#3150
Yahya b. al-Husain reported on the authority of his grandfather that Allah's Apostle (ﷺ) invoked blessing on the occasion of the Farewell Pilgrimage three times for those who got their heads shaved and once for those who got their hair clipped. In the narration transmitted by Waki' there is no mention of the Farewell Pilgrimage
وکیع اورابو داود طیالسی نے ہمیں شعبہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے یحییٰ بن حصین سے اور انھوں نے اپنی دادی ( ام حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) سے روایت کی کہ انھوں نے حجۃ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےسر منڈانے والوں کے لئے تین بار اور بال کٹوانے والوں کے لئے ایک باردعا کی ۔ اور وکیع نے " حجۃ الوداع کے موقع پر " کا جملہ نہیں کہا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَأَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ جَدَّتِهِ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ دَعَا لِلْمُحَلِّقِينَ ثَلاَثًا وَلِلْمُقَصِّرِينَ مَرَّةً . وَلَمْ يَقُلْ وَكِيعٌ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ .
#3151
Ibn Umar reported that Allah's Messenger (ﷺ) got his head shaved on the occasion of the Farewell Pilgrimage
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ر وایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کےموقع پر اپنے سر مبارک کے بال منڈائے ۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، - يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ - كِلاَهُمَا عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَلَقَ رَأْسَهُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ .
#3152
Anas b. Malik (Allah be pleased wish him) reported that Allah's Messenger (ﷺ) came to Mina; he went to the Jamra and threw pebbles at it, after which he went to his lodging in Mina, and sacrificed the animal. He then called for a barber and, turning his right side to him, let him shave him; after which he tiimed his left side. He then gave (these hair) to the people
ہمیں یحییٰ بن یحییٰ نے حدیث بیان کی ( کہا ) ہمیں حفص بن غیاث نے ہشام سے خبر دی انھوں نے محمد بن سیرین سے اور انھوں نے انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ تشر یف لا ئے پھر جمرہ عقبہ کے پاس آئے اور اسے کنکریاں ماریں پھر منیٰ میں اپنے پڑاؤ پر آئے اور قر با نی کی ، پھر بال مونڈنے والے سے فر ما یا : " پکڑو ۔ " اور آپ نے اپنے ( سر کی ) دائیں طرف اشاراہ کیا پھر بائیں طرف پھر آپ ( اپنے موئے مبارک ) لوگوں کو دینے لگے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَتَى مِنًى فَأَتَى الْجَمْرَةَ فَرَمَاهَا ثُمَّ أَتَى مَنْزِلَهُ بِمِنًى وَنَحَرَ ثُمَّ قَالَ لِلْحَلاَّقِ " خُذْ " . وَأَشَارَ إِلَى جَانِبِهِ الأَيْمَنِ ثُمَّ الأَيْسَرِ ثُمَّ جَعَلَ يُعْطِيهِ النَّاسَ .
#3153
Abu Bakr reported:(He called for) the barber and, pointing towards the right side of his head, said: (Start from) here, and then distributed his hair among those who were near him. He then pointed to the barber (to shave) the left side and he shaved it, and he gave (these hair) to Umm Sulaim (Allah be pleased with her). And in the narration of Abu Kuraib (the words are):" He started from the right half (of his head), and he distributed a hair or two among the people. and then (asked the barber) to shave the left side and he did similarly, and he (the Holy Prophet) said: Here is Abu Talha and he gave these (hair) to Abu Talha
نمبرابو بکر بن ابی شیبہ ابن نمیر اور ابو کریب سب نے کہا ہمیں حفص بن غیاث نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی لیکن ابو بکر نے اپنی روایت میں یہ الفاظ کہے آپ نے حجا م سے کہا : "" یہ لو "" اور اپنے ہا تھ سے اس طرح اپنی دائیں جا نب اشارہ کیا ( کہ پہلے دائیں طرف سے شروع کرو ) اوراپنے بال مبارک اپنے قریب کھڑے ہو ئے لوگوں میں تقسم فر ما دیے پھر حجا مکو اپنی بائیں جا نب کی طرف اشارہ کیا ( کہ اب بائیں جا نب سے حجا مت بنا ؤ ) حجا م نے آپ کا سر مو نڈدیا تو آپ نے ( اپنے وہ موئے مبارک ) ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو عطا فر ما دیے ۔ اور ابو کریب کی روایت میں ہے کہا : ( حجا م نے ) دائیں جا نب سے شروع کیا تو آپ نے ایک ایک دو دو بال کر کے لوگوں میں تقسیم فر ما دیے ، پھر آپ نے اپنی بائیں جا نب ( حجا مت بنا نے کا ) اشارہ فر ما یا ۔ حجا م نے اس طرف بھی وہی کیا ( بال مونڈدیے ) پھر آپ نے فر ما یا : "" کہا یہا ابو طلحہ ہیں ؟ پھر آپ نے اپنے موئے مبا رک ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوالے فر ما دیے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالُوا أَخْبَرَنَا حَفْصُ بْنُ، غِيَاثٍ عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ أَمَّا أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ فِي رِوَايَتِهِ لِلْحَلاَّقِ " هَا " . وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى الْجَانِبِ الأَيْمَنِ هَكَذَا فَقَسَمَ شَعَرَهُ بَيْنَ مَنْ يَلِيهِ - قَالَ - ثُمَّ أَشَارَ إِلَى الْحَلاَّقِ وَإِلَى الْجَانِبِ الأَيْسَرِ فَحَلَقَهُ فَأَعْطَاهُ أُمَّ سُلَيْمٍ . وَأَمَّا فِي رِوَايَةِ أَبِي كُرَيْبٍ قَالَ فَبَدَأَ بِالشِّقِّ الأَيْمَنِ فَوَزَّعَهُ الشَّعَرَةَ وَالشَّعَرَتَيْنِ بَيْنَ النَّاسِ ثُمَّ قَالَ بِالأَيْسَرِ فَصَنَعَ بِهِ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ قَالَ " هَا هُنَا أَبُو طَلْحَةَ " . فَدَفَعَهُ إِلَى أَبِي طَلْحَةَ .
#3154
Anas b. Malik (Allah be pleased with him) reported that Allah's Messenger (ﷺ) threw stones at Jamrat al-'Aqaba. He then want to his sacrificial animal and sacrificed it, and there was sitting the barber, and he pointed with his hand towards his head, and he shaved the right half of it, and he (the Holy Prophet) distributed them (the hair) among those who were near him. And he again said:Shave the other half, and said: Where is Abu Talha and gave it (the hair) to him
ہمیں عبد الاعلیٰ نے حدیث بیان کی ( کہا ) ہمیں ہشام ( بن حسان ) نے محمد ( بن سیرین ) سے حدیث بیان کی انھوں نے انس بن ما لک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہعقبہ کو کنکریاں ماریں پھر قربانی کے اونٹوں کی طرف تشریف لے گئے اور انھیں نحر کیا اور حجام ( آپ کے لیے ) بیٹھا ہوا تھا آپ نے ( اسے ) اپنے ہاتھ کے ساتھ اپنے سر سے ( بالاتارنے کا ) اشارہ کیا تو اس نے آپ ( کے سر ) کی دائیں طرف کے بال اتاردیے ۔ آپ نے وہ بال ان لو گوں میں بانٹ دیے جو آُ کے قریب موجود تھے ۔ پھر فر ما یا : " دوسری طرف کے بال ( بھی ) اتار دو ۔ اس کے بعد آپ نے فر ما یا : " ابو طلحہ کہاں ہیں ؟اور آپ نے وہ ( موئے مبارک ) انھیں دے دیے ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسِ، بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْبُدْنِ فَنَحَرَهَا وَالْحَجَّامُ جَالِسٌ وَقَالَ بِيَدِهِ عَنْ رَأْسِهِ فَحَلَقَ شِقَّهُ الأَيْمَنَ فَقَسَمَهُ فِيمَنْ يَلِيهِ ثُمَّ قَالَ " احْلِقِ الشِّقَّ الآخَرَ " . فَقَالَ " أَيْنَ أَبُو طَلْحَةَ " . فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ .
#3155
Anas b. Malik (Allah be pleased with him) reported:When Allah's Messenger (ﷺ) had thrown pebbles at the Jamra and had sacrificed the animal, he turned (the right side) of his head towards the barber, and i. e shaved it. He then called Abu Talha al-Ansari and gave it to him. He then turned his left side and asked him (the barber) to shave. And he (the barber) shaved. and gave it to Abu Talha and told him to distribute it amongst the people
ہم سے سفیان نے حدیث بیان کی ( کہا ) میں نے ہشام بن حسان سے سنا وہ ابن سیرین سے خبر دے رہے تھے انھوں نے حضرت انس بن ما لک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں اپنی قربانی ( کے اونٹوں ) کو نحر کیا اور پھر سر منڈوانے لگے تو آپ نے اپنے سر کی دائیں جا نب مونڈنے والے کی طرف کی تو اس نے اس طرف کے بال اتار دیے آپ نے طلحہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلا یا اور وہ ( بال ) ان کے حوالے کر دیے ۔ پھر آپ نے ( سر کی ) بائیں جا نب اس کی طرف کی اور فر ما یا ۔ ( اس کے ) بالاتاردو ۔ اس نے وہ بال اتاردیے تو آپ نے وہ بھی ابو طلحہ کو دے دیے اور فر ما یا ان ( بائیں طرف والے بالوں ) کولوگوں میں تقسیم کر دو
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَسَّانَ، يُخْبِرُ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ لَمَّا رَمَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْجَمْرَةَ وَنَحَرَ نُسُكَهُ وَحَلَقَ نَاوَلَ الْحَالِقَ شِقَّهُ الأَيْمَنَ فَحَلَقَهُ ثُمَّ دَعَا أَبَا طَلْحَةَ الأَنْصَارِيَّ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ ثُمَّ نَاوَلَهُ الشِّقَّ الأَيْسَرَ فَقَالَ " احْلِقْ " . فَحَلَقَهُ فَأَعْطَاهُ أَبَا طَلْحَةَ فَقَالَ " اقْسِمْهُ بَيْنَ النَّاسِ ".
#3156
Abdullah b. 'Amr b. al-'As said that Allah's Messenger (ﷺ) stopped during the Farewell Pilgrimage at Mina for people who had something to ask. A man came and said:Messenger of Allah, being ignorant. I shaved before sacrificing, whereupon he (the Holy Prophet) said: Now sacrifice (the animal) and there is no harm (for you). Then another man came and he said: Messenger of Allah, being ignorant, I sacrificed before throwing the pebbles, whereupon he (the Holy Prophet) said: (Now) throw the pebbles, and there is no harm (for you). Allah's Messenger (ﷺ) was not asked about anything which had been done before or after (its proper time) but he said: Do it, and no harm is there (for you)
امام مالک نے ابن شہاب سے انھوں نے عیسیٰ بن طلحہ بن عبید اللہ سے انھوں نے عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا حجتہ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں لوگوں کے لیے ٹھہرے رہے وہ آپ سے مسائل پوچھ رہے تھے ایک آدمی آیا اور کہنے لگا : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میں سمجھ نہ سکا ( کہ پہلے کیا ہے ) اور میں نے قر با نی کرنے سے پہلے سر منڈوالیا ہے ؟ آپ نے فر ما یا ؛ ( اب ) قر با نی کر لو کو ئی حرج نہیں ۔ پھر ایک اور آدمی آیا اور کہنے لگا اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے پتہ نہ چلا اور میں نے رمی کرنے سے پہلے قر با نی کر لی ؟ آپ نے فر ما یا : " ( اب ) رمی کر لو کو ئی حرج نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی چیز کے متعلق جس میں تقدیم یا تا خیر کی گئی نہیں پو چھا گیا مگر آپ نے ( یہی ) فر ما یا : " ( اب ) کر لو کو ئی حرج نہیں ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ، طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِمِنًى لِلنَّاسِ يَسْأَلُونَهُ فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ أَشْعُرْ فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ . فَقَالَ " اذْبَحْ وَلاَ حَرَجَ " . ثُمَّ جَاءَهُ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ أَشْعُرْ فَنَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ فَقَالَ " ارْمِ وَلاَ حَرَجَ " . قَالَ فَمَا سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ شَىْءٍ قُدِّمَ وَلاَ أُخِّرَ إِلاَّ قَالَ " افْعَلْ وَلاَ حَرَجَ " .
#3157
Abdullah b. 'Amr b. al-'As (Allah be pleased with them) reported:Allah's Messenger (ﷺ) stopped while riding his camel and the people began to ask him. One of the inquirers said: Messenger of Allah, I did not know that pebbles should be thrown before sacrificing the animal, and by mistake I sacrificed the animal before throwing pebbles, whereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: (Now) throw pebbles and there is no harm in it. Then another (person) came saying: I did not know that the animal was to be sacrificed before shaving, but I got myself shaved before sacrificing the animal, whereupon he (the Holy Prophet) said: Sacrifice the animal (now) and there is no harm in it. He (the narrator) said: I did not hear that anything was asked on that day (shout a matter) which a person forgot and could not observe the sequence or anything like it either due to forgetfulness or ignorance, but Allah's Messenger (ﷺ) said (about that): Do it; there is no harm in it
یو نس نے ابن شہاب سے باقی ماند ہ اسی سند کے ساتھ خبر دی کہ عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہہ رہے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( منیٰ میں ) اپنی سواری پر ٹھہر گئے اور لوگوں نے آپ سے سوالات شروع کر دیے ان میں سے ایک کہنے والا کہہ رہا تھا ۔ اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !مجھے معلوم نہ تھا کہ رمی ( کا عمل ) قربانی سے پہلے ہے میں نے رمی سے پہلے قربا نی کر لی ؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تو ( اب ) رمی کر لو کو ئی حرج نہیں ۔ کو ئی اور شخص کہتا : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے معلوم نہ تھا کہ قر با نی سر منڈوانے سے پہلے ہے میں نے قر بانی کر نے سے پہلے سر منڈوا لیا ہے ؟تو آپ فر ما تے ( اب ) قر بانی کر لو کو ئی حرج نہیں ۔ ( عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا میں نے آپ سے نہیں سنا کہ اس دن آپ سے ان اعمال کے بارے میں جن میں آدمی بھول سکتا ہے یا لا علم رہ سکتا ہے ان میں سے بعض امور کی تقدیم ( وتاخیر ) یا ان سے ملتی جلتی باتوں کے بارے میں نہیں پو چھا گیا مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یہی ) فر ما یا : " ( اب ) کر لو کو ئی حرج نہیں ۔
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ التَّيْمِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، يَقُولُ وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى رَاحِلَتِهِ فَطَفِقَ نَاسٌ يَسْأَلُونَهُ فَيَقُولُ الْقَائِلُ مِنْهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَمْ أَكُنْ أَشْعُرُ أَنَّ الرَّمْىَ قَبْلَ النَّحْرِ فَنَحَرْتُ قَبْلَ الرَّمْىِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَارْمِ وَلاَ حَرَجَ " . قَالَ وَطَفِقَ آخَرُ يَقُولُ إِنِّي لَمْ أَشْعُرْ أَنَّ النَّحْرَ قَبْلَ الْحَلْقِ فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ . فَيَقُولُ " انْحَرْ وَلاَ حَرَجَ " . قَالَ فَمَا سَمِعْتُهُ يُسْأَلُ يَوْمَئِذٍ عَنْ أَمْرٍ مِمَّا يَنْسَى الْمَرْءُ وَيَجْهَلُ مِنْ تَقْدِيمِ بَعْضِ الأُمُورِ قَبْلَ بَعْضٍ وَأَشْبَاهِهَا إِلاَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " افْعَلُوا ذَلِكَ وَلاَ حَرَجَ " .
#3158
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri
صالح نے ابن شہاب سے روایت کی ۔ ۔ ۔ ( اس کے بعد ) حدیث کے آخر تک زہری سے یو نس کی روایت کر دہ حدیث کے مانند ہے ۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ، إِلَى آخِرِهِ .
#3159
Abdullah b. Amr b. al-'As (Allah be pleased with them) reported:As Allah's Apostle. (ﷺ) was delivering sermon on the Day of Nahr, a man stood up before him and said: Messenger of Allah, I did not know that such and such (rite was to be performed) before such and such (rite). Then another man came and said: Messenger of Allah, I thought that such and such (rite) should precede such and such (rite), and then another man came and said: Messenger of Allah, I had thought that such and such was before such and such, and such and such (is the sequence) of the three (rites, viz. throwing of pebbles, sacrificing of animal and shaving of one's head). He said to all these three: Do now (if you have not observed the cequence) ; there is no harm in it
عیسیٰ نے ہمیں ابن جریج سے خبر دی کہا میں نے ابن شہاب سے سنا کہہ رہے تھے عیسیٰ بن طلحہ نے مجھے حدیث بیان کی ، کہا مجھے حضرت عبد اللہ بن عمرو بن راص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ اس دورا ن میں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم قر بانی کے دن خطبہ دے رہے تھے کو ئی آدمی آپ کی طرف ( رخ کر کے ) کھڑا ہوا اور کہا : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میں نہیں سمجھتا تھا کہ فلا ں کا فلاں سے پہلے ہے پھر کو ئی اور آدمی آیا اور کہا : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میرا خیال تھا کہ فلا ں کا م فلا ں فلاں سے پہلے ہو گا ( انھوں نے ) ان تین کا موں ( سر منڈوانے رمی اور قر بانی کے بارے میں پو چھا تو ) آپ نے یہی فر ما یا : " ( اب ) کر لو کو ئی حرج نہیں ۔
وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ شِهَابٍ، يَقُولُ حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَا هُوَ يَخْطُبُ يَوْمَ النَّحْرِ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ مَا كُنْتُ أَحْسِبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَّ كَذَا وَكَذَا قَبْلَ كَذَا وَكَذَا ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنْتُ أَحْسِبُ أَنَّ كَذَا قَبْلَ كَذَا وَكَذَا لِهَؤُلاَءِ الثَّلاَثِ قَالَ " افْعَلْ وَلاَ حَرَجَ " .
#3160
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Juraij with the same chain of transmitters. And the narration of Ibn Bakr is like one transmitted by 'Isa but with this (variation):" There are not these words in it: To all these three rites (throwing of pebbles sacrificing of animal and shaving of one's head)." And so far as the narration of Yahya al-Umawi (the words are): I got (my head) shaved before I sacrificed the animal, and I sacrified the animal before throwing pebbles, and like that
محمد بن بکر اور سعید بن یحییٰ اموی نے اپنے والد ( یحییٰ اموی ) کے واسطے سے ابن جریج سے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی ، ابن بکر کی روایت عیسیٰ کی گزشتہ روایت کی طرح ہے سوائے ان کے اس قول کے " ان تین چیزوں کے بارے میں " اور ہے یحییٰ اموی تو ان کی روایت میں ہے میں نے قر بانی کرنے سے پہلے سر منڈوالیا میں نے رمی کرنے سے پہلے قر با نی کر لی اور اسی سے ملتی جلتی باتیں
وَحَدَّثَنَاهُ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ح وَحَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الأُمَوِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي جَمِيعًا، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ أَمَّا رِوَايَةُ ابْنِ بَكْرٍ فَكَرِوَايَةِ عِيسَى إِلاَّ قَوْلَهُ لِهَؤُلاَءِ الثَّلاَثِ . فَإِنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ ذَلِكَ وَأَمَّا يَحْيَى الأُمَوِيُّ فَفِي رِوَايَتِهِ حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ نَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ . وَأَشْبَاهَ ذَلِكَ .
#3161
Adullah b. 'Amr (b. al-'As) (Allah be pleased with him) reported that a person came to Allah's Apostle (ﷺ) and said:I got (my head) shaved before sacrificing the, animal, whereupon be (the Holy Prophet) said: Sacrifice the animal (now) ; there is no harm in it. He (the person said): I sacripced the animal before throwingpebbles. whereupon he said: Throw pebbles (now) ; there is no harm in it
ہمیں ( سفیان ) بن عیینہ نے زہری سے حدیث بیان کی انھوں نے عیسیٰ بن طلحہ سے اور انھوں نے عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : کو ئی آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا : میں نے قر با نی کر نے سے پہلے سر منڈوالیا ہے آپ نے فر ما یا ( اب ) قربانی کرلو رمی کر لو کو ئی حرج نہیں ۔ ( کسی اور نے ) کہا : میں رمی سے پہلے قر با نی کر لی ہے تو آپ نے فر ما یا : " ( اب ) رمی کر لو کوئی حرج نہیں ۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَجُلٌ فَقَالَ حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ . قَالَ " فَاذْبَحْ وَلاَ حَرَجَ " . قَالَ ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ . قَالَ " ارْمِ وَلاَ حَرَجَ " .
#3162
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters (and the words are):I saw Allah's Messenger (ﷺ) on the back of the camel at Mina, and a person came to him," and the rest of the hadith Is like that transmitted by Ibn 'Uyaina
معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) روایت کی ( عبد اللہ بن عمروبن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ( آپ ) منیٰ میں اونٹنی پر ( سوار ) تھے تو آپ کے پا س ایک آدمی آیا ۔ ۔ ۔ آگے ابن عیینہ کی حدیث کے ہم معنی حدیث ہے ۔
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى نَاقَةٍ بِمِنًى فَجَاءَهُ رَجُلٌ . بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ .
#3163
Abdullah b. 'Amr b. al-As (Allah be pleased with them) said:As Allah's Messenger (may peace be'upon him) was standing near the jamra, a person came to him on the Day of Nahr and said: Messenger of Allah, I got (my head shaved) before throwing pebbles, whereupon he (the Holy Prophet) said: Throw pebbles (now) ; there is no harm in it. Another man (then) came and said: I have sacrificed before throwing the stones. He said: Throw stones (now) and there is no harm. Another came to him and said: I have observed the circumambulation of Ifada of the House before throwing pebbles. He said: Throw pebbles (now) ; there is no harm in it, He (the narrator) said: I did not see that he (the Holy Prophet) was asked about anything on that day, but he said: Do, and there is no harm in it
محمد بن ابی حفصہ نے ہمیں زہری سے خبر دی انھوں نے عیسیٰ بن طلحہ سے اور انھوں نے عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا جب آپ کے پاس قر بانی کے دن ایک آدمی آیا آپ جمرہ عقبہ کے پاس رکے ہو ئے تھے ۔ اس نے عرض کی اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے رمی کر نے سے پہلے سر منڈوالیا ہے آپ نے فر ما یا : " ( اب رمی کر لو کو ئی حرج نہیں ۔ ایک اور آدمی آیا ۔ وہ کہنے لگا : میں نے رمی سے پہلے قر با نی کر لی ہے ؟ آپ نے فر ما یا : " ( اب ) رمی کر لو کو ئی حرج نہیں پھر آپ کے پاس ایک اور آدمی آیا اور کہا میں نے رمی سے پہلے طواف افاضہ کر لیا ؟ ہے ؟فر ما یا : " ( اب ) رمی کر لو کو ئی حرج نہیں ۔ کہا : میں نے آپ کو نہیں دیکھا کہ اس دن آپ سے کسی بھی چیز ( کی تقدیمو تا خیر ) کے بارے میں سوال کیا گیا ہو مگر آپ نے یہی فر ما یا : " کر لو کو ئی حرج نہیں ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ، الْمُبَارَكِ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ، عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَتَاهُ رَجُلٌ يَوْمَ النَّحْرِ وَهُوَ وَاقِفٌ عِنْدَ الْجَمْرَةِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ . فَقَالَ " ارْمِ وَلاَ حَرَجَ " وَأَتَاهُ آخَرُ فَقَالَ إِنِّي ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ . قَالَ " ارْمِ وَلاَ حَرَجَ " . وَأَتَاهُ آخَرُ فَقَالَ إِنِّي أَفَضْتُ إِلَى الْبَيْتِ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ . قَالَ " ارْمِ وَلاَ حَرَجَ " . قَالَ فَمَا رَأَيْتُهُ سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَىْءٍ إِلاَّ قَالَ " افْعَلُوا وَلاَ حَرَجَ " .
#3164
Ibn Abbas (Allah be pleased with them) reported that it was said to Allah's Apostle (ﷺ) about sacrificing of animals, shaving of one's head, throwing of pebbles, and (the order of) precedence and succession, and he said:There is no harm in it
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قر با نی کرنے سر منڈوانے رمی کرنے اور ( کا موں کی ) تقدیم و تا خیر کے بارے میں پو چھا گیا تو آپ نے فر ما یا : " کو ئی حرج نہیں ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قِيلَ لَهُ فِي الذَّبْحِ وَالْحَلْقِ وَالرَّمْىِ وَالتَّقْدِيمِ وَالتَّأْخِيرِ فَقَالَ " لاَ حَرَجَ " .
#3165
Ibn Umar reported that Allah's Messenger (ﷺ) observed the circumambulation of Ifada on the Day of Nabr (10th of Dhu'l-Hijja), and then came back and observed the noon prayer at Mina. Nafi' (one of the narrators) said that Ibn Umar used to observe the circumambulation of Ifada on the Day of Nahr, and then return and observe the noon prayer at Mina, and mentioned that Allah's Apostle (ﷺ) did that
نا فع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قر بانی کے دن طواف افاضہ کیا ۔ پھر واپس آکر ظہر کی نماز منیٰ میں ادا کی ۔ نافع نے کہا حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ قربانی کے دن طواف افاضہ کرتے پھر واپس آتے ظہر کی نماز منیٰ میں ادا کرتے اور بیان کیا کرتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا تھا ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَفَاضَ يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ رَجَعَ فَصَلَّى الظُّهْرَ بِمِنًى . قَالَ نَافِعٌ فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُفِيضُ يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ يَرْجِعُ فَيُصَلِّي الظُّهْرَ بِمِنًى وَيَذْكُرُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَعَلَهُ .
#3166
Abd al-'Aziz b. Rufai' (Allah be pleased with him) said:I asked Anas b. Malik to tell me about something he knew about Allah's Messenger (ﷺ), viz. where he observed the noon prayer on Yaum al-Tarwiya. He said: At Mina. I said: Where did he observe the afternoon prayer on the Yaum an-Nafr? and he said: It was at al-Abtah. He then said: Do as your rulers do
عبد العزیز بن رفیع سے روایت ہے انھوں نے کہا میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال کیا میں نے کہا : مجھے ایسی چیز بتا یئے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سمجھی ہو ( اور یاد رکھی ہو ) آپ نے تر ویہ کے دن ( آٹھ ذوالحجہ کو ظہر کی نماز کہاں ادا کی تھی ؟ انھوں نے بتا یا منیٰ میں ۔ میں نے پو چھا : آپ نے ( منیٰ سے ) واپسی کے دن عصر کی نماز کہاں ادا کی ؟انھوں نے کہا اَبطح میں ۔ پھر کہا ( لیکن تم ) اسی طرح کرو جیسے تمھا رے امراء کرتے ہیں ۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْرَقُ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قُلْتُ أَخْبِرْنِي عَنْ شَىْءٍ، عَقَلْتَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَيْنَ صَلَّى الظُّهْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ قَالَ بِمِنًى . قُلْتُ فَأَيْنَ صَلَّى الْعَصْرَ يَوْمَ النَّفْرِ قَالَ بِالأَبْطَحِ - ثُمَّ قَالَ - افْعَلْ مَا يَفْعَلُ أُمَرَاؤُكَ .
#3167
Ibn 'Umar (Allah be pleased with him) reported that Allah's Messenger (ﷺ) and Abu Bakr and 'Umar observed halt at al-Abtah
ایوب نے نا فع سے انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ابو بکر اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابطح میں پڑاؤ کیا کرتے تھے ( واپسی کے وقت مدینہ کے راستے میں منیٰ کے باہر وہیں پڑاؤ کیا جا سکتا تھا)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ كَانُوا يَنْزِلُونَ الأَبْطَحَ
#3168
Nafi' reported that Ibn 'Umar regarded halt at Muhassab as Sunnah (of the Holy Prophet) and observed the noon prayer on Yaum al-Nafr at that place. Nafi' said:Allah's Messenger (ﷺ) halted at Muhassab and the Caliphs did the same after him
صخر بن جو یریہ نے نافع سے حدیث بیان کی کہ حضر ت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ محصب میں پڑاؤ کرنے کو سنت سمجھتے تھے اور وہ روانگی کے دن ظہر کی نماز حصبہ ( محصب ) میں ادا کرتے تھے ۔ نافع نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعد خلفاء نے وادی محصب میں قیام کیا ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ يَرَى التَّحْصِيبَ سُنَّةً وَكَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ يَوْمَ النَّفْرِ بِالْحَصْبَةِ . قَالَ نَافِعٌ قَدْ حَصَّبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالْخُلَفَاءُ بَعْدَهُ .
#3169
A'isha (Allah be pleased with her) reported.:Halt at al-Abtah is not the Sunnah. Allah's Messenger (ﷺ) halted there simply because it was easier for him to depart from there, when he left
عبد اللہ بن نمیر نے حدیث بیان کی ( کہا ) ہمیں ہشام نے اپنے والد ( عروہ ) سے حدیث بیان کی انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا ابطح میں ٹھہر نا ( اعمال حج کی سنتوں میں سے کو ئی ) سنت نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں اترے تھے کیونکہ ( مکہ سے ) روانہ ہو تے وقت وہاں سے نکلنا آسان تھا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ نُزُولُ الأَبْطَحِ لَيْسَ بِسُنَّةٍ إِنَّمَا نَزَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأَنَّهُ كَانَ أَسْمَحَ لِخُرُوجِهِ إِذَا خَرَجَ .
#3170
This hadith is narrated on the authority of Hisham with the same chain of transmitters
حفص بن غیاث حماد بن زید اور حبیب المعلم سب نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ح وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو الرَّبِيعِ، الزَّهْرَانِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، ح وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ، كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
#3171
Salim reported that Abu Bakr, 'Umar and Ibn Umar used to halt at Abtah. 'Urwa narrated from 'A'isha (Allah be pleased with her) that he did not observe this practice and said:Allah's Messenger (ﷺ) halted there, for it is a place from where it was easy to depart
زہری نے سالم سے روایت کی کہ ابو بکر عمر اور ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابطح پڑاؤکیا کرتے تھے ۔ زہر ی نے کہا مجھے عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے خبر دی کہ وہ ایسا نہیں کرتی تھیں اور ( عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں اترے تھے کیونکہ پڑاؤ کی وہ جگہ آپ کے ( مکہ سے ) نکلنے کے لیے زیادہ آسان تھی ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَابْنَ، عُمَرَ كَانُوا يَنْزِلُونَ الأَبْطَحَ . قَالَ الزُّهْرِيُّ وَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا لَمْ تَكُنْ تَفْعَلُ ذَلِكَ وَقَالَتْ إِنَّمَا نَزَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأَنَّهُ كَانَ مَنْزِلاً أَسْمَحَ لِخُرُوجِهِ .
#3172
Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) reported:Halt at Muhassab is not something (significant from the point of view of the Shari'ah). It is a place of halt where Allah's Messenger (way peace be upon him) halted
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انھوں نے کہا تحصب ( محصب میں ٹھہرنا ) کو ئی چیز نہیں وہ تو پڑاؤ کی ایک جگہ ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام کیا تھا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَأَحْمَدُ بْنُ، عَبْدَةَ - وَاللَّفْظُ لأَبِي بَكْرٍ - حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لَيْسَ التَّحْصِيبُ بِشَىْءٍ إِنَّمَا هُوَ مَنْزِلٌ نَزَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
#3173
Abu Rafi' reported:Allah's Messenger (ﷺ) did not command me to observe halt at al-Abtah when be departed from Mina, but I came and set up his (the Holy Prcphet's) tent (of my own accord) ; and he (Allah's Apostle) came and observed halt. This hadith is narrated through another chain of transmitters from Abu Rafi' who was (in charge) of the luggage of Allah's Apostle (ﷺ)
قتیبہ بن سعید ابو بکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حر ب ان سب نے ابن عیینہ سے حدیث بیان کی انھوں نے صالح بن کیسان سے اور انھوں نے سلیمان بن یسارسے روایت کی انھوں کہا ابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب آپ نے منیٰ سے نکلے مجھے یہ حکم نہیں دیا تھا کہ میں ابطح میں قیام کروں لیکن میں ( خود ) وہاں آیا اور آپ کا خیمہ لگا یا اس کے بعد آپ تشریف لا ئے اور قیام کیا ۔ ابو بکر ( بن ابی شیبہ ) نے صالح سے ( بیان کردہ ) روایت میں کہا انھوں ( صالح ) نے کہا میں نے سلیمان بن یسار سے سنا اور قتیبہ کی روایت میں ہے ۔ ( سلیمان نے ) کہا ابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامان ( کی حفاظت اور نقل و حمل ) پر مامور تھے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنِ ابْنِ، عُيَيْنَةَ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ قَالَ أَبُو رَافِعٍ لَمْ يَأْمُرْنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ أَنْزِلَ الأَبْطَحَ حِينَ خَرَجَ مِنْ مِنًى وَلَكِنِّي جِئْتُ فَضَرَبْتُ فِيهِ قُبَّتَهُ فَجَاءَ فَنَزَلَ . قَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي رِوَايَةِ صَالِحٍ قَالَ سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ . وَفِي رِوَايَةِ قُتَيْبَةَ قَالَ عَنْ أَبِي رَافِعٍ وَكَانَ عَلَى ثَقَلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
#3174
Abu Huraira (Allah be pleated with him) reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:God willing, we will get down tomorrow, at Khaif of Banu Kinanah, the place where they had taken an oath on unbelief
یو نس نے ابن شہاب سے خبر دی انھوں نے ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن بن عوف سے انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فر ما یا : " کل ہم ان شاء اللہ خیف بنی کنانہ ( وادی محصب ) میں قیام کریں گے جہاں انھوں ( قریش ) نے باہم کفر پر ( قائم رہنے کی ) قسم کھا ئی تھی ۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " نَنْزِلُ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ حَيْثُ تَقَاسَمُوا عَلَى الْكُفْرِ " .