#575
Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: Woe to the heels because of hell-fire
سہیل کے والد ابو صالح نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَيْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ " .
#576
Jabir reported:'Umar b. Khattab said that a person performed ablution and left a small part equal to the space of a nail (unwashed). The Apostle of Allah (ﷺ) saw that and said: Go back and perform ablution well. He then went back (performed ablution well) and offered the prayer
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سےروایت ہے ، انہوں نے کہا : مجھے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ایک شخص نے وضو کیا تو اپنے پاؤں پر ایک ناخن جتنی جگہ چھوڑ دی ، تو نبی ﷺ نے اس کو دیکھ لیا اور فرمایا : ’’واپس جاؤ اور اپنا وضو خوب اچھی طرح کرو- ‘ ‘ وہ واپس گیا ، ( حکم پر عمل کیا ) پھر نماز پڑھی ۔
حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، أَنَّ رَجُلاً، تَوَضَّأَ فَتَرَكَ مَوْضِعَ ظُفُرٍ عَلَى قَدَمِهِ فَأَبْصَرَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " ارْجِعْ فَأَحْسِنْ وُضُوءَكَ " . فَرَجَعَ ثُمَّ صَلَّى .
#577
Abu Huraira reported:Allah's Messenger (ﷺ) said: When a bondsman-a Muslim or a believer-washes his face (in course of ablution), every sin he contemplated with his eyes, will be washed away from his face along with water, or with the last drop of water; when he washes his hands, every sin they wrought will be effaced from his hands with the water, or with the last drop of water; and when he washes his feet, every sin towards which his feet have walked will be washed away with the water or with the last drop of water with the result that he comes out pure from all sins
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جب ایک مسلم ( یامومن ) بندہ وضو کرتا ہے اور اپنا چہرہ دھوتا ہے تو پانی ( یاپانی کے آخری قطرے ) کے ساتھ اس کے چہرے سے وہ سارے گناہ ، جنہیں اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے کیا تھا ، خارج ہو جاتے ہیں اور جب وہ اپنے ہاتھ دھوتا ہے تو پانی ( یا پانی کے آخری قطرے ) کے ساتھ وہ سارے گناہ ، جو اس کے ہاتھوں نے پکڑ کر کیے تھے ، خارج ہو جاتے ہیں اور جب وہ اپنے دونوں پاؤں دھوتا ہے تو پانی ( یا پانی کے آخری قطرے ) کے ساتھ وہ تمام گناہ ، جو اس کے پیروں نے چل کر کیے تھے ، خارج ہو جاتے ہیں حتی کہ وہ گناہون سے پاک ہو کر نکلتا ہے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ - أَوِ الْمُؤْمِنُ - فَغَسَلَ وَجْهَهُ خَرَجَ مِنْ وَجْهِهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ نَظَرَ إِلَيْهَا بِعَيْنَيْهِ مَعَ الْمَاءِ - أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ - فَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَ مِنْ يَدَيْهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ كَانَ بَطَشَتْهَا يَدَاهُ مَعَ الْمَاءِ - أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ - فَإِذَا غَسَلَ رِجْلَيْهِ خَرَجَتْ كُلُّ خَطِيئَةٍ مَشَتْهَا رِجْلاَهُ مَعَ الْمَاءِ - أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ - حَتَّى يَخْرُجَ نَقِيًّا مِنَ الذُّنُوبِ " .
#578
Uthman b. 'Affan reported:The Messenger of Allah (way peace be upon him) said: He who performed ablution well, his sins would come out from his body, even coming out from under his nails
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جس نے وضو کیا اور خوب اچھی طرح وضو کیا ، تو اس کے جسم سے اس کےگناہ خارج ہو جاتے ہیں حتی کہ اس کے ناخنوں کےنیچے سے بھی نکل جاتے ہیں ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرِ بْنِ رِبْعِيٍّ الْقَيْسِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الْمَخْزُومِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ، - وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ - حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ حُمْرَانَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ جَسَدِهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِهِ " .
#579
Nu'aim b. 'Abdullah al-Mujmir reported:I saw Abu Huraira perform ablution. He washed his face and washed it well. He then washed his right hand including a portion of his arm. He then washed his left hand including a portion of his arm. He then wiped his head. He then washed his right foot including his shank, and then washed his left foot including shank, and then said: This is how I saw Allah's Messenger (ﷺ) perform his ablution. And (Abu Huraira) added that the Messenger of Allah (ﷺ) had observed: You shall have your faces hands and feet bright on the Day of Resurrection because of your perfect ablution. He who can afford among you, let him increase the brightness of his forehead and that of hands and legs
عمارہ بن غزیہ انصاری نےنعیم بن عبداللہ مجمر سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے ابوہریرہ ﷺ کو وضو کرتے دیکھا ، انہوں نے اپنا چہرہ دھویا اور اچھی طرح وضو کیا ، پھر اپنا دایاں بازو دھویا حتیٰ کہ اوپر بازو کی ابتداء تک پہنچے ، پھر اپنا بایاں بازو دھویا حتیٰ کہ اوپر بازو کی ابتداء تک پہنچے ، پھر اپنے سر کا مسح کیا ، پھر اپنا دایاں پاؤں دھویا حتی کہ اوپر پنڈلی کی ابتداء تک پہنچے ، پھر اپنا بایاں پاؤں دھویا حتیٰ کہ اوپر پنڈلی کی ابتداء تک پہنچے ، پھر کہا : رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح وضو کرتے دیکھا ، اور کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’قیامت کےدن اچھی طرح وضو کرنے کی وجہ سے تم لوگ ہی روشن چہروں اور سفید چمکدار ہاتھ پاؤں والے ہو گے ، لہٰذا تم میں سے جو اپنے چہرے اور ہاتھ پاؤں کی روشنی اور سفیدی کو آگے تک بڑھا سکے ، بڑھا لے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ وَالْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ بْنِ دِينَارٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ، حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ الأَنْصَارِيُّ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ، قَالَ رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَتَوَضَّأُ فَغَسَلَ وَجْهَهُ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى حَتَّى أَشْرَعَ فِي الْعَضُدِ ثُمَّ يَدَهُ الْيُسْرَى حَتَّى أَشْرَعَ فِي الْعَضُدِ ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى حَتَّى أَشْرَعَ فِي السَّاقِ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى حَتَّى أَشْرَعَ فِي السَّاقِ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَوَضَّأُ . وَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَنْتُمُ الْغُرُّ الْمُحَجَّلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ إِسْبَاغِ الْوُضُوءِ فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ فَلْيُطِلْ غُرَّتَهُ وَتَحْجِيلَهُ " .
#580
Nu'aim b. 'Abdallah reported:He saw Abu Huraira perform ablution. He washed his face and washed his hands up to the arms. He then washed his feet and reached up to the shanks and then said: I heard Allah's Messenger (ﷺ) say: My people would come with bright faces and bright hands and feet on account of the marks of ablution, so he who can increase the lustre of his forehead (and that of his hands and legs) should do so
سعید بن ابی ہلال نے نعیم بن عبداللہ سےروایت کی کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا ، انہوں نے اپنا چہرہ اور بازو دھوئےیہاں تک کہ کندھوں کے قریب پہنچ گئے ، پھر انہوں نے اپنے پاؤں دھوئے ، یہاں تک کہ اوپر پنڈلیوں تک لے گئے ، پھر کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ’’ میری امت کے لوگ قیامت کے دن وضو کے اثر سے روشن چہروں اور سفید چمکدار ہاتھ پاؤں کے ساتھ آئیں گے ، لہٰذا تم میں سے جو اپنی روشنی کو آگے تک بڑھا سکتا ہے ، بڑھا لے ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلاَلٍ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ رَأَى أَبَا هُرَيْرَةَ يَتَوَضَّأُ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ حَتَّى كَادَ يَبْلُغُ الْمَنْكِبَيْنِ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ حَتَّى رَفَعَ إِلَى السَّاقَيْنِ ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ أُمَّتِي يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ أَثَرِ الْوُضُوءِ فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يُطِيلَ غُرَّتَهُ فَلْيَفْعَلْ " .
#581
Abu Huraira reported:Verily Allah's Messenger (ﷺ) said: My Cistern has its dimensions wider than the distance between Aila and Aden, and its water is whiter than ice and sweeter than the honey diluted with milk, and its cups are more numerous than the numbers of the stars. Verily I shall prevent the (faithless) people therefrom just as a man prevents the camels of the people from his fountain. They said: Messenger of Allah, will you recognise us on that day? He said: Yes, you will have distinctive marks which nobody among the peoples (except you) will have; you would come to me with blazing forehead and bright hands and feet on account of the traces of ablution
مروان نے ابو مالک اشجعی سعد بن طارق سے ، انہوں نے ابو حازم سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’میرا حوض عدن سے ایلہ تک کے فاصلے سے زیادہ وسیع ہے اور ( اس کا پانی ) برف سے زیادہ سفید اور شہد سے ملے دودھ سے زیادہ شیریں ہے اور اس کے برتن ستاروں کی تعداد سے زیادہ ہیں ، ( یہ خالصتاً میری امت کے لیے ہے ، اس لیے ) میں ( امت کے علاوہ دوسرے ) لوگوں کو اس سے روکوں گا ، جیسےآدمی اپنےحوض سے لوگوں کے اونٹوں کو روکتا ہے ۔ ‘ ‘ صحابہ کرام نے پوچھا : اے اللہ کے رسول !کیا اس دن آپ ہمیں پہچانیں گے؟ آپ نے فرمایا : ’’ہاں ، تمہاری ایک علامت ہو گی جو دوسری کسی امت کی نہیں ہو گی ، تم وضو کے اثر سے چمکتے ہوئے چہرے اور ہاتھ پاؤں کے ساتھ میرے پاس آؤ گے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، جَمِيعًا عَنْ مَرْوَانَ الْفَزَارِيِّ، - قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، - عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ، سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ حَوْضِي أَبْعَدُ مِنْ أَيْلَةَ مِنْ عَدَنٍ لَهُوَ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ الثَّلْجِ وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ بِاللَّبَنِ وَلآنِيَتُهُ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ النُّجُومِ وَإِنِّي لأَصُدُّ النَّاسَ عَنْهُ كَمَا يَصُدُّ الرَّجُلُ إِبِلَ النَّاسِ عَنْ حَوْضِهِ " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَعْرِفُنَا يَوْمَئِذٍ قَالَ " نَعَمْ لَكُمْ سِيمَا لَيْسَتْ لأَحَدٍ مِنَ الأُمَمِ تَرِدُونَ عَلَىَّ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ أَثَرِ الْوُضُوءِ " .
#582
Abu Huraira reported the Messenger of Allah (ﷺ) said:My people would come to me on the Cistern and I would drive away persons (from it) just as a person drives away other people's camels from his camels. They (the hearers) said: Apostle of Allah, would you recognize us? He replied: Yea, you would have a mark which other people will not have. You would come to me with a white blaze on your foreheads and white marks on your feet because of the traces of ablution. A group among you would be prevented from coming to me, and they would not meet me, and I would say: O my Lord, they are my companions. Upon this an angel would reply to me saying: Do you know what these people did after you
(مروان کے بجائے ) ابن فضیل نے ابو مالک اشجعی سے ، انہوں نے ابو حازم سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’میری امت میرے پاس حوض پر آئے گی اور میں اسی طرح ( دوسرے ) لوگوں کو اس ( حوض ) سے دور ہٹاؤں گا جیسےایک آدمی دوسرے آدمی کے اونٹوں کو اپنے اونٹوں سے ہٹاتا ہے ۔ ‘ ‘ صحابہ کرام نے عرض کی : اے اللہ کے نبی !کیا آپ ہمیں پہچانیں گے؟ آپ نے فرمایا : ’’ہاں ، تمہاری ایک نشانی ہو گی جو تمہارے سوا کسی اور کی نہیں ہو گی ، تم میرے پا س وضو کےاثرات سے روشن چہرے اور چمکدارہاتھ پاؤں کے ساتھ آؤ گے ۔ تم میں سےایک گروہ کو زبردستی میرے پاس آنے سےروک دیا جائے گا ، تو وہ مجھ تک نہیں پہنچ سکیں گے ۔ اس پر میں کہوں گا : اے میرے رب !یہ میرے ساتھیوں میں سے ہیں ۔ ایک فرشتہ مجھے جواب دے گا او رکہے گا : کیا آپ جانتے ہیں انہوں نےآپ کے بعد کیا کیا کام ایجاد کیے تھے؟ ‘ ‘
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَوَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، - وَاللَّفْظُ لِوَاصِلٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " تَرِدُ عَلَىَّ أُمَّتِي الْحَوْضَ وَأَنَا أَذُودُ النَّاسَ عَنْهُ كَمَا يَذُودُ الرَّجُلُ إِبِلَ الرَّجُلِ عَنْ إِبِلِهِ " . قَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَتَعْرِفُنَا قَالَ " نَعَمْ لَكُمْ سِيمَا لَيْسَتْ لأَحَدٍ غَيْرِكُمْ تَرِدُونَ عَلَىَّ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ آثَارِ الْوُضُوءِ وَلَيُصَدَّنَّ عَنِّي طَائِفَةٌ مِنْكُمْ فَلاَ يَصِلُونَ فَأَقُولُ يَا رَبِّ هَؤُلاَءِ مِنْ أَصْحَابِي فَيُجِيبُنِي مَلَكٌ فَيَقُولُ وَهَلْ تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ " .
#583
Hudhaifa reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: My Cistern is bigger than the space between Aila and Aden. By Him in Whose Hand is my life, I will drive away persons (from it) just as a person drives away unknown camels from his cistern. They (the companions) said: Messenger of Allah, would you recognise us? He said: Yes, you would come to me with white faces, and white hands and feet on account of the traces of ablution. None but you would have (this mark)
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’بلاشبہ میرا حوض ایلہ سے عدن تک کے فاصلے سے زیادہ وسیع ہے ، اس ذات کی قسم جس کےہاتھ میں میری جان ہے ! میں اس سے اسی طرح ( دوسرے ) لوگوں کو ہٹاؤں گا ، جس طرح آدمی اجنبی اونٹوں کو اپنے حوض سے ہٹاتا ہے ۔ ‘ ‘ صحابہ نے عرض کی : اےاللہ کے رسول ! اور کیا آپ ہمیں پہچان لیں گے؟آپ نے فرمایا : ’’ہاں ، تم میرے پاس روشن چہرے اور چمکتے ہوئے سفید ہاتھ پاؤں کے ساتھ آؤگے ، یہ علامت تمہارے سوا کسی اور میں نہیں ہو گی ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ حَوْضِي لأَبْعَدُ مِنْ أَيْلَةَ مِنْ عَدَنٍ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لأَذُودُ عَنْهُ الرِّجَالَ كَمَا يَذُودُ الرَّجُلُ الإِبِلَ الْغَرِيبَةَ عَنْ حَوْضِهِ " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَتَعْرِفُنَا قَالَ " نَعَمْ تَرِدُونَ عَلَىَّ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ آثَارِ الْوُضُوءِ لَيْسَتْ لأَحَدٍ غَيْرِكُمْ " .
#584
Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (ﷺ) came to the graveyard and said: "Peace be upon you! The abode of the believing people and we, if God so wills, are about to join you. I love to see my brothers." They (the hearers) said: Aren't we your brothers, O Messenger of Allah? He said: You are my companions, and our brothers are those who have, so far, not come into the world. They said: Messenger of Allah, how would you recognise those persons of your Ummah who have not yet been born? He said: Supposing a man had horses with white blazes on foreheads and legs among horses which were all black, tell me, would he not recognise his own horses? They said: Certainly, O Messenger of Allah. He said: They would come with white faces and arms and legs owing to ablution, and I would arrive at the Cistern before them. Some people would be driven away from my Cistern as the stray camel is driven away. I would call out: Come, come. Then it would be said (to me): These people changed themselves after you, and I would say: Be off, be off
اسماعیل ( بن جعفر ) نے علاء سے ، انہوں نے اپنے والد سےاور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسو ل اللہﷺقبرستان میں آئے اور فرمایا : ’’اے ایمان والی قوم کے گھرانے ! تم سب پر سلامتی ہو اور ہم بھی ان شاء اللہ تمہیں ساتھ ملنے والے ہیں ، میری خواہش ہے کہ ہم نے اپنے بھائیوں کو ( بھی ) دیکھا ہوتا ۔ ‘ ‘ صحابہ نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ؟ آپ نے جواب دیا : ’’تم میرے ساتھی ہو اور ہمارے بھائی وہ لوگ ہیں جو ابھی تک ( دنیا میں ) نہیں آئے ۔ ‘ ‘ اس پر انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! آپ اپنی امت کے ان لوگوں کو ، جو ابھی ( دنیامیں ) نہیں آئے ، کیسے پہچانیں گے؟ تو آپ نے فرمایا : ’’بتاؤ! اگر کالے سیاہ گھوڑوں کے درمیان کسی کے سفید چہرے ( اور ) سفید پاؤں والے گھوڑے ہوں تو کیا وہ اپنے گھوڑوں کو نہیں پہچانے گا؟ ‘ ‘ انہوں نے کہا : کیوں نہیں ، اے اللہ کےرسول! آپ نے فرمایا : ’’وہ وضو کی بناپر روشن چہروں ، سفید ہاتھ پاؤں کے ساتھ آئیں گے اور میں حوض پر ان کا پیشروہوں گا ، خبردار ! کچھ لوگ یقیناً میرے حوض سے پرے ہٹا ئے جائیں گے ، جیسے ( کہیں اور کا ) بھٹکا ہوا اونٹ ( جوگلے کا حصہ نہیں ہوتا ) پرے ہٹا دیا جاتا ہے ، میں ان کی آوازدوں گا ، دیکھو! ادھر آ جاؤ ۔ تو کہاجائے گا ، انہوں نے آپ کے بعد ( اپنے قول و عمل کو ) بدل لیا تھا ۔ تو میں کہوں گا : دور ہو جاؤ ، دور ہو جاؤ ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَسُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ، - قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - أَخْبَرَنِي الْعَلاَءُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَتَى الْمَقْبُرَةَ فَقَالَ " السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لاَحِقُونَ وَدِدْتُ أَنَّا قَدْ رَأَيْنَا إِخْوَانَنَا " . قَالُوا أَوَلَسْنَا إِخْوَانَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " أَنْتُمْ أَصْحَابِي وَإِخْوَانُنَا الَّذِينَ لَمْ يَأْتُوا بَعْدُ " . فَقَالُوا كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ لَمْ يَأْتِ بَعْدُ مِنْ أُمَّتِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ " أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلاً لَهُ خَيْلٌ غُرٌّ مُحَجَّلَةٌ بَيْنَ ظَهْرَىْ خَيْلٍ دُهْمٍ بُهْمٍ أَلاَ يَعْرِفُ خَيْلَهُ " . قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " فَإِنَّهُمْ يَأْتُونَ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنَ الْوُضُوءِ وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ أَلاَ لَيُذَادَنَّ رِجَالٌ عَنْ حَوْضِي كَمَا يُذَادُ الْبَعِيرُ الضَّالُّ أُنَادِيهِمْ أَلاَ هَلُمَّ . فَيُقَالُ إِنَّهُمْ قَدْ بَدَّلُوا بَعْدَكَ . فَأَقُولُ سُحْقًا سُحْقًا " .
#585
Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (may peace The upon him) went out to the graveyard and said: Peace be upon you, the abode of the believing people. and If Allah so wills we shall join you.... (and so on and so forth) like the hadith narrated by Isma'il b. Ja'far except the words of Malik: Then some persons would be driven away from my Cistern
(اسماعیل کے بجائے ) عبدالعزیز دراوردی اور مالک نے علاء سے ، انہوں نے اپنےوالد عبد الرحمن سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ قبرستان کی طرف تشریف لے گئے اور فرمایا : ’’اے ایمان والی قوم کے دیار! تم سب پر سلامتی ہو ، ہم بھی اگر اللہ نےچاہا تو تمہارے ساتھ ملنے والے ہیں ۔ ‘ ‘ اس کے بعد اسماعیل بن جعفر کی روایت کی طرح ہے ۔ ہاں مالک کی روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ تو کچھ لوگوں کو میرے حوض سے ہٹایا جائے گا ۔ ‘ ‘ ( الا ، یعنی خبردار کے بجائے ف ، یعنی ’تو ‘ کا لفظ ہے ۔)
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ح وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، جَمِيعًا عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ إِلَى الْمَقْبُرَةِ فَقَالَ " السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لاَحِقُونَ " . بِمِثْلِ حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ مَالِكٍ " فَلَيُذَادَنَّ رِجَالٌ عَنْ حَوْضِي " .
#586
Abu Hazim reported:I was (standing) behind Abu Huraira and he was performing the ablution for prayer. He extended the (washing) of his hand that it went up to his armpit. I said to him: O Abu Huraira, what is this ablution? He said: O of the tribe of Faruukh, you are here; if I knew that you were here, I would have never performed ablution like this; I have heard my Friend (ﷺ) say. In a believer adornment would reach the places where ablution reaches
ابو حازم سے روایت ہے ، انہوں نےکہا : میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے کھڑا تھا اور وہ نماز کے لیے وضو کر رہے تھے ، وہ اپنا ہاتھ آگے بڑھاتے ، یہاں تک کہ بغل تک پہنچ جاتا ، میں نے ان سے پوچھا : اے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ! یہ کس طرح کا وضو ہے؟ انہوں نے جواب دیا : اے فروخ کی اولاد ( اے بنی فارس ) ! تم یہاں ہو ؟ اگر مجھے پتہ ہوتا کہ تم لوگ یہاں کھڑے ہو تو میں اس طرح وضو نہ کرتا ۔ میں نے ا پنے خلیل ﷺ کو فرماتے ہوئے سناتھا : ’’ مومن کازیور وہاں پہنچے گا جہاں اس کے وضو کا پانی پہنچے گا ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا خَلَفٌ، - يَعْنِي ابْنَ خَلِيفَةَ - عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيَّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ كُنْتُ خَلْفَ أَبِي هُرَيْرَةَ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ لِلصَّلاَةِ فَكَانَ يَمُدُّ يَدَهُ حَتَّى تَبْلُغَ إِبْطَهُ فَقُلْتُ لَهُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ مَا هَذَا الْوُضُوءُ فَقَالَ يَا بَنِي فَرُّوخَ أَنْتُمْ هَا هُنَا لَوْ عَلِمْتُ أَنَّكُمْ هَا هُنَا مَا تَوَضَّأْتُ هَذَا الْوُضُوءَ سَمِعْتُ خَلِيلِي صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " تَبْلُغُ الْحِلْيَةُ مِنَ الْمُؤْمِنِ حَيْثُ يَبْلُغُ الْوَضُوءُ " .
#587
Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: Should I not suggest to you that by which Allah obliterates the sins and elevates the ranks (of a man). They (the hearers) said: Yes, Messenger of Allah. He said: Performing the ablution thoroughly despite odds, tranverside of more paces towards the mosque, and waiting for the next prayer after observing a prayer, and that is mindfulness
اسماعیل نے بیان کیا کہ انہیں علاء نے خبر دی ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سےروایت کی کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا : ’’کیا میں تمہیں ایسی جیز سے آگاہ نہ کروں جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ گناہ مٹا دیتا ہے او ر درجات بلند فرماتا ہے ؟ ‘ ‘ صحابہ نے عرض کی : اے اللہ کےر سول کیوں نہیں ! آپ نے فرمایا : ’’ناگواریوں باوجود اچھی طرح وضوکرنا ، مساجد تک زیادہ قدم چلنا ، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا ، سو یہی رباط ( شیطان کے خلاف جنگ کی چھاؤنی ( ہے ۔ ‘ ‘)
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ، - قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - أَخْبَرَنِي الْعَلاَءُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَلاَ أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ " . قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ وَانْتِظَارُ الصَّلاَةِ بَعْدَ الصَّلاَةِ فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ " .
#588
This hadith has been narrated on the authority of `Ali b. `Abd al-Rahman with the same chain of transmitters and there is no mention of the word of al-Ribat in the hadith transmitted by Shu`ba and in the hadith narrated by Malik "Ribat" has been mentioned twice. This is the "Ribat" for you, this is the "Ribat" for you
(بجائے اسماعیل کے ) مالک اور شعبہ نے اسی سند کے ساتھ علاء بن عبدالرحمن سے روایت کی ، شعبہ کی حدیث میں ’’رباط ‘ ‘ کا تذکرہ نہیں ہے جبکہ مالک کی حدیث میں دوبارہ ہے : ’’یہی رباط ہے ، یہی رباط ہے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، جَمِيعًا عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ شُعْبَةَ ذِكْرُ الرِّبَاطِ وَفِي حَدِيثِ مَالِكٍ ثِنْتَيْنِ " فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ " .
#589
Abu Huraira reported:The Apostle (ﷺ) said: Were it not that I might over-burden the believers-and in the hadith transmitted by Zuhair" people" -I would have ordered them to use toothstick at every time of prayer
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نےفرمایا : ’’اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ میں مسلمانوں کو ( زہیر کی روایت میں ہے : اپنی امت کو ) مشقت میں ڈال دوں گا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ - وَفِي حَدِيثِ زُهَيْرٍ عَلَى أُمَّتِي - لأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلاَةٍ " .
#590
Miqdam b. Shuraih narrated it from his father who said:I asked A'isha what Allah's Apostle (ﷺ) did first when he entered his house, and she replied: He used tooth-stick (first of all)
مسعر نے مقدام بن شریح سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت عائشہ ؓ سے پوچھا ، میں نے کہا : نبی ﷺ جب گھر تشریف لاتے تو کس بات ( کام ) سے آغاز فرماتے تھے ؟انہوں نے فرمایا : مسواک سے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ قُلْتُ بِأَىِّ شَىْءٍ كَانَ يَبْدَأُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ قَالَتْ بِالسِّوَاكِ .
#591
A'isha reported:Whenever Allah's Messenger (ﷺ) entered his house, he used tooth-stick first of all
سفیان نے مقدام بن شریح سے باقی ماندہ سابقہ سند سے حضرت عائشہ ؓؓؓؓؓؓؓؓؓؓؓؓؓؓسے روایت کی کہ نبی ﷺجب اپنے گھر تشریف لاتے تو مسواک سے آغاز فرماتے ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ بَدَأَ بِالسِّوَاكِ .
#592
Abu Musa reported:I went to the Apostle (ﷺ) and found one end of the tooth-stick upon his tongue (i. e. he was rinsing his mouth)
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو مسواک کا ایک کنارا آپ کی زبان پر تھا ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ غَيْلاَنَ، - وَهُوَ ابْنُ جَرِيرٍ الْمَعْوَلِيُّ - عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَطَرَفُ السِّوَاكِ عَلَى لِسَانِهِ .
#593
Huddaifa reported:Whenever the Messenger of Allah (ﷺ) got up for Tahajjud prayer, he cleansed his mouth with the tooth-stick
ہشیم نے حصین سے ، انہوں نے ابو وائل سے ، انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : جب رسول اللہ ﷺ رات کو تہجد کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنا دہن مبارک مسواک سے اچھی طرح صاف فرماتے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا قَامَ لِيَتَهَجَّدَ يَشُوصُ فَاهُ بِالسِّوَاكِ .
#594
This hadith is reported from Hudaifa by another chain of transmitters. Whenever he (the Holy Prophet) got up in the night, they (the transmitters) have not mentioned the words:for offering Tahajjud prayer
منصور اور اعمش دونوں نے ابو وائل سے ، انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ جب رات کو اٹھتے ...... آگے سابقہ روایت کی طرح ہے لیکن انہوں نے ’’تہجد کے لیے ‘ ‘ کے الفاظ روایت نہیں کیے ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ، كِلاَهُمَا عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ . بِمِثْلِهِ وَلَمْ يَقُولُوا لِيَتَهَجَّدَ .
#595
Hudaifa reported:Whenever he (the Holy Prophet) got up for prayer during the night, he cleansed his mouth with the tooth-stick
سفیان نے منصور کےحوالے سے اور حصین اور اعمش نے ( بھی منصور کی طرح ) ابو وائل سے اور انہوں نے حضرت حذیفہ ﷺ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ جب رات کو اٹھتے تو اپنا دہن مبارک مسواک سے اچھی طرح صاف فرماتے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَحُصَيْنٌ، وَالأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَشُوصُ فَاهُ بِالسِّوَاكِ .
#596
Ibn 'Abbas reported that he spent a night at the house of the Messenger of Allah (ﷺ), The Apostle of Allah (way peace be upon him) got up for prayer in the latter part of the night. He went out and looked towards the sky and then recited this verse (190th) of AI-i-'Imran:" Verily in the creation of the heavens and the earth and the alternation of night and day." up to the (words)" save us from the torment of Hell." He then returned to his house, used the tooth-stick, performed the ablution, and then got up and offered the prayer. He than lay down on the bed. and again got up and went out and looked towards the sky and recited this verse (mentioned above), then returned, used the tooth-stick, performed ablution and again offered the prayer
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ابو متوکل کو بتایا کہ انہوں نے ایک رات اللہ کے نبی ﷺ کے ہاں گزاری ۔ اللہ کے نبی ﷺ رات کے آخری حصے میں اٹھے ، باہر نکلے اور آسمان پر نظر ڈالی پھر سورہ آل عمران کی آیت : ﴿إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ﴾تلاوت کی اور﴿فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾تک پہنچے ۔ پھر گھر لوٹے اور اچھی طرح مسواک کی اور وضو فرمایا ، پھر کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی ، پھر لیٹ گئے ، پھر کھڑے ہوئے ، باہر آسمان کی طرف دیکھا ، پھر ( دوبارہ ) یہ آیت پڑھی ، پھر واپس آئے ، مسواک کی اور وضو فرمایا ، پھر کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، بَاتَ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَخَرَجَ فَنَظَرَ فِي السَّمَاءِ ثُمَّ تَلاَ هَذِهِ الآيَةَ فِي آلِ عِمْرَانَ { إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلاَفِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ} حَتَّى بَلَغَ { فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ} ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الْبَيْتِ فَتَسَوَّكَ وَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى ثُمَّ اضْطَجَعَ ثُمَّ قَامَ فَخَرَجَ فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ فَتَلاَ هَذِهِ الآيَةَ ثُمَّ رَجَعَ فَتَسَوَّكَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى .
#597
Abu Huraira reported:Five are the acts quite akin to the Fitra, or five are the acts of Fitra: circumcision, shaving the pubes, cutting the nails, plucking the hair under the armpits and clipping the moustache
ابن عیینہ نے زہری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے سعید بن مسیب سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : ’’فطرت ( کے خصائل ) پانچ ہیں ( یا پانچ چیزیں فطرت کا حصہ ہیں ) : ختنہ کرانا ، زیر ناف بال مونڈنا ، ناخن تراشنا ، بغل کے بال اکھیڑنا اور مونچھ کترنا ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ، - قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، - عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْفِطْرَةُ خَمْسٌ - أَوْ خَمْسٌ مِنَ الْفِطْرَةِ - الْخِتَانُ وَالاِسْتِحْدَادُ وَتَقْلِيمُ الأَظْفَارِ وَنَتْفُ الإِبْطِ وَقَصُّ الشَّارِبِ " .
#598
Abu Huraira reported:Five are the acts of fitra: circumcision, removing the pubes, clipping the moustache, cutting the nails, plucking the hair under the armpits
مجھے یونس نے ابن شہاب زہری سے خبر دی ، انہوں نے سعید بن مسیب سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : ’’ ( خصائل ) فطرت پانچ ہیں : ختنہ کرانا ، زیر ناف بال مونڈنا ، مونچھ کترنا ، ناخن تراشنا اور بغل کے بال اکھیڑنا ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " الْفِطْرَةُ خَمْسٌ الاِخْتِتَانُ وَالاِسْتِحْدَادُ وَقَصُّ الشَّارِبِ وَتَقْلِيمُ الأَظْفَارِ وَنَتْفُ الإِبْطِ " .
#599
Anas reported:A time limit has been prescribed for us for clipping the moustache, cutting the nails, plucking hair under the armpits, shaving the pubes, that it should not be neglected far more than forty nights
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : ہمارے لیے مونچھیں کترنے ، ناخن تراشنے ، بغل کے بال اکھیڑنے اور زیر ناف بال مونڈنے کے لیے وقت مقرر کر دیا گیا کہ ہم ان کو چالیس دن سےزیادہ نہ چھوڑیں ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، كِلاَهُمَا عَنْ جَعْفَرٍ، - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، - عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ أَنَسٌ وُقِّتَ لَنَا فِي قَصِّ الشَّارِبِ وَتَقْلِيمِ الأَظْفَارِ وَنَتْفِ الإِبْطِ وَحَلْقِ الْعَانَةِ أَنْ لاَ نَتْرُكَ أَكْثَرَ مِنْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً .