#6225
Yazid b. Hayyan reported, I went along with Husain b. Sabra and 'Umar b. Muslim to Zaid b. Arqam and, as we sat by his side, Husain said to him:Zaid. you have been able to acquire a great virtue that you saw Allah's Messenger (ﷺ) listened to his talk, fought by his side in (different) battles, offered prayer behind me. Zaid, you have in fact earned a great virtue. Zaid, narrate to us what you heard from Allah's Messenger (ﷺ). He said: I have grown old and have almost spent my age and I have forgotten some of the things which I remembered in connection with Allah's Messenger (ﷺ), so accept whatever I narrate to you, and which I do not narrate do not compel me to do that. He then said: One day Allah's Messenger (ﷺ) stood up to deliver sermon at a watering place known as Khumm situated between Mecca and Medina. He praised Allah, extolled Him and delivered the sermon and. exhorted (us) and said: Now to our purpose. O people, I am a human being. I am about to receive a messenger (the angel of death) from my Lord and I, in response to Allah's call, (would bid good-bye to you), but I am leaving among you two weighty things: the one being the Book of Allah in which there is right guidance and light, so hold fast to the Book of Allah and adhere to it. He exhorted (us) (to hold fast) to the Book of Allah and then said: The second are the members of my household I remind you (of your duties) to the members of my family. He (Husain) said to Zaid: Who are the members of his household? Aren't his wives the members of his family? Thereupon he said: His wives are the members of his family (but here) the members of his family are those for whom acceptance of Zakat is forbidden. And he said: Who are they? Thereupon he said: 'Ali and the offspring of 'Ali, 'Aqil and the offspring of 'Aqil and the offspring of Ja'far and the offspring of 'Abbas. Husain said: These are those for whom the acceptance of Zakat is forbidden. Zaid said: Yes
زہیر بن حرب اور شجاع بن مخلد نے اسماعیل بن ابراہیم ( ابن علیہ ) سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے ابوحیان نے حدیث بیان کی ، کہا : یزید بن حیان نے مجھ سے بیان کیا کہ میں ، حصین بن سبرہ اور عمر بن مسلم ( تینوں ) حضرت زید بن ارقم کے پاس گئے ۔ جب ہم ان کے قریب بیٹھ گئے تو حصین نے ان سے کہا : زید!آ پ کو خیر کثیرحاصل ہوئی ، آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ، ان کی بات سنی ، ان کے ساتھ مل کر جہاد کیا اور ان کی اقتداء میں نمازیں پڑھیں ۔ زید!آپ کوخیر کثیرحاصل ہوئی ۔ زید!ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ( کوئی ) حدیث سنایئے ۔ ( حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : بھتیجے!میری عمر زیادہ ہوگی ، زمانہ بیت گیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو احادیث یاد تھیں ان میں سے کچھ بھول چکا ہوں ، اب جو میں بیان کروں اسے قبول کرو ۔ اور جو ( بیان ) نہ کرسکوں تو اس کا مجھےمکلف نہ ٹھہراؤ ۔ پھر کہا : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع مقام ”خم“کے پانی کے مقام پر خطبہ سنانے کو کھڑے ہوئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد کی اور اس کی تعریف کو بیان کیا اور وعظ و نصیحت کی ۔ پھر فرمایا کہ اس کے بعد اے لوگو! میں آدمی ہوں ، قریب ہے کہ میرے رب کا بھیجا ہوا ( موت کا فرشتہ ) پیغام اجل لائے اور میں قبول کر لوں ۔ میں تم میں دو بڑی چیزیں چھوڑے جاتا ہوں ۔ پہلے تو اللہ کی کتاب ہے اور اس میں ہدایت ہے اور نور ہے ۔ تو اللہ کی کتاب کو تھامے رہو اور اس کو مضبوط پکڑے رہو ۔ غرض کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی کتاب کی طرف رغبت دلائی ۔ پھر فرمایا کہ دوسری چیز میرے اہل بیت ہیں ۔ میں تمہیں اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ تعالیٰ یاد دلاتا ہوں ، تین بار فرمایا ۔ اور حصین نے کہا کہ اے زید! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کون سے ہیں ، کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات اہل بیت نہیں ہیں؟ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ازواج مطہرات بھی اہل بیت میں داخل ہیں لیکن اہل بیت وہ ہیں جن پر زکوٰۃ حرام ہے ۔ حصین نے کہا کہ وہ کون لوگ ہیں؟ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ علی ، عقیل ، جعفر اور عباس کی اولاد ہیں ۔ حصین نے کہا کہ ان سب پر صدقہ حرام ہے؟ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہاں ۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَشُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنِي أَبُو حَيَّانَ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ حَيَّانَ، قَالَ انْطَلَقْتُ أَنَا وَحُصَيْنُ، بْنُ سَبْرَةَ وَعُمَرُ بْنُ مُسْلِمٍ إِلَى زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ فَلَمَّا جَلَسْنَا إِلَيْهِ قَالَ لَهُ حُصَيْنٌ لَقَدْ لَقِيتَ يَا زَيْدُ خَيْرًا كَثِيرًا رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَسَمِعْتَ حَدِيثَهُ وَغَزَوْتَ مَعَهُ وَصَلَّيْتَ خَلْفَهُ لَقَدْ لَقِيتَ يَا زَيْدُ خَيْرًا كَثِيرًا حَدِّثْنَا يَا زَيْدُ مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - قَالَ - يَا ابْنَ أَخِي وَاللَّهِ لَقَدْ كَبِرَتْ سِنِّي وَقَدُمَ عَهْدِي وَنَسِيتُ بَعْضَ الَّذِي كُنْتُ أَعِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَمَا حَدَّثْتُكُمْ فَاقْبَلُوا وَمَا لاَ فَلاَ تُكَلِّفُونِيهِ . ثُمَّ قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا فِينَا خَطِيبًا بِمَاءٍ يُدْعَى خُمًّا بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَوَعَظَ وَذَكَّرَ ثُمَّ قَالَ " أَمَّا بَعْدُ أَلاَ أَيُّهَا النَّاسُ فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَ رَسُولُ رَبِّي فَأُجِيبَ وَأَنَا تَارِكٌ فِيكُمْ ثَقَلَيْنِ أَوَّلُهُمَا كِتَابُ اللَّهِ فِيهِ الْهُدَى وَالنُّورُ فَخُذُوا بِكِتَابِ اللَّهِ وَاسْتَمْسِكُوا بِهِ " . فَحَثَّ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ وَرَغَّبَ فِيهِ ثُمَّ قَالَ " وَأَهْلُ بَيْتِي أُذَكِّرُكُمُ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي أُذَكِّرُكُمُ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي أُذَكِّرُكُمُ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي " . فَقَالَ لَهُ حُصَيْنٌ وَمَنْ أَهْلُ بَيْتِهِ يَا زَيْدُ أَلَيْسَ نِسَاؤُهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ قَالَ نِسَاؤُهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ وَلَكِنْ أَهْلُ بَيْتِهِ مَنْ حُرِمَ الصَّدَقَةَ بَعْدَهُ . قَالَ وَمَنْ هُمْ قَالَ هُمْ آلُ عَلِيٍّ وَآلُ عَقِيلٍ وَآلُ جَعْفَرٍ وَآلُ عَبَّاسٍ . قَالَ كُلُّ هَؤُلاَءِ حُرِمَ الصَّدَقَةَ قَالَ نَعَمْ .
#6226
This hadith has been narrated on the authority of Zaid b. Arqam through another chain of transmitters
سعید بن مسروق نے یزید بن حیان سے ، انھوں نے زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، نیز ( سعید بن مسروق نے ) ان ( ابوحیان ) کی حدیث کے مانند زہیر کی حدیث کے ہم معنی روایت کی ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ، - يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ - عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ بِمَعْنَى حَدِيثِ زُهَيْرٍ .
#6227
This hadith has been transmitted on the authority of Abu Hayyan but with this addition:" The Book of Allah contains right guidance, the light, and whoever adheres to it and holds it fast, he is upon right guidance and whosoever deviates from it goes astray
ابو بکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں محمد بن فضیل نے حدیث بیان کی ، اسحاق بن ابراہیم نے کہا : ہمیں جریر نے خبر دی ، ان دونوں ( محمد بن فضیل اورجریر ) نے ابوحیان سے اسی سند کےساتھ اسماعیل کی حدیث کے مانند بیان کیا اور ( اسحاق بن ابراہیم نے ) جریر کی روایت میں مزید یہ بیان کیا : " اللہ کی کتاب جس میں ہدایت اورنور ہے ، جس نے اس کو مضبوطی سےتھام لیا اور اسے لےلیا وہ ہدایت پر ہوگا اور جو اس سے ہٹ گیا وہ گمراہ ہوجائے گا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، كِلاَهُمَا عَنْ أَبِي حَيَّانَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . نَحْوَ حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ وَزَادَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ " كِتَابُ اللَّهِ فِيهِ الْهُدَى وَالنُّورُ مَنِ اسْتَمْسَكَ بِهِ وَأَخَذَ بِهِ كَانَ عَلَى الْهُدَى وَمَنْ أَخْطَأَهُ ضَلَّ " .
#6228
Yazid b. Hayyan reported:We went to him (Zaid b. Arqam) and said to him. You have found goodness (for you had the honour) to live in the company of Allah's Messenger (ﷺ) and offered prayer behind him, and the rest of the hadith is the same but with this variation of wording that lie said: Behold, for I am leaving amongst you two weighty things, one of which is the Book of Allah, the Exalted and Glorious, and that is the rope of Allah. He who holds it fast would be on right guidance and he who abandons it would be in error, and in this (hadith) these words are also found: We said: Who are amongst the members of the household? Aren't the wives (of the Holy Prophet) included amongst the members of his house hold? Thereupon he said: No, by Allah, a woman lives with a man (as his wife) for a certain period; he then divorces her and she goes back to her parents and to her people; the members of his household include his ownself and his kith and kin (who are related to him by blood) and for him the acceptance of Zakat is prohibited
سعید بن مسروق نے یزید بن حیان سے ، انھوں نے زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم ان ( زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کے پاس آئے اور اُن سے عرض کی : آپ نے بہت خیر دیکھی ہے ۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نمازیں پڑھیں ہیں ، اور پھر ابو حیان کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی ، مگرانھوں نے ( اس طرح ) کہا : ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) " دیکھو ، میں تمھارے درمیان دو عظیم چیزیں چھوڑے جارہا ہوں ۔ ایک اللہ کی کتاب ہے وہ اللہ کی رسی ہے جس نے ( اسے تھام کر ) اس کا اتباع کیا وہ سیدھی راہ پر رہے گا اور جو اسے چھوڑ دے گا وہ گمراہی پر ہوگا ۔ " اور اس میں یہ بھی ہے کہ ہم نے ان سے پوچھا : آپ کے اہل بیت کون ہیں؟ ( صرف ) آپ کی ازواج؟انھوں نے کہا : نہیں ، اللہ کی قسم!عورت اپنے مرد کے ساتھ زمانے کا بڑا حصہ رہتی ہے ، پھر وہ اسے طلاق دے دیتا ہے تو وہ اپنے باپ اور اپنی قوم کی طرف واپس چلی جاتی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کے اہل بیت وہ ( بھی ) ہیں جو آپ کے خاندان سے ہیں ، آپ کے وہ ددھیال رشتہ دار جن پر صدقہ حرام ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ، - يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ - عَنْ سَعِيدٍ، - وَهُوَ ابْنُ مَسْرُوقٍ - عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ دَخَلْنَا عَلَيْهِ فَقُلْنَا لَهُ لَقَدْ رَأَيْتَ خَيْرًا . لَقَدْ صَاحَبْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَصَلَّيْتَ خَلْفَهُ . وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ أَبِي حَيَّانَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ " أَلاَ وَإِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ ثَقَلَيْنِ أَحَدُهُمَا كِتَابُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ هُوَ حَبْلُ اللَّهِ مَنِ اتَّبَعَهُ كَانَ عَلَى الْهُدَى وَمَنْ تَرَكَهُ كَانَ عَلَى ضَلاَلَةٍ " . وَفِيهِ فَقُلْنَا مَنْ أَهْلُ بَيْتِهِ نِسَاؤُهُ قَالَ لاَ وَايْمُ اللَّهِ إِنَّ الْمَرْأَةَ تَكُونُ مَعَ الرَّجُلِ الْعَصْرَ مِنَ الدَّهْرِ ثُمَّ يُطَلِّقُهَا فَتَرْجِعُ إِلَى أَبِيهَا وَقَوْمِهَا أَهْلُ بَيْتِهِ أَصْلُهُ وَعَصَبَتُهُ الَّذِينَ حُرِمُوا الصَّدَقَةَ بَعْدَهُ .
#6229
Sahl b. Sa`d reported that a person from the offspring of Marwan was appointed as the governor of Medina. He called Sahl b. Sa`d and ordered him to abuse `Ali. Sahl refused to do that. He (the governor) said to him:If you do not agree to it (at least) say: May Allah curse Abu Turab. Sahl said: There was no name dearer to `Ali than Abu Turab (for it was given to him by the Prophet himself) and he felt delighted when he was called by this name. He (the governor) said to him: Narrate to us the story of his being named as Abu Turab. He said: Allah's Messenger (ﷺ) came to the house of Fatima and he did not find `Ali in the house; whereupon he said: Where is your uncle's son? She said: (There cropped up something) between me and him which had annoyed him with me. He went out and did not rest here. Allah's Messenger (ﷺ) asked a person to find out where he was. He came and said: Allah's Messenger, he is sleeping in the mosque. Allah's Messenger (ﷺ) came to him and found him lying in the mosque and saw that his mantle had slipped from his back and his back was covered with dust and Allah's Messenger (ﷺ) began to wipe it away from him (from the body of Hadrat `Ali) saying: Get up, covered with dust (Abu Turab); get up, covered with dust
ابو حازم نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ مدینہ میں مروان کی اولاد میں سے ایک شخص حاکم ہوا تو اس نے سیدنا سہل رضی اللہ عنہ کو بلایا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو گالی دینے کا حکم دیا ۔ سیدنا سہل رضی اللہ عنہ نے انکار کیا تو وہ شخص بولا کہ اگر تو گالی دینے سے انکار کرتا ہے تو کہہ کہ ابوتراب پر اللہ کی لعنت ہو ۔ سیدنا سہل رضی اللہ عنہ نے کہا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ابوتراب سے زیادہ کوئی نام پسند نہ تھا اور وہ اس نام کے ساتھ پکارنے والے شخص سے خوش ہوتے تھے ۔ وہ شخص بولا کہ اس کا قصہ بیان کرو کہ ان کا نام ابوتراب کیوں ہوا؟ سیدنا سہل رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ فاطمۃالزہراء رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لائے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو گھر میں نہ پایا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تیرے چچا کا بیٹا کہاں ہے؟ وہ بولیں کہ مجھ میں اور ان میں کچھ باتیں ہوئیں اور وہ غصہ ہو کر چلے گئے اور یہاں نہیں سوئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا کہ دیکھو وہ کہاں ہیں؟ وہ آیا اور بولا کہ یا رسول اللہ! علی مسجد میں سو رہے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لے گئے ، وہ لیٹے ہوئے تھے اور چادر ان کے پہلو سے الگ ہو گئی تھی اور ( ان کے بدن سے ) مٹی لگ گئی تھی ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مٹی پونچھنا شروع کی اور فرمانے لگے کہ اے ابوتراب! اٹھ ۔ اے ابوتراب! اٹھ ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَازِمٍ - عَنْ أَبِي، حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ اسْتُعْمِلَ عَلَى الْمَدِينَةِ رَجُلٌ مِنْ آلِ مَرْوَانَ - قَالَ - فَدَعَا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ فَأَمَرَهُ أَنْ يَشْتِمَ عَلِيًّا - قَالَ - فَأَبَى سَهْلٌ فَقَالَ لَهُ أَمَّا إِذْ أَبَيْتَ فَقُلْ لَعَنَ اللَّهُ أَبَا التُّرَابِ . فَقَالَ سَهْلٌ مَا كَانَ لِعَلِيٍّ اسْمٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَبِي التُّرَابِ وَإِنْ كَانَ لَيَفْرَحُ إِذَا دُعِيَ بِهَا . فَقَالَ لَهُ أَخْبِرْنَا عَنْ قِصَّتِهِ لِمَ سُمِّيَ أَبَا تُرَابٍ قَالَ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْتَ فَاطِمَةَ فَلَمْ يَجِدْ عَلِيًّا فِي الْبَيْتِ فَقَالَ " أَيْنَ ابْنُ عَمِّكِ " . فَقَالَتْ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ شَىْءٌ فَغَاضَبَنِي فَخَرَجَ فَلَمْ يَقِلْ عِنْدِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لإِنْسَانٍ " انْظُرْ أَيْنَ هُوَ " . فَجَاءَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هُوَ فِي الْمَسْجِدِ رَاقِدٌ . فَجَاءَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ مُضْطَجِعٌ قَدْ سَقَطَ رِدَاؤُهُ عَنْ شِقِّهِ فَأَصَابَهُ تُرَابٌ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَمْسَحُهُ عَنْهُ وَيَقُولُ " قُمْ أَبَا التُّرَابِ قُمْ أَبَا التُّرَابِ " .
#6230
A'isha reported that Allah's Messenger (may peace he upon him) lay on bed during one night and said:Were there a pious person from amongst my companions who should keep a watch for me during the nightt? She said: We heard the noise of arms, whereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: Who is it? And Sa'd b. Abi Waqqas said: Allah's MesseDger. I have come to serve as your sentinel. 'A'isha said: Allah' s Messenger (ﷺ) slept (such a sound sleep) that I heard the noise of his snoring
سلیمان بن بلال نے یحییٰ بن سعید سے ، انھوں نے عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو نہ سکے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" کاش! میرے ساتھیوں میں سے کوئی صالح شخص آج پہرہ دے ۔ "" حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : اچانک ہم نے ہتھیاروں کی آوازسنی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" یہ کون ہے؟حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ کا پہرہ دینے کے لئے آیا ہوں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے حتیٰ کہ میں نے آپ کے خراٹوں کی آواز سنی ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ أَرِقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقَالَ لَيْتَ رَجُلاً صَالِحًا مِنْ أَصْحَابِي يَحْرُسُنِي اللَّيْلَةَ . قَالَتْ وَسَمِعْنَا صَوْتَ السِّلاَحِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ هَذَا " . قَالَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ جِئْتُ أَحْرُسُكَ . قَالَتْ عَائِشَةُ فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى سَمِعْتُ غَطِيطَهُ .
#6231
A'isha reported that Allah's Messenger (may peace he upon him) laid down on bed during one night on his arrival at Medina and said:Were there a pious person from amongst my Companions who should keep a watch for me durin. the night? She (A'isha) reported: We were in this state that we heard the clanging noise of arms. lie (the Holy Prophet) said: Who is it? He said: This is Sa'd b. Abi Waqqas. Allah's Messenger (ﷺ) said to him: What brings you here? Thereupon he said: I harboured fear (lest any harm should come to) Allah's Messenger (ﷺ), so I came to serve as your sentinel. Allah's Messenger (ﷺ) invoked blessings upon him. He then slept. This hadith has been transmitted on the authority of Ibn Rumh with a slight variation of wording
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے لیث سے حدیث بیان کی ، انھوں نے یحییٰ بن سعید سے ، انھوں نے عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا : کہ ایک رات مدینہ کے راستے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ کھل گئی اور نیند اچاٹ ہو گئی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کاش میرے اصحاب میں سے کوئی نیک بخت رات بھر میری حفاظت کرے ۔ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اتنے میں ہمیں ہتھیاروں کی آواز معلوم ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کون ہے؟ آواز آئی کہ یا رسول اللہ! سعد بن ابی وقاص ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم کیوں آئے؟ وہ بولے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنے نفس میں ڈر ہوا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کرنے کو آیا ہوں ۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے دعا کی اور پھر سو رہے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ سَهِرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَقْدَمَهُ الْمَدِينَةَ لَيْلَةً فَقَالَ " لَيْتَ رَجُلاً صَالِحًا مِنْ أَصْحَابِي يَحْرُسُنِي اللَّيْلَةَ " . قَالَتْ فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ سَمِعْنَا خَشْخَشَةَ سِلاَحٍ فَقَالَ " مَنْ هَذَا " . قَالَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا جَاءَ بِكَ " . قَالَ وَقَعَ فِي نَفْسِي خَوْفٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجِئْتُ أَحْرُسُهُ . فَدَعَا لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ نَامَ . وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ رُمْحٍ فَقُلْنَا مَنْ هَذَا
#6232
Abdullah b. 'Amir b. Rabi reported A'isha as saying:Allah's Messenger (ﷺ) went to bed one night; the rest of the hadith is the same
عبد الواہاب نے کہا : میں نے یحییٰ بن سعید کو کہتے ہو ئے سنا کہا : میں نے عبد اللہ بن عامر بن ربیعہ کو کہتے ہو ئے سنا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سونہ سکے ۔ ( آگے ) سلیمان بن بلال کی حدیث کے مانند ( ہے)
حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، يَقُولُ قَالَتْ عَائِشَةُ أَرِقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ لَيْلَةٍ . بِمِثْلِ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ .
#6233
Abdullah b. Shaddad reported that he heard `Ali saying:Allah's Messenger (ﷺ) did not gather his parents except in case of Sa`d b. Malik that he said to him on the Day of Uhud: Shoot an arrow, may my father and mother be taken as ransom for you
منصور بن ابی مزاحم نے کہا : ہمیں ابرا ہیم بن سعد نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عبد اللہ بن شداد سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہ حضرت سعد بن مالک ( سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کے سوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کے لیے اکٹھا اپنے ماں باپ کا نام نہیں لیا ۔ جنگ اُحد کے دن آپ بار بار ان سے کہہ رہے تھے ۔ " تیر چلا ؤ تم پرمیرے ماں باپ فداہوں ۔
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، - يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ - عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا، يَقُولُ مَا جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَبَوَيْهِ لأَحَدٍ غَيْرَ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ فَإِنَّهُ جَعَلَ يَقُولُ لَهُ يَوْمَ أُحُدٍ " ارْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي " .
#6234
This hadith has been narrated on the authority of 'Ali through another chain of transmitters
شعبہ ، وکیع اور مسعر ، سب نے سعد بن ابرا ہیم سے ، انھوں نے عبد اللہ بن شدادسے ، انھوں نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَإِسْحَاقُ الْحَنْظَلِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مِسْعَرٍ، كُلُّهُمْ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ .
#6235
Sa'd b Abi Waqqqs said:Allah's Messenger (may peace he upon him) gathered his parents for me on the Day of Uhud
سلیمان بن بلال نے یحییٰ بن سعید سے انھوں نے سعید سے انھوں نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ۔ کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ اُحد کے دن میرے لیے ایک ساتھ اپنے ماں باپ کا نام نہیں لیا ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، - يَعْنِي ابْنَ بِلاَلٍ - عَنْ يَحْيَى، - وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ - عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ لَقَدْ جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَبَوَيْهِ يَوْمَ أُحُدٍ .
#6236
This hadith has been narrated on the authority of Yabyl b. Sa'id with the same chain of transmitters
لیث بن سعد اور عبد الوہاب دونوں نے یحییٰ بن سعید سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ، رُمْحٍ عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، كِلاَهُمَا عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ .
#6237
Amir b. Sa'd reported oLi the authority of his father that Allah's Apostle (ﷺ) gathered for him on the Day of Uhud his parents when a polytheist had set fire to (i. e. attacked fiercely) the Muslims. Thereupon Allah's Apostle (ﷺ) said to him:(Sa'd), shoot an arrow, (Sa'd), may my mother and father be taken as ransom for you. I drew an arrow and I shot a featherless arrow at him aiming his side that lie fell down and his private parts were exposed. Allah's Messenger (ﷺ) laughed that I saw his front teeth
عامر بن سعد نے اپنے والد سے روایت کی ، کہ جنگ اُحد کےدن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے ایک ساتھ اپنے ماں باپ کا نام لیا ۔ مشرکوں میں سے ایک شخص نے مسلمانوں کو جلا ڈالا تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد سے کہا : " تیر چلا ؤ تم پرمیرے ماں باپ فداہوں ! " حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے اس کے لیے ( ترکش سے ) ایک تیر کھینچا ، اس کے پرَہی نہیں تھے ۔ میں نے وہ اس کے پہلو میں مارا تو وہ گر گیا اور اس کی شرمگاہ ( بھی ) کھل گئی تو ( اس کے اس طرح گرنے پر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے ، یہاں تک کے مجھے آپ کی داڑھیں نظر آنے لگیں ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھل کھلاکرہنسے ۔)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، - يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ - عَنْ بُكَيْرِ بْنِ مِسْمَارٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم جَمَعَ لَهُ أَبَوَيْهِ يَوْمَ أُحُدٍ . قَالَ كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَدْ أَحْرَقَ الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " ارْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي " . قَالَ فَنَزَعْتُ لَهُ بِسَهْمٍ لَيْسَ فِيهِ نَصْلٌ فَأَصَبْتُ جَنْبَهُ فَسَقَطَ فَانْكَشَفَتْ عَوْرَتُهُ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى نَوَاجِذِهِ .
#6238
Mus'ab b. Sa'd reported on the authority of his father that many verses of the Qur'an had been revealed in connection with him. His mother Umm Sa'd had taken oath that she would never talk with him until he abandoned his faith and she neither ate nor drank and said:Allah has commanded you to treat well your parents and I am your mother and I command you to do this. She passed three days in this state until she fainted because of extreme hunger and at that time her son whose name was Umara stood up and served her drink and she began to curse Sa'd that Allah, the Exalted and Glorions, revealed these verses of the Holy Qur'an:" And We have enjoined upon a person goodness to his parents but if they contend with thee to associate (others) with Me of which you have no knowledge, then obey them not" (xxix. 8) ; Treat thein with customary good in this world" (xxxi. 15). He also reported that there fell to the lot of Allah's Messenger (ﷺ) huge spoils of war and there was one sword in them. I picked that up and came to Allah's Messenger (ﷺ) and said: Bestow this sword upon me (as my share in the spoils of war) and you know my state. Thereupon he said: Return it to the place from where you picked it up. I went back until I decided to throw it in a store but my soul repulsed me so I came back and asked him to give that sword to me. He said in a loud voice to return it to the place from where I had picked it up. It was on this occasion that this verse was revealed:" They asked about the spoils of war" (viii. 1). He further said: I once fell ill and sent a message to Allah's Apostle (ﷺ). He visited me and I said to him: Permit me to distribute (in charity) my property as much as I like. He did not agree. I said: (Permit me to distribute) half of it. He did not agree. I said: (Permit me to distribute) the third part, whereupon he kept quiet and it was after this (that the distribution of one's property in charity) to the extent of one-third was held valid. He further said: I came to a group of persons of the Ansir and Muhajirin and they said: Come, so that we may serve you wine, and it was before the use of wine had been prohibited. I went to them in a garden and there had been with them the roasted head of a camel and a small water-skin containing wine. I ate and drank along with them and there came under discussion the Ansr (Helpers) and Muhajirin (immigrants). I said: The immigrants are better than the Ansar, that a person picked up a portion of the head (of the camel and struck me with it that my nose was injured. I came to Allah's Messenger (ﷺ) and informed him of the situation that Aliah, the Exalted and Glorious, revealed verses pertaining to wine:" Intoxicants and the games of chance and (sacrificing to) stones set up and (divining by) arrows are only an uncleanliness, the devil's work" (v)
ابو بکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے کہا : ہمیں حسن بن موسیٰ نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں زہیر نےسماک بن حرب سے حدیث بیان کی کہ قرآن مجید میں ان کے حوالے سے کئی آیات نازل ہوئیں کہا : ان کی والدہ نے قسم کھائی کہ وہ اس وقت تک ان سے بات نہیں کریں گی یہاں تک کہ وہ اپنے دین ( اسلام ) سے کفر کریں اور نہ ہی کچھ کھا ئیں گی اور نہ پئیں گی ان کا خیال یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں حکم دیا ہے کہ اپنے والدین کی بات مانو اور میں تمھا ری ماں ہوں لہٰذا میں تمھیں اس دین کو چھوڑ دینے کا حکم دیتی ہوں ۔ کہا : وہ تین دن اسی حالت میں رہیں یہاں تک کہ کمزوری سے بے ہوش ہو گئیں تو ان کا بیٹا جو عمارہ کہلا تا تھا کھڑا ہوا اور انھیں پانی پلا یا ۔ ( ہوش میں آکر ) انھوں نے سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بددعائیں دینی شروع کر دیں تو اللہ تعا لیٰ نے قرآن میں یہ آیت نازل فر ما ئی : " ہم نے انسان کو اس کے والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے اور اگر وہ دونوں یہ کو شش کریں کہ تم میرے ساتھ شریک ٹھہراؤ جس بات کو تم ( درست ہی ) نہیں جانتے تو تم ان کی اطاعت نہ کرواور دنیا میں ان کے ساتھ اچھے طریقے سے رہو ۔ " کہا : اور ( دوسری آیت اس طرح اتری کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت زیادہ غنیمت حاصل ہوئی ۔ اس میں ایک تلوار بھی تھی ۔ میں نے وہ اٹھا لی اور اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ اور عرض کی : ( میرےحصے کے علاوہ ) یہ تلوارمزید مجھے دے دیں ، میری حالت کا تو آپ کو علم ہے ہی آپ نے فر ما یا : " اسے وہیں رکھ دو جہاں سے تم نے اٹھائی ہے ۔ " میں چلا گیا جب میں نے اسے مقبوضہ غنائم میں واپس پھینکنا چا ہا تو میرے دل نے مجھے ملا مت کی ( کہ واپس کیوں کر رہے ہو؟ ) تو میں آپ کے پاس واپس آگیا ۔ میں نے کہا : یہ مجھے عطا کر دیجئے ، آپ نے میرے لیے اپنی آواز کو سخت کیا اور فر ما یا : " جہاں سے اٹھا ئی ہے وہیں واپس رکھ دو ۔ " کہا : اس پر اللہ عزوجل نے یہ نازل فر ما یا : " یہ لو گ آپ سے غنیمتوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں ۔ " کہا : ( ایک موقع نزول وحی کا یہ تھا کہ ) میں بیمار ہو گیا ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پیغام بھیجا ۔ آپ میرے پاس تشریف لے آئے ۔ میں نے کہا : مجھے اجازت دیجیے کہ میں اپنا ( سارا ) مال جہاں چاہوں تقسیم کر دوں ۔ کہا : آپ نے انکا ر فر مادیا ۔ میں نے کہا : تو آدھا؟ آپ اس پر بھی نہ مانے ، میں نے کہا : تو پھر تیسرا حصہ ؟اس پر آپ خاموش ہوگئے ۔ اس کے بعد تیسرے حصے کی وصیت جا ئز ہو گئی ۔ کہا : اور ( ایک اور موقع بھی آیا ) میں انصار اور مہاجرین کے کچھ لوگوں کے پاس آیا انھوں نے کہا : آؤ ہم تمھیں کھانا کھلا ئیں اور شراب پلا ئیں اور یہ شراب حرام کیے جا نے سے پہلے کی بات ہے ۔ کہا : میں کھجوروں کے ایک جھنڈکے درمیان خالی جگہ میں ان کے پاس پہنچا دیکھا تو اونٹ کا ایک بھنا ہوا سران کے پاس تھا اور شراب کی ایک مشک تھی ۔ میں نے ان کے ساتھ کھا یا ، شراب پی ، پھر ان کے ہاں انصار اور مہاجرین کا ذکر آگیا ۔ میں نے ( شراب کی مستی میں ) کہہ دیا : مہاجرین انصار سے بہتر ہیں تو ایک آدمی نے ( اونٹ کا ) ایک جبڑا پکڑا ، اس سے مجھے ضرب لگا ئی اور میری ناک زخمی کردی ، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو یہ ( ساری ) بات بتا ئی تو اللہ تعا لیٰ نے میرے بارے میں ۔ ۔ ۔ ان کی مراد اپنے آپ سے تھی ۔ ۔ ۔ شراب کے متعلق ( یہ آیت ) نازل فر ما ئی : " بے شک شراب ، جوا بت اور پانسے شیطان کے گندے کام ہیں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنِي مُصْعَبُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ نَزَلَتْ فِيهِ آيَاتٌ مِنَ الْقُرْآنِ - قَالَ - حَلَفَتْ أُمُّ سَعْدٍ أَنْ لاَ تُكَلِّمَهُ أَبَدًا حَتَّى يَكْفُرَ بِدِينِهِ وَلاَ تَأْكُلَ وَلاَ تَشْرَبَ . قَالَتْ زَعَمْتَ أَنَّ اللَّهَ وَصَّاكَ بِوَالِدَيْكَ وَأَنَا أُمُّكَ وَأَنَا آمُرُكَ بِهَذَا . قَالَ مَكَثَتْ ثَلاَثًا حَتَّى غُشِيَ عَلَيْهَا مِنَ الْجَهْدِ فَقَامَ ابْنٌ لَهَا يُقَالُ لَهُ عُمَارَةُ فَسَقَاهَا فَجَعَلَتْ تَدْعُو عَلَى سَعْدٍ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْقُرْآنِ هَذِهِ الآيَةَ { وَوَصَّيْنَا الإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا} { وَإِنْ جَاهَدَاكَ عَلَى أَنْ تُشْرِكَ بِي} وَفِيهَا { وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا} قَالَ وَأَصَابَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَنِيمَةً عَظِيمَةً فَإِذَا فِيهَا سَيْفٌ فَأَخَذْتُهُ فَأَتَيْتُ بِهِ الرَّسُولَ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ نَفِّلْنِي هَذَا السَّيْفَ فَأَنَا مَنْ قَدْ عَلِمْتَ حَالَهُ . فَقَالَ " رُدُّهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ " . فَانْطَلَقْتُ حَتَّى إِذَا أَرَدْتُ أَنْ أُلْقِيَهُ فِي الْقَبَضِ لاَمَتْنِي نَفْسِي فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ أَعْطِنِيهِ . قَالَ فَشَدَّ لِي صَوْتَهُ " رُدُّهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ " . قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { يَسْأَلُونَكَ عَنِ الأَنْفَالِ} قَالَ وَمَرِضْتُ فَأَرْسَلْتُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَتَانِي فَقُلْتُ دَعْنِي أَقْسِمْ مَالِي حَيْثُ شِئْتُ . قَالَ فَأَبَى . قُلْتُ فَالنِّصْفَ . قَالَ فَأَبَى . قُلْتُ فَالثُّلُثَ . قَالَ فَسَكَتَ فَكَانَ بَعْدُ الثُّلُثُ جَائِزًا . قَالَ وَأَتَيْتُ عَلَى نَفَرٍ مِنَ الأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرِينَ فَقَالُوا تَعَالَ نُطْعِمْكَ وَنَسْقِيكَ خَمْرًا . وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ تُحَرَّمَ الْخَمْرُ - قَالَ - فَأَتَيْتُهُمْ فِي حَشٍّ - وَالْحَشُّ الْبُسْتَانُ - فَإِذَا رَأْسُ جَزُورٍ مَشْوِيٌّ عِنْدَهُمْ وَزِقٌّ مِنْ خَمْرٍ - قَالَ - فَأَكَلْتُ وَشَرِبْتُ مَعَهُمْ - قَالَ - فَذُكِرَتِ الأَنْصَارُ وَالْمُهَاجِرُونَ عِنْدَهُمْ فَقُلْتُ الْمُهَاجِرُونَ خَيْرٌ مِنَ الأَنْصَارِ - قَالَ - فَأَخَذَ رَجُلٌ أَحَدَ لَحْيَىِ الرَّأْسِ فَضَرَبَنِي بِهِ فَجَرَحَ بِأَنْفِي فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرْتُهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيَّ - يَعْنِي نَفْسَهُ - شَأْنَ الْخَمْرِ { إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالأَنْصَابُ وَالأَزْلاَمُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ}
#6239
This hadith has been transmitted on the authority of Simak and the hadith transmitted on the authority of Shu'ba (the words are):When they intended to feed her (Sa'd'. s mother), they opened her mouth with the help of a stick and then put the feed in her mouth, and in the same hadith the words are: He struck the nose of Sa'd and it was injured and Sa'd had (the mark) of wound on his nose
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے سماک بن حرب سے حدیث بیان کی ، انھوں نے مصعب بن سعد سے ، انھوں نے اپنے والد ( حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میرے بارے میں چار آیات نازل ہو ئیں پھر زبیر سے سماک کی حدیث کے ہم معنی بیان کیا اور شعبہ کی حدیث میں ( محمد بن جعفر نے ) مزید یہ بیان کیا کہ لوگ جب میری ماں کو کھانا کھلا نا چاہتے تو لکڑی سے اس کا منہ کھولتے ، پھر اس میں کھا نا ڈالتے ، اور انھی کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ناک پر ہڈی ماری اور ان کی ناک پھاڑ دی ، حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ناک پھٹی ہوئی تھی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ أُنْزِلَتْ فِيَّ أَرْبَعُ آيَاتٍ . وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ زُهَيْرٍ عَنْ سِمَاكٍ وَزَادَ فِي حَدِيثِ شُعْبَةَ قَالَ فَكَانُوا إِذَا أَرَادُوا أَنْ يُطْعِمُوهَا شَجَرُوا فَاهَا بِعَصًا ثُمَّ أَوْجَرُوهَا . وَفِي حَدِيثِهِ أَيْضًا فَضَرَبَ بِهِ أَنْفَ سَعْدٍ فَفَزَرَهُ وَكَانَ أَنْفُ سَعْدٍ مَفْزُورًا .
#6240
Sa'd reported:This verse was revealed in relation to six persons and I and Ibn Mas'ud were amongst them. The polytheists said to him (the Holy Prophet): Do not keep such persons near you. It was upon this that (this verse was revealed):" Drive not away those who call upon their Lord morning and evening desiring only His pleasure" (vi)
سفیان نے مقدام بن شریح سے انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ( آیت ) " اور ان ( مسکین مو منوں ) کو خود سے دورنہ کریں جو صبح و شام اپنے رب کو پکا رتے ہیں " کے بارے میں روایت کی ، کہا : یہ چھ لو گوں کے بارے میں نازل ہو ئی ۔ میں اور ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان میں شامل تھے مشرکوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا ۔ ان لوگوں کو اپنے قریب نہ کریں ۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعْدٍ، فِيَّ نَزَلَتْ { وَلاَ تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ} قَالَ نَزَلَتْ فِي سِتَّةٍ أَنَا وَابْنُ مَسْعُودٍ مِنْهُمْ وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ قَالُوا لَهُ تُدْنِي هَؤُلاَءِ .
#6241
Sa'd reported:We were six men in the company of Allah's Messenger (, nay peace be upon him) that the polytheists said to Allah's Apostle (ﷺ): Drive them away so that they may not be overbold upon us. He said: I, Ibn Mas'ud and a person from the tribe of Hudhail, Bilal and two other persons, whose names I do not know (were amongst such persons). And there occurred to Allah's Messenger (ﷺ) what. Allah wished and he talked with himself that Allah, the Exalted and Glorious, revealed:" Do not drive away those who call their Lord morning and evening desiring to seek His pleasure
اسرائیل نے مقدام بن شریح سے انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت کی ، کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم چھ شخص تھے تو مشرکین نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا : " ان لوگوں کو بھگا دیجیے ، یہ ہمارے سامنے آنے کی جرات نہ کریں ۔ ( حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : ( یہ لوگ تھے ) میں ابن مسعود ہذیل کا ایک شخص بلال اور دواور شخص جن کا نام میں نہیں لو ں گا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں جو اللہ نے چاہا سوآیا ، آپ نے اپنے دل میں کچھ کہا : بھی ، تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل کی : " اور ان لوگوں کو دورنہ کیجیے جو صبح ، شام اپنے رب کو پکا رتے ہیں صرف اس کی رضا چاہتے ہیں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَسَدِيُّ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم سِتَّةَ نَفَرٍ فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم اطْرُدْ هَؤُلاَءِ لاَ يَجْتَرِئُونَ عَلَيْنَا . قَالَ وَكُنْتُ أَنَا وَابْنُ مَسْعُودٍ وَرَجُلٌ مِنْ هُذَيْلٍ وَبِلاَلٌ وَرَجُلاَنِ لَسْتُ أُسَمِّيهِمَا فَوَقَعَ فِي نَفْسِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقَعَ فَحَدَّثَ نَفْسَهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { وَلاَ تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ}
#6242
Abu 'Uthman reported on one of the days when Allah's Messenger (ﷺ) was fighting and none remained with him save Talha and Sa'd
معتمر کے والد سلیمان نے کہا : میں نے حضرت ابو عثمان سے سنا ، کہا : ان ایام میں سے ایک میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کیا تو جنگ کے دوران میں آپ کے ساتھ حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سوا اور کو ئی باقی نہیں رہا تھا ۔ ( یہ میں ) ان دونوں کی بتا ئی ہو ئی بات سے ( بیان کر رہا ہوںَ)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، وَحَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالُوا حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، - وَهُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ - قَالَ سَمِعْتُ أَبِي، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ لَمْ يَبْقَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي بَعْضِ تِلْكَ الأَيَّامِ الَّتِي قَاتَلَ فِيهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَيْرُ طَلْحَةَ وَسَعْدٍ . عَنْ حَدِيثِهِمَا .
#6243
Jabir b. Abdullah reported:I heard Allah's Messenger (ﷺ) exhorting people on the Day of the Battle of the Ditch to fight. Zubair said: I am ready (to participate). He then again exhorted and he again said: I am ready to participate. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: Behold. for every Prophet there is a helper and my helper is Zubair
سفیان بن عیینہ نے محمد بن منکدر سے انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ خندق کے دن لوگوں کو پکارا ۔ ( کو ن ہے جو ہمیں دشمنوں کے اندر کی خبر دے گا ۔ ؟ ) تو زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آگے آئے ( کہا : میں لا ؤں گا ) پھر آپ نے ان کو ( دوسری بار ) پکا را تو زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی آگے بڑھے پھر ان کو ( تیسری بار ) پکا را تو بھی زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی آگے بڑھے چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ہر نبی کا حواری ( خاص مددگار ) ہو تا ہے اور میرا حواری زبیر ہے ۔
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ، بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ نَدَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم النَّاسَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ ثُمَّ نَدَبَهُمْ فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ ثُمَّ نَدَبَهُمْ فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيٌّ وَحَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ " .
#6244
Jabir reported this hadith through another chain of transmitters
ہشام بن عروہ اور سفیان بن عیینہ نے محمد بن منکدر سے ، انھوں نے جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ابن عیینہ کی حدیث کے ہم معنی روایت کی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، كِلاَهُمَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ .
#6245
Abdullah b. Zubair reported on the Day of the Battle of the Trench:I and Umar b. Abu Salama were with women folk in the fort of Hassan (b. Thabit). He at one time leaned for me and I cast a glance and at anothertime I leaned for him and he would see and I recognised my father as he rode on his horse with his arms towards the tribe of Quraizah. 'Abdullah b. 'Urwa reported from Abdullah b. Zubair: I made a mention of that to my father, whereupon he said: My son, did you see me (on that occasion)? He said: Yes. Thereupon he said: By Allah, Allah's Messenger (ﷺ) addressed me saying: I would sacrifice for thee my father and my mother
علی بن مسہر نے ہشام بن عروہ سے انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : میں اور حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جنگ خندق کے دن عورتوں کے ساتھ حضرت حسان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قلعے میں تھے کبھی وہ میرے لیے کمر جھکا کر کھڑے ہو جا تے اور میں ( ان کی کمر پر کھڑا ہو کر مسلمانوں کے لشکر کو ) دیکھ لیتا کبھی میں کمر جھکا کر کھڑا ہو جا تا اور وہ دیکھ لیتے ۔ میں نے اس وقت اپنے والد کو پہچان لیا تھا جب وہ اپنے گھوڑے پر ( سوار ہو کر ) بنو قریظہ کی طرف جا نے کے لیے گزرے ۔ ( ہشام بن عروہ نے ) کہا : مجھے عبد اللہ بن عروہ نے حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ( روایت کرتے ہو ئے ) بتا یا کہا : میں نے یہ بات اپنے والد کو بتا ئی تو انھوں نے کہا : میرے بیٹے !تم نے مجھے دیکھا تھا ؟ میں نے کہا : ہاں انھوں نے کہا : اللہ کی قسم! اس روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے اپنے ماں باپ دونوں کا ایک ساتھ ذکر کرتے ہو ئے کہا : تھا " میرے ماں باپ تم پر قربان
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْخَلِيلِ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، كِلاَهُمَا عَنِ ابْنِ مُسْهِرٍ، قَالَ إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ كُنْتُ أَنَا وَعُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، يَوْمَ الْخَنْدَقِ مَعَ النِّسْوَةِ فِي أُطُمِ حَسَّانٍ فَكَانَ يُطَأْطِئُ لِي مَرَّةً فَأَنْظُرُ وَأُطَأْطِئُ لَهُ مَرَّةً فَيَنْظُرُ فَكُنْتُ أَعْرِفُ أَبِي إِذَا مَرَّ عَلَى فَرَسِهِ فِي السِّلاَحِ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ . قَالَ وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لأَبِي فَقَالَ وَرَأَيْتَنِي يَا بُنَىَّ قُلْتُ نَعَمْ . قَالَ أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَئِذٍ أَبَوَيْهِ فَقَالَ " فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي " .
#6246
Abdullah b. Zubair reported:When it was the Day of the Battle of the Ditch I and 'Umar b. Salama were in the fort in which there were women, i. e. the wives of Allah's Apostle (ﷺ) ; the rest of the hadith is the same
ابو اسامہ نے ہشام سے انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : خندق کے دن میں اور عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس قلعے میں تھے جس میں عورتیں یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج تھیں اس کے بعد ابن مسہر کی اسی سند کے ساتھ روایت کردہ حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور حدیث ( کی سند ) میں عبد اللہ بن عروہ کا ذکر نہیں کیا لیکن ( ان کا بیان کیا ہوا سارا ) قصہ اس روایت میں شامل کردیا جو ہشام نے اپنے والد سے اور انھوں نے ( عبد اللہ ) ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْخَنْدَقِ كُنْتُ أَنَا وَعُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ فِي الأُطُمِ الَّذِي فِيهِ النِّسْوَةُ يَعْنِي نِسْوَةَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ فِي هَذَا الإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُرْوَةَ فِي الْحَدِيثِ وَلَكِنْ أَدْرَجَ الْقِصَّةَ فِي حَدِيثِ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ .
#6247
Abu Huraira reported:Allah's Messenger (ﷺ) was upon the mountain of Hira, ' and there were along with him Abu Bakr, Umar, Uthman. 'Ali, Talha, 'Zubair, that the mountain stirred; thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: Be calm, there is none upon you but a Prophet, a Fiddle (the testifier of truth) and a Martyr
عبد العزیزبن محمد نے سہیل ( بن ابی صالح ) سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حراء پہاڑ پر تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو چٹان ( جس پر یہ سب تھے ) ہلنے لگی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ٹھہرجاؤ ، تجھ پر نبی یا صدیق یا شہید کے علاوہ اور کو ئی نہیں ۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ - عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ عَلَى حِرَاءٍ هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَعَلِيٌّ وَطَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ فَتَحَرَّكَتِ الصَّخْرَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اهْدَأْ فَمَا عَلَيْكَ إِلاَّ نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ " .
#6248
Abu Huraira reported that Allah's Messenger (ﷺ) was on the mountain of Hira' that it stirred; thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said:Hira! be calm, for there is none upon you but a Prophet, a Siddiq, a Shahid, and there were upon it Allah's Prophet (ﷺ), Abu Bakr, 'Umar, Uthman, 'Ali, Talha, Zubair, Sa'd b. Abi Waqqas (Allah be pleased witli them)
یحییٰ بن سعید نے سہیل بن ابی صالح سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوہ حراء پر تھے ۔ وہ ہلنے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ٹھہرجا ، تجھ پر نبی یا صدیق یا شہید کے سوااور کو ئی نہیں ۔ " اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور ( آپ کے ساتھ ) حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ خُنَيْسٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْدِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُهَيْلِ، بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ عَلَى جَبَلِ حِرَاءٍ فَتَحَرَّكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اسْكُنْ حِرَاءُ فَمَا عَلَيْكَ إِلاَّ نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ " . وَعَلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَعَلِيٌّ وَطَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ رضى الله عنهم .
#6249
Hisham reported on the authority of his father ('Urwa b. Zubair) that A'isha said:BY Allah, both fathers of yours are amongst those who have been men. tioned in this verse:" Those who responded to the call of Allah and the Messenger after the misfortune had fallen upon thein
(ابن نمیر اور عبدہ نے کہا : ہمیں ہشام نے اپنے والد عروہ ) سے حدیث بیان کی کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے مجھ سے فر ما یا : اللہ کی قسم! تمھا رے دو والد ( والد زبیراور نانا ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) ان لوگوں میں سے تھے جنھوں نے ( اُحد میں ) زخم کھا لینے کے بعد ( بھی ) اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بلا وے پر لبیک کہا تھا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، وَعَبْدَةُ، قَالاَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَتْ لِي عَائِشَةُ أَبَوَاكَ وَاللَّهِ مِنَ الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ .