#5925
Jabir reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:There came to him (the Holy Prophet) a desert Arab and said: I saw in a dream that I had been beheaded and I had been following it (the severed head). Allah's Apostle (ﷺ) reprimanded him saying: Do not inform about the vain sporting of devil with you during the night
ابو زبیر نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ اعرابی ( بدوی ) نے ، جو آپ کے پاس آیا تھا ، آپ سے عرض کی : میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میرا سرکٹ گیا ہے اور میں اس کے پیچھے بھاگ رہا ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ڈانٹا اورفرمایا : " نیند کے عالم میں اپنے ساتھ شیطان کے کھیلنے کے بارے میں کسی کو مت بتاؤ ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي، الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ لأَعْرَابِيٍّ جَاءَهُ فَقَالَ إِنِّي حَلَمْتُ أَنَّ رَأْسِي قُطِعَ فَأَنَا أَتَّبِعُهُ فَزَجَرَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ " لاَ تُخْبِرْ بِتَلَعُّبِ الشَّيْطَانِ بِكَ فِي الْمَنَامِ " .
#5926
Jabir reported that there came to Allah's Apostle (ﷺ) a desert Arab and said:Allah's Messenger, I saw in the state of sleep as if my head had been cut off and I had been moving on haltingly after it. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said to that desert Arab: Do not narrate to the people the vain sporting of satan with you in your sleep and (the narrator) also said: I heard Allah's Messenger (ﷺ) in his subsequent address: None amongst you should narrate the vain sporting of devil with him in the dream
جریر نے اعمش سے ، انھوں نے ابو سفیان سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک اعرابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے سر کو تلوار کا نشان بنایا گیا ، وہ لڑکھتا ہواجارہا ہے اور میں اس کے پیچھے د وڑ رہا ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعرابی سے فرمایا : "" نیند کی حالت میں شیطان تمہارے ساتھ جو چھیڑ خوانی کرے وہ لوگوں کو نہ بتاؤ ۔ "" ( حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : میں نے اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ "" خواب میں شیطان تمہارے ساتھ جو چھیڑ خوانی کرے تم میں سے کوئی اس کے بارے میں لوگوں کے ساتھ باتیں نہ کرے ۔
وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ رَأْسِي ضُرِبَ فَتَدَحْرَجَ فَاشْتَدَدْتُ عَلَى أَثَرِهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِلأَعْرَابِيِّ " لاَ تُحَدِّثِ النَّاسَ بِتَلَعُّبِ الشَّيْطَانِ بِكَ فِي مَنَامِكَ " . وَقَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بَعْدُ يَخْطُبُ فَقَالَ " لاَ يُحَدِّثَنَّ أَحَدُكُمْ بِتَلَعُّبِ الشَّيْطَانِ بِهِ فِي مَنَامِهِ " .
#5927
Jabir reported that a person came to Allah's Apostle (ﷺ) and said:Allah's Messenger, I have seen in the state of sleep as if my head had been cut off. Thereupon Allah's Apostle (ﷺ) laughed and said: When the satan plays with any one of you in the state of sleep, do not mention it to the people; and in the hadith transmitted by Abu Bakr (the words are): "If one of you is played with, and he did not make any mention of the word: "Satan
ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابو سعید اشج نے کہا : ہمیں وکیع نے اعمش سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو سفیان سے ، انھوں نےحضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے خواب میں د یکھا کہ میر اسر کاٹ دیا گیا ۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور فرمایا؛ " جب خواب میں شیطان تم میں سے کسی کے ساتھ چھیڑ خوانی کرے تو وہ لوگوں کو نہ بتاتا پھرے ۔ " ابو بکر کی روایت میں ہے : " جب تم میں سے کسی کے ساتھ چھیڑ خوانی کی جائے ۔ " اور انھوں نے شیطان کا ذکر نہیں کیا ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ رَأْسِي قُطِعَ . قَالَ فَضَحِكَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ " إِذَا لَعِبَ الشَّيْطَانُ بِأَحَدِكُمْ فِي مَنَامِهِ فَلاَ يُحَدِّثْ بِهِ النَّاسَ " . وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ " إِذَا لُعِبَ بِأَحَدِكُمْ " . وَلَمْ يَذْكُرِ الشَّيْطَانَ .
#5928
It is reported either on the authority of Ibn `Abbas or on the authority of Abu Huraira that a person came to Allah's Messenger (ﷺ) and said:Allah's Messenger, I saw while I was sleeping during the night (this vision) that there was a canopy from which butter and honey were trickling and I also saw people collecting them in the palms of their hands, some more, some less, and I also saw a rope connecting the earth with the sky and I saw you catching hold of it and rising towards the heaven; then another person after you catching hold of it and rising towards (Heaven); then another person catching hold of it, but it was broken while it was rejoined for him and he also climbed up. Abu Bakr said: Allah's Messenger, may my father be sacrificed for you, by Allah, allow me to interpret it. Allah's Messenger (ﷺ) said: Well, give its interpretation. Thereupon Abu Bakr said: The canopy signifies the canopy of Islam and that what trickles out of it in the form of butter and honey is the Holy Qur'an and its sweetness and softness and what the people get hold of it in their palms implies major portion of the Qur'an or the small portion; and so far as the rope joining the sky with the earth is concerned, it is the Truth by which you stood (in the worldly life) and by which Allah would raise you (to Heaven). Then the person after you would take hold of it and he would also climb up with the help of it. Then another person would take hold of it and climb up with the help of it. Then another person would take hold of it and it would be broken; then it would be rejoined for him and he would climb up with the help of it. Allah's Messenger, may my father be taken as a ransom for you, tell me whether I have interpreted it correctly or I have made an error. Allah's Messenger (ﷺ) said: You have interpreted a part of it correctly and you have erred in interpreting a part of it. Thereupon he said: Allah's Messenger, by Allah, tell me that part where I have committed an error. Thereupon he said: Don't take an oath
محمد بن حرب نے یونس زبیدی سے روایت کی ، انھوں نےکہا : مجھے زہری نے عبیداللہ بن عبداللہ سے خبر دی کہ ابن عباس یا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حدیث سنایا کرتے تھے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ اور ابن وہب نے ہمیں خبر دی ، کہا : مجھے یونس ( زبید ) نے ابن شہاب سے خبر دی کہ عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے انھیں بغیر شک کےبتایا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ حدیث بیان کیا کرتے تھے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ! میں نے رات کو خواب میں دیکھا کہ بادل کے ٹکڑے سے گھی اور شہد ٹپک رہا ہے ، لوگ اس کو اپنے لپوں سے لیتے ہیں کوئی زیادہ لیتا ہے اور کوئی کم ۔ اور میں نے دیکھا کہ آسمان سے زمین تک ایک رسی لٹکی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو پکڑ کر اوپر چڑھ گئے ۔ پھر آپ کے بعد ایک شخص نے اس کو تھاما ، وہ بھی چڑھ گیا ۔ پھر ایک اور شخص نے تھاما وہ بھی چڑھ گیا ۔ پھر ایک اور شخص نے تھاما تو وہ ٹوٹ گئی ، پھر جڑ گئی اور وہ بھی اوپر چلا گیا ۔ یہ سن کر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ! میرا باپ آپ پر قربان ہو مجھے اس کی تعبیر بیان کرنے دیجئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا بیان کر ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ بادل کا ٹکڑا تو اسلام ہے اور گھی اور شہد سے قرآن کی حلاوت اور نرمی مراد ہے اور لوگ جو زیادہ اور کم لیتے ہیں وہ بھی بعضوں کو بہت قرآن یاد ہے اور بعضوں کو کم اور وہ رسی جو آسمان سے زمین تک لٹکی ہے وہ دین حق ہے جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔ پھر اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی دین پر اپنے پاس بلا لے گا آپ کے بعد ایک اور شخص ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خلیفہ ) اس کو تھامے گا وہ بھی اسی طرح چڑھا جائے گا پھر اور ایک شخص تھامے گا اور اس کا بھی یہی حال ہو گا ۔ پھر ایک اور شخص تھامے گا تو کچھ خلل پڑے گا لیکن وہ خلل آخر مٹ جائے گا اور وہ بھی چڑھ جائے گا ۔ یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں مجھ سے بیان فرمائیے کہ میں نے ٹھیک تعبیر بیان کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو نے کچھ ٹھیک کہا کچھ غلط کہا ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کی قسم یا رسول اللہ! آپ بیان کیجئے کہ میں نے کیا غلطی کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قسم مت کھا ۔
حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، أَوْ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَجُلاً، أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ح وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَجُلاً أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَرَى اللَّيْلَةَ فِي الْمَنَامِ ظُلَّةً تَنْطِفُ السَّمْنَ وَالْعَسَلَ فَأَرَى النَّاسَ يَتَكَفَّفُونَ مِنْهَا بِأَيْدِيهِمْ فَالْمُسْتَكْثِرُ وَالْمُسْتَقِلُّ وَأَرَى سَبَبًا وَاصِلاً مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الأَرْضِ فَأَرَاكَ أَخَذْتَ بِهِ فَعَلَوْتَ ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ مِنْ بَعْدِكَ فَعَلاَ ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَعَلاَ ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَانْقَطَعَ بِهِ ثُمَّ وُصِلَ لَهُ فَعَلاَ . قَالَ أَبُو بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَاللَّهِ لَتَدَعَنِّي فَلأَعْبُرَنَّهَا . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اعْبُرْهَا " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ أَمَّا الظُّلَّةُ فَظُلَّةُ الإِسْلاَمِ وَأَمَّا الَّذِي يَنْطِفُ مِنَ السَّمْنِ وَالْعَسَلِ فَالْقُرْآنُ حَلاَوَتُهُ وَلِينُهُ وَأَمَّا مَا يَتَكَفَّفُ النَّاسُ مِنْ ذَلِكَ فَالْمُسْتَكْثِرُ مِنَ الْقُرْآنِ وَالْمُسْتَقِلُّ وَأَمَّا السَّبَبُ الْوَاصِلُ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الأَرْضِ فَالْحَقُّ الَّذِي أَنْتَ عَلَيْهِ تَأْخُذُ بِهِ فَيُعْلِيكَ اللَّهُ بِهِ ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ مِنْ بَعْدِكَ فَيَعْلُو بِهِ ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَيَعْلُو بِهِ ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَيَنْقَطِعُ بِهِ ثُمَّ يُوصَلُ لَهُ فَيَعْلُو بِهِ . فَأَخْبِرْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ أَصَبْتُ أَمْ أَخْطَأْتُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَصَبْتَ بَعْضًا وَأَخْطَأْتَ بَعْضًا " . قَالَ فَوَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَتُحَدِّثَنِّي مَا الَّذِي أَخْطَأْتُ قَالَ " لاَ تُقْسِمْ " .
#5929
Ibn `Abbas reported that there came to Allah's Apostle (ﷺ) a person as he was returning from Uhud and he said:Allah's Messenger, I saw in sleep during the night a canopy trickling butter and honey; the rest of the hadith is the same
سفیان نے زہری سے ، انھوں نے عبیداللہ بن عبداللہ سے ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : احد سے واپسی پر ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اورکہا : اللہ کے رسول! صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے آج رات خواب میں بادل کے ایک ٹکڑے کو سایہ فگن دیکھا ہے جو شہد اور گھی ٹپکا رہا تھا ، یونس کی حدیث کے مفہوم کے مطابق ( حدیث بیان کی ۔)
وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مُنْصَرَفَهُ مِنْ أُحُدٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَأَيْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ فِي الْمَنَامِ ظُلَّةً تَنْطِفُ السَّمْنَ وَالْعَسَلَ . بِمَعْنَى حَدِيثِ يُونُسَ .
#5930
It is reported either on the authority of Ibn 'Abbas or on that of Abu Huraira that a person came to Allah's Messenger (ﷺ) and said:Verily I saw during the night a canopy; the rest of the hadith is the same
عبدالرزاق نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں معمر نے زہری سے خبر دی انھوں نےعبیداللہ بن عبداللہ سے بن عتبہ سے ( آگے ) حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ یا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، عبدالرزاق نے کہا کہ معمر کبھی کہتے تھے : حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے اور کبھی کہتے تھے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی : میں نے آج رات ایک بادل کو سایہ فگن دیکھا ہے ۔ ان سب کی بیان کردہ حدیث کے مفہوم کے مطابق ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ، اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَوْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ كَانَ مَعْمَرٌ أَحْيَانًا يَقُولُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَأَحْيَانًا يَقُولُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلاً أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنِّي أَرَى اللَّيْلَةَ ظُلَّةً . بِمَعْنَى حَدِيثِهِمْ .
#5931
Ibn `Abbas reported that Allah's Messenger (ﷺ) used to say to his Companions:He who amongst you sees a vision should narrate it and I would interpret it for him, and a person came and said: Allah's Messenger, I saw a canopy. The rest of the hadith is the same
سلمان بن کثیر نے زہری سے ، انھوں نے عبیداللہ بن عبداللہ سے ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رویت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین سے یہ فرمایا کرتے تھے : " تم میں سے جس شخص نے خواب دیکھا ہے ، وہ بیان کرے ، میں اس کی تعبیر بتاؤں گا ۔ " کہا : تو ایک شخص آیا اور کہنے لگا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میں نے ایک بادل کو سایہ فگن دیکھا ۔ جس طرح ان سب ( بیان کرنے والوں ) کی حدیث ہے ۔
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، - وَهُوَ ابْنُ كَثِيرٍ - عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ مِمَّا يَقُولُ لأَصْحَابِهِ " مَنْ رَأَى مِنْكُمْ رُؤْيَا فَلْيَقُصَّهَا أَعْبُرْهَا لَهُ " . قَالَ فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُ ظُلَّةً . بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ .
#5932
Anas b. Malik reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:I saw during the night that which a person sees during the sleep as if we are in the house of `Uqba b. Rafi` that there was brought to us the fresh dates of Ibn Tab. I interpreted it as the sublimity for us in the world and good ending in the Hereafter and that our religion is good
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے ایک رات کو نیند کی حالت میں دیکھنے والے کی طرح ( خواب ) دیکھا کہ جیسے ہم عقبہ بن رافع کے گھر میں ہیں ، پس ہمارے آگے تر کھجوریں لائی گئیں ، جس کو ابن طاب کی کھجور کا نام دیا جاتا ہے ۔ میں نے اس کی تعبیر یہ کی کہ ہمارا درجہ دنیا میں بلند ہو گا ، آخرت میں نیک انجام ہو گا اور یقیناً ہمارا دین بہتر اور عمدہ ہے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " رَأَيْتُ ذَاتَ لَيْلَةٍ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ كَأَنَّا فِي دَارِ عُقْبَةَ بْنِ رَافِعٍ فَأُتِينَا بِرُطَبٍ مِنْ رُطَبِ ابْنِ طَابٍ فَأَوَّلْتُ الرِّفْعَةَ لَنَا فِي الدُّنْيَا وَالْعَاقِبَةَ فِي الآخِرَةِ وَأَنَّ دِينَنَا قَدْ طَابَ " .
#5933
Abdullah b. `Umar reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:I saw in a dream that I was using miswak and two persons contended to get it from me, one being older than the other one. I gave the miswak to the younger one. It was said to me to give that to the older one and I gave it to the older one
صخر بن جویریہ نے ہمیں نافع سے حدیث سنائی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں نے خواب میں خودکو دیکھا کہ میں ایک مسواک سے دانت صاف کررہا ہوں ، اس و قت دو آدمیوں نے ( مسواک حاصل کرنے کےلیے ) میری توجہ اپنی طرف مبذول کرائی ۔ ان میں ایک دوسرے سے بڑا تھا ، میں نے وہ مسواک چھوٹے کو دے دی ، پھر مجھ سے کہا گیا : بڑے کو دین تو میں نے وہ بڑے کو دی ۔
وَحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَرَانِي فِي الْمَنَامِ أَتَسَوَّكُ بِسِوَاكٍ فَجَذَبَنِي رَجُلاَنِ أَحَدُهُمَا أَكْبَرُ مِنَ الآخَرِ فَنَاوَلْتُ السِّوَاكَ الأَصْغَرَ مِنْهُمَا فَقِيلَ لِي كَبِّرْ . فَدَفَعْتُهُ إِلَى الأَكْبَرِ " .
#5934
Abu Musa reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:I dreamt (while asleep) that I was about to migrate from Mecca to a land abounding in palm trees and I guessed that it would be Yamama or Hajar, but it was the city of Yathrib (the old name of Medina), and I saw in this dream of mine that I was brandishing a sword and its upper end was broken and this is what fell (in the form of misfortune to the believers on the Day of Uhud). I brandished (the sword) for the second time and it became all right and this is what came to be true when Allah granted us victory and solidarity of the believers. And I saw therein cows also and Allah is the Doer of good. These meant the group from amongst the believers on the Day of Uhud and the goodness which Allah brought after that and the reward of attestation of his Truth which Allah brought to us after the Day of Badr
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مکہ سے اس زمین کی طرف ہجرت کرتا ہوں جہاں کھجور کے درخت ہیں ، میرا گمان یمامہ اور حجر کی طرف گیا لیکن وہ مدینہ نکلا ، جس کا نام یثرب بھی ہے اور میں نے اپنے اسی خواب میں دیکھا کہ میں نے تلوار کو ہلایا تو وہ اوپر سے ٹوٹ گئی ، اس کی تعبیر احد کے دن مسلمانوں کی شکست نکلی ۔ پھر میں نے تلوار کو دوسری بار ہلایا تو آگے سے ویسی ہی ثابت اور اچھی ہو گئی ۔ اس کی تعبیر یہ نکلی کہ اللہ تعالیٰ نے فتح نصیب کی اور مسلمانوں کی جماعت قائم ہو گئی ( یعنی جنگ احد کے بعد خیبر اور مکہ فتح ہوا اور اسلام کے لشکر نے زور پکڑا ) اور میں نے اسی خواب میں گائیں دیکھیں ( جو کاٹی جاتی تھیں ) اور اللہ تعالیٰ بہتر ہے ( جیسے یہ جملہ بولا جاتا ہے اللہ خیر ) اس سے مسلمانوں کے وہ لوگ مراد تھے جو احد میں شہید ہوئے اور خیر سے مراد وہ خیر تھی جو اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد بھیجی اور سچائی کا ثواب جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں بدر کے بعد عنایت کیا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الأَشْعَرِيُّ، وَأَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ - وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ - قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، جَدِّهِ عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أُهَاجِرُ مِنْ مَكَّةَ إِلَى أَرْضٍ بِهَا نَخْلٌ فَذَهَبَ وَهَلِي إِلَى أَنَّهَا الْيَمَامَةُ أَوْ هَجَرُ فَإِذَا هِيَ الْمَدِينَةُ يَثْرِبُ وَرَأَيْتُ فِي رُؤْيَاىَ هَذِهِ أَنِّي هَزَزْتُ سَيْفًا فَانْقَطَعَ صَدْرُهُ فَإِذَا هُوَ مَا أُصِيبَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ أُحُدٍ ثُمَّ هَزَزْتُهُ أُخْرَى فَعَادَ أَحْسَنَ مَا كَانَ فَإِذَا هُوَ مَا جَاءَ اللَّهُ بِهِ مِنَ الْفَتْحِ وَاجْتِمَاعِ الْمُؤْمِنِينَ وَرَأَيْتُ فِيهَا أَيْضًا بَقَرًا وَاللَّهُ خَيْرٌ فَإِذَا هُمُ النَّفَرُ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ أُحُدٍ وَإِذَا الْخَيْرُ مَا جَاءَ اللَّهُ بِهِ مِنَ الْخَيْرِ بَعْدُ وَثَوَابُ الصِّدْقِ الَّذِي آتَانَا اللَّهُ بَعْدُ يَوْمَ بَدْرٍ " .
#5935
Ibn `Abbas reported that Musailima al-Kadhdhab (the greater liar) (who claimed prophethood after the death of the Holy Prophet) came during the lifetime of Allah's Apostle (ﷺ) to Medina and said:If Muhammad assigns his caliphate to me after him I would follow him, and there came along with him a large body of persons of his tribe, and there came to him Allah's Apostle (ﷺ) along with Thabit b. Qais b. Shammas and the Prophet of Allah (ﷺ) had a piece of wood in his hand until he came in front of Musailima in the company of his companions and said: If you were to ask even this (wood), I would never give it to you. I am not going to do anything against the will of God in your case, and if you turn away (from what I say) Allah will destroy you. And I find you in the same state which I was shown (in the dream) and here is Thabit and he would answer you on my behalf. He (the Holy Prophet) then went back. Ibn `Abbas said: I asked the (meaning of the) words of Allah's Apostle (ﷺ): "You are the same what I was made to see about you in my dream." and Abu Huraira reported that Allah's Messenger (ﷺ) said: While I was sleeping I saw in my hands two gold bangles. This had a disturbing effect upon me and I was given a suggestion in the sleep that I should blow over them, so I blew over them and they were no more. And I interpreted these (two bangles) as the two great liars who would appear after me and the one amongst them was Al-`Anasi the inhabitant of San`a' and the other one Musailima the inhabitant of Yamama
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مسیلمہ کذاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مدینہ منورہ میں آیا اور کہنے لگا کہ اگر محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) مجھے اپنے بعد خلافت دیں تو میں ان کی پیروی کرتا ہوں ۔ مسیلمہ کذاب اپنے ساتھ اپنی قوم کے بہت سے لوگ لے کر آیا تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں لکڑی کا ایک ٹکڑا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسیلمہ کے لوگوں کے پاس ٹھہرے اور فرمایا کہ اے مسیلمہ! اگر تو مجھ سے یہ لکڑی کا ٹکڑا مانگے تو بھی تجھ کو نہ دوں گا اور میں اللہ کے حکم کے خلاف تیرے بارے میں فیصلہ کرنے والا نہیں اور اگر تو میرا کہنا نہ مانے گا تو اللہ تعالیٰ تجھ کو قتل کرے گا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا صحیح ہو گیا ) اور یقیناً تجھے وہی جانتا ہوں جو مجھے تیرے بارہ میں خواب میں دکھایا گیا ہے اور یہ ثابت تجھے میری طرف سے جواب دے گا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے چلے گئے ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا کہ تو وہی ہے جو مجھے خواب میں تیرے بارے دکھلایا گیا ، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا کہ میں سو رہا تھا کہ میں نے ( خواب میں ) اپنے ہاتھ میں سونے کے دو کنگن دیکھے ، وہ مجھے برے معلوم ہوئے اور خواب ہی میں مجھ پر القا کیا گیا کہ ان کو پھونک مارو ، میں نے پھونکا تو وہ دونوں اڑ گئے ۔ میں نے ان کی تعبیر یہ کی کہ اس سے مراد دو جھوٹے ہیں ، جو میرے بعد نکلیں گے ۔ ان میں سے ایک عنسی صنعاء والا اور دوسرا یمامہ والا ( مسیلمہ کذاب ) ہے ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَدِمَ مُسَيْلِمَةُ الْكَذَّابُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ فَجَعَلَ يَقُولُ إِنْ جَعَلَ لِي مُحَمَّدٌ الأَمْرَ مِنْ بَعْدِهِ تَبِعْتُهُ . فَقَدِمَهَا فِي بَشَرٍ كَثِيرٍ مِنْ قَوْمِهِ فَأَقْبَلَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَمَعَهُ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ وَفِي يَدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قِطْعَةُ جَرِيدَةٍ حَتَّى وَقَفَ عَلَى مُسَيْلِمَةَ فِي أَصْحَابِهِ قَالَ " لَوْ سَأَلْتَنِي هَذِهِ الْقِطْعَةَ مَا أَعْطَيْتُكَهَا وَلَنْ أَتَعَدَّى أَمْرَ اللَّهِ فِيكَ وَلَئِنْ أَدْبَرْتَ لَيَعْقِرَنَّكَ اللَّهُ وَإِنِّي لأُرَاكَ الَّذِي أُرِيتُ فِيكَ مَا أُرِيتُ وَهَذَا ثَابِتٌ يُجِيبُكَ عَنِّي " . ثُمَّ انْصَرَفَ عَنْهُ . فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُ عَنْ قَوْلِ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم " إِنَّكَ أَرَى الَّذِي أُرِيتُ فِيكَ مَا أُرِيتُ " . فَأَخْبَرَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ فِي يَدَىَّ سِوَارَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ فَأَهَمَّنِي شَأْنُهُمَا فَأُوحِيَ إِلَىَّ فِي الْمَنَامِ أَنِ انْفُخْهُمَا فَنَفَخْتُهُمَا فَطَارَا فَأَوَّلْتُهُمَا كَذَّابَيْنِ يَخْرُجَانِ مِنْ بَعْدِي فَكَانَ أَحَدُهُمَا الْعَنْسِيَّ صَاحِبَ صَنْعَاءَ وَالآخَرُ مُسَيْلِمَةَ صَاحِبَ الْيَمَامَةِ " .
#5936
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:While I was sleeping, the treasures of the earth were presented to me and I was made to wear in my hands two gold bangles. I felt a sort of burden upon me and I was disturbed and it was suggested to me that I should blow over them, so I blew and both of them disappeared. I interpreted them as two great liars who would appear at any time, one is the inhabitant of San`a' and the other is that of Yamama
ہمام بن منبہ نے حدیث بیان کی ، کہا : یہ احادیث ہیں جو ہمیں ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ۔ انھوں نے کئی احادیث بیان کیں ، ان میں سے ( ایک ) یہ ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب میں سو رہا تھا تو زمین کے خزانے میرے پاس لائے گئے ۔ اس ( خزانے کو لانے والے ) نے سونے کے دو کنگن میرے ہاتھوں میں ڈال دیے ، یہ دونوں مجھ پر گراں گزرے اور انھوں نے مجھے تشویش میں مبتلا کردیا ، تو میری طرف وحی کی گئی کہ ان دونوں پھونک ماریں ، میں نے دونوں کو پھونک ماری تو وہ چلے گئے ۔ میں نے ان سے مراد دو کذب لئے ، میں ان کے وسط میں ( مقیم ) ہوں ۔ ایک ( دائیں ہاتھ پر واقع ) صنعاء کا رہنے والا اور دوسرا بائیں ہاتھ پر ) یمامہ کارہنے والا ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ أُتِيتُ خَزَائِنَ الأَرْضِ فَوَضَعَ فِي يَدَىَّ أُسْوَارَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ فَكَبُرَا عَلَىَّ وَأَهَمَّانِي فَأُوحِيَ إِلَىَّ أَنِ انْفُخْهُمَا فَنَفَخْتُهُمَا فَذَهَبَا فَأَوَّلْتُهُمَا الْكَذَّابَيْنِ اللَّذَيْنِ أَنَا بَيْنَهُمَا صَاحِبَ صَنْعَاءَ وَصَاحِبَ الْيَمَامَةِ " .
#5937
Samura b. Jundab reported that when Allah's Messenger (ﷺ) had performed his dawn prayer he turned his face towards them (that is towards his Companions) and said:Did any one of you see any vision last night?
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، کہا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھنے کےبعد لوگوں کی طرف رخ کرتے اور فرماتے : " تم میں سے کسی نے گزشتہ رات کوئی خواب دیکھا؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا صَلَّى الصُّبْحَ أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ بِوَجْهِهِ فَقَالَ " هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمُ الْبَارِحَةَ رُؤْيَا " .
#5938
Wathila b. al-Asqa' reported:I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: Verily Allah granted eminence to Kinana from amongst the descendants of Isma'il, and he granted eminence to the Quraish amongst Kinana, and he granted eminence to Banu Hashim amonsgst the Quraish, and he granted me eminence from the tribe of Banu Hashim
۔ ابو عمار شدادسے رویت ہے کہ انھوں نے حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا؛ " اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے کنانہ کو منتخب کیا اور کنانہ میں سے قریش کو منتخب کیا اور قریش میں سے بنو ہاشم کو منتخب کیا اور بنو ہاشم میں سے مجھ کو منتخب کیا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ، جَمِيعًا عَنِ الْوَلِيدِ، - قَالَ ابْنُ مِهْرَانَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، - حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ، شَدَّادٍ أَنَّهُ سَمِعَ وَاثِلَةَ بْنَ الأَسْقَعِ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى كِنَانَةَ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ وَاصْطَفَى قُرَيْشًا مِنْ كِنَانَةَ وَاصْطَفَى مِنْ قُرَيْشٍ بَنِي هَاشِمٍ وَاصْطَفَانِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ " .
#5939
Jabir b. Samura reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:I recognise the stone in Mecca which used to pay me salutations before my advent as a Prophet and I recognise that even now
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں مکہ میں اس پتھر کو اچھی طرح پہچانتا ہوں جو بعثت سے پہلے مجھے سلام کیا کرتا تھا ، بلاشبہ میں اس پتھر کو اب بھی پہچانتا ہوں ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ، حَدَّثَنِي سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنِّي لأَعْرِفُ حَجَرًا بِمَكَّةَ كَانَ يُسَلِّمُ عَلَىَّ قَبْلَ أَنْ أُبْعَثَ إِنِّي لأَعْرِفُهُ الآنَ " .
#5940
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:I shall be pre-eminent amongst the descendants of Adam on the Day of Resurrection and I will be the first intercessor and the first whose intercession will be accepted (by Allah)
عبداللہ بن فروخ نے کہا : مجھے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں قیامت کے دن ( تمام ) اولاد آدم کا سردار ہوں گا ، پہلا شخص ہوں گا جس کی قبر کھلے گی ، سب سے پہلا شفاعت کرنے والا ہوں گا اور سب سے پہلا ہوں گا جس کی شفاعت قبول ہوگی ۔
حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِحٍ، حَدَّثَنَا هِقْلٌ، - يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ - عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، حَدَّثَنِي أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَوَّلُ مَنْ يَنْشَقُّ عَنْهُ الْقَبْرُ وَأَوَّلُ شَافِعٍ وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ " .
#5941
Anas reported that Allah's Apostle (ﷺ) called for water and he was given a vessel and the people began to perform ablution in that and I counted (the persons) and they were between sixty and eighty and I saw water which was spouting from his fingers
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی طلب فرمایا تو ایک کھلا ہوا پیالہ لایا گیا ، لوگ اس سے وضو کرنے لگے ، میں نے ساٹھ سے اسی تک کی تعداد کا اندازہ لگایا ، میں ( اپنی آنکھوں سے ) اس پانی کی طرف دیکھنے لگا ، وہ آپ کی انگلیوں کے درمیان سے پھوٹ رہا تھا ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ، سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ - حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَعَا بِمَاءٍ فَأُتِيَ بِقَدَحٍ رَحْرَاحٍ فَجَعَلَ الْقَوْمُ يَتَوَضَّئُونَ فَحَزَرْتُ مَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِلَى الثَّمَانِينَ - قَالَ - فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَى الْمَاءِ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ .
#5942
Anas b. Malik reported:I saw Allah's Messenger (ﷺ) during the time of the afternoon prayer and the people asking for water for performing ablution which they did not find. (A small quantity) of water was brought to Allah's Messenger (ﷺ) and he placed his hand in that vessel and commanded people to perform ablution. I saw water spouting from his fingers and the people performing ablution until the last amongst them performed it
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ عصر کا وقت آچکا تھا ، لوگوں نے وضو کا پانی تلاش کیا اور انھیں نہ ملا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وضو کا کچھ پانی لایاگیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس برتن میں اپنا دست مبارک رکھ دیا اور لوگوں کو اس پانی میں سے وضو کا حکم دیا ۔ کہا : تو میں نے د یکھا کہ پانی آپ کی انگلیوں کے نیچے سے پھوٹ رہا تھا اور لوگوں نے اپنے آخری آدمی تک ( اس سے ) وضو کرلیا ۔
وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَحَانَتْ صَلاَةُ الْعَصْرِ فَالْتَمَسَ النَّاسُ الْوَضُوءَ فَلَمْ يَجِدُوهُ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِوَضُوءٍ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي ذَلِكَ الإِنَاءِ يَدَهُ وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَتَوَضَّئُوا مِنْهُ - قَالَ - فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَنْبُعُ مِنْ تَحْتِ أَصَابِعِهِ فَتَوَضَّأَ النَّاسُ حَتَّى تَوَضَّئُوا مِنْ عِنْدِ آخِرِهِمْ .
#5943
Anas b. Malik reported that Allah's Apostle (ﷺ) and his Companions were at a place known as az-Zaura' (az-Zaurd' is a place in the bazar of Medina near the mosque) that he called for a vessel containing water. He put his hand in that. And there began to spout (water) between his fingers and all the Companions performed ablution. Qatada, one of the narrators in the chain of narrators, said:Abu Hamza (the kunya of Hadrat Anas b. Malik), how many people were they? He said: They were about three hundred
معاذ کے والد ہشام نے قتادہ سے روایت کی ، کہا : ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب ( مقام ) زوراء میں تھے { اور زوراء مدینہ میں مسجد اور بازار کے نزدیک ایک مقام ہے } آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا ایک پیالہ منگوایا اور اپنی ہتھیلی اس میں رکھ دی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان سے پانی پھوٹنے لگا اور تمام اصحاب رضی اللہ عنہم نے وضو کر لیا ۔ قتادہ نے کہا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اے ابوحمزہ! اس وقت آپ کتنے آدمی ہوں گے؟ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تین سو کے قریب تھے ۔
حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، - يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ - حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابَهُ بِالزَّوْرَاءِ - قَالَ وَالزَّوْرَاءُ بِالْمَدِينَةِ عِنْدَ السُّوقِ وَالْمَسْجِدِ فِيمَا ثَمَّهْ - دَعَا بِقَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ فَوَضَعَ كَفَّهُ فِيهِ فَجَعَلَ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ فَتَوَضَّأَ جَمِيعُ أَصْحَابِهِ . قَالَ قُلْتُ كَمْ كَانُوا يَا أَبَا حَمْزَةَ قَالَ كَانُوا زُهَاءَ الثَّلاَثِمِائَةِ .
#5944
Anas reported Allah's Apostle (ﷺ) was at az-Zaura' and a vessel containing water was brought to him in which his finger could not be completely dipped or completely covered; the rest of the hadith is the same
سعید نے قتادہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم زوراء میں تھے ، آپ کے پاس پانی کا ایک برتن لایا گیا ، وہ آپ کی انگلیوں کے اوپر تک بھی نہیں آتاتھا ( جس میں آپ کی انگلیاں بھی نہیں ڈوبتی تھیں ) یا اس قدر تھا کہ ( شاید ) آپ کی انگلیوں کو ڈھانپ لیتا ۔ پھر ہشام کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ بِالزَّوْرَاءِ فَأُتِيَ بِإِنَاءِ مَاءٍ لاَ يَغْمُرُ أَصَابِعَهُ أَوْ قَدْرَ مَا يُوَارِي أَصَابِعَهُ . ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ هِشَامٍ .
#5945
Jabir reported that Umm Malik used to send clarified butter in a small skin to the Messenger of Allah (ﷺ). Her sons would come to her and ask for seasoning when they had nothing with them (in the form of condiments) and she would go to that (skin) in which she offered (clarified butter) to Allah's Apostle (ﷺ), and she would find in that clarified butter and it kept providing her with seasoning for her household until she had (completely) squeezed it. She came to Allah's Apostle (ﷺ) and (informed him about it). Thereupon, he (the Holy Prophet) said:Did you squeeze it? She said: Yes. Thereupon he said: If you had left it in that very state, it would have kept on provid- ing you (the clarified butter) on end
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ام مالک رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کپی میں بطور تحفہ کے گھی بھیجا کرتی تھیں ، پھر اس کے بیٹے آتے اور اس سے سالن مانگتے اور گھر میں کچھ نہ ہوتا تو ام مالک رضی اللہ عنہا اس کپی کے پاس جاتی ، تو اس میں گھی ہوتا ۔ اسی طرح ہمیشہ اس کے گھر کا سالن قائم رہتا ۔ ایک بار ام مالک نے ( حرص کر کے ) اس کپی کو نچوڑ لیا ، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے استفسار فرمایا کہ کیا تم نے اس کو نچوڑ لیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا ہاں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تو اس کو یوں ہی رہنے دیتی ( اور ضرورت کے وقت لیتی ) تو وہ ہمیشہ قائم رہتا ۔
وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ أُمَّ مَالِكٍ، كَانَتْ تُهْدِي لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي عُكَّةٍ لَهَا سَمْنًا فَيَأْتِيهَا بَنُوهَا فَيَسْأَلُونَ الأُدْمَ وَلَيْسَ عِنْدَهُمْ شَىْءٌ فَتَعْمِدُ إِلَى الَّذِي كَانَتْ تُهْدِي فِيهِ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَتَجِدُ فِيهِ سَمْنًا فَمَا زَالَ يُقِيمُ لَهَا أُدْمَ بَيْتِهَا حَتَّى عَصَرَتْهُ فَأَتَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " عَصَرْتِيهَا " . قَالَتْ نَعَمْ . قَالَ " لَوْ تَرَكْتِيهَا مَا زَالَ قَائِمًا " .
#5946
Jabir reported that a person came to Allah's Apostle (ﷺ) and asked for food. And he gave him half a wasq of barley, and the person and his wife and their guests kept on making use of it (as a food) until he weighed it (in order to find out the actual quantity, and it was no more). He came to Allah's Apostle (ﷺ) (and informed him about it). He said:Had you not weighed it, you would be eating out of it and it would have remained intact for you
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا حاصل کرنے کے لئے آیا ، آپ نے اسے آدھا وسق ( تقریباً 120کلو ) جو دیے تو وہ آدمی ، اس کی بیوی اور ان دونوں کے مہمان مسلسل اس میں سے کھاتے رہے ، یہاں تک کہ ( ایک دن ) اس نے ان کو ماپ لیا ، پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پا س آیا ( اور ماجرابتایا ) تو آپ نے فرمایا؛ " اگرتم اس کو نہ ماپتے تو مسلسل اس میں سے کھاتے رہتے اور یہ ( سلسلہ ) تمھارے لئے قائم رہتا ۔
وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَجُلاً، أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَسْتَطْعِمُهُ فَأَطْعَمَهُ شَطْرَ وَسْقِ شَعِيرٍ فَمَا زَالَ الرَّجُلُ يَأْكُلُ مِنْهُ وَامْرَأَتُهُ وَضَيْفُهُمَا حَتَّى كَالَهُ فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " لَوْ لَمْ تَكِلْهُ لأَكَلْتُمْ مِنْهُ وَلَقَامَ لَكُمْ " .
#5947
Mu'adh b. Jabal reported that he went along with Allah's Apostle (ﷺ) in the expedition of Tabuk and he (the Holy Prophet) combined the prayers. He offered the noon and afternoon prayers together and the sunset and night prayers together and on the other day he deferred the prayers; he then came out and offered the noon and afternoon prayers together. He then went in and (later on) came out and then after that offered the sunset and night prayers together and then said:God willing, you would reach by tomorrow the fountain of Tabuk and you should not come to that until it is dawn, and he who amongst you happens to go there should not touch its water until I come. We came to that and two persons (amongst) us reached that fountain ahead of us. It was a thin flow of water like the shoelace. Allah's Messenger (ﷺ) asked them whether they had touched the water. They said: Yes. Allah's Apostle (ﷺ) scolded them, and he said to them what he had to say by the will of God. The people then took water of the fountain in their palms until it became somewhat significant and Allah's Messenger (ﷺ) washed his hands and his face too in it, and then, took it again in that (fountain) and there gushed forth abundant water from that fountain, until all the people drank to their fill. He then said: Mu'adh, it is likely that if you live long that you see what is here filled with gardens
ہمیں ابو علی حنفی نے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں مالک بن انس نے ابو زبیر مکی سے حدیث بیان کی کہ ابو طفیل عامر بن واثلہ نے انھیں خبردی ، انھیں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتایا ، کہا : کہ ہم غزوہ تبوک کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس سال نکلے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سفر میں دو نمازوں کو جمع کرتے تھے ۔ پس ظہر اور عصر دونوں ملا کر پڑھیں اور مغرب اور عشاء ملا کر پڑھیں ۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں دیر کی ۔ پھر نکلے اور ظہر اور عصر ملا کر پڑھیں پھر اندر چلے گئے ۔ پھر اس کے بعد نکلے تو مغرب اور عشاء ملا کر پڑھیں اس کے بعد فرمایا کہ کل تم لوگ اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو تبوک کے چشمے پر پہنچو گے اور دن نکلنے سے پہلے نہیں پہنچ سکو گے اور جو کوئی تم میں سے اس چشمے کے پاس جائے ، تو اس کے پانی کو ہاتھ نہ لگائے جب تک میں نہ آؤں ۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر ہم اس چشمے پر پہنچے اور ہم سے پہلے وہاں دو آدمی پہنچ گئے تھے ۔ چشمہ کے پانی کا یہ حال تھا کہ جوتی کے تسمہ کے برابر ہو گا ، وہ بھی آہستہ آہستہ بہہ رہا تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں آدمیوں سے پوچھا کہ تم نے اس کے پانی میں ہاتھ لگایا؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو برا کہا ( اس لئے کہ انہوں نے حکم کے خلاف کیا تھا ) اور اللہ تعالیٰ کو جو منظور تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سنایا ۔ پھر لوگوں نے چلوؤں سے تھوڑا تھوڑا پانی ایک برتن میں جمع کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اور منہ اس میں دھویا ، پھر وہ پانی اس چشمہ میں ڈال دیا تو وہ چشمہ جوش مار کر بہنے لگا اور لوگوں نے ( اپنے جانوروں اور آدمیوں کو ) پانی پلانا شروع کیا ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے معاذ! اگر تیری زندگی رہی تو تو دیکھے گا کہ یہاں جو جگہ ہے وہ گھنے باغات سے لہلہااٹھے گی ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، - وَهُوَ ابْنُ أَنَسٍ - عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، أَنَّ أَبَا الطُّفَيْلِ، عَامِرَ بْنَ وَاثِلَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ أَخْبَرَهُ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ غَزْوَةِ تَبُوكَ فَكَانَ يَجْمَعُ الصَّلاَةَ فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمًا أَخَّرَ الصَّلاَةَ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا ثُمَّ دَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ بَعْدَ ذَلِكَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا ثُمَّ قَالَ " إِنَّكُمْ سَتَأْتُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ عَيْنَ تَبُوكَ وَإِنَّكُمْ لَنْ تَأْتُوهَا حَتَّى يُضْحِيَ النَّهَارُ فَمَنْ جَاءَهَا مِنْكُمْ فَلاَ يَمَسَّ مِنْ مَائِهَا شَيْئًا حَتَّى آتِيَ " . فَجِئْنَاهَا وَقَدْ سَبَقَنَا إِلَيْهَا رَجُلاَنِ وَالْعَيْنُ مِثْلُ الشِّرَاكِ تَبِضُّ بِشَىْءٍ مِنْ مَاءٍ - قَالَ - فَسَأَلَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَلْ مَسَسْتُمَا مِنْ مَائِهَا شَيْئًا " . قَالاَ نَعَمْ . فَسَبَّهُمَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ لَهُمَا مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ - قَالَ - ثُمَّ غَرَفُوا بِأَيْدِيهِمْ مِنَ الْعَيْنِ قَلِيلاً قَلِيلاً حَتَّى اجْتَمَعَ فِي شَىْءٍ - قَالَ - وَغَسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيهِ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ ثُمَّ أَعَادَهُ فِيهَا فَجَرَتِ الْعَيْنُ بِمَاءٍ مُنْهَمِرٍ أَوْ قَالَ غَزِيرٍ - شَكَّ أَبُو عَلِيٍّ أَيُّهُمَا قَالَ - حَتَّى اسْتَقَى النَّاسُ ثُمَّ قَالَ " يُوشِكُ يَا مُعَاذُ إِنْ طَالَتْ بِكَ حَيَاةٌ أَنْ تَرَى مَا هَا هُنَا قَدْ مُلِئَ جِنَانًا " .
#5948
Abu Humaid as-Sa'idi reported:We went out with Allah's Messenger (ﷺ) on the expedition to Tabuk and we came to a wadi where there was a garden belonging to a woman. Allah's Apostle (ﷺ) said. Make an assessment (of the price of its fruit). And Allah's Messenger (ﷺ) also made an assessment and it was ten wasqs. He asked that lady (to calculate the amount) until they would, God willing, come back to her. So we proceeded on until we came to Tabuk and Allah's Messenger (ﷺ) said: The violent storm will overtake you during the night, so none amongst you should stand up and he who has a camel with him should hobble it firmly. A violent storm blew and a person who had stood up was carried away by the storm and thrown between the mountains of Tayy. Then the messenger of the son of al 'Alma', the ruler of Aila, came to Allah's Messenger (ﷺ) with a letter and a gift of a white mule. Allah's Messenger (ﷺ) wrote him (the reply) and presented him a cloak. We came back until we halted in the Wadi al-Qura. Allah's Messenger (ﷺ) asked that lady about her garden and the price of the fruits in that. She said: Ten wasqs. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: I am going to depart, and he who amongst you wishes may depart with me but he who wants to stay may stay. We resumed the journey until we came to the outskirts of Medina. (It was at this time) that Allah's Messenger (ﷺ) said: This is Taba, this is Uhud, that is a mountain which loves us and we love it, and then said: The best amongst the houses of the Ansar is the house of Bani Najjar. Then the house of Bani Abd al-Ashhal, then the house of Bani Abd al-Harith b. Khazraj, then the house of Bani Sa'ida, and there is goodness in all the houses of the Ansar. Said b. Ubada came to us and Abu Usaid said to him: Did you not see that Allah's Messenger (ﷺ) has declared the houses of the Ansar good and he has kept us at the end. Said met Allah's Messenger (ﷺ) and said: Allah's Messenger, you have declared the house of the Ansar as good and have kept us at the end, whereupon he said: Is it not enough for you that you have been counted amongst the good
۔ سلیمان بن بلال نے عمرو بن یحییٰ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عباس بن سہل بن سعد ساعدی سے ، انھوں نے ابو حمید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تبوک کی جنگ ( غزوہ تبوک ) میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ۔ وادی القریٰ ( شام کے راستے میں مدینہ سے تین میل کے فاصلے پر ایک مقام ہے ) میں ایک عورت کے باغ کے پاس پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اندازہ لگاؤ اس باغ میں کتنا میوہ ہے؟ ہم نے اندازہ کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کے اندازے میں وہ دس وسق معلوم ہوا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے فرمایا کہ جب تک ہم لوٹ کر آئیں تم یہ ( اندازہ ) گنتی یاد رکھنا ، اگر اللہ نے چاہا ۔ پھر ہم لوگ آگے چلے ، یہاں تک کہ تبوک میں پہنچے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج رات تیز آندھی چلے گی ، لہٰذا کوئی شخص کھڑا نہ ہو اور جس کے پاس اونٹ ہو ، وہ اس کو مضبوطی سے باندھ لے ۔ پھر ایسا ہی ہوا کہ زوردار آندھی چلی ۔ ایک شخص کھڑا ہوا تو اس کو ہوا اڑا لے گئی ، اور ( وادی ) طے کے دونوں پہاڑوں کے درمیان ڈال دیا ۔ ابن العلماء حاکم ایلہ کا ایلچی ایک خط لے کر آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک سفید خچر تحفہ لایا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو جواب لکھا اور ایک چادر تحفہ بھیجی ۔ پھر ہم لوٹے ، یہاں تک کہ وادی القریٰ میں پہنچے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے باغ کے میوے کا حال پوچھا کہ کتنا نکلا؟ اس نے کہا پورا دس وسق نکلا ۔ ( پھر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں جلدی جاؤں گا ، لہٰذا تم میں سے جس کا دل چاہے وہ میرے ساتھ جلدی چلے اور جس کا دل چاہے ٹھہر جائے ۔ ہم نکلے یہاں تک کہ مدینہ دیکھائی دینے لگا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ”طابہ“ ہے ( طابہ مدینہ منورہ کا نام ہے ) اور یہ احد پہاڑ ہے جو ہم کو چاہتا ہے اور ہم اس کو چاہتے ہیں ۔ پھر فرمایا کہ انصار کے گھروں میں بنی نجار کے گھر بہترین ہیں ( کیونکہ وہ سب سے پہلے مسلمان ہوئے ) پھر بنی عبدالاشہل کے گھر ، پھر بنی حارث بن خزرج کے گھر ۔ پھر بنی ساعدہ کے گھر اور انصار کے سب گھروں میں بہتری ہے ۔ پھر سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ ہم سے ملے ۔ ابواسید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم نے نہیں سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے گھروں کی بہتری بیان فرمائی تو ہم کو سب کے اخیر میں کر دیا؟ ۔ یہ سن کر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ نے انصار کی فضیلت بیان کی اور ہم کو سب سے آخر میں کر دیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم کو یہ کافی نہیں ہے کہ تم خیر وبرکت والوں میں سے ہوجاؤ؟
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ، قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَزْوَةَ تَبُوكَ فَأَتَيْنَا وَادِيَ الْقُرَى عَلَى حَدِيقَةٍ لاِمْرَأَةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اخْرُصُوهَا " . فَخَرَصْنَاهَا وَخَرَصَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَشْرَةَ أَوْسُقٍ وَقَالَ " أَحْصِيهَا حَتَّى نَرْجِعَ إِلَيْكِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ " . وَانْطَلَقْنَا حَتَّى قَدِمْنَا تَبُوكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " سَتَهُبُّ عَلَيْكُمُ اللَّيْلَةَ رِيحٌ شَدِيدَةٌ فَلاَ يَقُمْ فِيهَا أَحَدٌ مِنْكُمْ فَمَنْ كَانَ لَهُ بَعِيرٌ فَلْيَشُدَّ عِقَالَهُ " . فَهَبَّتْ رِيحٌ شَدِيدَةٌ فَقَامَ رَجُلٌ فَحَمَلَتْهُ الرِّيحُ حَتَّى أَلْقَتْهُ بِجَبَلَىْ طَيِّئٍ وَجَاءَ رَسُولُ ابْنِ الْعَلْمَاءِ صَاحِبِ أَيْلَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِكِتَابٍ وَأَهْدَى لَهُ بَغْلَةً بَيْضَاءَ فَكَتَبَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَهْدَى لَهُ بُرْدًا ثُمَّ أَقْبَلْنَا حَتَّى قَدِمْنَا وَادِيَ الْقُرَى فَسَأَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَرْأَةَ عَنْ حَدِيقَتِهَا " كَمْ بَلَغَ ثَمَرُهَا " . فَقَالَتْ عَشَرَةَ أَوْسُقٍ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنِّي مُسْرِعٌ فَمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ فَلْيُسْرِعْ مَعِيَ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَمْكُثْ " . فَخَرَجْنَا حَتَّى أَشْرَفْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ فَقَالَ " هَذِهِ طَابَةُ وَهَذَا أُحُدٌ وَهُوَ جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ " . ثُمَّ قَالَ " إِنَّ خَيْرَ دُورِ الأَنْصَارِ دَارُ بَنِي النَّجَّارِ ثُمَّ دَارُ بَنِي عَبْدِ الأَشْهَلِ ثُمَّ دَارُ بَنِي عَبْدِ الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ ثُمَّ دَارُ بَنِي سَاعِدَةَ وَفِي كُلِّ دُورِ الأَنْصَارِ خَيْرٌ " . فَلَحِقَنَا سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ فَقَالَ أَبُو أُسَيْدٍ أَلَمْ تَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَيَّرَ دُورَ الأَنْصَارِ فَجَعَلَنَا آخِرًا . فَأَدْرَكَ سَعْدٌ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ خَيَّرْتَ دُورَ الأَنْصَارِ فَجَعَلْتَنَا آخِرًا . فَقَالَ " أَوَلَيْسَ بِحَسْبِكُمْ أَنْ تَكُونُوا مِنَ الْخِيَارِ " .
#5949
This hadith has been narrated on the authority of 'Amr b. Yahya with the same chain of transmitters up to the words:There is good in all the houses of the Ansar, and there is no mention of the subsequent event pertaining to Sa'd b. 'Ubada
عفان اور مغیرہ بن سلمہ مخزومی دونوں نے کہا : ہمیں وہیب نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں عمر وبن یحییٰ نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان تک : " اور انصار کے تمام گھروں میں خیروبرکت ہے ۔ " انھوں نے سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قصہ ، جو اس کے بعد ہے ، ذکر نہیں کیا ۔ اور وہیب کی حدیث میں مزید یہ بیان کیا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کا سارا علاقہ ( بطورحاکم ) اس کولکھ دیا ، نیز وہیب کی حدیث میں یہ ذکر نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف خط لکھا ۔
حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، بِهَذَا الإِسْنَادِ إِلَى قَوْلِهِ " وَفِي كُلِّ دُورِ الأَنْصَارِ خَيْرٌ " . وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ مِنْ قِصَّةِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ وَزَادَ فِي حَدِيثِ وُهَيْبٍ فَكَتَبَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِبَحْرِهِمْ . وَلَمْ يَذْكُرْ فِي حَدِيثِ وُهَيْبٍ فَكَتَبَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .