#3075
jabir b. 'Abdullah (Allah be pleased with them) reported that Allah's Apostle (ﷺ) circumambulated the House (and ran) between al-Safa and al-Marwa on the back of his she-camel, at the occasion of the Farewell Pilgrimage. so that the people should see him and he should be conspicuous, and they should be able to ask him (questions pertaining to religion), and the people had crowded round him. In the hadith transmitted on the authority of Ibn Khashram no mention Is made of:" So that they should ask him
علی بن خشرم نے ہمیں حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں عیسیٰ بن یونس نے ابن جریج سے خبر دی ، نیز ہمیں عبد بن حمید نے حدیث بیا ن کی ( کہا : ) ہمیں محمد ، یعنی ابن بکر نے حدیث بیان کی ، کہا : ابن جریج نے ابوزبیر سے خبر دی کہ انھوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوکہتے ہوئےسنا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر بیت اللہ اورصفا مروہ کا طواف اپنی سواری پر کیا ، تاکہ لوگ آپ کو دیکھ سکیں اور آپ اوپر لوگوں کو دیکھ سکیں اور لوگ آپ سے سوال کرسکیں کیونکہ لوگوں نے ( ہرطرف سے اذدحام کرکے ) آپ کو چھپا لیاتھا ۔ ابن خشرم نے " تاکہ وہ آپ سے سوالات پوچھ سکیں " ( کے الفاظ ) روایت نہیں کیے ۔
وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ، - يَعْنِي ابْنَ بَكْرٍ - قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ طَافَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَى رَاحِلَتِهِ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ لِيَرَاهُ النَّاسُ وَلِيُشْرِفَ وَلِيَسْأَلُوهُ فَإِنَّ النَّاسَ غَشُوهُ . وَلَمْ يَذْكُرِ ابْنُ خَشْرَمٍ وَلِيَسْأَلُوهُ فَقَطْ .
#3076
A'isha (Allah be pleased with her) reported that Allah's Apostle (ﷺ) circumambulated the Ka'ba on the back of his camel on the occasion of the Farewell Pilgrimage and touched the corner and he did not like that the people should be pushed away from him
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے ، کہا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اپنے اونٹ پر کعبہ کے اردگرد طواف فرمایا ، آپ ( اپنی مڑے ہوئے سرے والی چھڑی سے ) حجر اسود کا استلام فرماتے تھے ، اس لیے کہ آپ کو یہ بات ناپسند تھی کہ آپ سے لوگوں کو مارکرہٹایا جائے ۔
حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى الْقَنْطَرِيُّ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ طَافَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ حَوْلَ الْكَعْبَةِ عَلَى بَعِيرِهِ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ كَرَاهِيَةَ أَنْ يُضْرَبَ عَنْهُ النَّاسُ .
#3077
Abu Tufail reported:I saw Allah's Messenger (ﷺ) circumambulating the House. and touching the corner with a stick that he had with him, and then kissing the stick
ابو طفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، آپ بیت اللہ کاطواف فرمارہے تھے ، آپ اپنی مڑے ہوئے سرے والی چھڑی سے حجر اسود کا استلام کرتے تھے اوراس چھڑی کو بوسہ دیتے تھے ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا مَعْرُوفُ بْنُ خَرَّبُوذَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ، يَقُولُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَيَسْتَلِمُ الرُّكْنَ بِمِحْجَنٍ مَعَهُ وَيُقَبِّلُ الْمِحْجَنَ .
#3078
Umm Salama reported:I made a complaint to Allah's Messenger (ﷺ) of my ailment, whereupon be said: Circumambulate behind the people while riding. She said: So I circumambulated and Allah's Messenger (ﷺ) was at that time praying towards the side of the House and he was reciting al-Tur and a Book Inscribed (i. e. Sura Iii. of the Qur'un)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکوہ کیا کہ میں بیمار ہوں تو آپ نے فرمایا : " سوار ہوکر لوگوں کے پیچھے سے طواف کرلو ۔ " انھوں نے کہا : جب میں نے طواف کیا تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کی ایک جانب نماز ادا فرمارہے تھے ، اور ( نماز میں ) ( وَالطُّورِ﴿<http : //tanzil.net/>﴾ وَكِتَابٍ مَّسْطُورٍ ) کی تلاوت فرمارہے تھے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنِّي أَشْتَكِي فَقَالَ " طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ " . قَالَتْ فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَئِذٍ يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ وَهُوَ يَقْرَأُ بِـ { الطُّورِ * وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ} .
#3079
Hisham b. 'Urwa reported on the authority of his father who narrated from 'A'isha. He said to 'A'isha:I think if a person does not run between al- Safa' and al-Marwa, It does not do any harm to him (so far as Hajj is concerned). She said: Why (do you think so)? I said: For Allah says:" Verily al-Safa' and al-Marwa are among the Signs of Allah" (ii. 158) (to the end of the verse), whereupon she said: Allah does not complete the Hajj of a person or his Umra if he does not observe Sa'i between al-Safa' and al-marwa; and if it were so as you state, then (the wording would have been (fala janah an la yatufu biha) [" There is no harm for him if he does not circumambulate between them']. Do you know in what context (this verse was revealed)? (It was revealed in this context) that the Ansar in the Days of Ignorance pronounced the Talbiya for two idols. (fixedl on the bank of the river which were called Isaf and Na'ila. The people went there, and then circumambulated between al-Safa' and al-Marwa and then got their heads shaved. With the advent of Islam they (the Muslims) did not like to circumambulate between them as they used to do during the Days of Ignorance. It was on account of this that Allah. the Exalted and Majestic, revealed:" Verily al-Safe and al-Marwa are among the Signs of Allah" to the end of the verse. She said: Then people began to observe Sa'i
ہمیں ابو معاویہ نے ہشام بن عروہ سے خبر دی ، انھوں نے اپنے والد ( عروہ بن زبیر ) سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے عرض کی : میرا خیال ہے کہ اگر کوئی شخص صفا مروہ کے مابین سعی نہ کرے تو اسے کوئی نقصان نہیں ( اس کا حج وعمرہ درست ہوگا ۔ ) انھوں نے پوچھا : وہ کیوں؟میں نے عرض کی : کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتاہے : "" بے شک صفا مروہ اللہ کی نشانیوں میں سےہیں ، "" آخرتک ، "" ( پھر کوئی حج کرے یا عمرہ تو اس کو گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کاطواف کرے اور جس نے شوق سے کوئی نیکی کی تو اللہ قدردان ہے سب جانتا ہے ۔ ) "" انھوں نےجواب دیا : وہ شخص صفا مروہ کے مابین سعی نہیں کرتا ، اللہ تعالیٰ اس کا حج اور عمرہ مکمل نہیں فرماتا ۔ اگر بات اسی طرح ہوتی جس طرح تم کہہ رہے ہوتو ( اللہ کافرمان ) یوں ہوتا : "" اس شخص پر کوئی گناہ نہیں جواب دونوں کاطواف نہ کرے ۔ "" کیا تم جانتے ہوکہ یہ آیت کس بارے میں ( نازل ہوئی ) ہوئی تھی؟بلاشبہ جاہلیت میں انصار ان دو بتوں کے لئے احرام باندھتے تھے جو سمندر کے کنارے پر تھے ، جنھیں اساف اور نائلہ کہاجاتا تھا ، پھر وہ آتے اور صفا مروہ کی سعی کرتے ، پھر سر منڈا کر ( احرام کھو ل دیتے ) ، جب اسلام آیا تو لوگوں نے جاہلیت میں جو کچھ کر تے تھے ، اس کی وجہ سے ان دونوں ( صفا مروہ ) کا طواف کرنا بُرا جانا ، کیونکہ وہ جاہلیت میں ان کا طواف کیاکرتے تھے ۔ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) فرمایا : اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمادی : "" بلاشبہ صفا مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں ۔ "" آخر آیت تک ۔ فرمایا : تو لوگوں نے ( پھر سے ان کا ) طواف شروع کردیا ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَ قُلْتُ لَهَا إِنِّي لأَظُنُّ رَجُلاً لَوْ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ مَا ضَرَّهُ . قَالَتْ لِمَ قُلْتُ لأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ { إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ} إِلَى آخِرِ الآيَةِ . فَقَالَتْ مَا أَتَمَّ اللَّهُ حَجَّ امْرِئٍ وَلاَ عُمْرَتَهُ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلَوْ كَانَ كَمَا تَقُولُ لَكَانَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لاَ يَطَّوَّفَ بِهِمَا . وَهَلْ تَدْرِي فِيمَا كَانَ ذَاكَ إِنَّمَا كَانَ ذَاكَ أَنَّ الأَنْصَارَ كَانُوا يُهِلُّونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لِصَنَمَيْنِ عَلَى شَطِّ الْبَحْرِ يُقَالُ لَهُمَا إِسَافٌ وَنَائِلَةٌ . ثُمَّ يَجِيئُونَ فَيَطُوفُونَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ يَحْلِقُونَ . فَلَمَّا جَاءَ الإِسْلاَمُ كَرِهُوا أَنْ يَطُوفُوا بَيْنَهُمَا لِلَّذِي كَانُوا يَصْنَعُونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَالَتْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ} إِلَى آخِرِهَا - قَالَتْ - فَطَافُوا .
#3080
Hisham b. 'Urwa narrated on the authority of his father who reported:I said to 'A'isha: I do not see any harm to me if I do not circumambulate betweez al-Safa' and al-Marwa. She said: On what ground do you say so? (I said: ) Since Allah, the Exalted and Majestic, says:" Verily al-Safa' and al-Marwa are among the Signs of Allah." It (your assertion) were (correct), it would have been said like this:" There is no harm for him, that he should not circumambulate between them." It (this verse) has been revealed about the people of Ansar. Whenever they pronounced the Talbiya, they pronounced it in the name of al-Manat during the Days of Ignorance; so they (thought) that it was not permissible for them (for the Muslims) to circumambulate between and al-Marwa. When they (the Muslims) came with Allah's Apostle (may peace he upon him) for Hajj, they mentioned it to him. So Allah, the Exalted and Majestic, revealed this verse. By my life, Allah will not complete the Hajj of one who has not circumambulated between al-Safa and al-Marwa
ابو اسامہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں ہشام بن عروہ نے حدیث بیان کی کہ مجھے میرے والد ( عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) خبر دی ، کہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے عرض کی ، میں اس بات میں اپنے اوپر کوئی گناہ نہیں سمجھتا کہ میں ( حج وعمرہ کے دوان میں ) صفا مروہ کے درمیان سعی نہ کروں ۔ انھوں نے فرمایا : کیوں؟میں نے عرض کی : اس لئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ : " بلا شبہ صفا مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں ۔ ( پھر جو کوئی بیت اللہ کاحج کرے یا عمرہ اس پر گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کاطواف کرے ۔ ) " انھوں نے فرمایا اگر ( قرآن کی آیت کا ) وہ مفہوم ہوتا جو تم کہتے ہو ، تو یہ حصہ اس طرح ہوتا : " اس شخص پر کوئی گناہ نہیں جو ان دونوں کاطواف نہ کرے ۔ " اصل میں یہ آیت انصار کے بعض لوگوں کے متعلق نازل ہوئی ۔ وہ جاہلیت میں جب تلبیہ پکارتے تو مناۃ ( بت ) کا تلبیہ پکارتے تھے ۔ اور ( اس وقت کے عقیدے کے مطابق ) ان کے لئے صفا مروہ کا طواف حلال نہ تھا ، جب وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج پرآئے ۔ تو آپ سے اپنے اسی پرانے عمل کا ذکر کیا اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی ۔ مجھے اپنی زندگی ( دینے والے ) کی قسم! اللہ تعالیٰ اس شخص کا حج پورا نہیں فرماتا جو صفا مروہ کا طواف نہیں کرتا ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ، قُلْتُ لِعَائِشَةَ مَا أَرَى عَلَىَّ جُنَاحًا أَنْ لاَ أَتَطَوَّفَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ . قَالَتْ لِمَ قُلْتُ لأَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ { إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ} الآيَةَ . فَقَالَتْ لَوْ كَانَ كَمَا تَقُولُ لَكَانَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لاَ يَطَّوَّفَ بِهِمَا . إِنَّمَا أُنْزِلَ هَذَا فِي أُنَاسٍ مِنَ الأَنْصَارِ كَانُوا إِذَا أَهَلُّوا أَهَلُّوا لِمَنَاةَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلاَ يَحِلُّ لَهُمْ أَنْ يَطَّوَّفُوا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَلَمَّا قَدِمُوا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لِلْحَجِّ ذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى هَذِهِ الآيَةَ فَلَعَمْرِي مَا أَتَمَّ اللَّهُ حَجَّ مَنْ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ .
#3081
Urwa b. Zabair reported:I said to 'A'isha, the wife of Allah's Apostle (ﷺ): I do not see any (fault) in one who does not circumambl" te between al-Safa' and al-Marwa, and I do not mind if I do not circumambulate between them, whereupon she said: O, the son of my sister, what you say is wrong. Allah's Messenger (ﷺ) observed Sa'i and so did the Muslims. So it is a Sunnah (of the Prophet). And it was a common practice (with the pagan Arabs) that those who pronounced Talbiya for the wretched al-Manat, situated at Mushalla, did not observe Sa'i between al-Safa' and al-Marwa. With the advent of Islam, we asked Allah's Apostle (ﷺ) about this practice, and (it was on this occasion) that Allah, the Exalted and Majestic, revealed this verse:" Verily al-Safa' and al-Marwa are among the Signs of Allah" ; so he who performed Hajj or 'Umra it is no sin on him if he circumambulates them. And if it were as you state, (then the wording would have been):" There is no harm for him, that he should not circumambulate round them." Zuhri said: I made a mention of that to Abu Bakr b. 'Abd al- Rahman b. al-Harith b. Hisham; he was impressed by that and said: This is what is called knowledge. And I have heard many a scholar saying: Many of the Arabs who did not circumambulate between al-Safa' and al-Marwa caid: Our circumambulation between these two hills is an act of ignorance; whereas others among the Ansar said: We have been commanded to circumambulate the House, and not Commanded to run between al-Safa' and al-Marwa. So Allah, the Exalted and Majestic, revealed thia verse:" Verily al-Safa' and al-Marwa are among the Signs of Allah." Abu Bakr b. 'Abd al-Rahman said: I think that this (verse) has been revealed for such and such (persons)
سفیان نے ہمیں حدیث سنائی ، کہا : میں نے زہری سے سنا ، وہ عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کررہے تھے ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا : میں نہیں سمجھتا کہ کوئی شخص جس نے ( حج وعمرہ میں ) صفا مروہ کا طواف نہیں کیا اس پر کوئی گناہ ہوگا ۔ اور مجھے بھی کوئی پرواہ نہیں کہ میں صفا مروہ کا طواف ( کروں یا ) نہ کروں ۔ انھوں نے جواب دیا : بھانجے تم نے جو کہا ، وہ کتنا غلط ہے!رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ طواف کیا اور تمام مسلمانوں نے بھی کیا ۔ یہی ( حج وعمرے کا ) طریقہ قرار پایا ۔ اصل میں جو لوگ مناۃ طاغیہ ( بت ) کے لئے جو کہ مثلل میں تھا ، احرام باندھتے تھے وہ صفا مروہ کے مابین طواف نہیں کرتے تھے ۔ جب اسلام آیا تو ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق سوال کیا تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی؛ "" بلا شبہ صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں ، پس جو شخص بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف کرے ۔ "" اگر وہ بات ہوتی جس طرح تم کہہ رہے ہوتو ( آیت کےالفاظ ) اس طرح ہوتے : "" تو اس پر کوئی گناہ نہیں جو ان دونوں کا طواف نہ کرے ۔ "" زہری نے کہا : میں نےاس بات کاذکر ( جو عروہ سے سنی تھی ) ابو بکر بن عبدالرحمان بن حارث بن ہشام سے کیا ، انھیں یہ بات بہت اچھی لگی ، انھوں نےفرمایا : بلا شبہ یہی تو علم ہے ۔ میں نے بھی کئی اہل علم سے سنا ، وہ کہتےتھے : عربوں میں سے جو لوگ صفا مروہ کے درمیان طواف نہ کرتے تھے وہ کہتے تھے : ان دو پتھروں کے درمیان طواف کرنا تو جاہلیت کے معاملات میں سے تھا ، اور انصار میں سے کچھ اور لوگوں نے کہا : ہمیں توصرف بیت اللہ کے طواف کاحکم دیا گیا ہے ۔ صفا مروہ کے مابین ( طواف ) کاتوحکم نہیں دیاگیا ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمادی "" بلاشبہ صفا مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں ۔ ابو بکر بن عبدالرحمان نے کہا : مجھے لگتاہے یہ آیت ان دونوں طرح کےلوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ۔
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، - قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، - قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، يُحَدِّثُ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَا أَرَى عَلَى أَحَدٍ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ شَيْئًا وَمَا أُبَالِي أَنْ لاَ أَطُوفَ بَيْنَهُمَا . قَالَتْ بِئْسَ مَا قُلْتَ يَا ابْنَ أُخْتِي طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَطَافَ الْمُسْلِمُونَ فَكَانَتْ سُنَّةً وَإِنَّمَا كَانَ مَنْ أَهَلَّ لِمَنَاةَ الطَّاغِيَةِ الَّتِي بِالْمُشَلَّلِ لاَ يَطُوفُونَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَلَمَّا كَانَ الإِسْلاَمُ سَأَلْنَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا} وَلَوْ كَانَتْ كَمَا تَقُولُ لَكَانَتْ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لاَ يَطَّوَّفَ بِهِمَا . قَالَ الزُّهْرِيُّ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لأَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ فَأَعْجَبَهُ ذَلِكَ . وَقَالَ إِنَّ هَذَا الْعِلْمُ . وَلَقَدْ سَمِعْتُ رِجَالاً مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يَقُولُونَ إِنَّمَا كَانَ مَنْ لاَ يَطُوفُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ مِنَ الْعَرَبِ يَقُولُونَ إِنَّ طَوَافَنَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْحَجَرَيْنِ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ . وَقَالَ آخَرُونَ مِنَ الأَنْصَارِ إِنَّمَا أُمِرْنَا بِالطَّوَافِ بِالْبَيْتِ وَلَمْ نُؤْمَرْ بِهِ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ} . قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَأُرَاهَا قَدْ نَزَلَتْ فِي هَؤُلاَءِ وَهَؤُلاَءِ .
#3082
Urwa b. Zubair reported:I asked 'A'isha (Allah be pleased with her) ; the rest of the hadith is the same. And in this hadith (these words are also found):" When they (the Companions of the Holy Prophet) asked Allah's Messenger (ﷺ) about this, they said: Messenger of Allah, we felt reluctant to circumambulate between al-Safa' and al-Marwa. Then Allah, the Exalted and Majestic, revealed this verse:" Verily al-Safa' and al-Marwa are among the Signs of. Allah so he who perform Hajj or Umra it is no sin on him if he should circumambulate between them. 'A'isha (Allah be pleased with her) said: Allah's Messenger (ﷺ) laid down this Sa'i between them as Sunnah (of the Holy Prophet). So it is not advisable for anyone to abandon this Sa'i between them
عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی انھوں نے کہا : مجھے عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خبر دی کہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پو چھا : اور ( آگے ) اسی ( سفیان کی ابن شہاب سے ) روایت کے مانند حدیث بیان کی اور ( اپنی ) حدیث میں کہا : جب انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے اس عمل کے متعلق سوال کیا تو کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم تو صفامروہ کا طواف کرنے میں حرج محسوس کیا کرتے تھے تو اللہ تعا لیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : "" بلا شبہ صفا مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں تو جو کوئی بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ تو اس پر کو ئی گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف کرے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فر ما یا : ان دونوں کے مابین طواف کا طریقہ تو اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرمایا : کسی کو اس بات کا حق نہیں کہ ان دونوں کے درمیان طواف کو ترک کر دے ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ، شِهَابٍ أَنَّهُ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ . وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ فَلَمَّا سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا نَتَحَرَّجُ أَنْ نَطُوفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا} قَالَتْ عَائِشَةُ قَدْ سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الطَّوَافَ بَيْنَهُمَا فَلَيْسَ لأَحَدٍ أَنْ يَتْرُكَ الطَّوَافَ بِهِمَا
#3083
Urwa b. Zabair narrated on the authority of 'A'isha (Allah be pleased with her) who informed him that the Ansar and the people of the tribe of Ghassan before embracing Islam pronounced Talbiya for Manat, and so they avoided circumambulating between al-Safa' and al-Marwa, and it was a common practice with their forefather, that he who put on Ihram for Manat did not circumambulate between al-Safa' and al-Marwa. And when they embraced Islam, they asked Allah's Messenger (ﷺ) about it, and then Allah, the Exalted and Majestic, revealed this verse:" Verily al-Safa' and al-Marwa are among the Signs of Allah" ; so he who performs Hajj or Umra, for him there is no harm if he should circumambulate between them, and he who does good spontaneously-surely Allah is Bountiful in rewarding and Knowing
یو نس نے ابن شہاب سے انھوں نے عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے انھیں بتا یا کہ انصار اور بنو غسان اسلام لا نے سے قبل مناۃ کا تلبیہ پکا را کرتے تھے اور اس بات میں سخت حرج محسوس کرتے تھے کہ وہ صفا مروہ کے مابین طواف کریں ۔ ( درحقیقت ) یہ طریقہ ان کے آباء واجداد میں رائج تھا کہ جو بھی مناۃ کے لیے احرا م باندھے وہ صفا مروہ کا طواف نہیں کرے گا ۔ ان لوگوں نے جب یہ اسلام لا ئے تو اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے استفسار کیا ۔ اس پر اللہ تعا لیٰ نے اس کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی : " بلاشبہ صفا مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں تو جو شکس بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے اس پر کو ئی حرج نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف کرے اور جو کو ئی شوق سے نیکی کرے تو اللہ قدر دان ہے سب جا ننے والاہے ۔
وَحَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ الأَنْصَارَ كَانُوا قَبْلَ أَنْ يُسْلِمُوا هُمْ وَغَسَّانُ يُهِلُّونَ لِمَنَاةَ فَتَحَرَّجُوا أَنْ يَطُوفُوا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَكَانَ ذَلِكَ سُنَّةً فِي آبَائِهِمْ مَنْ أَحْرَمَ لِمَنَاةَ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَإِنَّهُمْ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ حِينَ أَسْلَمُوا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي ذَلِكَ { إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا وَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ}
#3084
Anas (Allah be pleased with him) reported that the Ansar felt reluctant that they should circumambulate between al-Safa' and al-Marwa until it was revealed:" Verily al-Safa' and al-Marwa are among the Signs of Allah" ; so whoever performs Hajj or 'Umra, for him there is no harm that he should circumambulate between them
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا : انصار صفا مروہ کے در میان طواف کرنا نا پسند کرتے تھے یہاں تک کہ ( یہ آیت ) نازل ہوئی : " بلا شبہ صفا مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں تو جو کو ئی بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے تو اس پر کو ئی گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف کرے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَتِ الأَنْصَارُ يَكْرَهُونَ أَنْ يَطُوفُوا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ حَتَّى نَزَلَتْ { إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا}
#3085
Jabir b. 'Abdullah reported that Allah's Apostle (ﷺ) and his Companions did not observe Sa'i between al-Safa' and al-Marwa but only one Sa'i
ہمیں یحییٰ بن سعید نے ابن جریج سے حدیث بیان کی : ( کہا : ) مجھے ابو زبیر نے خبر دی کہ انھوں نے جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ فر ما رہے تھے : نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحا بہ نے صفا مروہ کے ایک ( بار کے ) طواف ( سعی ) کے سوا کو ئی اور طواف نہیں کیا
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ لَمْ يَطُفِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَلاَ أَصْحَابُهُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ إِلاَّ طَوَافًا وَاحِدًا .
#3086
Ibn Juraij reported on the same authority a hadith like that, and said:But one Tawaf and that was the first Tawaf
ہمیں محمد بن بکر نے خبر دی ( کہا : ) ہمیں ابن جریج نے اسی سند کے ساتھ اس کے مانند حدیث بیان کی ، اور کہا : سوائے ایک ( بار کے ) طواف ( یعنی ) پہلے طواف کے ۔
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . مِثْلَهُ وَقَالَ إِلاَّ طَوَافًا وَاحِدًا طَوَافَهُ الأَوَّلَ .
#3087
Usama b. Zaid (Allah be pleased with him) reported:I was sitting behind Allah's Messenger (ﷺ) on the riding animal from 'Arafat. As Allah's Messenger (ﷺ) reached the left side of the mountain which was situated near Muzdalifa, he made the camel kneel down and made water and then came back. I poured water and he, performed light ablution. I then said: Messenger of Allah, it is time for prayer. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: The prayer awaits you (at the next station, Muzdalifa). Allah's Messenger (may peaced be upon him) rode on until he came to Muzdalifa and observed prayer. Then al-Fadl (Allah be pleased with him) sat behind Allah's Messenger (ﷺ) and reached (Muzdalifa) in the morning. Kuraib said: 'Abdullah b. 'Abbas (Allah be pleased with them) narrated from al-Fadl (Allah be pleased with him) that Allah's Messenger (ﷺ) continued pronouncing Talbiya until he reached al-Jamara (al-'Aqaba)
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام کریب نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : عرفات سے ( واپسی کے وقت ) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( اونٹنی پر ) سوار ہوا ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دائیں طرف والی اس گھاٹی پر پہنچے جو مزدلفہ سے ذرا پہلے ہے آپ نے اپنا اونٹ بٹھا یا پیشاب سے فارغ ہو ئے پھر ( واپس ) تشریف لا ئے تو میں نے آپ ( کے ہاتھوں ) پر وضو کا پا نی ڈا لا ۔ آپ نے ہلکا وضو کیا پھر میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !نماز؟ آپ نے فر ما یا : "" نماز آگے ( مزدلفہ میں ) ہے ۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو ئے حتیٰ کہ مزدلفہ تشریف لائے اور نماز ادا کی پھر ( اگلے دن ) مزدلفہ کی صبح حضرت فضل ( بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اونٹنی پر سوار ہو ئے ۔ کریب نے کہا : مجھے عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فضل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہو ئے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ ( عقبہ ) پہنچنے تک تلبیہ پکارتے رہے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ، حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، ح. وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ، أَبِي حَرْمَلَةَ عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ رَدِفْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ عَرَفَاتٍ فَلَمَّا بَلَغَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الشِّعْبَ الأَيْسَرَ الَّذِي دُونَ الْمُزْدَلِفَةِ أَنَاخَ فَبَالَ ثُمَّ جَاءَ فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ الْوَضُوءَ فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا خَفِيفًا ثُمَّ قُلْتُ الصَّلاَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ " الصَّلاَةُ أَمَامَكَ " . فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ فَصَلَّى ثُمَّ رَدِفَ الْفَضْلُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَدَاةَ جَمْعٍ. قَالَ كُرَيْبٌ فَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، عَنِ الْفَضْلِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى بَلَغَ الْجَمْرَةَ .
#3088
Ibn Abbas (Allah be pleased with them) reported that Allah's Apostle (ﷺ) made al-Fadl sit behind him (on the camel back) from the place (where the two prayers) are combined (Muzdalifa). Ibn Abbas (Allah be pleased with them) also informed that Allah's Apostle (ﷺ) did not stop pronouncing Talbiya till he threw pebbles at Jamrat al-'Aqaba
عطاء نے خبر دی ( کہا : ) مجھے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خبر دی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ سے فضل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے ( ساتھ اونٹنی پر ) پیچھے سوار کیا ۔ ( پھر ) کہا : مجھے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خبر دی فضل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں بتا یا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے تک مسلسل تلبیہ پکا رتے ر ہے ۔
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، كِلاَهُمَا عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ، - قَالَ ابْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا عِيسَى، - عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَرْدَفَ الْفَضْلَ مِنْ جَمْعٍ قَالَ فَأَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ الْفَضْلَ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ
#3089
Ibn 'Abbas narrated from al-Fadl b. Abbas (Allah be pleased with them) who sat behind Allah's Messenger (ﷺ) that he (the Holy Prophet) said to the people on the evening of 'Arafa and on the morning to the gathering of people (at Muzdalifa) as they were pushing on to proceed slowly. And he himself drove his she-camel with restraint until he entered Muhassir (it is a place in Mina), and further told them to take up pebbles which were to be thrown at Jamra. And Allah's Messenger (ﷺ) continued pronouncing Talbiya till he stoned the Jamra
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلا م ابو معبد نے ( عبد اللہ ) ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ( ساتھ اونٹنی پر ) پیچھے سوار تھے آپ نے عرفہ کی شام اور مزدلفہ کی صبح لوگوں کے چلنے کے وقت انھیں تلقین کی : سکون سے ( چلو ) "" اور آپ اپنی اونٹنی کو ( تیز چلنے سے ) روکے ہو ئے تھے حتیٰ کہ آپ وادی محسر میں دا خل ہوئے ۔ ۔ ۔ وہ منیٰ ہی کا حصہ ہے ۔ ۔ ۔ آپ نے فرما یا : "" تم ( دو انگلیوں کے درمیان رکھ کر ) ماری جا نے والی کنکریاں ضرور لے لو جن سے جمرہ عقبہ کورمی کی جا ئے گی ۔ "" ( فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے تک مسلسل تلبیہ پکا رتے رہے ۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي، الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَكَانَ، رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ فِي عَشِيَّةِ عَرَفَةَ وَغَدَاةِ جَمْعٍ لِلنَّاسِ حِينَ دَفَعُوا " عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ " . وَهْوَ كَافٌّ نَاقَتَهُ حَتَّى دَخَلَ مُحَسِّرًا - وَهُوَ مِنْ مِنًى - قَالَ " عَلَيْكُمْ بِحَصَى الْخَذْفِ الَّذِي يُرْمَى بِهِ الْجَمْرَةُ " . وَقَالَ لَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ
#3090
This hadith has been narrated on the authority of Abd Zubair with the same chain of transmitters but with this variation that in the hadith no mention is made of (this) that Allah's Messenger (ﷺ) continued pronouncing Talbiya till he stoned the Jamra, and he made this addition in his hadith:" The Apostle (ﷺ) pointed with his hand how a person should catch hold of pebbles (in order to throw them)
ابن جریج سے روایت ہے : ( کہا : ) مجھے ابو زبیر نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، انھوں نے ( اپنی ) حدیث میں یہ ذکر نہیں کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے تک مسلسل تلبیہ پکارتے رہے البتہ اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا : اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے ( اس طرح ) اشارہ کر رہے تھے جیسے انسان ( اپنی انگلیوں سے ) کنکرپھینکتا ہے ۔
وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ فِي الْحَدِيثِ وَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ . وَزَادَ فِي حَدِيثِهِ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُشِيرُ بِيَدِهِ كَمَا يَخْذِفُ الإِنْسَانُ
#3091
Abdullah narrated to us as we had gathered (at Muzdalifa):I have heard from one upon whom Surah al-Baqara was revealed (the Holy Prophet) pronouncing Talbiya at this place
ابو حوص نے حصین سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کثیر بن مدرک سے انھوں نے عبد الرحمٰن بن یزید سے روایت کی ، انھوں نے کہا : عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( بن مسعود ) نے جب ہم مزدلفہ میں تھے ۔ کہا : میں نے اس ہستی سے سنا جن پر سورہ بقرہ نازل کی گئی ، وہ اس مقام پر لبيك اللهم لبيك کہہ رہے تھے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُدْرِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَنَحْنُ بِجَمْعٍ سَمِعْتُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ يَقُولُ فِي هَذَا الْمَقَامِ " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ " .
#3092
Abd al-Rahman b. Yazid reported that 'Abdullah (b. Mas'ud) pronounced Talbiya as he returned from the gathering of the people (at Muzdalifa). It was said:He might be a Bedouin (not knowing correctly the rituals of Hajj and, therefore, pronouncing Talbia at this stage), whereupon Abdullah said: Hive the people forgotten (this Sunnah of the Holy Prophet) or have they gone astray? I heard him, upon whom Sibrah al-Baqara was revealed, pronouncing Talbiya at the very place
ہشیم نے کہا : ہمیں حصین نے کثیر بن مدرک اشجعی سے خبر دی ، انھوں نے عبد الرحمٰن بن یزید سے روایت کی کہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( بن مسعود ) نے مزدلفہ سے لو ٹتے وقت تلبیہ کہا : تو کہا گیا : کیا یہ اعرابی ( بدو ) ہیں؟ اس پر عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : کیا لوگ بھول گئے ہیں یا گمرا ہ ہو گئے ہیں؟ میں نے اس ہستی سے سنا جن پر سورہ بقرہ نازل کی گئی وہ اس جگہ پر لبيك اللهم لبيك کہہ رہے تھے ۔
وَحَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُدْرِكٍ الأَشْجَعِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ، لَبَّى حِينَ أَفَاضَ مِنْ جَمْعٍ فَقِيلَ أَعْرَابِيٌّ هَذَا فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ أَنَسِيَ النَّاسُ أَمْ ضَلُّوا سَمِعْتُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ يَقُولُ فِي هَذَا الْمَكَانِ " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ " . وَحَدَّثَنَاهُ حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حُصَيْنٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ
#3093
Abd al-Rahman b. Yazid reported that 'Abdullah (b. Mas'ud) pronounced Talbiya as he returned from the gathering of the people (at Muzdalifa). It was said:He might be a Bedouin (not knowing correctly the rituals of Hajj and, therefore, pronouncing Talbia at this stage), whereupon Abdullah said: Hive the people forgotten (this Sunnah of the Holy Prophet) or have they gone astray? I heard him, upon whom Sibrah al-Baqara was revealed, pronouncing Talbiya at the very place
ہشیم نے کہا : ہمیں حصین نے کثیر بن مدرک اشجعی سے خبر دی ، انھوں نے عبد الرحمٰن بن یزید سے روایت کی کہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( بن مسعود ) نے مزدلفہ سے لو ٹتے وقت تلبیہ کہا : تو کہا گیا : کیا یہ اعرابی ( بدو ) ہیں؟ اس پر عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : کیا لوگ بھول گئے ہیں یا گمرا ہ ہو گئے ہیں؟ میں نے اس ہستی سے سنا جن پر سورہ بقرہ نازل کی گئی وہ اس جگہ پر لبيك اللهم لبيك کہہ رہے تھے ۔
وَحَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُدْرِكٍ الأَشْجَعِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ، لَبَّى حِينَ أَفَاضَ مِنْ جَمْعٍ فَقِيلَ أَعْرَابِيٌّ هَذَا فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ أَنَسِيَ النَّاسُ أَمْ ضَلُّوا سَمِعْتُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ يَقُولُ فِي هَذَا الْمَكَانِ " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ " . وَحَدَّثَنَاهُ حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حُصَيْنٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ
#3094
Abd al-Rahman b. Yazid and al-Aswad b. Yazid reported:We heard 'Abdullah b. Mas'ud saying to the gathering of people (at Muzdalifa) that he had heard Talbiya from him, upon whom Surah al-Baqara was revealed, at this very place. And so he ('Abdullah b. Mas'ud) pronounced Talbiya and we also pronounced it with him
زیادبگا ئی نے حصین سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کثیر بن مدرک اشجعی سے انھوں نے عبد الرحمٰن بن یزید اور اسود بن یزید سے روایت کی ، دونوں نے کہا : ہم نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ مزدلفہ میں فر ما رہے تھے ۔ میں نے اس ہستی سے سنا ، جن پر سورہ بقرہ نازل کی گئی ۔ آپ اسی جگہ لبيك اللهم لبيك کہہ رہے تھے ۔ ( یہ کہہ کر ) انھوں ( عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے تلبیہ پکا را اور ہم نے بھی ان کے ساتھ تلبیہ پکارا ۔
وَحَدَّثَنِيهِ يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ، حَدَّثَنَا زِيَادٌ، - يَعْنِي الْبَكَّائِيَّ - عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُدْرِكٍ الأَشْجَعِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، وَالأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، قَالاَ سَمِعْنَا عَبْدَ، اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ بِجَمْعٍ سَمِعْتُ الَّذِي، أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ هَا هُنَا يَقُولُ " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ " . ثُمَّ لَبَّى وَلَبَّيْنَا مَعَهُ .
#3095
Abdullah b. 'Umar reported on the authority of his father (Allah be pleased with them). He said:As we proceeded in the morning along with AUbs Messenger (ﷺ) from Mina to 'Arafat, some of us prounced Talbiya, and some pronounced Takbir (Allah-o-Akbar)
ہم سے یحییٰ بن سعید نے حدیث بیان کی ، انھوں نے عبد اللہ بن ابی سلمہ سے انھوں نے عبد اللہ بن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے اپنے والد ( عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ہم صبح کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ منیٰ سے عرفا ت گئے تو ہم میں سے کوئی تلبیہ پکارنے والا تھا اور کو ئی تکبیر کہنے والا ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الأُمَوِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالاَ، جَمِيعًا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ، أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ غَدَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَاتٍ مِنَّا الْمُلَبِّي وَمِنَّا الْمُكَبِّرُ .
#3096
Abdullah b. 'Umar reported on the authority of his father (Allah be pleased with them):We were along with Allah's Messenger (way peace he upon him) in the morning of 'Arafa (9th of Dhu'l-Hijja). Some of us pronounced Takbir and some of us Tahlil La ilaha ill-Allah). And to those of us who pronounced Takbir, I said: By Allah, how strange it is that you did not care to ask him: What did you see Allah's Messenger (ﷺ) doing (on this occasion)?
عمر بن حسین نے عبد اللہ بن ابی سلمہ سے انھوں نے عبد اللہ بن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انھوں نے کہا : عرفہ کی صبح ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ہم میں سے کو ئی تکبیر یں کہنے والا تھا اور کوئی لا اله الا الله کہنے والا تھا ۔ البتہ ہم تکبیر یں کہہ رہے تھے ۔ ( عبد اللہ بن ابی سلمہ نے ) کہا : میں نے کہا : اللہ کی قسم! تم پر تعجب ہے تم نے ان سے یہ کیوں نہ پو چھا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا کرتے ہو ئے دیکھا تھا ؟ ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، قَالُوا أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ، أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَدَاةِ عَرَفَةَ فَمِنَّا الْمُكَبِّرُ وَمِنَّا الْمُهَلِّلُ فَأَمَّا نَحْنُ فَنُكَبِّرُ قَالَ قُلْتُ وَاللَّهِ لَعَجَبًا مِنْكُمْ كَيْفَ لَمْ تَقُولُوا لَهُ مَاذَا رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصْنَعُ
#3097
Muhammad b. Abu Bakr al-Thaqafi asked Anas b. Malik (Allah be pleased with him), while on their way from Mina to 'Arafa in the morning:What did you do on this day in the company of Allah's Messenger (ﷺ)? Thereupon he said: One of us pronounced Tahlil, and he met with no disapproval, and one of us pronounced Takbir, and he also met with no disapproval
یحییٰ بن یحییٰ نے ہمیں حدیث سنا ئی کہا : میں نے امام مالک کے سامنے قراءت کی کہ محمد بن ابی بکر ثقفی سے روایت ہے کہ انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جب وہ دونوں صبح کے وقت منیٰ سے عرفہ جا رہے تھے دریافت کیا : آپ اس ( عرفہ کے ) دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیسے ( ذکر و عبادت کر رہے تھے ؟انھوں نے کہا : ہم میں سے تہلیل کہنے والا لا اله الا الله كہتا تو اس پر کو ئی اعترا ض نہیں کیا جا تا تھا ۔ اور تکبیریں کہنے والاکہتا تو اس پر بھی کو ئی تکبیر نہ کی جا تی تھی ۔)
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الثَّقَفِيِّ، أَنَّهُ سَأَلَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَهُمَا غَادِيَانِ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ فِي هَذَا الْيَوْمِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ كَانَ يُهِلُّ الْمُهِلُّ مِنَّا فَلاَ يُنْكَرُ عَلَيْهِ وَيُكَبِّرُ الْمُكَبِّرُ مِنَّا فَلاَ يُنْكَرُ عَلَيْهِ .
#3098
Muhammad b. Abu Bakr reported:I said to Anas b. Malik in the morning of 'Arafa: What do you say as to pronouncing Talbiya on this day? He said: I travelled with Allah's Apostle (may peace he upon him) and his Companions in this journey. Some of us pronounced Takbir and some of us pronounced Tahlil, and none of us found fault with his companion
موسیٰ بن عقبہ نے کہا : مجھے محمد بن ابی بکر نے حدیث بیان کی کہا : میں نے عرفہ کی صبح حضرت انس بن ما لک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کی : آپ اس دن میں تلبیہ پکارنے کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟انھوں نے کہا : میں کیا کہتے ہیں ؟انھوں نے کہا : میں نے یہ سفر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کی معیت میں کیا ، تو ہم میں سے کچھ تکبیریں کہنےوالے تھے اور کچھ لا اله الا الله کہنے والے ۔ اور ہم میں سے کو ئی بھی اپنے ساتھی ( کےعمل ) پر عیب نہیں لگا تا تھا ۔
وَحَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ قُلْتُ لأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ غَدَاةَ عَرَفَةَ مَا تَقُولُ فِي التَّلْبِيَةِ هَذَا الْيَوْمَ قَالَ سِرْتُ هَذَا الْمَسِيرَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابِهِ فَمِنَّا الْمُكَبِّرُ وَمِنَّا الْمُهَلِّلُ وَلاَ يَعِيبُ أَحَدُنَا عَلَى صَاحِبِهِ .
#3099
Kuraib, the freed slave of Ibn Abbas, narrated from Usama b. Zaid (Allah be pleased with him) that he had heard him saying:Allah's Messenger (ﷺ) proceeded from 'Arafa, and as he approached the creek of a hill, he got down (from his camel) and urinated, and then performed a light ablution. I said to him: Prayer, whereupon he said: The prayer awaits you (at Muzdalifa). So he rode again, and as he came to Muzdalifa, he got down and performed ablution well. Then Iqima was pronounced for prayer, and he 'observed the sunset prayer. Then every person made his camel kneel down there, and then Iqama was pronounced for 'Isha' prayer and he observed it, and he (the Holy Prophet) did not observe any prayer (either Sunan or Nawifil) in between them (He observed the Fard of sunset and 'Isha' prayers successively)
یحییٰ بن یحییٰ نے ہمیں حدیث سنائی ، کہا : میں نے امام مالک کے سامنے قراءت کی کہ موسیٰ بن عقبہ سے روایت ہے انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام کریب سے اور انھوں نے حضرت اسامہبن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں ( کریب ) نے ان ( حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے سنا ، کہہ رہے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفہ روانہ ہو ئے ۔ یہاں تک کہ جب گھاٹی کے پاس پہنچے تو ( سواری سے ) نیچے اترے پیشاب سے فارغ ہوئے پھر وضوکیا اور زیادہ تکمیل کے ساتھ وضونہیں کیا ۔ میں نے آپ سے عرض کی : نماز ؟فرمایا : " نماز ( پڑھنے کا مقام ) تمھا رے آگے ( مزدلفہ میں ) ہے اس کے بعد آپ ( پھر ) سوار ہو گئے جب مزدلفہ آئے تو آپ ( سواری سے ) نیچے اترے وضو کیا اور خوب اچھی طرح وضو کیا پھر نماز کے لیے اقامت کہی گئی آپ نے مغرب کی نماز ادا کی پھر ہر شخص نے اپنے اونٹ کو اپنے پڑاؤ کی جگہ میں بٹھا یا ، پھر عشاء کی اقامت کہی گئی تو آپ نے وہ پڑھی ۔ اور ان دونوں نمازوں کے درمیا ن کو ئی ( نفل ) نماز نہیں پڑھی ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ عَرَفَةَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالشِّعْبِ نَزَلَ فَبَالَ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَلَمْ يُسْبِغِ الْوُضُوءَ فَقُلْتُ لَهُ الصَّلاَةَ . قَالَ " الصَّلاَةُ أَمَامَكَ " . فَرَكِبَ فَلَمَّا جَاءَ الْمُزْدَلِفَةَ نَزَلَ فَتَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثُمَّ أَنَاخَ كُلُّ إِنْسَانٍ بَعِيرَهُ فِي مَنْزِلِهِ ثُمَّ أُقِيمَتِ الْعِشَاءُ فَصَلاَّهَا وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا