#4225
This hadith has been narrated on the authority of Ibn 'Aun with the same chain of transmitters up to the words:" Or he may feed the friend withoiut hoarding from it" and he made no mention of what follows
ابن ابی زائدہ ، ازہر سمان اور ابن ابی عدی سب نے ابن عون سے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی ، البتہ ابن ابی زائدہ اور ازہر کی حدیث حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس قول پر ختم ہو گئی : " یا تمول حاصل کیے بغیر کسی دوست کو کھلائے ۔ " اس کے بعد والا حصہ بیان نہیں کیا ۔ اور ابن ابی عدی کی حدیث میں وہ قول ہے جو سلیم نے ذکر کیا کہ میں نے یہ حدیث محمد ( بن سیرین ) کو بیان کی ، آخر تک
حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا أَزْهَرُ السَّمَّانُ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ وَأَزْهَرَ انْتَهَى عِنْدَ قَوْلِهِ " أَوْ يُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ " . وَلَمْ يُذْكَرْ مَا بَعْدَهُ . وَحَدِيثُ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ فِيهِ مَا ذَكَرَ سُلَيْمٌ قَوْلُهُ فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ مُحَمَّدًا . إِلَى آخِرِهِ .
#4226
Umar reported:I acquired land from the lands of Khaibar. I came to Allah's Messenger (ﷺ) and said: I have acquired a piece of land. Never have I acquired land more loved by me and more cherished by me than this. The rest of the hadith is the same, but he made no mention of this:" I narrated it to Muhammad" and what follows
سفیان نے ابن عون سے ، انہوں نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے خیبر کی زمینوں سے ایک زمین ملی ، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا : مجھے ایک زمین ملی ہے ، مجھے کبھی کوئی مال ایسا نہیں ملا جو مجھے اس سے زیادہ محبوب اور میرے نزدیک اس سے زیادہ عمدہ ہوانہوں نے ان سب کی حدیث کی طرح بیان کیا اور انہوں نےمیں نے یہ حدیث محمد کو بیان کی اور اس کے بعد والا حصہ بیان نہیں کیا
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ أَصَبْتُ أَرْضًا مِنْ أَرْضِ خَيْبَرَ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ أَصَبْتُ أَرْضًا لَمْ أُصِبْ مَالاً أَحَبَّ إِلَىَّ وَلاَ أَنْفَسَ عِنْدِي مِنْهَا . وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ وَلَمْ يَذْكُرْ فَحَدَّثْتُ مُحَمَّدًا وَمَا بَعْدَهُ .
#4227
Talha b. Musarrif reported:I asked 'Abdullah b. Abu Aufa whether Allah's Messenger (ﷺ) had made any will (in regard to his property). He said: NO. I said: Then why has making of will been made necessary for the Muslims, or why were they commanded to make will? Thereupon he said: He made the will according to the Book of Allah, the Exalted and Majestic
عبدالرحمان بن مہدی نے ہمیں مالک بن مغول سے خبر دی اور انہوں نے طلحہ بن مصرف سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے پوچھا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت کی؟ انہوں نے جواب دیا : نہیں ۔ میں نے پوچھا : تو مسلمانوں پر وصیت کرنا کیوں فرض کیا گیا ہے یا انہیں وصیت کا حکم کیوں دیا گیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ترکے کو تقسیم کرنے کی وصیت نہیں کی بلکہ ) اللہ تعالیٰ کی کتاب ( کو اپنانے ، عمل کرنے ) کی وصیت کی
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، قَالَ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى هَلْ أَوْصَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لاَ . قُلْتُ فَلِمَ كُتِبَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ الْوَصِيَّةُ أَوْ فَلِمَ أُمِرُوا بِالْوَصِيَّةِ قَالَ أَوْصَى بِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ .
#4228
This hadith has been narrated on the authority of Malik b. Mighwal with the same chain of transmitters but with a slight variation of words. In the hadith related by Waki (the words are)" I said:How the people have been ordered about the will" ; and in the hadith of Ibn Numair (the words are):" How the will has been prescribed for the Muslims
وکیع اور ابن نمیر دونوں نے مالک بن مغول سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی ، البتہ وکیع کی حدیث میں ہے : میں نے پوچھا : تو لوگوں کو وصیت کا کیسے حکم دیا گیا ہے؟ اور ابن نمیر کی حدیث میں ہے : میں نے پوچھا : مسلمانوں پر وصیت کیسے فرض کی گئی ہے
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، كِلاَهُمَا عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ وَكِيعٍ قُلْتُ فَكَيْفَ أُمِرَ النَّاسُ بِالْوَصِيَّةِ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ قُلْتُ كَيْفَ كُتِبَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ الْوَصِيَّةُ
#4229
A'isha reported:Allah's Messenger (ﷺ) left neither dinar nor dirham (wealth in the form of cash), nor goats (and sheep), nor camels. And he made no will about anything (in regard to his material possessions, as he had none)
عبداللہ بن نمیر اور ابومعاویہ دونوں نے کہا : ہمیں اعمش نے ابووائل سے حدیث بیان کی ، انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ کوئی دینار ترکہ میں چھوڑا نہ درہم ، نہ کوئی بکری ، نہ اونٹ اور نہ ہی آپ نے ( اس طرح کی ) کسی چیز کے بارے میں وصیت کی
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي وَأَبُو مُعَاوِيَةَ قَالاَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دِينَارًا وَلاَ دِرْهَمًا وَلاَ شَاةً وَلاَ بَعِيرًا وَلاَ أَوْصَى بِشَىْءٍ .
#4230
This hadith has been narrated on the authority of A'mash with the same chain of transmitters
جریر اور عیسیٰ بن یونس نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی
وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، كُلُّهُمْ عَنْ جَرِيرٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، - وَهُوَ ابْنُ يُونُسَ - جَمِيعًا عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . مِثْلَهُ .
#4231
Aswad b. Yazid reported:It was mentioned before A'isha that will had been made (by the Holy Prophet) in favour of 'Ali (as the Prophet's first caliph), whereupon she said: When did he make will in his favour? I had been providing support to him (to the Holy Prophet) with my chest (or with my lap). He asked for a tray, when he fell in my lap (relaxing his body), and I did not realise that he had breathed his last. When did he make any will in his ('Ali's) favour?
اسود بن یزید سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : لوگوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ذکر کیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ وصی ( جسے وصیت کی جائے ) تھے ۔ تو انہوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کب وصیت کی؟ بلاشبہ آپ کو اپنے سینے سے ۔ ۔ یا کہا : اپنی گود سے ۔ ۔ سہارا دینے والی میں تھی ، آپ نے برتن منگوایا ، اس کے بعد آپ ( کمزوری سے ) میری گود ہی میں جھک گئے اور مجھے پتہ بھی نہ چلا کہ آپ کی وفات ہو گئی ، تو آپ نے انہیں کب وصیت کی
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ ذَكَرُوا عِنْدَ عَائِشَةَ أَنَّ عَلِيًّا كَانَ وَصِيًّا فَقَالَتْ مَتَى أَوْصَى إِلَيْهِ فَقَدْ كُنْتُ مُسْنِدَتَهُ إِلَى صَدْرِي - أَوْ قَالَتْ حَجْرِي - فَدَعَا بِالطَّسْتِ فَلَقَدِ انْخَنَثَ فِي حَجْرِي وَمَا شَعَرْتُ أَنَّهُ مَاتَ فَمَتَى أَوْصَى إِلَيْهِ
#4232
Sa'id b. Jubair reported that Ibn 'Abbas said:Thursday, (and then said): What is this Thursday? He then wept so much that his tears moistened the pebbles. I said: Ibn 'Abbas, what is (significant) about Thursday? He (Ibn 'Abbas) said: The illness of Allah's Messenger (ﷺ) took a serious turn (on this day), and he said: Come to me, so that I should write for you a document that you may not go astray after me. They (the Companions around him) disputed, and it is not meet to dispute in the presence of the Apostle. They said: How is lie (Allah's Apostle)? Has he lost his consciousness? Try to learn from him (this point). He (the Holy Prophet) said: Leave me. I am better in the state (than the one in which you are engaged). I make a will about three things: Turn out the polytheists from the territory of Arabia; show hospitality to the (foreign) delegations as I used to show them hospitality. He (the narrator) said: He (Ibn Abbas) kept silent on the third point, or he (the narrator) said: But I forgot that. This hadith was mentioned through another chain
ہمیں سعید بن منصور ، قتیبہ بن سعید ، ابوبکر بن ابی شیبہ اور عمرو ناقد نے حدیث بیان کی ۔ ۔ الفاظ سعید کے ہیں ۔ ۔ سب نے کہا : ہمیں سفیان نے سلیمان احول سے حدیث بیان کی ، انہوں نے سعید بن جبیر سے روایت کی ، انہوں نے کہا : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : جمعرات کا دن ، اور جمعرات کا دن کیسا تھا! پھر وہ رونے لگے یہاں تک کہ ان کے آنسوؤں نے سنگریزوں کو تر کر دیا ۔ میں نے کہا : ابوعباس! جمعرات کا دن کیا تھا؟ انہون نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مرض شدت اختیار کر گیا تو آپ نے فرمایا : "" میرے پاس ( لکھنے کا سامان ) لاؤ ، میں تمہیں ایک کتاب ( تحریر ) لکھ دوں تاکہ تم میرے بعد گمراہ نہ ہو ۔ "" تو لوگ جھگڑ پڑے ، اور کسی بھی نبی کے پاس جھگڑنا مناسب نہیں ۔ انہوں نے کہا : آپ کا کیا حال ہے؟ کیا آپ نے بیماری کے زیر اثر گفتگو کی ہے؟ آپ ہی سے اس کا مفہوم پوچھو! آپ نے فرمایا : "" مجھے چھوڑ دو ، میں جس حالت میں ہوں وہ بہتر ہے ۔ میں تمہیں تین چیزوں کی وصیت کرتا ہوں؛ مشرکوں کو جزیرہ عرب سے نکال دینا اور آنے والے وفود کو اسی طرح عطیے دینا جس طرح میں انہیں دیا کرتا تھا ۔ "" ( سلیمان احول نے ) کہا : وہ ( سعید بن جبیر ) تیسری بات کہنے سے خاموش ہو گئے یا انہوں نے کہی اور میں اسے بھول گیا ۔ ابواسحاق ابراہیم نے کہا : ہمیں حسن بن بشر نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سفیان نے یہی حدیث بیان کي
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ - وَاللَّفْظُ لِسَعِيدٍ - قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ الأَحْوَلِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَوْمُ الْخَمِيسِ وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ ثُمَّ بَكَى حَتَّى بَلَّ دَمْعُهُ الْحَصَى . فَقُلْتُ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ قَالَ اشْتَدَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَجَعُهُ . فَقَالَ " ائْتُونِي أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لاَ تَضِلُّوا بَعْدِي " . فَتَنَازَعُوا وَمَا يَنْبَغِي عِنْدَ نَبِيٍّ تَنَازُعٌ . وَقَالُوا مَا شَأْنُهُ أَهَجَرَ اسْتَفْهِمُوهُ . قَالَ " دَعُونِي فَالَّذِي أَنَا فِيهِ خَيْرٌ أُوصِيكُمْ بِثَلاَثٍ أَخْرِجُوا الْمُشْرِكِينَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَأَجِيزُوا الْوَفْدَ بِنَحْوِ مَا كُنْتُ أُجِيزُهُمْ " . قَالَ وَسَكَتَ عَنِ الثَّالِثَةِ أَوْ قَالَهَا فَأُنْسِيتُهَا . قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، بِهَذَا الْحَدِيثِ
#4233
Sa'id b. Jubair reported from Ibn Abbas that he said:Thursday, and what about Thursday? Then tears began to flow until I saw them on his cheeks as it they were the strings of pearls. He (the narrator) said that Allah's Messenger (ﷺ) said: Bring me a shoulder blade and ink-pot (or tablet and inkpot), so that I write for you a document (by following which) you would never go astray. They said: Allah's Messenger (may peace upon him) is in the state of unconsciousness
طلحہ بن مُصرف نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا : جمعرات کا دن ، جمعرات کا دن کیسا تھا! پھر ان کے آنسو بہنے لگے حتی کہ میں نے ان کے دونوں رخساروں پر دیکھا گویا موتیوں کی لڑی ہو ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میرے پاس شانے کی ہڈی اور دوات لاؤ ۔ ۔ یا تختی اور دوات ۔ ۔ میں تمہیں ایک کتاب ( تحریر ) لکھ دوں ، اس کے بعد تم ہرگز کبھی گمراہ نہ ہو گے ۔ " تو لوگوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیماری کے زیر اثر گفتگو فرما رہے ہیں
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ يَوْمُ الْخَمِيسِ وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ . ثُمَّ جَعَلَ تَسِيلُ دُمُوعُهُ حَتَّى رَأَيْتُ عَلَى خَدَّيْهِ كَأَنَّهَا نِظَامُ اللُّؤْلُؤِ . قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " ائْتُونِي بِالْكَتِفِ وَالدَّوَاةِ - أَوِ اللَّوْحِ وَالدَّوَاةِ - أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَدًا " . فَقَالُوا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَهْجُرُ .
#4234
Ibn Abbas reported:When Allah's Messenger (ﷺ) was about to leave this world, there were persons (around him) in his house, 'Umar b. al-Kbattab being one of them. Allah's Apostle (ﷺ) said: Come, I may write for you a document; you would not go astray after that. Thereupon Umar said: Verily Allah's Messenger (ﷺ) is deeply afflicted with pain. You have the Qur'an with you. The Book of Allah is sufficient for us. Those who were present in the house differed. Some of them said: Bring him (the writing material) so that Allah's Messenger (ﷺ) may write a document for you and you would never go astray after him And some among them said what 'Umar had (already) said. When they indulged in nonsense and began to dispute in the presence of Allah's Messenger (ﷺ), he said: Get up (and go away) 'Ubaidullah said: Ibn Abbas used to say: There was a heavy loss, indeed a heavy loss, that, due to their dispute and noise. Allah's Messenger (ﷺ) could not write (or dictate) the document for them
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا وقت قریب آیا ، گھر میں کچھ آدمی موجود تھے ، ان میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے ، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" میرے پاس آؤ ، میں تمہیں ایک کتاب ( تحریر ) لکھ دوں ، اس کے بعد تم گمراہ نہیں ہو گے ۔ "" تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر تکلیف اور درد کا غلبہ ہے اور تمہارے پاس قرآن موجود ہے ، ہمیں اللہ کی کتاب کافی ہے ۔ اس پر گھر کے افراد نے اختلاف کیا اور جھگڑ پڑے ، ان میں سے کچھ کہہ رہے تھے : ( لکھنے کا سامان ) قریب لاؤ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں کتاب لکھ دیں تاکہ اس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو ۔ اور ان میں سے کچھ وہی کہہ رہے تھے جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا تھا ۔ جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس زیادہ شور اور اختلاف کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اٹھ جاؤ ۔ "" عبیداللہ نے کہا : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے : یقینا مصیبت تھی بڑی مصیبت جو ان کے اختلاف اور شور کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے وہ تحریر لکھنے کے درمیان حائل ہو گئی ( کہ آپ کتابت نہ کرا سکے)
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، - قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، - أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لَمَّا حُضِرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَفِي الْبَيْتِ رِجَالٌ فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " هَلُمَّ أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لاَ تَضِلُّونَ بَعْدَهُ " . فَقَالَ عُمَرُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ غَلَبَ عَلَيْهِ الْوَجَعُ وَعِنْدَكُمُ الْقُرْآنُ حَسْبُنَا كِتَابُ اللَّهِ . فَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْبَيْتِ فَاخْتَصَمُوا فَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ قَرِّبُوا يَكْتُبْ لَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ . وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ مَا قَالَ عُمَرُ . فَلَمَّا أَكْثَرُوا اللَّغْوَ وَالاِخْتِلاَفَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " قُومُوا " . قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ إِنَّ الرَّزِيَّةَ كُلَّ الرَّزِيَّةِ مَا حَالَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَبَيْنَ أَنْ يَكْتُبَ لَهُمْ ذَلِكَ الْكِتَابَ مِنِ اخْتِلاَفِهِمْ وَلَغَطِهِمْ .
#4235
Ibn Abbas reported that Sa'd b. Ubida asked Allah's Messenger (ﷺ) for a decision about a vow taken by his mother who had died before fulfilling it. Allah's Messenger (ﷺ) said:Fulfil it on her behalf
لیث نے ہمیں ابن شہاب سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا : حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس نذر کے بارے میں فتویٰ پوچھا جو ان کی والدہ کے ذمہ تھی ، وہ اسے پورا کرنے سے پہلے ہی فوت ہو گئی تھیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اسے ان کی طرف سے تم پورا کرو ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، قَالاَ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ، عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ اسْتَفْتَى سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ تُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَاقْضِهِ عَنْهَا" .
#4236
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with a different chains of transmitters
امام مالک ، ابن عیینہ ، یونس ، معمر اور بکر بن وائل سب نے زہری سے لیث کی مذکورہ سند کے ساتھ ، انہی کی حدیث کے ہم معنیٰ حدیث بیان کی
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، ح وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ، كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ، . بِإِسْنَادِ اللَّيْثِ وَمَعْنَى حَدِيثِهِ .
#4237
Abdullah b. Umar reported:Allah's Messenger (may peace he upon him) singled out one day forbidding us to take vows and said: It would not avert anything; it is by which something is extracted from the miserly person
جریر نے منصور سے ، انہوں نے عبداللہ بن مرہ سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ہمیں نذر سے منع کرنے لگے ، آپ فرمانے لگے : " یہ کسی چیز کو نہیں ٹالتی ، اس کے ذریعے سے تو بخیل سے ( اللہ کی راہ میں کچھ ) نکلوایا جاتا ہے
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ، زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا يَنْهَانَا عَنِ النَّذْرِ وَيَقُولُ " إِنَّهُ لاَ يَرُدُّ شَيْئًا وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الشَّحِيحِ " .
#4238
Ibn Umar reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:The vow neither hastens anything nor defers anything, but is the means whereby (something) is extracted from the miserly person
عبداللہ بن دینار نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " نذر کسی چیز کو آگے کرتی ہے نہ پیچھے ، اس کے ذریعے سے تو بخیل سے ( مال ) نکلوایا جاتا ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ، دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " النَّذْرُ لاَ يُقَدِّمُ شَيْئًا وَلاَ يُؤَخِّرُهُ وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ "
#4239
Ibn Umar reported that Allah's Apostle (ﷺ) forbade (people) taking vows, and said:It does not (necessarily) bring good (in the form of substantial, and tangible results), but it is the meant whereby something is extracted from the miserly persons
شعبہ نے ہمیں منصور سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبداللہ بن مرہ سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے نذر سے منع کیا اور فرمایا : " بلاشبہ یہ کوئی خیر لے کر نہیں آتی ، اس کے ذریعے سے تو بخیل سے ( کچھ ) نکلوایا جاتا ہے
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ نَهَى عَنِ النَّذْرِ وَقَالَ " إِنَّهُ لاَ يَأْتِي بِخَيْرٍ وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ " .
#4240
This hadith has been narrated on the authority of Mansur with the same chain of transmitters
مفضل اور سفیان دونوں نے منصور سے اسی سند کے ساتھ جریر کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، كِلاَهُمَا عَنْ مَنْصُورٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ جَرِيرٍ .
#4241
Abu Heraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Do not take vows, for a vow has no effect against Fate; it is only from the miserly that something is extracted
عبدالعزیز دراوردی نے ہمیں علاء سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " نذر نہ مانا کرو ، نذر تقدیر کے معاملے میں کوئی فائدہ نہیں دیتی ، اس کے ذریعے سے تو بخیل سے ( مال ) نکلوایا جاتا ہے
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ - عَنِ الْعَلاَءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَنْذُرُوا فَإِنَّ النَّذْرَ لاَ يُغْنِي مِنَ الْقَدَرِ شَيْئًا وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ " .
#4242
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) forbidding taking of vows, and said:It does not avert Fate, but is the means by which something is extracted from the miser
شعبہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : میں نے علاء سے سنا ، وہ اپنے والد سے اور وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے منت ماننے سے منع کیا اور فرمایا : " یہ تقدیر کے کسی فیصلے کو نہیں ٹال سکتی ، اس کے ذریعے سے تو بخیل سے ( مال ) نکلوایا جاتا ہے
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ الْعَلاَءَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ نَهَى عَنِ النَّذْرِ وَقَالَ " إِنَّهُ لاَ يَرُدُّ مِنَ الْقَدَرِ وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ " .
#4243
Abu Huraira reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:The vow does not bring anything near to the son of Adam which Allah has not ordained for him, but (at times) the vow coincides with Destiny, and this is how something is extracted from the miserly person, which that miser was not willing to give
اسماعیل بن جعفر نے ہمیں عمرو بن ابی عمرو سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبدالرحمان اعرج سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " بلاشبہ نذر کسی چیز کو ابن آدم کے قریب نہیں کرتی ، جو اللہ نے اس کے لیے مقدر نہیں کی ، بلکہ نذر تقدیر کے ساتھ موافقت کرتی ہے ، اس کے ذریعے سے بخیل سے وہ کچھ نکلوایا جاتا ہے جسے بخیل نکالنا نہیں چاہتا
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - عَنْ عَمْرٍو، - وَهْوَ ابْنُ أَبِي عَمْرٍو - عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ النَّذْرَ لاَ يُقَرِّبُ مِنِ ابْنِ آدَمَ شَيْئًا لَمْ يَكُنِ اللَّهُ قَدَّرَهُ لَهُ وَلَكِنِ النَّذْرُ يُوَافِقُ الْقَدَرَ فَيُخْرَجُ بِذَلِكَ مِنَ الْبَخِيلِ مَا لَمْ يَكُنِ الْبَخِيلُ يُرِيدُ أَنْ يُخْرِجَ " .
#4244
This hadith has been transmitted on the authority of 'Amr b. Abu 'Amr
عقوب بن عبدالرحمان القاری اور عبدالعزیز دراوردی دونوں نے عمرو بن ابی عمرو سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ - وَعَبْدُ الْعَزِيزِ - يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ - كِلاَهُمَا عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
#4245
Imran b. Husain reported that the tribe of Thaqif was the ally of Banu 'Uqail. Thaqif took two persons from amongst the Companions of Allah's Messenger (ﷺ) as prisoners. The Companions of Allah's Messenger (ﷺ) took one person at Banu Uqail as prisoner, and captured al-'Adbi (the she-camel of the Holy Prophet) along with him. Allah's Messenger (ﷺ) came to him and he was tied with ropes. He said:Muhammad. He came near him and said: What is the matter with you? Thereupon he (the prisoner) said: Why have you taken me as prisoner and why have you caught hold of one proceeding the pilgrims (the she-camel as she carried the Prophet on her back and walked ahead of the multitude)? He (the Holy Prophet) said: (Yours is a great fault). I (my men) have caught hold of you for the crime of your allies, Banu Thaqif. He (the Holy Prophet) then turned away. He again called him and said: Muhammad, Muhammad, and since Allah's Messenger (ﷺ) was very compassionate, and tenderhearted, he returned to him, and said: What is the matter with you? He said: I am a Muslim, whereupon he (the Holy Prophet) said: Had you said this when you had been the master of yourself, you would have gained every success. He then turned away. He (the prisoner) called him again saying: Muhammad, Muhammad. He came to him and said: What is the matter with you? He said: I am hungry, feed me, and I am thirsty, so provide me with drink. He (the Holy Prophet) said: That is (to satisfy) your want. He was then ransomed for two persons (who had been taken prisoner by Thaqif). He (the narrator) said: A woman of the Ansar had been taken prisoner and also al-Adbi' was caught. The woman had been tied with ropes. The people were giving rest to their animals before their houses. She escaped one night from the bondage and came to the camels. As she drew near the camels, they fretted and fumed and so she left them until she came to al-, Adbi'. It did not fret and fume; it was docile She rode upon its back and drove it away and she went off. When they (the enemies of Islam) were warned of this, they went in search of it, but it (the she-camel) exhausted them. She (the woman) took vow for Allah, that in case He would save her through it, she would offer that as a sacrifice. As she reached Medina, the people saw her and they said: Here is al-Adbi, the she-camel of Allah's Messenger (ﷺ). She (the woman) said that she had taken a vow that if Allah would save her on its back, she would sacrifice it. They (the Prophet's Companions) came to Allah's Messenger (ﷺ) and made a mention of that to him, whereupon he said: Hallowed be Allah, how ill she rewarded it that she took vow to Allah that if He saves her on its back, she would sacrifice it! There is no fulfillment of the vow in an act of disobedience, nor in an act over which a person has no control. In the version of Ibn Hujr (the words are):" There is no vow in disobedience to Allah
مجھے زہیر بن حرب اور علی بن حجر سعدی نے حدیث بیان کی ۔ ۔ الفاظ زہیر کے ہیں ۔ ۔ ان دونوں نے کہا ہمیں اسماعیل بن ابراہیم نے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں ایوب نے ابوقلابہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابومہلب سے اور انہوں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ثقیف ، بنو عقیل کے حلیف تھے ، ثقیف نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے دو آدمیوں کو قید کر لیا ، ( بدلے میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے بنو عقیل کے ایک آدمی کو قیدی بنا لیا اور انہوں نے اس کے ساتھ اونٹنی عضباء بھی حاصل کر لی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس آدمی کے پاس سے گزرے ، وہ بندھا ہوا تھا ، اس نے کہا : اے محمد! آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے اور پوچھا : "" کیا بات ہے؟ "" اس نے کہا : آپ نے مجھے کس وجہ سے پکڑا ہوا اور حاجیوں ( کی سواریوں ) سے سبقت لے جانے والی اونٹنی کو کیوں پکڑا ہے؟ آپ نے ۔ ۔ اس معاملے کو سنگین خیال کرتے ہوئے ۔ ۔ جواب دیا : "" میں نے تمہیں تمہارے حلیف ثقیف کے جرم کی بنا پر ( اس کے ازالے کے لیے ) پکڑا ہے ۔ "" پھر آپ وہاں سے پلٹے تو اس نے ( پھر سے ) آپ کو آواز دی اور کہا : اے محمد! اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت رحم کرنے والے ، نرم دل تھے ۔ پھر سے آپ اس کے پاس واپس آئے اور فرمایا : "" کیا بات ہے؟ "" اس نے کہا : ( اب ) میں مسلمان ہوں ۔ آپ نے فرمایا : اگر تم یہ بات اس وقت کہتے جب تم اپنے مالک آپ تھے ( آزاد تھے ) تو تم پوری بھلائی حاصل کر لیتے ( اب بھی ملے گی لیکن پوری نہ ہو گی ۔ ) "" پھر آپ پلٹے تو اس نے آپ کو آواز دی اور کہا : اے محمد! اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! آپ ( پھر ) اس کے پاس آئے اور پوچھا : "" کیا بات ہے؟ "" اس نے کہا : میں بھوکا ہوں مجھے ( کھانا ) کھلائیے اور پیاسا ہوں مجھے ( پانی ) پلائیے ۔ آپ نے فرمایا : "" ( ہاں ) یہ تمہاری ( فورا پوری کی جانے والی ) ضرورت ہے ۔ "" اس کے بعد ( معاملات طے کر کے ) اسے دونوں آدمیوں کے بدلے میں چھوڑ دیا گیا ۔ ( اونٹنی پیچھے رہ گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حصے میں آئی ۔ لیکن مشرکین نے دوبارہ حملے کر کے پھر اسے اپنے قبضے میں لے لیا ۔ ) کہا : ( بعد میں ، غزوہ ذات القرد کے موقع پر ، مدینہ پر حملے کے دوران ) ایک انصاری عورت قید کر لی گئی اور عضباء اونٹنی بھی پکڑ لی گئی ، عورت بندھنوں میں ( جکڑی ہوئی ) تھی ۔ لوگ اپنے اونٹ اپنے گھروں کے سامنے رات کو آرام ( کرنے کے لیے بٹھا ) دیتے تھے ، ایک رات وہ ( خاتون ) اچانک بیڑیوں ( بندھنوں ) سے نکل بھاگی اور اونٹوں کے پاس آئی ، وہ ( سواری کے لیے ) جس اونٹ کے بھی قریب جاتی وہ بلبلانے لگتا تو وہ اسے چھوڑ دیتی حتی کہ وہ عضباء تک پہنچ گئی تو وہ نہ بلبلائی ، کہا : وہ سدھائی ہوئی اونٹنی تھی تو وہ اس کی پیٹھ کے پچھلے حصے پر بیٹھی ، اور اسے دوڑایا تو وہ چل پڑی ۔ لوگوں کو اس ( کے جانے ) کا علم ہو گیا ، انہوں نے اس کا تعاقب کیا لیکن اس نے انہیں بے بس کر دیا ۔ کہا : اس عورت نے اللہ کے لیے نذر مانی کہ اگر اللہ نے اس اونٹنی پر اسے نجات دی تو وہ اسے ( اللہ کی رضا کے لیے ) نحر کر دے گی ۔ جب وہ مدینہ پہنچی ، لوگوں نے اسے دیکھا تو کہنے لگے : یہ عضباء ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی ۔ وہ عورت کہنے لگی کہ اس نے یہ نذر مانی ہے کہ اگر اللہ نے اسے اس اونٹنی پر نجات عطا فرما دی تو وہ اس اونٹنی کو ( اللہ کی راہ میں ) نحر کر دے گی ۔ اس پر لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو یہ بات بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" سبحان اللہ! اس عورت نے اسے جو بدلہ دیا وہ کتنا برا ہے! اس نے اللہ کے لیے یہ نذر مانی ہے کہ اگر اللہ نے اس کو اس اونٹنی پر نجات دے دی تو وہ اسے ذبح کر دے گی ، معصیت میں نذر پوری نہیں کی جا سکتی ، نہ ہی اس چیز میں جس کا بندہ مالک نہ ہو ۔ "" ابن حجر کی روایت میں ہے : "" اللہ کی معصیت میں کوئی نذر ( جائز ) نہیں
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ كَانَتْ ثَقِيفُ حُلَفَاءَ لِبَنِي عُقَيْلٍ فَأَسَرَتْ ثَقِيفُ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَسَرَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً مِنْ بَنِي عُقَيْلٍ وَأَصَابُوا مَعَهُ الْعَضْبَاءَ فَأَتَى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ فِي الْوَثَاقِ قَالَ يَا مُحَمَّدُ . فَأَتَاهُ فَقَالَ " مَا شَأْنُكَ " . فَقَالَ بِمَ أَخَذْتَنِي وَبِمَ أَخَذْتَ سَابِقَةَ الْحَاجِّ فَقَالَ إِعْظَامًا لِذَلِكَ " أَخَذْتُكَ بِجَرِيرَةِ حُلَفَائِكَ ثَقِيفَ " . ثُمَّ انْصَرَفَ عَنْهُ فَنَادَاهُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ . وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَحِيمًا رَقِيقًا فَرَجَعَ إِلَيْهِ فَقَالَ " مَا شَأْنُكَ " . قَالَ إِنِّي مُسْلِمٌ . قَالَ " لَوْ قُلْتَهَا وَأَنْتَ تَمْلِكُ أَمْرَكَ أَفْلَحْتَ كُلَّ الْفَلاَحِ " . ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَادَاهُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ . فَأَتَاهُ فَقَالَ " مَا شَأْنُكَ " . قَالَ إِنِّي جَائِعٌ فَأَطْعِمْنِي وَظَمْآنُ فَأَسْقِنِي . قَالَ " هَذِهِ حَاجَتُكَ " . فَفُدِيَ بِالرَّجُلَيْنِ - قَالَ - وَأُسِرَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ وَأُصِيبَتِ الْعَضْبَاءُ فَكَانَتِ الْمَرْأَةُ فِي الْوَثَاقِ وَكَانَ الْقَوْمُ يُرِيحُونَ نَعَمَهُمْ بَيْنَ يَدَىْ بُيُوتِهِمْ فَانْفَلَتَتْ ذَاتَ لَيْلَةٍ مِنَ الْوَثَاقِ فَأَتَتِ الإِبِلَ فَجَعَلَتْ إِذَا دَنَتْ مِنَ الْبَعِيرِ رَغَا فَتَتْرُكُهُ حَتَّى تَنْتَهِيَ إِلَى الْعَضْبَاءِ فَلَمْ تَرْغُ قَالَ وَنَاقَةٌ مُنَوَّقَةٌ فَقَعَدَتْ فِي عَجُزِهَا ثُمَّ زَجَرَتْهَا فَانْطَلَقَتْ وَنَذِرُوا بِهَا فَطَلَبُوهَا فَأَعْجَزَتْهُمْ - قَالَ - وَنَذَرَتْ لِلَّهِ إِنْ نَجَّاهَا اللَّهُ عَلَيْهَا لَتَنْحَرَنَّهَا فَلَمَّا قَدِمَتِ الْمَدِينَةَ رَآهَا النَّاسُ . فَقَالُوا الْعَضْبَاءُ نَاقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَقَالَتْ إِنَّهَا نَذَرَتْ إِنْ نَجَّاهَا اللَّهُ عَلَيْهَا لَتَنْحَرَنَّهَا . فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ . فَقَالَ " سُبْحَانَ اللَّهِ بِئْسَمَا جَزَتْهَا نَذَرَتْ لِلَّهِ إِنْ نَجَّاهَا اللَّهُ عَلَيْهَا لَتَنْحَرَنَّهَا لاَ وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةٍ وَلاَ فِيمَا لاَ يَمْلِكُ الْعَبْدُ " . وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ حُجْرٍ " لاَ نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ " .
#4246
This hadith is narrated on the authority of Ayyub with the same chain of transmitters and a slight variation of words
حماد بن زید اور عبدالوہاب ثفقی دونوں نے ایوب سے اسی سند کے ساتھ اس کے ہم معنی حدیث بیان کی ، حماد کی حدیث میں ہے : انہوں نے کہا : عضباء اونٹنی بنو عقیل کے ایک آدمی کی تھی اور وہ حاجیوں کی سواریوں میں سب سے آگے رہنے والی اونٹنیوں میں سے تھی ( تیز رفتار تھی ۔ ) اور ان کی حدیث میں یہ بھی ہے : اور وہ ( قیدی عورت ) سدھائی ہوئی مَشاق اونٹنی پر ( بیٹھ کر ) آئی ، اور ثقفی کی حدیث میں ہے : وہ سدھائی ہوئی اونٹنی تھی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيِّ، كِلاَهُمَا عَنْ أَيُّوبَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَفِي حَدِيثِ حَمَّادٍ قَالَ كَانَتِ الْعَضْبَاءُ لِرَجُلٍ مِنْ بَنِي عُقَيْلٍ وَكَانَتْ مِنْ سَوَابِقِ الْحَاجِّ وَفِي حَدِيثِهِ أَيْضًا فَأَتَتْ عَلَى نَاقِةٍ ذَلُولٍ مُجَرَّسَةٍ . وَفِي حَدِيثِ الثَّقَفِيِّ وَهِيَ نَاقَةٌ مُدَرَّبَةٌ .
#4247
Anas reported that Allah's Apostle (ﷺ) saw an old man being supported between his two sons. He (the Holy Prophet) said:What is the matter with him? They said: He had taken the vow to walk (on foot to the Ka'ba). Thereupon he (Allah's Apoitle) said: Allah is indifferent to his inflicting upon himself chastisement, and he commanded him to ride
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بوڑھے آدمی کو دیکھا وہ اپنے دو بیٹیوں کے سہارے چلا کر لے جایا جا رہا تھا ، آپ نے پوچھا : " اس کا کیا معاملہ ہے؟ " لوگوں نے کہا : اس نے پیدل چلنے کی نذر مانی ہے ۔ آپ نے فرمایا : " بلاشبہ اللہ تعالیٰ اس شخص کے اپنے آپ کو عذاب دینے سے بے نیاز ہے ۔ " اور ( اس کے پاس پیدل چل کر جانے کی استطاعت ہی نہ تھی ، اس لیے ) آپ نے اسے سوار ہونے کا حکم دیا
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، ح. وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، حَدَّثَنِي ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَأَىَ شَيْخًا يُهَادَى بَيْنَ ابْنَيْهِ فَقَالَ " مَا بَالُ هَذَا " . قَالُوا نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ . قَالَ " إِنَّ اللَّهَ عَنْ تَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ لَغَنِيٌّ " . وَأَمَرَهُ أَنْ يَرْكَبَ .
#4248
Abu Huraira reported:Allah's Apostle (ﷺ) found an old man walking between his two sons supported by them, whereupon Allah's Apostle (ﷺ) said: What is the matter with him? He (the narrator) said: Allah's Messenger, they are his sons and there is upon him the (fulfilment) of the vow, whereupon Allah's Apostle (ﷺ) said: Ride, old man, for Allah is not in need of you and your vow
یحییٰ بن ایوب ، قتیبہ اور ابن حجر نے ہمیں حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں اسماعیل بن جعفر نے عمرو بن ابی عمرو سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبدالرحمان اعرج سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک بوڑھے آدمی کو ملے جو اپنے دو بیٹوں کے درمیان ، ان کا سہارا لیے چل رہا تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : " اس کا معاملہ کیا ہے؟ " اس کے دونوں بیٹوں نے کہا : اللہ کے رسول! اس کے ذمے نذر تھی ۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اے بزرگ! سوار ہو جاؤ ، اللہ تعالیٰ تم سے اور تمہاری نذر سے بے نیاز ہے ( اسے اس کی ضرورت نہیں ۔ ) ۔ ۔ الفاظ قتیبہ اور ابن حجر کے ہیں
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - عَنْ عَمْرٍو، - وَهُوَ ابْنُ أَبِي عَمْرٍو - عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَدْرَكَ شَيْخًا يَمْشِي بَيْنَ ابْنَيْهِ يَتَوَكَّأُ عَلَيْهِمَا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَا شَأْنُ هَذَا " . قَالَ ابْنَاهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَانَ عَلَيْهِ نَذْرٌ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " ارْكَبْ أَيُّهَا الشَّيْخُ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنْكَ وَعَنْ نَذْرِكَ " . وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ وَابْنِ حُجْرٍ .
#4249
This hadith has been narrated on the authority of 'Amr b. Abu 'Amr with the same chain of transmitters
عبدالعزیز دراوردی نے عمرو بن ابی عمرو سے ، اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ - عَنْ عَمْرِو، بْنِ أَبِي عَمْرٍو بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .