#5875
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:None of you should say: My bondman, for all of you are the bondmen of Allah, but say: My young man, and the servant should not say: My Lord, but should say: My chief
جریر اعمش سے ، انھوں نے ابو صالح سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" تم میں سے کو ئی شخص ( کسی غلام کو ) میرا بندہ نہ کہے ، پس تم سب اللہ کے بندےہو ، البتہ یہ کہہ سکتا ہے ۔ میرا جوان اور نہ غلام یہ کہے : میرارب ( پالنے والا ) البتہ میرا سید ( آقا کہہ سکتا ہے ۔ "" حدیث نمبر5876 ۔ ابو معاویہ اور وکیع دونوں نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ان دونوں کی حدیث میں ہے ۔ "" غلا م اپنے آقا کو میرا مو لا نہ کہے ۔ "" ابومعاویہ کی حدیث میں مزید یہ الفا ظ ہیں ۔ "" کیونکہ تمھا را مولیٰ اللہ عزوجل ہے ۔)
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي، هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ عَبْدِي . فَكُلُّكُمْ عَبِيدُ اللَّهِ وَلَكِنْ لِيَقُلْ فَتَاىَ . وَلاَ يَقُلِ الْعَبْدُ رَبِّي . وَلَكِنْ لِيَقُلْ سَيِّدِي " .
#5876
This hadith has been reported on the authority of al-A'mash with the same chain of transmitters, and the words are that the servant should not say to his chief:My Lord, and Abu Mu'awiya made an addition:" For it is Allah, the Exalted and Glorious, Who is your Lord
ابو معاویہ اور وکیع دونوں نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ان دونوں کی حدیث میں ہے ۔ " غلا م اپنے آقا کو میرا مو لا نہ کہے ۔ " ابومعاویہ کی حدیث میں مزید یہ الفا ظ ہیں ۔ " " کیونکہ تمھا را مولیٰ اللہ عزوجل ہے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، كِلاَهُمَا عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِهِمَا " وَلاَ يَقُلِ الْعَبْدُ لِسَيِّدِهِ مَوْلاَىَ " . وَزَادَ فِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ " فَإِنَّ مَوْلاَكُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " .
#5877
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) so many ahadith and one of them is this that Allah's Messenger (ﷺ) said:None of you should say: Supply drink to your lord, feed your lord, help your lord in performing ablution, and none of you should say: My Lord. He should say: My chief, my patron; and none of you should say: My bondman, my slave-girl, but simply say: My boy, my girl, my servant
ہمام منبہ نے کہا : یہ احادیث ہیں جو ہمیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ، انھوں نے کچھ احادیث بیان کیں ، ان میں ( ایک یہ ) ہے ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم میں سے کو ئی شخص ( اپنے غلام یا کنیز سے ) یہ نہ کہے : اپنے رب ( پالنہار ) کو پلا ؤ ، اپنےرب کو کھلاؤ اپنے رب کو وضو کراؤ ۔ " اور فر ما یا : " تم میں سے کو ئی شخص ( کسی کو ) میرا رب نہ کہے البتہ میرا آقا اور میرا مولیٰ کہے ۔ اور تم میں سے کو ئی یوں نہ کہے ۔ میرا بند ہ میری بندی ، البتہ یو ں کہے ، میرا خادم ، جوان میری خادمہ ، میرا لڑکا ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَقُلْ أَحَدُكُمُ اسْقِ رَبَّكَ أَطْعِمْ رَبَّكَ وَضِّئْ رَبَّكَ . وَلاَ يَقُلْ أَحَدُكُمْ رَبِّي . وَلْيَقُلْ سَيِّدِي مَوْلاَىَ وَلاَ يَقُلْ أَحَدُكُمْ عَبْدِي أَمَتِي . وَلْيَقُلْ فَتَاىَ فَتَاتِي غُلاَمِي " .
#5878
A'isha reported Allah's Messenger (ﷺ) having said:None of you should say: "My soul has become evil," but he should say: "My soul has become remorseless." This hadith has been transmitted on the authority of Abu Bakr with a slight variation of wording
ابو بکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی ۔ ابو کریب محمد بن علاء نے کہا : ہمیں ابو اسامہ نے حدیث بیان کی ۔ ان دونوں ( سفیان اور ابو اسامہ ) نے ہشام سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم میں سے کو ئی شخص یہ نہ کہے : " میراجی ( نفس ، اپنا آپ ) گندا ہو گیا ہے ، بلکہ یہ کہے : میری طبیعت بوجھل ہو گئی ہے ۔ " یہ ابو کریب کی حدیث کے الفا ظ ہیں ۔ ابو بکر ( ابن ابی شیبہ ) نے کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے اور " لیکن " کا لفظ نہیں کہا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، كِلاَهُمَا عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ خَبُثَتْ نَفْسِي . وَلَكِنْ لِيَقُلْ لَقِسَتْ نَفْسِي " . هَذَا حَدِيثُ أَبِي كُرَيْبٍ وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَلَمْ يَذْكُرْ " لَكِنْ " .
#5879
This hadith has been narrated on the authority of Abia Mu'iwiya with the same chain of transmitters
ابو کریب نے کہا : ہمیں ابو معاویہ نے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی ۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ .
#5880
Abu Umama b. Sahl b. Hunaif, on the authority of his father, reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:None of you should say:" My soul has become evil," but he should say:" My soul has become remorseless
ابو امامہ بن سہل حنیف نے اپنے والد سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : : " تم میں سے کو ئی شخص یہ نہ کہے ۔ میراجی گندا ہو گیا ہے ، بلکہ یہ کہے ، کہ میراجی بوجھل ہو گیا ہے ۔ ( یا میری طبیعت خراب ہو گئی ہے ۔)
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ، شِهَابٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَقُلْ أَحَدُكُمْ خَبُثَتْ نَفْسِي . وَلْيَقُلْ لَقِسَتْ نَفْسِي " .
#5881
Abd Sa'id Khudri reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:There was a woman from Bani Isra'il who was short-statured and she walked in the company of two tall women with wooden sandals in her feet and a ring of gold made of plates with musk filled in them and then looked up, and musk is the best of scents; then she walked between two women and they (the people) did not recognise her, and she made a gesture with her hand like this, and Shu'ba shook his hand in order to give an indication how she shook her hand
ابو اسامہ نے شعبہ سے روایت کی ، کہا : مجھے خُلید بن جعفرنے ابو نضر ہ سے ، انھوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فر ما یا : بنی اسرا ئیل میں ایک پستہ قامت عورت دولمبے قد کی عورتوں کے ساتھ چلا کرتی تھی ۔ اس نے لکڑی کی دو ٹانگیں ( ایسے جوتے یا موزے جن کے تلووں والا حصہ بہت اونچا تھا ) بنوائیں اور سونے کی ایک بند ، ڈھکنے والی انگوٹھی بنوائی ، پھر اسے کستوری سے بھر دیا اور وہ خوشبوؤں میں سب سےاچھی خوشبو ہے وہ پھر وہ ان دونوں ( لمبی عورتوں ) کے درمیان میں ہو کر چلی تو لوگ اسے نہ پہچان سکے ، اس پر اس نے اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کیا ۔ " اور شعبہ نے ( شاگردوں کو دکھا نے کے لیے ) اپنا ہاتھ جھٹکا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنِي خُلَيْدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " كَانَتِ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ قَصِيرَةٌ تَمْشِي مَعَ امْرَأَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ فَاتَّخَذَتْ رِجْلَيْنِ مِنْ خَشَبٍ وَخَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ مُغْلَقٍ مُطْبَقٍ ثُمَّ حَشَتْهُ مِسْكًا وَهُوَ أَطْيَبُ الطِّيبِ فَمَرَّتْ بَيْنَ الْمَرْأَتَيْنِ فَلَمْ يَعْرِفُوهَا فَقَالَتْ بِيَدِهَا هَكَذَا " . وَنَفَضَ شُعْبَةُ يَدَهُ .
#5882
Abu Sa'id Khudri reported that Allah's Messenger (ﷺ) made a mention of a woman of Bana Isra'il who had filled her ring with musk and musk is the most fragrant of the scents
یزید بن ہارون نے شعبہ سے ، انھوں نے خلید بن جعفر اور مستمر سے روایت کی ، ان دونوں نے کہا : ہم نے ابو نضر ہ کو سنا ، وہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی اسرا ئیل کی ایک عورت کا ذکر کیا ، اس نے اپنی انگوٹھی میں کستوری بھرلی تھی اور کستوری سب سے اچھی خوشبوہے ۔
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ خُلَيْدِ بْنِ جَعْفَرٍ، وَالْمُسْتَمِرِّ، قَالاَ سَمِعْنَا أَبَا نَضْرَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَكَرَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ حَشَتْ خَاتَمَهَا مِسْكًا وَالْمِسْكُ أَطْيَبُ الطِّيبِ .
#5883
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:He who is presented with a flower should not reject it, for it is light to carry and pleasant in odour
عبد الرحمٰن اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جس شخص کو ریحان ( خوشبو دار پھول یا ٹہنی ) دی جائے تو وہ اسے مسترد نہ کرے کیونکہ وہ اٹھا نے میں ہلکی اور خوشبو میں عمدہ ہے
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، كِلاَهُمَا عَنِ الْمُقْرِئِ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ عُرِضَ عَلَيْهِ رَيْحَانٌ فَلاَ يَرُدُّهُ فَإِنَّهُ خَفِيفُ الْمَحْمِلِ طَيِّبُ الرِّيحِ " .
#5884
Nafi' reported that when Ibn Umar wanted fumigation he got it from aloeswood without mixing anything with it, or he put camphor along with aloeswood and then said:This is how Allah's Messenger (ﷺ) fumigated
نافع نے کہا : حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب خوشبو کا دھواں لیتے تو عودکا دھواں لیتے ، اس میں کسی اور چیز کی آمیزش نہ ہو تی اور کافور کا دھواں لیتے ۔ اس میں کچھ عود ملا لیتے ، پھر بتا یا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح خوشبو کا دھواں لیتے ( اور کپڑوں میں بساتے ) تھے ۔
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، وَأَبُو طَاهِرٍ وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى قَالَ أَحْمَدُ حَدَّثَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا اسْتَجْمَرَ اسْتَجْمَرَ بِالأَلُوَّةِ غَيْرِ مُطَرَّاةٍ وَبِكَافُورٍ يَطْرَحُهُ مَعَ الأَلُوَّةِ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا كَانَ يَسْتَجْمِرُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
#5885
Amr b. Sharid reported his father as saying:One day when I rode behind Allah's Messenger (ﷺ), he said (to me): Do you remember any poetry of Umayya b. Abu Salt. I said: Yes. He said: Then go on. I recited a couplet, and he said: Go on. Then I again recited a couplet and he said: Go on. I recited one hundred couplets (of his poetry). This hadith has been reported on the authority of Sharid through another chain of transmitters but with a slight variation of wording
عمرو ناقد اور ابن ابی عمر ، دونوں نے ابن عیینہ سے روایت کی ۔ ابن ابی عمر نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی ، ابرا ہیم بن میسرہ سے روایت ہے ، انھوں نے عمرو بن شرید سے ، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہا : ایک دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار ہوا تو آپ نے فرما یا : " کیا تمھیں امیہ بن ابی صلت کے شعروں میں سے کچھ یاد ہے؟ " میں نے عرض کی ، جی ہاں ۔ آپ نے فرما یا : " تو لا ؤ ( سناؤ ۔ ) میں نے آپ کو ایک شعر سنایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اور سناؤ ۔ " میں نے ایک اور شعر سنا یا ۔ آپ نے فر ما یا : " اور سناؤ ۔ " میں نے ایک اور شعر سنایا ۔ آپ نے فر ما یا : " اورسناؤ ۔ " یہاں تک کہ میں نے آپ کو ایک سواشعار سنا ئے ۔
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، كِلاَهُمَا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ رَدِفْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا فَقَالَ " هَلْ مَعَكَ مِنْ شِعْرِ أُمَيَّةَ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ شَيْئًا " . قُلْتُ نَعَمْ قَالَ " هِيهِ " . فَأَنْشَدْتُهُ بَيْتًا فَقَالَ " هِيهِ " . ثُمَّ أَنْشَدْتُهُ بَيْتًا فَقَالَ " هِيهِ " . حَتَّى أَنْشَدْتُهُ مِائَةَ بَيْتٍ . وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، أَوْ يَعْقُوبَ بْنِ عَاصِمٍ عَنِ الشَّرِيدِ، قَالَ أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَلْفَهُ . فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ .
#5886
Amr b. Sharid reported his father as saying:One day when I rode behind Allah's Messenger (ﷺ), he said (to me): Do you remember any poetry of Umayya b. Abu Salt. I said: Yes. He said: Then go on. I recited a couplet, and he said: Go on. Then I again recited a couplet and he said: Go on. I recited one hundred couplets (of his poetry). This hadith has been reported on the authority of Sharid through another chain of transmitters but with a slight variation of wording
عمرو ناقد اور ابن ابی عمر ، دونوں نے ابن عیینہ سے روایت کی ۔ ابن ابی عمر نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی ، ابرا ہیم بن میسرہ سے روایت ہے ، انھوں نے عمرو بن شرید سے ، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہا : ایک دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار ہوا تو آپ نے فرما یا : " کیا تمھیں امیہ بن ابی صلت کے شعروں میں سے کچھ یاد ہے؟ " میں نے عرض کی ، جی ہاں ۔ آپ نے فرما یا : " تو لا ؤ ( سناؤ ۔ ) میں نے آپ کو ایک شعر سنایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اور سناؤ ۔ " میں نے ایک اور شعر سنا یا ۔ آپ نے فر ما یا : " اور سناؤ ۔ " میں نے ایک اور شعر سنایا ۔ آپ نے فر ما یا : " اورسناؤ ۔ " یہاں تک کہ میں نے آپ کو ایک سواشعار سنا ئے ۔
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، كِلاَهُمَا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ رَدِفْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا فَقَالَ " هَلْ مَعَكَ مِنْ شِعْرِ أُمَيَّةَ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ شَيْئًا " . قُلْتُ نَعَمْ قَالَ " هِيهِ " . فَأَنْشَدْتُهُ بَيْتًا فَقَالَ " هِيهِ " . ثُمَّ أَنْشَدْتُهُ بَيْتًا فَقَالَ " هِيهِ " . حَتَّى أَنْشَدْتُهُ مِائَةَ بَيْتٍ . وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، أَوْ يَعْقُوبَ بْنِ عَاصِمٍ عَنِ الشَّرِيدِ، قَالَ أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَلْفَهُ . فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ .
#5887
Amr b. Sharid reported on the authority of his father that Allah's Messenger (ﷺ) asked him to recite poetry, the rest of the hadith is the same, but with this addition:"He (that is Umayya b. Abu Salt) was about to become a Muslim", and in the hadith transmitted on the authority of Ibn Mahdi (the words are) "He was almost a Muslim in his poetry
معتمر بن سلیمان اور عبد الرحمٰن بن مہدی دونوں نے عبد اللہ بن عبد الرحمٰن طائفی سے ، انھوں نے عمروبن شریدسے ، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے شعر سنانے کے لیے فرما یا ، ابرا ہیم بن میسرہ کی روایت کے مانند اور مزید یوں کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا " قریب تھا کہ وہ مسلمان ہو جاتا ۔ " اور ابن مہدی کی حدیث میں ہے : " وہ اپنے اشعار میں مسلمان ہو نے کے قریب تھا ۔ " ( اس نے تقریباً وہی باتیں کیں جو ایک مسلمان کہہ سکتا ہے ۔)
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ح وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، كِلاَهُمَا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّائِفِيِّ، عَنْ عَمْرِو، بْنِ الشَّرِيدِ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ اسْتَنْشَدَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . بِمِثْلِ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ وَزَادَ قَالَ " إِنْ كَادَ لَيُسْلِمُ " . وَفِي حَدِيثِ ابْنِ مَهْدِيٍّ قَالَ " فَلَقَدْ كَادَ يُسْلِمُ فِي شِعْرِهِ " .
#5888
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The truest word spoken by an Arab (pre-Islamic) in poetry is this verse of Labid: "Behold! apart from Allah everything is vain
شریک نے عبد الملک بن عمیر سے انھوں نے ابو سلمہ سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فر ما یا : " عربوں نے شعر میں جو سب سے عمدہ بات کہی وہ بات لبید کا یہ جملہ ہے : " سن رکھو !اللہ کے سوا ہر چیز ( جس کی عبادت کی جا تی ہے ) باطل ہے ۔ " ( دوسرا مصرع ہے : وكلُّ نعيمٍ لا مَحالة َ زائِلُ " اور ہر نعمت لا زمی طور پر زائل ہو نے والی ہے)
حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ جَمِيعًا عَنْ شَرِيكٍ، قَالَ ابْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَشْعَرُ كَلِمَةٍ تَكَلَّمَتْ بِهَا الْعَرَبُ كَلِمَةُ لَبِيدٍ أَلاَ كُلُّ شَىْءٍ مَا خَلاَ اللَّهَ بَاطِلٌ " .
#5889
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The truest word uttered by a poet is this verse of Labid: "Behold! apart from Allah everything is vain," and Umayya b. Abu Salt was almost a Muslim
سفیان نے عبد الملک بن عمیر سے روایت کی ، کہا : ہمیں ابوسلمہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " سب سے سچی بات جو کسی شاعر نے کہی لبید کی بات ہے ۔ " سن رکھو!اللہ کے سوا ہر چیز ( جس کی عبادت کی جا تی ہے ) باطل ہے ۔ " اور قریب تھا کہ امیہ بن ابی صلت مسلمان ہوجاتا ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، بْنِ عُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَصْدَقُ كَلِمَةٍ قَالَهَا شَاعِرٌ كَلِمَةُ لَبِيدٍ أَلاَ كُلُّ شَىْءٍ مَا خَلاَ اللَّهَ بَاطِلٌ وَكَادَ أُمَيَّةُ بْنُ أَبِي الصَّلْتِ أَنْ يُسْلِمَ " .
#5890
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The truest verse recited by a poet is: "Behold! apart from Allah everything is vain," and Ibn Abu Salt was almost a Muslim
زائد ہ نے عبد الملک بن عمیر سے ، انھوں نے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " کسی بھی شاعرکا کہا ہوا سب سے سچا شعر وہ ہے جو لبید نے کہا ہے ۔ " سنو اللہ کے سوا ہر چیز باطل ہے ۔ " اور قریب تھا کہ امیہ بن ابی صلت مسلمان ہو جا تا ۔
وَحَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَصْدَقُ بَيْتٍ قَالَهُ الشَّاعِرُ أَلاَ كُلُّ شَىْءٍ مَا خَلاَ اللَّهَ بَاطِلٌ وَكَادَ ابْنُ أَبِي الصَّلْتِ أَنْ يُسْلِمَ " .
#5891
Abu Huraira reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:The truest couplet recited by a poet is: "Behold! apart from Allah everything is vain," and he made no addition to it
شعبہ نے عبدالملک بن عمیر سے ، انھوں نے ابو سلمہ سے انھو ں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، کہ آپ نے فرما یا : " شاعروں کے کلا م میں سب سے سچا شعر لبید کا ہے ۔ " سن رکھو! اللہ کے سوا ہر چیز باطل ہے ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ، عُمَيْرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَصْدَقُ بَيْتٍ قَالَتْهُ الشُّعَرَاءُ أَلاَ كُلُّ شَىْءٍ مَا خَلاَ اللَّهَ بَاطِلٌ " .
#5892
Abu Huraira reported:I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: The truest word which the poet stated is the word of Labid: "Behold! apart from Allah everything is vain
اسرائیل نے عبد الملک بن عمیر سے ، انھوں نے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن سےروایت کی ، ، کہا : میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فر ما رہے تھے : " سب سے سچی بات جو کسی شاعر نے کہی لبید کی بات ہے ۔ " سن رکھو!اللہ کے سوا ہر چیز باطل ہے ۔ " انھوں ( اسرائیل ) نے اس پر کو ئی اضافہ نہیں کیا ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّاءَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ أَصْدَقَ كَلِمَةٍ قَالَهَا شَاعِرٌ كَلِمَةُ لَبِيدٍ أَلاَ كُلُّ شَىْءٍ مَا خَلاَ اللَّهَ بَاطِلٌ " . مَا زَادَ عَلَى ذَلِكَ .
#5893
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:It is better for a man's belly to be stuffed with pus which corrodes it than to stuff (one's mind) with frivolous poetry. Abu Bakr has reported it with a slight variation of wording
ابو بکر بن ابی شیبہ نے کہا ہمیں حفص اور ابو معاویہ نے حدیث بیان کی ۔ ابو کریب نے کہا : ہمیں ابو معاویہ نے حدیث بیان کی ، ان دونوں ( ابو معاویہ اور حفص ) نے اعمش سے روایت کی ، ابو سعید اشج نے کہا : ہمیں وکیع نے حدیث بیان کی کہا : ہمیں اعمش نے ابو صالح سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " کسی انسا ن کے پیٹ میں پیپ بھر جا نا جو اس کے پیٹ کو تباہ کردے ، شعر کے ساتھ بھر جا نے کی نسبت بہتر ہے ۔ " ابو بکر نے کہا : مگر حفص نے " يَريهِ " ( جو اس کے پیٹ کو تباہ کردے ) کے الفا ظ روایت نہیں کیے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، كِلاَهُمَا عَنِ الأَعْمَشِ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ الرَّجُلِ قَيْحًا يَرِيهِ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ إِلاَّ أَنَّ حَفْصًا لَمْ يَقُلْ " يَرِيهِ " .
#5894
Sa`d reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:It is better for the belly of any one of you to be stuffed with pus rather than to stuff (one's mind) with poetry
حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فر ما یا : " تم میں سے کسی شخص کا پیٹ پیپ سے بھر جا ئے وہ اس سے بہتر ہے کہ اس کا پیٹ شعر سے بھر جا ئے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا يَرِيهِ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا " .
#5895
Abu Sa`id Al-Khudri reported:We were going with Allah's Messenger (ﷺ). As we reached the place (known as) `Arj there met (us) a poet who had been reciting poetry. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: Catch the satan or detain the satan, for filling the belly of a man with pus is better than stuffing his brain with poetry
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا : ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ " عرج " کے علاقے میں جا رہے تھے کہ ایک شاعر شعر پڑھتا ہوا سامنے سے گزرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " شیطان کو پکڑو ، یا ( فرما یا ) شیطان کوروکو ، انسان کے پیٹ کا پیپ سے بھر جا نا اس سے بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھرے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ يُحَنِّسَ، مَوْلَى مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ بَيْنَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْعَرْجِ إِذْ عَرَضَ شَاعِرٌ يُنْشِدُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " خُذُوا الشَّيْطَانَ أَوْ أَمْسِكُوا الشَّيْطَانَ لأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ رَجُلٍ قَيْحًا خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا " .
#5896
Buraida reported on the authority of his father that Allah's Apostle (ﷺ) said:He who played Nardashir (a game similar to backgammon) is like one who dyed his hand with the flesh and blood of swine
سلیمان کے والد حضرت بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جس شخص نے چوسر کھیلی تو گویا اس نے اپنے ہاتھ کو خنزیر کے خون اور گو شت سے رنگ لیا ۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ، مَرْثَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ لَعِبَ بِالنَّرْدَشِيرِ فَكَأَنَّمَا صَبَغَ يَدَهُ فِي لَحْمِ خِنْزِيرٍ وَدَمِهِ " .
#5897
Abu Salama reported:I used to see dreams (and was so much perturbed) that I began to quiver and have temperature, but did not cover myself with a mantle. I met Abu Qatada and made a mention of that to him. He said: I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: A good vision comes from Allah and a (bad) dream (hulm) from devil. So when one of you sees a bad dream (hulm) which he does not like, he should spit on his left side thrice and seek refuge with Allah from its evil; then it will not harm him
عمرو ناقد ، اسحٰق بن ابراہیم اور ابن ابی عمر ، سب نے ابن عیینہ سے روایت کی ، الفاظ ابن ابی عمر کے ہیں ، کہا : ہمیں سفیان نے زہریسے ، انھوں نے ابو سلمہ سے روایت کی ، کہا : میں خواب دیکھتا تھا اور اس سے بخار اور کپکپی جیسی کیفیت میں مبتلا ہو جا تا تھا ، بس میں چادرنہیں اوڑھتا تھا یہاں تک کہ میں حضرت قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملا اور انھیں یہ بات بتا ئی تو انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سنا ، آپ نے فر مارہے تھے : " ( سچا ) خواب اللہ کی طرف سے ہے اور ( برا ) خواب شیطان کی طرف سے ، تم میں سے کو ئی شخص جب ایسا خواب دیکھے جو اسے برالگے تو وہ اپنی بائیں جانب تین بار تھوک دے اور ( جو اس نے دیکھا ) اس کے شر سے اللہ کی پناہ طلب کرے تو وہ اسے ہرگز نقصان نہیں پہنچائے گا ۔
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ أَبِي عُمَرَ - حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ كُنْتُ أَرَى الرُّؤْيَا أُعْرَى مِنْهَا غَيْرَ أَنِّي لاَ أُزَمَّلُ حَتَّى لَقِيتُ أَبَا قَتَادَةَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " الرُّؤْيَا مِنَ اللَّهِ وَالْحُلْمُ مِنَ الشَّيْطَانِ فَإِذَا حَلَمَ أَحَدُكُمْ حُلْمًا يَكْرَهُهُ فَلْيَنْفُثْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلاَثًا وَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا فَإِنَّهَا لَنْ تَضُرَّهُ " .
#5898
This hadith has been narrated on the authority of Abu Qatada, but there is no mention of the words of Abu Salama:"I saw dreams (which perturbed me) but I did not cover myself with a mantle
ابن ابی عمر نے کہا : ہمیں سفیان نے آل طلحہ کے آزاد کردہ غلام محمد بن عبد الرحمٰن سعید کے دوبیٹوں عبد ربہ اور یحییٰ اور محمد بن عمرو بن علقمہ سے حدیث سنائی ، انھوں نے ابو سلمہ سے ، انھوں نے حضرت قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ، ان سب نے اپنی حدیث میں ابو سلمہ کے اس قول کا ذکر نہیں کیا : "" میں خواب دیکھتا تھا جس سے مجھ پر بخار اور کپکپی طاری ہو جا تی تھی مگر میں چادر نہیں اوراوڑھتا تھا ۔
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ وَعَبْدِ رَبِّهِ وَيَحْيَى ابْنَىْ سَعِيدٍ وَمُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . مِثْلَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ فِي حَدِيثِهِمْ قَوْلَ أَبِي سَلَمَةَ كُنْتُ أَرَى الرُّؤْيَا أُعْرَى مِنْهَا غَيْرَ أَنِّي لاَ أُزَمَّلُ .
#5899
This hadith has been reported on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters, but it does not contain the words:"I felt disturbed because of that," and there is an addition of these words in the hadith transmitted on the authority of Yunus: "Then spit thrice on the left side when you get up from sleep
یو نس اور معمر دونوں نے زہری سے اسی سند کے ساتھ روایت بیان کی ، ان دونوں کی حدیث میں یہ الفا ظ نہیں ہیں : " اس سے میں بخار اور کپکپی میں مبتلا ہو جا تا تھا ۔ " یونس کی حدیث میں مزید یہ الفا ظ ہیں : " وہ جب نیند سے بیدار ہو تو اپنی بائیں جانب تین بار تھوکے ۔
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، كِلاَهُمَا عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا أُعْرَى مِنْهَا . وَزَادَ فِي حَدِيثِ يُونُسَ " فَلْيَبْصُقْ عَلَى يَسَارِهِ حِينَ يَهُبُّ مِنْ نَوْمِهِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ " .