#6175
Abdullah reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:If I were to choose amongst the people of earth someone as my bosom friend, I would have chosen the son of Abu Quhafa as my friends but God has taken your companion as a friend
واصل بن حیان نے عبداللہ بن ابی ہذیل سے ، انھوں نے ابو احوص سے ، انھوں نے عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر میں زمین پر رہنے والوں میں سے کسی کو خلیل بناتا تو ابو قحافہ کے بیٹے کو خلیل بناتا ، لیکن تمہارے صاحب ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے خلیل ہیں ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ وَاصِلِ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي، الْهُذَيْلِ عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ خَلِيلاً لاَتَّخَذْتُ ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ خَلِيلاً وَلَكِنْ صَاحِبُكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ " .
#6176
This hadith has been narrated through another chain of transmitters and the one narrated on the authority of Abdullah (the words are):" Allah's Messenger (ﷺ) is reported to have said: Behold I am free from the dependence of all bosom friends and if I were to choose anyone as bosom friend I would have taken Abu Bakr as my bosom friend. Allah has taken your companion as a friend
عبداللہ بن مرہ نے ابو احوص سے ، انھوں نے عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سن رکھو!میں ہر خلیل کی رازدارانہ دوستی سے براءت کا اظہار کرتا ہوں اور اگر میں کسی کو خلیل بناتا تو ابو بکر کو خلیل بناتا ۔ تمھارا صاحب ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کا خلیل ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ، إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، كُلُّهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ - وَاللَّفْظُ لَهُمَا - قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَلاَ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَى كُلِّ خِلٍّ مِنْ خِلِّهِ وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلاً لاَتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلاً إِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ " .
#6177
Amr b. al-'As reported that Allah's Messenger (ﷺ) sent him in command of the army despatched to Dhat-as-Salasil. When 'Amr b. al-'As came back to the Prophet (ﷺ) he said:Who amongst people are dearest to you? He said: A'isha. He then said: Who amongst men? He said: Her father, and I said: And who next? He said: Umar. He then enumerated some other men
عمرو بن عاصؓ سے روایت ہے رسول اﷲ ﷺ نے ان کو ذات السلاسل کے لشکر کے ساتھ بھیجا ( ذات السلاسل نواحی شام میں ایک پانی کا نام ہے وہاں کی لڑائی جمادی الاخری۸ھ میں ہوئی ) ۔ وہ آئے آپ کے پاس انہوں نے کہا یا رسول اﷲؐ! سب لوگوں میں آپ کو کس سے زیادہ محبت ہے؟ آپ نے فرمایا عائشہ صدیقہؓ سے ۔ انہوں نے کہا مرودں میں کس سے زیادہ محبت ہے؟ آپﷺ نے فرمایا ان کے باپ سے ۔ انہوں نے کہا پھر ان کے بعد کس سے؟ آپؐ نے فرمایا عمرؓ سے یہاں تک کہ آپ نے کئی آدمیوں کا ذکر کیا ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَهُ عَلَى جَيْشِ ذَاتِ السَّلاَسِلِ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ أَىُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْكَ قَالَ " عَائِشَةُ " . قُلْتُ مِنَ الرِّجَالِ قَالَ " أَبُوهَا " . قُلْتُ ثُمَّ مَنْ قَالَ " عُمَرُ " . فَعَدَّ رِجَالاً .
#6178
Ibn Abu Mulaika reported:I heard `A'isha as saying and she was asked as to whom Allah's Messenger (ﷺ) would have nominated as his successor if he had to nominate one at all. She said: Abu Bakr. It was said to her: Then whom after Abu Bakr? She said: `Umar. It was said to her. Then whom after `Umar? She said: Abu `Ubaida b. al-Jarrah, and then she kept quiet at this
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے سنا ، ان سے پوچھا گیا کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خلیفہ کرتے تو کس کو کرتے؟ انہوں نے کہا کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ( خلیفہ ) بناتے ۔ پھر پوچھا گیا کہ ان کے بعد کس کو ( خلیفہ ) بناتے؟ انہوں نے کہا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ( خلیفہ ) بناتے ۔ پھر پوچھا گیا کہ ان کے بعد کس کو ( خلیفہ ) بناتے؟ انہوں نے کہا کہ سیدنا ابوعبیدہ بن الجراح کو ۔ پھر خاموش ہو رہیں ۔
وَحَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ أَبِي عُمَيْسٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَيْسٍ، عَنِ ابْنِ، أَبِي مُلَيْكَةَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ، وَسُئِلَتْ، مَنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُسْتَخْلِفًا لَوِ اسْتَخْلَفَهُ قَالَتْ أَبُو بَكْرٍ . فَقِيلَ لَهَا ثُمَّ مَنْ بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ عُمَرُ . ثُمَّ قِيلَ لَهَا مَنْ بَعْدَ عُمَرَ قَالَتْ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ . ثُمَّ انْتَهَتْ إِلَى هَذَا .
#6179
Muhammad b. Jubair b. Mut'im reported on the authority of his father that a woman asked Allah's Messenger (ﷺ) about something but lit, told her to come to him on some other occasion, whereupon she said:What in your opinion (should I do) if I come to you but do not find you, and it seemed as if she meant that he might die. Thereupon he said: If you do not find me, then come to Abu Bakr. This hadith has been narrated on the authority of Jubair b. Mut'im through another chain of transmitters (and the words are) that a woman came to Allah's Messenger (ﷺ) and discussed with him something and he gave a command as we find in the above-mentioned narration
عباد بن موسیٰ نے کہا ، ہمیں ابراہیم بن سعد نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے میرے والد نے محمد بن جبیر بن مطعم سے خبر دی ، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ پوچھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر آنا ۔ وہ بولی کہ یا رسول اللہ! اگر میں آؤں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ پاؤں ( یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو جائے تو ) ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تو مجھے نہ پائے تو ابوبکر کے پاس آنا ۔
حَدَّثَنِي عَبَّادُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ، بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ امْرَأَةً، سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَيْئًا فَأَمَرَهَا أَنْ تَرْجِعَ إِلَيْهِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ جِئْتُ فَلَمْ أَجِدْكَ قَالَ أَبِي كَأَنَّهَا تَعْنِي الْمَوْتَ . قَالَ " فَإِنْ لَمْ تَجِدِينِي فَأْتِي أَبَا بَكْرٍ " . وَحَدَّثَنِيهِ حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، أَنَّ أَبَاهُ، جُبَيْرَ بْنَ مُطْعِمٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَكَلَّمَتْهُ فِي شَىْءٍ فَأَمَرَهَا بِأَمْرٍ . بِمِثْلِ حَدِيثِ عَبَّادِ بْنِ مُوسَى .
#6180
Muhammad b. Jubair b. Mut'im reported on the authority of his father that a woman asked Allah's Messenger (ﷺ) about something but lit, told her to come to him on some other occasion, whereupon she said:What in your opinion (should I do) if I come to you but do not find you, and it seemed as if she meant that he might die. Thereupon he said: If you do not find me, then come to Abu Bakr. This hadith has been narrated on the authority of Jubair b. Mut'im through another chain of transmitters (and the words are) that a woman came to Allah's Messenger (ﷺ) and discussed with him something and he gave a command as we find in the above-mentioned narration
عباد بن موسیٰ نے کہا ، ہمیں ابراہیم بن سعد نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے میرے والد نے محمد بن جبیر بن مطعم سے خبر دی ، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ پوچھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر آنا ۔ وہ بولی کہ یا رسول اللہ! اگر میں آؤں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ پاؤں ( یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو جائے تو ) ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تو مجھے نہ پائے تو ابوبکر کے پاس آنا ۔
حَدَّثَنِي عَبَّادُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ، بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ امْرَأَةً، سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَيْئًا فَأَمَرَهَا أَنْ تَرْجِعَ إِلَيْهِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ جِئْتُ فَلَمْ أَجِدْكَ قَالَ أَبِي كَأَنَّهَا تَعْنِي الْمَوْتَ . قَالَ " فَإِنْ لَمْ تَجِدِينِي فَأْتِي أَبَا بَكْرٍ " . وَحَدَّثَنِيهِ حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، أَنَّ أَبَاهُ، جُبَيْرَ بْنَ مُطْعِمٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَكَلَّمَتْهُ فِي شَىْءٍ فَأَمَرَهَا بِأَمْرٍ . بِمِثْلِ حَدِيثِ عَبَّادِ بْنِ مُوسَى .
#6181
A'isha reported that Allah's Messenger (ﷺ) in his (last) illness asked me to call Abu Bakr, her father, and her brother too, so that he might write a document, for he feared that someone else might be desirous (of succeeding him) and that some claimant may say:I have better claim to it, whereas Allah and the Faithful do not substantiate the claim of anyone but that of Abu Bakr
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ا پنے ( آخری ) مرض کے دوران میں مجھ سے فرمایا؛ " اپنے والد ابو بکر اور اپنے بھائی کو میرے پاس بلاؤ تاکہ میں ایک تحریر لکھ دوں ، مجھے یہ خوف ہے کہ کوئی تمنا کرنے والا تمنا کرے گا اور کہنے والا کہے گا : میں زیادہ حقدار ہوں جبکہ اللہ بھی ابو بکر کے سوا ( کسی اور کی جانشینی ) سے انکار فرماتا ہے اور مومن بھی ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي مَرَضِهِ " ادْعِي لِي أَبَا بَكْرٍ وَأَخَاكِ حَتَّى أَكْتُبَ كِتَابًا فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَتَمَنَّى مُتَمَنٍّ وَيَقُولَ قَائِلٌ أَنَا أَوْلَى . وَيَأْبَى اللَّهُ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلاَّ أَبَا بَكْرٍ " .
#6182
Abu Huraira reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:Who amongst you is fasting today? Abu Bakr said: I am. He (again) said: Who amongst you followed a funeral procession today? Abu Bakr said: I did. He (the Prophet) again said: Who amongst you served food to the needy? Abu Bakr said: I did. He (again) said: Who amongst you has today visited the sick? Abu Bakr said: I did. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: Anyone in whom (these good deeds) are combined will certainly enter paradise
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریا فت کیا : " آج تم میں سے کس نے روزہ رکھا ہے؟ " حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " آج تم میں سے کون جنازے میں شامل ہوا ۔ ؟ " ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " آج تم میں سے کس شخص نے کسی مسکین کو کھا نا کھلا یا ؟ " حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے ۔ آپ نے فر ما یا : " آج تم میں سے کس شخص نے کسی مریض کی عیادت کی ہے ۔ ؟حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جس کسی آدمی میں یہ سب اوصاف اکٹھے ہو تے ہیں تو وہ جنت میں داخل ہو جاتا ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ يَزِيدَ، - وَهُوَ ابْنُ كَيْسَانَ - عَنْ أَبِي حَازِمٍ الأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ صَائِمًا " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ أَنَا . قَالَ " فَمَنْ تَبِعَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ جَنَازَةً " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ أَنَا . قَالَ " فَمَنْ أَطْعَمَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مِسْكِينًا " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ أَنَا . قَالَ " فَمَنْ عَادَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مَرِيضًا " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ أَنَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا اجْتَمَعْنَ فِي امْرِئٍ إِلاَّ دَخَلَ الْجَنَّةَ " .
#6183
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:A person had been driving an ox loaded with luggage. The ox looked towards him and said: I have not been created for this but for lands (i. e. for ploughing the land and for drawing out water from the wells for the purpose of irrigating the lands). The people said with surprise and awe: Hallowed be Allah, does the ox speak? Allah's Messenger (ﷺ) said: I believe it and so do Abu Bakr and 'Umar. Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying: A shepherd was tendirig the flock when a wolf came there and took away one goat. Tile shepherd pursued it (the wolf) and rescued it (the goat) from that (wolf). The wolf looked towards him and said: Who would save it on the day when there will be no shepherd except me? Thereupon people said: Hallowed be Allah I Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: I believe in it and so do Abu Bakr and Umar believe
یو نس نے ابن شہاب سے روایت کی ، کہا : مجھے سعد بن مسیب اور ابو سلمہ بن عبد الرحمان ( بن عوف ) نے حدیث سنائی کہ ان دونوں نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ایک شخص اپنی گا ئے کو ہانک رہاتھا اس پر بو جھ لادا ہوا تھا ۔ اس گائے نے منہ پیچھے کیا اور کہا : مجھے اس کا م کے لیے پیدا نہیں کیا گیا بلکہ کھیتی باڑی کے لیے پیدا کیا گیا ہے ۔ " لوگوں نے تعجب اور حیرت سے کہا : سبحان اللہ ! کیا گائے بولتی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " ( کسی اور کو یقین ہو نہ ہو ) میرا ابو بکر کا اور عمر کا اس پر ایمان ہے ۔ " حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " ایک چرواہااپنی بکریوں میں ( مو جود ) تھا کہ بھیڑیے نے اس پر حملہ کیا اور ایک بکری پکڑلی ، چرواہا اس کے پیچھے لگ گیا حتی کہ اس بکری کو بھیڑیے سے بچا لیا ۔ اس ( بھیڑیے ) نے کہا : اس دن اسے کون بچا ئے گا جب درندوں ( کے حملے ) کا دن آئے گا اور میرے سوا اس کا چرواہا ( مالک ) کو ئی نہ ہو گا ؟ " لوگوں نے کہا : سبحان اللہ !تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں اور ابو بکر اور عمر ( بھی یقین رکھتے ہیں ۔)
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَسُوقُ بَقَرَةً لَهُ قَدْ حَمَلَ عَلَيْهَا الْتَفَتَتْ إِلَيْهِ الْبَقَرَةُ فَقَالَتْ إِنِّي لَمْ أُخْلَقْ لِهَذَا وَلَكِنِّي إِنَّمَا خُلِقْتُ لِلْحَرْثِ " . فَقَالَ النَّاسُ سُبْحَانَ اللَّهِ . تَعَجُّبًا وَفَزَعًا . أَبَقَرَةٌ تَكَلَّمُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَإِنِّي أُومِنُ بِهِ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ " . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " بَيْنَا رَاعٍ فِي غَنَمِهِ عَدَا عَلَيْهِ الذِّئْبُ فَأَخَذَ مِنْهَا شَاةً فَطَلَبَهُ الرَّاعِي حَتَّى اسْتَنْقَذَهَا مِنْهُ فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ الذِّئْبُ فَقَالَ لَهُ مَنْ لَهَا يَوْمَ السَّبُعِ يَوْمَ لَيْسَ لَهَا رَاعٍ غَيْرِي " . فَقَالَ النَّاسُ سُبْحَانَ اللَّهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَإِنِّي أُومِنُ بِذَلِكَ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ " .
#6184
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Shihab with the same chain of transmitters, but there is no mention of the story pertaining to the ox
عقیل بن خالد نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ بکری اور بھیڑیے کا واقعہ بیان کیا اور گا ئے کا واقعہ بیان نہیں کیا ۔
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ، خَالِدٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . قِصَّةَ الشَّاةِ وَالذِّئْبِ وَلَمْ يَذْكُرْ قِصَّةَ الْبَقَرَةِ .
#6185
This hadith has been transmitted on the authority of Zuhri, and there is a clear mention of the stories of ox and goat (and the words are):I believe in it and so do Abu Bakr and Umar, but they were not at that time present there
سفیان بن عیینہ اور سفیان ( ثوری ) دونوں نے ابو زناد سے ، انھوں نے اعرج سے ، انھوں نے ابو سلمہ سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سےزہری سے یونس کی روایت کے ہم معنی روایت کی ۔ ان دونوں کی حدیث میں گا ئے اور بکری دونوں کا ذکر ہے اور دونوں نے اپنی حدیث کے الفا ظ کہے ۔ " میں اس پر یقین رکھتا ہوں اور ابو بکراور عمر ( بھی یقین رکھتے ہیں ۔ ) " اور وہ دونوں وہاں نہیں تھے ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، كِلاَهُمَا عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي، هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . بِمَعْنَى حَدِيثِ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَفِي حَدِيثِهِمَا ذِكْرُ الْبَقَرَةِ وَالشَّاةِ مَعًا وَقَالاَ فِي حَدِيثِهِمَا " فَإِنِّي أُومِنُ بِهِ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ " . وَمَا هُمَا ثَمَّ .
#6186
This hadith has been narrated on the authority of Abu Huraira through another chain of transrritters
شعبہ اور مسعر دونوں نے سعد بن ابرا ہیم سے انھوں نے ابو سلمہ سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مِسْعَرٍ، كِلاَهُمَا عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
#6187
Ibn Abu Mulaika reported:I heard Ibn 'Abbas as saying: When 'Umar b. Khattab was placed in the coffin the people gathered around him. They praised him and supplicated for him before the bier was lifted up, and I was one amongst them. Nothing attracted my attention but a person who gripped my shoulder from behind. I saw towards him and found that he was 'Ali. He invoked Allah's mercy upon 'Umar and said: You have left none behind you (whose) deeds (are so enviable) that I love to meet Allah with them. By Allah, I hoped that Allah would keep you and your two associates together. I had often heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: I came and there came too Abu Bakr and 'Umar; I entered and there entered too Abu Bakr and 'Umar; I went out and there went out too Abu Bakr and 'Umar, and I hope and think that Allah will keep you along with them
ابن مبارک نے عمر بن سعید بن ابو حسین سے ، انھوں نے ابن ابی ملیکہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بیان کرتے ہو ئے سنا ، جب حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( کے جسد خاکی ) کو چار پائی پر رکھا گیا تو ( جنازہ ) اٹھا نے سے پہلے لوگوں نے چاروں طرف سے ان کو گھیر لیا ۔ وہ دعائیں کر رہے تھے تعریف کر رہے تھے دعائے رحمت کر رہے تھے ۔ میں بھی ان میں شامل تھا تو مجھے اچانک کسی ایسے شخص نے چونکا دیا جس نے پیچھے سے ( آکر ) میرا کندھا تھا ما ۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے ، انھوں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے رحمت کی دعا کی اور کہا : آپ نے کو ئی ایسا آدمی پیچھے نہ چھوڑا جو آپ سے بڑھ کر اس بات میں مجھے محبوب ہو کہ میں اللہ سے اس کے جیسے عملوں کے ساتھ ملوں ۔ اللہ کی قسم!مجھے ۔ ہمیشہ سے یہ یقین تھا کہ اللہ تعا لیٰ آپ کو اپنے دونوں ساتھیوں کے ساتھ رکھے گا ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ میں اکثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سناکرتا تھا ، آپ فر ما یا کرتے تھے ، " میں ابو بکر اور عمر آئے ۔ میں ابو بکر اور عمر اندر گئے ، میں ابو بکر اور عمر باہر نکلے ۔ " مجھے امید تھی بلکہ مجھے ہمیشہ سے یقین رہا کہ اللہ آپ کو ان دونوں کے ساتھ رکھے گا ۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِيُّ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، وَأَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ - وَاللَّفْظُ لأَبِي كُرَيْبٍ - قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ وُضِعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلَى سَرِيرِهِ فَتَكَنَّفَهُ النَّاسُ يَدْعُونَ وَيُثْنُونَ وَيُصَلُّونَ عَلَيْهِ قَبْلَ أَنْ يُرْفَعَ وَأَنَا فِيهِمْ - قَالَ - فَلَمْ يَرُعْنِي إِلاَّ بِرَجُلٍ قَدْ أَخَذَ بِمَنْكِبِي مِنْ وَرَائِي فَالْتَفَتُّ إِلَيْهِ فَإِذَا هُوَ عَلِيُّ فَتَرَحَّمَ عَلَى عُمَرَ وَقَالَ مَا خَلَّفْتَ أَحَدًا أَحَبَّ إِلَىَّ أَنْ أَلْقَى اللَّهَ بِمِثْلِ عَمَلِهِ مِنْكَ وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كُنْتُ لأَظُنُّ أَنْ يَجْعَلَكَ اللَّهُ مَعَ صَاحِبَيْكَ وَذَاكَ أَنِّي كُنْتُ أُكَثِّرُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " جِئْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَدَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَخَرَجْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ " . فَإِنْ كُنْتُ لأَرْجُو أَوْ لأَظُنُّ أَنْ يَجْعَلَكَ اللَّهُ مَعَهُمَا .
#6188
This hadith has been narrated on the authority of 'Umar b. Sa'id with the same chain of transmitters
عیسیٰ بن یونس نے عمربن سعید سے اسی سند سے اسی کے مانند روایت کی ۔
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ .
#6189
Abu Sa'id Khudri reported Allah's Messenger (ﷺ) as say ing:While I was asleep I saw people being presented to me (in a dream) and they wore shirts and some of these reached up to the breasts and some even beyond them. Then there happened to pass 'Umar b. Khattab and his shirt had been trailing. They said: Allah's Messeneer, how do you interpret the dream? He said: (As strength of) faith
ابو امامہ بن سہل نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " میں سویا ہوا تھا : میں نے دیکھا کہ لو گ میرے سامنے لا ئے جا رہے ہیں ۔ انھوں نے قمیص پہنی ہو ئی ہیں ، کسی کی قمیص چھا تی تک پہنچتی ہے کسی کی اس سے نیچے تک پہنچتی ہے اور عمر بن خطاب گزرے تو ان پر جو قمیص ہے وہ اسے گھسیٹ رہے ہیں ۔ " لوگوں نے عرض کی : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے اس کی کیا تعبیر فرما ئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " دین ۔
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ح وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُمْ - قَالُوا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ، بْنُ سَهْلٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ النَّاسَ يُعْرَضُونَ وَعَلَيْهِمْ قُمُصٌ مِنْهَا مَا يَبْلُغُ الثُّدِيَّ وَمِنْهَا مَا يَبْلُغُ دُونَ ذَلِكَ وَمَرَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ يَجُرُّهُ " . قَالُوا مَاذَا أَوَّلْتَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " الدِّينَ " .
#6190
Hamza b. Abdullah b. 'Umar b. Khattab reported on the authority of his father that Allah's Messenger (ﷺ) said:While I was asleep I saw (in a dream) a cup containing milk being presented to me. I took out of that until I perceived freshness being reflected through my nails. Then I presented the leftover to 'Umar b. Khattab. They said: Allah's Messenger: How do you interpret it? He said: This implies knowledge
یو نس نے کہا : کہ ابن شہاب نے انھیں بتا یا ، انھوں نےحمزہ بن عبد اللہ بن عمربن خطاب سے روایت کی ، انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " میں سویا ہوا تھا کہ میں نے ایک پیا لہ دیکھا جو میرے پاس لا یا گیا ۔ اس میں دودھ تھا ۔ میں نے اس میں سے پیا یہاں تک کہ مجھے محسوس ہوا کہ سیرابی میرے ناخنوں سے نکل رہی ہے ۔ پھر اپنا بچا ہوا دودھ میں نے عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دے دیا ۔ " ( حاضرین نے ) کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے اس کی کیا تعبیر فر ما ئی ؟آپ نے فرما یا : " علم ۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، أَخْبَرَهُ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ إِذْ رَأَيْتُ قَدَحًا أُتِيتُ بِهِ فِيهِ لَبَنٌ فَشَرِبْتُ مِنْهُ حَتَّى إِنِّي لأَرَى الرِّيَّ يَجْرِي فِي أَظْفَارِي ثُمَّ أَعْطَيْتُ فَضْلِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ " . قَالُوا فَمَا أَوَّلْتَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " الْعِلْمَ " .
#6191
This hadith has been narrated on the authority of Yunus with the same chain of transmitters
صالح نے یونس کی سند کے ساتھ اسی کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی ۔
وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ عُقَيْلٍ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ، حُمَيْدٍ كِلاَهُمَا عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، بِإِسْنَادِ يُونُسَ نَحْوَ حَدِيثِهِ .
#6192
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:While I was asleep I saw myself on a well with a leathern bucket on a pulley. I drew (water) out of that as Allah wished me (to draw). Then the son of Abu Quhafa (Abu Bakr) drew from it one bucketful or two and there was some weakness in drawing that (may Allah forgive him). Then that bucket (changed into a large bucket) and Ibn Khattab drew it. I did not see any strongest man drawing it like 'Umar b. Khattab. He brought out so much water that the camels of the people had enough to drink and then laid down (for rest)
یو نس نے ابن شہاب سے روایت کی کہ سعید بن مسیب نے انھیں خبر دی ، انھوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہتے تھے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فر ما رہےتھے ۔ " میں سویا ہوا تھا کہ میں نے خود ایک کنویں پر دیکھا اس پر ایک ڈول تھا میں نے اس میں جتنا اللہ نے چا ہا پانی نکالا ، پھر ابن ابی قحافہ نے اس سے ایک یا دوڈول نکالے ، اللہ ان کی مغفرت کرے!ان کے پانی نکا لنے میں کچھ کمزوری تھی ، پھر وہ ایک بڑا ڈول بن گیا تو عمر بن خطاب نے اسے پکڑ لیا ، چنانچہ میں نے لوگوں میں کو ئی ایسا عبقری ( غیر معمولی صلاحیت کا مالک ) نہیں دیکھا جو عمر بن خطاب کی طرح سے پانی نکا لے حتی کہ لو گ اونٹوں کو ( سیراب کر کے گھاٹ سے سے باہر ) آرام کرنے کی جگہ پر لے گئے ۔
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ، الْمُسَيَّبِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي عَلَى قَلِيبٍ عَلَيْهَا دَلْوٌ فَنَزَعْتُ مِنْهَا مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ أَخَذَهَا ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ فَنَزَعَ بِهَا ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ وَفِي نَزْعِهِ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ ضَعْفٌ ثُمَّ اسْتَحَالَتْ غَرْبًا فَأَخَذَهَا ابْنُ الْخَطَّابِ فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا مِنَ النَّاسِ يَنْزِعُ نَزْعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ حَتَّى ضَرَبَ النَّاسُ بِعَطَنٍ " .
#6193
This hadith has been narrated on the authority of Yunus through another chain of transmitters
صالح نے یو نس کی سند کے ساتھ انھی کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی ،
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ، خَالِدٍ ح وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَالْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، بِإِسْنَادِ يُونُسَ نَحْوَ حَدِيثِهِ .
#6194
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:I saw Ibn Abu Quhafa drawing (water) ; the rest of the hadith is the same
صالح نے کہا : اعرج وغیرہ نے کہا : کہ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " میں نے ابن ابی قحافہ کو ڈول کھینچتے دیکھا ۔ " زہری کی حدیث کی طرح ۔
حَدَّثَنَا الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، قَالَ قَالَ الأَعْرَجُ وَغَيْرُهُ إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " رَأَيْتُ ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ يَنْزِعُ " . بِنَحْوِ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ .
#6195
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:While I was asleep I saw myself drawing water from my tank in order to quench the thirst of the people that there came to me Abu Bakr. He took hold of the leathern bucket from my hand so that he should serve water to the people. He drew two bucketfuls and there was some weakness in his drawing (Allah may forgive him). Then there came Ibn Khattab and he took hold of that, and I did not see a person stronger than he (drawing water) until the people went away with their thirst quenched and the tank filled with water
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابو یونس نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " میں سویا ہوا تھا تو مجھے خواب میں دکھا یا گیا کہ میں اپنے حوض سے پانی نکال کر لوگوں کو پلا رہا ہوں ، پھر ابو بکر آئے اور انھوں نے مجھے آرام پہنچانے کے لیے میرے ہاتھ سے ڈول لے لیا ، انھوں نے دو ڈول پانی نکا لا ، ان کے پانی نکا لنے میں کچھ کمزوری تھی ، اللہ ان کی مغفرت کرے!پھر ابن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے تو انھوں نے ان سے ڈول لے لیا ، میں نے کسی شخص کو ان سے زیادہ قوت کے ساتھ ڈول کھینچتےنہیں دیکھا ، یہاں تک کہ لوگ ( سیراب ہو کر ) چلے گئے ۔ اور حوض پوری طرح بھراہوا تھا ( اس میں سے ) پانی امڈ رہا تھا ۔
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا عَمِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا يُونُسَ، مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ أُرِيتُ أَنِّي أَنْزِعُ عَلَى حَوْضِي أَسْقِي النَّاسَ فَجَاءَنِي أَبُو بَكْرٍ فَأَخَذَ الدَّلْوَ مِنْ يَدِي لِيُرَوِّحَنِي فَنَزَعَ دَلْوَيْنِ وَفِي نَزْعِهِ ضُعْفٌ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ فَجَاءَ ابْنُ الْخَطَّابِ فَأَخَذَ مِنْهُ فَلَمْ أَرَ نَزْعَ رَجُلٍ قَطُّ أَقْوَى مِنْهُ حَتَّى تَوَلَّى النَّاسُ وَالْحَوْضُ مَلآنُ يَتَفَجَّرُ " .
#6196
Abdullah b. 'Umar reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:I saw (in a dream) as if I was drawing water with a leathern bucket on a wooden pulley. There came Abu Bakr and he drew out a bucketful or two and as he drew out, some weakness (was perceived in it) (may Allah, the Exalted and Glorious, forgive him). Then Umar came in order to serve water -and the bucket was changed into a large leather bucket and I did not see such a wonderful man amongst persons (drawing water) and he went on serving water to the people until they were fully satisfied and then went to their resting places
ابو بکر بن سالم نے سالم بن عبد اللہ سے ، انھوں نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " میں نے ( خواب میں دیکھا ) کہ جیسے میں ایک کنویں پر چرخی والے ڈول سے پانی نکا ل رہا ہوں ، پھر ابو بکر آگئے ، انھوں نے ایک یا دوڈول نکا لے اللہ تبارک وتعا لیٰ ان کی مغفرت فرما ئے ، انھوں نے کچھ کمزوری سے ڈول نکالے ۔ پھر عمر آئے انھوں نے پانی نکا لا تو وہ بہت بڑا ڈول بن گیا ، میں نے لوگوں میں کو ئی غیر معمولی آدمی بھی ایسا نہیں دیکھا جوان جیسی طاقت کا مظاہرہ کرسکتا ہو یہاں تک کہ لو گ سیراب ہو گئے اور انھوں نے جانوروں کو سیراب کرکے ) آرام کرنے کی جگہ پہنچادیا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، - وَاللَّفْظُ لأَبِي بَكْرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ سَالِمٍ، عَنْ سَالِمِ، بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أُرِيتُ كَأَنِّي أَنْزِعُ بِدَلْوِ بَكْرَةٍ عَلَى قَلِيبٍ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَنَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ فَنَزَعَ نَزْعًا ضَعِيفًا وَاللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَغْفِرُ لَهُ ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ فَاسْتَقَى فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا مِنَ النَّاسِ يَفْرِي فَرْيَهُ حَتَّى رَوِيَ النَّاسُ وَضَرَبُوا الْعَطَنَ " .
#6197
Salim b. 'Abdullah reported on the authority of his father some of the dreams of Allah's Messenger (ﷺ) pertaining to Abu Bakr and Umar b. Khattab (Allah be pleased with them) and a hadith like this
موسیٰ بن عقبہ نے سالم بن عبداللہ سے ، انھوں نے اپنے والد سے حضرت ابو بکر اور عمربن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب ان سب کی حدیث کی طرح روایت کیا ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رُؤْيَا، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضى الله عنهما بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ .
#6198
Jabir reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:I entered Paradise and saw in it a house or a palace. I said: For whom is it resersred? They (the Angels) said: It is for 'Umar b. Khattab. (The Prophet said to 'Umar b. Khattab): I intenied to get into it but I thought of your feelings. Thereupon 'Umar wept and said: Apostle of Allah, could I feel any jealousy in your case?
محمد بن عبد اللہ بن نمیر اور زہیر بن حرب نے کہا : ۔ الفاظ انھی ( زہیر ) کے ہیں ۔ ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی ، انھوں نے عمرواور ابن منکدر سے انھوں نے جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ کہ آپ نے فرما یا : " میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے وہاں ایک گھر یا محل دیکھا میں نے پو چھا : یہ کس کا ہے؟فرشتوں نے کہا : یہ عمر بن خطاب کا ( محل ) ہے ، میں نے اس میں داخل ہو نے کا ارادہ کیا ، پھر مجھے تمھا ری غیرت یاد آگئی ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رونے لگے اور عرض کی : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ سے غیرت کی جا تی ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، وَابْنِ الْمُنْكَدِرِ، سَمِعَا جَابِرًا، يُخْبِرُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ح وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، وَعَمْرٍو، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَرَأَيْتُ فِيهَا دَارًا أَوْ قَصْرًا فَقُلْتُ لِمَنْ هَذَا فَقَالُوا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ . فَأَرَدْتُ أَنْ أَدْخُلَ . فَذَكَرْتُ غَيْرَتَكَ " . فَبَكَى عُمَرُ وَقَالَ أَىْ رَسُولَ اللَّهِ أَوَعَلَيْكَ يُغَارُ
#6199
This hadith has been narrated on the authority of Jabir through another chain of transmitters
اسحٰق بن ابرا ہیم ، ابو بکر بن ابی شیبہ اور عمرو ناقد نے سفیان بن عیینہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عمرو اور ابن منکدر سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ابن نمیر اور زہیر کی حدیث کے مانند روایت کی ۔
وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، وَابْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ جَابِرًا، ح وَحَدَّثَنَاهُ عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، سَمِعْتُ جَابِرًا، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ وَزُهَيْرٍ .