#5300
Jabir reported that Allah's Messenger (ﷺ) commanded the licking of fingers and the dish, saying:You do not know in what portion the blessing lies
سفیان بن عینیہ نے ابو زبیر سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلیاں اور پیالہ چاٹنے کا حکم دیا اور فرمایا : " تم نہیں جانتے اس کے کس حصےمیں برکت ہے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ بِلَعْقِ الأَصَابِعِ وَالصَّحْفَةِ وَقَالَ " إِنَّكُمْ لاَ تَدْرُونَ فِي أَيِّهِ الْبَرَكَةُ " .
#5301
Jabir reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:When any one of you drops a mouthful he should pick it up and remove any of the filth on it, and then eat it, and should not leave it for the Satan, and should not wipe his hand with towel until he has licked his fingers, for he does not know in what portion of the food the blessing lies
عبداللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں سفیان ( ثوری ) نے ابو زبیر سے حدیث بیان کی ، انھو ں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کسی شخص کالقمہ گر جائے تو وہ اسے ا ٹھا لےاور اس پر جو ناپسندیدہ چیز ( تنکا ، مٹی ) لگی ہے اس کو اچھی طرح صاف کرلے اور اسے کھالے ، اس لقمے کو شیطان کےلیے نہ چھوڑے ، اور جب تک اپنی انگلیوں کو چاٹ نہ لے ۔ اس وقت تک اپنے ہاتھ کو رومال سے صاف نہ کرے ، کیونکہ اسے معلوم نہیں کہ اس کے کھانے کے کس حصے میں برکت ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا وَقَعَتْ لُقْمَةُ أَحَدِكُمْ فَلْيَأْخُذْهَا فَلْيُمِطْ مَا كَانَ بِهَا مِنْ أَذًى وَلْيَأْكُلْهَا وَلاَ يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ وَلاَ يَمْسَحْ يَدَهُ بِالْمِنْدِيلِ حَتَّى يَلْعَقَ أَصَابِعَهُ فَإِنَّهُ لاَ يَدْرِي فِي أَىِّ طَعَامِهِ الْبَرَكَةُ " .
#5302
This hadith has been narrated on the authority of Sufyan with the same chain of transmitters but with a slight variation of wording
ابو داود حفری اورعبدالرزاق دونوں نےسفیان ( ثوری ) سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔ ان دونوں کی حدیث میں ہے : "" اوراپنا ہاتھ رومال سے نہ پونچھے حتیٰ کہ اسے چاٹ لے یا چٹوالے "" اور اس کے بعدوالے الفاظ بھی ہیں ۔
وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، ح وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ، رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، كِلاَهُمَا عَنْ سُفْيَانَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . مِثْلَهُ . وَفِي حَدِيثِهِمَا " وَلاَ يَمْسَحْ يَدَهُ بِالْمِنْدِيلِ حَتَّى يَلْعَقَهَا أَوْ يُلْعِقَهَا " . وَمَا بَعْدَهُ .
#5303
Jabir reported:I heard Allah's Apostle (ﷺ) as saying: The Satan is present with any one of you in everything he does; he is present even when he eats food; so if any one of you drops a mouthful he should remove away anything filthy on it and eat it and not leave for the devil; and when he finishes (food) he should lick his fingers, for he does not know in what portion of his food the blessing lies
جریر نے اعمش سے ، انھوں نے ابو سفیان سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : شیطان تم میں سے ہر ایک کی ہر حالت میں اس کے پاس حاضر ہوتاہے حتیٰ کہ کھانے کے وقت بھی ، جب تم میں سے کسی سے لقمہ گرجائے تو جو کچھ اسے لگ گیا ہے ۔ اسے صاف کرکے کھالے اور اسے شیطان کے لئے نہ چھوڑے اور جب ( کھانے سے ) فارغ ہوتوا پنی انگلیاں چاٹ لے کیونکہ اسے پتہ نہیں کہ اس کے کھانے کے کس حصے میں برکت ہے ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَحْضُرُ أَحَدَكُمْ عِنْدَ كُلِّ شَىْءٍ مِنْ شَأْنِهِ حَتَّى يَحْضُرَهُ عِنْدَ طَعَامِهِ فَإِذَا سَقَطَتْ مِنْ أَحَدِكُمُ اللُّقْمَةُ فَلْيُمِطْ مَا كَانَ بِهَا مِنْ أَذًى ثُمَّ لْيَأْكُلْهَا وَلاَ يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ فَإِذَا فَرَغَ فَلْيَلْعَقْ أَصَابِعَهُ فَإِنَّهُ لاَ يَدْرِي فِي أَىِّ طَعَامِهِ تَكُونُ الْبَرَكَةُ " .
#5304
This hadith is reported on the authority of A'mash with the same chain of transmitters but with a slight variation of words but no mention is made of the first part of the hadith, i. e. the Satan is present with any one of you
ابو معاویہ نے اعمش سے اسی سندکے ساتھ روایت کی : " جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے " آخرتک اور حدیث کاابتدائی حصہ؛ " شیطان تمہارے پا س حاضر ہوتا ہے " ذکر نہیں کیا ۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ " إِذَا سَقَطَتْ لُقْمَةُ أَحَدِكُمْ " . إِلَى آخِرِ الْحَدِيثِ وَلَمْ يَذْكُرْ أَوَّلَ الْحَدِيثِ " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَحْضُرُ أَحَدَكُمْ " .
#5305
Jabir reported from Allah's Messenger. (ﷺ) about mentioning the licking (of fingers) and the (falling of) the mouthful
محمد بن فضیل نے اعمش سے ، انھوں نے ابو صالح اور ابوسفیان سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( انگلیاں ) چاٹنے کے بارے میں روایت بیان کی اور ابو سفیان سے ، انھوں نے جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، اور لقمے کا ذکر کیا ، ان دونوں ( جریر اورابومعاویہ ) کی حدیث کی طرح ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي، صَالِحٍ وَأَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي ذِكْرِ اللَّعْقِ . وَعَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَذَكَرَ اللُّقْمَةَ نَحْوَ حَدِيثِهِمَا .
#5306
Anas reported that when Allah's Messenger (ﷺ) ate food he licked his three fingers, and he said:When any one of you drops a mouthful he should remove anything filthy from it and then eat it, and should not leave it for the Satan. He also commanded us that we should wipe the dish saying: You do not know in what portion of your food the blessing lies
بہز نے کہا : ہمیں حماد بن سلمہ نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ثابت نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت کھاناکھاتے تو ( آخر میں ) اپنی تین انگلیوں کو چاٹتے اور کہا : آپ نے فرمایا : " جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو وہ اس سے ناپسندیدہ چیز کو دور کرلے اور کھالے اور اس کو شیطان کے لئے نہ چھوڑے ۔ " اورآپ نے ہمیں پیالہ صاف کرنے کا حکم دیا اور فرمایا : " تم نہیں جانتے کہ تمھارے کھانے کے کس حصے میں برکت ہے ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ قَالاَ حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ، بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا أَكَلَ طَعَامًا لَعِقَ أَصَابِعَهُ الثَّلاَثَ . قَالَ وَقَالَ " إِذَا سَقَطَتْ لُقْمَةُ أَحَدِكُمْ فَلْيُمِطْ عَنْهَا الأَذَى وَلْيَأْكُلْهَا وَلاَ يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ " . وَأَمَرَنَا أَنْ نَسْلُتَ الْقَصْعَةَ قَالَ " فَإِنَّكُمْ لاَ تَدْرُونَ فِي أَىِّ طَعَامِكُمُ الْبَرَكَةُ " .
#5307
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:When any one of you eats food he should lick his fingers, for he does not know in what part of the food sticking to his fingers the blessing lies
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ر وایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کوئی شخص کھاناکھائے تو اپنی انگلیوں کو چاٹ لے ، کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ ان میں سے کس میں برکت ہے ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَلْعَقْ أَصَابِعَهُ فَإِنَّهُ لاَ يَدْرِي فِي أَيَّتِهِنَّ الْبَرَكَةُ " .
#5308
This hadith has been reported on the authority of Hammad with the same chain of transmitters, but with a slight variation of wording
عبدالرحمان بن مہدی نے کہا : ہمیں حماد نے اسی سند کے ساتھ حدیث سنائی ، مگرانھوں نےکہا : " تم میں سے ہر ایک پیالہ صاف کرے ۔ " اور فرمایا : " تمھارے کس کھانے ( کے کس حصے ) میں برکت ہے ، یا ( فرمایا : ) کس کھانے میں تمھارے لئے برکت ڈالی جاتی ہے ۔
وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، - يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ - قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ " وَلْيَسْلُتْ أَحْدُكُمُ الصَّحْفَةَ " . وَقَالَ " فِي أَىِّ طَعَامِكُمُ الْبَرَكَةُ أَوْ يُبَارَكُ لَكُمْ " .
#5309
Abu Mas'ud Ansari reported that a person from the Ansar who was called Abu Shu'aib had a slave who was a butcher (by profession). He (Abu Mas'ud) saw Allah's Messenger (ﷺ) and found signs of hunger on his face. He said to the servant:0 ye, prepare for us food sufficient for five persons, for I intend to invite Allah's Apostle (ﷺ) who would be the fifth amongst the five. He (the narrator) reported that he then prepared the food and came to Allah's Apostle (ﷺ) and invited all the five (including him) who was the fifth amongst them to the feast. A man followed him and when Allah's Apostle (ﷺ) reached the door, he said: This man has followed us; if you like you may permit him (to join the meal) and if you like he can go back. Thereupon the person said: Allah's Messenger, I permit him
جریر نے اعمش سے ، انھوں نے ابو وائل سے ، انھوں نے حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ انصار میں ایک آدمی جس کا نام ابوشعیب تھا ، جس کا ایک غلام تھا جو گوشت بیچا کرتا تھا ۔ اس انصاری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر بھوک معلوم ہوئی تو اپنے غلام سے کہا کہ ہم پانچ آدمیوں کے لئے کھانا تیار کر کیونکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کرنا چاہتا ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پانچ آدمیوں میں پانچویں ہوں گے ۔ راوی کہتا ہے کہ اس نے کھانا تیار کیا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر دعوت دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پانچ میں پانچویں تھے ۔ ان کے ساتھ ایک آدمی ہو گیا تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دروازے پر پہنچے تو ( صاحب خانہ سے ) فرمایا کہ یہ شخص ہمارے ساتھ چلا آیا ہے ، اگر تو چاہے تو اس کو اجازت دے ، ورنہ یہ لوٹ جائے گا ۔ اس نے کہا کہ نہیں یا رسول اللہ! بلکہ میں اس کو اجازت دیتا ہوں ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، - وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ - قَالاَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ كَانَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو شُعَيْبٍ وَكَانَ لَهُ غُلاَمٌ لَحَّامٌ فَرَأَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَعَرَفَ فِي وَجْهِهِ الْجُوعَ فَقَالَ لِغُلاَمِهِ وَيْحَكَ اصْنَعْ لَنَا طَعَامًا لِخَمْسَةِ نَفَرٍ فَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَدْعُوَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَامِسَ خَمْسَةٍ . قَالَ فَصَنَعَ ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَدَعَاهُ خَامِسَ خَمْسَةٍ وَاتَّبَعَهُمْ رَجُلٌ فَلَمَّا بَلَغَ الْبَابَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ هَذَا اتَّبَعَنَا فَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَأْذَنَ لَهُ وَإِنْ شِئْتَ رَجَعَ " . قَالَ لاَ بَلْ آذَنُ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ .
#5310
This hadith has been reported on the authority of Abu Mas'ud Ansari through another chain of transmitters
ابو بکر بن ابی شیبہ اور اسحاق بن ابراہیم نے ہمیں یہی حدیث ابو معاویہ سے بیان کی ، نیز یہ حدیث ہمیں نصر بن علی جہضمی اور ابو سعید اشج نے بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں ابو اسامہ نے حدیث بیان کی ، عبیداللہ بن معاذ نے کہا : ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی ، نیز ہمیں عبداللہ بن عبدالرحمان دارمی نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں محمد بن یوسف نے سفیان سے حدیث بیان کی ، ان سب ( ابو معاویہ ، شعبہ اورسفیان ) نے اعمش سے روایت کی ، انھوں نے ابو وائل سے ، انھوں نے ابو مسعود سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث اسی طرح بیان کی جس طرح جریر کی حدیث ہے ۔ نصر بن علی نے اس حدیث کی اپنی روایت میں کہا : ہمیں ابو اسامہ نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں اعمش سے شقیق بن سلمہ سے ، انھوں نے ابو مسعود انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، پھر پوری حدیث بیان کی ۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَاهُ نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، كُلُّهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِنَحْوِ حَدِيثِ جَرِيرٍ . قَالَ نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ فِي رِوَايَتِهِ لِهَذَا الْحَدِيثِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ، الأَنْصَارِيُّ . وَسَاقَ الْحَدِيثَ .
#5311
This hadith has been transmitted on the authority of Jabir also
عمار بن رزیق نے اعمش سے ، انھوں نے ابو سفیان سے ، انھوں نے جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، نیز زہیر نے کہا : ہمیں اعمش نے شقیق سے ، انھوں نے ابو مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، نیز ( زہیر نے ) اعمش سے ، انھوں نے سفیان سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہی حدیث بیان کی ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ، حَدَّثَنَا عَمَّارٌ، - وَهْوَ ابْنُ رُزَيْقٍ - عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، ح وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَعَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ .
#5312
Anas reported that:Allah's Messenger (ﷺ) had a Persian neighbour who made excellent soup. He prepared some for Allah's Messenger (ﷺ) and then came to him to invite him to eat. He (Allah's Messenger) said, "and her too," referring to `Aisha. The man said "No," so Allah's Messenger (ﷺ) then said "No." He returned later to invite him again, so Allah's Messenger (ﷺ) said "and her too." The man said "No," so Allah's Messenger (ﷺ) then said "No." He returned another time to invite him and Allah's Messenger (ﷺ) said, "and her too." The man said yes on this third occasion, and they then stood eagerly to go out together to the man's home
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ر وایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک فارس سے تعلق رکھنے والا پڑوسی شوربا اچھا بناتا تھا ، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے شوربا تیار کیا ، پھرآکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی طرف اشارہ کرکے فرمایا : " ان کو بھی دعوت ہے؟ " اس نے کہا : نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " نہیں ( مجھے بھی تمہاری دعوت قبول نہیں ) وہ دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلانے آیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ان کو بھی؟ " اس نے کہا : نہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تو نہیں ۔ " وہ پھر دعوت دینے کے لئے آیا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ان کو بھی؟ " توتیسری بار اس نے کہا : ہاں ۔ پھر آپ دونوں ایک دوسرے کے پیچھے چل پڑے یہاں تک کہ اس کے گھر آگئے ۔
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ جَارًا، لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَارِسِيًّا كَانَ طَيِّبَ الْمَرَقِ فَصَنَعَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ جَاءَ يَدْعُوهُ فَقَالَ " وَهَذِهِ " . لِعَائِشَةَ فَقَالَ لاَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ " فَعَادَ يَدْعُوهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَهَذِهِ " . قَالَ لاَ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ " . ثُمَّ عَادَ يَدْعُوهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَهَذِهِ " . قَالَ نَعَمْ . فِي الثَّالِثَةِ . فَقَامَا يَتَدَافَعَانِ حَتَّى أَتَيَا مَنْزِلَهُ .
#5313
Abu Huraira reported that Allah's Messenger (ﷺ) went out (of his house) one day or one night, and there he found Abu Bakr and 'Umar also. He said:What has brought you out of your houses at this hour? They said: Allah's Messenger, it is hunger. Thereupon he said: By Him in Whose Hand is my life, what has brought you out has brought me out too; get up. They got up along with him. and (all of them) came to the house of an Ansari, but he was not at home. When his wife saw him she said: Most welcome, and Allah's Messenger (may peace be Upon him) said to her: Where is so and so? She said: He has gone to get some fresh water for us. When the Ansari came and he saw Allah's Messenger (ﷺ) and his two Companions, he said: Praise be to Allah, no one has more honourable guests today than I (have). He then went out and brought them a bunch of ripe dates, dry dates and fresh dates, and said: Eat some of them. He then took hold of his long knife (for slaughtering a goat or a sheep). Allah's Messenger (ﷺ) said to him: Beware of killing a milch animal. He slaughtered a sheep for them and after they had eaten of it and of the bunch and drank, and when they had taken their fill and had been fully satisfied with the drink, Allah's Messenger (ﷺ) said to Abu Bakr and Umar: By Him in Whose Hand is my life, you will certainly be questioned about this bounty on the Day of judgment. Hunger brought you out of your house, then you did not return until this bounty came to you
خلف بن خلیفہ نے یزید بن کیسان سے ، انھوں نے ابوحازم سے ، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ رات یا دن کو باہر نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا تو پوچھا کہ تمہیں اس وقت کون سی چیز گھر سے نکال لائی ہے؟ انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! بھوک کے مارے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، میں بھی اسی وجہ سے نکلا ہوں ، چلو ۔ پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری کے دروازے پر آئے ، وہ اپنے گھر میں نہیں تھا ۔ اس کی عورت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو اس نے خوش آمدید کہا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فلاں شخص ( اس کے خاوند کے متعلق فرمایا ) کہاں گیا ہے؟ وہ بولی کہ ہمارے لئے میٹھا پانی لینے گیا ہے ( اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عذر سے اجنبی عورت سے بات کرنا اور اس کو جواب دینا درست ہے ، اسی طرح عورت اس مرد کو گھر بلا سکتی ہے جس کے آنے سے خاوند راضی ہو ) اتنے میں وہ انصاری مرد آ گیا تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں ساتھیوں کو دیکھا تو کہا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ آج کے دن کسی کے پاس ایسے مہمان نہیں ہیں جیسے میرے پاس ہیں ۔ پھر گیا اور کھجور کا ایک خوشہ لے کر آیا جس میں گدر ، سوکھی اور تازہ کھجوریں تھیں اور کہنے لگا کہ اس میں سے کھائیے پھر اس نے چھری لی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دودھ والی بکری مت کاٹنا ۔ اس نے ایک بکری کاٹی اور سب نے اس کا گوشت کھایا اور کھجور بھی کھائی اور پانی پیا ۔ جب کھانے پینے سے سیر ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا کہ قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، قیامت کے دن تم سے اس نعمت کے بارے میں سوال ہو گا کہ تم اپنے گھروں سے بھوک کے مارے نکلے اور نہیں لوٹے یہاں تک کہ تمہیں یہ نعمت ملی ۔ ( اس فضل پر سوال ضرور ہوگا)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ يَوْمٍ أَوْ لَيْلَةٍ فَإِذَا هُوَ بِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ فَقَالَ " مَا أَخْرَجَكُمَا مِنْ بُيُوتِكُمَا هَذِهِ السَّاعَةَ " . قَالاَ الْجُوعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " وَأَنَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لأَخْرَجَنِي الَّذِي أَخْرَجَكُمَا قُومُوا " . فَقَامُوا مَعَهُ فَأَتَى رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ فَإِذَا هُوَ لَيْسَ فِي بَيْتِهِ فَلَمَّا رَأَتْهُ الْمَرْأَةُ قَالَتْ مَرْحَبًا وَأَهْلاً . فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَيْنَ فُلاَنٌ " . قَالَتْ ذَهَبَ يَسْتَعْذِبُ لَنَا مِنَ الْمَاءِ . إِذْ جَاءَ الأَنْصَارِيُّ فَنَظَرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَصَاحِبَيْهِ ثُمَّ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ مَا أَحَدٌ الْيَوْمَ أَكْرَمَ أَضْيَافًا مِنِّي - قَالَ - فَانْطَلَقَ فَجَاءَهُمْ بِعِذْقٍ فِيهِ بُسْرٌ وَتَمْرٌ وَرُطَبٌ فَقَالَ كُلُوا مِنْ هَذِهِ . وَأَخَذَ الْمُدْيَةَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِيَّاكَ وَالْحَلُوبَ " . فَذَبَحَ لَهُمْ فَأَكَلُوا مِنَ الشَّاةِ وَمِنْ ذَلِكَ الْعِذْقِ وَشَرِبُوا فَلَمَّا أَنْ شَبِعُوا وَرَوُوا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتُسْأَلُنَّ عَنْ هَذَا النَّعِيمِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَخْرَجَكُمْ مِنْ بُيُوتِكُمُ الْجُوعُ ثُمَّ لَمْ تَرْجِعُوا حَتَّى أَصَابَكُمْ هَذَا النَّعِيمُ " .
#5314
Abu Huraira reported:One day while Abu Bakr was sitting and there was with him Umar also there came to them Allah's Messenger (ﷺ) and he said: What makes you stay here? They said: It is hunger that has brought us out from our houses. By Him Who has stint you with Truth; the rest of the hadith is the same
عبدالواحد بن زیاد نے کہا : ہمیں یزید نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابوحازم نے حدیث سنائی ، کہا : میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : ایک روزحضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیٹھے ہوئے تھے ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے ساتھ تھے ۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے آئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم دونوں کو کس چیز نے یہاں بٹھا رکھا ہے؟ " دونوں نے کہا : قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کےساتھ بھیجا ہے! ہمیں بھوک نے ا پنے گھروں سےنکالا ہے ۔ پھر خلف بن خلیفہ کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو هِشَامٍ، - يَعْنِي الْمُغِيرَةَ بْنَ سَلَمَةَ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ بَيْنَا أَبُو بَكْرٍ قَاعِدٌ وَعُمَرُ مَعَهُ إِذْ أَتَاهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " مَا أَقْعَدَكُمَا هَا هُنَا " . قَالاَ أَخْرَجَنَا الْجُوعُ مِنْ بُيُوتِنَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ . ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ خَلَفِ بْنِ خَلِيفَةَ .
#5315
Jabir b. 'Abdullah reported:When the ditch was dug, I saw Allah's Messenger (may peace he upon him) feeling very hungry. I came to my wife and said to her: Is there anything with you? I have seen Allah's Messenger (ﷺ) feeling extremely hungry. She brought out a bag of provisions which contained a sa', of barley. We had also with us a lamb. I slaughtered it. She ground the flour. She finished (this work) along with me. I cut it into pieces and put it in the earthen pot and then returned to Allah's Apostle (ﷺ) (for inviting him). She said: Do not humiliate me in the presence of Allah's Messenger (ﷺ) and those who are with him. When I came to him I whispered to him saying: Allah's Messenger, we have slaughtered a lamb for you and she has ground a sa' of barley which we had with us. So you come along with a group of people with you. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said loudly: O people of the ditch, Jabir has arranged a feast for you, so (come along). Allah's Messenger (ﷺ) said: Do not remove your earthen pot from the hearth and do not bake the bread from the kneaded flour until I come. So I came and Allah's Messenger (ﷺ) came and he was ahead of the people; and I came to my wife and she said (to me): You will be humbled. I said: I did what you had asked me to do. She (his wife) said: I brought out the kneaded flour and Allah's Messenger (ﷺ) put some saliva of his in that and blessed It. He then put saliva in the earthen pot and blessed it and then said. Call another baker who can bake with you. and bring out the soup from it, but do not remove it from the hearth, and the guests were one thousand. (Jabir said): I take an oath by Allah that all of them ate (the food to their fill) until they left it and went away and our earthen pot was brimming over as before, and so was the case with our flour, or as Dahhak (another narrator) said: It (the flour) was in the same condition and loaves had been prepared from that
حجاج بن شاعر نے کہا : ضحاک بن مخلد نے مجھے ایک رقعے سے حدیث بیان کی ، اسے میرے سامنے رکھا پھر اسے پڑھا ، کہا : مجھے حنظلہ بن عثمان نے اس کے بارے میں بتایا ، کہا : ہمیں سعید بن میناء نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : کہ جب ( مدینہ کے گرد ) خندق کھودی گئی تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھوکا پایا ۔ میں اپنی بیوی کے پاس لوٹا اور کہا کہ تیرے پاس کچھ ہے؟ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت بھوکا پایا ہے ۔ اس نے ایک تھیلا نکالا جس میں ایک صاع جو تھے اور ہمارے پاس بکری کا پلا ہوا بچہ تھا ، میں نے اس کو ذبح کیا اور میری عورت نے آٹا پیسا ۔ وہ بھی میرے ساتھ ہی فارغ ہوئی میں نے اس کا گوشت کاٹ کر ہانڈی میں ڈالا ۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پلٹنے لگا تو عورت بولی کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کے سامنے رسوا نہ کرنا ( کیونکہ کھانا تھوڑا ہے کہیں بہت سے آدمیوں کی دعوت نہ کر دینا ) ۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور چپکے سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں نے ایک بکری کا بچہ ذبح کیا ہے اور ایک صاع جو کا آٹا جو ہمارے پاس تھا ، تیار کیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم چند لوگوں کو اپنے ساتھ لے کر تشریف لائیے ۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکارا اور فرمایا کہ اے خندق والو! جابر نے تمہاری دعوت کی ہے تو چلو ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی ہانڈی کو مت اتارنا اور آٹے کی روٹی مت پکانا ، جب تک میں نہ آ جاؤں ۔ پھر میں گھر میں آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لائے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے آگے تھے اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے ۔ میں اپنی عورت کے پاس آیا ، وہ بولی کہ تو ہی پریشان ہو گا اور لوگ تجھے ہی برا کہیں گے ۔ میں نے کہا کہ میں نے تو وہی کیا جو تو نے کہا تھا ( لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان کر دیا اور سب کو دعوت سنا دی ) میں نے وہ آٹا نکالا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا لب مبارک اس میں ڈالا اور برکت کی دعا کی ، پھر ہماری ہانڈی کی طرف چلے اور اس میں بھی تھوکا اور برکت کی دعا کی ۔ اس کے بعد ( میری عورت سے ) فرمایا کہ ایک روٹی پکانے والی اور بلا لے جو تیرے ساتھ مل کر پکائے اور ہانڈی میں سے ڈوئی نکال کر نکالتی جا ، اس کو اتارنا مت ۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک ہزار آدمی تھے ، پس میں قسم کھاتا ہوں کہ سب نے کھایا ، یہاں تک کہ چھوڑ دیا اور لوٹ گئے اور ہانڈی کا وہی حال تھا ، ابل رہی تھی اور آٹا بھی ویسا ہی تھا ، اس کی روٹیاں بن رہی تھیں ۔
حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، مِنْ رُقْعَةٍ عَارَضَ لِي بِهَا ثُمَّ قَرَأَهُ عَلَىَّ قَالَ أَخْبَرَنَاهُ حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ لَمَّا حُفِرَ الْخَنْدَقُ رَأَيْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَمَصًا فَانْكَفَأْتُ إِلَى امْرَأَتِي فَقُلْتُ لَهَا هَلْ عِنْدَكِ شَىْءٌ فَإِنِّي رَأَيْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَمَصًا شَدِيدًا . فَأَخْرَجَتْ لِي جِرَابًا فِيهِ صَاعٌ مِنْ شَعِيرٍ وَلَنَا بُهَيْمَةٌ دَاجِنٌ - قَالَ - فَذَبَحْتُهَا وَطَحَنَتْ فَفَرَغَتْ إِلَى فَرَاغِي فَقَطَّعْتُهَا فِي بُرْمَتِهَا ثُمَّ وَلَّيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ لاَ تَفْضَحْنِي بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمَنْ مَعَهُ - قَالَ - فَجِئْتُهُ فَسَارَرْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا قَدْ ذَبَحْنَا بُهَيْمَةً لَنَا وَطَحَنَتْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ كَانَ عِنْدَنَا فَتَعَالَ أَنْتَ فِي نَفَرٍ مَعَكَ . فَصَاحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ " يَا أَهْلَ الْخَنْدَقِ إِنَّ جَابِرًا قَدْ صَنَعَ لَكُمْ سُورًا فَحَيَّهَلاَ بِكُمْ " . وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تُنْزِلُنَّ بُرْمَتَكُمْ وَلاَ تَخْبِزُنَّ عَجِينَتَكُمْ حَتَّى أَجِيءَ " . فَجِئْتُ وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْدُمُ النَّاسَ حَتَّى جِئْتُ امْرَأَتِي فَقَالَتْ بِكَ وَبِكَ . فَقُلْتُ قَدْ فَعَلْتُ الَّذِي قُلْتِ لِي . فَأَخْرَجْتُ لَهُ عَجِينَتَنَا فَبَصَقَ فِيهَا وَبَارَكَ ثُمَّ عَمَدَ إِلَى بُرْمَتِنَا فَبَصَقَ فِيهَا وَبَارَكَ ثُمَّ قَالَ " ادْعِي خَابِزَةً فَلْتَخْبِزْ مَعَكِ وَاقْدَحِي مِنْ بُرْمَتِكُمْ وَلاَ تُنْزِلُوهَا " . وَهُمْ أَلْفٌ فَأُقْسِمُ بِاللَّهِ لأَكَلُوا حَتَّى تَرَكُوهُ وَانْحَرَفُوا وَإِنَّ بُرْمَتَنَا لَتَغِطُّ كَمَا هِيَ وَإِنَّ عَجِينَتَنَا - أَوْ كَمَا قَالَ الضَّحَّاكُ - لَتُخْبَزُ كَمَا هُوَ .
#5316
Anas b. Malik reported that Abu Talha said to Umm Sulaim:I felt some feebleness in the voice of Allah's Messenger (ﷺ) and perceived that it was due to hunger; so have you anything with you? She said: Yes. She brought out barley loaves, then took out a head-covering of hers, in a part of which she wrapped those loaves and then put them beneath my mantle and covered me with a part of it. She then sent me to Allah's Messenger (ﷺ). I set forth and found Allah's Messenger (ﷺ) sitting in the mosque in the company of some persons. I stood near them, whereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: Has Abu Talha sent you? I said, Yes. He said: Is it for a feast? I said. Yes. Thereupon Allah's messenger (ﷺ) said to'those who were with him to get up He went forth and so I did before them, until I came to Abu Talha and informed him. Abu Talba said: Umm Sulaim, here comes Allah's Messenger (ﷺ) along with people and we do not have enough (food) to feed them. She said: Allah and His Messenger know best. Abu Talha went out (to receive him) Until he met Allah's Messenger (ﷺ) and Allah's Apostle (ﷺ) came forward along with him until they both (Allah's Messenger, along with Abu Talha) came in. Then Allah's Messenger (ﷺ) said: Umm Sulaim. bring forth that which you have with you. She brought the bread. Allah's Messenger (ﷺ) commanded that the bread be broken into small pieces, and when Umm Sulaim had squeezed a small waterskin and put seasoning on it, Allah's Messenger (ﷺ) recited something regarding it what Allah wished him to say. He then said: Allow ten (guests to come in and have their meals). He permitted them; they ate until they had their fill. They then went out. He (the Holy Prophet) again said: Permit ten (more) and he (the host gave permission to them. They ate until they had enough. Then they went out. he again said: Permit ten (more) until all the people had eaten to their fill, and they were seventy or eighty persons
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے کہا کہ انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : حضرت ابو طلحۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سنی ہے کمزورتھی ۔ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھوک لگی ہے ۔ کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے؟انھوں نے کہا : ہاں ، پھر انھوں نے جو کی کچھ روٹیاں نکالیں ، پھر اپنی اوڑھنی لی اس کے ایک حصے میں روٹیاں لپیٹیں ، پھر ان کو میرے کپڑوں کےنیچے چھپاد یا اور اس ( اوڑھنی ) کا بقیہ حصہ چادر کی طرح میرے اوپر ڈال دیا ، پھر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیج دیا ۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں ان روٹیوں کو لے کر گیا ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں بیٹھے پایا اور آپ کےساتھ دوسرے لوگ موجود تھے ، میں ان کے پا کھڑا ہوگیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تمھیں ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھیجا ہے؟ "" میں نے عرض کی : جی ہاں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" کیا کھانے کے لئے؟ "" میں نے کہا : جی ہاں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ا پنے ساتھیوں سے کہا "" چلو "" حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے اور میں ا ن کے آگے آگے چل پڑا ، یہاں تک کہ میں حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا اور ان کو بتایا ۔ حضرت ابو طلحۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہنے لگے : ام سلیم!رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( باقی ) لوگوں سمیت آگئے ہیں ، اور ہمارے پاس اتنا ( کھانا ) نہیں ہے کہ ان کو کھلا سکیں ۔ انھوں نے کہا : اللہ اور اسکا رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ جاننے والے ہیں ۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : پھر حضرت ابو طلحۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ آگے بڑھے اور ( جاکر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کےساتھ آئے اور وہ دونوں گھر میں داخل ہوگئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" ام سلیم!جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ لے آؤ ۔ "" وہ یہی روٹیاں لے آئیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں حکم دیا ، ان ( روٹیوں ) کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کردیئے گئے ۔ ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ا پنا گھی کا کپہ ( چمڑے کا گول برتن ) ان ( روٹیوں ) پر نچوڑ کر سالن شامل کردیا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں جو کچھ اللہ نے چاہا پڑھا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : "" دس آدمیوں کو آنے کی اجازت دو ۔ "" انھوں ( ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے دس آدمیوں کو اجازت دی ، انھوں نے کھانا کھایا حتیٰ کہ سیر ہوگئے اور باہر چلے گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا : "" دس آدمیوں کو اجازت دو ۔ "" انھوں نے اجازت دی ، ان سب نے کھایا سیر ہوگئے اور باہر چلے گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا : "" دس آدمیوں کو اجازت دو "" یہاں تک کہ سب لوگوں نے کھا لیا اورسیر ہوگئے ۔ وہ ستر یا اسی لوگ تھے ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ، اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ قَالَ أَبُو طَلْحَةَ لأُمِّ سُلَيْمٍ قَدْ سَمِعْتُ صَوْتَ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ضَعِيفًا أَعْرِفُ فِيهِ الْجُوعَ فَهَلْ عِنْدَكِ مِنْ شَىْءٍ فَقَالَتْ نَعَمْ . فَأَخْرَجَتْ أَقْرَاصًا مِنْ شَعِيرٍ ثُمَّ أَخَذَتْ خِمَارًا لَهَا فَلَفَّتِ الْخُبْزَ بِبَعْضِهِ ثُمَّ دَسَّتْهُ تَحْتَ ثَوْبِي وَرَدَّتْنِي بِبَعْضِهِ ثُمَّ أَرْسَلَتْنِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَذَهَبْتُ بِهِ فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ وَمَعَهُ النَّاسُ فَقُمْتُ عَلَيْهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَرْسَلَكَ أَبُو طَلْحَةَ " . قَالَ فَقُلْتُ نَعَمْ . فَقَالَ " أَلِطَعَامٍ " . فَقُلْتُ نَعَمْ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِمَنْ مَعَهُ " قُومُوا " . قَالَ فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْتُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ حَتَّى جِئْتُ أَبَا طَلْحَةَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ قَدْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالنَّاسِ وَلَيْسَ عِنْدَنَا مَا نُطْعِمُهُمْ فَقَالَتِ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ - قَالَ - فَانْطَلَقَ أَبُو طَلْحَةَ حَتَّى لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَعَهُ حَتَّى دَخَلاَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَلُمِّي مَا عِنْدَكِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ " . فَأَتَتْ بِذَلِكَ الْخُبْزِ فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَفُتَّ وَعَصَرَتْ عَلَيْهِ أُمُّ سُلَيْمٍ عُكَّةً لَهَا فَأَدَمَتْهُ ثُمَّ قَالَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ ثُمَّ قَالَ " ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ " . فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا ثُمَّ قَالَ " ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ " . فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا ثُمَّ قَالَ " ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ " . حَتَّى أَكَلَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ وَشَبِعُوا وَالْقَوْمُ سَبْعُونَ رَجُلاً أَوْ ثَمَانُونَ .
#5317
Anas b. Malik reported:Abu Talha sent me to Allah's Messenger (ﷺ) in order to invite him (for meal). She had prepared a meal. So I came and found Allah's Messenger (ﷺ) along with some people. He looked at me, and I felt shy and said: Accept the invitation of Abu Talha. He (the Holy Prophet) asked the people to get up. Thereupon Abu Talha said: Allah's Messenger, I have prepared something for you. Allah's Messenger (ﷺ) touched (the food) and invoked blessings upon it, and then said: Let ten persons from my Companions enter (the house). He then said: Eat, and (in the meanwhile) brought out something from between his fingers for them. They then began to eat until they had their fill and then went out. He then asked ten more men (to have the meal) and they ate to their fill, and the ten persons went on getting in (and eating the food) and then getting out until none was left amongst them who had not got in and eaten to his fill. He then collected (the remaining part of the food) and it (the quantity of the food) was the same (as it had been prior to the serving of guests)
عبداللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں سعد بن سعید نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث سنائی ، کہا : مجھے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلانے کے لئے آپ کے پاس بھیجا ، انھوں نے کھانا تیار کیاتھا ۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےکہا : میں آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ۔ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف دیکھا تو مجھے شرم آئی ، میں نے کہا : " حضرت ابو طلحۃ کی دعوت قبول فرمائیے ۔ " اس پر آپ نے لوگوں سےکہا؛ " اٹھو ۔ " حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے تو آپ کے لئے ( کھانے کی ) کچھ تھوڑی سی چیز تیار کی ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کھانے کو چھوا اور اس میں برکت کی دعا کی ، پھرفرمایا : " میرے ساتھیوں میں سے دس کو اندرلاؤ " اور ( ان سے ) فرمایا : " کھاؤ " اور آپ نے ان کے لئے اپنی انگلیوں کے درمیان سے کچھ نکالا تھا ( برکت شامل کی تھی ) ، سو انھوں نے کھایا ، سیر ہوگئے ، اور باہر چلے گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " دس آدمیوں کو اندر لاؤ ۔ " پھر انھوں نے کھایا ، سیر ہوگئے اور چلے گئے ، وہ دس دس کو اندر لاتے اور دس دس کو باہر بھیجتے رہے ، یہاں تک کہ ان میں سےکوئی باقی نہ بچا مگر سب نے کھا لیا اور سیر ہوگئے ، پھر اس کو سمیٹا تو وہ اتنا ہی تھا جتنا ان کے کھانے ( کے آغاز ) کے وقت تھا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ بَعَثَنِي أَبُو طَلْحَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأَدْعُوَهُ وَقَدْ جَعَلَ طَعَامًا - قَالَ - فَأَقْبَلْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَعَ النَّاسِ فَنَظَرَ إِلَىَّ فَاسْتَحْيَيْتُ فَقُلْتُ أَجِبْ أَبَا طَلْحَةَ . فَقَالَ لِلنَّاسِ " قُومُوا " . فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا صَنَعْتُ لَكَ شَيْئًا - قَالَ - فَمَسَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَدَعَا فِيهَا بِالْبَرَكَةِ ثُمَّ قَالَ " أَدْخِلْ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِي عَشَرَةً " . وَقَالَ " كُلُوا " . وَأَخْرَجَ لَهُمْ شَيْئًا مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا فَخَرَجُوا فَقَالَ " أَدْخِلْ عَشَرَةً " . فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا . فَمَا زَالَ يُدْخِلُ عَشَرَةً وَيُخْرِجُ عَشَرَةً حَتَّى لَمْ يَبْقَ مِنْهُمْ أَحَدٌ إِلاَّ دَخَلَ فَأَكَلَ حَتَّى شَبِعَ ثُمَّ هَيَّأَهَا فَإِذَا هِيَ مِثْلُهَا حِينَ أَكَلُوا مِنْهَا .
#5318
Anas b Malik reported:Abu Talha sent me to Allah's Messenger (ﷺ) ; the rest of the hadith is the same, but 'there is a slight variation of wording that he said at the end (The Holy Prophet) took what was left (of the food) and collected it and then invoked blessings upon it and it returned to its original state. He (the Holy Prophet) then said Take this
یحییٰ بن سعید اموی نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں میرے والد نے حدیث سنا ئی کہا : ہمیں سعد بن سعید نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے انس بن ما لک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، انھوں نے کہا : مجھے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا پھر ابن نمیر کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی ، مگر انھوں نے اس کے آخر میں یوں کہا : جو بچا تھا آپ نے اسے لے کر اکٹھا کیا پھر اس میں بر کت کی دعا کی کہا : تو وہ ( پھر سے ) اتنا ہی ہو گیا : جتنا تھا پھر فرما یا : " تمھارے لیے ہے ۔ " ( آپ نے کھا نے کے آغاز میں بھی برکت کی دعا کی اور آخر میں بھی ۔)
وَحَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الأُمَوِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ بَعَثَنِي أَبُو طَلْحَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فِي آخِرِهِ ثُمَّ أَخَذَ مَا بَقِيَ فَجَمَعَهُ ثُمَّ دَعَا فِيهِ بِالْبَرَكَةِ - قَالَ - فَعَادَ كَمَا كَانَ فَقَالَ " دُونَكُمْ هَذَا " .
#5319
Anas b. Malik reported:Abu Talha ordered Umm Sulaim to prepare a meal specially for Allah's Apostle (ﷺ). He then sent me to him (to the Holy Prophet) ; the rest of the hadith is the same (but there is a slight variation of wording):" Allah's Messenger (ﷺ) placed his hand and mentioned the name of Allah upon that, and then said: Admit ten men. He (Abu Talha) admitted them and they got in. He (the Holy Prophet) said: Eat while mentioning the name of Allah upon it (the meal). They ate until eighty persons had taken the food. Then Allah's Apostle (ﷺ) had his meal and so the members of the household, and still they left some food
عبد الرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا کہ وہ خا ص طور پر صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھا نا تیار کردے پھر مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجا گیا اس کے بعد حدیث بیان کی اور اس میں یہ ( بھی ) کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ( کھانے پر ) اپنا ہاتھ رکھا اور اس پر بسم اللہ پڑھی پھر فرما یا : " دس آدمیوں کو اندر آنے کی ) اجازت دو " انھوں نے دس آدمیوں کو اجازت دی وہ اندر آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا " بسم اللہ پڑھو اور کھا ؤ " تو ان لو گوں نے کھا یا حتی کہ اسی آدمیوں کے ساتھ ایسا ہی کیا ( دس دس کواندر بلا یا بسم اللہ پڑھ کر کھا نے کو کہا ۔ ) اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور گھر والوں نے کھا یا اور ( پھر بھی ) انھوں نے کھا نا بچا دیا ۔
وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ أَمَرَ أَبُو طَلْحَةَ أُمَّ سُلَيْمٍ أَنْ تَصْنَعَ، لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم طَعَامًا لِنَفْسِهِ خَاصَّةً ثُمَّ أَرْسَلَنِي إِلَيْهِ . وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ فَوَضَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَدَهُ وَسَمَّى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ " ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ " . فَأَذِنَ لَهُمْ فَدَخَلُوا فَقَالَ " كُلُوا وَسَمُّوا اللَّهَ " . فَأَكَلُوا حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ بِثَمَانِينَ رَجُلاً . ثُمَّ أَكَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ ذَلِكَ وَأَهْلُ الْبَيْتِ وَتَرَكُوا سُؤْرًا .
#5320
Anas b. Malik reported this incident pertaining to the feast given by Abu Talha to Allah's Apostle (ﷺ) with the addition of these words:" Abu Talha stood at the door (to welcome the honourable guest) until Allah's Messenger (may peacec be upon him) came there, He (Abu Talha) said to him: Allah's Messenger, the thing (we intend to offer you as a meal) is small in quantity. Thereupon he (the Holy Prophet) said: Bring that, for Allah will soon bless it (and increase it)
یحییٰ ( مازنی ) نے حضرت انس بن ما لک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کھا نے کا یہی قصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالےسے بیان کیا اور اس میں کہا : حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ دروازے پر کھڑے ہو گئے ۔ یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا ئے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم !صرف تھوڑا ساکھانا تھا آپ نے فرما یا : " لے آؤ اللہ تعا لیٰ عنقریب اس میں برکت ڈال دے گا ۔
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، . بِهَذِهِ الْقِصَّةِ فِي طَعَامِ أَبِي طَلْحَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ فِيهِ فَقَامَ أَبُو طَلْحَةَ عَلَى الْبَابِ حَتَّى أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا كَانَ شَىْءٌ يَسِيرٌ . قَالَ " هَلُمَّهُ فَإِنَّ اللَّهَ سَيَجْعَلُ فِيهِ الْبَرَكَةَ " .
#5321
Anas b. Malik reported this hadith (with a slight variation of wording) Then AlIah's Messenger (ﷺ) ate and the people of his house also ate. but (still) there was left a surplus, which they sent to their neighbours
عبد اللہ بن عبد اللہ بن ابی طلحہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی اور اس میں کہا : پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تنا ول فرما یا اور گھر والوں نے کھا یا اور اتنا بچا دیا جو انھوں نے پڑوسیوں کو ( بھی ) بھجوادیا ۔
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ الْبَجَلِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْحَدِيثِ وَقَالَ فِيهِ ثُمَّ أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَكَلَ أَهْلُ الْبَيْتِ وَأَفْضَلُوا مَا أَبْلَغُوا جِيرَانَهُمْ .
#5322
Anas b. Malik reported:Abu Talha saw Allah's Messenger (ﷺ) lying down upon his belly in the mosque. He came to Umm Sulaim and said: I saw Allah's Messenger (ﷺ) lying down upon the belly in the mosque, and I think he is hungry. The rest of the hadith is the same (but with the addition of these words) that Allah's messenger (ﷺ) ate (the food) and so did Abu Talha, Umm Sulaim and Anas b. Malik, but there was left some. thing which we presented to our neighbours
عمرو بن عبد اللہ بن ابی طلحہ نے حضرت انس بن ما لک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں لیٹے ہو ئے دیکھا آپ پیٹھ اور پیٹ کے بل کروٹیں لے رہے تھے ۔ پھر وہ حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس آئے اور کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں لیٹے ہو ئے دیکھا ہے آپ پیٹھ سے پیٹ کے بل کروٹیں لے رہے تھے اور میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھوکے ہیں اور ( ساری ) حدیث بیان کی اور اس میں یہ کہا : پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو طلحہ حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کھا نا کھا یا اور کچھ کھا نا بچ گیا جو ہم نے اپنے پڑوسیوں کو ہدیہ کردیا ۔
وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، سَمِعْتُ جَرِيرَ بْنَ زَيْدٍ، يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ رَأَى أَبُو طَلْحَةَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُضْطَجِعًا فِي الْمَسْجِدِ يَتَقَلَّبُ ظَهْرًا لِبَطْنٍ فَأَتَى أُمَّ سُلَيْمٍ فَقَالَ إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُضْطَجِعًا فِي الْمَسْجِدِ يَتَقَلَّبُ ظَهْرًا لِبَطْنٍ وَأَظُنُّهُ جَائِعًا . وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ ثُمَّ أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو طَلْحَةَ وَأُمُّ سُلَيْمٍ وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ وَفَضَلَتْ فَضْلَةٌ فَأَهْدَيْنَاهُ لِجِيرَانِنَا .
#5323
Anas b. Malik reported:I visited Allah's Messenger (ﷺ) one day and found him sitting in the company of his Companions and talking to them, and he had tied his belly with a bandage. Usama said: I am in doubt whether there was stone on that (his belly) or not. I asked some of his Companions why Allah's Messenger (ﷺ) had bandaged his belly. They said: (He has done that to relieve) his hunger. I went to Abu Talha, the husband of Umm Sulaim, the daughter of Milhan, and said to him: Father, I saw Allah's Messenger (ﷺ) having bandaged his belly. I asked some of his Companions (the reason of it) and they said that it was due to hunger. Abu Talha came to mv mother and said: Is there anything? She said: Yes, I have some pieces of bread with me and some dates. If Allah's Messenger (ﷺ) comes to us alone we can feed him to his fill, but if someone comes along with him this would be insufficient for them. The rest of the hadith is the same
اسامہ نے بتا یا کہ یعقوب بن عبد اللہ بن ابی طلحہ نے انھیں حدیث بیان کی کہ انھوں نے حضرت انس بن ما لک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا کہہ رہے تھے ۔ ایک دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضرہوا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجدمیں اپنے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھے ہو ئے ان سے باتیں کرتے ہو ئے پایا ۔ آپ نے بطن مبا رک پر ایک پتھر کو ایک چوڑی سی پٹی سے باندھ رکھا تھا ۔ ۔ ۔ اسامہ نے کہا : مجھے شک ہے ( کہ یعقوب نے " پتھر " کا لفظ بولا یا نہیں ) ۔ ۔ ۔ میں نے آپ کے ایک ساتھی سے پو چھا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بطن کو کیوں باندھ رکھاہے؟ لوگوں نے بتا یا : بھوک کی بنا پر ۔ پھر میں ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گیا وہ ( میری والدہ ) حضرت ام سلیم بنت ملحان رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے خاوندتھے میں نے ان سے کہا : اباجا ن !میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ نے پیٹ پر پٹی باندھ رکھی ہے میں نے آپ کے بعض صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین سے پو چھا : اس کا کیا سبب ہے؟ انھوں نے کہا بھوک ۔ پھر حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ میری ماں کے پاس گئےاور پوچھا : کہ کو ئی چیز ہے؟ انھوں نے کہا : ہاں میرے پاس روٹی کے ٹکڑے اور کچھ کھجوریں ہیں اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے ہمارے پاس تشریف لے آئیں تو ہم آپ کو سیر کر کے کھلا دیں گے ۔ اور اگر کو ئی اور بھی آپ کے ساتھ آیا تو یہ کھانا کم ہو گا پھر باقی ساری حدیث بیان کی ۔
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ، أَنَّحَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا فَوَجَدْتُهُ جَالِسًا مَعَ أَصْحَابِهِ يُحَدِّثُهُمْ وَقَدْ عَصَّبَ بَطْنَهُ بِعِصَابَةٍ - قَالَ أُسَامَةُ وَأَنَا أَشُكُّ - عَلَى حَجَرٍ فَقُلْتُ لِبَعْضِ أَصْحَابِهِ لِمَ عَصَّبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَطْنَهُ فَقَالُوا مِنَ الْجُوعِ . فَذَهَبْتُ إِلَى أَبِي طَلْحَةَ وَهُوَ زَوْجُ أُمِّ سُلَيْمٍ بِنْتِ مِلْحَانَ فَقُلْتُ يَا أَبَتَاهُ قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَصَّبَ بَطْنَهُ بِعِصَابَةٍ فَسَأَلْتُ بَعْضَ أَصْحَابِهِ فَقَالُوا مِنَ الْجُوعِ . فَدَخَلَ أَبُو طَلْحَةَ عَلَى أُمِّي فَقَالَ هَلْ مِنْ شَىْءٍ فَقَالَتْ نَعَمْ عِنْدِي كِسَرٌ مِنْ خُبْزٍ وَتَمَرَاتٌ فَإِنْ جَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَحْدَهُ أَشْبَعْنَاهُ وَإِنْ جَاءَ آخَرُ مَعَهُ قَلَّ عَنْهُمْ . ثُمَّ ذَكَرَ سَائِرَ الْحَدِيثِ بِقِصَّتِهِ .
#5324
Anas b. Malik reported this hadith pertaining to the entertainment of Allah's Messenger (ﷺ) by Abu Talha through another chain of transmitters
نضر بن انس نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کھا نے کے بارے میں ان سب کی حدیث کے مطا بق روایت کیا ۔
وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي طَعَامِ أَبِي طَلْحَةَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ .