#2675
Ziyad b. Jubair reported that a person came to Ibn 'Umar (Allah be pleased with them) and said:I had taken a vow that I would fast on the day (but it accidentally) synchronises with the day of Adha or the day of Fitr. Thereupon Ibn 'Umar (Allah be pleased with him) said: Allah, the Exalted, has commanded fulfilling of the vow, but the Messenger of Allah (ﷺ) has forbidden the observance of fast on this day
ابوبکر بن ابی شیبہ ، وکیع ابن عون ، حضرت زیاد بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا کہ ایک آدمی حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف آیا اور عرض کیا کہ میں نے منت مانی تھی کہ میں ایک دن کا روزہ رکھوں گا تو وہ دن قربانی کے عید کے دن یا عید الفطر کے دن سے موافقت کررہا ہے تو حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے منت کو پورا کرنے کا حکم دیاہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن کے روزے سے منع فرمایا ہے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ - رضى الله عنهما - فَقَالَ إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَصُومَ يَوْمًا فَوَافَقَ يَوْمَ أَضْحَى أَوْ فِطْرٍ . فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رضى الله عنهما أَمَرَ اللَّهُ تَعَالَى بِوَفَاءِ النَّذْرِ وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ صَوْمِ هَذَا الْيَوْمِ .
#2676
A'isha (Allah be pleased with her) said that the Prophet (ﷺ) forbade to observe fast on two days-the day of Fitr and the day of Adha
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو روزوں ، فطر کے دن اورقربانی کے دن ( کے روزوں ) سے منع فرمایا ہے ۔
وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ، أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ صَوْمَيْنِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَيَوْمِ الأَضْحَى .
#2677
Nubaisha al-Hudhali reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The days of Tashriq are the days of eating and drinking
سریج بن یونس ، ہشیم ، خالد ، ابی ملیح ، حضرت نبیشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تشریق کے دن کھانے اور پینے کے دن ہیں ۔
وَحَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ نُبَيْشَةَ، الْهُذَلِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَيَّامُ التَّشْرِيقِ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ " .
#2678
Nabaisha reported that Khalid said:I met Abu Malih and asked him and he narrated it to me from the Messenger of Allah (ﷺ). a hadith like one (narrated above) with this addition:" And remembrance of Allah
محمد بن عبداللہ ابن نمیر ، اسماعیل ابن علیہ ، خالد ، ابی ملیح ، نبیشہ ، اس سند کے ساتھ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی حدیث کی طرح حدیث منقول ہے اور اس میں صرف ذکر اللہ کے الفاظ زائد ہیں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ - عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، حَدَّثَنِي أَبُو قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ نُبَيْشَةَ، قَالَ خَالِدٌ فَلَقِيتُ أَبَا الْمَلِيحِ فَسَأَلْتُهُ فَحَدَّثَنِي بِهِ، فَذَكَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ حَدِيثِ هُشَيْمٍ وَزَادَ فِيهِ " وَذِكْرٍ لِلَّهِ " .
#2679
Ibn Ka'b b. Malik reported on the authority of his father that the Messenger of Allah (ﷺ) sent him and Aus b. Hadathan during the days of Tashriq to make this announcement:None but the believer would be admitted into Paradise, and the days of Mina' are the days meant for eating and drinking
ابو بکر بن ابی شیبہ ، محمد بن سابق ، ابراہیم بن طہمان ، ابی زبیر ، حضرت کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے باپ سے ر وایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اوس بن حدثان کو تشریق کے دنوں میں یہ اعلان کرانے کے لئے بھیجاکہ جنت میں مومن کے سواکوئی داخل نہیں ہوگا ۔ اور منیٰ میں دن کھانے اور پینے کے دن ہیں ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَهُ وَأَوْسَ بْنَ الْحَدَثَانِ أَيَّامَ التَّشْرِيقِ فَنَادَى " أَنَّهُ لاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلاَّ مُؤْمِنٌ . وَأَيَّامُ مِنًى أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ " .
#2680
This hadith has been narrated on the authority of Ibrahim b. Tahman with the same chain of transmitters but with this variation that he said:Both of them made the announcement
عبد بن حمید ، ابو عامر ، عبدالملک بن عمرو ، ابراہیم بن طہمان اس سند کے ساتھ بھی اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے سوائے اس کے کہ اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم دونوں جا کر اعلان کردو ۔
وَحَدَّثَنَاهُ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، بْنُ طَهْمَانَ بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَنَادَيَا .
#2681
Muhammad b. 'Abbas b. Ja'far reported:I asked Jabir b. 'Abdullah (Allah be pleased with both of them) as he was circumambulating the House (Ka'ba) whether the Messenger of Allah (ﷺ) had forbidden the fasting on Friday, whereupon he said: Yes, by the Lord of this House
عمرو ناقد ، سفیان بن عینیہ ، عبدالحمید ابن جبیر ، حضرت محمد بن عباد بن جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا اس حال میں کہ وہ بیت اللہ کا طواف کررہے تھے کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے؟تو انہوں نے فرمایا ہاں! قسم ہے اس گھر کے رب کی ۔
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ، بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ - رضى الله عنهما - وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ أَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَقَالَ نَعَمْ وَرَبِّ هَذَا الْبَيْتِ .
#2682
Muhammad b. 'Abbas b. Ja'far reported that he asked Jabir b. Abdullah (Allah be pleased with them), whether he had heard like this from the Messenger of Allah (ﷺ)
محمد بن رافع ، عبدالرزاق ، ابن جریج ، عبدالحمید بن جبیر بن شیبہ ، محمد بن عباد جعفر ، جابر بن عبداللہ ا س سند میں بھی حضرت محمد بن عباد بن جعفر خبر دیتے ہیں کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کی طرح نقل فرمایا ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ، بْنُ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ، أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ - رضى الله عنهما - بِمِثْلِهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
#2683
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:None among you should observe fast on Friday, but only that he observes fast before it and after it
ابو بکر بن ابی شیبہ ، حفص ، ابو معاویہ ، اعمش ، یحییٰ بن یحییٰ ، ابو معاویہ ، اعمش ، ابی صالح ، حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تو میں سے کوئی آدمی جمعہ کے دن روزہ رکھے سوائے اس کے کہ وہ اس سے پہلے یا اس کے بعد روزہ رکھے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي، هُرَيْرَةَ - رضى الله عنه - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَصُمْ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِلاَّ أَنْ يَصُومَ قَبْلَهُ أَوْ يَصُومَ بَعْدَهُ " .
#2684
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:Do not single out the night (preceding) Friday among the nights for prayer and do not single out Friday among days for fasting but only when anyone among you is accustomed to fast (on dates) which coincide with this day (Friday)
ابو کریب ، حسین یعنی جعفی ، زائدہ ، ہشام ، ابن سیرین ، حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ راتوں میں سے جمعہ کی رات کو قیام کےساتھ مخصوص نہ کرو اور نہ ہی دنوں میں سے جمعہ کے دن کو روزے کے ساتھ مخصوص کروسوائے اس کے کہ تم میں سے جو کوئی روزے رکھ رہا ہو ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، - يَعْنِي الْجُعْفِيَّ - عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَخْتَصُّوا لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ بِقِيَامٍ مِنْ بَيْنِ اللَّيَالِي وَلاَ تَخُصُّوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ بِصِيَامٍ مِنْ بَيْنِ الأَيَّامِ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ فِي صَوْمٍ يَصُومُهُ أَحَدُكُمْ " .
#2685
Salama b. Akwa' (Allah be pleased with him) reported that when this verse was revealed:"And as for those who can fast (but do not) expiation is the feeding of a needy person" (ii. 183), (he who liked to observe fast did observe it) and he who felt reluctant to observe it ate and expiated till the verse was revealed which abrogated it
۔ قتیبہ بن سعید ، بکر یعنی ابن مضر ، عمرو بن حارث ، بکیر ، یزید مولی سلمہ ، حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ۔ ( وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ ) اور جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہوں وہ روزہ کے بدلہ میں ایک مسکین کو کھاناکھلادیں جس آدمی کا روزہ چھوڑنے کا اردہ ہوتا تو وہ فدیہ دے دیتا یہاں تک کہ اس کے بعد والی آیت نازل ہوئی جس نے اس حکم کو منسوخ کردیا ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا بَكْرٌ، - يَعْنِي ابْنَ مُضَرَ - عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ يَزِيدَ، مَوْلَى سَلَمَةَ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، - رضى الله عنه - قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ { وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ} كَانَ مَنْ أَرَادَ أَنْ يُفْطِرَ وَيَفْتَدِيَ . حَتَّى نَزَلَتِ الآيَةُ الَّتِي بَعْدَهَا فَنَسَخَتْهَا .
#2686
Salama b. Akwa' reported:We, during the lifetime of the Messenger of Allah (ﷺ), in one month of Ramadan (observed fast according to our liking). He who wished to fast lasted and he who wished to break broke it and fed a needy person as an expiation 1544 till this verse was revealed:" He who witnesses among you the month (of Ramadan) he should observe fast during it" (ii)
عمرو بن سواد عامری ، عبداللہ بن وہب ، عمروبن حارث بکیر بن اشجع ، یزید مولی سلمۃ بن اکوع ، حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رمضان کےمہینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں ہم سے جو چاہتا روزہ رکھ لیتا اور جو چاہتا روزہ چھوڑ دیتا اور ایک مسکین کو کھانا کھلا کر ایک روزے کو فدیہ دے دیتا یہاں تک کہ یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ( فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَفَلْيَصُمْهُ ) تو جو تم میں سے اس مہینہ میں موجود ہوتو اسے چاہیے کہ وہ روزہ رکھے ۔
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ، الْحَارِثِ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنْ يَزِيدَ، مَوْلَى سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، - رضى الله عنه - أَنَّهُ قَالَ كُنَّا فِي رَمَضَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَنْ شَاءَ صَامَ وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ فَافْتَدَى بِطَعَامِ مِسْكِينٍ حَتَّى أُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ { فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ}
#2687
Abu Salama reported:I heard 'A'isha (Allah be pleased with her) as saying: I had to complete some of the fasts of Ramadan, but I could not do it but during the month of Sha'ban due to my duties to the Messenger of Allah (ﷺ) or with the Messenger of Allah (ﷺ)
احمد بن عبداللہ بن یونس ، زہیر ، یحییٰ بن سعید ، حضرت ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں ۔ کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو فرماتے ہوئے سنا کہ رمضان کے روزے مجھ سے قضا ء ہوجاتے تھے تو میں ان روزوں کے سوائے شعبان کی قضا نہیں کرسکتی تھی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مشغولیت کی وجہ سے ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي، سَلَمَةَ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - تَقُولُ كَانَ يَكُونُ عَلَىَّ الصَّوْمُ مِنْ رَمَضَانَ فَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَقْضِيَهُ إِلاَّ فِي شَعْبَانَ الشُّغُلُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَوْ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
#2688
This hadith is narrated on the authority of Yahya b. Sa'id with the same chain of transmitters but with this variation that he said that ('A'isha did not observe fast but in Sha'ban) out of regard for the Messenger of Allah (ﷺ)
اسحاق بن ابراہیم ، بشر بن عمر زہرانی ، سلیمان بن بلال ، یحییٰ حضرت یحییٰ بن سعید اس سند کے ساتھ اس طرح بیان کرتے ہیں سوائے اس کہ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے مشغول رہتی تھی ۔
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ، بْنُ بِلاَلٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ وَذَلِكَ لِمَكَانِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
#2689
In another version of the previous hadith, the words are:" Yahya said: I think it was due to the regard for the Messenger of Allah (ﷺ)
محمد بن رافع ، عبدالرزاق ، ابن جریج ، یحییٰ بن سعید ، نے اس سند کے ساتھ اس طرح بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ یہ تاخیر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مشغولی کی وجہ سے ہوتی تھی ۔ یہ بات یحیٰ کہتے ہیں
وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى، بْنُ سَعِيدٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ فَظَنَنْتُ أَنَّ ذَلِكَ لِمَكَانِهَا مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . يَحْيَى يَقُولُهُ .
#2690
This hadith is reported on the authority of Yahya with the same chain of transmitters but no mention is made of the duty to the Messenger of Allah (ﷺ)
محمد بن مثنیٰ ، عبدالوہاب ، عمروناقد ، سفیان ، حضرت یحییٰ سے اس سند کے ساتھ روایت ہے اور اس حدیث میں یہ ذکر نہیں کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے قضا میں تاخیر ہوتی تھی ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، ح وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، كِلاَهُمَا عَنْ يَحْيَى، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرَا فِي الْحَدِيثِ الشُّغْلُ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
#2691
A'isha reported:If one amongst us had to break fasts (of Ramadan due to natural reasons, i. e. menses) during the life of the Messenger of Allah (ﷺ) she could not find it possible to complete them so long she had been in the presence of Allah's Messenger (ﷺ) till Sha'ban commenced
محمد بن ابی عمر مکی ، عبدالعزیز بن محمد دراوردی ، یزید بن عبداللہ بن ہاد ، محمد بن ابراہیم ، ابی سلمہ بن عبدالرحمان ، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ اگر ہم میں سے کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کوئی روزہ چھوڑتی تھی تو وہ قدرت نہ رکھتی کہ ان کی قضا کرلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے یہاں تک کہ شعبان آجاتا ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - أَنَّهَا قَالَتْ إِنْ كَانَتْ إِحْدَانَا لَتُفْطِرُ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَمَا تَقْدِرُ عَلَى أَنْ تَقْضِيَهُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى يَأْتِيَ شَعْبَانُ .
#2692
A'isha (Allah be pleased with her) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:If anyone dies in a state (that he had to complete) some fasts, his heir must fast on his behalf
ہارون بن سعید ، احمد بن عیسیٰ ، ابن وہب ، عمر وبن حارث ، عبیداللہ بن ابی جعفر ، محمد بن جعفر بن زبیر ، عروۃ ، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو آدمی انتقال کرجائے اور اس پر کچھ روزے لازم ہوں تو اس کاوارث اس کی طرف سے روزے رکھے ۔
وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامٌ صَامَ عَنْهُ وَلِيُّهُ " .
#2693
Ibn 'Abbas (Allah be pleased with both of them) reported:A woman came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: My mother has died, and fasts of a month are due from her. Thereupon he said: Don't you see that if debt was due from her, would you not pay it? She said: Yes (I would pay on her behalf). Thereupon he said: The debt of Allah deserves its payment more than (the payment of anyone else)
اسحاق بن ابراہیم ، عیسیٰ بن یونس ، اعمش ، مسلم ، سعید بن جبیر ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور کہنے لگی کہ میری ماں کا انتقال ہوگیا ہے اور اس پر ایک مہینےکے روزے لازم ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تیرا کیا خیال ہے کہ اگر اس پر کوئی قرض ہوتا تو کیا تو اسے ادا کرتی؟اس نے عرض کیا ہاں!آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے قرض کا زیادہ حق ہے کہ اسے ادا کیا جائے ۔
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ مُسْلِمٍ، الْبَطِينِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - أَنَّ امْرَأَةً، أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ . فَقَالَ " أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلَيْهَا دَيْنٌ أَكُنْتِ تَقْضِينَهُ " . قَالَتْ نَعَمْ . قَالَ " فَدَيْنُ اللَّهِ أَحَقُّ بِالْقَضَاءِ " .
#2694
Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) reported:A man came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: Messenger of Allah, my mother has died (in a state) that she had to observe fasts of a month (of Ramadan). Should I complete (them) on her behalf? thereupon he (the Holy Prophet) said: Would you not pay the debt if your mother had died (without paying it)? He said: Yes. He (the Holy Prophet) said: The debt of Allah deserves more that it should he paid
۔ احمد بن عمر وکیعی ، حسین بن علی ، زائدہ ، سلیمان ، مسلم ، سعید بن جبیر ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میری ماں کا انتقال ہوگیا ہے اور اس پر ایک مہینے کے روزوں کی قضا لازم ہے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تیری ما ں پر کوئی قرض ہوتا تو کیا تو وہ قرض اس کی طرف سے ادا کرتی؟عرض کیا کہ ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کا قرض زیادہ اس کا حقدار ہے کہ اسے اداکیا جائے ۔
وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ الْوَكِيعِيُّ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ أَفَأَقْضِيهِ عَنْهَا فَقَالَ " لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكَ دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ عَنْهَا " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ " فَدَيْنُ اللَّهِ أَحَقُّ أَنْ يُقْضَى " . قَالَ سُلَيْمَانُ فَقَالَ الْحَكَمُ وَسَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ جَمِيعًا وَنَحْنُ جُلُوسٌ حِينَ حَدَّثَ مُسْلِمٌ بِهَذَا الْحَدِيثِ فَقَالاَ سَمِعْنَا مُجَاهِدًا يَذْكُرُ هَذَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
#2695
This hadith has been narrated on the authority of Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) from the Messenger of Allah (ﷺ)
ابو سعید اشج ، ابو خالد ، اعمش ، سلمہ بن کہیل ، حکم بن عتیبہ ، مسلم بن جبیر ، مجاہد ، وعطاء ، ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس سند کے ساتھ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کی طرح روایت کیا ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ سَلَمَةَ، بْنِ كُهَيْلٍ وَالْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ وَمُسْلِمٍ الْبَطِينِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَمُجَاهِدٍ، وَعَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ، عَبَّاسٍ - رضى الله عنهما - عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْحَدِيثِ .
#2696
Ibn Abbas (Allah be pleased with them) reported:A woman came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: Messenger of Allah, my mother has died and there is due from her a fast of vow; should I fast on her behalf? Thereupon he said: You see that if your mother had died in debt, would it not have been paid on her behalf? She said: Yes. He (the Holy Prophet) said: Then observe fast on behalf of your mother
اسحاق بن منصور ، ابن ابی خلف ، عبد بن حمید ، زکریا بن عدی ، عبیداللہ بن عمرو ، زید بن ابی انیسہ ، حکم بن عتیبہ ، سعید بن جبیر ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور عرض کرنے لگی اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میری ماں کا انتقال ہوگیا ہے اس پر منت کا روزہ لازم تھا تو کیا میں اس کی طرف سے روزہ رکھوں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیرا کیا خیال ہے؟کہ اگر تیری ماں پر کوئی قرض ہوتا تو کیا تو اس کی طرف سے ادا کرتی؟اس نے عرض کیا ہاں!آپ نے فرمایا کہ اللہ کا قرض اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ اسے ادا کیا جائے آپ نے فرمایاکہ تو اپنی ماں کی طرف سے روزہ رکھ ۔
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، جَمِيعًا عَنْ زَكَرِيَّاءَ، بْنِ عَدِيٍّ - قَالَ عَبْدٌ حَدَّثَنِي زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ، - أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ، بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ نَذْرٍ أَفَأَصُومُ عَنْهَا قَالَ " أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكِ دَيْنٌ فَقَضَيْتِيهِ أَكَانَ يُؤَدِّي ذَلِكِ عَنْهَا " . قَالَتْ نَعَمْ . قَالَ " فَصُومِي عَنْ أُمِّكِ " .
#2697
Abdullah b. Buraida (Allah be pleased with him) reported on the authority of his father:When we were sitting with the Messenger of Allah (ﷺ), a woman came to him and said: I had gifted to my mother a maid-servant, and now she (the mother) has died. Thereupon he (the Holy Prophet) said: There is a definite reward for you and she (the maid-servant) has been returned to you as an inheritance. She (that woman) again said: Fasts of a month (of Ramadan) are due upon her; should I observe them on her behalf? He (the Holy Prophet) said: Observe fasts on her behalf. She (again) said: She did not perform Hajj, should I perform it on her behalf? He (the Holy Prophet) said: Perform Hajj on her behalf
علی بن مسہر ، ابوالحسن نے عبداللہ بن عطاء سے ، انھوں نے عبداللہ بن بریدہ سے اور انھوں نے اپنے والدسے روایت کی ، کہا : ایک بار میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہواتھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر ایک عورت نے کہا : میں نے اپنی والدہ کو ایک لونڈی بطور صدقہ دی تھی اور وہ ( والدہ ) فوت ہوگئی ہیں ، کہا : تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تمھارا اجر پکا ہوگیا ۔ اور و راثت نے وہ ( لونڈی ) تمھیں لوٹادی ۔ " اس نے پوچھا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ان کے ذمے ا یک ماہ کےروزے تھے ، کیا میں ان کی طرف سے روزے رکھوں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم ان کی طرف سے روزے رکھو " ۔ اس نے پوچھا : انھوں نے کبھی حج نہیں کیا تھا ، کیا میں ان کی طرف سے حج کروں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم ان کی طرف سے حج کرو ۔
وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ أَبُو الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، بْنِ عَطَاءٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، - رضى الله عنه - قَالَ بَيْنَا أَنَا جَالِسٌ، عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذْ أَتَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ إِنِّي تَصَدَّقْتُ عَلَى أُمِّي بِجَارِيَةٍ وَإِنَّهَا مَاتَتْ - قَالَ - فَقَالَ " وَجَبَ أَجْرُكِ وَرَدَّهَا عَلَيْكِ الْمِيرَاثُ " . قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ كَانَ عَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ أَفَأَصُومُ عَنْهَا قَالَ " صُومِي عَنْهَا " . قَالَتْ إِنَّهَا لَمْ تَحُجَّ قَطُّ أَفَأَحُجُّ عَنْهَا قَالَ " حُجِّي عَنْهَا " .
#2698
Abdullah b. Buraida (Allah be pleased with him) reported on the authority of his father:I was sitting with the Messenger of Allah (ﷺ) ; the rest of the hadith is the same but with this variation that the (the narrator) said:" Fasts of two months
عبداللہ بن نمیر نے عبداللہ بن عطاء سے ، انھوں نے عبداللہ بن بریدہ سے ، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا ۔ ۔ ۔ ( آگے ) ابن مسہر کی حدیث کے مانند ( حدیث بیان کی ) مگر انھوں نے کہا : " دوماہ کے ر وزے ۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، - رضى الله عنه - قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ صَوْمُ شَهْرَيْنِ .
#2699
Ibn Buraida (Allah be pleased with him) reported on the authority of his father:A woman came to the Messenger of Allah (ﷺ), and the rest of the hadith is the same, but he said:" Fasting of one month
عبدالرزاق نے کہا : ہمیں ( سفیان ) ثوری نے عبداللہ بن عطاء سے خبر دی ، انھوں نے ابن بریدہ سے اورانھوں نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا : ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ۔ ۔ ۔ اس کے بعد اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند حدیث بیان کی اورانھوں نے کہا : " ایک ماہ کے روزے ۔
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، - رضى الله عنه - قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ وَقَالَ صَوْمُ شَهْرٍ .