#4300
This hadith has been narrated through another chain of transmitters with a slight variation of words
وکیع اور عبدالرحمان ( بن مہدی ) دونوں نے سفیان سے حدیث بیان کی ، انہوں نے فراس سے شعبہ اور ابو عوانہ کی سند کے ساتھ روایت کی ، ابن مہدی نے اپنی حدیث میں حد کا ذکر کیا ہے اور وکیع کی حدیث میں ہے : " جس نے اپنے غلام کو طمانچہ مارا ۔ " انہوں نے حد کا ذکر نہیں کیا
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، كِلاَهُمَا عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ فِرَاسٍ، بِإِسْنَادِ شُعْبَةَ وَأَبِي عَوَانَةَ أَمَّا حَدِيثُ ابْنِ مَهْدِيٍّ فَذَكَرَ فِيهِ " حَدًّا لَمْ يَأْتِهِ " . وَفِي حَدِيثِ وَكِيعٍ " مَنْ لَطَمَ عَبْدَهُ " . وَلَمْ يَذْكُرِ الْحَدَّ.
#4301
Mu'awiya b. Suwaid reported:I slapped a slave belonging to us and then fled away. I came back just before noon and offered prayer behind my father. He called him (the slave) and me and said: Do as he has done to you. He granted pardon. He (my father) then said: We belonged to the family of Muqarrin during the lifetime of Allah's Messenger (may peace be upon him. and had only one slave-girl and one of us slapped her. This news reached Allah's Apostle (ﷺ) and he said: Set her free. They (the members of the family) said: There is no other servant except she. Thereupon he said: Then employ her and when you can afford to dispense with her services, then set her free
معاویہ بن سوید ( بن مُقرن ) سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : میں نے اپنے ایک غلام کو طمانچہ مارا اور بھاگ گیا ، پھر میں ظہر سے تھوڑی دیر پہلے آیا اور اپنے والد کے پیچھے نماز پڑھی ، انہوں نے اسے اور مجھے بلایا ، پھر ( غلام سے ) کہا : اس سے پورا بدلہ لے لو تو اس نے معاف کر دیا ۔ پھر انہوں ( میرے والد ) نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ہم بنی مقرن کے پاس صرف ایک خادمہ تھی ، ہم میں سے کسی نے اسے طمانچہ مار دیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا : اسے آزاد کر دو ۔ لوگوں نے کہا : ان کے پاس اس کے علاوہ اور خادم نہیں ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ ( فی الحال ) اس سے خدمت لیں ، جب اس سے بے نیاز ہو جائیں ( دوسرا انتظام ہو جائے ) تو اس کا راستہ چھوڑ دیں ( اسے آزاد کر دیں)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدٍ، قَالَ لَطَمْتُ مَوْلًى لَنَا فَهَرَبْتُ ثُمَّ جِئْتُ قُبَيْلَ الظُّهْرِ فَصَلَّيْتُ خَلْفَ أَبِي فَدَعَاهُ وَدَعَانِي ثُمَّ قَالَ امْتَثِلْ مِنْهُ . فَعَفَا ثُمَّ قَالَ كُنَّا بَنِي مُقَرِّنٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْسَ لَنَا إِلاَّ خَادِمٌ وَاحِدَةٌ فَلَطَمَهَا أَحَدُنَا فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " أَعْتِقُوهَا " . قَالُوا لَيْسَ لَهُمْ خَادِمٌ غَيْرُهَا قَالَ " فَلْيَسْتَخْدِمُوهَا فَإِذَا اسْتَغْنَوْا عَنْهَا فَلْيُخَلُّوا سَبِيلَهَا " .
#4302
Hilal b. Yasaf reported that a person got angry and slapped his slave-girl. Thereupon Suwaid b. Muqarrin said to him:You could find no other part (to slap) but the prominent part of her face. See I was one of the seven sons of Muqarrin, and we had but only one slave-girl. The youngest of us slapped her, and Allah's Messenger (ﷺ) commanded us to set her free
ابن ادریس نے ہمیں حصین سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ہلال بن یساف سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ایک بوڑھے نے جلدی کی اور اپنے خادم کو طمانچہ دے مارا ، تو حضرت سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا : تمہیں اس کے شریف چہرے کے سوا اور کوئی جگہ نہ ملی؟ میں نے اپنے آپ کو مقرن کے بیٹوں میں سے ساتواں بیٹا پایا ، ہمارے پاس صرف ایک خادمہ تھی ، ہم میں سے سب سے چھوٹے نے اسے طمانچہ مارا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کو آزاد کر دینے کا حکم دیا
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، - وَاللَّفْظُ لأَبِي بَكْرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ يَسَافٍ، قَالَ عَجِلَ شَيْخٌ فَلَطَمَ خَادِمًا لَهُ فَقَالَ لَهُ سُوَيْدُ بْنُ مُقَرِّنٍ عَجَزَ عَلَيْكَ إِلاَّ حُرُّ وَجْهِهَا لَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ مِنْ بَنِي مُقَرِّنٍ مَا لَنَا خَادِمٌ إِلاَّ وَاحِدَةٌ لَطَمَهَا أَصْغَرُنَا فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ نُعْتِقَهَا .
