#3750
Sa'id b. Jubair reported:I asked Ibn 'Umar (Allah be pleased with them) about invoking curse (li'an), and he narrated Similarly from Allah's Apostle (ﷺ)
سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ میں نے ابن عمرؓ سے لعان کو پوچھا تو انہوں نے نقل کیا جناب رسول اﷲ ﷺ سے ایسا ہی جیسے اوپر گزرا ۔
وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ اللِّعَانِ، . فَذَكَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ .
#3751
Sa'id b. Jubair reported that Mus'ab b. Zubair did not effect separation between the Mutala'inain (invokers of curses). Sa'id said:It was mentioned to 'Abdullah b. Umar (Allah be pleased with them) and he said: Allah's Apostle (ﷺ) effected separation between the two members of Banu al-'Ajlan
سعید بن جبیر سے روایت ہے مصعب نے جدائی نہیں کی لعان کرنے والوں میں ۔ میں نے اس کا ذکر کیا عبداﷲ بن عمرؓ سے ۔ انہوں نے کہا جناب رسول اﷲ ﷺ نے جدائی کردی بنی عجلان کے مرد اور عورت میں ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لِلْمِسْمَعِيِّ وَابْنِ الْمُثَنَّى - قَالُوا حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، - وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ - قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ لَمْ يُفَرِّقِ الْمُصْعَبُ بَيْنَ الْمُتَلاَعِنَيْنِ . قَالَ سَعِيدٌ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ . فَقَالَ فَرَّقَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ أَخَوَىْ بَنِي الْعَجْلاَنِ .
#3752
Nafi' reported on the authority of Ibn Umar (Allah be pleased with them) that a person invoked curse on the wife during the lifetime of Allah s Messenger (ﷺ), so he effected separation between them and traced the lineage of the son to his mother
عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرد نے لعانلعان کیا رسول اﷲ ﷺ کے زمانے میں پھر آپ نے جدائی کردی دونوں میں اور بچے کا نسب ماں سے لگادیا ۔
وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى، بْنُ يَحْيَى - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ قُلْتُ لِمَالِكٍ حَدَّثَكَ نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلاً، لاَعَنَ امْرَأَتَهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَفَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَهُمَا وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِأُمِّهِ قَالَ نَعَمْ .
#3753
Ibn 'Umar (Allah be pleased with them) reported:Allah's Messenger (ﷺ) asked a person from the Anger and his wife to invoke curse (upon one another in order to testify to their truthfulness), and then effected separation between them
عبداﷲ بن عمرؓ سے روایت ہے رسول اﷲ ﷺ نے لعان کروایا درمیان ایک مرد انصاری اور اس کی عورت کے اور جدائی کردی ان دونوں میں ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالاَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ لاَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ وَامْرَأَتِهِ وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا .
#3754
A hadith like this has been narrated on the authority of 'Ubaidulah with the same chain of transmitters
وہی جو اوپر گزرا ۔
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، - وَهُوَ الْقَطَّانُ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ .
#3755
Abdullah reported:We were on the night of Friday staying in the mosque when a person from the Ansar came there and said: If a person finds hiswoman along with a man, and he speaks about it, you would lash him, and if he kills, you will kill him, and if he keeps quiet he shall have to consume anger. By Allah, I will definitely ask about him from Allah's Mescenger (ﷺ). On the following day he came to Allah's Messenger (ﷺ) and asked him thus: If a man were to find with his wife a man and if he were to talk about it, you would lash him; and if he killed, you would kill him, and if he were to keep