#4125
Abu Huraira (Allah be pleased with him) said he heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Swearing produces a ready sale for a commodity, but blots out the blessing
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : " قسم سامان کو فروغ دینے والی ، ( بعد ازاں ) نفع کو مٹانے والی ہے ۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ الأُمَوِيُّ، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، بْنُ يَحْيَى قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، كِلاَهُمَا عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " الْحَلِفُ مَنْفَقَةٌ لِلسِّلْعَةِ مَمْحَقَةٌ لِلرِّبْحِ " .
#4126
Abu Qatada al-Ansari (Allah be pleased with him) reported he heard Allah's Messenger (ﷺ) say:Beware of swearing; it produces a ready sale for a commodity, but blots out the blessing
حضرت ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : " بیع میں زیادہ قسمیں کھانے سے بچو کیونکہ وہ ( پہلے بیع کو ) فروغ دیتی ہے ، پھر ( نفع کو ) مٹا دیتی ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ أَبِي شَيْبَةَ - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِيَّاكُمْ وَكَثْرَةَ الْحَلِفِ فِي الْبَيْعِ فَإِنَّهُ يُنَفِّقُ ثُمَّ يَمْحَقُ " .
#4127
Jabir b. 'Abdullah (Allah be pleased with them) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:He who has a partner in a dwelling or a garden, it is not lawful for him to sell that until he is permitted by his partner. If he (the partner) agrees, he should go in for that, and if he disapproves of that, he should abandon (the idea of selling it)
ابوخثیمہ نے ہمیں ابوزبیر سے خبر دی ، اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس شخص کا گھر میں یا باغ میں کوئی شریک ہو تو اسے حق نہیں کہ اسے بیچے ، یہاں تک کہ اپنے شریک کو بتائے ، پھر اگر وہ راضی ہو تو ( اسے ) لے لے اور اگر ناپسند کرے تو چھوڑ دے ۔ " ( اور وہ دوسرے کو بیچ دیا جائے ۔)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ كَانَ لَهُ شَرِيكٌ فِي رَبْعَةٍ أَوْ نَخْلٍ فَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَبِيعَ حَتَّى يُؤْذِنَ شَرِيكَهُ فَإِنْ رَضِيَ أَخَذَ وَإِنْ كَرِهَ تَرَكَ " .
#4128
Jabir bin 'Abdullah (Allah be pleased with them) said that the Messenger of Allah (ﷺ) decreed pre-emption in every joint ownership and not divided-the one-it may be a dwelling or a garden. It is not lawful for him (for the partner) to sell that until his partner gives his consent. He (the partner) is entitled to buy it when he desires and he can abandon it if he so likes. And if he (the one partner) sells it without getting the consent of the (other partner), he has the greatest right to it
عبداللہ بن ادریس نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابن جریج نے ابوزبیر سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مشترک جائیداد پر ، جو تقسیم نہ ہوئی ہو شفعہ کا فیصلہ فرمایا ، وہ گھر ہو یا باغ ہو اس کے لیے ( جو اس کا شریک ملکیت ہے ) اسے بیچنا جائز نہیں یہاں تک کہ وہ اپنے شریک کو بتائے اگر وہ ( شریک ) چاہے تو لے لے اور اگر چاہے تو چھوڑ دے ۔ اگر اس نے ( اسے ) فروخت کر دیا اور اس ( شریک ) کو اطلاق نہ دی تو یہی اس کا زیادہ حقدار ہو گا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ نُمَيْرٍ - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالشُّفْعَةِ فِي كُلِّ شِرْكَةٍ لَمْ تُقْسَمْ رَبْعَةٍ أَوْ حَائِطٍ . لاَ يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَبِيعَ حَتَّى يُؤْذِنَ شَرِيكَهُ فَإِنْ شَاءَ أَخَذَ وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ فَإِذَا بَاعَ وَلَمْ يُؤْذِنْهُ فَهْوَ أَحَقُّ بِهِ .
#4129
Jabir b. 'Abdullah (Allah be pleased with them) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:There is pre-emption in everything which is shared, be it land, or a dwelling or a garden. It is not proper to sell it until he informs his partner; he may go in for that, or he may abandon it; and it he (the partner intending to sell his share) does not do that, then his partner has the greatest right to it until he permits him
ابن وہب نے ہمیں ابن جریج سے خبر دی کہ انہیں ابوزبیر نے بتایا کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہر مشترک جائیداد ، زمین ، گھر یا باغ میں شفعہ ہے ۔ ( کسی ایک شریک کے لیے ) اسے فروخت کرنا درست نہیں جب تک کہ وہ اپنے شریک کو پیشکش ( نہ ) کرے وہ ( چاہے تو ) اسے لے لے یا چھوڑ دے ۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو اس کا شریک ہی اس کا زیادہ حقدار ہے جب تک کہ اسے بتا نہ دے ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الشُّفْعَةُ فِي كُلِّ شِرْكٍ فِي أَرْضٍ أَوْ رَبْعٍ أَوْ حَائِطٍ لاَ يَصْلُحُ أَنْ يَبِيعَ حَتَّى يَعْرِضَ عَلَى شَرِيكِهِ فَيَأْخُذَ أَوْ يَدَعَ فَإِنْ أَبَى فَشَرِيكُهُ أَحَقُّ بِهِ حَتَّى يُؤْذِنَهُ " .
#4130
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:None among you should prevent his neighbour from fixing a beam in his wall. Abu Huraira (Allah be pleased with him) then said: What is this that I see you evading (this injunction of the Holy Prophet)? By Allah, I will certainly throw it between your shoulders (narrate this to you)
سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”کوئی تم سے اپنے ہمسایہ کو اپنی دیوار میں لکڑی گاڑنے سے منع نہ کرے ۔ “ (کیونکہ یہ مروت کے خلاف ہے اور اپنا کوئی نقصان نہیں بلکہ اگر ہمسایہ ادھر چھت ڈالے تو اور دیوار کی حفاظت ہے) سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے تھے (لوگوں سے) میں دیکھتا ہوں تم اس حدیث سے دل چراتے ہو ، قسم اللہ کی ! میں اس کو بیان کروں گا تم لوگوں میں ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَمْنَعْ أَحَدُكُمْ جَارَهُ أَنْ يَغْرِزَ خَشَبَةً فِي جِدَارِهِ " . قَالَ ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ مَا لِي أَرَاكُمْ عَنْهَا مُعْرِضِينَ وَاللَّهِ لأَرْمِيَنَّ بِهَا بَيْنَ أَكْتَافِكُمْ .
#4131
This hadith is narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transrmitters
سفیان بن عیینہ ، یونس اور معمر سب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی ۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، بْنُ يَحْيَى قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ، الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
#4132
Sa'id b. Zaid b. 'Amr b. Nufail (Allah be pleased with them) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:He who wrongly took a span of land, Allah shall make him carry around his neck seven earths
عباس بن سہل بن سعد ساعدی نے حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس کسی نے زمین کی ایک بالشت ( بھی ) ظلم کرتے ہوئے کاٹ لی ، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے سات زمینوں سے اس کا طوق ( بنا کر ) پہنائے گا ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنِ اقْتَطَعَ شِبْرًا مِنَ الأَرْضِ ظُلْمًا طَوَّقَهُ اللَّهُ إِيَّاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ " .
#4133
Sa'id b. Zaid b. 'Amr b. Nufail (Allah be pleased with them) reported that Arwi (bint Uwais) disputed with him (in regard to a part of the land) of his hodse. He said:Leave it and take off your claim from it, for I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: He who took a span of land without his right would be made to wear around his neck seven earths on the Day of Resurrection. He (Sa'id b. Zaid) said: O Allah, make her blind if she has told a lie and make her grave in her house. He (the narrator) said: I saw her blind groping (her way) by touching the walls and saying: The curse of Sa'id b. Zaid has hit me. And it so happened that as she was walking in her house, she passed by a well in her house and fell therein and that be- came her grave
عمر بن محمد کے والد ( محمد بن زید ) نے حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ ارویٰ نے ان کے ساتھ گھر کے کسی حصے کے بارے میں جھگڑا کیا تو انہوں نے کہا : اسے اور گھر کو چھوڑ دو ، ( جو چاہے کرتی رہے ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا ، آپ فرما رہے تھے : "" جس نے حق کے بغیر ایک بالشت زمین بھی حاصل کی ، قیامت کے دن وہ سات زمینوں ( تک ) اس کی گردن کا طوق بنا دی جائے گی ۔ "" ( پھر اس کی ایذا رسانی سے تنگ آ کر انہوں نے دعا کی : ) اے اللہ! اگر یہ جھوٹی ہے تو اس کی آنکھوں کو اندھا کر دے اور اس کے گھر ہی میں اس کی قبر بنا دے ۔ ( محمد بن زید نے ) کہا : میں نے اس عورت کو دیکھا وہ اندھی ہو گئی تھی ، دیواریں ٹٹولتی پھرتی تھی اور کہتی تھی : مجھے سعید بن زید کی بددعا لگ گئی ہے ۔ ایک مرتبہ وہ گھر میں چل رہی تھی ، گھر میں کنویں کے پاس سے گزری تو اس میں گزر گئی اور وہی کنواں اس کی قبر بن گیا ۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَنَّحَدَّثَهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، أَنَّ أَرْوَى، خَاصَمَتْهُ فِي بَعْضِ دَارِهِ فَقَالَ دَعُوهَا وَإِيَّاهَا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الأَرْضِ بِغَيْرِ حَقِّهِ طُوِّقَهُ فِي سَبْعِ أَرَضِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . اللَّهُمَّ إِنْ كَانَتْ كَاذِبَةً فَأَعْمِ بَصَرَهَا وَاجْعَلْ قَبْرَهَا فِي دَارِهَا . قَالَ فَرَأَيْتُهَا عَمْيَاءَ تَلْتَمِسُ الْجُدُرَ تَقُولُ أَصَابَتْنِي دَعْوَةُ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ . فَبَيْنَمَا هِيَ تَمْشِي فِي الدَّارِ مَرَّتْ عَلَى بِئْرٍ فِي الدَّارِ فَوَقَعَتْ فِيهَا فَكَانَتْ قَبْرَهَا.
#4134
Hisham b. Urwa reported on the authority of his father (Allah be pleased with him) that Arwa bint Uwais disputed with Sa'id b. Zaid that he had seized some of the land belonging to her. She brought this dispute before Marwan b. al-Hakam. Sa'id said:How could I take a part of her land, after what I heard from Allah's Messenger (may peace be upon'him)? He (Marwan) said: What did you hear from Allah's Messenger (ﷺ)? He said: I heard Allah's Messenger (ﷺ) say: He who wrongly took a span of land would be made to wear around his neck seven earths. Marwan said: I do not ask any evidence from you after this. He (Sa'id) said: O Allah, make her blind if she has told a lie and kill her in her own land. He (the narrator) said: She did not die until she had lost her eyesight, and (one day) as she was walking in her land, she fell down into a pit and died
حماد بن زید نے ہمیں ہشام بن عروہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ ارویٰ بنت اویس نے سعید بن زید رضی اللہ عنہ کے خلاف دعویٰ کیا کہ انہوں نے اس کی کچھ زمین پر قبضہ کر لیا ہے اور مروان بن حکم کے پاس مقدمہ لے کر گئی تو حضرت سعید رضی اللہ عنہ نے کہا : کیا میں اس بات کے بعد بھی اس کی زمین کے کسی حصے پر قبضہ کر سکتا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی؟ اس ( مروان ) نے کہا : آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا سنا؟ انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : " جس نے ( عام یا کسی کی ) زمین میں سے ایک بالشت بھی ظلم سے حاصل کی اسے سات زمینوں تک کا طوق پہنایا جائے گا ۔ " تو مروان نے ان سے کہا : اس کے بعد میں آپ سے کسی شہادت کا مطالبہ نہیں کروں گا ۔ اس کے بعد انہوں ( سعید ) نے کہا : اے اللہ! اگر یہ جھوٹی ہے تو اس کی آنکھوں کو اندھا کر دے اور اسے اس کی زمین ہی میں ہلاک کر دے ۔ ( عروہ نے ) کہا : وہ ( اس وقت تک ) نہ مری یہاں تک کہ اس کی بینائی ختم ہو گئی ، پھر ایک مرتبہ وہ اپنی زمین میں چل رہی تھی کہ ایک گڑھے میں جا گری اور مر گئی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَرْوَى بِنْتَ أُوَيْسٍ، ادَّعَتْ عَلَى سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ أَخَذَ شَيْئًا مِنْ أَرْضِهَا فَخَاصَمَتْهُ إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ . فَقَالَ سَعِيدٌ أَنَا كُنْتُ آخُذُ مِنْ أَرْضِهَا شَيْئًا بَعْدَ الَّذِي سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ وَمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الأَرْضِ ظُلْمًا طُوِّقَهُ إِلَى سَبْعِ أَرَضِينَ " . فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ لاَ أَسْأَلُكَ بَيِّنَةً بَعْدَ هَذَا . فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنْ كَانَتْ كَاذِبَةً فَعَمِّ بَصَرَهَا وَاقْتُلْهَا فِي أَرْضِهَا . قَالَ فَمَا مَاتَتْ حَتَّى ذَهَبَ بَصَرُهَا ثُمَّ بَيْنَا هِيَ تَمْشِي فِي أَرْضِهَا إِذْ وَقَعَتْ فِي حُفْرَةٍ فَمَاتَتْ .
#4135
Sa'id b. Zaid reported:I heard Allah's Apostle (ﷺ) say: He who took a span of earth wrongly would be made to wear around his neck seven earths on the Day of Resurrection
یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ نے ہمیں ہشام سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : " جس نے زمین میں سے ایک بالشت بھی ظلم کرتے ہوئے حاصل کی قیامت کے دن اسے سات زمینوں سے طوق پہنایا جائے گا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الأَرْضِ ظُلْمًا فَإِنَّهُ يُطَوَّقُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ " .
#4136
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (may peace he upon him) as saying:One should not take a span of land without having legitimate right to it, otherwise Allah would make him wear (around his neck) seven earths on the Day of Resurrection
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی شخص حق کے بغیر زمین کی ایک بالشت ( بھی ) حاصل نہیں کرتا مگر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے سات زمینوں تک کا طوق پہنائے گا ۔
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَأْخُذُ أَحَدٌ شِبْرًا مِنَ الأَرْضِ بِغَيْرِ حَقِّهِ إِلاَّ طَوَّقَهُ اللَّهُ إِلَى سَبْعِ أَرَضِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
#4137
Muhammad b. Ibrahim said that Abu Salama reported to him that there was between him and his people dispute over a piece of land, and he came to 'A'isha and mentioned that to her, whereupon she said:Abu Salama, abstain from getting this land, for Allah's Messenger (ﷺ) said: He who usurps even a span of land would be made to wear around his neck seven earths
حرب بن شداد نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں یحییٰ بن ابی کثیر نے محمد بن ابراہیم سے حدیث بیان کی ، انہیں ابوسلمہ نے حدیث بیان کی کہ ان کے اور ان کی قوم کے درمیان ایک زمین کے بارے میں جھگڑا تھا ، وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا تو انہوں نے کہا : ابوسلمہ! زمین سے کنارہ کش ہو جاؤ ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : " جس نے ایک بالشت برابر زمین پر بھی ظلم سے قبضہ کیا ، اسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْوَارِثِ - حَدَّثَنَا حَرْبٌ، - وَهُوَ ابْنُ شَدَّادٍ - حَدَّثَنَا يَحْيَى، - وَهُوَ ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ، إِبْرَاهِيمَ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ، حَدَّثَهُ وَكَانَ، بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَوْمِهِ خُصُومَةٌ فِي أَرْضٍ وَأَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهَا فَقَالَتْ يَا أَبَا سَلَمَةَ اجْتَنِبِ الأَرْضَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ ظَلَمَ قِيدَ شِبْرٍ مِنَ الأَرْضِ طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ " .
#4138
This hadith has been narrated on the authority of Abu Salama with another chain of transmitters
ابان نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں یحییٰ نے حدیث بیان کی کہ انہیں محمد بن ابراہیم نے حدیث بیان کی ، انہیں ابوسلمہ نے حدیث بیان کی کہ وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ ۔ آگے اسی کے مانند بیان کیا ۔
وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلاَلٍ، أَخْبَرَنَا أَبَانٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ، دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ .
#4139
Abu Haraira reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:When you disagree about a path, its breadth should be made seven cubits
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تمہارا راستے ( کی پیمائش ) کے بارے میں اختلاف ہو جائے تو اس ( راستے ) کی چوڑائی سات ہاتھ رکھی جائے ۔
حَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ، فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِي الطَّرِيقِ جُعِلَ عَرْضُهُ سَبْعَ أَذْرُعٍ " .
#4140
Usama b. Zaid reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:A Muslim is not entitled to inherit from a non-Muslim, and a non-Muslim is not entitled to inherit from a Muslim
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مسلمان کافر کا وارث نہیں بنتا ، نہ کافر مسلمان کا وارث بنتا ہے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ، حُسَيْنٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ وَلاَ يَرِثُ الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ " .
#4141
Ibn Abbas (Allah be pleased with them) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Give the shares to those who are entitled to them, and what remains over goes to the nearest male heir
وہیب نے ہمیں ابن طاوس سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مقررہ حصے حقداروں کو دو اور جو بچ جائے وہ سب سے قریبی رشتہ رکھنے والے مرد کے لیے ہے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، - وَهُوَ النَّرْسِيُّ - حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا فَمَا بَقِيَ فَهُوَ لأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ " .
#4142
Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Give the shares to those who are entitled to them, and what is left from those wno are entitled to it goes to the nearest male heir
روح بن قاسم نے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : " مقررہ حصے ان کے حقداروں کو دو اور ان سے جو باقی بچے وہ سب سے قریبی مرد کا ہے ۔
حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا فَمَا تَرَكَتِ الْفَرَائِضُ فَلأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ " .
#4143
Tawus reported on the authority of Ibn Abbas (Allah be pleased with them) narrating that Allah's Messenger (ﷺ) said:Distribute the property amongst Ahl al-Fara'id, according to the Book of Allah, and what is left out of them goes to the nearest male heir
معمر نے ہمیں ابن طاوس سے باقی ماندہ سابقہ سند سے روایت کی : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مال کو اللہ کی کتاب کی رو سے مقررہ کردہ حصے والوں کے درمیان تقسیم کرو اور جو ان حصوں سے بچ جائے وہ سب سے قریبی مرد کے لیے ہے ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ رَافِعٍ - قَالَ إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اقْسِمُوا الْمَالَ بَيْنَ أَهْلِ الْفَرَائِضِ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ فَمَا تَرَكَتِ الْفَرَائِضُ فَلأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ " .
#4144
There is another chain of Tawus reporting like the reports that were mentioned before the previous hadith chain through Tawus (the chains of Wuhaib and Rowh bin Qasim)
یحییٰ بن ایوب نے ابن طاوس سے اسی سند کے ساتھ وہیب اور روح بن قاسم کی حدیث کے ہم معنی روایت بیان کی
وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ أَبُو كُرَيْبٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ يَحْيَى، بْنِ أَيُّوبَ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . نَحْوَ حَدِيثِ وُهَيْبٍ وَرَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ .
#4145
Jabir b. 'Abdullah (Allah be pleased with them) reported:I fell sick and there came to me on foot Allah's Messenger (ﷺ) and Abu Bakr for inquiring after my health. I fainted. He (the Holy Prophet) performed ablution and then sprinkled over me the water of his ablution. I felt some relief and said: Allah's Messenger, how should I decide about my property? He said nothing to me in response until this verse pertaining to the law of inheritance was revealed:" They ask you for a decision; say: Allah gives you a decision concerning the person who has neither parents nor children" (iv)
سفیان بن عیینہ نے ہمیں محمد بن منکدر سے حدیث بیان کی : انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے کہا : میں بیمار ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ میری عیادت کرنے کے لیے پیدل چل کر تشریف لائے ، مجھ پر غشی ہو گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا ، پھر اپنے وضو کا پانی مجھ پر ڈالا تو مجھے افاقہ ہو گیا ، میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! میں اپنے مال کے بارے میں کیسے فیصلہ کروں؟ ( اس کو ایسے ہی چھوڑ جاؤں یا وصیت کروں ، وصیت کروں تو کتنے حصے میں؟ اس وقت حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے والد زندہ تھے نہ اور کوئی بیٹا تھا ۔ ) آپ نے مجھے جواب نہ دیا حتی کہ وراثت کی آیت نازل ہوئی : " وہ آپ سے فتویٰ مانتے ہیں ، کہہ دیجئے : اللہ تمہیں کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے ۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرٍ النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ، الْمُنْكَدِرِ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ مَرِضْتُ فَأَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو بَكْرٍ يَعُودَانِي مَاشِيَيْنِ فَأُغْمِيَ عَلَىَّ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَبَّ عَلَىَّ مِنْ وَضُوئِهِ فَأَفَقْتُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَقْضِي فِي مَالِي فَلَمْ يَرُدَّ عَلَىَّ شَيْئًا حَتَّى نَزَلَتْ آيَةُ الْمِيرَاثِ { يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلاَلَةِ}
#4146
Jabir b. 'Abdullah (Allah be pleased with him) reported:Allah's Apostle (ﷺ) and Abi Bakr (Allah be pleased with him) visited me on foot in Banu Salama, and found me unconscious. He (the Holy Prophet) called for water and performed ablution and sprinkled out of it (the water) over me. I felt relieved. I said: Allah's Messenger, what should I do with my property? And this verse was revealed:" Allah enjoins you concerning your children: for the male is equal of the portion of two females
ابن جریج نے ہمیں حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : مجھے ابن منکدر نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے خبر دی ، انہوں نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بنوسلمہ ( کے علاقے ) میں پیدل چل کر میری عیادت کی ، آپ نے مجھے اس حالت میں پایا کہ میں کچھ سمجھ نہیں پا رہا تھا ، آپ نے پانی منگوایا ، وضو کیا ، پھر اس میں سے مجھ پر چھینٹے مارے تو مجھے افاقہ ہو گیا ، میں نے کہا : اللہ کے رسول! میں اپنے مال میں کیا کروں؟ تو ( یہ آیت ) نازل ہوئی : " اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں تاکیدی حکم دیتا ہے ، مرد کے لیے دو عورتوں کے حصے کے برابر ہے ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ عَادَنِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو بَكْرٍ فِي بَنِي سَلَمَةَ يَمْشِيَانِ فَوَجَدَنِي لاَ أَعْقِلُ فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ رَشَّ عَلَىَّ مِنْهُ فَأَفَقْتُ فَقُلْتُ كَيْفَ أَصْنَعُ فِي مَالِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَنَزَلَتْ {يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلاَدِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنْثَيَيْنِ}
#4147
Jabir b. 'Abdullah (Allah be pleased with them) reported:While I had been ill Allah's Messenger (ﷺ) visited me and Abu akr (Allah be pleased with him) was with him, and they both came walking on foot. He (the Holy Prophet) found me unconscious. Allahs Messenger (ﷺ) performed ablution and then sprinkled over me the water of his ablution. I felt relieved regained my consciousness) and found Allah's Messenger (ﷺ) there. I said: Allah's Messenger, what should I do with my property? He gave me no reply until the verse (iv. 177) relating to the law of inheritance was revealed
سفیان ( ثوری ) نے ہمیں حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے محمد بن منکدر سے سنا ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں بیمار تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری عیادت کی ، آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی تھے ، دونوں پیدل چل کر تشریف لائے ۔ آپ نے مجھے ( اس حالت میں ) پایا کہ مجھ پر غشی طاری تھی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا ، پھر اپنے وضو کا بچا ہوا پانی مجھ پر ڈالا ، میں ہوش میں آ گیا تو دیکھا سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں ، میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! میں اپنے مال کے بارے میں کیا کروں؟ کہا : آپ نے مجھے کوئی جواب نہ دیا یہاں تک کہ وراثت کی آیت نازل ہوئی ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، - يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ - حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ عَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا مَرِيضٌ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ مَاشِيَيْنِ فَوَجَدَنِي قَدْ أُغْمِيَ عَلَىَّ فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ صَبَّ عَلَىَّ مِنْ وَضُوئِهِ فَأَفَقْتُ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَصْنَعُ فِي مَالِي فَلَمْ يَرُدَّ عَلَىَّ شَيْئًا حَتَّى نَزَلَتْ آيَةُ الْمِيرَاثِ .
#4148
Jabir b. Abdullah (Allah be pleased with him) reported:Whilo I was ill Allah's Messenger (ﷺ) came to me and found me unconscious. He (the Holy Prophet) performed ablution, and sprinkled over me the water of his ablution. I regained my consciousness and said: Allah's Messenger, my case of inheritance is that of Kalala. Then the verse pertaining to the inheritance ( of Kalala) was revealed. I (one of the narrators) said: I said to Muhammad b. Munkadir: (Do you mean this verse)" They ask you; say: Allah gives you decision in regard to Kalala" (iv. 177)? He said: Yes, it was thus revealed
بہز نے ہمیں حدیث بیان کی : شعبہ نے ہمیں حدیث بیان کی : مجھے محمد بن منکدر نے خبر دی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے جبکہ میں بیمار تھا اور بے ہوش تھا ، آپ نے وضو کیا تو لوگوں نے آپ کے وضو کا بچا ہوا پانی مجھ پر ڈالا ، ( اس پر ) مجھے افاقہ ہوا تو میں نے کہا : اے اللہ کے رسول! میرا وارث کلالہ بنے گا ۔ ( اس وقت حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی بہنیں ہی تھیں جو وارث بنتی تھیں ) اس پر وراثت کی آیت نازل ہوئی ۔ میں نے محمد بن منکدر سے پوچھا : ( يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّـهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ ۚ ) ( والی آیت ) ؟ انہوں نے کہا : اسی طرح ( حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے سوال پر ) نازل کی گئی ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا مَرِيضٌ لاَ أَعْقِلُ فَتَوَضَّأَ فَصَبُّوا عَلَىَّ مِنْ وَضُوئِهِ فَعَقَلْتُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا يَرِثُنِي كَلاَلَةٌ . فَنَزَلَتْ آيَةُ الْمِيرَاثِ . فَقُلْتُ لِمُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ { يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلاَلَةِ} قَالَ هَكَذَا أُنْزِلَتْ
#4149
This hadith is transmitted on the authority of Shu'ba but with a slight variation of words
نضر بن شمیل ، ابو عامر عقدی اور وہب بن جریر سب نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، وہب بن جریر کی حدیث میں ہے : تو آیت فرائض نازل ہوئی ۔ اور ان میں سے کسی کی حدیث میں ابن منکدر سے شعبہ کے سوال کا تذکرہ نہیں ہے ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، وَأَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، كُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . فِي حَدِيثِ وَهْبِ بْنِ جَرِيرٍ فَنَزَلَتْ آيَةُ الْفَرَائِضِ . وَفِي حَدِيثِ النَّضْرِ وَالْعَقَدِيِّ فَنَزَلَتْ آيَةُ الْفَرْضِ . وَلَيْسَ فِي رِوَايَةِ أَحَدٍ مِنْهُمْ قَوْلُ شُعْبَةَ لاِبْنِ الْمُنْكَدِرِ .