#5600
Samura b. Jundub reported AUah's Messenger (ﷺ) as saying:Don't give names to your servants as Rabdh, 'Ya ar, Aflah and Nafi
۔ جریر نے رکین بن ربیع سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اپنے لڑکے ( غلام ، خادم ) کا نام رباح ، یسار ، افلح ، اور نافع نہ رکھو ۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَمُرَةَ، بْنِ جُنْدَبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تُسَمِّ غُلاَمَكَ رَبَاحًا وَلاَ يَسَارًا وَلاَ أَفْلَحَ وَلاَ نَافِعًا " .
#5601
Samura b. Jundub reported:The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said "The dearest phrases to Allah are four: Subhan Allah (Hallowed be Allah), Al-Hamdulillah (Praise be to Allah), La ilaha illa-Allah (There is no deity but Allah), Allahu Akbar (Allah is Greater). There is no harm for you in which of them begin with (while remembering Allah). And do not give these names to your servants: Yasar and Rabah and Najih and Aflah
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے زیادہ پسند اللہ تعالیٰ کو چار کلمے ہیں «سُبْحَانَ اللهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ» ان میں سے جس کو چاہے پہلے کہے کوئی نقصان نہ ہو گا اور اپنے غلام کا نام یسار، رباح اور نجیح (اس کے وہی معنی ہیں جو افلح کے ہیں) اور افلح نہ رکھو۔ اس لیے کہ تو پوچھے گا وہاں وہ ہے (یعنی یسار یا رباح یا نجیح یا افلح) وہ کہے گا نہیں ہے۔“ سمرہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی چار نام فرمائے۔ تو زیادہ مت نقل کرنا مجھ سے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنِ هِلاَلِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ رَبِيعِ بْنِ عُمَيْلَةَ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم "أَحَبُّ الْكَلاَمِ إِلَى اللَّهِ أَرْبَعٌ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ. لاَ يَضُرُّكَ بَأَيِّهِنَّ بَدَأْتَ. وَلاَ تُسَمِّيَنَّ غُلاَمَكَ يَسَارًا وَلاَ رَبَاحًا وَلاَ نَجِيحًا وَلاَ أَفْلَحَ فَإِنَّكَ تَقُولُ أَثَمَّ هُوَ فَلاَ يَكُونُ فَيَقُولُ لاَ." إِنَّمَا هُنَّ أَرْبَعٌ فَلاَ تَزِيدُنَّ عَلَىَّ .
#5602
This hadith has been reported on the authority of Shu'ba and there is no mention but of the fact about giving the name to the servant and there is no mention of the four expressions (of remembrance) and he did not mention the four words
جریر ، روح بن قاسم اورشعبہ سب نے منصور سے زہیر کی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، جریر اورروح کی حدیث قصے سمیت زہیر کی حدیث جیسی ہے ۔ اورجوشعبہ کی حدیث ہے ۔ اس میں صرف غلام کانام رکھنے کا ذکر ہے ، انھوں نے " چار بہترین کلمات " کاذ کر نہیں کیا ۔
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنِي جَرِيرٌ، ح وَحَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، - وَهْوَ ابْنُ الْقَاسِمِ - ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، كُلُّهُمْ عَنْ مَنْصُورٍ، بِإِسْنَادِ زُهَيْرٍ . فَأَمَّا حَدِيثُ جَرِيرٍ وَرَوْحٍ فَكَمِثْلِ حَدِيثِ زُهَيْرٍ بِقِصَّتِهِ . وَأَمَّا حَدِيثُ شُعْبَةَ فَلَيْسَ فِيهِ إِلاَّ ذِكْرُ تَسْمِيَةِ الْغُلاَمِ وَلَمْ يَذْكُرِ الْكَلاَمَ الأَرْبَعَ .
#5603
Jabir b. 'Abdullah reported:Allah's Messenger (ﷺ) decided to forbid (his followers) to name persons as Ya'la (Elevated), Baraka (Blessing), Aflah (Successful), Yasar and Nafi', but I saw that he kept silent after that and he did not say anything until Allah's Messenger (ﷺ) died. And he did not forbid (his followers to do this), then 'Umar decided to prohibit (people) from giving these names, but later on gave up the idea
ابن جریج نے کہا : مجھے ابو زبیر نے بتایا کہ انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارادہ فرمایا کہ آپ یعلیٰ ( بلند ) ، برکت ، افلح ، یساراور نافع جیسے نام رکھنے سے منع فرمادیں ، پھرمیں نے دیکھا کہ آپ خاموش ہوگئے ، پھر آپ کی رحلت ہوئی تو آپ نے ان ناموں سے نہیں روکا تھا ، پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے روکنے کا ا رادہ نہیں کیاتو انھوں نے بھی ( یہ ارادہ ) ترک کردیا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ أَرَادَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَنْهَى عَنْ أَنْ يُسَمَّى بِيَعْلَى وَبِبَرَكَةَ وَبِأَفْلَحَ وَبِيَسَارٍ وَبِنَافِعٍ وَبِنَحْوِ ذَلِكَ ثُمَّ رَأَيْتُهُ سَكَتَ بَعْدُ عَنْهَا فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا ثُمَّ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَمْ يَنْهَ عَنْ ذَلِكَ ثُمَّ أَرَادَ عُمَرُ أَنْ يَنْهَى عَنْ ذَلِكَ ثُمَّ تَرَكَهُ .
#5604
Ibn 'Umar reported that Allah's Messenger (ﷺ) changed the name of 'Asiya (Disobedient) and said:You are Jamila (i. e. good and handsome). Ahmad (one of the narrators) narrated it with a slight variation of wording
احمد بن حنبل ، زہیر بن حرب ، محمد بن مثنیٰ ، عبیداللہ بن سعید اور محمد بن بشار نے ( ان سب نے ) کہا : ہمیں یحییٰ بن سعید نے عبیداللہ سے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاصیہ ( نافرمانی کرنے والی ) کانام تبدیل کردیا اور فرمایا : "" تم جمیلہ ( خوبصورت ) ہو ۔ "" احمد نے "" مجھے خبر دی "" کی جگہ "" سے روایت ہے ۔ "" کہا ہے ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالُوا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَيَّرَ اسْمَ عَاصِيَةَ وَقَالَ " أَنْتِ جَمِيلَةُ " . قَالَ أَحْمَدُ مَكَانَ أَخْبَرَنِي عَنْ .
#5605
Ibn 'Umar reported that 'Umar had a daughter who was called 'Asiya. Allah's Messenger (ﷺ) gave her the name of Jamila
حماد بن سلمہ نے عبیداللہ سے ، انھوں نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک صاحبزادی کو عاصیہ کہا جاتاتھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےاس کانام جمیلہ رکھا دیا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ ابْنَةً لِعُمَرَ، كَانَتْ يُقَالُ لَهَا عَاصِيَةُ فَسَمَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَمِيلَةَ .
#5606
Ibn Abbas reported that the name of Juwairiya (the wife of the Holy Prophet) was Barra (Pious). Allah's Messenger (ﷺ) changed her name to Juwairiya and said:I did not like that it should be said: He had come out from Barra (Pious). The hadith transmitted on the authority of Ibn Abi 'Umar is slightly different from it
عمرو ناقد اور ابن ابی عمر نے حدیث بیان کی ۔ الفاظ عمرو کے ہیں ۔ دونوں نے کہا : ہمیں سفیان نے آل طلحہ کے آزاد کردہ غلام محمد بن عبدالرحمان سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کریب سے ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ( پہلے ام المومنین حضرت ) جویریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نام " برہ " تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام بدل کر جویریہ رکھ دیا ۔ آپ کو پسند نہ تھا ۔ کہ اس طرح کہا جائے کہ آپ برہ ( نیکیوں و الی ) کے ہاں سے نکل گئے ۔ ابن ابی عمر کی حدیث میں ہے : کریب سے روایت ہے ، کہا : میں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ۔
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، - وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو - قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَتْ جُوَيْرِيَةُ اسْمُهَا بَرَّةَ فَحَوَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اسْمَهَا جُوَيْرِيَةَ وَكَانَ يَكْرَهُ أَنْ يُقَالَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِ بَرَّةَ . وَفِي حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ عَنْ كُرَيْبٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ .
#5607
Abu Huraira reported that the name of Zainab was Barra. It was said of her:She presents herself to be innocent. Allah's Messenger (ﷺ) gave her the name of Zainab
ابو بکر بن ابی شیبہ ، محمد بن مثنیٰ اورمحمد بن بشار نے کہا : ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث بیان کی ، محمد بن جعفر اورعبیداللہ کے والد معاذ نے شعبہ سے ، انھوں نے عطاء بن ابی میمونہ سے ، انھوں نے ابو رافع سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضرت زینب ( بنت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) کا نام برہ تھا تو کہا گیا کہ وہ ( نام بتاتے وقت خود ) اپنی پارسائی بیان کرتی ہیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام زینب رکھ دیا ۔ حدیث کے الفاظ ابن بشار کے علاوہ باقی سب کے ( بیان کردہ ) ہیں ۔ ابن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں محمد بن جعفر نے شعبہ سے حدیث بیان کی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، سَمِعْتُ أَبَا رَافِعٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي، هُرَيْرَةَ ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ زَيْنَبَ، كَانَ اسْمُهَا بَرَّةَ فَقِيلَ تُزَكِّي نَفْسَهَا . فَسَمَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم زَيْنَبَ . وَلَفْظُ الْحَدِيثِ لِهَؤُلاَءِ دُونَ ابْنِ بَشَّارٍ . وَقَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ .
#5608
Zainab, daughter of Umm Salama, reported:My name first was Barra. Allah's Messenger (ﷺ) gave me the name of Zainab. Then there entered (into the house of Allah's Prophet as a wife) Zainab, daughter of Jahsh, and her name was also Barra, and he gave her the name of Zainab
ولید بن کثیر نے کہا : مجھے محمد بن عمرو بن عطاء نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے حضرت زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایا ، کہا : میرا نام برہ تھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام زینب رکھ دیا ۔ انھوں نے کہا : جب زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ کے حبالہ عقد میں داخل ہوئیں تو ان کا نام بھی برہ تھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام بھی زینب رکھا ۔
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالاَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، حَدَّثَتْنِي زَيْنَبُ، بِنْتُ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ كَانَ اسْمِي بَرَّةَ فَسَمَّانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم زَيْنَبَ . قَالَتْ وَدَخَلَتْ عَلَيْهِ زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ وَاسْمُهَا بَرَّةُ فَسَمَّاهَا زَيْنَبَ .
#5609
Muhammad b. 'Amr b. 'Ata' reported:I had given the name Barra to my daughter. Zainab, daughter of Abu Salama, told me that Allah's' Messenger (ﷺ) had forbidden me to give this name. (She said): I was also called Barra, but Allah's Messenger (ﷺ) said: Don't hold yourself to be pious. It is God alone who knows the people of piety among you. They (the Companions) said: Then, what name should we give to her? He said: Name her as Zainab
یزید بن ابی حبیب نے محمد بن عمرو بن عطاء سے روایت کی ، کہا : میں نے اپنی بیٹی کانام برہ رکھا تو حضرت زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے مجھ سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نام رکھنے سے منع فرمایا ہے ۔ اور ( بتایا کہ ) میرا نام بھی پہلے برہ رکھا گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم لوگ اپنی پارسائی بیان کرو اللہ تعالیٰ ہی خوب جانتا ہے کہ تم میں سے نیکو کار کون ہے ۔ "" ( گھرکے ) لوگوں نے کہا : پھر ہم اس کا کیا نام رکھیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اس کا نام زینب رکھ دو ۔ "" یزید بن ابی حبیب نے محمد بن عمرو بن عطاء سے روایت کی ، کہا : میں نے اپنی بیٹی کانام برہ رکھا تو حضرت زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے مجھ سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نام رکھنے سے منع فرمایا ہے ۔ اور ( بتایا کہ ) میرا نام بھی پہلے برہ رکھا گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم لوگ اپنی پارسائی بیان کرو اللہ تعالیٰ ہی خوب جانتا ہے کہ تم میں سے نیکو کار کون ہے ۔ "" ( گھرکے ) لوگوں نے کہا : پھر ہم اس کا کیا نام رکھیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اس کا نام زینب رکھ دو ۔
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، قَالَ سَمَّيْتُ ابْنَتِي بَرَّةَ فَقَالَتْ لِي زَيْنَبُ بِنْتُ أَبِي سَلَمَةَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ هَذَا الاِسْمِ وَسُمِّيتُ بَرَّةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تُزَكُّوا أَنْفُسَكُمُ اللَّهُ أَعْلَمُ بِأَهْلِ الْبِرِّ مِنْكُمْ " . فَقَالُوا بِمَ نُسَمِّيهَا قَالَ " سَمُّوهَا زَيْنَبَ " .
#5610
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The vilest name in Allah's sight is Malik al-Amidh (King of Kings). The narration transmitted on the authority of Shaiba (contains these words): There is no king but Allah, the Exalted and Glorious. Sufyan said: Similarly, the word Shahinshah (is also the vilest appellation). Ahmad b. Hanbal said: I asked Abu 'Amr about the meaning of Akhna. He said: The vilest
سعید بن عمرو اشعشی ، احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ اورابو بکر بن ابی شیبہ نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ الفاظ امام احمد کے ہیں ، اشعشی نے کہا : ہمیں سفیان بن عینیہ نے خبر دی جبکہ دیگر نے کہا : ہمیں حدیث بیان کی ۔ ابوزناد سے ، انھوں نے اعرج سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا؛ "" اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے قابل تحقیر نام اس شخص کا ہے جو شہنشاہ کہلائے ۔ "" اور ابن ابی شیبہ نے اپنی روایت میں اضافہ کیا : "" اللہ عزوجل کے سوا کوئی ( بادشاہت کا ) مالک نہیں ہے ۔ "" اشعشی کا قول ہے : سفیان نے کہا : جیسے شاہان شاہ ( شہنشاہ ) ہے ۔ اور احمد بن حنبل نے کہا : میں نے ابو عمرو ( اسحاق بن مرار شیبانی ، نحوی ، کوفی ) سے "" اخنع "" کے بارے میں پوچھا توانھوں نے کہا : ( اس کے معنی ہیں ) اوضع ( انتہائی حقیر)
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ - وَاللَّفْظُ لأَحْمَدَ - قَالَ الأَشْعَثِيُّ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ أَخْنَعَ اسْمٍ عِنْدَ اللَّهِ رَجُلٌ تَسَمَّى مَلِكَ الأَمْلاَكِ " . زَادَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ فِي رِوَايَتِهِ " لاَ مَالِكَ إِلاَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " . قَالَ الأَشْعَثِيُّ قَالَ سُفْيَانُ مِثْلُ شَاهَانْ شَاهْ . وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ سَأَلْتُ أَبَا عَمْرٍو عَنْ أَخْنَعَ فَقَالَ أَوْضَعَ .
#5611
Abu Huraira reported from Allah's Messenger (ﷺ) so many ahadith and one of them was this that Allah's Messenger (ﷺ) said:The most wretched person in the sight of Allah on the Day of Resurrection and the worst person and target of His wrath would of the person who is called Malik al-Amlak (the King of Kings) for there is no king but Allah
ہمیں معمر ہمام بن منبہ سے خبر دی ، کہا : یہ احادیث ہمیں حضرت ابوہریر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیں ، پھر انھوں نے کچھ احادیث بیان کیں ، ان میں سے یہ حدیث ( بھی ) ہے : اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ کے نزدیک قیامت کےدن سب سےزیادہ گندا اورغضب کامستحق شخص وہ ہوگا جوشہنشاہ کہلاتا ہوگا ، اللہ کے سوا کوئی اور بادشاہ نہیں ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَغْيَظُ رَجُلٍ عَلَى اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَخْبَثُهُ وَأَغْيَظُهُ عَلَيْهِ رَجُلٌ كَانَ يُسَمَّى مَلِكَ الأَمْلاَكِ لاَ مَلِكَ إِلاَّ اللَّهُ " .
#5612
Anas b. Malik reported:I took 'Abdullah b. Abi Talha Ansari to Allah's Messenger (ﷺ) at the time of his birth. Allah's Messenger (ﷺ) was at that time wearing a woollen cloak and besmearing the camels with tar. He said: Have you got with you the dates? I said: Yes. He took hold of the dates and put them in his mouth and softened them, then opened the mouth of the infant and put that in it and the child began to lick it. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: The Ansar have a liking for the dates, and he (the Holy Prophet) gave him the name of 'Abdullah
ثابت بنانی نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : جب عبداللہ بن ابی طلہ پیدا ہوئے تو میں انھیں لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دھاری دارعبا ( چادر ) زیب تن فرمائے اپنے ایک اونٹ کو ( خارش سے نجات دلانے کے لئے ) گندھک ( یاکول تار ) لگارہے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کچھ کھجور ساتھ ہے؟میں نے عرض کی : جی ہاں ، پھر میں نے آپ کو کچھ کھجوریں پیش کیں ، آپ نے ان کو اپنے منہ میں ڈالا ، انھیں چبایا ، پھر بچے کامنہ کھول کر ان کو اپنے دہن مبارک سے براہ راست اس کے منہ میں ڈال دیا ۔ بچے نے زبان ہلاکر اس کاذائقہ لینا شروع کردیا ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہ انصار کی کھجوروں سے محبت ہے ۔ " اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام عبداللہ رکھا ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ، بْنِ مَالِكٍ قَالَ ذَهَبْتُ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الأَنْصَارِيِّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ وُلِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي عَبَاءَةٍ يَهْنَأُ بَعِيرًا لَهُ فَقَالَ " هَلْ مَعَكَ تَمْرٌ " . فَقُلْتُ نَعَمْ . فَنَاوَلْتُهُ تَمَرَاتٍ فَأَلْقَاهُنَّ فِي فِيهِ فَلاَكَهُنَّ ثُمَّ فَغَرَ فَا الصَّبِيِّ فَمَجَّهُ فِي فِيهِ فَجَعَلَ الصَّبِيُّ يَتَلَمَّظُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " حُبُّ الأَنْصَارِ التَّمْرَ " . وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ .
#5613
Anas b. Malik reported that the son of Abu Talha had been ailing. Abu Talha set out (on a journey) and his son breathed his last (in his absence). When Abu Talha came back, he said (to his wife):What about my child? Umm Sulaim (the wife of Abu Talha) said: He is now in a more comfortable state than before. She served him the evening meal and he took it. He then came to her (and had sexual intercourse with her) and when it was all over she said: Make arrangements for the burial of the child. When it was morning. Abu Talha came to Allah's Messenger (ﷺ) and informed him, whereupon he said: Did you spend the night with her. He said: Yes. He (the Holy Prophet) then said: O Allah, bless both of them (and as a result of blessing) she gave birth to a child. Abu Talha said to me (Anas b. Malik) to take the child, (so I took him) and came to Allah's Messenger (ﷺ). She (Umm Sulaim) also had sent some dates (along with the child). Allah's Apostle (ﷺ) took him (the child) (in his lap) and said: Is there anything with you (for Tahnik). They (the Companions) said: Yes. Allah's Apostle (ﷺ) took hold of them (dates and chewed them). He then put them (the chewed dates) in the mouth of the child and then rubbed his palate and gave him the name of 'Abdullah
یزید بن ہارون نے کہا : ہمیں ابن عون نے ابن سیرین سے خبر دی ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا؛ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک لڑکا بیمار تھا ، وہ باہر گئے ہوئے تھے کہ وہ لڑکا فوت ہو گیا ۔ جب وہ لوٹ کر آئے تو انہوں نے پوچھا کہ میرا بچہ کیسا ہے؟ ( ان کی بیوی ) ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اب پہلے کی نسبت اس کو آرام ہے ( یہ موت کی طرف اشارہ ہے اور کچھ جھوٹ بھی نہیں ) ۔ پھر ام سلیم شام کا کھانا ان کے پاس لائیں تو انہوں نے کھایا ۔ اس کے بعد ام سلیم سے صحبت کی ۔ جب فارغ ہوئے تو ام سلیم نے کہا کہ جاؤ بچہ کو دفن کر دو ۔ پھر صبح کو ابوطلحہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب حال بیان کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا تم نے رات کو اپنی بیوی سے صحبت کی تھی؟ ابوطلحہ نے کہا جی ہاں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ اے اللہ ان دونوں کو برکت دے ۔ پھر ام سلیم کے ہاں لڑکا پیدا ہوا تو ابوطلحہ نے مجھ سے کہا کہ اس بچہ کو اٹھا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جا اور ام سلیم نے بچے کے ساتھ تھوڑی کھجوریں بھی بھیجیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کو لے لیا اور پوچھا کہ اس کے ساتھ کچھ ہے؟ لوگوں نے کہا کہ کھجوریں ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوروں کو لے کر چبایا ، پھر اپنے منہ سے نکال کر بچے کے منہ میں ڈال کر اسے گٹھی دی اور اس کا نام عبداللہ رکھا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنِ ابْنِ، سِيرِينَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ ابْنٌ لأَبِي طَلْحَةَ يَشْتَكِي فَخَرَجَ أَبُو طَلْحَةَ فَقُبِضَ الصَّبِيُّ فَلَمَّا رَجَعَ أَبُو طَلْحَةَ قَالَ مَا فَعَلَ ابْنِي قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ هُوَ أَسْكَنُ مِمَّا كَانَ . فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِ الْعَشَاءَ فَتَعَشَّى ثُمَّ أَصَابَ مِنْهَا فَلَمَّا فَرَغَ قَالَتْ وَارُوا الصَّبِيَّ . فَلَمَّا أَصْبَحَ أَبُو طَلْحَةَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ " أَعْرَسْتُمُ اللَّيْلَةَ " . قَالَ نَعَمْ قَالَ " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمَا " . فَوَلَدَتْ غُلاَمًا فَقَالَ لِي أَبُو طَلْحَةَ احْمِلْهُ حَتَّى تَأْتِيَ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم . فَأَتَى بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَبَعَثَتْ مَعَهُ بِتَمَرَاتٍ فَأَخَذَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " أَمَعَهُ شَىْءٌ " . قَالُوا نَعَمْ تَمَرَاتٌ . فَأَخَذَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَمَضَغَهَا ثُمَّ أَخَذَهَا مِنْ فِيهِ فَجَعَلَهَا فِي فِي الصَّبِيِّ ثُمَّ حَنَّكَهُ وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ .
#5614
This hadith has been reported on the authority of Anas through another chain of transmit ters
حماد بن مسعدہ نے کہا : ہمیں ابن عون نے محمد ( ابن سیرین ) سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اسی قصے کے ساتھ یزید کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسٍ، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ نَحْوَ حَدِيثِ يَزِيدَ .
#5615
Abu Musa reported:A child was born in my house and I brought him to Allah's Apostle (may peace be upod him) and he gave him the name of Ibrahim and he rubbed his palate with dates
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، کہا : میرے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا ، میں اس کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ نے اس کا نام ابراہیم رکھا اور اس کو ایک کھجور ( کے دانے ) سے گھٹی دی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الأَشْعَرِيُّ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ وُلِدَ لِي غُلاَمٌ فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَسَمَّاهُ إِبْرَاهِيمَ وَحَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ .
#5616
Urwa b. Zubair and Fatima daughter of Mandhir b. Zubair, reported that Asma' daughter of Abu Bakr was at the time of migration in the family way with 'Abdullah b. Zubair (in her womb). She came to Quba' and gave birth to 'Abdullah at that place and then sent him to Allah's Messenger (ﷺ) so that he should rub his palate with chewed dates. Allah's Messenger (may peace he upon him) took hold of him (the child) and he placed him in his lap and then called for dates. 'A'isha said:Some time was spent before we were able to find them. He (the Holy Prophet) chewed them and then put his saliva in his mouth. The first thing that entered his stomach, was the saliva of Allah's Messenger (ﷺ). Asma' said: He then rubbed him and blessed him and gave him the name of Abdullah. He ('Abdullah) went to him (the Holy Prophet) when he had attained the age of seven or eight years in order to pledge allegiance to Allah's Messenger (ﷺ) as Zubair had commanded him to do. Allah's Messenger (ﷺ) smiled when he saw him coming towards him and then accepted his allegiance
شعیب بن اسحاق نے کہا؛مجھے ہشام بن عروہ نے بتایا ، کہا : مجھے عروہ بن زبیر اور فاطمہ بنت منذر بن زبیر نے حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : کہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا ( مکہ سے ) ہجرت کی نیت سے جس وقت نکلیں ، ان کے پیٹ میں عبداللہ بن زبیر تھے ( یعنی حاملہ تھیں ) جب وہ قباء میں آ کر اتریں تو وہاں سیدنا عبداللہ بن زبیر پیدا ہوئے ۔ پھر ولادت کے بعد انہیں لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو گھٹی لگائیں ، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے لے لیا اور اپنی گود میں بٹھایا ، پھر ایک کھجور منگوائی ۔ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم ایک گھڑی تک کھجور ڈھونڈتے رہے ، آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کو چبایا ، پھر ( اس کا جوس ) ان کے منہ میں ڈال دیا ۔ یہی پہلی چیز جو عبداللہ کے پیٹ میں پہنچی ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تھوک تھا ۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ پر ہاتھ پھیرا اور ان کے لئے دعا کی اور ان کا نام عبداللہ رکھا ۔ پھر جب وہ سات یا آٹھ برس کے ہوئے تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے اشارے پر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کے لئے آئے ۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو آتے دیکھا تو تبسم فرمایا ۔ پھر ان سے ( برکت کے لئے ) بیعت کی ( کیونکہ وہ کمسن تھے ) ۔
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِحٍ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، - يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ - أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَفَاطِمَةُ بِنْتُ الْمُنْذِرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُمَا قَالاَ خَرَجَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ حِينَ هَاجَرَتْ وَهِيَ حُبْلَى بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ فَقَدِمَتْ قُبَاءً فَنُفِسَتْ بِعَبْدِ اللَّهِ بِقُبَاءٍ ثُمَّ خَرَجَتْ حِينَ نُفِسَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِيُحَنِّكَهُ فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْهَا فَوَضَعَهُ فِي حَجْرِهِ ثُمَّ دَعَا بِتَمْرَةٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ فَمَكَثْنَا سَاعَةً نَلْتَمِسُهَا قَبْلَ أَنْ نَجِدَهَا فَمَضَغَهَا ثُمَّ بَصَقَهَا فِي فِيهِ فَإِنَّ أَوَّلَ شَىْءٍ دَخَلَ بَطْنَهُ لَرِيقُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَتْ أَسْمَاءُ ثُمَّ مَسَحَهُ وَصَلَّى عَلَيْهِ وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ ثُمَّ جَاءَ وَهُوَ ابْنُ سَبْعِ سِنِينَ أَوْ ثَمَانٍ لِيُبَايِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَمَرَهُ بِذَلِكَ الزُّبَيْرُ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ رَآهُ مُقْبِلاً إِلَيْهِ ثُمَّ بَايَعَهُ .
#5617
Asma' reported that she had become pregnant at Mecca with Abdullah b. Zubair (in her womt) and she (further) said:I set out (for migration to Medina) as I was in the advanced stage of pregnancy. I came to Medina and got down at the place known as Quba' and gave birth to a child there. Then I came to Allah's Messenger (may peace he upon him). He placed him (the child) in his lap and then commanded for the dates to be brought. He chewed them and then put the saliva in his mouth. The first thing which went into his stomach was the saliva of Allah's Messenger (ﷺ). He then rubbed his palate with dates and then invoked blessings for him and blessed him. He was the first child who was born in Islam (after Migration)
ابو اسامہ نے ہشام سے ، انھوں نے ا پنے والد سے ، انھوں نے حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ وہ مکہ میں حاملہ ہوئیں ، حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے پیٹ میں تھے ، حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہاکہ جب میں ( مکہ سے ) نکلی تو میں پورے دنوں سے تھی ، پھر میں مدینہ آئی اورقباء میں ٹھہری اور قباء میں نے اسے ( عبداللہ ) کو جنم دیا ، پھر میں ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو آپ نے اسے اپنی گود میں لے لیا ، پھر آپ نے کھجور منگوائی ، اسے چبایا ۔ پھر اپنا لعاب دہن اس کے منہ میں ڈال دیا ، پہلی چیز جو اس کے پیٹ میں گئی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کالعاب دہن تھا ، پھر آپ نے ( چبائی ہوئی ) کھجور کی گھٹی اس کے تالو کولگائی ، پھر میں کے لئے دعا کی ، برکت مانگی ، ( ہجرت مدینہ کے بعد ) یہ پہلا بچہ تھا جو اسلام میں پیدا ہوا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ، أَنَّهَا حَمَلَتْ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ بِمَكَّةَ قَالَتْ فَخَرَجْتُ وَأَنَا مُتِمٌّ، فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَنَزَلْتُ بِقُبَاءٍ فَوَلَدْتُهُ بِقُبَاءٍ ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَوَضَعَهُ فِي حَجْرِهِ ثُمَّ دَعَا بِتَمْرَةٍ فَمَضَغَهَا ثُمَّ تَفَلَ فِي فِيهِ فَكَانَ أَوَّلَ شَىْءٍ دَخَلَ جَوْفَهُ رِيقُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ حَنَّكَهُ بِالتَّمْرَةِ ثُمَّ دَعَا لَهُ وَبَرَّكَ عَلَيْهِ وَكَانَ أَوَّلَ مَوْلُودٍ وُلِدَ فِي الإِسْلاَمِ .
#5618
Asma', daughter of Abu Bakr, reported that when she migrated to Allah's Messenger (ﷺ) in Medina she was in the family way with Abdullah b. Zubair in her womb
علی بن مسہر نے ہشام بن عروہ سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ انھوں نے ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کی ، اس وقت وہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےحاملہ تھیں ، پھر ابو اسامہ کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامِ، بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهَا هَاجَرَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهِيَ حُبْلَى بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ . فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ .
#5619
A'isha reported that the new-born infants were brought to Allah's Messenger (ﷺ). He blessed them and rubbed their palates with dates
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بچے لائے جاتے ، آپ ان کے لئے برکت کی دعا کرتے اور انھیں گھٹی دیتے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، - يَعْنِي ابْنَ عُرْوَةَ - عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُؤْتَى بِالصِّبْيَانِ فَيُبَرِّكُ عَلَيْهِمْ وَيُحَنِّكُهُمْ .
#5620
A'isha reported:We took 'Abdullah b. Zubair to Allah's Apostle (ﷺ) so that he should put saliva in his mouth and we had to make a good deal of effort in order to procure them
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سےروایت ہے ، کہا : ہم گھٹی دلوانے کے لئے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئے ، ہم نے کھجور حاصل کرنی چاہی تو ہمارے لیے اس کا حصول دشوار ہوگیا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ جِئْنَا بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يُحَنِّكُهُ فَطَلَبْنَا تَمْرَةً فَعَزَّ عَلَيْنَا طَلَبُهَا .
#5621
Sahl b. Sa'd reported that Mundhir b. Aba Usaid was brought to Allah's Messenger (ﷺ) at the time of his birth Allah's. Apostle (ﷺ) placed him on his thigh and Abfi Usaid kept sitting there. Allah's Apostle (ﷺ) had been occupied with something else before him. Abu Usaid commanded his child to be lifted from the lap of Allah's Messenger (ﷺ) and so he was lifted. When Allah's Messenger (ﷺ) had finished the work he said:Where is the child? Abd Usaid said: Allah's Messenger, we took him away. He said: What is his name? He said; Allah's Messenger, it is so and so, whereupon he (the Holy Prophet) said: Nay, his name is Mundhir, and named him Mundhir on that day
حضرت سہل بن سعد ( بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت ہے ، کہا : کہ ابواسید رضی اللہ عنہ کا بیٹا منذر ، جب پیدا ہوا تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اپنی ران پر رکھا اور ( اس کے والد ) ابواسید ۔ بیٹھے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز میں اپنے سامنے متوجہ ہوئے تو ابواسید نے حکم دیا تو وہ بچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ران پر سے اٹھا لیا گیا ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال آیا تو فرمایا کہ بچہ کہاں ہے؟ سیدنا ابواسید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ! ہم نے اس کو اٹھا لیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا نام کیا ہے؟ ابواسید نے کہا کہ فلاں نام ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں ، اس کا نام منذر ہے ۔ پھر اس دن سے انہوں نے اس کا نام منذر ہی رکھ دیا ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، - وَهُوَ ابْنُ مُطَرِّفٍ أَبُو غَسَّانَ - حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ أُتِيَ بِالْمُنْذِرِ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ وُلِدَ فَوَضَعَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى فَخِذِهِ وَأَبُو أُسَيْدٍ جَالِسٌ فَلَهِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِشَىْءٍ بَيْنَ يَدَيْهِ فَأَمَرَ أَبُو أُسَيْدٍ بِابْنِهِ فَاحْتُمِلَ مِنْ عَلَى فَخِذِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَقْلَبُوهُ فَاسْتَفَاقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " أَيْنَ الصَّبِيُّ " . فَقَالَ أَبُو أُسَيْدٍ أَقْلَبْنَاهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ " مَا اسْمُهُ " . قَالَ فُلاَنٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " لاَ وَلَكِنِ اسْمُهُ الْمُنْذِرُ " . فَسَمَّاهُ يَوْمَئِذٍ الْمُنْذِرَ .
#5622
Anas b. Malik reported that Allah's Messenger (ﷺ) had the sublimest character among mankind. I had a brother who was called Abu 'Umair. I think he was weaned. When Allah's Messenger (may peace he upon him) came to our house he saw him, and said:Abu 'Umair, what has the sparrow done? He (Anas) said that he had been playing with that
ابوتیاح نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انسانوں سے بڑھ کر خوش ا خلاق تھے ، میرا ایک بھائی تھا جسے ابو عمیر کہا جاتا تھا ۔ ( ابوالتیاح نے ) کہا : میرا خیال ہے ( انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا تھا : اس کا دودھ چھڑایا جاچکا تھا ، کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے اور اسے دیکھتے تو فرماتے : ابو عمیر!نغیر نے کیا کیا " وہ بچہ اس ( پرندے ) سے کھیلا کرتا تھا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، ح وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا وَكَانَ لِي أَخٌ يُقَالُ لَهُ أَبُو عُمَيْرٍ - قَالَ أَحْسِبُهُ قَالَ - كَانَ فَطِيمًا - قَالَ - فَكَانَ إِذَا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَآهُ قَالَ " أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ " . قَالَ فَكَانَ يَلْعَبُ بِهِ .
#5623
Anas b Malik reported that Allah's Messenger (ﷺ) addressed me:O My Son
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : " اے میرے بیٹے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ، مَالِكٍ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا بُنَىَّ " .
#5624
Mughira b. Shu'ba reported that none else had asked more questions from Allah's Messenger (ﷺ) about the Dajjal than I, but he simply said in a slight mood):O, myson, why are you worried because of him? He will not harm you. I said: The people think that he would have with him rivers of water and mountains of bread, whereupon he said: He would be more insignificant in the sight of Allah than all these things (belonging to him)
یزید بن ہارون نے اسماعیل بن ابی خالد سے ، انھوں نے قیس بن ابی حازم سے ، انھوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دجال کے متعلق جتنے سوالات میں نے کیے اتنے کسی اور نے نہیں کیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا؛ " میرے بیٹے!تمھیں اس ( دجال ) سے کیا بات پریشان کررہی ہے؟تمھیں اس سے ہر گز کوئی نقصان نہ پہنچے گا ۔ " کہا : میں نے عرض کی : لوگ سمجھتے ہیں کہ اس کے ساتھ پانی کی نہریں اور ر وٹی کے پہاڑ ہوں گے ۔ " آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کی نسبت زیادہ ذلیل ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ أَبِي عُمَرَ - قَالاَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، بْنِ شُعْبَةَ قَالَ مَا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَحَدٌ عَنِ الدَّجَّالِ أَكْثَرَ مِمَّا سَأَلْتُهُ عَنْهُ فَقَالَ لِي " أَىْ بُنَىَّ وَمَا يُنْصِبُكَ مِنْهُ إِنَّهُ لَنْ يَضُرَّكَ " . قَالَ قُلْتُ إِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ مَعَهُ أَنْهَارَ الْمَاءِ وَجِبَالَ الْخُبْزِ . قَالَ " هُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ ذَلِكَ " .