quiet. he would consume anger, whereupon he (the Holy Prophet) said: Allah, solve (this problem), and he began to supplicate (before Him), and then the verses pertaining to li'an were revealed:" Those who accuse their wives and have no witnesses except themselves" (xxiv. 6). The person was then put to test according to these verses in the presence of the people. There came he and his wife in the presence of Allah's Messenger (ﷺ), and they invoked curses (in order to testify their claim). The man swore four times in the name of Allah that he was one of the truthful and then invoked curse for the fifth time saying: Let there be curse of Allah upon him if he were among the liars. Then she began to invoke curse. Allah's Messenger (ﷺ) said to her: just wait (and curse after considering over it), but she refused and invoked curse and when she turned away, he (Allah's Apostle) said: It seems that this woman shall give birth to a curly-haired black child, And so she did gave birth to a curly-haired black child
عبداﷲ بن مسعودؓ سے روایت ہے میں جمعہ کی رات کو مسجد میں تھا اتنے میں ایک مرد انصاری آیا اور بولا اگر کوئی اپنی جورو کے پاس کسی مرد کو پائے او رمنہ سے نکالے تو تم اس کو کوڑے لگاؤ گے ( حد قذف کے ) اگر مار ڈالے تو تم اس کو مار ڈالوگے ( قصاص میں ) اگر چپ رہے تو اپنا غصہ پی کر چپ رہے قسم اﷲ کی میں جناب رسول اﷲ ﷺ سے پوچھوں گا اس مسئلے کو جب دوسرا دن ہوا تو جناب رسول اﷲ ﷺ کے پاس آیا اور آپ سے پوچھا اس نے کہا اگر کوئی شخص اپنی بی بی کے ساتھ کسی کو پائے پھر منہ سے نکالے تو تم کوڑے لگاؤگے اگر مار ڈالے تو تم اس کو بھی مار ڈالوگے اگر چپ رہے تو اپنا غصہ کھا کر چپ رہے ( یہ بھی نہیں ہوسکتا ) جناب رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا اﷲ کھول دے ( اس مشکل کو ) اور دعا کرنے لگے تب لعان کی آیت اتری ۔ والذین یرمون ازواجھم ولم یکن لھم شھداء الا انفسھم ۔ اخیر تک پھر اس مرد کا امتحان لیا گیا لوگوں کے سامنے اور وہ اس کی جورو دونوں رسول اﷲ ﷺ کے پاس آئے اور لعان کیا پہلے مرد نے گواہی دی چار بار کہ وہ سچا ہے پھر پانچویں بار لعنت کرکے کہا اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر لعنت ہے خداتعالیٰ کی پھر عورت چلی لعان کرنے کو آپ نے فرمایا ٹھہر ( اوراگر خاوند کی بات سچ ہے تو تو اپنے قصور کا اقرار کر ) لیکن اس نے نہ مانا اور لعان کیا جب پیٹھ موڑ کر چلے تو آپ نے فرمایا اس عورت کا بچہ شاید کالے رنگ کا گھرنگریالے بالوں والا پیدا ہوگا ( اس شخص کی صورت پر جس کا خاوند کو گمان تھا ) ۔ پھر ویسا ہی کالا گھونگریالے بالوں والا پیدا ہوا ۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ إِنَّا لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ فِي الْمَسْجِدِ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ لَوْ أَنَّ رَجُلاً وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً فَتَكَلَّمَ جَلَدْتُمُوهُ أَوْ قَتَلَ قَتَلْتُمُوهُ وَإِنْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى غَيْظٍ وَاللَّهِ لأَسْأَلَنَّ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهُ فَقَالَ لَوْ أَنَّ رَجُلاً وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً فَتَكَلَّمَ جَلَدْتُمُوهُ أَوْ قَتَلَ قَتَلْتُمُوهُ أَوْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى غَيْظٍ . فَقَالَ " اللَّهُمَّ افْتَحْ " . وَجَعَلَ يَدْعُو فَنَزَلَتْ آيَةُ اللِّعَانِ { وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلاَّ أَنْفُسُهُمْ} هَذِهِ الآيَاتُ فَابْتُلِيَ بِهِ ذَلِكَ الرَّجُلُ مِنْ بَيْنِ النَّاسِ فَجَاءَ هُوَ وَامْرَأَتُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَتَلاَعَنَا فَشَهِدَ الرَّجُلُ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ ثُمَّ لَعَنَ الْخَامِسَةَ أَنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ فَذَهَبَتْ لِتَلْعَنَ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَهْ " . فَأَبَتْ فَلَعَنَتْ فَلَمَّا أَدْبَرَا قَالَ " لَعَلَّهَا أَنْ تَجِيءَ بِهِ أَسْوَدَ جَعْدًا " . فَجَاءَتْ بِهِ أَسْوَدَ جَعْدًا.
#3756
A hadith like this is narrated on the authority of A'mash
اعمش سے اس سند کے ساتھ اسی طرح منقول ہے ۔
وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ، أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، جَمِيعًا عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
#3757
Muhammad (one of the narrators) reported:I asked Anas b. Malik (Allah be pleased with him) knowing that he had a knowledge of (the case of li'an). He said: Hilal b. Umayya (Allah be pleased with him) accused his wife with the charge of fornication with Sharik b. Sahma, the brother of al-Bara'b Malik from the side of his mother. And he was the first person who invoked curse (li'an) in Islam. He in fact invoked curse upon her. Allah's Messenger (ﷺ) said: See to her if she gives birth to a white-complexioned child having dark hair and bright eyes; he must be the son of Hilal b. Umayya; and if she gives birth to a child with dark eyelids, curly hair and lean shanks, he must be the offspring of Sharik b. Sahma. He said: I was informed that she gave birth to a child having dark eyelids, curly hair and lean shanks
محمد سے روایت ہے میں نے انس بن مالک سے پوچھا یہ سمجھ کر کہ ان کو معلوم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہلال بن امیہ نے نسبت کی زنا کی اپنی بیوی کو شریک بن سحماء سے اور ہلالؓ بن امیہ براء بن مالکؓ کا مادری بھائی تھا ۔ اور اس نے سب سے پہلے لعان کیا اسلام میں ۔ راوی نے کہا پھر دونوں میاں بیوی نے لعان کیا تو رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا اس عورت کو دیکھتے رہو اگر اس کا بچہ سفید رنگ کا ، سیدھے بال والا ، لال آنکھوں والا پیدا ہو تو وہ ہلال بن امیہؓ کا ہے اور جو سرمئی آنکھوں والا ، گھونگریالے بالوں والا ، پتلی پنڈلیوں والا پیدا ہو تو وہ شریک بن سحماء کا ہے ۔ انسؓ نے کہا مجھ کو خبر پہنچی کہ اس عورت کا لڑکا سرمگیں آنکھ ، گھونگریالے بال اور پتلی پنڈلیوں والا پیدا ہوا ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَأَنَا أُرَى، أَنَّ عِنْدَهُ، مِنْهُ عِلْمًا . فَقَالَ إِنَّ هِلاَلَ بْنَ أُمَيَّةَ قَذَفَ امْرَأَتَهُ بِشَرِيكِ ابْنِ سَحْمَاءَ وَكَانَ أَخَا الْبَرَاءِ بْنِ مَالِكٍ لأُمِّهِ وَكَانَ أَوَّلَ رَجُلٍ لاَعَنَ فِي الإِسْلاَمِ - قَالَ - فَلاَعَنَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَبْصِرُوهَا فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَبْيَضَ سَبِطًا قَضِيءَ الْعَيْنَيْنِ فَهُوَ لِهِلاَلِ بْنِ أُمَيَّةَ وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ جَعْدًا حَمْشَ السَّاقَيْنِ فَهُوَ لِشَرِيكِ ابْنِ سَحْمَاءَ " . قَالَ فَأُنْبِئْتُ أَنَّهَا جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ جَعْدًا حَمْشَ السَّاقَيْنِ .
#3758
Ibn Abbas (Allah be pleased with them) reported:Mention was made of li'an in the presence of Allah's Messenger (ﷺ). And Asim b. 'Adi passed a remark about it and then turned away, and a man of his tribe came to him complaining that he had found a man with his wife, whereupon 'Asim said: I have been taken by my words. He took him to Allah's Messenger (ﷺ) and told him about the man whom he had found with his wife and this man was a lean, yellow-coloured man with lank hair, and the person who was accused of committing adultery with her (his wife) had fleshy shanks, with wheat complexion and heavy bulk. Allah's Messenger (ﷺ) said: O Allah, make (this case) manifest. And as she gave birth to a child, whose face resembled that person about whom her husband had made mention that he had found her with, and Allah's Messenger (may peace be, upon him) had asked them to invoke curses. A person said to Ibn 'Abbas (Allah be pleased with him): Is she (that woman) about whom Allah's Messenger (may peace be upen him) (said):" If I were to stone anybody without evidence, I would have stoned her"? Ibn 'Abbas (Allah be pleased with him) said: No, it is not she. That woman was one who openly spread evil in society
