#5025
Asma' reported:We slaughtered a horse and ate it during the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ)
عبد اللہ بن نمیر ، حفص بن غیاث اور وکیع نے ہشام سے ، انھوں نے ( اپنی اہلیہ ) فاطمہ سے ، انھوں نے ( اپنی دادی ) حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ہم نے ایک گھوڑا ذبح کیا اور اسے ( پکا کر ) کھا یا ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، وَوَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتْ نَحَرْنَا فَرَسًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَكَلْنَاهُ .
#5026
This hadith has been transmitted on the authority of Hisham
ابو معاویہ اور ابو اسامہ دونوں نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ۔
وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ كِلاَهُمَا عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ .
#5027
Ibn 'Umar reported:Allah's Messenger (ﷺ) was asked about the eating of (the flesh) of the lizard, whereupon he said: I am neither the eater of it nor its prohibitor
عبد اللہ بن دینار سے روایت ہے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہو ئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سانڈے کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرما یا : " میں اس کو کھاتا ہو نہ حرام کرتا ہوں ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ سُئِلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الضَّبِّ فَقَالَ " لَسْتُ بِآكِلِهِ وَلاَ مُحَرِّمِهِ " .
#5028
Ibn 'Umar reported:A person asked Allah's Messenger (ﷺ) about the eating of the lizard, whereupon he said. I neither eat it, nor do I prohibit it
لیث نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سانڈا کھا نے کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرما یا : " نہ میں اس کو کھاتا ہوں ، نہ حرا م کرتا ہوں ۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَكْلِ الضَّبِّ فَقَالَ " لاَ آكُلُهُ وَلاَ أُحَرِّمُهُ " .
#5029
Ibn 'Umar reported that a person asked Allah's Messenger (ﷺ) as he was sitting on the pulpit about the eating of the lizard, whereupon he said:I neither eat it, nor do I prohibit it
عبد اللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں عبید اللہ نے حدیث بیان کی ، انھوں نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تھے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سانڈا کھا نے کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرما یا : " میں اس کو کھاتا ہو ں نہ حرا م کرتاہوں ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ عَنْ أَكْلِ الضَّبِّ فَقَالَ " لاَ آكُلُهُ وَلاَ أُحَرِّمُهُ " .
#5030
This hadith has been narrated on the authority of 'Ubaidullah with the same chain of transmitters
یحییٰ نے عبید اللہ سے اسی سند سے اسی کے مانند روایت کی ۔
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، بِمِثْلِهِ فِي هَذَا الإِسْنَادِ .
#5031
A hadith pertaining to the eating of the lizard is transmitted from the Prophet (ﷺ) on the authority of Ibn 'Umar, but in this very hadith narrated through a different chain of transmitters there is a slight variation of wording (and the words are):" A lizard was brought to Allah's Messenger (ﷺ) but he neither ate that nor declared it unlawful." And in the hadith transmitted through Usama (the words are):" The man (inquirer) was standing in the mosque and Allah's Messenger (ﷺ) was sitting on the pulpit
ایوب ، مالک بن مغول ، ابن جریج ، موسیٰ بن عقبہ اور اسامہ سب نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سانڈے کے بارے میں نافع سے روایت کردہ لیث کی حدیث کے ہم معنی روایت بیان کی ، البتہ ایوب کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سانڈا ( پکا کر ) لایا گیا تو آپ نے اسے کھا یا نہ حرام قرار دیا ۔ اسامہ کی حدیث میں کہا : ایک آدمی مسجد میں کھڑا ہوا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تھے ۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو الرَّبِيعِ، وَقُتَيْبَةُ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، كِلاَهُمَا عَنْ أَيُّوبَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، ح وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ، اللَّهِ حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ سَمِعْتُ مُوسَى بْنَ عُقْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ، الأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ، كُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الضَّبِّ بِمَعْنَى حَدِيثِ اللَّيْثِ عَنْ نَافِعٍ غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ أَيُّوبَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِضَبٍّ فَلَمْ يَأْكُلْهُ وَلَمْ يُحَرِّمْهُ وَفِي حَدِيثِ أُسَامَةَ قَالَ قَامَ رَجُلٌ فِي الْمَسْجِدِ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْمِنْبَرِ .
#5032
Ibn 'Umar reported that there were some persons with Allah's Apostle (ﷺ) from among his Companions, Sa'd being one of them. There was brought to them the flesh of the lizard when a lady amongst the wives of Allah's Apostle (ﷺ) said:It is the flesh of the lizard. Thereupon Allah's Messenger (way peace be upon him) said: Eat, for it is lawful, but it is not my diet
عبید اللہ کے والد معاذ نے کہا : ہمیں شعبہ نے تو بہ عنبری سے حدیث بیان کی ، انھوں نے شعبی سے سنا ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے کچھ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین تھے ۔ ان میں حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے ۔ اتنے میں سانڈے کا گو شت لا یا گیا : اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زوجہ نے یہ آواز دی کہ یہ سانڈے کا گوشت ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " کھاؤ ، بلا شبہ حلال ہے لیکن یہ میرے کھانے میں ( شامل ) نہیں ۔
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ تَوْبَةَ الْعَنْبَرِيِّ، سَمِعَ الشَّعْبِيَّ، سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ مَعَهُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فِيهِمْ سَعْدٌ وَأُتُوا بِلَحْمِ ضَبٍّ فَنَادَتِ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَاءِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِنَّهُ لَحْمُ ضَبٍّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كُلُوا فَإِنَّهُ حَلاَلٌ وَلَكِنَّهُ لَيْسَ مِنْ طَعَامِي " .
#5033
Taubat Al-'Anbari reported:Al-Sha'bi (one of the narrators) asked me if I had heard the hadith transmitted on the authority of Hasan from the Prophet (ﷺ). He said: I sat in the company if Ibn 'Umar for two years or a year and a half but I did not hear narrated from Allah's Apostle (ﷺ) but this one (pertaining to the flesh of the lizard) as narrated by Mu'adh
محمدبن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے تو بہ عنبری سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : شعبی نے مجھ سے کہا : تم حسن ( بصری ) کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کردہ ( مرسل ) حدیث دیکھی ( سنی اور لکھی ہو ئی دیکھی ، اور اس کے مرسل ہونے پر غور کیا؟ ) میں تو حضرت ابن معر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ڈیڑھ یا دوسال تک ( اٹھتا ) بیٹھتا رہا لیکن میں نے انھیں اس حدیث کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کو ئی اور حدیث روایت کرتے ہو ئے نہیں سنا ۔ انھوں نے ( اس طرح ) کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین میں سے بہت سے لو گ ( مو جودتھے ) ان میں سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی شامل تھے ۔ معاذ کی حدیث کے مانند ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ تَوْبَةَ الْعَنْبَرِيِّ، قَالَ قَالَ لِي الشَّعْبِيُّ أَرَأَيْتَ حَدِيثَ الْحَسَنِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَقَاعَدْتُ ابْنَ عُمَرَ قَرِيبًا مِنْ سَنَتَيْنِ أَوْ سَنَةٍ وَنِصْفٍ فَلَمْ أَسْمَعْهُ رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم غَيْرَ هَذَا قَالَ كَانَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِيهِمْ سَعْدٌ بِمِثْلِ حَدِيثِ مُعَاذٍ .
#5034
Abdullah b. 'Abbas reported:I and Khalid b. Walid went to the apartment of Maimuna along with Allah's Messenger (ﷺ), and there was presented to him a roasted lizard. Allah's Messenger (ﷺ) stretched his hand towards It, whereupon some of the women who had been in the house of Maimuna said: Inform Allah's Messenger (ﷺ) what he intends to eat. Allah's Messenger (ﷺ) lifted his hand. I said: Messenger of Allah, Is it forbidden? He said: No. It is not found in the land of my people, and I feel that I have no liking for it. Khalid said: I then chewed and ate it, while, Allah's Messenger (ﷺ) was looking (at me)
امام مالک نے ابن شہاب سے انھوں نے ابو امامہ بن سہل بن حنیف سے ، انھوں نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ میں اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر گئے ، اتنے میں ایک بھنا ہوا سانڈا لا یا گیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف ہاتھ بڑھانے کا قصد کیا ، حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر جو عورتیں تھیں ۔ ان میں سے کسی نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو چیز کھانے لگے ہیں وہ آپ کو بتا دو ، ( یہ سنتے ہی ) آپ نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا ۔ میں نے پوچھا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا یہ حرا م ہے؟ آپ نے فر ما یا : "" نہیں لیکن یہ ( جا نور ) میری قوم کی سر زمین میں نہیں ہو تا ، اس لیے میں خود کو اس سے کرا ہت کرتے ہو ئے پاتا ہوں ۔ "" حضرت خالد ( بن ولید ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : پھر میں نے اس کو ( اپنی طرف ) کھینچا اور کھا لیا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ رہے تھے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْتَ مَيْمُونَةَ فَأُتِيَ بِضَبٍّ مَحْنُوذٍ فَأَهْوَى إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ فَقَالَ بَعْضُ النِّسْوَةِ اللاَّتِي فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ أَخْبِرُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَا يُرِيدُ أَنْ يَأْكُلَ . فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَهُ فَقُلْتُ أَحَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " لاَ وَلَكِنَّهُ لَمْ يَكُنْ بِأَرْضِ قَوْمِي فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ " . قَالَ خَالِدٌ فَاجْتَرَرْتُهُ فَأَكَلْتُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْظُرُ .
#5035
Abdullah b. 'Abbas reported that Khalid b. Walid who is called the Sword of Allah had informed him that he visited Maimuna, the wife of Allah's Apostle (ﷺ), in the company of Allah's Messenger (ﷺ), and she was the sister of his mother (that of Khalid) and that of 'Ibn Abbas, and he found with her a roasted lizard which her sister Hufaida the daughter of al-Harith had brought from Najd, and she presented that lizard to Allah's Messenger (ﷺ). It was rare that some food was presented to the Prophet (ﷺ) and it was not mentioned or named. While Allah's Messenger (ﷺ) was about to stretch forth his hand towards the lizard, a woman from amongst the women present there informed the Messenger of Allah (ﷺ) what they had presented to him. They said:Messenger of Allah, it is a lizard. Allah's Messenger (ﷺ) withdrew his hand, whereupon Khalid b. Walid said: Messenger of Allah, is a lizard forbidden? There opon he said: No, but it is not found in the land of my people, and I feel that I have no liking for it. Khalid said: I then chewed and ate it, and Allah's Messenger (ﷺ) was looking at me and he did not forbid (me to eat it)
یو نس نے ابن شہاب سے ، انھوں نے ابو امامہ بن سہل بن حنیف انصاری سے روایت کی کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں بتا یا کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جنھیں سیف اللہ کہا جا تا ہے ، انھیں خبر دی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمرا ہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں گئے وہ ان ( حضرت خالد ) اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خالہ تھیں ۔ ان کے ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بھنا ہوا سانڈا دیکھا جو ان کی بہن حفیدہ بنت حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہا نجد سے لا ئی تھیں ۔ انھوں نے وہ سانڈا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا ، ایسا کم ہو تا کہ آپ کسی کھانے کی طرف ہاتھ بڑھا تے یہاں تک کہ آپ کو اس کے بارے میں بتا یا جا تا اور آپ کے سامنے اس کا نام لیا جا تا ۔ ( اس روز ) آپ نے سانڈے کی طرف ہاتھ بڑھانا چا ہا تو وہاں مو جود خواتین میں سے ایک خاتون نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتاؤ کہ آپ لوگوں نے انھیں کیا پیش کیا ہے ۔ تو انھوں نے کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ سانڈا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہا تھ اوپر کر لیا تو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پو چھا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا سانڈا حرام ہے؟ آپ نے فر ما یا : "" نہیں لیکن یہ میری قوم کے علاقے میں نہیں ہو تا ، میں خود کو اس سے کرا ہت کرتے ہو ئے پا تا ہوں ۔ حضرت خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : پھر میں نے اس کو ( اپنی طرف ) کھینچا اور کھا لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ رہے تھے لیکن آپ نے مجھے منع نہیں فر ما یا ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ حَرْمَلَةُ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ، بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ الَّذِي يُقَالُ لَهُ سَيْفُ اللَّهِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهِيَ خَالَتُهُ وَخَالَةُ ابْنِ عَبَّاسٍ فَوَجَدَ عِنْدَهَا ضَبًّا مَحْنُوذًا قَدِمَتْ بِهِ أُخْتُهَا حُفَيْدَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ مِنْ نَجْدٍ فَقَدَّمَتِ الضَّبَّ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَانَ قَلَّمَا يُقَدَّمُ إِلَيْهِ طَعَامٌ حَتَّى يُحَدَّثَ بِهِ وَيُسَمَّى لَهُ فَأَهْوَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَهُ إِلَى الضَّبِّ فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنَ النِّسْوَةِ الْحُضُورِ أَخْبِرْنَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَا قَدَّمْتُنَّ لَهُ . قُلْنَ هُوَ الضَّبُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَهُ فَقَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ أَحَرَامٌ الضَّبُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " لاَ وَلَكِنَّهُ لَمْ يَكُنْ بِأَرْضِ قَوْمِي فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ " . قَالَ خَالِدٌ فَاجْتَرَرْتُهُ فَأَكَلْتُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْظُرُ فَلَمْ يَنْهَنِي .
#5036
Khalid b. Walid reported that he visited Maimuna daughter of al-Harith with the Messenger of Allah (ﷺ), and she was the sister of his mother. She presented to Allah's Messenger (ﷺ) the flesh of a lizard which Umm Hufaid daughter of al-Harith had brought from Najd, and she had been married to a person belonging to Banu Ja'far. It was the habit of Allah's Messenger (ﷺ) not to eat anything until he knew what that was. The rest of the hadith is the same but with this (addition):" Ibn al-Asamm narrated it from Maimuna and he was under her care
صالح بن کیسان نے ابن شہاب سے ، انھوں نے ابو امامہ بن سہل سے ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے ان سے بیان کیا کہ انھیں خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خبر دی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمرا ہ حضرت میمونہ بنت حا رث رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہا ں گئے ، وہ ان کی خالہ تھیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سانڈے کا گو شت پیش کیا گیا ، اسے ام حفید بنت حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہا نجد سے لا ئی تھیں ، یہ نبو جعفر کے ایک شخص کے نکاح میں تھیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک کو ئی چیز تناول نہ فر ما تے تھے ۔ جب تک کہ آپ کو معلوم نہ ہو جائے کہ وہ کیا ہے ۔ پھر انھوں نے یونس کی حدیث کی طرح بیان کیا اور حدیث کے آخر میں اضا فہ کیا اور انھیں ( یزید ) ابن اصم نے ( بھی ) حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ( یہی ) حدیث سنائی ، انھوں نے ان ( میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) کے ہاں پرورش پا ئی ۔ ( ان کی والدہ برزہ بنت حارث ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بہن تھیں ۔)
وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنِي وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي، أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ وَهْىَ خَالَتُهُ فَقُدِّمَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَحْمُ ضَبٍّ جَاءَتْ بِهِ أُمُّ حُفَيْدٍ بِنْتُ الْحَارِثِ مِنْ نَجْدٍ وَكَانَتْ تَحْتَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي جَعْفَرٍ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ يَأْكُلُ شَيْئًا حَتَّى يَعْلَمَ مَا هُوَ . ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ وَزَادَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ وَحَدَّثَهُ ابْنُ الأَصَمِّ عَنْ مَيْمُونَةَ وَكَانَ فِي حَجْرِهَا .
#5037
Ibn 'Abbas reported:While we were in the house of Maimuna there were brought to Allah's Messenger two roasted lizards. Here no mention is made of al- 'Asamm narrating from Maimuna
معمر نے زہری سے ، انھوں نے ابو امامہ بن سہل بن حنیف سے ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دوبھنے ہو ئے سانڈے پیش کیے گئے جبکہ ہم سب حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں مو جو دتھے ان سب کی حدیث کے مانند انھوں نے ( معمر ) نے حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کردہ یزید بن اصم کی حدیث کا ذکر نہیں کیا ۔
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي، أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ بِضَبَّيْنِ مَشْوِيَّيْنِ . بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ وَلَمْ يَذْكُرْ يَزِيدَ بْنَ الأَصَمِّ عَنْ مَيْمُونَةَ .
#5038
Ibn 'Abbas reported that there had been brought to Allah's Messenger (ﷺ) the flesh of a lizard and Khalid b. Walid was also present there. The rest of the hadith is the same
ابن منکدر سے روایت ہے کہ ابو امامہ بن سہل نے انھیں بتا یا کہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سانڈے کا گوشت لا یا گیا ، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر تشریف فر ما تے اور ان کے ساتھ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی مو جود تھے پھر زہری کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی ۔
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ، يَزِيدَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي هِلاَلٍ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلٍ، أَخْبَرَهُ عَنِ ابْنِ، عَبَّاسٍ قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ وَعِنْدَهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ بِلَحْمِ ضَبٍّ . فَذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ .
#5039
Sa'id b. Jubair reported that he heard Ibn 'Abbas says:The sister of my mother Umm Hufaid presented to Allah's Messenger (ﷺ) clarified butter (ghee), cheese and some lizards. He ate out of the clarified butter and cheese, but left the lizard finding no liking for it. But it was eaten on the table of Allah's Messenger (ﷺ). Had it been forbidden (haram), it could not be eaten on the table of Allah's Messenger (ﷺ)
سعید بن جبیر نے کہا : میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میری خالہ ام حفید رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گھی پنیر اور سانڈے ہدیہ کیے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھی اور پنیر میں سے تناول فر ما یا اور سانڈے کو کراہت محسوس کرتے ہو ئے چھوڑدیا ۔ یہ ( سانڈ ا ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دسترخوان پر کھا یا گیا ۔ اگر یہ حرام ہو تا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دسترخوان پر نہ کھا یا جا تا ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ قَالَ ابْنُ نَافِعٍ أَخْبَرَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ أَهْدَتْ خَالَتِي أُمُّ حُفَيْدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَمْنًا وَأَقِطًا وَأَضُبًّا فَأَكَلَ مِنَ السَّمْنِ وَالأَقِطِ وَتَرَكَ الضَّبَّ تَقَذُّرًا وَأُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَوْ كَانَ حَرَامًا مَا أُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
#5040
Yazid b. al-Asamm reported:A newly wedded person of Medina invited us to a wedding feast, and he served us thirteen lizards. There were those who ate it and those who abandoned it. I met Ibn 'Abbas the next day, and informed him (about this) in the presence of many persons. Some of them said that the Messenger of Allah (ﷺ) had observed: I neither eat it nor forbid (anyone) from eating it, nor declare it to be unlawful. Thereupon Ibn 'Abbas said: Sad it is what you say! Allah's Apostle (ﷺ) has not been sent, but (to declare in clear words) the lawful and the unlawful (things). We were once with Allah's Messenger (may peace be. upon him) as he was with Maimuna, and there were with him al-Fadl b. 'Abbas, Khalid b. Walid and some women (also) when a tray of food containing flesh was presented to him. As Allah's Apostle (ﷺ) was about to eat that, Maimuna said: It is the flesh of the lizard. He withdrew his hand saying: That is the flesh which I never eat; but he said to them (those who were present there): You may eat. Al-Fadl ate out of that, so did Khalid b Walid, and the women. Maimuna (however) said: I do not eat anything but that which Allah's Messenger (ﷺ) eats
شیبانی نے یزید بن اصم سے روایت کی ، کہا : مدینہ منورہ میں ایک دلھا نے ہماری دعوت کی اور ہمیں تیرہ عدد ( بھنے ہو ئے ) سانڈے پیش کیے ۔ کو ئی ( اس کو ) کھا نے والا تھا کو ئی نہ کھا نے والا ۔ دوسرے دن میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملا اور میں نے ان کو یہ بات بتا ئی ۔ ان کے اردگرد مو جود لوگوں نے بہت سی باتیں کیں حتی کہ کسی نے یہ بھی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا تھا : " میں اسے نہ کھاتا ہوں نہ روکتا ہوں نہ اسے حرام کرتا ہوں ۔ " اس پر حضرت ابن عباس نے کہا : تم لو گوں نے جو کہا ناروا ہے ۔ اللہ تعا لیٰ نے جو نبی بھیجا وہ حلال کرنے والا اور حرام کرنے والا تھا ( حلت و حرمت کے حکم کو واضح کرنے والا تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح تم سمجھ رہے ہو ۔ غیر واضح بات نہیں کرتے تھے ۔ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں تشریف فرما تھے اور آپ کے قریب فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے ۔ ایک اور خاتون بھی مو جود تھی تو ان کے سامنے دسترخوان لا یا گیا جس پر گوشت تھا ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کھانے کا ارادہ کیا تو حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کی : یہ سانڈے کا گو شت ہے آپ نے ہاتھ روک لیا اور فر ما یا : " یہ ایسا گو شت ہے جو میں نے کبھی نہیں کھا یا ۔ " اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فر ما یا : " کھاؤ ۔ سو اس گوشت میں سے فضل خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور اس خاتون نے کھا یا ۔ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : میں تو صرف اس کھا نے میں سے کھا ؤں گی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھا ئیں گے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ، الأَصَمِّ قَالَ دَعَانَا عَرُوسٌ بِالْمَدِينَةِ فَقَرَّبَ إِلَيْنَا ثَلاَثَةَ عَشَرَ ضَبًّا فَآكِلٌ وَتَارِكٌ فَلَقِيتُ ابْنَ عَبَّاسٍ مِنَ الْغَدِ فَأَخْبَرْتُهُ فَأَكْثَرَ الْقَوْمُ حَوْلَهُ حَتَّى قَالَ بَعْضُهُمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ آكُلُهُ وَلاَ أَنْهَى عَنْهُ وَلاَ أُحَرِّمُهُ " . فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ بِئْسَ مَا قُلْتُمْ مَا بُعِثَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ مُحِلاًّ وَمُحَرِّمًا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَمَا هُوَ عِنْدَ مَيْمُونَةَ وَعِنْدَهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَامْرَأَةٌ أُخْرَى إِذْ قُرِّبَ إِلَيْهِمْ خِوَانٌ عَلَيْهِ لَحْمٌ فَلَمَّا أَرَادَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَأْكُلَ قَالَتْ لَهُ مَيْمُونَةُ إِنَّهُ لَحْمُ ضَبٍّ . فَكَفَّ يَدَهُ وَقَالَ " هَذَا لَحْمٌ لَمْ آكُلْهُ قَطُّ " . وَقَالَ لَهُمْ " كُلُوا " . فَأَكَلَ مِنْهُ الْفَضْلُ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَالْمَرْأَةُ . وَقَالَتْ مَيْمُونَةُ لاَ آكُلُ مِنْ شَىْءٍ إِلاَّ شَىْءٌ يَأْكُلُ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
#5041
Abu Zubair reported that he heard Jabir b. 'Abdullah saying that there was presented to Allah's Messenger (the flesh) of the lizard, but he refused to eat that, saying:I do not know; perhaps it (lizard) might (be one of those natives of) the distant past whose (forms) had beer, distorted
ابو زبیر نے حضرت جا بت بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہو ئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سانڈ الا یا گیا ۔ آپ نے اسے کھا نے سے انکا ر کیا اور فرما یا : " میں نہیں جا نتا کہ شاید یہ ( سانڈا بھی ) ان قوموں میں سے ہو جن میں مسخ ہوا تھا ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ، جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِضَبٍّ فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ مِنْهُ وَقَالَ " لاَ أَدْرِي لَعَلَّهُ مِنَ الْقُرُونِ الَّتِي مُسِخَتْ " .
#5042
(Abu Zubair reported:I asked Jabir about ithe eating) of the lizard, whereupon he said: Don't eat that as he (the Holy Prophet) felt disgust. He (the narrator) said that Umar b. al-Khattab reminded: Allah's Apostle (ﷺ) did not declare it to be unlawful. Allah, the Exalted and Majestic, has (made it a source) of benefit for more than one (persons). It is a common diet of the shepherds. Had it been with me, I would have eaten that
ابو زبیر نے کہا : میں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سانڈے کے متعلق سوال کیا ، انھوں نے کہا : اسے مت کھاؤ ۔ اور اس سے اظہار کراہت کیا اور بیان کیا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرام نہیں کیا ۔ بلا شبہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے ( بھی ) کو نفع پہنچاتا ہے ، یہ عام چرواہوں کی غذا ہے ۔ ( حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مزید کہا : ) اگر یہ میرے پاس ہوتا تو میں اسے کھا لیتا ۔
وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا عَنِ الضَّبِّ، فَقَالَ لاَ تَطْعَمُوهُ . وَقَذِرَهُ وَقَالَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لَمْ يُحَرِّمْهُ . إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَنْفَعُ بِهِ غَيْرَ وَاحِدٍ فَإِنَّمَا طَعَامُ عَامَّةِ الرِّعَاءِ مِنْهُ وَلَوْ كَانَ عِنْدِي طَعِمْتُهُ .
#5043
Abu Sa'id reported that a person said:Messenger of Allah, we live in a land abounding in lizards, so what do you command or what verdict you give (about eating of it)? Thereupon he said: It was mentioned to me that a people from among Bani Isra'il were distorted (so there is a likelihood that those people might have been distorted in the shape of lizards). So he neither commanded (us to eat that) nor forbade (us). Abu Sa'id said: After some time Umar said: Allah, the Exalted and Majestic, has made it (a source of) benefit for more than one (person), for it is the common diet of shepherds. Had it been with me, I would have eaten that. Allah's Messenger (ﷺ) disliked it
داود نے ابو نضرہ سے ، انھوں نے حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک شخص نے عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ہم سانڈوں سے بھری ہوئی سرزمین میں رہتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟یا کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کیا فتویٰ دیتے ہیں؟ مجھے بتایاگیا کہ بنو اسرائیل کی ایک امت ( بڑی جماعت ) مسخ کر ( کے رینگنے والے جانوروں میں تبدیل کر ) دی گئی تھی ۔ "" ( اس کے بعد ) آپ نے نہ اجازت دی اور نہ منع فرمایا ۔ حضرت ابوسعید ( خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : پھر بعد کا عہد آیا توحضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اللہ عزوجل اس کے ذریعے سے ایک سے زیادہ لوگوں کو نفع پہنچاتا ہے ۔ یہ عام چرواہوں کی غذا ہے ، اگر یہ میرے پاس ہوتا تو میں اسے کھاتا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو نامرغوب محسوس کیا تھا ۔ ( اسے حرام قرار نہیں دیا تھا ۔)
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضٍ مَضَبَّةٍ فَمَا تَأْمُرُنَا أَوْ فَمَا تُفْتِينَا قَالَ " ذُكِرَ لِي أَنَّ أُمَّةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُسِخَتْ " . فَلَمْ يَأْمُرْ وَلَمْ يَنْهَ . قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ قَالَ عُمَرُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَنْفَعُ بِهِ غَيْرَ وَاحِدٍ وَإِنَّهُ لَطَعَامُ عَامَّةِ هَذِهِ الرِّعَاءِ وَلَوْ كَانَ عِنْدِي لَطَعِمْتُهُ إِنَّمَا عَافَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
#5044
Abu Sa'id reported that an Arab of the desert came to Allah's Messenger (ﷺ) and said:I live in a low land abounding in lizards, and these are the common diet of my family, but he (the Holy Prophet) did not make any reply. We said to him: Repeat it (your problem) and so he repeated it, but he did not make any reply. (It was repeated thrice ) Then Allah's Messenger (ﷺ) called him out at the third time saying: O man of the desert, verily Allah cursed or showed wrath to a tribe of Bani Isra'il and distorted them to beasts which move on the earth. I do not know, perhaps this (lizard) may be one of them. So I do not eat it, nor do I prohibit the eating of it
ابوعقیل دورقی نے کہا : ہمیں ابو نضرہ نے حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ میں سانڈوں سے بھرے ہوئے ایک نشیبی علاقے میں رہتا ہوں اور میرے گھر والوں کی عام غذا یہی ہے ۔ آپ نے اس کو کوئی جواب نہیں دیا ، ہم نے اس سے کہا : دوبارہ عرض کرو ، اس نے دوبارہ عرض کی ، مگر آپ نے تین بار ( دہرانے پر بھی ) کوئی جواب نہ دیا ، پھر تیسری بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو آواز دی اور فرمایا : " اے اعرابی! اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے کسی گروہ پر لعنت کی یا غضب فرمایا اور ان کو زمین پر چلنے والے جانوروں کی شکل میں مسخ کردیا ۔ مجھے علم نہیں ، شاید یہ انھی جانوروں میں سے ہو ، ( جن کی شکل میں ان لوگوں کو مسخ کیا گیا تھا ) اس لیے نہ اس کو کھاتا ہوں اور نہ اس سے روکتا ہوں ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا، أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنِّي فِي غَائِطٍ مَضَبَّةٍ وَإِنَّهُ عَامَّةُ طَعَامِ أَهْلِي - قَالَ - فَلَمْ يُجِبْهُ فَقُلْنَا عَاوِدْهُ . فَعَاوَدَهُ فَلَمْ يُجِبْهُ ثَلاَثًا ثُمَّ نَادَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الثَّالِثَةِ فَقَالَ " يَا أَعْرَابِيُّ إِنَّ اللَّهَ لَعَنَ أَوْ غَضِبَ عَلَى سِبْطٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَمَسَخَهُمْ دَوَابَّ يَدِبُّونَ فِي الأَرْضِ فَلاَ أَدْرِي لَعَلَّ هَذَا مِنْهَا فَلَسْتُ آكُلُهَا وَلاَ أَنْهَى عَنْهَا " .
#5045
Ibn Abu Aufa reported:We went on seven expeditions with Allah's Messenger (ﷺ) and ate locusts
ابو عوانہ نے ابو یعفور سے ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن اوفیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوات میں شامل ہوئے ( جن کے دوران میں ) ہم ٹڈیاں کھاتے رہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ، أَبِي أَوْفَى قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَبْعَ غَزَوَاتٍ نَأْكُلُ الْجَرَادَ .
#5046
This hadith has been narrated on the authority of Abu Ya'fur with the same chain of transmitters. Abu Bakr (one of the narrators) said" seven expeditions," whereas Ishaq said" six," and Ibn Umar said" six" or" seven
ابو بکر بن ابی شیبہ ، اسحاق بن ابراہیم اور ابن ابی عمر سب نے ابن عینیہ سے ، انھوں نے ابو یعفور سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیا ن کی ۔ ابو بکر نے اپنی روایت میں "" سات جنگیں "" کہا ، اسحاق نے "" چھ "" اور ابن ابی عمر نے "" چھ یا سات "" کہا ۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . قَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي رِوَايَتِهِ سَبْعَ غَزَوَاتٍ وَقَالَ إِسْحَاقُ سِتَّ وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ سِتَّ أَوْ سَبْعَ .
#5047
This hadith is narrated on the authority of Abu Ya'fur with the same chain of transmitters, and he mentioned seven expeditions
شعبہ نے ابو یعفور سے یہ حدیث اسی سند سے روایت کی اور انھوں نے " سات غزوات " کہا ۔
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ، بْنِ جَعْفَرٍ كِلاَهُمَا عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ .
#5048
Anas b. Malik reported:We chased a hare at Marr az-Zahrin (a valley near Mecca). They (my companions) ran, but felt exhausted; I also tried until I caught hold of it. I brought it to Abu Talha. He slaughtered it and sent its haunch and two hind legs to Allah's Messenger (ﷺ) through me; and he accepted them
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے ہشام بن زید سے حدیث بیان کی ، انھوں نےحضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم جا رہے تھے کہ ( مقام ) مرالظہران میں ایک خرگوش دیکھا تو اس کا پیچھا کیا ۔ پہلے لوگ اس پر دوڑے لیکن تھک گئے پھر میں دوڑا تو میں نے پکڑ لیا اور سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس لایا ۔ انہوں نے اس کو ذبح کیا اور اس کا پٹھ اور دونوں رانیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجیں ۔ میں لے کر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو لے لیا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ مَرَرْنَا فَاسْتَنْفَجْنَا أَرْنَبًا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ فَسَعَوْا عَلَيْهِ فَلَغَبُوا . قَالَ فَسَعَيْتُ حَتَّى أَدْرَكْتُهَا فَأَتَيْتُ بِهَا أَبَا طَلْحَةَ فَذَبَحَهَا فَبَعَثَ بِوَرِكِهَا وَفَخِذَيْهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَتَيْتُ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَبِلَهُ .
#5049
This hadith has been transmitted on the authority of Yahya with a slight change of wording
یحییٰ بن یحییٰ اور خالد بن حارث دونوں نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ، یحییٰ کی حدیث میں : " اس کا پچھلا حصہ یا اس کی دونوں رانوں " کے الفاظ ہیں ۔
وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ح وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - كِلاَهُمَا عَنْ شُعْبَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِ يَحْيَى بِوَرِكِهَا أَوْ فَخِذَيْهَا .