#6125
Abu Musa reported that Allah's Apostle (ﷺ) was asked such things which he disapproved and when they persisted on asking him he felt enraged and then said to the people:Ask me what you wish to ask. Thereupon a person said: Who is my father? He said: Your father is Hudhafa. Then another person stood up and said: Allah's Messenger, who is my father? He said: Your father is Salim, the freed slave of Shaiba. When 'Umar saw the signs of anger upon the face of Allah's Apostle (ﷺ), he said: Allah's Messenger, we ask repentance from Allah. And in the hadith transmitted on the authority of Abu Kuraib (the words are):" Allah's Messenger, who is my father? He said: Your father is Salim, the freed slave of Shaiba
عبد اللہ بن براداشعری اور ( ابو کریب ) محمد بن علاءہمدانی نے کہا : ہمیں ابو اسامہ نے یزید سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو بردہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے چند ( ایسی ) چیزوں کے بارے میں سوال کیے گئے جو آپ کو پسند نہ آئیں جب زیادہ سوال کیے گئے تو آپ غصے میں آگئے ، پھر آپ نے لوگوں سے فرما یا : جس چیز کے بارے میں بھی چاہو مجھ سے پوچھو ۔ " ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا باپ کو ن ہے؟آپ نے فر ما یا : تمھا را باپ حذافہ ہے ۔ دوسرے شخص نے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا باپ کو ن ہے؟آپ نے فر ما یا : تمھا را باپ شیبہ کا آزاد کردہ غلام سالم ہے ۔ " جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر غصے کے آثار دیکھے تو کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم اللہ سے تو بہ کرتے ہیں ابو کریب کی روایت میں ہے کہ اس نے کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا باپ کو ن ہے؟آپ نے فر ما یا : تمھا را باپ شیبہ کامولیٰ سالم ہے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الأَشْعَرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ الْهَمْدَانِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَشْيَاءَ كَرِهَهَا فَلَمَّا أُكْثِرَ عَلَيْهِ غَضِبَ ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ " سَلُونِي عَمَّ شِئْتُمْ " . فَقَالَ رَجُلٌ مَنْ أَبِي قَالَ " أَبُوكَ حُذَافَةُ " . فَقَامَ آخَرُ فَقَالَ مَنْ أَبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " أَبُوكَ سَالِمٌ مَوْلَى شَيْبَةَ " . فَلَمَّا رَأَى عُمَرُ مَا فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْغَضَبِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَتُوبُ إِلَى اللَّهِ . وَفِي رِوَايَةِ أَبِي كُرَيْبٍ قَالَ مَنْ أَبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " أَبُوكَ سَالِمٌ مَوْلَى شَيْبَةَ " .
#6126
Musa b. Talha reported:I and Allah's Messenger (ﷺ) happened to pass by people near the date-palm trees. He (the Holy Prophet) said: What are these people doing? They said: They are grafting, i. e. they combine the male with the female (tree) and thus they yield more fruit. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: I do not find it to be of any use. The people were informed about it and they abandoned this practice. Allah's Messenger (ﷺ) (was later) on informed (that the yield had dwindled), whereupon he said: If there is any use of it, then they should do it, for it was just a personal opinion of mine, and do not go after my personal opinion; but when I say to you anything on behalf of Allah, then do accept it, for I do not attribute lie to Allah, the Exalted and Glorious
موسیٰ بن طلحہ نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کچھ لوگوں کے قریب سے گزرا جو درختوں کی چوٹیوں پر چڑھے ہو ئے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پو چھا یہ لو گ کیا کر رہے ہیں ۔ ؟ " لوگوں نے کہا : یہ گابھہ لگا رہے ہیں نر ( کھجور کا بور ) مادہ ( کھجور ) میں ڈال رہے ہیں اس طرح یہ ( درخت ) ثمر آور ہو جا تے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرما یا : " میرا گمان نہیں کہ اس کا کچھ فائدہ ہو تا ہے ۔ " لوگوں نے کو یہ بات بتا دی گئی تو انھوں نے ( گابھہ لگا نے کا ) یہ عمل ترک کر دیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتا ئی گئی ۔ تو آپ نے فر ما یا : اگر یہ کا م انھیں فائدہ پہنچاتا ہے تو کریں ۔ میں نے تو ایک بات کا گمان کیا تھا تو گمان کے حوالے سے مجھے ذمہ دارنہ ٹھہراؤ لیکن جب میں اللہ کی طرف سے تمھا رے ساتھ بات کروں تو اسے اپنالو ، کیونکہ اللہ عزوجل پر کبھی جھوٹ نہیں بولوں گا ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ - وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ وَهَذَا حَدِيثُ قُتَيْبَةَ - قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ مَرَرْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِقَوْمٍ عَلَى رُءُوسِ النَّخْلِ فَقَالَ " مَا يَصْنَعُ هَؤُلاَءِ " . فَقَالُوا يُلَقِّحُونَهُ يَجْعَلُونَ الذَّكَرَ فِي الأُنْثَى فَيَلْقَحُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا أَظُنُّ يُغْنِي ذَلِكَ شَيْئًا " . قَالَ فَأُخْبِرُوا بِذَلِكَ فَتَرَكُوهُ فَأُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِذَلِكَ فَقَالَ " إِنْ كَانَ يَنْفَعُهُمْ ذَلِكَ فَلْيَصْنَعُوهُ فَإِنِّي إِنَّمَا ظَنَنْتُ ظَنًّا فَلاَ تُؤَاخِذُونِي بِالظَّنِّ وَلَكِنْ إِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنِ اللَّهِ شَيْئًا فَخُذُوا بِهِ فَإِنِّي لَنْ أَكْذِبَ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
#6127
Rafi' b. Khadij reported that Allah's Messenger (ﷺ) came to Medina and the people had been grafting the trees. He said:What are you doing? They said: We are grafting them, whereupon he said: It may perhaps be good for you if you do not do that, so they abandoned this practice (and the date-palms) began to yield less fruit. They made a mention of it (to the Holy Prophet), whereupon he said: I am a human being, so when I command you about a thing pertaining to religion, do accept it, and when I command you about a thing out of my personal opinion, keep it in mind that I am a human being. 'Ikrima reported that he said something like this
عبد اللہ بن رومی یمامی ، عباس بن عبد العظیم عنبری اور احمد بن جعفر معقری نے مجھے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہمیں نضر بن محمد نے حدیث بیان کی کہا : ہمیں عکرمہ بن عمار نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے ابو نجاشی نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث سنائی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ میں تشریف لا ئے تو ( وہاں کے ) لوگ کھجوروں میں قلم لگا تے تھے ، وہ کہا کرتے تھے ( کہ ) وہ گابھہ لگا تے ہیں ۔ آپ نےفر ما یا : " تم کیا کرتے ہو ۔ ؟انھوں نے کہا : ہم یہ کام کرتے آئے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : " اگر تم لو گ یہ کا م نہ کرو تو شاید بہتر ہو ۔ " اس پر ان لوگوں نے ( ایساکرنا ) چھوڑ دیا ، تو ان کا پھل گرگیا یا ( کہا ) کم ہوا ۔ کہا : لو گوں نے یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا ئی تو آپ نے فر ما یا : " میں ایک بشر ہی تو ہوں ، جب میں تمھیں دین کی کسی بات کا حکم دوں تو اسے مضبوطی سے پکڑلواور جب میں تمھیں محض اپنی رائے سے کچھ کرنے کو کہوں تو میں بشر ہی تو ہوں ۔ " عکرمہ نے ( شک انداز میں ) کہا : یا اسی کے مانند ( کچھ فرما یا ۔ ) معقری نے شک نہیں کیا ، انھوں نے کہا " تو ان کا پھل گرگیا ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الرُّومِيِّ الْيَمَامِيُّ، وَعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ، جَعْفَرٍ الْمَعْقِرِيُّ قَالُوا حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، - وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ - حَدَّثَنَا أَبُو النَّجَاشِيِّ، حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، قَالَ قَدِمَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ وَهُمْ يَأْبُرُونَ النَّخْلَ يَقُولُونَ يُلَقِّحُونَ النَّخْلَ فَقَالَ " مَا تَصْنَعُونَ " . قَالُوا كُنَّا نَصْنَعُهُ قَالَ " لَعَلَّكُمْ لَوْ لَمْ تَفْعَلُوا كَانَ خَيْرًا " . فَتَرَكُوهُ فَنَفَضَتْ أَوْ فَنَقَصَتْ - قَالَ - فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ إِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَىْءٍ مِنْ دِينِكُمْ فَخُذُوا بِهِ وَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَىْءٍ مِنْ رَأْىٍ فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ " . قَالَ عِكْرِمَةُ أَوْ نَحْوَ هَذَا . قَالَ الْمَعْقِرِيُّ فَنَفَضَتْ . وَلَمْ يَشُكَّ .
#6128
Anas reported that Allah's Messenger (ﷺ) happened to pass by the people who had been busy in grafting the trees. Thereupon he said:If you were not to do it, it might be good for you. (So they abandoned this practice) and there was a decline in the yield. He (the Holy Prophet) happened to pass by them (and said): What has gone wrong with your trees? They said: You said so and so. Thereupon he said: You have better knowledge (of a technical skill) in the affairs of the world
حماد بن سلمہ نے ہشام بن عروہ سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ۔ اور حماد ہی نے ثابت سے انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کچھ لوگوں کے پاس سے گزر ہوا جو کھجوروں میں گابھہ لگا رہے تھے ، آپ نے فر ما یا : " اگر تم یہ نہ کروتو ( بھی ) ٹھیک رہے گا ۔ " کہا : اس کے بعد گٹھلیوں کے بغیر روی کھجور یں پیدا ہو ئیں ، پھرکچھ دنوں کے بعد آپ کا ان کے پاس سے گزر ہوا تو آپ نے فر ما یا : " تمھا ری کھجوریں کیسی رہیں ؟ " انھوں نے کہا : آپ نے اس اس طرح فر ما یا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم اپنی دنیا کے معاملا ت کو زیادہ جاننے والے ہو ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، كِلاَهُمَا عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ عَامِرٍ، - قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، - حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، وَعَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَرَّ بِقَوْمٍ يُلَقِّحُونَ فَقَالَ " لَوْ لَمْ تَفْعَلُوا لَصَلُحَ " . قَالَ فَخَرَجَ شِيصًا فَمَرَّ بِهِمْ فَقَالَ " مَا لِنَخْلِكُمْ " . قَالُوا قُلْتَ كَذَا وَكَذَا قَالَ " أَنْتُمْ أَعْلَمُ بِأَمْرِ دُنْيَاكُمْ " .
#6129
Abu Huraira reported so many 'ahadith from Allah's Messenger (ﷺ) and one among them was that Allah's Messenger (ﷺ) is reported to have said:By Him in Whose Hand is the life of Muhammad, a day would come to you when you would not be able to see me, and the glimpse of my face would be dearer to one than one's own family, one's property and in fact everything. This hadith has been transmitted on the authority of Ishaq with a slight variation of wording
ہمام بن منبہ نے کہا : یہ احادیث ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیں ، انھوں نے کئی حدیثیں بیان کیں ، ان میں یہ ( بھی ) تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! تم لوگوں میں سے کسی پروہ دن ضرورآئے گا ۔ کہ وہ مجھے نہیں دیکھ سکے گا ۔ اور میری زیارت کرنا اس کے لیے اپنے اس سارے اہل اور مال سے زیادہ محبوب ہو گا جو ان کے پاس ہو گا ۔ " ( امام مسلم کے شاگرد ) ابو اسحاق ( ابرا ہیم بن محمد ) نے کہا : میرے نزدیک اس کا معنی یہ ہے کہ وہ شخص مجھے اپنے سب لوگوں کے ساتھ دیکھے ، میں اس کے نزدیک اس کے اہل ومال سے زیادہ محبوب ہوں گا ۔ اس میں تقدیم و تا خیر ہو ئی ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ فِي يَدِهِ لَيَأْتِيَنَّ عَلَى أَحَدِكُمْ يَوْمٌ وَلاَ يَرَانِي ثُمَّ لأَنْ يَرَانِي أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ مَعَهُمْ " . قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ الْمَعْنَى فِيهِ عِنْدِي لأَنْ يَرَانِي مَعَهُمْ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ وَهُوَ عِنْدِي مُقَدَّمٌ وَمُؤَخَّرٌ .
#6130
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:I am most akin to the son of Mary among the whole of mankind and the Prophets are of different mothers, but of one religion, and no Prophet was raised between me and him (Jesus Christ)
ابن شہاب سے روایت ہے کہ ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن نے انھیں بتا یا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فر ما رہے تھے ۔ " تمام لوگوں کی نسبت میں حضرت ابن مریم علیہ السلام سے زیادہ قریب ہوں تمام انبیاء علیہ السلام علاتی بھا ئی ( ایک باپ اور مختلف ماؤں کے بیٹے ) ہیں نیز میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے ۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّأَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِابْنِ مَرْيَمَ الأَنْبِيَاءُ أَوْلاَدُ عَلاَّتٍ وَلَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ " .
#6131
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:I am most akin to Jesus Christ among the whole of mankind, and all the Prophets are of different mothers but belong to one religion and no Prophet was raised between me and Jesus
اعرج نے ابو سلمہ سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تمام لوگوں کی نسبت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام علیہ السلام کے زیادہ قریب ہوں ۔ تمام انبیا ء علیہ السلام علا تی بھا ئی ہیں اور میرے اورحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان اور کو ئی نبی نہیں ہے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى الأَنْبِيَاءُ أَبْنَاءُ عَلاَّتٍ وَلَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَ عِيسَى نَبِيٌّ " .
#6132
Abu Huraira reported many ahadith from Allah's Messenger (ﷺ) and one is that Allah's Messenger (ﷺ) said:I am most close to Jesus, son of Mary, among the whole of mankind in this worldly life and the next life. They said: Allah's Messenger how is it? Thereupon he said: Prophets are brothers in faith, having different mothers. Their religion is, however, one and there is no Apostle between us (between I and Jesus Christ)
معمر نے ہمام بن منبہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : یہ احادیث ہیں جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیں انھوں کئی احادیث بیان کیں ، ان میں ایک یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " میں دنیا اور آخرت میں سب لوگوں کی نسب حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام سے زیادہ قریب ہوں ۔ " صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کس طرح ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " انبیا ء علیہ السلام علا تی بھا ئی ہیں ، ان کی مائیں الگ الگ ہیں اور ان کا دین ایک ہے ، اور درمیان اور کو ئی نبی نہیں ہے ۔ ( نبوت سے نبوت جڑی ہوئی ہے ۔)
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ فِي الأُولَى وَالآخِرَةِ " . قَالُوا كَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " الأَنْبِيَاءُ إِخْوَةٌ مِنْ عَلاَّتٍ وَأُمَّهَاتُهُمْ شَتَّى وَدِينُهُمْ وَاحِدٌ فَلَيْسَ بَيْنَنَا نَبِيٌّ " .
#6133
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:No child is born but he is pricked by the satan and he begins to weep because of the pricking of the satan except the son of Mary and his mother. Abu Huraira then said: You may recite if you so like (the verse):" I seek Thy protection for her and her offspring against satan the accursed" (iii)
معمر نے زہری سے ، انھوں نے سعید سے ، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " پیدا ہونے والا جو بھی بچہ پیدا ہو تا ہے شیطان اس کو کچوکالگاتا ہے ۔ ماسوائے حضرت ابن مریم علیہ السلام اور ان کی والدہ کے ۔ " پھر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھو ( حضرت مریم علیہ السلام کی والدہ نے کہا : ) " میں اس کو اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَا مِنْ مَوْلُودٍ يُولَدُ إِلاَّ نَخَسَهُ الشَّيْطَانُ فَيَسْتَهِلُّ صَارِخًا مِنْ نَخْسَةِ الشَّيْطَانِ إِلاَّ ابْنَ مَرْيَمَ وَأُمَّهُ " . ثُمَّ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ { وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ}
#6134
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters (and the words are):" The newborn child is touched by the satan (when he comes in the world) and he starts crying because of the touch of satan." In the hadith transmitted on the authority of Shu'aib there is a slight variation of wording
معمر اور شعیب نے زہری سے ، اسی سند کے ساتھ خبر دی ، دونوں نے کہا : " ( بچہ ) جب پیدا ہو تا ہے تو ( شیطان ) اسے کچوکا لگا تا ہے اور وہ خود کو شیطان کے کچوکا لگا نے سے چیخ کر روتا ہے ۔ " اور شعیب کی حدیث میں ( خود کو ، کے بغیر صرف ) " شیطان کے کچوکا سے " کے الفا ظ ہیں ۔
وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، ح وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ، بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، جَمِيعًا عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالاَ " يَمَسُّهُ حِينَ يُولَدُ فَيَسْتَهِلُّ صَارِخًا مِنْ مَسَّةِ الشَّيْطَانِ إِيَّاهُ " . وَفِي حَدِيثِ شُعَيْبٍ " مِنْ مَسِّ الشَّيْطَانِ " .
#6135
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The satan touches every son of Adam on the day when his mother gives birth to him with the exception of Mary and her son
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابو یونس سلیم نے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " آدم کے ہر بیٹے کو جب اس کی ماں اسے جنم دیتی ہے ۔ شیطان کچوکا لگا تا ہے ، ماسوائے حضرت مریم علیہ السلام اور ان کے بیٹے ( حضرت عیسیٰ علیہ السلام ) کے ۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا يُونُسَ، سُلَيْمًا مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " كُلُّ بَنِي آدَمَ يَمَسُّهُ الشَّيْطَانُ يَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ إِلاَّ مَرْيَمَ وَابْنَهَا " .
#6136
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The crying of the child (starts) when the satan begins to prick him
سہیل ( بن ابی صالح ) کے والد نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ولادت کے وقت بچے کا رونا شیطا ن کے کچوکےسے ہو تا ہے ۔
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " صِيَاحُ الْمَوْلُودِ حِينَ يَقَعُ نَزْغَةٌ مِنَ الشَّيْطَانِ " .
#6137
Abu Huraira reported ahadith from the Messenger of Allah (ﷺ) (and one of them was) that Allah's Messenger (ﷺ) said Jesus son of Mary saw a person committing theft; thereupon Jesus said to him:You committed theft. He said: Nay. By Him besides Whom there is no god (I have not committed theft). Thereupon Jesus said: I affirm my faith in Allah It is my ownself that deceived me
۔ معمر نے ہمام بن منبہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : یہ احادیث ہیں جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ، ان میں سے ایک یہ ہے : اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے ایک شخص کو چوری کرتے ہو ئے دیکھا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اس سے کہا : تم نے چوری کی؟ اس نے کہا : ہر ز نہیں ، اس ذات کی قسم جس کے سوا کو ئی معبود نہیں !تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فر ما یا : میں اللہ پر ایمان لا یا اور اپنے آپ کو جھٹلا یا ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " رَأَى عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَجُلاً يَسْرِقُ فَقَالَ لَهُ عِيسَى سَرَقْتَ قَالَ كَلاَّ وَالَّذِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ . فَقَالَ عِيسَى آمَنْتُ بِاللَّهِ وَكَذَّبْتُ نَفْسِي " .
#6138
Anas b. Malik reported that a person came to Allah's Messenger (ﷺ) and said:O, the best of creation; thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: He is Ibrahim (peace be upon him)
علی بن مسہر اور ابن فضیل نے مختار بن فلفل سے روایت کی ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور کہا : " يا خَيرَ البرِيّة ِ " اے مخلوقات میں سے بہترین انسان ! " آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " وہ ابراہیم علیہ السلام ہیں ۔ " ( یعنی یہ ان کا لقب ہے ۔)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، وَابْنُ، فُضَيْلٍ عَنِ الْمُخْتَارِ، ح وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، أَخْبَرَنَا الْمُخْتَارُ، بْنُ فُلْفُلٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا خَيْرَ الْبَرِيَّةِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " ذَاكَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ " .
#6139
This hadith has been narrated on the authority of Anas through a different chain of transmitters
ابن ادریس نے کہا : میں نے عمرو بن حریث کے آزاد کردہ غلام مختار بن فلفل سے سنا ، انھوں نے کہامیں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، سنا ، وہ کہہ رہے تھے : ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !اسی ( پچھلی حدیث ) کے مانند ۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ سَمِعْتُ مُخْتَارَ بْنَ فُلْفُلٍ، مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ . بِمِثْلِهِ .
#6140
Anas reported a hadith like this from Allah's Apostle (ﷺ) through another chain of transmitters
سفیان نے مختار سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہو ئے سنا ، اسی کے مانند ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْمُخْتَارِ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ .
#6141
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as having said that Ibrahim (as) circumcised himself with the help of an adze when he was eighty years old
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : حضرت ابرا ہیم علیہ السلام نبی علیہ السلام نے اَسی سا ل کی عمر میں قدوم ( مقام پر تیشے یا بسولے کے ذریعے ) سے ختنہ کیا ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيَّ - عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اخْتَتَنَ إِبْرَاهِيمُ النَّبِيُّ عَلَيْهِ السَّلاَمُ وَهُوَ ابْنُ ثَمَانِينَ سَنَةً بِالْقَدُومِ " .
#6142
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri through another chain of transmitters
یو نس نے ابن شہاب سے خبر دی ، انھوں نے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن اور سعید بن مسیب سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ہم حضرت ابرا ہیم علیہ السلام کی نسبت شک کرنے کے زیادہ حق دار تھےجب انھوں نے کہا تھا : اے میرے رب! مجھے دکھا تو کس طرح مردوں کو زندہ کرتا ہے ۔ اللہ نے ان سے پو چھا : کیا آپ کو یقین نہیں ؟تو انھوں نے کہا : کیوں نہیں ! مگر صرف اس لیے ( دیکھنا چاہتا ہوں ) کہ میرے دل کو مزید اطمینان ہو جا ئے ۔ اور اللہ تعا لیٰ حضرت لوط علیہ السلام پر رحم کرے !وہ ایک مضبوط سہارے کی پناہ لیتے تھے ۔ اور اگر میں قید خانے میں اتنا لمبا عرصہ رہتا جتنا عرصہ حضرت یو سف علیہ السلام رہے تو میں بلا نے والے کی بات مان لیتا ( بلاوا ملتے ہی جیل سے باہر آجا تا ۔)
وَحَدَّثَنَاهُ إِنْ، شَاءَ اللَّهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، وَأَبَا، عُبَيْدٍ أَخْبَرَاهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَى حَدِيثِ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ .
#6143
This hadith has been narrated on the authority of Abu Huraira through another chain of transmitters but with a slight variation of wording
امام مالک نے زہری سے روایت کی کہ سعید بن مسیب اور ابو عبید نے انھیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یو نس کی زہری سے روایت کردہ حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی ،
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يَغْفِرُ اللَّهُ لِلُوطٍ إِنَّهُ أَوَى إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ " .
#6144
اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے مضبوط سہارے کی پناہ لی ہو ئی تھی ۔
#6145
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Prophet Ibrahim (peace be upon him) never told a lie but only thrice: two times for the sake of Allah (for example, his words): "I am sick," and his words: "But it was the big one amongst them which has done that" and because of Sara (his wife). He had come in a land inhabited by haughty and cruel men along with Sara. She was very good-looking amongst the people, so he said to her: If these people were to know that you are my wife they would snatch you away from me, so if they ask you tell them that you are my sister and in fact you are my sister in Islam, and I do not know of any other Muslim in this land besides I and you. And when they entered that land the tyrants came to see her and said to him (the king): 'There comes to your land a woman, whom you alone deserve to possess', so he (the king) sent someone (towards her) and she was brought to him, and Ibrahim (peace be upon him) stood in prayer. When she visited him (the tyrant king came) he could help but stretch his hand towards her and his hand was tied up. He said: 'Supplicate to Allah so that He may release my hand and I will do no harm to you.' She did that and the man repeated (the same highhandedness) and his hand was again tied up more tightly than on the first occasion. He said the same thing to her again, and she again did that (supplicated), but he repeated (the same highhandedness and his hands were tied up more tightly than on the previous occasion). He then again said: 'Supplicate your Lord so that He may set my hand free; by Allah I shall do no harm to you.' She did and his hand was freed. Then he called the person who had brought her and said to him: 'You have brought to me the satan and you have not brought to me a human being, so turn them out from my land,' and he gave Hajar as a gift to her. She returned (along with Hajar) and when Ibrahim (peace be upon him) saw her, he said: 'How have you returned?' She said: 'With full safety (have I returned). Allah held the hand of that debauch and he gave me a maid-servant.' Abu Huraira said: 'O sons of the rain of the sky, she is your mother
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے کبھی جھوٹ نہیں بولا مگر ، تین دفعہ ( بولا ) ( یہ اصطلاحاً جھوٹ کہے گئے ہیں ، حقیقت میں جھوٹ نہیں ہیں بلکہ یہ توریہ کی ایک شکل ہیں ) ان میں سے دو جھوٹ اللہ کے لئے تھے ، ایک تو ان کا یہ قول کہ ”میں بیمار ہوں“ اور دوسرا یہ کہ ”ان بتوں کو بڑے بت نے توڑا ہو گا“تیسرا جھوٹ سیدہ سارہ علیہا السلام کے بارے میں تھا ۔ اس کا قصہ یہ ہے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام ایک ظالم بادشاہ کے ملک میں پہنچے ان کے ساتھ ان کی بیوی سیدہ سارہ بھی تھیں اور وہ بڑی خوبصورت تھیں ۔ انہوں نے اپنی بیوی سے کہا کہ اس ظالم بادشاہ کو اگر معلوم ہو گا کہ تو میری بیوی ہے تو مجھ سے چھین لے گا ، اس لئے اگر وہ پوچھے تو یہ کہنا کہ میں اس شخص کی بہن ہوں اور تو اسلام کے رشتہ سے میری بہن ہے ۔ ( یہ بھی کچھ جھوٹ نہ تھا ) اس لئے کہ ساری دنیا میں آج میرے اور تیرے سوا کوئی مسلمان معلوم نہیں ہوتا جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام اس کی قلم رو ( اس کے علاقہ ) سے گزر رہے تھے تو اس ظالم بادشاہ کے کارندے اس کے پاس گئے اور بیان کیا کہ تیرے ملک میں ایک ایسی عورت آئی ہے جو تیرے سوا کسی کے لائق نہیں ہے ۔ اس نے سیدہ سارہ کو بلا بھیجا ۔ وہ گئیں تو سیدنا ابراہیم علیہ السلام نماز کے لئے کھڑے ہو گئے ( اللہ سے دعا کرنے لگے اس کے شر سے بچنے کے لئے ) جب سیدہ سارہ اس ظالم کے پاس پہنچیں تو اس نے بے اختیار اپنا ہاتھ ان کی طرف دراز کیا ، لیکن فوراً اس کا ہاتھ سوکھ گیا وہ بولا کہ تو اللہ سے دعا کر کہ میرا ہاتھ کھل جائے ، میں تجھے نہیں ستاؤں گا ۔ انہوں نے دعا کی اس مردود نے پھر ہاتھ دراز کیا ، پھر پہلے سے بڑھ کر سوکھ گیا ۔ اس نے دعا کے لئے کہا تو انہوں نے دعا کی ۔ پھر اس مردود نے دست درازی کی ، پھر پہلی دونوں دفعہ سے بڑھ کر سوکھ گیا ۔ تب وہ بولا کہ اللہ سے دعا کر کہ میرا ہاتھ کھل جائے ، اللہ کی قسم اب میں تجھ کو نہ ستاؤں گا ۔ سیدہ سارہ نے پھر دعا کی ، اس کا ہاتھ کھل گیا ۔ تب اس نے اس شخص کو بلایا جو سیدہ سارہ کو لے کر آیا تھا اور اس سے بولا کہ تو میرے پاس شیطاننی کو لے کر آیا ، یہ انسان نہیں ہے اس کو میرے ملک سے باہر نکال دے اور ایک لونڈی ہاجرہ اس کے حوالے کر دے سیدہ سارہ ہاجرہ کو لے کر لوٹ آئیں جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے دیکھا تو نمازوں سے فارغ ہوئے اور کہا کیا ہوا؟ سارہ نے کہا بس کہ سب خیریت رہی ، اللہ تعالیٰ نے اس بدکار کا ہاتھ مجھ سے روک دیا اور ایک لونڈی بھی دی ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر یہی لونڈی یعنی ہاجرہ تمہاری ماں ہے اے بارش کے بچو
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَمْ يَكْذِبْ إِبْرَاهِيمُ النَّبِيُّ عَلَيْهِ السَّلاَمُ قَطُّ إِلاَّ ثَلاَثَ كَذَبَاتٍ ثِنْتَيْنِ فِي ذَاتِ اللَّهِ قَوْلُهُ { إِنِّي سَقِيمٌ} . وَقَوْلُهُ { بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا} وَوَاحِدَةً فِي شَأْنِ سَارَةَ فَإِنَّهُ قَدِمَ أَرْضَ جَبَّارٍ وَمَعَهُ سَارَةُ وَكَانَتْ أَحْسَنَ النَّاسِ فَقَالَ لَهَا إِنَّ هَذَا الْجَبَّارَ إِنْ يَعْلَمْ أَنَّكِ امْرَأَتِي يَغْلِبْنِي عَلَيْكِ فَإِنْ سَأَلَكِ فَأَخْبِرِيهِ أَنَّكِ أُخْتِي فَإِنَّكِ أُخْتِي فِي الإِسْلاَمِ فَإِنِّي لاَ أَعْلَمُ فِي الأَرْضِ مُسْلِمًا غَيْرِي وَغَيْرَكِ فَلَمَّا دَخَلَ أَرْضَهُ رَآهَا بَعْضُ أَهْلِ الْجَبَّارِ أَتَاهُ فَقَالَ لَهُ لَقَدْ قَدِمَ أَرْضَكَ امْرَأَةٌ لاَ يَنْبَغِي لَهَا أَنْ تَكُونَ إِلاَّ لَكَ . فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا فَأُتِيَ بِهَا فَقَامَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ إِلَى الصَّلاَةِ فَلَمَّا دَخَلَتْ عَلَيْهِ لَمْ يَتَمَالَكْ أَنْ بَسَطَ يَدَهُ إِلَيْهَا فَقُبِضَتْ يَدُهُ قَبْضَةً شَدِيدَةً فَقَالَ لَهَا ادْعِي اللَّهَ أَنْ يُطْلِقَ يَدِي وَلاَ أَضُرُّكِ . فَفَعَلَتْ فَعَادَ فَقُبِضَتْ أَشَدَّ مِنَ الْقَبْضَةِ الأُولَى فَقَالَ لَهَا مِثْلَ ذَلِكَ فَفَعَلَتْ فَعَادَ فَقُبِضَتْ أَشَدَّ مِنَ الْقَبْضَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ فَقَالَ ادْعِي اللَّهَ أَنْ يُطْلِقَ يَدِي فَلَكِ اللَّهَ أَنْ لاَ أَضُرَّكِ . فَفَعَلَتْ وَأُطْلِقَتْ يَدُهُ وَدَعَا الَّذِي جَاءَ بِهَا فَقَالَ لَهُ إِنَّكَ إِنَّمَا أَتَيْتَنِي بِشَيْطَانٍ وَلَمْ تَأْتِنِي بِإِنْسَانٍ فَأَخْرِجْهَا مِنْ أَرْضِي وَأَعْطِهَا هَاجَرَ . قَالَ فَأَقْبَلَتْ تَمْشِي فَلَمَّا رَآهَا إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ انْصَرَفَ فَقَالَ لَهَا مَهْيَمْ قَالَتْ خَيْرًا كَفَّ اللَّهُ يَدَ الْفَاجِرِ وَأَخْدَمَ خَادِمًا . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَتِلْكَ أُمُّكُمْ يَا بَنِي مَاءِ السَّمَاءِ .
#6146
Hammam b. Munabbih reported that Abu Huraira reported many ahadith from Allah's Messenger (ﷺ) and one, of them speaks that Allah's Messenger (ﷺ) is reported to have said:Banu Isra'il used to take bath (together) naked and thus saw private parts of one another, but Moses (peace be upon him) used to take bath alone (in privacy), and they said: By Allah, nothing prevents Moses to take bath along with us; but scrotal hernia. One day when he (Moses) was taking bath (alone) he placed his clothes upon a stone, but the stone began to move along with his clothes. Moses raced after it saying: My garment, stone; until (some of the people) of Banu Isra'il looked at the private parts of Moses, and they said: By Allah, there is no trouble with Moses. The stone stopped after he (Moses) had been seen. He took hold of his garments and struck the stone. Abu Huraira said: I swear by Allah that there were six or seven scars on the stone because of the striking of stone by Moses (peace be upon him)
ہمام بن منبہ نے کہا : یہ احادیث ہیں جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ۔ ان میں سے ایک یہ ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " بنواسرائیل ننگے غسل کرتے تھے اور ایک دوسرے کی شرم گا ہ دیکھتے تھے جبکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اکیلے غسل کرتے تھے ، وہ لو گ ( آپس میں ) کہنے لگے : واللہ !حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ہمارے ساتھ نہانے سے اس کے سوا اور کو ئی بات نہیں روکتی کہ انھیں خصیتیں کی سوجن ہے ۔ ایک دن حضرت موسیٰ علیہ السلام غسل کرنے کے لیے گئے اور اپنے کپڑے ایک پتھر پر رکھ دیے ، وہ پتھر آپ کے کپڑے لے کر بھا گ نکلا ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام یہ کہتے ہو ئے اس کے پیچھے لپکے : میرے کپڑے ، پتھر !میرے کپڑے ، پتھر !یہاں تک کہ بنی اسرا ئیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی جا ئے ستر دیکھ لی ۔ وہ کہنے لگے : اللہ کی قسم! موسیٰ علیہ السلام کو تو کو ئی تکلیف نہیں ۔ اس کے بعد پتھر ٹھہر گیا اس وقت تک ان کو دیکھ لیا گیا تھا ۔ فر ما یا : انھوں نے اپنے کپڑے لے لیے اور پتھر کو ضربیں لگا نی شروع کر دیں ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : واللہ !پتھرپر چھ یا سات زخموں کے جیسے نشان پڑگئے ، یہ پتھر کو موسی علیہ السلام کی مار تھی ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ يَغْتَسِلُونَ عُرَاةً يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى سَوْأَةِ بَعْضٍ وَكَانَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ يَغْتَسِلُ وَحْدَهُ فَقَالُوا وَاللَّهِ مَا يَمْنَعُ مُوسَى أَنْ يَغْتَسِلَ مَعَنَا إِلاَّ أَنَّهُ آدَرُ . قَالَ فَذَهَبَ مَرَّةً يَغْتَسِلُ فَوَضَعَ ثَوْبَهُ عَلَى حَجَرٍ فَفَرَّ الْحَجَرُ بِثَوْبِهِ - قَالَ - فَجَمَحَ مُوسَى بِأَثَرِهِ يَقُولُ ثَوْبِي حَجَرُ ثَوْبِي حَجَرُ . حَتَّى نَظَرَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ إِلَى سَوْأَةِ مُوسَى فَقَالُوا وَاللَّهِ مَا بِمُوسَى مِنْ بَأْسٍ . فَقَامَ الْحَجَرُ بَعْدُ حَتَّى نُظِرَ إِلَيْهِ - قَالَ - فَأَخَذَ ثَوْبَهُ فَطَفِقَ بِالْحَجَرِ ضَرْبًا " . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَاللَّهِ إِنَّهُ بِالْحَجَرِ نَدَبٌ سِتَّةٌ أَوْ سَبْعَةٌ ضَرْبُ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ بِالْحَجَرِ .
#6147
Abu Huraira reported that Moses was a modest person. He was never seen naked and Banu Isra'iI said:(He was afraid to expose his private part) because he had been suffering from scrotal hernia. He (one day) took bath in water and placed his garments upon a stone. The stone began to move on quickly. He followed that and struck it with the help of a stone (saying): O stone, my garment; O stone, my garments, O stone; until it stopped near the big gathering of Isrii'll, and this verse was revealed (pertaining to the incident):" O you who believe, be not Iike those who maligned Moses, but Allah cleared him of what they said, and he was worthy of regard with Allah" (xxxiii)
عبد اللہ بن شفیق نے کہا : ہمیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتایا کہا : حضرت موسی علیہ السلام باحیا مرد تھے ، کہا : انھیں برہنہ نہیں دیکھا جا سکتا تھا کہا تو بنی اسرا ئیل نے کہا : انھیں خصیتین کی سوجن ہے ۔ کہا : ( ایک دن ) انھوں نے تھوڑے سے پانی ( کے ایک تالاب ) کے پاس غسل کیا اور اپنے کپڑے پتھر پر رکھ دیے تو وہ پتھر بھاگ نکلا آپ علیہ السلام اپنا عصالیے اس کے پیچھے ہو لیے اسے مارتے تھے ( اور کہتے تھے ۔ ) میرے کپڑے پتھر!میرے کپڑے پتھر!یہاں تک کہ وہ بنی اسرائیل کے ایک مجمع کے سامنے رک گیا ۔ اور ( اس کےحوالے سے آیت ) اتری : " ایمان والو! ان لوگوں کی طرح نہ ہو جا ؤ جنھوں نے موسیٰ علیہ السلام کو ایذادی اور اللہ نے موسیٰ علیہ السلام کو ان کی کہی ہو ئی بات سے براءت عطا کی اور وہ اللہ کے نزدیک انتہائی وجیہ ( خوبصورت اور وجاہت والے ) تھے ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ كَانَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ رَجُلاً حَيِيًّا - قَالَ - فَكَانَ لاَ يُرَى مُتَجَرِّدًا - قَالَ - فَقَالَ بَنُو إِسْرَائِيلَ إِنَّهُ آدَرُ - قَالَ - فَاغْتَسَلَ عِنْدَ مُوَيْهٍ فَوَضَعَ ثَوْبَهُ عَلَى حَجَرٍ فَانْطَلَقَ الْحَجَرُ يَسْعَى وَاتَّبَعَهُ بِعَصَاهُ يَضْرِبُهُ ثَوْبِي حَجَرُ ثَوْبِي حَجَرُ . حَتَّى وَقَفَ عَلَى مَلإٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَنَزَلَتْ { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَى فَبَرَّأَهُ اللَّهُ مِمَّا قَالُوا وَكَانَ عِنْدَ اللَّهِ وَجِيهًا}
#6148
Abu Huraira reported that the Angel of Death was sent to Moses (peace be upon him) to inform of his Lord's summons. When he came, he (Moses) boxed him and his eye was knocked out. He (the Angel of Death) came back to the Lord and said:You sent me to a servant. who did not want to die. Allah restored his eye to its proper place (and revived his eyesight), and then said: Go back to him and tell him that if he wants life he must place his hand on the back of an ox, and he would be granted as many years of life as the number of hair covered by his hand. He (Moses) said: My Lord what would happen then He said: Then you must court death. He said: Let it be now. And he supplicated Allah to bring him close to the sacred land. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: If I were there, I would have shown you his grave beside the road at the red mound
محمد بن رافع اور عبد بن حمید نے مجھے حدیث بیان کی ۔ عبد نے کہا : عبدلرزاق نے ہمیں خبر دی اور ابن رافع نے کہا : ہمیں حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہمیں معمر نے ابن طاوس سے خبر دی ، انھوں نے اپنے والد سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ملک الموت کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس بھیجا گیا جب وہ ( انسانی شکل اور صفات کے ساتھ ) ان کے پاس آیا تو انھوں نے اسے تھپڑ رسید کیا اور اس کی آنکھ پھوڑدی وہ اپنے رب کی طرف واپس گیا اور عرض کی : تونے مجھے ایسے بندے کے پاس بھیجا جو موت نہیں چاہتا ، تو اللہ تعا لیٰ نے اس کی آنکھ اسے لو ٹا دی اور فرما یا : دوبارہ ان کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ وہ ایک بیل کی کمر پر ہاتھ رکھیں ، ان کے ہاتھ کے نیچے جتنے بال آئیں گے ان میں ہر بال کے بدلے میں ایک سال انھیں ملے گا ۔ ( فرشتے نے پیغام دیا تو موسیٰ علیہ السلام نے ) کہا : میرے رب !پھر کیا ہو گا ؟فر ما یا پھر مو ت ہو گی ۔ توانھوں نے کہا : پھر ابھی ( آجائے ) تو انھوں نے اللہ تعا لیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ارض مقدس سے اتنا قریب کردے جتنا ایک پتھر کے پھینکے جا نے کا فا صلہ ہو تا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اگر میں وہاں ہو تا تو میں تمھیں ( بیت المقدس کے ) راستے کی ایک جانب سرخ ٹیلے کے نیچے ان کی قبر دکھا تا ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أُرْسِلَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَلَمَّا جَاءَهُ صَكَّهُ فَفَقَأَ عَيْنَهُ فَرَجَعَ إِلَى رَبِّهِ فَقَالَ أَرْسَلْتَنِي إِلَى عَبْدٍ لاَ يُرِيدُ الْمَوْتَ - قَالَ - فَرَدَّ اللَّهُ إِلَيْهِ عَيْنَهُ وَقَالَ ارْجِعْ إِلَيْهِ فَقُلْ لَهُ يَضَعُ يَدَهُ عَلَى مَتْنِ ثَوْرٍ فَلَهُ بِمَا غَطَّتْ يَدُهُ بِكُلِّ شَعْرَةٍ سَنَةٌ قَالَ أَىْ رَبِّ ثُمَّ مَهْ قَالَ ثُمَّ الْمَوْتُ . قَالَ فَالآنَ فَسَأَلَ اللَّهَ أَنْ يُدْنِيَهُ مِنَ الأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ رَمْيَةً بِحَجَرٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَلَوْ كُنْتُ ثَمَّ لأَرَيْتُكُمْ قَبْرَهُ إِلَى جَانِبِ الطَّرِيقِ تَحْتَ الْكَثِيبِ الأَحْمَرِ " .
#6149
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) having said that the Angel of Death came to Moses and said:Respond (to the call) of Allah (i. e. be prepared for death). Moses (peace be upon him) gave a blow at the eye of the Angel of Death and knocked it out. The Angel went back to Allah (the Exalted) and said: You sent me to your servant who does not like to die and he knocked out my eye. Allah restored his eye to its proper place (and revived his eyesight) and said: Go to My servant and say: Do you want life? And in case you want life, keep your hand on the body of the ox and you would live such number of years as the (number of) hair your hand covers. He (Moses) said: What, then? He said: Then you would die, whereupon he (Moses) said: Then why not now? (He then prayed): Allah, cause me to die close to the sacred land. Allah's Messenger (ﷺ) said: Had I been near that place I would have shown his grave by the side of the path at the red mound
۔ محمد بن رافع کہا : ہمیں عبدلرزاق نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں معمر نے ہمام بن منبہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : یہ احادیث ہیں جوحضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ۔ ان میں سے ( ایک حدیث یہ ) ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ملک الموت حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا اور ان سے کہا : اپنے رب کے پاس چلیں ؟ تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کی آنکھ پر تھپڑ مار ا اور اس کی آنکھ نکا ل دی فر ما یا : " ملک الموت اللہ تعا لیٰ کے پاس واپس گیا اور کہا : تونے مجھے ایسے بندے کے پاس بھیجا تھا جو موت نہیں چاہتا ، اور اس نے میری آنکھ پھوڑ دی ہے چنانچہ اللہ تعا لیٰ نے اس کی آنکھ اسے لو ٹا دی اور فر ما یا : میرے بندے کے پاس واپس جاؤ اور کہو : آپ زند گی چاہتے ہیں ؟اگر زندگی چا ہتے ہیں تو اپنا ہاتھ ایک بیل کی پشت پر رکھیں ، جتنے بال آپ کے ہاتھ کے نیچے آئیں گے اتنے سال آپ زندہ رہیں گے ۔ ( یہ سن کر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ) کہا : پھر کیا ہو گا ؟کہا : پھر آپ کو موت آجائے گی کہا : تو پھر ابھی جلدی ہی ( موت آجا ئے اور دعا کی ) اے میرے پروردگار!مجھے ارض مقدس سے ایک پتھر کے پھینکنے کے فا صلےپرموت دے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " االلہ کی قسم! گر میں اس جگہ کے پاس ہو تا تو میں تم کو راستے کی ایک جانب سرخ ٹیلے کے پاس ان کی قبر دکھا تا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " جَاءَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَقَالَ لَهُ أَجِبْ رَبَّكَ - قَالَ - فَلَطَمَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ عَيْنَ مَلَكِ الْمَوْتِ فَفَقَأَهَا - قَالَ - فَرَجَعَ الْمَلَكُ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى فَقَالَ إِنَّكَ أَرْسَلْتَنِي إِلَى عَبْدٍ لَكَ لاَ يُرِيدُ الْمَوْتَ وَقَدْ فَقَأَ عَيْنِي - قَالَ - فَرَدَّ اللَّهُ إِلَيْهِ عَيْنَهُ وَقَالَ ارْجِعْ إِلَى عَبْدِي فَقُلِ الْحَيَاةَ تُرِيدُ فَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْحَيَاةَ فَضَعْ يَدَكَ عَلَى مَتْنِ ثَوْرٍ فَمَا تَوَارَتْ يَدُكَ مِنْ شَعْرَةٍ فَإِنَّكَ تَعِيشُ بِهَا سَنَةً قَالَ ثُمَّ مَهْ قَالَ ثُمَّ تَمُوتُ . قَالَ فَالآنَ مِنْ قَرِيبٍ رَبِّ أَمِتْنِي مِنَ الأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ رَمْيَةً بِحَجَرٍ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَاللَّهِ لَوْ أَنِّي عِنْدَهُ لأَرَيْتُكُمْ قَبْرَهُ إِلَى جَانِبِ الطَّرِيقِ عِنْدَ الْكَثِيبِ الأَحْمَرِ " .