#3350
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:There are at the approaches of Medina angels so that plague and the Dajjal shall not penetrate into it
نعیم بن عبداللہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نےکہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مدینہ میں داخل ہونے کے راستوں پر فرشتے مقرر ہیں ، اس میں طاعون اور دجال داخل نہیں ہوسکے گا ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " عَلَى أَنْقَابِ الْمَدِينَةِ مَلاَئِكَةٌ لاَ يَدْخُلُهَا الطَّاعُونُ وَلاَ الدَّجَّالُ " .
#3351
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Dajjal will come from the eastern side with the intention of attacking Medina until he will get down behind Uhud. Then the angels will turn his face towards Syria and there he will perish
اسماعیل بن جعفر سے روایت ہے ۔ ( کہا : ) علاء نے ا پنے والد سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ر وایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مشرق کی جانب سے مسیح دجال آئےگا ، اس کا ارادہ مدینہ ( میں داخلے کا ) ہوگا یہاں تک کہ وہ احد پہاڑ کے پیچھے اترے گا ، پھر فرشتے اس کا رخ شام کی طرف پھیر دیں گے اور وہیں وہ ہلاک ہوجائے گا ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي الْعَلاَءُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يَأْتِي الْمَسِيحُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ هِمَّتُهُ الْمَدِينَةُ حَتَّى يَنْزِلَ دُبُرَ أُحُدٍ ثُمَّ تَصْرِفُ الْمَلاَئِكَةُ وَجْهَهُ قِبَلَ الشَّامِ وَهُنَالِكَ يَهْلِكُ " .
#3352
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:A time will come for the people (of Medina) when a man will invite his cousin and any other near relation: Come (and settle) at (a place) where living is cheap, come to where there is plenty, but Medina will be better for them; would they know it! By Him in Whose Hand is my life, none amongst them would go out (of the city) with a dislike for it, but Allah would make his successor in it someone better than be. Behold. Medina is like furnace which eliminates from it the impurities. And the Last Hour will not come until Medina banishes its evils just as a furnace eliminates the impurities of iron
۔ ہمیں عبدالعزیز یعنی دراوردی نے حدیث بیان کی ، انھوں نےعلاء سے انھوں نے ا پنے والد سے اور انھوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک وقت لوگوں پر ایسا آئے گا کہ آدمی اپنے بھتیجے اور اپنے قرابت والے کو پکارے گا کہ خوشحالی کے ملک میں خوشحالی کے ملک میں چلو ، حالانکہ مدینہ ان کے لئے بہتر ہو گا کاش کہ وہ جانتے ہوتے ۔ اور قسم ہے اس پروردگار کی کہ میری جان اس کے ہاتھ میں ہے کہ کوئی شخص مدینہ سے بیزار ہو کر نہیں نکلتا مگر اللہ تعالیٰ اس سے بہتر دوسرا شخص مدینہ میں بھیج دیتا ہے ۔ آگاہ رہو کہ مدینہ لوہار کی بھٹی کی مانند ہے کہ وہ میل کو نکال دیتا ہے اور قیامت قائم نہ ہو گی جب تک کہ مدینہ اپنے شریر لوگوں کو نکال نہ دے گا جیسے کہ بھٹی لوہے کی میل کو نکال دیتی ہے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ - عَنِ الْعَلاَءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَدْعُو الرَّجُلُ ابْنَ عَمِّهِ وَقَرِيبَهُ هَلُمَّ إِلَى الرَّخَاءِ هَلُمَّ إِلَى الرَّخَاءِ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لاَ يَخْرُجُ مِنْهُمْ أَحَدٌ رَغْبَةً عَنْهَا إِلاَّ أَخْلَفَ اللَّهُ فِيهَا خَيْرًا مِنْهُ أَلاَ إِنَّ الْمَدِينَةَ كَالْكِيرِ تُخْرِجُ الْخَبِيثَ . لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَنْفِيَ الْمَدِينَةُ شِرَارَهَا كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ " .
#3353
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (way peace be upon him) as saying:I have been commanded (to migrate) to a town (Medina) which would overpower other towns. They (the people) call it Yathrib; its correct name is (in fact) Medina. It eliminates (bad) people just as a furnace removes the alloy of iron
امام مالک بن انس نے یحییٰ بن سعید سے روایت کی ، انھوں نے کہا ، میں نے ابو حباب سعید بن یسار سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے ، میں نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مجھے ایک بستی ( کی طرف ہجرت کرنے جانے ) کا حکم دیا گیا جو تمام بستیوں کو کھا جائے گی ( سب پر غالب آجائےگی ) لوگ اسے یثرب کہتے ہیں ، وہ مدینہ ہے ، وہ ( شریر ) لوگوں کو نکال دے گی جیسے بھٹی لوہےکے میل کو باہر نکال دیتی ہے ۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، - فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ - عَنْ يَحْيَى بْنِ، سَعِيدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْحُبَابِ، سَعِيدَ بْنَ يَسَارٍ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أُمِرْتُ بِقَرْيَةٍ تَأْكُلُ الْقُرَى يَقُولُونَ يَثْرِبَ وَهْىَ الْمَدِينَةُ تَنْفِي النَّاسَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ " .
#3354
This hadith has been narrated by Yabya b. Sa'id with the same chain of transmitters (and the words are):" Just as a furance removes impurity," but no mention is made of iron
سفیان اورعبدالوہاب دونوں نے یحییٰ بن سعید سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور دونوں نے کہا : " جیسے بھٹی میل کو نکال دیتی ہے " ان دونوں نے لوہے کا ذکر نہیں کیا ۔
وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، جَمِيعًا عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالاَ " كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ الْخَبَثَ " . لَمْ يَذْكُرَا الْحَدِيدَ
#3355
Jabir b. `Abdullah (Allah be pleased with them) reported that a desert Arab swore allegiance to Allah's Messenger (ﷺ). He suffered from a severe fever in Medina (and) so he came to Allah's Messenger (ﷺ) saying:Muhammad, cancel my oath of allegiance. But Allah's Messenger (ﷺ) refused it. He again came and said: Cancel my oath of allegiance. But he (the Holy Prophet) refused it. He again came to him and said: Cancel my oath of allegiance, but he refused. The desert Arab, however, went away (cancelling the allegiance himself). Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: Medina is like a furnace which drives away its impurity and purifies what is good
حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ ایک بدو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی ۔ اس کے بعد اس بدو کے مدینے میں بخار نے آلیا ، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور کہنے لگا : اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !مجھے میری بیعت واپس کردیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار فرمادیا ۔ پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا ۔ مجھے میری بیعت واپس کردیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ انکار کردیا ، پھر وہ ( تیسری بار ) آیا ، اور کہا : اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے میری بیعت واپس کردیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( پھر ) انکار فرمایا ۔ اس کے بعد اعرابی نکل گیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مدینہ بھٹی کی طرح ہے ، وہ اپنے میل ( برے لوگوں ) کو باہر نکال دیتاہے اور یہاں کا پاکیزہ ( خالص ایمان والا ) نکھر جاتا ہے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ، بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ أَعْرَابِيًّا، بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَصَابَ الأَعْرَابِيَّ وَعَكٌ بِالْمَدِينَةِ فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ أَقِلْنِي بَيْعَتِي . فَأَبَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ جَاءَهُ فَقَالَ أَقِلْنِي بَيْعَتِي . فَأَبَى ثُمَّ جَاءَهُ فَقَالَ أَقِلْنِي بَيْعَتِي . فَأَبَى فَخَرَجَ الأَعْرَابِيُّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّمَا الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ تَنْفِي خَبَثَهَا وَيَنْصَعُ طَيِّبُهَا " .
#3356
Zaid b. Thabit reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:It is Taiba, thereby meaning Medina. It drives away impurity just as fire removes the impurity of silver
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بلا شبہ یہ طیبہ ( پاک ) ہے ، ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد مدینہ سے تھی ۔ یہ میل کچیل کو اس طرح دور کردیتا ہے جیسےآگ چاندی کے میل کچیل کو نکال دیتی ہے ۔
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، - وَهُوَ الْعَنْبَرِيُّ - حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيٍّ، - وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ - سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّهَا طَيْبَةُ - يَعْنِي الْمَدِينَةَ - وَإِنَّهَا تَنْفِي الْخَبَثَ كَمَا تَنْفِي النَّارُ خَبَثَ الْفِضَّةِ" .
#3357
Jabir b. Samura (Allah be pleased with him) reported that he heard Allah's Messenger (ﷺ) say:Allah named Medina as Tabba
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئےسنا ، " بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے مدینہ کا نام " طابہ " رکھا ہے ۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى سَمَّى الْمَدِينَةَ طَابَةَ " .
#3358
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported that Abul-Qasim (Muhammad, may peace be upon him) said:He who intends to do harm to the people of this city (that is, Medina), Allah would efface him as salt is dissolved in water
عبداللہ بن عبدالرحمان بن یحس نےمجھے ابو عبداللہ قراظ سے خبر دی ، انھوں نے کہا : میں ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں گواہ دیتا ہوں کہ انھوں نےکہا : کہ ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو اس شہر ( یعنی مدینہ ) والوں کی برائی کا ارادہ کرتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کو ایسا گھلا دیتا ہے جیسے نمک پانی میں گھل جاتا ہے ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، كِلاَهُمَا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، بْنِ يُحَنِّسَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاظِ، أَنَّهُ قَالَ أَشْهَدُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ أَرَادَ أَهْلَ هَذِهِ الْبَلْدَةِ بِسُوءٍ - يَعْنِي الْمَدِينَةَ - أَذَابَهُ اللَّهُ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ " .
#3359
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:He who intends to do harm to its people (he meant Medina), Allah would efface him as salt is dissolved in water. Ibn Hatim (one of the narrators) substituted the word" harm" for" mischief
محمد بن حاتم اور ابراہیم بن دینار نے مجھے حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا ، ہم سے حجاج نے حدیث بیا ن کی ، نیز محمد بن رافع نے مجھے حدیث بیا ن کی ، ( کہا : ) ہمیں عبدالرزاق نے حدیث سنائی ، انھوں ( حجاج اورعبدالرزاق ) نے ابن جریج سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے عمرو بن یحییٰ بن عمارہ نے خبر دی کہ انھوں نے ( ابو عبداللہ ) قراظ سے سنا اور وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھیوں ( شاگردوں ) میں سے تھے ، وہ یقین سے کہتے تھے کہ انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" جس نے اس کے باشندوں کے ساتھ ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد مدینہ سے تھی ۔ برائی کا ارادہ کیا ۔ اللہ اسے اس طرح پگھلا دے گا جس طرح نمک پانی میں پگھل جاتا ہے ۔ "" ابن حاتم نے ابن یحس کی حدیث میں سوء ( برائی ) کی جگہ شر ( نقصان ) کا لفظ بیان کیا ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، ح وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ، بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ الْقَرَّاظَ، - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ أَبِي هُرَيْرَةَ - يَزْعُمُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ أَرَادَ أَهْلَهَا بِسُوءٍ - يُرِيدُ الْمَدِينَةَ - أَذَابَهُ اللَّهُ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ " . قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ فِي حَدِيثِ ابْنِ يُحَنِّسَ بَدَلَ قَوْلِهِ بِسُوءٍ شَرًّا.
#3360
This hadith is narrated on the authority of Abu Huraira by another chain of transmitters
ابو ہارون موسیٰ بن ابی عیسیٰ اورمحمد بن عمرو دونوں نے ابو عبداللہ قراظ سے سنا ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کرتے ہوئے سنا ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي هَارُونَ، مُوسَى بْنِ أَبِي عِيسَى ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، جَمِيعًا سَمِعَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، الْقَرَّاظَ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . بِمِثْلِهِ .
#3361
Sa'd b. Abu Waqqas reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:He who intends to do harm to the people of Medina, Allah would efface him just as water dissolves salt
حاتم ، یعنی ابن اسماعیل نے ہمیں عمر بن نبیہ سے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے دینار قراظ نے خبر دی ، انھوں نے کہا : میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے اہل مدینہ کے ساتھ برائی کاارادہ کیا اللہ تعالیٰ اسے اس طرح پگھلا دے گا جس طرح نمک پانی میں پگھل جاتا ہے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، - يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ - عَنْ عُمَرَ بْنِ نُبَيْهٍ، أَخْبَرَنِي دِينَارٌ الْقَرَّاظُ، قَالَ سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ أَرَادَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ بِسُوءٍ أَذَابَهُ اللَّهُ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ " .
#3362
Sa'd b. Malik heard Allah's Messenger (ﷺ) saying like this except (this variation) that he said:" Sudden attack or harm
اسماعیل بن جعفر نے ہمیں عمر بن نبیہ کعبی سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو عبداللہ قراظ سے روایت کی کہ انھوں نے سعد بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےسنا وہ کہہ رہے تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( آگے ) اسی کے مانند ہے ، البتہ انھوں نے کہا : " بڑی مصیبت یا برائی ( میں مبتلا کرنے ) کا ارادہ کیا ۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - عَنْ عُمَرَ بْنِ نُبَيْهٍ، الْكَعْبِيِّ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاظِ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ " بِدَهْمٍ أَوْ بِسُوءٍ " .
#3363
Abu Huraira and Sa'd reported Allah's Messenger (way peace be upon him) as saying:O Allah, bless the people of Medina in their mudd, the rest of the hadith being the same, and in It (this is also mentioned):" He wo intends to do harm to its people, Allah would efface him just as salt it dissolved in water
اسامہ بن زید نے ہمیں ابو عبداللہ قراظ سے حدیث بیان کی ، ( اسامہ نے ) کہا : میں نے ان سے سنا ، کہہ رہے تھے : میں نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ دونوں کہہ رہے تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اے اللہ ! اہل مدینہ کے لیے ان کے مد میں برکت عطا فرما ۔ " آگے ( اسی طرح ) حدیث بیان کی اور اس میں ہے : " جس نے اس کے باشندوں کے ساتھ برائی کا ارادہ کیا ، اللہ تعالیٰ اسے اس طرح پگھلا دے گا جس طرح پانی میں نمک پگھل جاتا ہے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاظِ، قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَسَعْدًا، يَقُولاَنِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اللَّهُمَّ بَارِكْ لأَهْلِ الْمَدِينَةِ فِي مُدِّهِمْ " . وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ " مَنْ أَرَادَ أَهْلَهَا بِسُوءٍ أَذَابَهُ اللَّهُ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ " .
#3364
Sufyan b. Abd Zuhair reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Syria will be conquered and some people will go out of Medina along with their families driving their camels. and Medina is better for them if they were to know it. Then Yemen will be conquered and some people will go out of Medina along with their families driving their camels, and Medina is better for them if they were to know it. Then Iraq will be conquered and some people will go out of it along with their families driving their camels, and Medina is better for them if they were to know it
وکیع نے ہمیں ہشام بن عروہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے سفیان بن ابی زہیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " شام فتح کرلیا جائے گا تو کچھ لوگ انتہائی تیزی سے اونٹ ہانکتے ہوئے اپنے اہل وعیال سمیت مدینہ سے نکل جائیں گے ، حالانکہ مدینہ ان کے لیے بہتر ہوگا اگر وہ جانتے ہوں ۔ پھر یمن فتح ہوگا تو کچھ لوگ تیز رفتاری سے اونٹ ہانکتے ہوئے اپنے اہل وعیال سمیت مدینہ سے نکل جائیں گے ، حالانکہ مدینہ ان کے لئے بہتر ہوگا اگر وہ جانتے ہوں ، پھر عراق فتح ہوگا تو کچھ تیزی سے اونٹ ہانکتے ہوئے اپنے اہل وعیال سمیت مدینہ سے نکل جائیں گے حالانکہ مدینہ ان کے لئے بہتر ہوگا اگر وہ جانتے ہوں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يُفْتَحُ الشَّامُ فَيَخْرُجُ مِنَ الْمَدِينَةِ قَوْمٌ بِأَهْلِيهِمْ يَبُسُّونَ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ثُمَّ يُفْتَحُ الْيَمَنُ فَيَخْرُجُ مِنَ الْمَدِينَةِ قَوْمٌ بِأَهْلِيهِمْ يَبُسُّونَ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ثُمَّ يُفْتَحُ الْعِرَاقُ فَيَخْرُجُ مِنَ الْمَدِينَةِ قَوْمٌ بِأَهْلِيهِمْ يَبُسُّونَ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ " .
#3365
Sufyan b. Abu Zuhair heard Allah's Messenger (ﷺ) say:Yemen will be conquered and some people will go away (to that country) driving their camels and carrying their families on them and those who are under their authority, while Medina is better for them if they were to know it. Then Syria will be conquered and some people will go away driving their camels along with them and carrying their families with them and those who are under their authority, while Medina is better for theni if they were to know it. Thtn lraq will be conquered and some people will go away (to that country) driving their camels and carrying their families with them and those who are under their authority. while Medina is better for them if they were to know it
ہمیں ابن جریج نے خبر دی ، ( کہا : ) مجھے ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے خبر دی ، انھوں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے سفیان بن ابی زہیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : سیدنا سفیان بن ابی زہیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ یمن فتح ہو گا تو کچھ لوگ مدینہ سے اپنے اونٹوں کو ہانکتے ہوئے اپنے گھر والوں اور خدام کے ساتھ نکلیں گے حالانکہ مدینہ ان کے لئے بہتر ہو گا ، کاش وہ جانتے ہوتے ۔ پھر شام فتح ہو گا اور مدینہ کی ایک قوم اپنے گھر والوں اور خدام کے ساتھ ، اونٹوں کو ہانکتے ہوئے نکلے گی اور مدینہ ان کے لئے بہتر ہو گا ، کاش وہ جانتے ۔ پھر عراق فتح ہو گا اور مدینہ کی ایک قوم اپنے گھر والوں اور خدام کے ساتھ اپنے اونٹوں کو ہانکتے ہوئے نکلے گی حالانکہ مدینہ ان کے حق میں بہتر ہو گا ، کاش وہ جانتے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي هِشَامُ، بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " يُفْتَحُ الْيَمَنُ فَيَأْتِي قَوْمٌ يَبُسُّونَ فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ثُمَّ يُفْتَحُ الشَّامُ فَيَأْتِي قَوْمٌ يَبُسُّونَ فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ثُمَّ يُفْتَحُ الْعِرَاقُ فَيَأْتِي قَوْمٌ يَبُسُّونَ فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ " .
#3366
Salid b. Musayyib heard Abu Huraira (Allah be pleased with him) say that 'Allah's Messenger (ﷺ) said about Medina:Its inhabitants will abandon it, whereas it is good for them and it will become the haunt of beasts and birds. (Imam Muslim said that Abu Safwan, one of the narrators whose name was 'Abdullah b. 'Abd al-Malik, was an orphan and I bn juraij took him under his care for ten years)
ابو صفوان اور ابن وہب نے یونس بن یزید سے ، انھوں نے ابن شہاب سے ، انھوں نے سعید بن مسیب سے روایت کی کہ انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے بارے میں فرمایا : "" اس کے رہنے والے اس کے بہترین حالت میں ہونے کے باوجود ، اسے اس حالت میں چھوڑ دیں گے کہ وہ خوراک کے متلاشیوں کے قدموں کے نیچے روندا جارہا ہوگا ۔ "" آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد درندوں اور پرندوں سے تھی ۔ امام مسلمؒ نے کہا : یہ ابو صفوان ، عبداللہ بن عبدالملک ہے ، دس سال تک ابن جریج کا ( پروردہ ) یتیم ، جو ان کی گود میں تھا ۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، ح وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ، بْنُ يَحْيَى - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ، الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِلْمَدِينَةِ " لَيَتْرُكَنَّهَا أَهْلُهَا عَلَى خَيْرِ مَا كَانَتْ مُذَلَّلَةً لِلْعَوَافِي " . يَعْنِي السِّبَاعَ وَالطَّيْرَ . قَالَ مُسْلِمٌ أَبُو صَفْوَانَ هَذَا هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ يَتِيمُ ابْنُ جُرَيْجٍ عَشْرَ سِنِينَ كَانَ فِي حَجْرِهِ .
#3367
Abu Huraira (Allah be pleased with him) heard Allah's Messenger (ﷺ) say:They (the residents of) Medina will abandon Medina whereas it is good for them and it will be haunted by beasts and birds, and two shepherds will come out from Muzainah intending (to go) towards Medina and tending their herd, and will find nothing but wilderness there until when they will reach the mountain path of Wada, they will fall down on their faces
عقیل بن خالد نے مجھے ابن شہاب سے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا : مجھے سعید بن مسیب نے خبر دی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ لوگ مدینہ کو اس کے خیر ہونے کے باوجود چھوڑ دیں گے اور اس میں کوئی نہ رہے گا سوائے درندوں اور پرندوں کے ۔ پھر قبیلہ مزینہ سے دو چرواہے اپنی بکریوں کو پکارتے ہوئے مدینہ ( جانے ) کا ارادہ کرتے ہوئے نکلیں گے اور وہ مدینہ کو ویران پائیں گے یہاں تک کہ جب ثنیۃ الوداع تک پہنچیں گے تو اپنے منہ کے بل گر پڑیں گے ۔
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ، خَالِدٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " يَتْرُكُونَ الْمَدِينَةَ عَلَى خَيْرِ مَا كَانَتْ لاَ يَغْشَاهَا إِلاَّ الْعَوَافِي - يُرِيدُ عَوَافِيَ السِّبَاعِ وَالطَّيْرِ - ثُمَّ يَخْرُجُ رَاعِيَانِ مِنْ مُزَيْنَةَ يُرِيدَانِ الْمَدِينَةَ يَنْعِقَانِ بِغَنَمِهِمَا فَيَجِدَانِهَا وَحْشًا حَتَّى إِذَا بَلَغَا ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ خَرَّا عَلَى وُجُوهِهِمَا " .
#3368
AbduUah b. Zaid al-Mazini (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:That which is between my house" and my pulpit is a garden from the gardens of Paradise
عبد اللہ بن ابوبکر نے عباد بن تمیم سے انھوں نے عبد اللہ بن زید ( بن عاصم ) مازنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جو ( جگہ ) میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان ہے ، وہ جنت کے باغوں میں ایک سے باغ ہے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي، بَكْرٍ عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الْمَازِنِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ " .
#3369
Abdullah b. Zaid al-Ansari heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying:That which exists between my pulpit and my house is a garden from the gardens of Paradise
ابو بکر نے ے عباد تمیم سے انھوں نے عبد اللہ بن زید انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : " جو ( جگہ ) میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان ہے ، وہ جنت کے باغوں میں سےایک باغ ہے ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَا بَيْنَ مِنْبَرِي وَبَيْتِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ " .
#3370
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:That which exists between my house and my pulpit is a garden from the gardens of Paradise, and my pulpit is upon my cistern
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان ( کی جگہ ) جنت کے باغوں میں سےایک باغ ہے ۔ اور میرا منبر حوض پر ہے ۔ فائدہ : منبر کا اصل مقام حوض پر ہے اور قیامت کے دن اسی پر ہو گا ۔ یا اب بھی اسی کے اوپر ہی ہے لیکن فا صلے سمیت اس جہت کا ابھی ہمیں ادراک نہیں ہو سکتا ۔ واللہ اعلم بالصواب ۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ، اللَّهِ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ، بْنِ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ وَمِنْبَرِي عَلَى حَوْضِي " .
#3371
Abu Humaid (Allah be pleased with him) reported:We went out along with Allah's Messenger (ﷺ) in the expedition of Tabuk, and Abu Humaid further related: We proceeded until we reached the valley of Qura; and Allah's Messenger (ﷺ) said: I am going forth, so he among you who wants to move fast with me may do so; and he who likes to go slowly may do so. We proceeded until Medina was within our sight, and he said: This is Tabah (another name of Medina); this is Uhud, the mountain which loves us and we love it
حضرت ابو حمید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا : غزوہ تبوک کے موقع پر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ۔ ۔ ۔ اور ( آگے ) حدیث بیان کی اس میں ہے پھر ہم ( سفر سے واپس ) آئے حتیٰ کہ ہم وادی میں پہنچے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا : " میں اپنی رفتا ر تیز کرنے والاہوں تم میں سے جو چا ہے وہ میرے ساتھ تیزی سے آجا ئے اور جو چا ہے وہ ٹھہر کر آجا ئے ۔ پھر ہم نکلے حتی کہ جب بلندی سے ہماری نگا ہ مدینہ پر پڑی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " یہ طابہ ( پاک کرنے والا شہر ) ہے اوریہ احد ہے اور یہ پہاڑ ( ایسا ) ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ السَّاعِدِيِّ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ، قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ . وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ ثُمَّ أَقْبَلْنَا حَتَّى قَدِمْنَا وَادِيَ الْقُرَى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنِّي مُسْرِعٌ فَمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ فَلْيُسْرِعْ مَعِي وَمَنْ شَاءَ فَلْيَمْكُثْ " . فَخَرَجْنَا حَتَّى أَشْرَفْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ فَقَالَ " هَذِهِ طَابَةُ وَهَذَا أُحُدٌ وَهُوَ جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ " .
#3372
Anas b. Malik (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (way peace be upon him) as saying:Uhud is a mountain which loves us and which we love
عبید اللہ بن معاذ نے ہم سے حدیث بیان کی ( کہا : ) میرے والد نے ہمیں حدیث سنا ئی ( کہا : ) ہمیں قرہ بن خالد نے قتادہ سے حدیث بیان کی ( کہا : ) ہمیں انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " بے شک احد ایسا پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ، بْنُ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ أُحُدًا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ " .
#3373
This hadith is narrated by Anas b. Malik (Allah be pleased with him) with another chain of transmitters (and the words are):" Allah's Messenger (ﷺ) cast a glance at Uhud and said: Uhud is a mountain which loves us and we love it
حرم بن عمارہ نے مجھے سابقہ سند کے ساتھ حدیث بیان کی کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد پہاڑ کی طرف دیکھا اور فرمایا : " بے شک احد ایسا پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں
وَحَدَّثَنِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنِي حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ نَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى أُحُدٍ فَقَالَ " إِنَّ أُحُدًا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ " .
#3374
Abu Huraira (Allah be pleased with him) narrated It directly from Allah's Apostle' (ﷺ) having said this:A prayer in my mosque is a thousand times more excellent than a prayer in any other mosque, except Masjid al-Haram (Mosque of the Ka'ba)
سفیان بن عیینہ نے ہمیں زہری سے حدیث بیان کی ، انھوں نے سعید بن مسیب سے انھوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، وہ اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا تے تھے آپ نے فر ما یا : " میری اس مسجد میں ایک نماز دوسری مسجدوں میں ایک ہزار نمازوں سے افضل ہے سوائے مسجد حرام کے ۔
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، - وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو - قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " صَلاَةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلاَةٍ فِيمَا سِوَاهُ إِلاَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ" .