#4303
Hilal b. Yasaf reported:We used to sell cloth in the house of Suwaid b. Muqarrin, the brother of Nu'man b. Muqarrin. There came out a slave-girl, and she said something to a person amongst us, and he slapped her. Suwaid was enraged-the rest of the hadlth is the same
ہلال بن یساف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ہم كپڑا بیچتے تھے سوید بن مقرن كے گھر میں جو نعمان بن مقرن كے بھائی تھے ، ایك لونڈی وہا ں نكلی اور اس نے ہم میں سے كسی كو كوئی بات كہی تو اس نے لونڈی كو طمانچہ مارا ۔ سوید ناراض ہوئے پھر بیان كیا اسی طرح جیسے اوپر گذرا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ يَسَافٍ، قَالَ كُنَّا نَبِيعُ الْبَزَّ فِي دَارِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ أَخِي النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ فَخَرَجَتْ جَارِيَةٌ فَقَالَتْ لِرَجُلٍ مِنَّا كَلِمَةً فَلَطَمَهَا فَغَضِبَ سُوَيْدٌ . فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ إِدْرِيسَ .
#4304
Suwaid b. Muqarrin reported that he had a slave-girl and a person (one of the members of the family) slapped her, whereupon Suwaid said to him:Don't you know that it is forbidden (to strike the) face. He said: You see I was the seventh one amongst my brothers during the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ), and we had but only one servant. One of us got enraged and slapped him. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) commanded us to set him free
عبدالصمد نے ہمیں حدیث سنائی ، کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث سنائی ، کہا : مجھ سے محمد بن منکدر نے کہا : تمہارا نام کیا ہے؟ میں نے کہا : شعبہ ۔ تو محمد نے کہا : مجھے ابو شعبہ عراقی ( مولیٰ سوید بن مقرن ) نے سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ ان کی لونڈی کو کسی انسان نے تھپڑ مارا تو سوید رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا : کیا تمہیں معلوم نہیں کہ چہرہ حرمت والا ( ہوتا ) ہے اور کہا : میں نے خود کو ، اور میں اپنے بھائیوں میں ساتواں تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں دیکھا اور ہمارے پاس سوائے ایک کے کوئی اور خادم نہ تھا ۔ ہم میں سے کسی نے عمدا اسے طمانچہ مار دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے آزاد کر دی
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ قَالَ لِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ مَا اسْمُكَ قُلْتُ شُعْبَةُ . فَقَالَ مُحَمَّدٌ حَدَّثَنِي أَبُو شُعْبَةَ الْعِرَاقِيُّ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ أَنَّ جَارِيَةً لَهُ لَطَمَهَا إِنْسَانٌ فَقَالَ لَهُ سُوَيْدٌ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الصُّورَةَ مُحَرَّمَةٌ فَقَالَ لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَإِنِّي لَسَابِعُ إِخْوَةٍ لِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمَا لَنَا خَادِمٌ غَيْرُ وَاحِدٍ فَعَمَدَ أَحَدُنَا فَلَطَمَهُ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ نُعْتِقَهُ .
#4305
Wahb b. Jarir reported:Shu'ba informed that Muhammad b. Munkadir said to me: What is your name? The rest of the hadith is the same
وہب بن جریر نے کہا : ہمیں شعبہ نے خبر دی کہ محمد بن منکدر نے مجھ سے پوچھا : تمہارا نام کیا ہے؟ آگے عبدالصمد کی حدیث کے مانند بیان کیا
وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ وَهْبِ بْنِ جَرِيرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، قَالَ قَالَ لِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ مَا اسْمُكَ فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عَبْدِ الصَّمَدِ .
#4306
Abu Mas'ud al-Badri reported:I was beating my slave with a whip when I heard a voice behind me: Understand, Abu Masud; but I did not recognise the voice due to intense anger. He (Abu Mas'ud) reported: As he came near me (I found) that he was the Messenger of Allah (ﷺ) and he was saying: Bear in mind, Abu Mas'ud; bear in mind. Abu Mas'ud. He (Aba Maslad) said: threw the whip from my hand. Thereupon he (the Holy Prophet) said: Bear in mind, Abu Mas'ud; verily Allah has more dominance upon you than you have upon your slave. I (then) said: I would never beat my servant in future
عبدالواحد بن زیاد نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں اعمش نے ابراہیم تیمی سے حدیث سنائی ، انہوں نے اپنے والد ( یزید بن شریک تیمی ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا : حضرت ابو مسعود بدری رضی اللہ عنہ نے کہا : میں اپنے ایک غلام کو کوڑے سے مار رہا تھا تو میں نے اپنے پیچھے سے آواز سنی : " ابو مسعود! جان لو ۔ " میں غصے کی وجہ سے آواز نہ پہچان سکا ، کہا : جب وہ ( کہنے والے ) میرے قریب پہنچے تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے ، آپ فرما رہے تھے : " ابو مسعود! جان لو ، ابو مسعود! جان لو ۔ " کہا : میں نے اپنے ہاتھ سے کوڑا پھینک دیا ، تو آپ نے فرمایا : " ابو مسعود! جان لو ۔ اس غلام پر تمہیں جتنا اختیار ہے اس کی نسبت اللہ تم پر زیادہ اختیار رکھتا ہے ۔ " کہا : تو میں نے کہا : اس کے بعد میں کسی غلام کو کبھی نہیں ماروں گا
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، - يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ - حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ الْبَدْرِيُّ كُنْتُ أَضْرِبُ غُلاَمًا لِي بِالسَّوْطِ فَسَمِعْتُ صَوْتًا مِنْ خَلْفِي " اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ " . فَلَمْ أَفْهَمِ الصَّوْتَ مِنَ الْغَضَبِ - قَالَ - فَلَمَّا دَنَا مِنِّي إِذَا هُوَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِذَا هُوَ يَقُولُ " اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ " . قَالَ فَأَلْقَيْتُ السَّوْطَ مِنْ يَدِي فَقَالَ " اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ أَنَّ اللَّهَ أَقْدَرُ عَلَيْكَ مِنْكَ عَلَى هَذَا الْغُلاَمِ " . قَالَ فَقُلْتُ لاَ أَضْرِبُ مَمْلُوكًا بَعْدَهُ أَبَدًا .
#4307
This hadith has been narrated on the authorityo A'mash but with this variation of words:" There fell from my hand the whip on account of his (the Prophet's) awe
جریر ، سفیان اور ابوعوانہ سب نے اعمش سے عبدالواحد کی ( سابقہ ) سند کے ساتھ اس کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی ، مگر جریر کی حدیث میں ہے : آپ کی ہیبت کی وجہ سے میرے ہاتھ سے کوڑا گر گیا
وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، - وَهُوَ الْمَعْمَرِيُّ - عَنْ سُفْيَانَ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ، الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، كُلُّهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ، بِإِسْنَادِ عَبْدِ الْوَاحِدِ . نَحْوَ حَدِيثِهِ . غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ فَسَقَطَ مِنْ يَدِي السَّوْطُ مِنْ هَيْبَتِهِ .
#4308
Abu Mas'ud al-Ansari reported:When I was beating my servant, I heard a voice behind me (saying): Abu Mas'ud, bear in mind Allah has more dominance over you than you have upon him. I turned and (found him) to be Allah's Messenger (ﷺ). I said: Allah's Messenger, I set him free for the sake of Allah. Thereupon he said: Had you not done that, (the gates of) Hell would have opened for you, or the fire would have burnt you
ابومعاویہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں اعمش نے ابراہیم تیمی سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں اپنے غلام کو مار رہا تھا تو میں نے اپنے پیچھے سے آواز سنی : " ابومسعود! جان لو ، اس پر تمہارا جتنا اختیار ہے ، اس کی نسبت اللہ تم پر زیادہ اختیار رکھتا ہے ۔ " میں مڑا تو دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے ، میں نے عرض کی : اللہ کے رسول! وہ اللہ کی رضا کے لیے آزاد ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " دیکھو! اگر تم ایسا نہ کرتے تو تمہیں آگ جھلساتی یا تمہیں آگ چھوتی
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ كُنْتُ أَضْرِبُ غُلاَمًا لِي فَسَمِعْتُ مِنْ خَلْفِي صَوْتًا " اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ لَلَّهُ أَقْدَرُ عَلَيْكَ مِنْكَ عَلَيْهِ " . فَالْتَفَتُّ فَإِذَا هُوَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هُوَ حُرٌّ لِوَجْهِ اللَّهِ . فَقَالَ " أَمَا لَوْ لَمْ تَفْعَلْ لَلَفَحَتْكَ النَّارُ أَوْ لَمَسَّتْكَ النَّارُ " .
#4309
Abu Mas'ud reported that he had been beating his slave and he had been saying:I seek refuge with Allah, but he continued beating him, whereupon he said: I seek refuge with Allah's Messenger, and he spared him. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: By Allah, God has more dominance over you than you have over him (the slave). He said that he set him free
ابن ابی عدی نے شعبہ سے ، انہوں نے سلیمان سے ، انہوں نے ابراہیم تیمی سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ وہ اپنے غلام کو مار رہے تھے تو اس نے اعوذباللہ ( میں تمہاری مار سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں ) کہنا شروع کر دیا ۔ کہا : تو ( وہ اس کی بات کی طرف متوجہ نہ ہو پائے اور ) اسے مارتے رہے ۔ پھر اس نے کہا : میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پناہ میں آتا ہوں تو ( انہیں اندازہ ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ہیں ) انہوں نے اسے چھوڑ دیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ کی قسم! اللہ تم پر اس سے زیادہ اختیار رکھتا ہے جتنا تم اس پر رکھتے ہو ۔ " کہا : تو انہوں نے اسےآزاد کر دیا ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ، أَبِي عَدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، أَنَّهُ كَانَ يَضْرِبُ غُلاَمَهُ فَجَعَلَ يَقُولُ أَعُوذُ بِاللَّهِ - قَالَ - فَجَعَلَ يَضْرِبُهُ فَقَالَ أَعُوذُ بِرَسُولِ اللَّهِ . فَتَرَكَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَاللَّهِ لَلَّهُ أَقْدَرُ عَلَيْكَ مِنْكَ عَلَيْهِ " . قَالَ فَأَعْتَقَهُ .
#4310
This hadith has been narrated on the authority of Shu'ba with the same chain of transmitters, but made no mention of (these words) of his:I seek refuge with Allah, I seek refuge with Allah's Messenger (ﷺ)
محمد بن جعفر نے ہمیں شعبہ سے ، اسی سند کے ساتھ خبر دی اور انہوں نے یہ الفاظ بیان نہیں کیے : " میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں " ( اور ) " اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پناہ میں آتا ہوں
وَحَدَّثَنِيهِ بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ، - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - عَنْ شُعْبَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَهُ أَعُوذُ بِاللَّهِ أَعُوذُ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
#4311
Abu Huraira reported that Abu'l-Qasim (one of the names of Allah's Messenger [may peace be upon him]) said:He who accused his slave of adultery, punishment would be imposed upon him on the Day of Resurrection, except in case the accusation was as he had said
عبداللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں فضیل بن غزوان نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے عبدالرحمان بن ابی نعم سے سنا ( کہا : ) مجھے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے اپنے غلام پر زنا کی تہمت لگائی اسے قیامت کے دن حد لگائی جائے گی ، الا یہ کہ وہ ( غلام ) ویسا ہو جیسا اس نے کہا ہے
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ، نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي نُعْمٍ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ قَذَفَ مَمْلُوكَهُ بِالزِّنَا يُقَامُ عَلَيْهِ الْحَدُّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ كَمَا قَالَ " .
#4312
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Ghazwan (and the words are):" I heard Abu'l-Qasim (ﷺ) as the Prophet of repentance
وکیع اور اسحاق بن یوسف ازرق دونوں نے فضیل بن غزوان سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور ان دونوں کی حدیث میں ہے : میں نے ابوالقاسم نبی التوبہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ، يُوسُفَ الأَزْرَقُ كِلاَهُمَا عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . وَفِي حَدِيثِهِمَا سَمِعْتُ أَبَا، الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم نَبِيَّ التَّوْبَةِ .
#4313
Al-Ma'rur b. Suwaid said:We went to Abu Dharr (Ghifari) in Rabadha and he had a mantle over him, and his slave had one like it. We said: Abu Dharr, had you joined them together, it would have been a complete garment. Thereupon he said: There was an altercation between me and one of the persons among my brothers. His mother was a non-Arab. I reproached him for his mother. He complained against me to Allah's Apostle (ﷺ). As I met Allah's Apostle (ﷺ) he said: Abu Dharr, you are a person who still has (in him the remnants) of the days (of Ignorance). Thereupon I said: Allah's Messenger, he who abuses (other) persons, they abuse (in return) his father and mother. He (the Holy Prophet) said: Abu Dharr, you are a person who still has (the remnants) of Ignorance in him They (your servants and slaves) are your brothers. Allah has put them in your care, so feed them with what you eat, clothe them with what you wear. and do not burden them beyond their capacities; but if you burden them (with an unbearable burden), then help them (by sharing their extra burden)
وکیع نے کہا : ہمیں اعمش نے معرور بن سوید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہم زَبذہ ( کے مقام ) میں حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کے ہاں سے گزرے ، ان ( کے جسم ) پر ایک چادر تھی اور ان کے غلام ( کے جسم ) پر بھی ویسی ہی چادر تھی ۔ تو ہم نے کہا : ابوذر! اگر آپ ان دونوں ( چادروں ) کو اکٹھا کر لیتے تو یہ ایک حلہ بن جاتا ۔ انہوں نے کہا : میرے اور میرے کسی ( مسلمان ) بھائی کے درمیان تلخ کلامی ہوئی ، اس کی ماں عجمی تھی ، میں نے اسے اس کی ماں کے حوالے سے عار دلائی تو اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس میری شکایت کر دی ، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا تو آپ نے فرمایا : " ابوذر! تم ایسے آدمی ہو کہ تم میں جاہلیت ( کی عادت موجود ) ہے ۔ " میں نے کہا : اللہ کے رسول! جو دوسروں کو برا بھلا کہتا ہے وہ اس کے ماں اور باپ کو برا بھلا کہتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : " ابوذر! تم ایسے آدمی ہو جس میں جاہلیت ہے ، وہ ( چاہے کنیز زادے ہوں یا غلام یا غلام زادے ) تمہارے بھائی ہیں ، اللہ نے انہیں تمہارے ماتحت کیا ہے ، تم انہیں وہی کھلاؤ جو خود کھاتے ہو اور وہی پہناؤ جو خود پہنتے ہو اور ان پر ایسے کام کی ذمہ داری نہ ڈالو جو ان کے بس سے باہر ہو ، اگر ان پر ( مشکل کام کی ) ذمہ داری ڈالو تو ان کی اعانت کرو
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، قَالَ مَرَرْنَا بِأَبِي ذَرٍّ بِالرَّبَذَةِ وَعَلَيْهِ بُرْدٌ وَعَلَى غُلاَمِهِ مِثْلُهُ فَقُلْنَا يَا أَبَا ذَرٍّ لَوْ جَمَعْتَ بَيْنَهُمَا كَانَتْ حُلَّةً . فَقَالَ إِنَّهُ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنْ إِخْوَانِي كَلاَمٌ وَكَانَتْ أَمُّهُ أَعْجَمِيَّةً فَعَيَّرْتُهُ بِأُمِّهِ فَشَكَانِي إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَلَقِيتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " يَا أَبَا ذَرٍّ إِنَّكَ امْرُؤٌ فِيكَ جَاهِلِيَّةٌ " . قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ سَبَّ الرِّجَالَ سَبُّوا أَبَاهُ وَأُمُّهُ . قَالَ " يَا أَبَا ذَرٍّ إِنَّكَ امْرُؤٌ فِيكَ جَاهِلِيَّةٌ هُمْ إِخْوَانُكُمْ جَعَلَهُمُ اللَّهُ تَحْتَ أَيْدِيكُمْ فَأَطْعِمُوهُمْ مِمَّا تَأْكُلُونَ وَأَلْبِسُوهُمْ مِمَّا تَلْبَسُونَ وَلاَ تُكَلِّفُوهُمْ مَا يَغْلِبُهُمْ فَإِنْ كَلَّفْتُمُوهُمْ فَأَعِينُوهُمْ " .
#4314
This hadith has been narrated on the authority of A'mash but with a slight variation of words, e. g. in the hadith transmitted on the authority of Zuhair and Abu Mu'awiya after his words (these words of the Holy Prophet):" You are a person having the remnants of Ignorance in him." (these words also occur, that Abu Dharr) said: Even up to this time of my old age? He (the Holy Prophet) said: Yes. In the tradition transmitted on the authority of Abu Mu'awiya (the words are):" Yes, in this time of your old age." In the tradition transmitted on the authority of 'Isa (the words are):" If you burden him (with an unbearable burden), you should sell him (and get another slave who can easily undertake this burden)." In the hadith transmitted on the authority of Zuhair (the words are):" Help him in that (work)." In the hadith transmitted by Abu Mu'awiya (separately) there is no such word: Then sell him or help him." This hadith concludes with these words:" Do not burden him beyond his capacity
زہیر ، ابومعاویہ اور عیسیٰ بن یونس سب نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، زہیر اور ابو معاویہ کی حدیث میں آپ کے فرمان : " تم ایسے آدمی ہو جس میں جاہلیت ہے " کے بعد یہ اضافہ ہے ، انہوں نے کہا : میں نے عرض کی : بڑھاپے کی اس گھڑی کے باوجود بھی ( جاہلیت کی عادت باقی ہے؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہاں ۔ " ابو معاویہ کی روایت میں ہے : " ہاں ، تمہارے بڑھاپے کی اس گھڑی کے باوجود بھی " عیسیٰ کی حدیث میں ہے : " اگر وہ اس پر ایسی ذمہ داری ڈال دے جو اس کی طاقت سے باہر ہے تو ( بہتر ہے ) اسے بیچ دے ۔ " ( غلام پر ظلم کے گناہ سے بچ جائے ۔ ) زہیر کی حدیث میں ہے : " تو وہ اس ( کام ) میں اس کی اعانت کرے ۔ " ابو معاویہ کی حدیث میں وہ اسے بیچ دے اور وہ اس کی اعانت کرے کے الفاظ نہیں ہیں اور ان کی حدیث آپ کے فرمان : اس پر ایسی ذمہ داری نہ ڈالے جو اس کے بس سے باہر ہوپر ختم ہو گئی
وَحَدَّثَنَاهُ أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، كُلُّهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَزَادَ فِي حَدِيثِ زُهَيْرٍ وَأَبِي مُعَاوِيَةَ بَعْدَ قَوْلِهِ " إِنَّكَ امْرُؤٌ فِيكَ جَاهِلِيَّةٌ " . قَالَ قُلْتُ عَلَى حَالِ سَاعَتِي مِنَ الْكِبَرِ قَالَ " نَعَمْ " . وَفِي رِوَايَةِ أَبِي مُعَاوِيَةَ " نَعَمْ عَلَى حَالِ سَاعَتِكَ مِنَ الْكِبَرِ " . وَفِي حَدِيثِ عِيسَى " فَإِنْ كَلَّفَهُ مَا يَغْلِبُهُ فَلْيَبِعْهُ " . وَفِي حَدِيثِ زُهَيْرٍ " فَلْيُعِنْهُ عَلَيْهِ " . وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ " فَلْيَبِعْهُ " . وَلاَ " فَلْيُعِنْهُ " . انْتَهَى عِنْدَ قَوْلِهِ " وَلاَ يُكَلِّفْهُ مَا يَغْلِبُهُ " .
#4315
Ma'rur b. Suwaid reported:I saw Abu Dharr wearing clothes, and his slave wearing similar ones. I asked him about it, and he narrated that he had abused a person during the lifetime of Allah's Messenger (may peace be upoe. him) and he reproached him for his mother. That person came to Allah's Apostle (ﷺ) and made mention of that to him. Thereupon Allah's Apostle (ﷺ) said: You are a person who has (remnants of) Ignorance in him. Your slaves are brothers of yours. Allah has placed them in your hand, and he who has his brother under him, he should feed him with what he eats, and dress him with what he dresses himself, and do not burden them beyond their capacities, and if you burden them, (beyond their capacities), then help them
واصل احدب نے معرور بن سوید سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کو اس حالت میں دیکھا کہ ان ( کے جسم ) پر ( آدھا ) حلہ تھا اور ان کے غلام پر بھی اسی طرح کا ( آدھا ) حلہ تھا ، میں نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا ، کہا : تو انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں انہوں نے ایک آدمی کو برا بھلا کہا اور اسے اس کی ماں ( کے عجمی ہونے ) کی ( بنا پر ) عار دلائی ، کہا : تو وہ آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو یہ بات بتائی ، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم ایسے آدمی ہو جس میں جاہلیت ( کی خو ) ہے ، وہ تمہارے بھائی اور خدمت گزار ہیں ، اللہ نے انہیں تمہارے ماتحت کیا ہے ، تو جس کا بھائی اس کے ماتحت ہو وہ اسے اسی کھانے میں سے کھلائے جو وہ خود کھاتا ہے اور وہی لباس پہنائے جو خود پہنتا ہے اور ان کے ذمے ایسا کام نہ لگاؤ جو ان کے بس سے باہر ہو اور اگر تم ان کے ذمے لگاؤ تو اس پر ان کی اعانت کرو
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ وَاصِلٍ الأَحْدَبِ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، قَالَ رَأَيْتُ أَبَا ذَرٍّ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ وَعَلَى غُلاَمِهِ مِثْلُهَا فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ قَالَ فَذَكَرَ أَنَّهُ سَابَّ رَجُلاً عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَعَيَّرَهُ بِأُمِّهِ - قَالَ - فَأَتَى الرَّجُلُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّكَ امْرُؤٌ فِيكَ جَاهِلِيَّةٌ إِخْوَانُكُمْ وَخَوَلُكُمْ جَعَلَهُمُ اللَّهُ تَحْتَ أَيْدِيكُمْ فَمَنْ كَانَ أَخُوهُ تَحْتَ يَدَيْهِ فَلْيُطْعِمْهُ مِمَّا يَأْكُلُ وَلْيُلْبِسْهُ مِمَّا يَلْبَسُ وَلاَ تُكَلِّفُوهُمْ مَا يَغْلِبُهُمْ فَإِنْ كَلَّفْتُمُوهُمْ فَأَعِينُوهُمْ عَلَيْهِ " .
#4316
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:It is essential to feed the slave, clothe him (properly) and not burden him with work which is beyond his power
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : طعام اور لباس غلام کا حق ہے اور اس پر کام کی اتنی ذمہ داری نہ ڈالی جائے جو اس کے بس میں نہ ہو ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو، بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ بُكَيْرَ بْنَ الأَشَجِّ، حَدَّثَهُ عَنِ الْعَجْلاَنِ، مَوْلَى فَاطِمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " لِلْمَمْلُوكِ طَعَامُهُ وَكِسْوَتُهُ وَلاَ يُكَلَّفُ مِنَ الْعَمَلِ إِلاَّ مَا يُطِيقُ " .
#4317
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:When the slave of anyone amongst you prepares food for him and he serves him after having sat close to (and undergoing the hardship of) heat and smoke, he should make him (the slave) sit along with him and make him eat (along with him), and if the food seems to run short, then he should spare some portion for him (from his own share) - (another narrator) Dawud said:" i. e. a morsel or two
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کسی کا خادم اس کے لیے کھانا تیار کرے ، پھر اس کے سامنے پیش کرے اور اسی نے ( آگ کی ) تپش اور دھواں برداشت کیا ہے تو وہ اسے اپنے ساتھ بٹھائے اور وہ ( غلام بھی اس کے ساتھ ) کھائے اور اگر کھانا بہت سے لوگوں نے کھانا لیا ہو ، ( یعنی ) کم ہو تو اس کے ہاتھ میں ایک یا دو لقمے ( ضرور ) دے
وَحَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا صَنَعَ لأَحَدِكُمْ خَادِمُهُ طَعَامَهُ ثُمَّ جَاءَهُ بِهِ وَقَدْ وَلِيَ حَرَّهُ وَدُخَانَهُ فَلْيُقْعِدْهُ مَعَهُ فَلْيَأْكُلْ فَإِنْ كَانَ الطَّعَامُ مَشْفُوهًا قَلِيلاً فَلْيَضَعْ فِي يَدِهِ مِنْهُ أُكْلَةً أَوْ أُكْلَتَيْنِ " . قَالَ دَاوُدُ يَعْنِي لُقْمَةً أَوْ لُقْمَتَيْنِ .
#4318
Ibn Umar reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:When a slave looks to the welfare of his master and worships Allah well, he has two rewards for him
امام مالک نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " غلام جب اپنے آقا کی خیرخواہی کرے اور اچھی طرح اللہ کی بندگی کرے تو اس کے لیے دوہرا اجر ہے
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا نَصَحَ لِسَيِّدِهِ وَأَحْسَنَ عِبَادَةَ اللَّهِ فَلَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ " .
#4319
This hadith has been narrated on the authority of Ibn 'Umar through another chain of transmitters
عبیداللہ اور اسامہ نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے امام مالک کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، وَهْوَ الْقَطَّانُ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو أُسَامَةَ كُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي أُسَامَةُ، جَمِيعًا عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ .
#4320
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:For a faithful slave there are two rewards. By him in Whose hand is the life of Abu Huraira, but for Jihad in the cause of Allah, and Pilgrimage and kindness to my mother, I would have preferred to die as a slave. He (one of the narrators in the chain of transmitters) said: This news reached us that Abu Huraira did not perform Pilgrimage until his mother died for (keeping himself constantly) in her service
ابوطاہر اور حرملہ بن یحییٰ نے ہمیں حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں ابن وہب نے خبر دی ، کہا : مجھے یونس نے ابن شہاب سے خبر دی ، انہوں نے کہا : میں نے سعید بن مسیب سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اچھی طرح ذمہ داریاں نبھانے والے کسی کے مملوک ( غلام ) کے لیے دو اجر ہیں ۔ "" اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابوہریرہ کی جان ہے! اگر اللہ کی راہ میں جہاد ، حج اور اپنی والدہ کی خدمت ( جیسے کام ) نہ ہوتے تو میں پسند کرتا کہ میں مروں تو غلام ہوں ۔ ( سعید بن مسیب نے ) کہا : ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنی والدہ کی وفات تک ان کے ساتھ رہنے ( اور خدمت کرنے ) کی بنا پر حج نہیں کرتے تھے ۔ ابوطاہر نے اپنی حدیث میں "" اچھی طرح ذمہ داریاں نبھانے والا "" عَبد "" ( غلام ) کہا ، "" مملوک "" نہیں کہا
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يَقُولُ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لِلْعَبْدِ الْمَمْلُوكِ الْمُصْلِحِ أَجْرَانِ " . وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ لَوْلاَ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْحَجُّ وَبِرُّ أُمِّي لأَحْبَبْتُ أَنْ أَمُوتَ وَأَنَا مَمْلُوكٌ . قَالَ وَبَلَغَنَا أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ لَمْ يَكُنْ يَحُجُّ حَتَّى مَاتَتْ أُمُّهُ لِصُحْبَتِهَا . قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ فِي حَدِيثِهِ " لِلْعَبْدِ الْمُصْلِحِ " . وَلَمْ يَذْكُرِ الْمَمْلُوكَ .
#4321
This hadith has been transmitted on the authority of Abu Tahir but with a slight variation of words
ابوصفوان اموی نے ہمیں حدیث بیان کی ( کہا : ) مجھے یونس نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ خبر دی ، انہوں نے " ہمیں یہ بات پہنچی " اور اس کے بعد والا حصہ بیان نہیں کیا
وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ الأُمَوِيُّ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ بَلَغَنَا وَمَا بَعْدَهُ .
#4322
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:When a slave fulfils obligation of Allah and obligation of his master, he has two rewards for him. I narrated this to Ka'b, and Ka'b said: (Such a slave) has no accountability, nor has a poor believer
ابو معاویہ نے اعمش سے ، انہوں نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب غلام اللہ کا حق اور اپنے آقاؤں کا حق ادا کرے تو اس کے لیے دو اجر ہیں ۔ " کہا : میں نے یہ حدیث کعب کو سنائی تو کعب نے کہا : نہ اس ( غلام ) کا حساب ہو گا نہ ہی کم مال والے مومن کا حساب ہو گا
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا أَدَّى الْعَبْدُ حَقَّ اللَّهِ وَحَقَّ مَوَالِيهِ كَانَ لَهُ أَجْرَانِ " . قَالَ فَحَدَّثْتُهَا كَعْبًا فَقَالَ كَعْبٌ لَيْسَ عَلَيْهِ حِسَابٌ وَلاَ عَلَى مُؤْمِنٍ مُزْهِدٍ .
#4323
The above hadith has been reported through another chain of transmitters on the authority of Abu Huraira
جریر نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی
وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ .
#4324
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:It is good for a slave that he worships Allah well, and serves his master (well). It is good for him
ہمام بن منبہ نے کہا : یہ احادیث ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ، انہوں نے کئی احادیث بیان کیں ، ان میں سے یہ بھی تھی : اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کسی غلام کا اس حال میں فوت ہو جانا کیا خوب ہے کہ وہ اللہ کی بندگی اور اپنے آقا کی خدمت اچھے طریقے سے کر رہا تھا! اس کے لیے کیا خوب ہے یہ ( زندگی)
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " نِعِمَّا لِلْمَمْلُوكِ أَنْ يُتَوَفَّى يُحْسِنُ عِبَادَةَ اللَّهِ وَصَحَابَةَ سَيِّدِهِ نِعِمَّا لَهُ " .