عبداﷲ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ کے پاس لعان کا ذکر ہوا ۔ عاصم بن عدی نے اس میں کچھ کہا پھر وہ چلے گئے ۔ تب ان کے پاس ان کی قوم کا ایک شخص آیا اور شکایت کرنے لگا کہ اس نے اپنی بی بی کے ساتھ ایک مرد کو دیکھا ۔ عاصم نے کہا میں اس بلا میں مبتلا ہوا اپنی بات کی وجہ سے ۔ پھر عاصمؓ اس کو لے کر رسول اﷲ ﷺ کے پاس آئے ۔ اور اس شخص نے سارا حال آپ سے بیان کیا وہ شخص زرد رنگ دبلا سیدھے بالوں والا تھا ۔ او رجس پر دعویٰ کرتا تھا وہ پر گوشت پنڈلیوں والا ، گندم رنگ ، موٹا تھا ۔ جناب رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا اﷲ تو کھول دے ۔ پھر وہ عورت بچہ جنی جو مشابہ تھا اس شخص کے جس پر تہمت تھی ۔ تب جناب رسول اﷲ ﷺ نے لعان کروایا دونوں ۔ میں ایک شخص بولا اے ابن عباسؓ! کیا یہ عورت وہی عورت تھی جس کے لیے جناب رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا تھا اگر میں کسی کو بغیر گواہوں کے سنگسار کرتا تو اس عورت کو کرتا ۔ ابن عباسؓ نے کا نہیں وہ دوسری عورت تھی جو مسلمانوں میں برائی کے ساتھ مشہور تھی ( یعنی لوگ کہتے تھے کہ یہ فاحشہ ہے نہ گواہ تھے نہ اقرار تھا ) ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، وَعِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيَّانِ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ رُمْحٍ - قَالاَ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنِ الْقَاسِمِ، بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ ذُكِرَ التَّلاَعُنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ عَاصِمُ بْنُ عَدِيٍّ فِي ذَلِكَ قَوْلاً ثُمَّ انْصَرَفَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ يَشْكُو إِلَيْهِ أَنَّهُ وَجَدَ مَعَ أَهْلِهِ رَجُلاً . فَقَالَ عَاصِمٌ مَا ابْتُلِيتُ بِهَذَا إِلاَّ لِقَوْلِي فَذَهَبَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي وَجَدَ عَلَيْهِ امْرَأَتَهُ وَكَانَ ذَلِكَ الرَّجُلُ مُصْفَرًّا قَلِيلَ اللَّحْمِ سَبِطَ الشَّعَرِ وَكَانَ الَّذِي ادَّعَى عَلَيْهِ أَنَّهُ وَجَدَ عِنْدَ أَهْلِهِ خَدْلاً آدَمَ كَثِيرَ اللَّحْمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اللَّهُمَّ بَيِّنْ " . فَوَضَعَتْ شَبِيهًا بِالرَّجُلِ الَّذِي ذَكَرَ زَوْجُهَا أَنَّهُ وَجَدَهُ عِنْدَهَا فَلاَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَهُمَا فَقَالَ رَجُلٌ لاِبْنِ عَبَّاسٍ فِي الْمَجْلِسِ أَهِيَ الَّتِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَوْ رَجَمْتُ أَحَدًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ رَجَمْتُ هَذِهِ " . فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لاَ تِلْكَ امْرَأَةٌ كَانَتْ تُظْهِرُ فِي الإِسْلاَمِ السُّوءَ .
#3759
This hadith has been narrated on the authority of Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) through another chain of transmitters with the addition of these words:'With flesh, and curly tangled hair
ترجمہ دوسری روایت کا وہی ہے جو اوپر گزرا ۔ اس میں اتنا زیادہ ہے کہ وہ شخص جس کے ساتھ تہمت تھی موٹا ، سخت گھونگریالے بالوں والا تھا ۔
وَحَدَّثَنِيهِ أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ، - يَعْنِي ابْنَ بِلاَلٍ - عَنْ يَحْيَى، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ ذُكِرَ الْمُتَلاَعِنَانِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ وَزَادَ فِيهِ بَعْدَ قَوْلِهِ كَثِيرَ اللَّحْمِ قَالَ جَعْدًا قَطَطًا .
#3760
Abdullah b Shaddad reported that mention was made about the invokers of curses before Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them). Ibn Shaddad said:Are these the two about whom Allah's Apostle (ﷺ) said." If I were to stone one without evidence, I would have definitely stoned her"? Ibn Abbas (Allah be pleased with them) said: She is not this woman; but she is the one who (committed adultery) openly
قاسم بن محمد سے روایت ہے ابن عباس رضی اﷲ عنہما کے سامنے لعان والوں کا ذکر ہوا تو عبداﷲ بن شداد نے کہا ان ہی میں وہ عورت تھی جس کے لیے رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا تھا اگر میں کسی کو بغیر گواہوں کے رجم کرتا تو اس عورت کو رجم کرتا ۔ ابن عباس رضی اﷲ عنہما نے کہا نہیں وہ عورت دوسری عورت تھی جو علانیہ بدکار تھی ۔
وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، - وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو - قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ، عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ وَذُكِرَ الْمُتَلاَعِنَانِ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ ابْنُ شَدَّادٍ أَهُمَا اللَّذَانِ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لَوْ كُنْتُ رَاجِمًا أَحَدًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ لَرَجَمْتُهَا " . فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لاَ تِلْكَ امْرَأَةٌ أَعْلَنَتْ . قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ فِي رِوَايَتِهِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ .
#3761
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported that Sa'd b. 'Ubada al-Ansari said:Messenger of Allah, tell me if a man finds his wife with another person, should he kill him? Allah's Messenger (ﷺ) said: No. Sa'd said: Why not? I swear by Him Who has honored you with the Truth. There upon Allah's Messenger (ﷺ) said: Listen to what your chief says
ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے سعد بن عبادہ انصاریؓ ( انصار کے رئیس ) نے کہا یا رسول اﷲ ﷺ! اگر کوئی شخص اپنی بی بی کے ساتھ کسی مرد کو پائے ( زنا کرتے ہوئے ) کیا اس کو مارڈالے؟ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا نہیں ۔ سعد نے کہا نہیں مار ڈالے قسم اس کی جس نے آپ کو سچائی کے ساتھ عزت دی ۔ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا ( اور صحابہ سے ) سنو تمہارے سردار کیا کہتے ہیں ( یعنی تعجب ہے ان سے کہ ایسی بات کہتے ہیں اﷲ تعالیٰ کے حکم کے سامنے طبیعت اور غصہ کو دخل نہ دینا چاہیے ) ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ - عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ الأَنْصَارِيَّ، قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يَجِدُ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً أَيَقْتُلُهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ " . قَالَ سَعْدٌ بَلَى وَالَّذِي أَكْرَمَكَ بِالْحَقِّ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اسْمَعُوا إِلَى مَا يَقُولُ سَيِّدُكُمْ ".
#3762
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported that Sa'd b. Ubada (Allah be pleased with him) said:Messenger of Allah, if I were to find with my wife a man, should I wait until I bring four witnesses? He said: Yes
ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے سعد بن عبادہؓ نے کہا یارسول اﷲ ﷺ! اگر میں اپنی بیوی کے پاس غیر مرد کو دیکھوں تو کیا اس کو مہلت دوں چار گواہ لانے تک؟ آپ نے فرمایا ہاں ۔
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ، قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ وَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِي رَجُلاً أَأُمْهِلُهُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ قَالَ " نَعَمْ " .
#3763
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported that Sa'd b. Ubada (Allah be pleased with him) said:Messenger of Allah, if I were to find with my wife a man, should I not touch him before bringing four witnesses? Allah's Messenger (ﷺ) said: Yes. He said: By no means. By Him Who has sent you with the Truth, I would hasten with my sword to him before that. Allah's Messenger (ﷺ) said: Listen to what your chief says. He is jealous of his honour, I am more jealous than he (is) and God is more jealous than I
حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے سعد بن عبادہؓ نے کہا یارسول اﷲﷺ! اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو دیکھوں تو میں اس کو ہاتھ نہ لگاؤں جب تک چار گواہ نہ لاؤں؟ آپ نے فرمایا بے شک ۔ سعدؓ نے کہا ہرگز نہیں میں تو قسم اس کی جس نے آپ کو سچائی کے ساتھ بھیجا جلدی اس کا علاج تلوار سے کردوں اس سے پہلے ۔ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا سنو تمہارے سردار کیا کہتے ہیں وہ برے غیرت دار ہیں او رمیں ان سے زیادہ غیرت دار ہوں اور اﷲ جل جلالہ مجھ سے زیادہ غیرت رکھتا ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ، حَدَّثَنِي سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ وَجَدْتُ مَعَ أَهْلِي رَجُلاً لَمْ أَمَسَّهُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " نَعَمْ " . قَالَ كَلاَّ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنْ كُنْتُ لأُعَاجِلُهُ بِالسَّيْفِ قَبْلَ ذَلِكَ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اسْمَعُوا إِلَى مَا يَقُولُ سَيِّدُكُمْ إِنَّهُ لَغَيُورٌ وَأَنَا أَغْيَرُ مِنْهُ وَاللَّهُ أَغْيَرُ مِنِّي " .
#3764
AI-Mughira b. Shu'ba (Allah be pleased with him) reported that Sa'd b. 'Ubada (Allah be pleased with him) said:If I were to see a man with my wife, I would have struck him with the sword, and not with the flat part (side) of it. When Allah's Messenger (ﷺ) heard of that, he said: Are you surprised at Sa'd's jealousy of his honour? By Allah, I am more jealous of my honour than he, and Allah is more jealous than I. Because of His jealousy Allah has prohibited abomination, both open and secret And no person is more jealous of his honour than Allah, and no persons, is more fond of accepting an excuse than Allah, on account of which He has sent messengers, announcers of glad tidings and warners; and no one is more fond of praise than Allah on account of which Allah has promised Paradise
مغیرہ بن شعبہؓ سے روایت ہے سعد بن عبادہؓ نے کہا اگر میں اپنی بی بی کے پاس کسی مرد کو دیکھوں تو تلوار سے مار ڈالوں کبھی نہ چھوڑوں ۔ یہ خبر رسول اﷲ ﷺ کو پہنچی آپ نے فرمایا تم سعد کی غیرت سے تعجب کرتے ہو قسم اﷲ کی میں ان سے زیادہ غیرت دار ہوں اور اﷲ جل جلالہ مجھ سے زیادہ غیرت دار ہے ۔ حرام کیا اﷲ نے بے شرمی کی باتوں کو چھپی او رکھلی اسی غیرت کی وجہ سے اور کوئی شخص اﷲ تعالیٰ سے زیادہ غیرت دار نہیں ہے اور اﷲ سے زیادہ کسی شخص کو عذر پسند نہیں ہے ۔ اسی لیے اﷲ تعالیٰ نے پیغمبروں کو بھیجا خوشی اور ڈر سناتے ہوئے ( تاکہ بندے سزا سے پہلے اس کی درگاہ میں عذر کرلیں اور توبہ کریں ) ۔ اور کسی شخص کو اﷲ سے زیادہ تعریف پسند نہیں اس لیے اﷲ تعالیٰ نے وعدہ کیا جنت کا ( تاکہ بندے اس کی عبادت اور تعریف کرکے جنت حاصل کرلیں ) ۔
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، وَأَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ - وَاللَّفْظُ لأَبِي كَامِلٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ وَرَّادٍ، - كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ - عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ لَوْ رَأَيْتُ رَجُلاً مَعَ امْرَأَتِي لَضَرَبْتُهُ بِالسَّيْفِ غَيْرَ مُصْفِحٍ عَنْهُ . فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " أَتَعْجَبُونَ مِنْ غَيْرَةِ سَعْدٍ فَوَاللَّهِ لأَنَا أَغْيَرُ مِنْهُ وَاللَّهُ أَغْيَرُ مِنِّي مِنْ أَجْلِ غَيْرَةِ اللَّهِ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَلاَ شَخْصَ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ وَلاَ شَخْصَ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْعُذْرُ مِنَ اللَّهِ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ بَعَثَ اللَّهُ الْمُرْسَلِينَ مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ وَلاَ شَخْصَ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْمِدْحَةُ مِنَ اللَّهِ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ وَعَدَ اللَّهُ الْجَنَّةَ " .
#3765
A hadith like this has been transmitted on the authority, of 'Abd al-Malik b. Umair with the same chain of narraters but with a slight change of words
اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے اس روایت میں ’’غَیْرَ مُصْفَعٍ ‘ ‘ کے الفاظ ہیں اور ’عَنْہ ‘ ‘ نہیں ہے ۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، بْنِ عُمَيْرٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ . وَقَالَ غَيْرَ مُصْفِحٍ . وَلَمْ يَقُلْ عَنْهُ .
#3766
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported:There came a person to the Prophet (may peace he upon him) ) from Banu Fazara and said: My wife has given birth to a child who is black, whereupon Allah's Apostle (ﷺ) said: Have you any camels? He said: Yes. He again said: What is this colour? He said: They are red. He said: Is there a dusky one among them? He said: Yes, there are dusky ones among them He said: How has it come about? He said: It is perhaps the strain to which it has reverted, whereupon he (the Holy Prophet) said: It is perhaps the strain to which he (the child) has reverted
ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے ایک شخص بنی فزارہ میں سے آیا روسل اﷲ ﷺ کے پاس او رکہا میری جورو کو ایک کالا بچہ پیدا ہوا ہے ( تو وہ میرا معلوم نہیں ہوتا کیونکہ میں کالا نہیں ہوں ) ۔ جناب رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا تیرے پاس اونٹ ہیں؟ اس کہا ہاں ہیں ۔ آپ نے فرمایا ان کا رنگ کیا ہے؟ وہ بولا لال ہے ۔ آپ نے فرمایا ان میں کوئی خاکی بھی ہے؟ اس نے کہا ہاں خاکی بھی ہیں ۔ آپ نے فرمایا پھر یہ رنگ کہاں سے آیا؟ اس نے کہا کسی رگ نے گھسیٹ لیا ہوگا ۔
وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ - وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ - قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلاَمًا أَسْوَدَ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ " فَمَا أَلْوَانُهَا " . قَالَ حُمْرٌ . قَالَ " هَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ " . قَالَ إِنَّ فِيهَا لَوُرْقًا . قَالَ " فَأَنَّى أَتَاهَا ذَلِكَ " . قَالَ عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ . قَالَ " وَهَذَا عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ " .
#3767
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters. In the hadith transmitted on the authority of Ma'mar, the (words are):" Messenger of Allah, my wife has given birth to a dark-complexioned boy, and he at that time was intending to disown him." And this addition has been made at the end of the hadith:" He (the Holy Prophet) did not permit him to disown him
زہری نے ابن عینیہ کی حدیث کی مانند روایت کی اس میں اتنا فرق ہے کہ کہا اے رسول اﷲ ﷺ! میری عورت نے لڑکا سیاہ جنا ہے اور میرا ارادہ ہے کہ اس کا انکار کروں اور دوسری حدیث میں اتنا زیادہ ہے کہ پھر رسول اﷲ ﷺ نے اس کے انکار کرنے کی اجازت نہ دی ۔
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ، أَبِي فُدَيْكٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، جَمِيعًا عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ . غَيْرَ أَنَّ فِي، حَدِيثِ مَعْمَرٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَدَتِ امْرَأَتِي غُلاَمًا أَسْوَدَ وَهُوَ حِينَئِذٍ يُعَرِّضُ بِأَنْ يَنْفِيَهُ . وَزَادَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ وَلَمْ يُرَخِّصْ لَهُ فِي الاِنْتِفَاءِ مِنْهُ .
#3768
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported:A desert Arab came to Allah's Messenger (ﷺ) and said: My wife has given birth to a dark-complexioned child and I have disowned him. Thereupon Allah's Apostle (ﷺ) said: Have you any camels? He said: Yes. He said: What is their colour? He said? They are red. He said: Is there anyone dusky among them? He said: Yes. Allah's Messenger (ﷺ) said: How has it come about? He said: Messenger of Allah, it is perhaps due to the strain to which it has reverted, whereupon the Prophet (ﷺ) said: It (the birth) of the black child may be due to the strain to which he (the child) might have reverted
ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ تحقیق ایک اعرابی آیا رسول اﷲ ﷺ کے پاس او رکہا اے رسول اﷲ ﷺ! میری عورت نے کالا بچہ جنا ہے اور میں اس کا انکار کرتا ہوں ، تو رسول اﷲ ﷺ نے اس کو فرمایاتیرے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے کہا ہاں ۔ آپ نے فرمایا ان کا رنگ کیسا ہے؟ اس نے کہا سرخ ۔ آپ نے پوچھا کہ ان میں کوئی کالا بھی ہے؟ وہ بولا ہاں تو رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا یہ رنگ کہاں سے آگیا؟ اعرابی بولا کہ اے رسول اﷲ ﷺ کسی رگ نے گھسیٹ لیا ہوگا تو جناب رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا کہ یہاں بھی کسی رگ نے گھسیٹ لیا ہوگا ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، - وَاللَّفْظُ لِحَرْمَلَةَ - قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ، وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّصلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلاَمًا أَسْوَدَ وَإِنِّي أَنْكَرْتُهُ . فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ " مَا أَلْوَانُهَا " . قَالَ حُمْرٌ . قَالَ " فَهَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَأَنَّى هُوَ " . قَالَ لَعَلَّهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَكُونُ نَزَعَهُ عِرْقٌ لَهُ . فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " وَهَذَا لَعَلَّهُ يَكُونُ نَزَعَهُ عِرْقٌ لَهُ " .
#3769
A hadith like this has been narrated on the authority of Abu Huraira (Allah be pleased with him) through another chain of transmitters
حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی روایت بیان کرتے ہیں ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قَالَ بَلَغَنَا أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، كَانَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ.
#3770
Ibn Umar (Allah be pleased with them) reported Allah's Messenger may peace be upon him) as saying:If anyone emancipates his share ina slave and has enough money to pay the full price for him, a fair price for the slave should be fixed, his partners given their shares, and the slave be thus emancipated, otherwise he is emancipated only to the extent of the first man's share
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ نے فرمایا جو شخص اپنا حصہ آزاد كرے بردہ میں سے ( یعنی وہ بردہ مشترك ہو ) اور ایك شریك اپنا حصہ آزاد كرے اور پھر آزاد كرنے والے كے پاس اس قدر مال ہو جق بردے كی قیمت كو پہنچ جائے تو اس بردے كی واجبی قیمت لگائی جائے اور باقی شریكوں كو ان كے حصے كی قیمت اس كے مال میں سے دی جائے گی اور كل بردہ اس كی طرف سے آزاد ہوجائے گا . اور جو وہ مال دار نہ ہو تو جس قدر حصہ اس بردہ كا آزادہوا اتنا ہی آزاد رہے گا .
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قُلْتُ لِمَالِكٍ حَدَّثَكَ نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ فَكَانَ لَهُ مَالٌ يَبْلُغُ ثَمَنَ الْعَبْدِ قُوِّمَ عَلَيْهِ قِيمَةَ الْعَدْلِ فَأُعْطِيَ شُرَكَاؤُهُ حِصَصَهُمْ وَعَتَقَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ وَإِلاَّ فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ" .
#3771
This hadith has been reported on the authority of Ibn 'Umar through another chain of transmitters
اس حدیث کی دوسری اسناد مذکورہیں ۔
وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، جَمِيعًا عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، ح وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، وَأَبُو كَامِلٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ، الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، ح وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ، الأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، كُلُّ هَؤُلاَءِ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، بِمَعْنَى حَدِيثِ مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ.
#3772
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The slave who is jointly owned by two persons, and is emancipated by one of them, (this one) has liability (upon him to secure complete freedom for that slave)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو بردہ دو آدمیوں میں مشترك ہو پھر ایك شریك اپنا حصہ آزاد كردیوے تو وہ ضامن ہوگا دوسرے شریك كے حصے كا ( اگر مال دار ہو)
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ فِي الْمَمْلُوكِ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ فَيُعْتِقُ أَحَدُهُمَا قَالَ " يَضْمَنُ" .
#3773
Abu Huraira (Allah be pleased witli him) reported Allah's Prophet (ﷺ) as saying:If anyone emancipates a share in a slave, he is to be completely emancipated if he has money; but if he has none, the slave will be required to work to pay for his freedom, but must not be over-burhened
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے رویت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنا حصہ غلام میں آزاد كردے تو اس كا چھڑانا ( یعنی دوسرے حصے كا بھی آزاد كرنا ) بھی اسی كے مال سے ہوگا اگر مال دار ہو ، اگر مال دار نہ ہو تو غلام محنت مزدوری كرے اور اس پر جبر نہ كریں
وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ أَعْتَقَ شِقْصًا لَهُ فِي عَبْدٍ فَخَلاَصُهُ فِي مَالِهِ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ اسْتُسْعِيَ الْعَبْدُ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ " .
#3774
This hadith has been narrated on the authority of Sa'id b. Abu 'Aruba with the same chain of transmitters but with the addition:" If he (one of the joint owners emancipating the slave) has not (enough) money (to secure freedom for the other half) a fair price for the slave should be fixed, and he will be required to work to pay for his freedom, but must not be over-burdened
ترجمہ دوسری روایت كا بھی وہی ہے جو اوپر گذرا اس میں اتنا زیادہ ہے كہ اگر وہ آزاد كرنے والا مال دار نہ ہو تو غلام كی واجبی قیمت لگائی جائے اور محنت كرے اپنے باقی حصے كے لیے جو آزاد نہیں ہوا مگر اس پر جبر نہیں ہوگا ۔
وَحَدَّثَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، - يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ - عَنْ سَعِيدِ بْنِ، أَبِي عَرُوبَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَزَادَ " إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ قُوِّمَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ قِيمَةَ عَدْلٍ ثُمَّ يُسْتَسْعَى فِي نَصِيبِ الَّذِي لَمْ يُعْتِقْ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ " .