, it is so. Thereupon 'Umar said: We preceded you in migration and so we have more right to Allah's Messenger (ﷺ) as compared with you. At this she felt annoyed and said: 'Umar, you are not stating the fact; by Allah, you had the privilege of being in the company of the Messenger (ﷺ) who fed the hungry among you and instructed the ignorant amongst you, whereas we had been far (from here) in the land of Abyssinia amongst the enemies and that was all for Allah and Allah's Messenger (ﷺ) and, by Allah, I would never take food nor take water unless I make a mention to Allah's Messenger (ﷺ) of what you have said. We remained in that country in constant trouble and dread and I shall talk about it to Allah's Messenger (way peace be upon him) and ask him (about it). By Allah, I shall not tell a lie and deviate (from the truth) and add anything to that. So, when Allah's Apostle (ﷺ) came, she said: Allah's Apostle, 'Umar says so and so. Upon this Allah's Messenger (ﷺ) said: His right is not more than yours, for him and his companions there is one migration, but for you, i. e. for the people of the boat, there are two migrations. She said: I saw Abu Musa and the people of the boat coming to me in groups and asking me about this hadith, because there was nothing more pleasing and more significant for them than this. Abu Burda reported that Asma said: I saw Abu Musa, asking me to repeat this hadith to him again and again
بُرَید نے ابو بُردہ سے انھوں نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ( مکہ سے ) نکلنے کی خبر ملی تو ہم یمن میں تھے ۔ ہم ( بھی ) آپ کی طرف ہجرت کرتے ہو ئے نکل پڑے ۔ میں میرے دو بھا ئی جن سے میں چھوٹا تھا ۔ ایک ابو بردہ اور دوسرا ابو رہم ۔ ۔ ۔ اور میری قوم میں سے پچاس سے کچھ اوپریا کہا : تریپن یا باون لوگ ( نکلے ) ۔ ۔ کہا : ہم کشتی میں سوار ہو ئے تو ہماری کشتی نے ہمیں حبشہ میں نجا شی کے ہاں جا پھینکا ۔ اس کے ہاں ہم حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ اکٹھے ہو گئے ۔ جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہاں بھیجا ہے اور ہمیں یہاں ٹھہرنے کا حکم دیا ہے تم لو گ بھی ہمارے ساتھ یہیں ٹھہرو ۔ کہا : ہم ان کے ساتھ ٹھہرگئے ۔ حتی کہ ہم سب اکٹھے ( واپس ) آئے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( عین ) اس وقت آکر ملے جب آپ نے خیبر فتح کیا تو آپ نے ہمارا بھی حصہ نکا لا یا کہا : ہمیں بھی اس مال میں سے عطا فر ما یا : آپ نے کسی شخص کو بھی جو فتح خیبر میں مو جود نہیں تھا کو ئی حصہ نہیں دیا تھا ، سوائے ان لوگوں کے جو آپ کے ساتھ ( فتح میں ) شریک تھے مگر حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے ہمراہ ہماری کشتی والوں کو دیا ، ان کے لیے ان ( فتح میں شریک ہو نے والوں ) کے ساتھ ہی حصہ نکا لا ۔ کہا : تو ان میں سے کچھ لوگ ہمیں ۔ ۔ ۔ یعنی کشتی والوں کو ۔ ۔ ۔ کہتے تھے ، ہم نے ہجرت میں تم سے سبقت حاصل کی ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الأَشْعَرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ الْهَمْدَانِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنِي بُرَيْدٌ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ بَلَغَنَا مَخْرَجُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ بِالْيَمَنِ فَخَرَجْنَا مُهَاجِرِينَ إِلَيْهِ أَنَا وَأَخَوَانِ لِي أَنَا أَصْغَرُهُمَا أَحَدُهُمَا أَبُو بُرْدَةَ وَالآخَرُ أَبُو رُهْمٍ - إِمَّا قَالَ بِضْعًا وَإِمَّا قَالَ ثَلاَثَةً وَخَمْسِينَ أَوِ اثْنَيْنِ وَخَمْسِينَ رَجُلاً مِنْ قَوْمِي - قَالَ فَرَكِبْنَا سَفِينَةً فَأَلْقَتْنَا سَفِينَتُنَا إِلَى النَّجَاشِيِّ بِالْحَبَشَةِ فَوَافَقْنَا جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَأَصْحَابَهُ عِنْدَهُ فَقَالَ جَعْفَرٌ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَنَا هَا هُنَا وَأَمَرَنَا بِالإِقَامَةِ فَأَقِيمُوا مَعَنَا . فَأَقَمْنَا مَعَهُ حَتَّى قَدِمْنَا جَمِيعًا - قَالَ - فَوَافَقْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ فَأَسْهَمَ لَنَا - أَوْ قَالَ أَعْطَانَا مِنْهَا - وَمَا قَسَمَ لأَحَدٍ غَابَ عَنْ فَتْحِ خَيْبَرَ مِنْهَا شَيْئًا إِلاَّ لِمَنْ شَهِدَ مَعَهُ إِلاَّ لأَصْحَابِ سَفِينَتِنَا مَعَ جَعْفَرٍ وَأَصْحَابِهِ قَسَمَ لَهُمْ مَعَهُمْ - قَالَ - فَكَانَ نَاسٌ مِنَ النَّاسِ يَقُولُونَ لَنَا - يَعْنِي لأَهْلِ السَّفِينَةِ - نَحْنُ سَبَقْنَاكُمْ بِالْهِجْرَةِ . قَالَ فَدَخَلَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ - وَهِيَ مِمَّنْ قَدِمَ مَعَنَا - عَلَى حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم زَائِرَةً وَقَدْ كَانَتْ هَاجَرَتْ إِلَى النَّجَاشِيِّ فِيمَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِ فَدَخَلَ عُمَرُ عَلَى حَفْصَةَ وَأَسْمَاءُ عِنْدَهَا فَقَالَ عُمَرُ حِينَ رَأَى أَسْمَاءَ مَنْ هَذِهِ قَالَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ . قَالَ عُمَرُ الْحَبَشِيَّةُ هَذِهِ الْبَحْرِيَّةُ هَذِهِ فَقَالَتْ أَسْمَاءُ نَعَمْ . فَقَالَ عُمَرُ سَبَقْنَاكُمْ بِالْهِجْرَةِ فَنَحْنُ أَحَقُّ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْكُمْ . فَغَضِبَتْ وَقَالَتْ كَلِمَةً كَذَبْتَ يَا عُمَرُ كَلاَّ وَاللَّهِ كُنْتُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُطْعِمُ جَائِعَكُمْ وَيَعِظُ جَاهِلَكُمْ وَكُنَّا فِي دَارِ أَوْ فِي أَرْضِ الْبُعَدَاءِ الْبُغَضَاءِ فِي الْحَبَشَةِ وَذَلِكَ فِي اللَّهِ وَفِي رَسُولِهِ وَايْمُ اللَّهِ لاَ أَطْعَمُ طَعَامًا وَلاَ أَشْرَبُ شَرَابًا حَتَّى أَذْكُرَ مَا قُلْتَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ كُنَّا نُؤْذَى وَنُخَافُ وَسَأَذْكُرُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَسْأَلُهُ وَوَاللَّهِ لاَ أَكْذِبُ وَلاَ أَزِيغُ وَلاَ أَزِيدُ عَلَى ذَلِكَ . قَالَ فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّ عُمَرَ قَالَ كَذَا وَكَذَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَيْسَ بِأَحَقَّ بِي مِنْكُمْ وَلَهُ وَلأَصْحَابِهِ هِجْرَةٌ وَاحِدَةٌ وَلَكُمْ أَنْتُمْ أَهْلَ السَّفِينَةِ هِجْرَتَانِ " . قَالَتْ فَلَقَدْ رَأَيْتُ أَبَا مُوسَى وَأَصْحَابَ السَّفِينَةِ يَأْتُونِي أَرْسَالاً يَسْأَلُونِي عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ مَا مِنَ الدُّنْيَا شَىْءٌ هُمْ بِهِ أَفْرَحُ وَلاَ أَعْظَمُ فِي أَنْفُسِهِمْ مِمَّا قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَ أَبُو بُرْدَةَ فَقَالَتْ أَسْمَاءُ فَلَقَدْ رَأَيْتُ أَبَا مُوسَى وَإِنَّهُ لَيَسْتَعِيدُ هَذَا الْحَدِيثَ مِنِّي .
#6411
Abu Musa reported:We were in Yemen when we heard of the migration of Allah's Messenger (ﷺ). We also set out as immigrants to him. And I was accompanied by two brothers of mine, I being the youngest of them; one of them was Abu Burda and the other one was Abu Ruhm, and there were some other persons with them. Some say they were fifty-three or fifty-two persons of my tribe. We embarked upon a boat, and the boat sailed away to the Negus of Abyssinia. There we met Ja'far b. Abu Talib and his companions. Ja'far said: Allall's Messenger (ﷺ) has sent us here and has commanded us to stay here and you should also stay with us. So we stayed with him and we came back (to Medina) and met Allah's Messenger (ﷺ) when Khaibar had been conquered. He (the Holy Prophet) allocated a share to us and in the ordinary course he did not allocate the share to one who had been absent on the occasion of the conquest of Khaibar but conferred (a share) upon him only who had been present there with him. He, however, made an exception for the people of the boat, viz. for Ja'far and his companions. He allocated a share to them, and some persons from amongst the people said to us, viz. the people of the boat: We have preceded you in migration. Asma' bint 'Umais who had migrated to Abyssinia and had come back along with them (along with immigrants) visited Hafsa, the wife of Allah's Apostle (ﷺ). (Accordingly), Umar had been sitting with her (Hafsa). As 'Umar saw Asma, he said: Who is she? She (Hafsa) said: She is Asma, daughter of 'Umais. He said: She is an Abyssinian and a sea-woman. Asma said: Yes, it is so. Thereupon 'Umar said: We preceded you in migration and so we have more right to Allah's Messenger (ﷺ) as compared with you. At this she felt annoyed and said: 'Umar, you are not stating the fact; by Allah, you had the privilege of being in the company of the Messenger (ﷺ) who fed the hungry among you and instructed the ignorant amongst you, whereas we had been far (from here) in the land of Abyssinia amongst the enemies and that was all for Allah and Allah's Messenger (ﷺ) and, by Allah, I would never take food nor take water unless I make a mention to Allah's Messenger (ﷺ) of what you have said. We remained in that country in constant trouble and dread and I shall talk about it to Allah's Messenger (way peace be upon him) and ask him (about it). By Allah, I shall not tell a lie and deviate (from the truth) and add anything to that. So, when Allah's Apostle (ﷺ) came, she said: Allah's Apostle, 'Umar says so and so. Upon this Allah's Messenger (ﷺ) said: His right is not more than yours, for him and his companions there is one migration, but for you, i. e. for the people of the boat, there are two migrations. She said: I saw Abu Musa and the people of the boat coming to me in groups and asking me about this hadith, because there was nothing more pleasing and more significant for them than this. Abu Burda reported that Asma said: I saw Abu Musa, asking me to repeat this hadith to him again and again
بُرَید نے ابو بُردہ سے انھوں نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ( مکہ سے ) نکلنے کی خبر ملی تو ہم یمن میں تھے ۔ ہم ( بھی ) آپ کی طرف ہجرت کرتے ہو ئے نکل پڑے ۔ میں میرے دو بھا ئی جن سے میں چھوٹا تھا ۔ ایک ابو بردہ اور دوسرا ابو رہم ۔ ۔ ۔ اور میری قوم میں سے پچاس سے کچھ اوپریا کہا : تریپن یا باون لوگ ( نکلے ) ۔ ۔ کہا : ہم کشتی میں سوار ہو ئے تو ہماری کشتی نے ہمیں حبشہ میں نجا شی کے ہاں جا پھینکا ۔ اس کے ہاں ہم حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ اکٹھے ہو گئے ۔ جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہاں بھیجا ہے اور ہمیں یہاں ٹھہرنے کا حکم دیا ہے تم لو گ بھی ہمارے ساتھ یہیں ٹھہرو ۔ کہا : ہم ان کے ساتھ ٹھہرگئے ۔ حتی کہ ہم سب اکٹھے ( واپس ) آئے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( عین ) اس وقت آکر ملے جب آپ نے خیبر فتح کیا تو آپ نے ہمارا بھی حصہ نکا لا یا کہا : ہمیں بھی اس مال میں سے عطا فر ما یا : آپ نے کسی شخص کو بھی جو فتح خیبر میں مو جود نہیں تھا کو ئی حصہ نہیں دیا تھا ، سوائے ان لوگوں کے جو آپ کے ساتھ ( فتح میں ) شریک تھے مگر حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے ہمراہ ہماری کشتی والوں کو دیا ، ان کے لیے ان ( فتح میں شریک ہو نے والوں ) کے ساتھ ہی حصہ نکا لا ۔ کہا : تو ان میں سے کچھ لوگ ہمیں ۔ ۔ ۔ یعنی کشتی والوں کو ۔ ۔ ۔ کہتے تھے ، ہم نے ہجرت میں تم سے سبقت حاصل کی ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الأَشْعَرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ الْهَمْدَانِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنِي بُرَيْدٌ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ بَلَغَنَا مَخْرَجُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ بِالْيَمَنِ فَخَرَجْنَا مُهَاجِرِينَ إِلَيْهِ أَنَا وَأَخَوَانِ لِي أَنَا أَصْغَرُهُمَا أَحَدُهُمَا أَبُو بُرْدَةَ وَالآخَرُ أَبُو رُهْمٍ - إِمَّا قَالَ بِضْعًا وَإِمَّا قَالَ ثَلاَثَةً وَخَمْسِينَ أَوِ اثْنَيْنِ وَخَمْسِينَ رَجُلاً مِنْ قَوْمِي - قَالَ فَرَكِبْنَا سَفِينَةً فَأَلْقَتْنَا سَفِينَتُنَا إِلَى النَّجَاشِيِّ بِالْحَبَشَةِ فَوَافَقْنَا جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَأَصْحَابَهُ عِنْدَهُ فَقَالَ جَعْفَرٌ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَنَا هَا هُنَا وَأَمَرَنَا بِالإِقَامَةِ فَأَقِيمُوا مَعَنَا . فَأَقَمْنَا مَعَهُ حَتَّى قَدِمْنَا جَمِيعًا - قَالَ - فَوَافَقْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ فَأَسْهَمَ لَنَا - أَوْ قَالَ أَعْطَانَا مِنْهَا - وَمَا قَسَمَ لأَحَدٍ غَابَ عَنْ فَتْحِ خَيْبَرَ مِنْهَا شَيْئًا إِلاَّ لِمَنْ شَهِدَ مَعَهُ إِلاَّ لأَصْحَابِ سَفِينَتِنَا مَعَ جَعْفَرٍ وَأَصْحَابِهِ قَسَمَ لَهُمْ مَعَهُمْ - قَالَ - فَكَانَ نَاسٌ مِنَ النَّاسِ يَقُولُونَ لَنَا - يَعْنِي لأَهْلِ السَّفِينَةِ - نَحْنُ سَبَقْنَاكُمْ بِالْهِجْرَةِ . قَالَ فَدَخَلَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ - وَهِيَ مِمَّنْ قَدِمَ مَعَنَا - عَلَى حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم زَائِرَةً وَقَدْ كَانَتْ هَاجَرَتْ إِلَى النَّجَاشِيِّ فِيمَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِ فَدَخَلَ عُمَرُ عَلَى حَفْصَةَ وَأَسْمَاءُ عِنْدَهَا فَقَالَ عُمَرُ حِينَ رَأَى أَسْمَاءَ مَنْ هَذِهِ قَالَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ . قَالَ عُمَرُ الْحَبَشِيَّةُ هَذِهِ الْبَحْرِيَّةُ هَذِهِ فَقَالَتْ أَسْمَاءُ نَعَمْ . فَقَالَ عُمَرُ سَبَقْنَاكُمْ بِالْهِجْرَةِ فَنَحْنُ أَحَقُّ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْكُمْ . فَغَضِبَتْ وَقَالَتْ كَلِمَةً كَذَبْتَ يَا عُمَرُ كَلاَّ وَاللَّهِ كُنْتُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُطْعِمُ جَائِعَكُمْ وَيَعِظُ جَاهِلَكُمْ وَكُنَّا فِي دَارِ أَوْ فِي أَرْضِ الْبُعَدَاءِ الْبُغَضَاءِ فِي الْحَبَشَةِ وَذَلِكَ فِي اللَّهِ وَفِي رَسُولِهِ وَايْمُ اللَّهِ لاَ أَطْعَمُ طَعَامًا وَلاَ أَشْرَبُ شَرَابًا حَتَّى أَذْكُرَ مَا قُلْتَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ كُنَّا نُؤْذَى وَنُخَافُ وَسَأَذْكُرُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَسْأَلُهُ وَوَاللَّهِ لاَ أَكْذِبُ وَلاَ أَزِيغُ وَلاَ أَزِيدُ عَلَى ذَلِكَ . قَالَ فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّ عُمَرَ قَالَ كَذَا وَكَذَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَيْسَ بِأَحَقَّ بِي مِنْكُمْ وَلَهُ وَلأَصْحَابِهِ هِجْرَةٌ وَاحِدَةٌ وَلَكُمْ أَنْتُمْ أَهْلَ السَّفِينَةِ هِجْرَتَانِ " . قَالَتْ فَلَقَدْ رَأَيْتُ أَبَا مُوسَى وَأَصْحَابَ السَّفِينَةِ يَأْتُونِي أَرْسَالاً يَسْأَلُونِي عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ مَا مِنَ الدُّنْيَا شَىْءٌ هُمْ بِهِ أَفْرَحُ وَلاَ أَعْظَمُ فِي أَنْفُسِهِمْ مِمَّا قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَ أَبُو بُرْدَةَ فَقَالَتْ أَسْمَاءُ فَلَقَدْ رَأَيْتُ أَبَا مُوسَى وَإِنَّهُ لَيَسْتَعِيدُ هَذَا الْحَدِيثَ مِنِّي .
#6412
A'idh b. Amr reported that Abu Sufyan came to Salman, Suhaib and Bilal in the presence of a group of persons. They said:By Allah, the sword of Allah did not reach the neck of the enemy of Allah as it was required to reach. Thereupon Abu Bakr said: Do you say this to the old man of the Quraish and their chief? Then he came to Allah's Apostle (may peace be upon'him) and informed him of this. Thereupon he (the Holy Prophet) said: Abu Bakr, you have perhaps annoyed them and if you annoyed them you have in fact annoyed your Lord. So Abu Bakr came to them and said: O my brothers, I have annoyed you. They said: No, our brother, may Allah forgive you
معاویہ بن قرہ نے عائذ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ابوسفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ چند اور لوگوں کی موجودگی میں حضرت سلیمان ، حضرت صہیب اور حضرت بلال رضوان اللہ عنھم اجمعین کے پاس سے گزرے تو انھوں نے کہا : اللہ کی قسم! اللہ کی تلواریں اللہ کے دشمن کی گردن میں اپنی جگہ تک نہیں پہنچیں ۔ کہا : اس پر ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فر ما یا : تم لوگ قریش کے شیخ اور سردار کے متعلق یہ کہتے ہو ۔ پھر حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو یہ بات بتا ئی تو آپ نے فر ما یا : " ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! شاید تم نے ان کو ناراض کر دیا ہے ۔ اگر تم نے ان کو ناراض کر دیا ہے تو اپنے رب کو ناراض کر دیا ہے ۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے پاس آئے اور کہا : میرے بھائیو! کیا میں نے تم کو ناراض کردیا؟ انھوں نے کہا : نہیں بھا ئی ! اللہ آپ کی مغفرت فر ما ئے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، بْنِ قُرَّةَ عَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ، أَتَى عَلَى سَلْمَانَ وَصُهَيْبٍ وَبِلاَلٍ فِي نَفَرٍ فَقَالُوا وَاللَّهِ مَا أَخَذَتْ سُيُوفُ اللَّهِ مِنْ عُنُقِ عَدُوِّ اللَّهِ مَأْخَذَهَا . قَالَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ أَتَقُولُونَ هَذَا لِشَيْخِ قُرَيْشٍ وَسَيِّدِهِمْ فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ " يَا أَبَا بَكْرٍ لَعَلَّكَ أَغْضَبْتَهُمْ لَئِنْ كُنْتَ أَغْضَبْتَهُمْ لَقَدْ أَغْضَبْتَ رَبَّكَ " . فَأَتَاهُمْ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ يَا إِخْوَتَاهْ أَغْضَبْتُكُمْ قَالُوا لاَ يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ يَا أُخَىَّ .
#6413
Jabir b. Abdullah reported that it was concerning them (the Ansar) that this verse was revealed, that when the two groups amongst you were about to lose heart and Allah was the Guardian of them both. This concerned Banu Salama and Banu Haritha and we did not like that Allah, the Exalted and Glorious, should not have revealed this verse for the fact that Allah (gave an assurance) of being the Guardian of both
عمرو ( بن دینار ) نے حضرت جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : یہ آیت ہمارے بارے میں نازل ہو ئی " جب تم میں سے دوجماعتوں نے پیچھے ہٹنے کا ارادہ کیا اور اللہ ان دونوں کا مدد گا ر تھا " یہ آیت بنوسلمہ اور بنو حارثہ کے متعلق نازل ہو ئی ( اس کے اندر ) اللہ کے اس فر ما ن : " اللہ ان دونوں ( جماعتوں ) کا مددگار تھا " کی بنا پر ہمیں یہ بات پسند نہیں کہ یہ آیت نال نہ ہو ئی ہوتی ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، - وَاللَّفْظُ لإِسْحَاقَ - قَالاَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ فِينَا نَزَلَتْ { إِذْ هَمَّتْ طَائِفَتَانِ مِنْكُمْ أَنْ تَفْشَلاَ وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا} بَنُو سَلِمَةَ وَبَنُو حَارِثَةَ وَمَا نُحِبُّ أَنَّهَا لَمْ تَنْزِلْ لِقَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ { وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا} .
#6414
Zaid b. Arqam reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:O Allah,, grant forgiveness to the Ansar, the offspring of the Ansar and the offspring of the offspring of the Ansar. This hadith has been narrated on the authority of Shulba with the same chain of transmitters
محمد بن جعفر اور عبد الرحمٰن بن مہدی نے کہا : ہمیں شعبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے نضر بن انس سے انھوں نے حضرت زید بن راقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( حنین کی غنیمتیں تقسیم کرنے کے بعد انصار کو خطبہ دیتے ہو ئے ) فر ما یا : " اے اللہ !انصار کی مغفرت فر ما ، انصار کے بیٹوں کی مغفرت فرما ، انصار بیٹوں کے بیٹوں کی مغفرت فر ما
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلأَنْصَارِ وَلأَبْنَاءِ الأَنْصَارِ وَأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الأَنْصَارِ " . وَحَدَّثَنِيهِ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ .
#6415
Zaid b. Arqam reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:O Allah,, grant forgiveness to the Ansar, the offspring of the Ansar and the offspring of the offspring of the Ansar. This hadith has been narrated on the authority of Shulba with the same chain of transmitters
محمد بن جعفر اور عبد الرحمٰن بن مہدی نے کہا : ہمیں شعبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے نضر بن انس سے انھوں نے حضرت زید بن راقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( حنین کی غنیمتیں تقسیم کرنے کے بعد انصار کو خطبہ دیتے ہو ئے ) فر ما یا : " اے اللہ !انصار کی مغفرت فر ما ، انصار کے بیٹوں کی مغفرت فرما ، انصار بیٹوں کے بیٹوں کی مغفرت فر ما
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلأَنْصَارِ وَلأَبْنَاءِ الأَنْصَارِ وَأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الأَنْصَارِ " . وَحَدَّثَنِيهِ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ .
#6416
Anas reported that Allah's Messenger (ﷺ) sought forgiveness for the Ansar and he said:I think (he also sought forgiveness) for the children of the Ansar and the slaves and the freed men of the Ansar. I have no doubt about it
عکرمہ بن عمار نے کہا : ہمیں اسحٰق بن عبد اللہ بن ابی طلحہ نے حدیث بیان کی ، کہا : حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے حدیث بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے لیے مغفرت کی دعاکی ۔ ( اسحاق نے ) کہا : میرا خیال ہے کہ انھوں ( انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : " اور انصارکی اولاد دوں اور انصارکے ساتھ نسبت رکھنے والوںکی بھی ( مغفرت فرما ۔ ) " مجھے اس کے بارےمیں کو ئی شک نہیں ۔
حَدَّثَنِي أَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، - وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، - وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ - أَنَّ أَنَسًا، حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اسْتَغْفَرَ لِلأَنْصَارِ - قَالَ - وَأَحْسِبُهُ قَالَ " وَلِذَرَارِيِّ الأَنْصَارِ وَلِمَوَالِي الأَنْصَارِ " . لاَ أَشُكُّ فِيهِ .
#6417
Anas reported that Allah's Messenger (ﷺ) saw children and women of the Ansar coming back from a wedding feast. Allah's Apostle (ﷺ) stood up motionless (as a mark of respect) and said:O Allah, (bear witness) (and addressing the Ansar), said: You are dearest to me amongst people, (and said: O Allah (bear witness) (and addressing the Ansar), said: You are dearest to me amongst people. And he meant Ansar
عبد العزیز بن صہیب نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ( انصارکے ) کچھ بچوں اور عورتوں کو شادی سے آتے ہو ئے دیکھا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے کھڑے ہو گئے ۔ اور فرما یا : " میرا اللہ! ( گواہ ہے ) تم ان لوگوں میں سے ہو جو مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں ۔ میرا اللہ ! ( گواہ ہے ) تم ان لوگوں میں سے ہوجو مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں ۔ " آپ کی مراد انصار سے تھی ۔
حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، - وَهُوَ ابْنُ صُهَيْبٍ - عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَأَى صِبْيَانًا وَنِسَاءً مُقْبِلِينَ مِنْ عُرْسٍ فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُمْثِلاً فَقَالَ " اللَّهُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَىَّ اللَّهُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَىَّ " . يَعْنِي الأَنْصَارَ .
#6418
Anas b. Malik reported that a woman from the Ansar came to Allah's Messenger (ﷺ) and Allah's Messenger (ﷺ) stood aside with her and said:By Him in Whose Hand is my life, you are dearest to me amongst the people. He repeated it thrice
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے ہشام بن زید سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہو ئے سنا : انصار میں سے ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علیحدگی میں اس کی بات سنی اور تین بار فر ما یا : " اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میرے جان ہے! تم لو گ سب سے زیادہ پیارےہو ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ جَمِيعًا عَنْ غُنْدَرٍ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ جَاءَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - قَالَ - فَخَلاَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّكُمْ لأَحَبُّ النَّاسِ إِلَىَّ " . ثَلاَثَ مَرَّاتٍ .
#6419
This hadith has been reported on the authority of Shu'ba with the same chain of transmitters
خالد بن حارث اور ابن ادریس نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ،
حَدَّثَنِيهِ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، كِلاَهُمَا عَنْ شُعْبَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ .
#6420
Anas b. Malik reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The Ansar are my family and my trusted friends. and the people would increase in number whereas they (the Ansar) would become less and less, so appreciate the deeds of those from amongst them who do good and overlook their failings
ہمیں شعبہ نے حدیث سنائی ، کہا : میں نے قتادہ سے سنا ، وہ حجرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " انصار میرا پوٹا ہیں ( جہاں پرندوں کی غذا محفوظ رہتی ہے ) اور میرا قیمتی چیزیں رکھنے کا صندوق ( اثاثہ ) ہیں ۔ لو گ پڑھتے جا ئیں گے اور یہ کم ہو تے جائیں گے ۔ ان میں سے جواچھا کام کرے اسے قبول کرو اور جو غلط کرے اس سے در گزر کرو ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ الأَنْصَارَ كَرِشِي وَعَيْبَتِي وَإِنَّ النَّاسَ سَيَكْثُرُونَ وَيَقِلُّونَ فَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَاعْفُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ " .
#6421
Abu Usaid reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The worthiest clans of the Ansar are Banu Najjar, thereafter Banu al-Ashhal; thereafter Banu Harith b. Banu Khazraj; thereafter Banu Sa'idah and there is goodness in all clans of the Ansar. Sa'd said: I see that he (the Holy Prophet) has placed others above us. It was said to (him): He has placed you above many others
محمد بن جعفر نے کہا : شعبہ نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے قتادہ سے سنا ، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے ۔ انھوں نے حضرت ابو اُسید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : : " " انصار کے گھرانوں میں سے بہترین بنو نجا ر ہیں پھر بنو عبدالاشہل ہیں ، پھر بنو حارث بن خزرج ہیں پھر بنوساعدہ ہیں اور انصار کے تمام گھرانوں میں خیرہے ۔ " حضرت سعد ( بن عبادہ ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میرا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اور لوگوں کو ) ہم پر فضیلت دی ہے تو ان سے کہاگیا ۔ آپ کو بھی بہت لو گوں پر فضیلت دی ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " خَيْرُ دُورِ الأَنْصَارِ بَنُو النَّجَّارِ ثُمَّ بَنُو عَبْدِ الأَشْهَلِ ثُمَّ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ ثُمَّ بَنُو سَاعِدَةَ وَفِي كُلِّ دُورِ الأَنْصَارِ خَيْرٌ " . فَقَالَ سَعْدٌ مَا أُرَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ قَدْ فَضَّلَ عَلَيْنَا . فَقِيلَ قَدْ فَضَّلَكُمْ عَلَى كَثِيرٍ .
#6422
Abu Usaid Ansari has reported this hadith through another chain of transmitters. When the Prophet (ﷺ) was marching towards Badr in order
ابو داؤد نے کہا : ہمیں شعبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ حضرت ابو اسید انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث روایت کر رہے تھے ، اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ، اسی ( گزشتہ ) روایت کے مانند ۔
حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، سَمِعْتُ أَنَسًا، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ .
#6423
Anas reported a hadith like this from Allah's Apostle (ﷺ) but he has made no mention in the hadith of the words of Sa'd
یحییٰ بن سعید نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اسی کے مانند روایت کی مگر انھوں نے حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بات بیان نہیں کی ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَابْنُ، رُمْحٍ عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، كُلُّهُمْ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ لاَ يَذْكُرُ فِي الْحَدِيثِ قَوْلَ سَعْدٍ .
#6424
Ibrahim b. Muhammad b. Talha reported:I heard Abu Sa'ld delivering an address in the presence of Abu 'Utba that the Messenger of Allah (ﷺ) said: The worthiest settlements of the Ansar are those of Banu Najjar, then of Banu 'Abu al-Ashhal and then of Banu Harith and then of Banu Khazraj and then of the clan of Banu Sa'idah, and if I were to give preference to anyone besides them I would have given preference to my relatives
ابرا ہیم بن محمد بن طلحہ سے روایت ہے کہا : میں نے حضرت ابواُسید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ( ولید ) ابن عتبہ ( بن ابی سفیان ) کے ہاں خطبہ دیتے ہو ئے سنا ۔ انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " انصار کے گھرانوں میں سے بہترین گھرانہ بنو نجار کا گھرا نہ ہے اور بنوعبد الا شہل کا گھرا نہ ہے اور بنوحارث بن خزرج کا گھرا نہ ہے اوربنوساعدہ کا گھرا نہ ہے ۔ " اللہ کی قسم! اگرمیں ( ابو اسید ) ان میں سے کسی کو خود ترجیح دیتا تو اپنے خاندان ( بنوساعدہ ) کو ترجیح دیتا ۔ ( لیکن میں انے اسی ترتیب سے بیان کیا جس ترتیب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما یا تھا ۔)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ عَبَّادٍ - حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، - وَهُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيلَ - عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أُسَيْدٍ، خَطِيبًا عِنْدَ ابْنِ عُتْبَةَ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " خَيْرُ دُورِ الأَنْصَارِ دَارُ بَنِي النَّجَّارِ وَدَارُ بَنِي عَبْدِ الأَشْهَلِ وَدَارُ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ وَدَارُ بَنِي سَاعِدَةَ " . وَاللَّهِ لَوْ كُنْتُ مُؤْثِرًا بِهَا أَحَدًا لآثَرْتُ بِهَا عَشِيرَتِي .