#5675
This hadith has been narrated on the authority of Yazid b. Abu Habib with the same chain of transmitters
عبداللہ بن وہب نے عمرو بن حارث ، لیث بن سعد اور حیوہ بن شریح وغیرہ سے روایت کی کہ یزید بن ابی حبیب نے انھیں اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت بیان کی ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، وَاللَّيْثِ، بْنِ سَعْدٍ وَحَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ وَغَيْرِهِمْ أَنَّ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ، حَدَّثَهُمْ بِهَذَا الإِسْنَادِ، مِثْلَهُ .
#5676
Ibn Wahb reported:I heard Laith b. Said as saying: Al-Hamv means the brother of husband or like it from amongst the relatives of the husband, for example, cousin, etc
ابن وہب نے کہا : میں نے لیث بن سعد سے سنا ، کہہ رہے تھے : حمو ( دیور/جیٹھ ) خاوند کابھائی ہے یا خاوند کے رشتہ داروں میں اس جیسا رشتہ رکھنے والا ، مثلاً : اس کا چچا زاد وغیرہ ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ سَمِعْتُ اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ، يَقُولُ الْحَمْوُ أَخُ الزَّوْجِ وَمَا أَشْبَهَهُ مِنْ أَقَارِبِ الزَّوْجِ ابْنُ الْعَمِّ وَنَحْوُهُ .
#5677
Abdullah b. 'Amr. b. al-'As reported that some persons from Banu Hisham entered the house of Asma' daughter of 'Umais when Abu Bakr also entered (and she was at that time his wife). He (Abu Bakr) saw it and disapproved of it and he made a mention of that to Allah's Messenger (ﷺ) and said:I did not see but good only (in my wife). Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: Verily Allah has made her immune from all this. Then Allah's Messenger (ﷺ) stood on the pulpit and said: After this day no man should enter the house of another person in his absence, but only when he is accompanied by one person or two persons
عبدالرحمان بن جبیر نے کہا کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں حدیث سنائی کہ بنو ہاشم کے کچھ لوگ حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر گئے ، پھر حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی آگئے ، حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا اس وقت ان کے نکاح میں تھیں ۔ انھوں نے ان لوگوں کو دیکھا تو انھیں ناگوارگزرا ۔ انھوں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی ، ساتھ ہی کہا : میں نے خیر کے سواکچھ نہیں دیکھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ نے ( بھی ) انھیں ( حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو ) اس سے بری قرار دیا ہے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا؛ " آج کے بعد کوئی شخص کسی ایسی عورت کے پا س نہ جائے جس کا خاوند گھر پر نہ ہو ، الا یہ کہ اس کے ساتھ ایک یا دو لوگ ہوں ۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرٍ حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ حَدَّثَهُ أَنَّ نَفَرًا مِنْ بَنِي هَاشِمٍ دَخَلُوا عَلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ وَهِيَ تَحْتَهُ يَوْمَئِذٍ فَرَآهُمْ فَكَرِهَ ذَلِكَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ لَمْ أَرَ إِلاَّ خَيْرًا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَرَّأَهَا مِنْ ذَلِكَ " . ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ " لاَ يَدْخُلَنَّ رَجُلٌ بَعْدَ يَوْمِي هَذَا عَلَى مُغِيبَةٍ إِلاَّ وَمَعَهُ رَجُلٌ أَوِ اثْنَانِ " .
#5678
Anas reported that when Allah's Messenger (ﷺ) was in the company of one of his wives a person happened to pass by them. He called him and when he came, he said to him:0 so and so, she was my such and such wife. Thereupon he said, Allah's Messenger, if I were to doubt at all, I would have entertained no doubt about you at least. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: Verily Satan circulates in the body like blood
ثابت بنانی نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( گھرسے باہر ) اپنی ایک اہلیہ کے ساتھ تھے ، آپ کے پا س سے ایک شخص گزرا تو آپ نے اسے بلالیا ، جب وہ آیا تو آپ نے فرمایا؛ " اے فلاں!یہ میری فلاں بیوی ہے ۔ " اس شخص نے کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کسی کے بارے میں گمان کرتا بھی تو آپ کے بارے میں تو نہیں کرسکتا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " شیطان انسان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ مَعَ إِحْدَى نِسَائِهِ فَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ فَدَعَاهُ فَجَاءَ فَقَالَ " يَا فُلاَنُ هَذِهِ زَوْجَتِي فُلاَنَةُ " . فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ كُنْتُ أَظُنُّ بِهِ فَلَمْ أَكُنْ أَظُنُّ بِكَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الإِنْسَانِ مَجْرَى الدَّمِ " .
#5679
Safiyya daughter of Huyyay (the wife of Allah's Apostle) reported that while Allah's Messenger (may peace be. upon him) had been observing I'tikaf, I came to visit him one night and talked with him for some time. Then I stood up to go back and he (Allah's Apostle) also stood up with me in order to bid me good-bye. She was at that time residing in the house of Usama b. Zaid. The two persons from the Ansar happened to pass by him. When they saw Allah's Apostle (ﷺ). they began to walk swiftly, thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said to them:Walk calmy, she is Safiyya daughter of Huyyay... Both of them said: Messenger, hallowed be Allah, (we cannot conceive of ab., ug doubtful even in the remotest corners of our minds), whereupon he said: Satan circulates in the body of man like the circulation of blood and I was afraid lest it should instill any evil in your heart or anything
معمر نے زہری سے ، انھوں نے علی بن حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے حضرت صفیہ بنت حی ( ام الومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) سے روایت کی ، کہا : ام المؤمنین صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف میں تھے ، میں رات کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کو آئی ۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کیں ، پھر میں لوٹ جانے کو کھڑی ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مجھے پہنچا دینے کو میرے ساتھ کھڑے ہوئے اور میرا گھر اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی مکان میں تھا ۔ راہ میں انصار کے دو آدمی ملے جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو وہ جلدی جلدی چلنے لگے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ٹھہرو ، یہ صفیہ بنت حیی ہے ۔ وہ دونوں بولے کہ سبحان اللہ یا رسول اللہ! ( یعنی ہم بھلا آپ پر کوئی بدگمانی کر سکتے ہیں؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان انسان کے بدن میں خون کی طرح پھرتا ہے اور میں ڈرا کہ کہیں تمہارے دل میں برا خیال نہ ڈالے ( اور اس کی وجہ سے تم تباہ ہو ) ۔
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، - وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ - قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَىٍّ، قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مُعْتَكِفًا فَأَتَيْتُهُ أَزُورُهُ لَيْلاً فَحَدَّثْتُهُ ثُمَّ قُمْتُ لأَنْقَلِبَ فَقَامَ مَعِيَ لِيَقْلِبَنِي . وَكَانَ مَسْكَنُهَا فِي دَارِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ فَمَرَّ رَجُلاَنِ مِنَ الأَنْصَارِ فَلَمَّا رَأَيَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَسْرَعَا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " عَلَى رِسْلِكُمَا إِنَّهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَىٍّ " . فَقَالاَ سُبْحَانَ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الإِنْسَانِ مَجْرَى الدَّمِ وَإِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَقْذِفَ فِي قُلُوبِكُمَا شَرًّا " . أَوْ قَالَ " شَيْئًا " .
#5680
This hadith has been reported on the authority of Safiyya, the wife of Allah's Apostle (ﷺ), through another chain of transmitters (and the words) are:" She went to Allah's Apostle (ﷺ) to visit him as he was observing I'tikaf in the mosque during Ramadan. She talked with him for some time and then stood up to go back and Allikh's Apostle (ﷺ) stood up in order to bid her good-bye." The rest of the hadith is the same except with the variation of the words that Allah's Apostle (ﷺ) said:" Satan penetrates in man like the penetration of blood (in every part of body)
شعیب نے زہری سے روایت کی ، کہا : مجھے علی بن حسین نے بتایا کہ انھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ محترمہ حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے خبر دی کہ وہ رمضان کے آخری عشرے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعتکاف کے دوران مسجد میں آپ سے ملنے آئیں ، انھوں نے گھڑی بھر آپ سے بات کی ، پھر واپسی کے لئے کھڑی ہوگئیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کو واپس چھوڑنے کےلیے کھڑی ہوگئیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کو واپس چھوڑنے کے لئے کھڑے ہوگئے ۔ اس کے بعد ( شعیب نے ) معمر کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی ، مگر انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " شیطان انسان کے اندر وہاں پہنچتا ہے جہاں خون پہنچتاہے ۔ انھوں نے " دوڑتا ہوا " نہیں کہا ۔
وَحَدَّثَنِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، أَنَّ صَفِيَّةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم تَزُورُهُ فِي اعْتِكَافِهِ فِي الْمَسْجِدِ فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ فَتَحَدَّثَتْ عِنْدَهُ سَاعَةً ثُمَّ قَامَتْ تَنْقَلِبُ وَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقْلِبُهَا . ثُمَّ ذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ مَعْمَرٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَبْلُغُ مِنَ الإِنْسَانِ مَبْلَغَ الدَّمِ " . وَلَمْ يَقُلْ " يَجْرِي " .
#5681
Abu Waqid al-Laith reported that Allah's Messenger (ﷺ) was sitting in the mosque along wish tome people when there came to him three persons; two of them stepped forward to the direction of Allah's Messenger (ﷺ), and one of them went away. The two stood by the side of Allah's Messenger (ﷺ), and one of them found a space in his circle and he sat in that; and the other one sat behind him and the third one went away. When Allah's Messenger (ﷺ) had finished his work, he said. Should I not inform you about these three persons? One of them sought refuge with Allah and Allah gave him refuge and the second one felt shy and Allah showed kindness to has shyness (and so he was accommodated in that meeting), and the last one reverted and Allah turned away His attention from him
امام مالک بن انس نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سےروایت کی کہ عقیل بن ابی طالب کے آذاد کردہ غلام ابو مرہ نے انھیں حضرت ابو واقد لیثی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہوئے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں بیٹھے تھے اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، اتنے میں تین آدمی آئے ، دو تو سیدھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ایک چلا گیا ۔ وہ دو جو آئے ان میں سے ایک نے مجلس میں جگہ خالی پائی تو وہ وہاں بیٹھ گیا اور دوسرا لوگوں کے پیچھے بیٹھا اور تیسرا تو پیٹھ پھیر کر چل دیا ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو فرمایا کیا میں تم سے تین آدمیوں کا حال نہ کہوں؟ ایک نے تو اللہ کے پاس ٹھکانہ لیا تو اللہ نے اس کو جگہ دی اور دوسرے نے ( لوگوں میں گھسنے کی ) شرم کی تو اللہ نے بھی اس سے شرم کی اور تیسرے نے منہ پھیرا تو اللہ نے بھی اس سے منہ پھیر لیا ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ، اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّ أَبَا مُرَّةَ، مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ، أَنَّالله عليه وسلم بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ وَالنَّاسُ مَعَهُ إِذْ أَقْبَلَ نَفَرٌ ثَلاَثَةٌ فَأَقْبَلَ اثْنَانِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَذَهَبَ وَاحِدٌ . قَالَ فَوَقَفَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَرَأَى فُرْجَةً فِي الْحَلْقَةِ فَجَلَسَ فِيهَا وَأَمَّا الآخَرُ فَجَلَسَ خَلْفَهُمْ وَأَمَّا الثَّالِثُ فَأَدْبَرَ ذَاهِبًا فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَلاَ أُخْبِرُكُمْ عَنِ النَّفَرِ الثَّلاَثَةِ أَمَّا أَحَدُهُمْ فَأَوَى إِلَى اللَّهِ فَآوَاهُ اللَّهُ وَأَمَّا الآخَرُ فَاسْتَحْيَا فَاسْتَحْيَا اللَّهُ مِنْهُ وَأَمَّا الآخَرُ فَأَعْرَضَ فَأَعْرَضَ اللَّهُ عَنْهُ " .
#5682
This hadith has been reported on the authority of Ishaq b. 'Abdullah b. Talha with the same chain of transmitters
یحییٰ بن ابی کثیر نے کہا کہ اسحٰق بن عبد اللہ بن ابی طلحہ نے انھیں اسی سند سے اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی ۔
وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا حَرْبٌ، - وَهُوَ ابْنُ شَدَّادٍ - ح وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ، حَدَّثَنَا أَبَانٌ، قَالاَ جَمِيعًا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ، أَبِي كَثِيرٍ أَنَّ إِسْحَاقَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، حَدَّثَهُ فِي، هَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ فِي الْمَعْنَى .
#5683
Ibn 'Umar reported Allah's Messenger (ﷺ) having said:None of you should make another one stand in the meeting and then occupy his place
لیث نے نا فع سے انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فر ما یا : تم میں سے کو ئی شخص کسی دوسرے کو اس کی جگہ سے نہ اٹھا ئے کہ پھر وہاں ( خود ) بیٹھ جائے
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يُقِيمَنَّ أَحَدُكُمُ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ يَجْلِسُ فِيهِ " .
#5684
Ibn 'Umar reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:No person should ask another person to stand at his place and then he should himself sit there, but he should simply say: Make room and accommodate
عبید اللہ نے نا فع سے حدیث بیان کی انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : کو ئی شخص کسی دوسرے شخص کو اس کی جگہ سے نہ اٹھا ئے کہ پھر وہاں بیٹھ جائے " ، بلکہ کھلے ہو کر بیٹھو اور وسعت پیدا کرو ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، - وَهْوَ الْقَطَّانُ - ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، - يَعْنِي الثَّقَفِيَّ - كُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، وَأَبُو أُسَامَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يُقِيمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَقْعَدِهِ ثُمَّ يَجْلِسُ فِيهِ وَلَكِنْ تَفَسَّحُوا وَتَوَسَّعُوا " .
#5685
This hadith has been reported on the authority of Ibn 'Umar through another chain of transmitters. but with a slight variation of wording
ابو ربیع اور الکامل نے کہا : ہمیں حماد نے حدیث بیان کی کہا : ہمیں ایوب نے حدیث سنائی ۔ یحییٰ بن حبیب نے کہا : ہمیں روح نے حدیث سنائی ، محمد را فع نے کہا : ہمیں عبد الرزاق نے حدیث بیان کی ، ان دونوں ( روح اور عبدالرزاق ) نے ابن جریج سے روایت کی ، محمد بن رافع نے کہا : ہمیں ابن ابی فدیک نے حدیث بیان کی ، کہا : ضحاک بن عثمان نے خبر دی ، ان سب ( ایوب ابن جریج اور ضحاک بن عثمان ) نے نافع سے انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لیث کی حدیث کے مانند روایت کی ، انھوں نے اس حدیث میں : " بلکہ کھلے ہو کر بیٹھو اور وسعت پیدا کرو " کے الفاظ بیان نہیں کیے اور ( ابن رافع نے ) ابن جریج کی حدیث میں یہ اضا فہ کیا : میں نے ان ( ابن بن جریج ) سے پو چھا : جمعہ کے دن ؟ " انھوں نے کہا : جمعہ میں اس اور اس کے علاوہ بھی ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، وَأَبُو كَامِلٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، ح وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، بْنُ حَبِيبٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، كِلاَهُمَا عَنِ ابْنِ، جُرَيْجٍ ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ، - يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ - كُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ وَلَمْ يَذْكُرُوا فِي الْحَدِيثِ " وَلَكِنْ تَفَسَّحُوا وَتَوَسَّعُوا " . وَزَادَ فِي حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ قُلْتُ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ قَالَ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَغَيْرِهَا .
#5686
Ibn 'Umar reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:None should make one'& brother stand and then sit at his place (and it was common with) Ibn Umar that when any person stood in the company (with a view to making room for him) he did not sit there
عبد الا علیٰ نے معمر سے ، انھوں نے زہری سے ، انھوں نے سالم سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم میں سے کو ئی شخص اپنے بھا ئی کو اس جگہ سے نہ اٹھا ئےکہ پھر اس کی جگہ پر بیٹھ جائے ۔ " ( سالم نے کہا ) حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ طریق تھا کہ کو ئی شخص ان کے لیے ( خود بھی ) اپنی جگہ سے اٹھتا تو وہ اس کی جگہ پر نہ بیٹھتے تھے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يُقِيمَنَّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ ثُمَّ يَجْلِسُ فِي مَجْلِسِهِ " . وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا قَامَ لَهُ رَجُلٌ عَنْ مَجْلِسِهِ لَمْ يَجْلِسْ فِيهِ .
#5687
This hadith hilt been reported on the authority of Ma'mar with the same chain of transmitters
عبد الرزاق نے کہا : معمر نے ہمیں اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند خبر دی ۔
وَحَدَّثَنَاهُ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
#5688
Jabir reported Allah's Apostle (may peace he upon him) as saying:None amongst you should make his brother stand on Friday (during the congregational prayer) and then occupy his-place. but he should only say to him (Accommodate me)
ابو زبیر نے حضرت جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فر ما یا : " تم میں سے کو ئی شخص جمعے کے دن اپنے بھا ئی کو کھڑا نہ کرے کہ پھر دوسری طرف سے آکر اس کی جگہ پر خود بیٹھ جائے ، بلکہ ( جوآئے وہ ) کہے " جگہ کشادہ کردو ۔
وَحَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، - وَهُوَ ابْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ - عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يُقِيمَنَّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ثُمَّ لْيُخَالِفْ إِلَى مَقْعَدِهِ فَيَقْعُدَ فِيهِ وَلَكِنْ يَقُولُ افْسَحُوا " .
#5689
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:When anyone amongst you stands up, and in the badltb transmitted on the authority of Abu 'Awina, the words are:" He who stands in his place and (goes away) and then comes back to it, he his the greatest right (to occupy that)
ابو عوانہ اور عبد العزیز بن محمد دونوں نے سہیل سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جب تم میں سے کو ئی شخص کھڑا ہو " اور ابوعوانہ کی حدیث میں ہے " جب تم میں سے کو ئی شخص اپنی جگہ سے کھڑا ہو ۔ پھر اس جگہ لوٹ آئے تو وہی اس ( جگہ ) کا زیادہ حقدارہے ۔ ۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ، وَقَالَ، قُتَيْبَةُ أَيْضًا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ - كِلاَهُمَا عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ " . وَفِي حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ " مَنْ قَامَ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ " .
#5690
Umm Salama reported that she had a eunuch (as a slave) in her house. Allah's Messenger imay peace be upon him) was once in the house that he (the eunuch) said to the brother of Umm Salama:Abdullahb. Aba Umayya. if Allah grants you victory in Ta'if on the next day, I will show you the daughter of Ghailan for she has four folds (upon her body) on the front side of her stomach and eight folds on the back. Allah's Messenger (ﷺ) heard this and he said: Such (people) should not visit you
زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ ایک مخنث ان کے ہاں مو جو دتھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی گھر پر تھے وہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بھا ئی سے کہنے لگا : عبد اللہ بن ابی امیہ! اگر کل ( کلاں کو ) اللہ تعا لیٰ تم لو گوں کو طا ئف پر فتح عطا فر ما ئے تو میں تمھیں غیلا ن کی بیٹی ( بادیہ بنت غیلا ن ) کا پتہ بتا ؤں گا وہ چار سلوٹوں کے ساتھ سامنے آتی ہے ( سامنے سے جسم پر چار سلوٹیں پڑتی ہیں ) اور آٹھ سلوٹوں کے ساتھ پیٹھ پھیر کر جا تی ہے ۔ ۔ ( انتہائی فربہ جسم کی ہے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی یہ بات سن لی تو آپ نے فر ما یا : " یہ ( مخنث ) تمھا رے ہاں داخل نہ ہو ا کریں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، أَيْضًا - وَاللَّفْظُ هَذَا - حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ، بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ مُخَنَّثًا، كَانَ عِنْدَهَا وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْبَيْتِ فَقَالَ لأَخِي أُمِّ سَلَمَةَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ إِنْ فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكُمُ الطَّائِفَ غَدًا فَإِنِّي أَدُلُّكَ عَلَى بِنْتِ غَيْلاَنَ فَإِنَّهَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ . قَالَ فَسَمِعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " لاَ يَدْخُلْ هَؤُلاَءِ عَلَيْكُمْ " .
#5691
A'isha reported that a eunuch used to come to the wives of Allah's Apostle (ﷺ) and they did not And anything objectionable in his visit considering him to be a male without any sexual desire. Allah's Apostle (ﷺ) one day came as he was sitting with some of his wives and he was busy in describing the bodily characteristics of a lady and saying:As the comes in front tour folds appear on her front side and as she turns her back eight folds appear on the back side. Thereupon Allah's Apostle (ﷺ) said: I me that he knows these things; do not, therefore. allow him to cater. She (" A'isha) said: Then they began to observe veil from him
عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے پاس ایک مخنث آیا کرتا تھا اور ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہا اسے جنسی معاملا ت سے بے بہر ہ سمجھا کرتی تھیں ۔ فرما یا : " ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا اور وہ آپ کی ایک اہلیہ کے ہاں بیٹھا ہوا ایک عورت کی تعریف کررہا تھا وہ کہنے لگا : جب وہ آتی ہے تو چار سلوٹوں کے ساتھ آتی ہے اور جب پیٹھ پھیرتی ہے تو آٹھ سلوٹوں کے ساتھ پیٹھ پھیرتی ہے ۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : کیا میں دیکھ نہیں رہا کہ جو کچھ یہاں ہے اسے سب پتہ ہے ، یہ لوگ تمھا رے پاس نہ آیا کریں ۔ " " تو انھوں ( امہات المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے اس سے پردہ کر لیا ۔
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ يَدْخُلُ عَلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُخَنَّثٌ فَكَانُوا يَعُدُّونَهُ مِنْ غَيْرِ أُولِي الإِرْبَةِ - قَالَ - فَدَخَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا وَهُوَ عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِهِ وَهُوَ يَنْعَتُ امْرَأَةً قَالَ إِذَا أَقْبَلَتْ أَقْبَلَتْ بِأَرْبَعٍ وَإِذَا أَدْبَرَتْ أَدْبَرَتْ بِثَمَانٍ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَلاَ أَرَى هَذَا يَعْرِفُ مَا هَا هُنَا لاَ يَدْخُلَنَّ عَلَيْكُنَّ " . قَالَتْ فَحَجَبُوهُ .
#5692
Asma' daughter of Abu Bakr reported that the was married to Zubair. He had neither land nor wealth nor slave nor anything else like it except a bom. She further said:I grazed his horse. provided fodder to it and looked after it, and ground dates for his camel. Besides this, I grazed the camel, made arrangements for providing it with water and patched up the leather bucket and kneaded the flour. But I was not proficient in baking the bread, so my female neighbours used to bake bread for me and they were sincere women. She further said: I was carrying on my head the stones of the dates from the land of Zubair which Allah's Messenger (ﷺ) had endowed him and it was at a distance of two miles (from Medina). She add: As I was one day carrying the atones of dates upon my head I happened to meet Allah's Messenger (ﷺ) along with a group of his Companions. He called me and said (to the camel) to sit down so that he should make cite ride behind hirn. (I told my husband: ) I felt shy and remembered your jealousy, whereupon he said: By Allah. the carrying of the stone dates upon your bead is more severe a burden than riding with him. She said: (I led the life of hardship) until Abu Bakr sent afterwards a female servant who took upon herself the responsibility of looking after the horse and I felt as it she had emancipated me
ہشام کے والد ( عروہ ) نے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے ( حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے کہا : حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھ سے نکا ح کیا تو ان کے پاس ایک گھوڑے کے سوانہ کچھ مال تھا ، نہ غلام تھا ، نہ کو ئی اور چیز تھی ۔ ان کے گھوڑے کو میں ہی چارا ڈالتی تھی ان کی طرف سے اس کی ساری ذمہ داری میں سنبھا لتی ۔ اس کی نگہداشت کرتی ان کے پانی لا نے والے اونٹ کے لیے کھجور کی گٹھلیاں توڑتی اور اسے کھلا تی میں ہی ( اس پر ) پانی لا تی میں ہی ان کا پانی کا ڈول سیتی آٹا گوندھتی ، میں اچھی طرح روٹی نہیں بنا سکتی تھی تو انصار کی خواتین میں سے میری ہمسائیاں میرے لیے روٹی بنا دیتیں ، وہ سچی ( دوستی والی ) عورتیں تھیں ، انھوں نے ( اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو زمین کا جو ٹکڑا عطا فرما یا تھا وہاں سے اپنے سر پر گٹھلیاں رکھ کر لا تی یہ ( زمین ) تقریباً دو تہائی فرسخ ( تقریباً 3.35کلو میٹر ) کی مسافت پر تھی ۔ کہا : ایک دن میں آرہی تھی گٹھلیاں میرے سر پر تھیں تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملی آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین میں سے کچھ لو گ آپ کے ساتھ تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا یا ، پھر آواز سے اونٹ کو بٹھا نے لگے تا کہ ( گٹھلیوں کا بوجھ درمیان میں رکھتے ہو ئے ) مجھے اپنے پیچھے بٹھا لیں ۔ انھوں نے ( حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مخاطب کرتے ہو ئے ) کہا : مجھے شرم آئی مجھے تمھا ری غیرت بھی معلوم تھی تو انھوں ( زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : اللہ جا نتا ہے کہ تمھارا اپنے سر پر گٹھلیوں کا بوجھ اٹھا نا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار ہونے سے زیادہ سخت ہے ۔ کہا : ( یہی کیفیت رہی ) یہاں تک کہ ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے میرے پاس ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عطا کردہ حدیث : 5693 ۔ ) ایک کنیز بھجوادی اور اس نے مجھ سے گھوڑے کی ذمہ داری لے لی ۔ ( مجھے ایسے لگا ) جیسے انھوں نے مجھے ( غلا می سے ) آزاد کرا دیا ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ أَبُو كُرَيْبٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ تَزَوَّجَنِي الزُّبَيْرُ وَمَا لَهُ فِي الأَرْضِ مِنْ مَالٍ وَلاَ مَمْلُوكٍ وَلاَ شَىْءٍ غَيْرَ فَرَسِهِ - قَالَتْ - فَكُنْتُ أَعْلِفُ فَرَسَهُ وَأَكْفِيهِ مَئُونَتَهُ وَأَسُوسُهُ وَأَدُقُّ النَّوَى لِنَاضِحِهِ وَأَعْلِفُهُ وَأَسْتَقِي الْمَاءَ وَأَخْرِزُ غَرْبَهُ وَأَعْجِنُ وَلَمْ أَكُنْ أُحْسِنُ أَخْبِزُ وَكَانَ يَخْبِزُ لِي جَارَاتٌ مِنَ الأَنْصَارِ وَكُنَّ نِسْوَةَ صِدْقٍ - قَالَتْ - وَكُنْتُ أَنْقُلُ النَّوَى مِنْ أَرْضِ الزُّبَيْرِ الَّتِي أَقْطَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى رَأْسِي وَهْىَ عَلَى ثُلُثَىْ فَرْسَخٍ - قَالَتْ - فَجِئْتُ يَوْمًا وَالنَّوَى عَلَى رَأْسِي فَلَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمَعَهُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَدَعَانِي ثُمَّ قَالَ " إِخْ إِخْ " . لِيَحْمِلَنِي خَلْفَهُ - قَالَتْ - فَاسْتَحْيَيْتُ وَعَرَفْتُ غَيْرَتَكَ فَقَالَ وَاللَّهِ لَحَمْلُكِ النَّوَى عَلَى رَأْسِكِ أَشَدُّ مِنْ رُكُوبِكِ مَعَهُ . قَالَتْ حَتَّى أَرْسَلَ إِلَىَّ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَ ذَلِكَ بِخَادِمٍ فَكَفَتْنِي سِيَاسَةَ الْفَرَسِ فَكَأَنَّمَا أَعْتَقَتْنِي .
#5693
Asma' reported:I performed the household duties of Zubair and he had a horse; I used to look after it. Nothing was more burdensome for me than looking after the horse I used to bring grass for it and looked after it, then I got a servant as Allah's Apustle (ﷺ) had some prisoners of war in his possession. He gave me a female servant. She (the female servant) then began to look after the horse and thus relieved me of this burden. A person came and he said: Mother of 'Abdullah, I am a destitute person and I intend that I should start business under the shadow of your house. I (Asma') said: If I grant you permission, Zubair may not agree to that, so you come and make a demand of it when Zubair is also present there. He came accordingly find said: Mother of 'Abdullah. I am a destitute person. I intend to start t mall business in the shadow of your house. I said: Is there not in Medina (any place for starting the business) except my house? Zubair said: Why is it that you prohibit the destitute man to start business here? So he started business and he (earned so much) that we sold our slave-girl to him There came Zubair to me while the money was in my lap. He said: Give this to me. I said: (I intend) to spend it as charity
ابن ابی ملیکہ نے کہا کہ حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بیان کیا کہ میں گھر کی خدمات سر انجام دےکر حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت کرتی تھی ، ان کا ایک گھوڑاتھا ، میں اس کی دیکھ بھال کرتی تھی ، میرے لیے گھر کی خدمات میں سے گھوڑے کی نگہداشت سے بڑھ کر کوئی اورخدمت زیادہ سخت نہ تھی ۔ میں اس کے لئے چارہ لاتی ، اس کی ہرضرورت کا خیال رکھتی اور اس کی نگہداشت کرتی ، کہا : پھر انھیں ایک خادمہ مل گئی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی آئے تو آپ نے ان کے لئے ایک خادمہ عطا کردی ۔ کہا : اس نے مجھ سے گھوڑے کی نگہداشت ( کی ذمہ داری ) سنبھال لی اور مجھ سے بہت بڑا بوجھ ہٹا لیا ۔ میرے پاس ایک آدمی آیا اور کہا : ام عبداللہ! میں ایک فقیر آدمی ہوں : میرا دل چاہتاہے ہے کہ میں آپ کے گھر کے سائے میں ( بیٹھ کرسودا ) بیچ لیاکروں ۔ انھوں نے کہا : اگر میں نے تمھیں اجازت دے دی تو زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ انکار کردیں گے ۔ جب زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ موجود ہوں تو ( اس وقت ) آکر مجھ سے اجازت مانگنا ، پھر وہ شخص ( حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی موجودگی میں ) آیا اور کہا : ام عبداللہ! میں ایک فقیرآدمی ہوں اور چاہتاہوں کہ میں آپ کے گھر کے سائے میں ( بیٹھ کر کچھ ) بیچ لیاکروں ، انھوں ( حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے جواب دیا : مدینے میں تمھارے لئے میرے گھر کے سوا اور کوئی گھر نہیں ہے ؟تو حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے کہا : تمھیں کیا ہوا ہے ، ایک فقیر آدمی کو سودا بیچنے سے روک رہی ہو؟وہ بیچنے لگا ، یہاں تک کہ اس نے کافی کمائی کرلی ، میں نے وہ خادمہ اسے بیچ دی ۔ زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اند رآئے تو اس خادمہ کی قیمت میری گود میں پڑی تھی ، انھوں نے کہا ، یہ مجھے ہبہ کردو ۔ تو انھوں نے کہا : میں اس کو صدقہ کرچکی ہوں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ أَسْمَاءَ، قَالَتْ كُنْتُ أَخْدُمُ الزُّبَيْرَ خِدْمَةَ الْبَيْتِ وَكَانَ لَهُ فَرَسٌ وَكُنْتُ أَسُوسُهُ فَلَمْ يَكُنْ مِنَ الْخِدْمَةِ شَىْءٌ أَشَدَّ عَلَىَّ مِنْ سِيَاسَةِ الْفَرَسِ كُنْتُ أَحْتَشُّ لَهُ وَأَقُومُ عَلَيْهِ وَأَسُوسُهُ . قَالَ ثُمَّ إِنَّهَا أَصَابَتْ خَادِمًا جَاءَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم سَبْىٌ فَأَعْطَاهَا خَادِمًا . قَالَتْ كَفَتْنِي سِيَاسَةَ الْفَرَسِ فَأَلْقَتْ عَنِّي مَئُونَتَهُ فَجَاءَنِي رَجُلٌ فَقَالَ يَا أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ فَقِيرٌ أَرَدْتُ أَنْ أَبِيعَ فِي ظِلِّ دَارِكِ . قَالَتْ إِنِّي إِنْ رَخَّصْتُ لَكَ أَبَى ذَاكَ الزُّبَيْرُ فَتَعَالَ فَاطْلُبْ إِلَىَّ وَالزُّبَيْرُ شَاهِدٌ فَجَاءَ فَقَالَ يَا أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ فَقِيرٌ أَرَدْتُ أَنْ أَبِيعَ فِي ظِلِّ دَارِكِ . فَقَالَتْ مَا لَكَ بِالْمَدِينَةِ إِلاَّ دَارِي فَقَالَ لَهَا الزُّبَيْرُ مَا لَكِ أَنْ تَمْنَعِي رَجُلاً فَقِيرًا يَبِيعُ فَكَانَ يَبِيعُ إِلَى أَنْ كَسَبَ فَبِعْتُهُ الْجَارِيَةَ فَدَخَلَ عَلَىَّ الزُّبَيْرُ وَثَمَنُهَا فِي حَجْرِي . فَقَالَ هَبِيهَا لِي . قَالَتْ إِنِّي قَدْ تَصَدَّقْتُ بِهَا .
#5694
Ibn Umar reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:When there are three (persons), two should not converse secretly between themselves to the exclusion of the (third) one
مالک نےنافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تین شخص ( موجود ) ہوں تو ایک کو چھوڑ کر دو آدمی آ پس میں سرگوشی نہ کریں ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا كَانَ ثَلاَثَةٌ فَلاَ يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ وَاحِدٍ " .
#5695
This hadith has been reported on the authority of lbn 'Umar through two different chains of transmitters
عبیداللہ ، لیث بن اسعد ، ایوب ( سختیانی ) اور ایوب بن موسیٰ ان سب نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مالک کی حدیث کے ہم معنی روایت کی ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ، نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، - وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ - كُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَابْنُ، رُمْحٍ عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، وَأَبُو كَامِلٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ أَيُّوبَ بْنَ مُوسَى، كُلُّ هَؤُلاَءِ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَى حَدِيثِ مَالِكٍ .
#5696
Abdullah reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:If you are three, two amongst you should not converse secretly between yourselves to the exclusion of the other (third one), unti some other people join him (and dispel his loneliness), for it may hurt his feelings
منصور نے ابو وائل ( شقیق ) سے ، انھوں نے عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم تین لوگ ( ایک ساتھ ) ہوتو ایک کو چھوڑ کردو آدمی باہم سرگوشی نہ کریں ، یہاں تک کہ تم بہت سے لوگوں میں مل جاؤ ، کہیں ایسا نہ ہوکہ یہ ( دوکی سرگوشی ) اسے غمزدہ کردے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، ح وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا - جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا كُنْتُمْ ثَلاَثَةً فَلاَ يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ الآخَرِ حَتَّى تَخْتَلِطُوا بِالنَّاسِ مِنْ أَجْلِ أَنْ يُحْزِنَهُ " .
#5697
Abdullah reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:If you are three, two should not converse secretly to the exclusion of your companion for that hurts his feelings
ابو معاویہ نے اعمش سے ، انھوں نے شقیق سے ، انھوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " جب تم تین لوگ ہوتو اپنے ساتھی کو چھوڑ کر دو آپس میں سرگوشی نہ کریں کیونکہ یہ چیز اس کو غم زدہ کردے گی ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو كُرَيْبٍ - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا كُنْتُمْ ثَلاَثَةً فَلاَ يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا فَإِنَّ ذَلِكَ يُحْزِنُهُ " .
#5698
This hadith has been reported on the authority of A'mash with the same chain of transmitters
عیسیٰ بن یونس اورسفیان دونوں نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ ( حدیث بیان کی ۔)
وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، كِلاَهُمَا عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ .
#5699
A'isha (the wife of Allah's Apostle) said:When Allah's Messenger (ﷺ) fell ill, Gabriel used to recite this: "In the name of Allah, may He cure you from all kinds of illnesses and safeguard you from the evil of a jealous one when he feels jealous and from the evil influence of eye
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوتے تو جبریل علیہ السلام آپ کو دم کرتے ، وہ کہتے : " اللہ کے نام سے ، وہ آپ کو بچائے اور ہر بیماری سے شفا دے اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے اورنظر لگانے والی ہر آنکھ کے شرسے ( آپ کومحفوظ رکھے ۔)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ يَزِيدَ، - وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ إِذَا اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَقَاهُ جِبْرِيلُ قَالَ بِاسْمِ اللَّهِ يُبْرِيكَ وَمِنْ كُلِّ دَاءٍ يَشْفِيكَ وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ وَشَرِّ كُلِّ ذِي عَيْنٍ .