#5725
Umm Salama, the wife of Allah's Apostle (ﷺ), reported that Allah's Messenger (ﷺ) said to a small girl in the house of Umm Salama that he had been seeing on her face black stains and told her that that was due to the infiluence of an evil eye, and he asked that she should be cured with the help of incantation (hoping) that her face should become spotles
زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زوجہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر میں ایک لڑکی کے بارے میں جس کے چہرے ( کے ایک حصے ) کا رنگ بدلا ہوا دیکھا فرما یا : " اس کو نظر لگ گئی ہے اس کو دم کراؤ ۔ " آپ کی مراد اس کے چہرے کی پیلا ہٹ سے تھی ۔
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ، سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، الزُّبَيْدِيُّ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِجَارِيَةٍ فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم رَأَى بِوَجْهِهَا سَفْعَةً فَقَالَ " بِهَا نَظْرَةٌ فَاسْتَرْقُوا لَهَا " . يَعْنِي بِوَجْهِهَا صُفْرَةً .
#5726
Jabir b. 'Abdullah reported that Allah's Apostle (ﷺ) granted sanction to the family of Hazm for incantation (in mitigating the effect of the poison of) the snake, and, he said -to Asma' daughter of 'Umais:What is this that I see the children of my brother lean? Are they not fed properly? She said: No, but they fall under the influence of an evil eve. He said: Use incantation She recited (the words of incantation before him), whereupon he (by approving them) said: Yes, use this incantation for them
ابوعاصم نے ابن جریج سے روایت کی ، کہا : مجھے ابو زبیر نے بتا یا کہ انھوں نے حضرت جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہو ئے سنا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آل ( بنو عمروبن ) حزم کو سانپ ( کے کا ٹے ) کا دم کرنے کی اجازت دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےاسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فر ما یا : " کیا ہوا ہے میں نے اپنے بھا ئی ( حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کے بچوں کے جسم لا غر دیکھ رہا ہوں ، کیا انھیں بھوکا رہنا پڑتا ہے؟ " انھوں نے کہا : نہیں لیکن انھیں نظر بد جلدی لگ جاتی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " انھیں دم کرو ۔ " انھوں ( اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے کہا : تومیں نے ( دم کے الفاظ کو ) آپ کے سامنے پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا : " ( ان الفاظ سے ) ان کو دم کردو ۔
حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ وَأَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ رَخَّصَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لآلِ حَزْمٍ فِي رُقْيَةِ الْحَيَّةِ وَقَالَ لأَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ " مَا لِي أَرَى أَجْسَامَ بَنِي أَخِي ضَارِعَةً تُصِيبُهُمُ الْحَاجَةُ " . قَالَتْ لاَ وَلَكِنِ الْعَيْنُ تُسْرِعُ إِلَيْهِمْ . قَالَ " ارْقِيهِمْ " . قَالَتْ فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ " ارْقِيهِمْ " .
#5727
Jabir b. 'Abdullah reported that Allah's Apostle (ﷺ) granted a special sanction for incantation in case of the snake poison to a tribe of 'Amr. Abu Zubair said:I heard Jabir b. 'Abdullah as saying that the scorpion stung one of us as we were sitting with Allah's Messenger (may peace upon him). A person said: Allah's Messenger, I use incantation (for curing the effect. of sting), whereupon he said: He who is competent amongst you to benefit his brother should do so
روح بن عبادہ نے کہا : ہمیں ابن جریج نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے ابو زبیر نے بتا یا کہ انھوں نے حضرت جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہو ئے سنا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عمرو ( بن حزم ) کو سانپ کے ڈسنے کی صورت میں دم کرنے کی اجا زت دی ۔ ابو زبیر نے کہا : میں نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ( یہ بھی ) سنا ، وہ کہتے تھے : ہم میں سے ایک شخص کو بچھو نے ڈنگ مار دیا ، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہو ئے تھے ۔ کہ ایک آدمی نے کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میں دم کردوں؟آپ نے فرما یا : " تم میں سے جو شخص اپنے بھا ئی کو فا ئدہ پہنچا سکتا ہو تو اسے ایسا کرنا چا ہیے ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ أَرْخَصَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي رُقْيَةِ الْحَيَّةِ لِبَنِي عَمْرٍو . قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ وَسَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ لَدَغَتْ رَجُلاً مِنَّا عَقْرَبٌ وَنَحْنُ جُلُوسٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرْقِي قَالَ " مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَفْعَلْ " .
#5728
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Juraij with the same chain of transmitters but with a slight variation of wording
سعید بن یحییٰ اموی کے والد نے کہا : ہمیں ابن جریج نے اسی سند کے ساتھ اسی کی مثل روایت بیان کی مگر انھوں نے کہا : لو گوں میں سے ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کیا میں اس کو دم کردوں؟اور ( صرف ) : " دم کردوں " نہیں کہا ۔
وَحَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الأُمَوِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ أَرْقِيهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَمْ يَقُلْ أَرْقِي .
#5729
Jabir b. 'Abdullah reported I had a maternal uncle who treated the sting of the scorpion with the help of incantation. Allah's Messenger (ﷺ) forbade incantation. He came to him and said:Allah's Messenger, you forbade to practise incantation, whereas I employ it for curing the sting of the scorpion, whereupon he said: He who amongst you is capable of employing it as a means to do good should do that
وکیع نے اعمش سے ، انھوں نے ابو سفیان سے ، انھوں نے حضرت جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میرے ایک ماموں تھے وہ بچھوکے کا ٹے پردم کرتے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( عمومی طور ہر طرح کے ) دم کرنے سے منع فر ما یا ۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہو ئے اور کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ نے دم کرنے سے منع فرما دیا ہے ۔ میں بچھو کے کاٹے سے دم کرتا ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم میں سے جو کو ئی اپنے بھا ئی کو فا ئدہ پہنچا سکتا ہو تو وہ ایسا کرے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كَانَ لِي خَالٌ يَرْقِي مِنَ الْعَقْرَبِ فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الرُّقَى - قَالَ - فَأَتَاهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ نَهَيْتَ عَنِ الرُّقَى وَأَنَا أَرْقِي مِنَ الْعَقْرَبِ . فَقَالَ " مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَفْعَلْ " .
#5730
This hadith has been narrated on the authority of A'mash with the same chain of transmitters
جریر نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
وَحَدَّثَنَاهُ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
#5731
Jabir reported Allah's Messenger (ﷺ) prohibited incantation. Then the people of Amr b. Hazm came to Allah's Messenger (ﷺ) and said:We know an incantation which we use for curing the sting of the scorpion but you have prohibited it. They recited (the words of incantation) before him, whereupon he said: I do not see any harm (in it), so he who amongst you is competent to do good to his brother should do that
ابو معاویہ نے اعمش سے ، انھوں نے سفیان سے ، انھوں نے حضرت جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دم کرنے سے منع فرما دیا تو عمرو بن حزم کا خاندان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حا ضر ہوا اور عرض کی ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے پاس دم ( کرنے کا ایک کلمہ ) تھا ۔ ہم اس سے بچھو کے ڈسے ہو ئے کو دم کرتے تھے اور آپ نے دم کرنے سے منع فر ما دیا ۔ انھوں ( جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : تو انھوں نے وہ پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " میں ( اس میں کو ئی ) حرج نہیں سمجھتا ۔ تم میں سے جو کوئی اپنے بھا ئی کو فائدہ پہنچاسکتا ہو تو وہ ضرور اسے فائدہ پہنچائے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الرُّقَى فَجَاءَ آلُ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ كَانَتْ عِنْدَنَا رُقْيَةٌ نَرْقِي بِهَا مِنَ الْعَقْرَبِ وَإِنَّكَ نَهَيْتَ عَنِ الرُّقَى . قَالَ فَعَرَضُوهَا عَلَيْهِ . فَقَالَ " مَا أَرَى بَأْسًا مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَنْفَعْهُ " .
#5732
Auf b. Malik Ashja'i reported We practised incantation in the pre-Islamic days and we said:Allah's Messenger. what is your opinion about it? He said: Let me know your incantation and said: There is no harm in the incantation which does not smack of polytheism
حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، کہا : ہم زمانہ جاہلیت میں دم کیا کرتے تھے ہم نے عرض کی : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اپنے دم کے کلمات میرے سامنے پیش کرو دم میں کو ئی حرج نہیں جب تک اس میں شرک نہ ہو ۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ، قَالَ كُنَّا نَرْقِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تَرَى فِي ذَلِكَ فَقَالَ " اعْرِضُوا عَلَىَّ رُقَاكُمْ لاَ بَأْسَ بِالرُّقَى مَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ شِرْكٌ " .
#5733
Abu Sa'id Khudri reported that some persons amongst the Companions of Allah's Messenger (ﷺ) set out on a journey and they happened to pass by a tribe from the tribes of Arabia. They demanded hospitality from the members of that tribe, but they did not extend any hospitality to them. They said to them:Is there any incantator amongst you, at the chief of the tribe has bgen stung by a scorpion? A person amongst us said: 'Yes. So he came to him and he practised incan- tation with the help of Sura al-Fatiha and the person became all right. He was given a flock of sheep (as recompense), but he refused to accept that, saying: I shall make a mention of it to Allah's Apostle (ﷺ), and if he approves of it. then I shall accept it. So we came to Allah's Apostle (ﷺ) and made a mention of that to him and he (that person) said: Allah's Messenger by Allah, I did not practice incantation but with the help of Sura al-Fatiha of the Holy Book. He (the Holy Prophet) smiled and said: How did you come to know that it can be used (as incactation)? - and then said: Take out of that and allocate a share for me along with your share
ہشیم نے ابو بشر سے ، انھوں نے ابو متوکل سے ، انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کے چند صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین سفر میں تھے عرب کے قبائل میں سے کسی قبیلے کے سامنے سے ان کا گزر ہوا انھوں نے ان ( قبیلے والے ) لوگوں سے چاہا کہ وہ انھیں اپنا مہمان بنائیں ۔ انھوں نے مہمان بنانے سے انکا ر کر دیا ، پھر انھوں نے کہا : کیا تم میں کو ئی دم کرنے والا ہے کیونکہ قوم کے سردار کو کسی چیز نے ڈس لیا ہے یا اسے کو ئی بیماری لا حق ہو گئی ہے ۔ ان ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) میں سے ایک آدمی نے کہا : ہاں پھر وہ اس کے قریب آئے اور اسے فاتحہ الکتاب سے دم کر دیا ۔ وہ آدمی ٹھیک ہو گیا تو اس ( دم کرنے والے ) کو بکریوں کاا یک ریوڑ ( تیس بکریاں ) پیش کی گئیں ۔ اس نے انھیں ( فوری طور پر ) قبول کرنے ( کا م میں لا نے ) سے انکا ر کر دیا اور کہا : یہاں تک کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کو ماجرا سنادوں ۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کی خدمت میں حا ضر ہوا اور سارا ماجرا آپ کو سنایا اور کہا اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !!میں فاتحہ الکتاب کے علاوہ اور کو ئی دم نہیں کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرما یا : " تمھیں کیسے پتہ چلا کہ وہ دم ( بھی ) ہے؟ " پھر انھیں لے لو اور اپنے ساتھ میرا بھی حصہ رکھو ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ نَاسًا، مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانُوا فى سَفَرٍ فَمَرُّوا بِحَىٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ فَاسْتَضَافُوهُمْ فَلَمْ يُضِيفُوهُمْ . فَقَالُوا لَهُمْ هَلْ فِيكُمْ رَاقٍ فَإِنَّ سَيِّدَ الْحَىِّ لَدِيغٌ أَوْ مُصَابٌ . فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ نَعَمْ فَأَتَاهُ فَرَقَاهُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَبَرَأَ الرَّجُلُ فَأُعْطِيَ قَطِيعًا مِنْ غَنَمٍ فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَهَا . وَقَالَ حَتَّى أَذْكُرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ . فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا رَقَيْتُ إِلاَّ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ . فَتَبَسَّمَ وَقَالَ " وَمَا أَدْرَاكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ " . ثُمَّ قَالَ " خُذُوا مِنْهُمْ وَاضْرِبُوا لِي بِسَهْمٍ مَعَكُمْ " .
#5734
This hadith has been reported on the authority of Abu Bishr with the same the same chain of transmitters (with these words):That he recited Umm-ul-Qur'an (Sura Fatiha), and he collected his spittle and he applied that and the person became all right
شعبہ نے ابو بشر سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ، اور حدیث میں یہ کہا : اس نے ام القرآن ( سورۃفاتحہ ) پڑھنی شروع کی اور اپنا تھوک جمع کرتا اور اس پر پھینکتا جاتا تو وہ آدمی تندرست ہوگیا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ كِلاَهُمَا عَنْ غُنْدَرٍ، مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ فَجَعَلَ يَقْرَأُ أُمَّ الْقُرْآنِ وَيَجْمَعُ بُزَاقَهُ وَيَتْفُلُ فَبَرَأَ الرَّجُلُ .
#5735
Abu Sa'id al-Khudri reported:We landed at a place where a woman came to us and said: A scorpion has bitten the chief of the tribe. Is there any incantator amongst you? A person amongst us stood up (and went with her). We had no idea that he had been a good incantator but he practiced incantation with the help of Sura al-Fatiha and the (the chief) was all right. They gave him a flock of sheep and served us milk. We said (to him): Are you a good incantator. Thereupon he said: I did not do it but by the help of Sura al-Fatiha. He said: Do not drive (these goats) until we go to Allah's Messenger (ﷺ) and find out (whether it is permissible to accept (this reward of incantation). So we came to Allah's Apostle (ﷺ) and made a mention of that to him, whereupon he said: How did you come to know that this (Sura al-Fatiha) could be used as an incantation? So distribute them (amongst those who had been present there with him) and allocate a share of mine also
یزید بن ہارون نے کہا : ہمیں ہشام بن حسان نے محمد بن سیرین سےخبر دی ، انھوں نے ا پنے بھائی معبد بن سیرین سے ، انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، روایت کی ، کہا : ہم نے ایک مقام پر پڑاؤکیا ، ایک عورت ہمارے پاس آئی اور کہا : قبیلے کےسردار کو ڈنک لگا ہے ، ( اسے بچھو نے ڈنک ماراہے ) کیا تم میں سے کوئی دم کرنے والا ہے؟ہم میں سے ایک آدمی اس کے ساتھ ( جانے کےلئے ) کھڑا ہوگیا ، اس کے بارے میں ہمارا خیال نہیں تھا کہ وہ اچھی طرح دم کرسکتا ہے ۔ اس نے اس ( ڈسے ہوئے ) کو فاتحہ سے دم کیاتو وہ ٹھیک ہوگیا ، تو انھوں نے اسے بکریوں کا ایک ریوڑ دیا اور ہم سب کو دودھ پلایا ۔ ہم نے ( اس سے ) پوچھا : کیا تم اچھی طرح دم کرنا جانتے تھے؟اس نے کہا : میں نے اسے صرف فاتحۃ الکتاب سے دم کیا ہے ۔ کہا : میں نے ( ساتھیوں سے ) کہا : ان بکریوں کو کچھ نہ کہو یہاں تک کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوجائیں ۔ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، آپ کو یہ بات بتائی توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اسے کس ذریعے سے پتہ چلا کہ یہ ( فاتحہ ) دم ( کا کلمہ بھی ) ہے؟ان ( بکریوں ) کو بانٹ لو اور اپنے داتھ میرا بھی حصہ رکھو ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَخِيهِ، مَعْبَدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ نَزَلْنَا مَنْزِلاً فَأَتَتْنَا امْرَأَةٌ فَقَالَتْ إِنَّ سَيِّدَ الْحَىِّ سَلِيمٌ لُدِغَ فَهَلْ فِيكُمْ مِنْ رَاقٍ فَقَامَ مَعَهَا رَجُلٌ مِنَّا مَا كُنَّا نَظُنُّهُ يُحْسِنُ رُقْيَةً فَرَقَاهُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَبَرَأَ فَأَعْطَوْهُ غَنَمًا وَسَقَوْنَا لَبَنًا فَقُلْنَا أَكُنْتَ تُحْسِنُ رُقْيَةً فَقَالَ مَا رَقَيْتُهُ إِلاَّ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ . قَالَ فَقُلْتُ لاَ تُحَرِّكُوهَا حَتَّى نَأْتِيَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم . فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ . فَقَالَ " مَا كَانَ يُدْرِيهِ أَنَّهَا رُقْيَةٌ اقْسِمُوا وَاضْرِبُوا لِي بِسَهْمٍ مَعَكُمْ " .
#5736
This hadith has been narrated on the authority of Hisham with the same chain of transmitters and he said:There stood up with her a person amongst us whom we did not know before as an incantator
ہمیں ہشام نے اسی سند کے ساتھ ، اسی طرح حدیث بیان کی ، مگر اس نے کہا : ہم میں سے ایک آدمی اس کے ساتھ ( جانے کے لئے کھڑا ہوگیا ) ہم نے کبھی گمان نہیں کیاتھا کہ وہ دم کرسکتاہے ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . نَحْوَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَقَامَ مَعَهَا رَجُلٌ مِنَّا مَا كُنَّا نَأْبِنُهُ بِرُقْيَةٍ .
#5737
Uthman b. Abu al-'As Al-Thaqafi reported that he made a complaint of pain to Allah's Messenger (ﷺ) that he felt in his body at the time he had become Muslim. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said:Place your hand at the place where you feel pain in your body and say Bismillah (in the name of Allah) three times and seven times A'udhu billahi wa qudratihi min sharri ma ajidu wa uhadhiru (I seek refuge with Allah and with His Power from the evil that I find and that I fear)
سیدنا عثمان بن ابی العاص ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے ایک درد کی شکایت کی ، جو ان کے بدن میں پیدا ہو گیا تھا جب سے وہ مسلمان ہوئے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنا ہاتھ درد کی جگہ پر رکھو اور تین بار ( ( بسم اللہ ) ) کہو ، اس کے بعد سات بار یہ کہو کہأَعُوذُ بِاللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ ”میں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں اس چیز کی برائی سے جس کو پاتا ہوں اور جس سے ڈرتا ہوں“ ۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي نَافِعُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيِّ، أَنَّهُ شَكَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَجَعًا يَجِدُهُ فِي جَسَدِهِ مُنْذُ أَسْلَمَ . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " ضَعْ يَدَكَ عَلَى الَّذِي تَأَلَّمَ مِنْ جَسَدِكَ وَقُلْ بِاسْمِ اللَّهِ . ثَلاَثًا . وَقُلْ سَبْعَ مَرَّاتٍ أَعُوذُ بِاللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ " .
#5738
Uthman b. Abu al-'As reported that he came to Allah's Messenger (ﷺ) and said:Allah's Messenger, the Satan intervenes between me and my prayer and my reciting of the Qur'an and he confounds me. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said:, That is (the doing of a) Satan (devil) who is known as Khinzab, and when you perceive its effect, seek refuge with Allah from it and spit three times to your left. I did that and Allah dispelled that from me
عبدالاعلیٰ نے سعید جریری سے ، انھوں نے ابو علاء سے روایت کی کہ سیدنا عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ یا رسول اللہ! شیطان میری نماز میں حائل ہو جاتا ہے اور مجھے قرآن بھلا دیتا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شیطان کا نام خنزب ہے ، جب تجھے اس شیطان کا اثر معلوم ہو تو اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگ اور ( نماز کے اندر ہی ) بائیں طرف تین بار تھوک لے ۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے ایسا ہی کیا ، پھر اللہ تعالیٰ نے اس شیطان کو مجھ سے دور کر دیا ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي، الْعَلاَءِ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ، أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ حَالَ بَيْنِي وَبَيْنَ صَلاَتِي وَقِرَاءَتِي يَلْبِسُهَا عَلَىَّ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " ذَاكَ شَيْطَانٌ يُقَالُ لَهُ خِنْزِبٌ فَإِذَا أَحْسَسْتَهُ فَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْهُ وَاتْفِلْ عَلَى يَسَارِكَ ثَلاَثًا " . قَالَ فَفَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَذْهَبَهُ اللَّهُ عَنِّي .
#5739
Uthman b. Abu al-'As reported that he came to Allah's Apostle (ﷺ) and he narrated like this. In the hadith transmitted on the authority of Salam b. Nuh there is no mention of three times
سالم بن نوح اور ابو اسامہ ، دونوں نےجریری سے ، انھوں نے ابو علااء سے ، انھوں نے عثمان بن ابی العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے ، پھر اس طرح بیا ن کیا اور سالم بن نوح کی حدیث میں " تین بار " کا لفظ نہیں ہے ۔
حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، كِلاَهُمَا عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْعَلاَءِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم . فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ وَلَمْ يَذْكُرْ فِي حَدِيثِ سَالِمِ بْنِ نُوحٍ ثَلاَثًا .
#5740
This hadith has been transmitted on the authority of 'Uthman b. Abu al-'As with a slight variation of wording
سفیان نے سعید جریری سے روایت کی ، کہا : ہمیں یزید بن عبداللہ بن شخیر نے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت عثمان بن ابی العاص ثقفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !پھر ان کی حدیث کی مانند بیان کیا ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيِّ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ . ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ .
#5741
Jabir reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:There is a remedy for every malady, and when the remedy is applied to the disease it is cured with the permission of Allah, the Exalted and Glorious
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہر بیماری کی دوا ہے ، جب کوئی دوا بیماری پر ٹھیک بٹھا دی جاتی ہے تو مریض اللہ تعالیٰ کےحکم سے تندرست ہوجاتاہے ۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، وَأَبُو الطَّاهِرِ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، قَالُوا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، - وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ - عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ فَإِذَا أُصِيبَ دَوَاءُ الدَّاءِ بَرَأَ بِإِذْنِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
#5742
Jabir reported that he visited Muqanna' and then said:I will not go away unless you get yourself cupped, for I heard Allah's Messenger (ﷺ) say: It is a remedy
بکیر نے کہا کہ عاصم بن عمر بن قتادہ نے انھیں حدیث سنائی کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مقنع ( بن سنان تابعی ) کی عیادت کی ، پھر فرمایا : میں ( اس وقت تک ) یہاں سے نہیں جاؤں گا جب تک کہ تم پچھنے نہ لگوالو ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ، آپ فرماتے ہیں؛ " یقیناً اس میں شفاہے ۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، وَأَبُو الطَّاهِرِ، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ بُكَيْرًا، حَدَّثَهُ أَنَّ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَادَ الْمُقَنَّعَ ثُمَّ قَالَ لاَ أَبْرَحُ حَتَّى تَحْتَجِمَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ فِيهِ شِفَاءً " .
#5743
Asim b. 'Umar b. Qatada reported:There came to our house 'Abdullah and another person from amongst the members of the household who complained of a wound. Jabir said: What ails you? He said: There is a wound which is very painful for me, whereupon he said: Boy, bring to me a cupper. He said: 'Abdullah, what do you intend to do with the cupper? I said: I would get this wound cupped. He said: By Allah. oven the touch of fly or cloth causes me pain (and cupping) would thus cause me (unbearable) pain. And when he saw him feeling pain (at the idea of cupping), he said: I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: If there is any effective remedy amongst your remedies, these are (three): Cupping, drinking of honey and cauterisation with the help of fire. Allah's Messenger (ﷺ) had said: As for myself I do not like cauterisation. The cupper was called and he cupped him and he was all right
عبدالرحمان بن سلیمان نے حضرت عاصم بن عمر بن قتادہ سے روایت کی ، کہا : کہ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ہمارے گھر میں آئے اور ایک شخص کو زخم کی تکلیف تھی ( یعنی قرحہ پڑ گیا تھا ) ۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تجھے کیا تکلیف ہے؟ وہ بولا کہ ایک قرحہ ہو گیا ہے جو کہ مجھ پر نہایت سخت ہے ۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے غلام! ایک پچھنے لگانے والے کو لے کر آ ۔ وہ بولا کہ پچھنے لگانے والے کا کیا کام ہے؟ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اس زخم پر پچھنے لگوانا چاہتا ہوں ، وہ بولا کہ اللہ کی قسم مجھے مکھیاں ستائیں گی اور کپڑا لگے گا تو مجھے تکلیف ہو گی اور مجھ پر بہت سخت ( وقت ) گزرے گا ۔ جب سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ اس کو پچھنے لگانے سے رنج ہوتا ہے تو کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ اگر تمہاری دواؤں میں بہتر کوئی دوا ہے تو تین ہی دوائیں ہیں ، ایک تو پچھنا ، دوسرے شہد کا ایک گھونٹ اور تیسرے انگارے سے جلانا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں داغ لینا بہتر نہیں جانتا ۔ راوی نے کہا کہ پھر پچھنے لگانے والا آیا اور اس نے اس کو پچھنے لگائے اور اس کی بیماری جاتی رہی ۔
حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، قَالَ جَاءَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فِي أَهْلِنَا وَرَجُلٌ يَشْتَكِي خُرَاجًا بِهِ أَوْ جِرَاحًا فَقَالَ مَا تَشْتَكِي قَالَ خُرَاجٌ بِي قَدْ شَقَّ عَلَىَّ . فَقَالَ يَا غُلاَمُ ائْتِنِي بِحَجَّامٍ . فَقَالَ لَهُ مَا تَصْنَعُ بِالْحَجَّامِ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أُرِيدُ أَنْ أُعَلِّقَ فِيهِ مِحْجَمًا . قَالَ وَاللَّهِ إِنَّ الذُّبَابَ لَيُصِيبُنِي أَوْ يُصِيبُنِي الثَّوْبُ فَيُؤْذِينِي وَيَشُقُّ عَلَىَّ . فَلَمَّا رَأَى تَبَرُّمَهُ مِنْ ذَلِكَ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنْ كَانَ فِي شَىْءٍ مِنْ أَدْوِيَتِكُمْ خَيْرٌ فَفِي شَرْطَةِ مَحْجَمٍ أَوْ شَرْبَةٍ مِنْ عَسَلٍ أَوْ لَذْعَةٍ بِنَارٍ " . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَمَا أُحِبُّ أَنْ أَكْتَوِيَ " . قَالَ فَجَاءَ بِحَجَّامٍ فَشَرَطَهُ فَذَهَبَ عَنْهُ مَا يَجِدُ .
#5744
Jabir reported that Umm Salama sought permission from Allah's messenger (may Allah's peace upon him) tor getting herself cupped. The Apostle of Allah (ﷺ) asked Abu Taiba to cup her. He (Jabir) said:I think he (Abu Taiba) was her faster brother or a young boy before entering upon the adolescent period
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پچھنے لگوانے کے متعلق اجازت طلب کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوطیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا کہ انھیں پچھنے لگائیں ۔ انھوں نے ( جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : حضرت ابو طیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے رضاعی بھائی تھے یا نابالغ لڑکے تھے ۔ ( اور انھوں نے ہاتھ یا پاؤں ایسی جگہ پچھنے لگائےجنھیں دیکھنا محرم یا بچے کے لئے جائز ہے ۔)
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ، اسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْحِجَامَةِ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَبَا طَيْبَةَ أَنْ يَحْجُمَهَا . قَالَ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ كَانَ أَخَاهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ أَوْ غُلاَمًا لَمْ يَحْتَلِمْ .
#5745
Jabir reported that Allah's Messenger (ﷺ) sent a phystian to Ubayy b. Ka'b. He cut the vein and then cauterised it
ابومعاویہ نے اعمش سے ، انھوں نے ابو سفیان سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( جب ) حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( کو جنگ خندق کے موقع پر ہاتھ کی بڑی رگ پر زخم لگاتو ان ) کے پاس ا یک طبیب بھیجا ، اس نے ان کی ( زخمی ) رگ ( کی خراب ہوجانے والی جگہ ) کاٹی ، پھر اس پرداغ لگایا ( تاکہ خون رک جائے ۔)
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَ يَحْيَى - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ طَبِيبًا فَقَطَعَ مِنْهُ عِرْقًا ثُمَّ كَوَاهُ عَلَيْهِ .
#5746
A'mash reported this with the same chain of transmitters and he made no mention of the fact that he cut one of his veins
جریر اور سفیان دونوں نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ بیان کیا اور " تو ان کی رگ کاٹی " کے الفاظ بیان نہیں کیے ۔
وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، ح وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، كِلاَهُمَا عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرَا فَقَطَعَ مِنْهُ عِرْقًا .
#5747
Jabir b. 'Abdillah reported that on the day of Ahzab Ubayy received the wound of an arrow in his medial arm vein. Allah's Messenger (ﷺ) cauterised it
سلیمان نے کہا : میں نے ابو سفیان کو سنا ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، انھوں نے کہا : غزوہ احزاب میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بازو کی بڑی رگ میں تیر لگا ۔ کہا : تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں داغ لگوایا ۔
وَحَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سُفْيَانَ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ رُمِيَ أُبَىٌّ يَوْمَ الأَحْزَابِ عَلَى أَكْحَلِهِ فَكَوَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
#5748
Jabir reported that Sa'd b. Mu'adh received a wound of the arrow in his vein. Allah's Messenger (ﷺ) cauterised it with a rod and it was swollen, to the Messenger of Allah (ﷺ) did it for the second time
ابو زبیر نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بازو کی بڑی رگ میں تیر لگا ، کہا : تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سےتیر کے پھل کے ساتھ اس ( جگہ ) کو داغ لگایا ، ان کا ہاتھ دوبارہ سوج گیا تو آپ نے دوبارہ اس پر داغ لگایا ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى، بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ رُمِيَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ فِي أَكْحَلِهِ - قَالَ - فَحَسَمَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ بِمِشْقَصٍ ثُمَّ وَرِمَتْ فَحَسَمَهُ الثَّانِيَةَ .
#5749
Ibn 'Abbas reported that Allah's Apostle (ﷺ) got himself cupped and gave to the cupper his wages and he put the medicine in the nostril
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگوانے اور لگانے والے کو اس کی اجرت دی اور آپ نے ناک کے ذریعے دوائی لی ۔
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلاَلٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم احْتَجَمَ وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ وَاسْتَعَطَ .