#2525
Sa'd b. Abi Waqqas (Allah be pleased with him) said that the Messenger of Allah (ﷺ) struck his hand against the other and (then with the gesture of his two hands) said:The month is thus, thus (two times). He then withdrew (one of) his fingers at the third turn
محمد بن بشر ، اسماعیل بن ابی خالد ، محمد بن سعید ، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر مارا اور فرمایا کہ مہینہ اس طرح اور اس طرح ہوتا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ ایک انگلی کم فرمالی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، - رضى الله عنه - قَالَ ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ عَلَى الأُخْرَى فَقَالَ " الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا " . ثُمَّ نَقَصَ فِي الثَّالِثَةِ إِصْبَعًا .
#2526
Muhammad b. Sa'd reported on the authority of his father (Sa'd b. Abi Waqqas (Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (ﷺ) had said:Tho month is thus and thus, and thus, i. e. ten, ten and nine
زائدہ ، اسماعیل ، حضرت محمد بن سعد اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مہینہ اس طرح اور اس طرح اور اس طرح سے ہوتا ہے دس اور دس اور نو مرتبہ ۔
وَحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، - رضى الله عنه - عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا " . عَشْرًا وَعَشْرًا وَتِسْعًا مَرَّةً .
#2527
This hadith has been narrated by Ibn Abu Khalid with the same chain of transmitters
۔ عبداللہ بن مبارک ، اسماعیل بن ابی خالد اس سند کے ساتھ یہ روایت بھی اس طرح نقل کی گئی ہے ۔
وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، وَسَلَمَةُ، بْنُ سُلَيْمَانَ قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، - يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ - أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ بِمَعْنَى حَدِيثِهِمَا .
#2528
Kuraib reported that Umm Fadl, daughter of Harith, sent him (Fadl, i.e. her son) to Mu'awiya in Syria. I (Fadl) arrived in Syria, and did the needful for her. It was there in Syria that the month of Ramadan commenced. I saw the new moon (of Ramadan) on Friday. I then came back to Medina at the end of the month. Abdullah b. 'Abbas (Allah be pleased with him) asked me (about the new moon of Ramadan) and said:When did you see it? I said: We saw it on the night of Friday. He said: (Did) you see it yourself? I said: Yes, and the people also saw it and they fasted and Mu'awiya also fasted, whereupon he said: But we saw it on Saturday night. So we will continue to fast till we complete thirty (fasts) or we see it (the new moon of Shawwal). I said: Is the sighting of the moon by Mu'awiya not valid for you? He said: No; this is how the Messenger of Allah (ﷺ) has commanded us. Yahya b. Yahya was in doubt (whether the word used in the narration by Kuraib) was Naktafi or Taktafi
کریب کو سیدہ ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا شام میں، انہوں نے کہا کہ میں گیا شام کو اور ان کا کام نکال دیا اور میں نے چاند دیکھا رمضان کا شام میں جمعہ کی شب کو (یعنی پنج شنبہ کی شام کو) پھر مدینہ آیا آخر ماہ میں اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے پوچھا مجھ سے اور ذکر کیا چاند کا کہ تم نے کب دیکھا؟ میں نے کہا: جمعہ کی شب کو۔ انہوں نے کہا: تم نے خود دیکھا؟ میں نے کہا: ہاں اور لوگوں نے بھی دیکھا اور روزہ رکھا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور لوگوں نے تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کہ ہم نے تو ہفتہ کی شب کو دیکھا اور ہم پورے تیس روزے رکھیں گے یا چاند دیکھ لیں گے تو میں نے کہا: آپ کافی نہیں جانتے دیکھنا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا اور ان کا روزہ رکھنا؟ آپ نے فرمایا نہیں ایسا ہی حکم کیا ہے ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور یحییٰ بن یحییٰ کو شک ہے کہ «نَكْتَفِى» کہا یا «تَكْتَفِى» ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - عَنْ مُحَمَّدٍ، - وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ - عَنْ كُرَيْبٍ، أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ بِنْتَ الْحَارِثِ، بَعَثَتْهُ إِلَى مُعَاوِيَةَ بِالشَّامِ قَالَ فَقَدِمْتُ الشَّامَ فَقَضَيْتُ حَاجَتَهَا وَاسْتُهِلَّ عَلَىَّ رَمَضَانُ وَأَنَا بِالشَّامِ فَرَأَيْتُ الْهِلاَلَ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ ثُمَّ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فِي آخِرِ الشَّهْرِ فَسَأَلَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ - رضى الله عنهما - ثُمَّ ذَكَرَ الْهِلاَلَ فَقَالَ مَتَى رَأَيْتُمُ الْهِلاَلَ فَقُلْتُ رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ . فَقَالَ أَنْتَ رَأَيْتَهُ فَقُلْتُ نَعَمْ وَرَآهُ النَّاسُ وَصَامُوا وَصَامَ مُعَاوِيَةُ . فَقَالَ لَكِنَّا رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ السَّبْتِ فَلاَ نَزَالُ نَصُومُ حَتَّى نُكْمِلَ ثَلاَثِينَ أَوْ نَرَاهُ . فَقُلْتُ أَوَلاَ تَكْتَفِي بِرُؤْيَةِ مُعَاوِيَةَ وَصِيَامِهِ فَقَالَ لاَ هَكَذَا أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . وَشَكَّ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى فِي نَكْتَفِي أَوْ تَكْتَفِي .
#2529
Abu'l-Bakhtari reported:We went out to perform Umra and when we encamped in the valley of Nakhla, we tried to see the new moon. Some of the people said: It was three nights old, and others (said) that it was two nights old. We then met Ibn 'Abbas and told him we had seen the new moon, but that some of the people said it was three nights old and others that it was two nights old. He asked on which night we had seen it; and when we told him we had seen it on such and such night, he said the Prophet of Allah (ﷺ) had said: Verily Allah deferred it till the time it is seen, so it is to be reckoned from the night you saw it
۔ حصین ، عمر بن مرہ ، حضرت ابوالبختری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم عمرہ کے لئے نکلے تو جب ہم وادی نخلہ میں اترے تو ہم نے چاند دیکھا بعض لوگوں نے کہا کہ یہ تیسری کا چاندہے ۔ اور کسی نے کہا کہ یہ دو راتوں کا چاند ہے ۔ تو ہماری ملاقات ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہوئی تو ہم نے ان سے عرض کیا کہ ہم نے چاند دیکھا ہے ۔ کوئی کہتا ہے کہ تیسری تاریخ کا چاندہے ۔ کوئی کہتا ہے کہ د وسری کا چاند ہے ۔ تو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ تم نے کس ر ات چاند دیکھا تھا؟تو ہم نے عرض کیا کہ فلاں فلاں رات کا تو آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے دیکھنے کے لئے اسے بڑھا دیاہے ۔ در حقیقت کا اسی رات کا چاند ہے جس رات تم نے اسے دیکھا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ، مُرَّةَ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، قَالَ خَرَجْنَا لِلْعُمْرَةِ فَلَمَّا نَزَلْنَا بِبَطْنِ نَخْلَةَ - قَالَ - تَرَاءَيْنَا الْهِلاَلَ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ هُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ . وَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ هُوَ ابْنُ لَيْلَتَيْنِ قَالَ فَلَقِينَا ابْنَ عَبَّاسٍ فَقُلْنَا إِنَّا رَأَيْنَا الْهِلاَلَ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ هُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ وَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ هُوَ ابْنُ لَيْلَتَيْنِ . فَقَالَ أَىَّ لَيْلَةٍ رَأَيْتُمُوهُ قَالَ فَقُلْنَا لَيْلَةَ كَذَا وَكَذَا . فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ اللَّهَ مَدَّهُ لِلرُّؤْيَةِ فَهُوَ لِلَيْلَةِ رَأَيْتُمُوهُ " .
#2530
Abu'l-Bakhtari reported:We saw the new moon of Ramadan as we were at Dhit-i-'Irq. We sent a man to Ibn Abbas (Allah be pleased with both of them) to ask him (whether the sighting of a small moon had something of the nature of defect in it). Upon this Ibn 'Abbas (Allah be pleased with both of them) said that the Messenger of Allah (ﷺ) had said: Verily Allah deferred its sight, but if (the new moon) is hidden from you, then, complete its number (thirty)
شعبہ ، عمرو ابن مرہ حضرت ابو البختری فرماتے ہیں کہ ہم نے ذات عرق میں رمضان کا چاندد یکھا تو ہم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف ایک آدمی بھیجا تاکہ وہ چاند کے بارے میں آپ سے پوچھے تو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے چاند دیکھنے کے لئے بڑھا دیا ہے ۔ تو اگر مطلع ابر آلود ہوتو گنتی پوری کرو ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْبَخْتَرِيِّ، قَالَ أَهْلَلْنَا رَمَضَانَ وَنَحْنُ بِذَاتِ عِرْقٍ فَأَرْسَلْنَا رَجُلاً إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ - رضى الله عنهما - يَسْأَلُهُ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ - رضى الله عنهما - قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَمَدَّهُ لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ " .
#2531
The son of Abu Bakra reported it on the authority of his father that the Messenger of Allah (ﷺ) had said:The two months of 'Id, Ramadan and Dhu'l-Hijja (are not incomplete)
یزید بن زریع ، خالد ، حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عید کے دو ماہ ناقص نہیں ہوتے ایک رمضان المبارک کا دوسرے ذی الحجہ کا ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ، - رضى الله عنه - عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " شَهْرَا عِيدٍ لاَ يَنْقُصَانِ رَمَضَانُ وَذُو الْحِجَّةِ " .
#2532
Abd ar-Rahman b. Abu Bakra reported on the authority of Abu Bakra that the Messenger of Allah (ﷺ) had said:The months of 'Id are not incomplete. And in the hadith narrated by Khalid (the words are):" The months, of 'Id are Ramadan and Dhu'l-Hijja
معتمر بن سلیمان ، اسحاق بن سوید ، خالد ، حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتےہوئے فرماتے ہیں ۔ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایادو مہینے ناقص نہیں ہوتے خالد کی حدیث میں ہے کہ عید کے دو مہینے رمضان اور ذی الحجہ کے ہیں ۔ خالد کی حدیث میں ہے "" عید کے دونوں مہینے ، رمضان اور ذوالحجہ ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سُوَيْدٍ، وَخَالِدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " شَهْرَا عِيدٍ لاَ يَنْقُصَانِ " . فِي حَدِيثِ خَالِدٍ " شَهْرَا عِيدٍ رَمَضَانُ وَذُو الْحِجَّةِ " .
#2533
Adi b. Hatim (Allah be pleased with him) reported that when (this verse) was revealed:" Until the white streak of the dawn becomes distinct from the dark streak" (ii. 187) Adi b. Hatim said: Messenger of Allah, verily I keep underneath my pillow two strings, one white and the other black, by which I distinguish night from dawn. Upon this the Messenger of Allah (ﷺ) said: Your pillow seems to be very large. For the word khait implies the blackness of the night and the whiteness of the dawn
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ جب آیت حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ نازل ہوئی ۔ تو حضرت عدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ سے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میں نے اپنے تکیے کے نیچے سفید اور سیاہ رنگ کے دو دھاگے رکھ لئے ہیں ۔ جن کی وجہ سے میں رات اور دن میں امتیاز کرلیتا ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا تکیہ بہت چوڑا ہے کہ جس میں رات اور دن سماگئے ہیں ۔ وہ ( د ھاگا ) تو رات کی سیاہی اور دن کی روشنی ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، - رضى الله عنه - قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ { حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ} قَالَ لَهُ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَجْعَلُ تَحْتَ وِسَادَتِي عِقَالَيْنِ عِقَالاً أَبْيَضَ وَعِقَالاً أَسْوَدَ أَعْرِفُ اللَّيْلَ مِنَ النَّهَارِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ وِسَادَتَكَ لَعَرِيضٌ إِنَّمَا هُوَ سَوَادُ اللَّيْلِ وَبَيَاضُ النَّهَارِ " .
#2534
Sahl b. Sa'd said that when this verse was revealed:" Eat and drink till the white streak is distinct from the dark streak," a person would take hold of a white thread and a black thread and keep on eating till he could find them distinct (in the light of the dawn). It was then that Allah, the Majestic and Great, reveiled (the words) min al-fajr (from the dawn), and then it became clear (that the word khait refers to the streak of light in the dawn)
فضیل بن سلیمان ، ابو حازم ، حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں ۔ جب یہ آیتوَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ نازل ہوئی تو بعض آدمی سفید دھاگہ اور سیاہ دھاگہ لے لیتے اور جب تک ان میں واضح امتیاز نظر نہ آتاتو کھاتے رہتے یہاں تک اللہ تعالیٰ نے لفظ " مِنَ الْفَجْرِ " نازل فرمایا اور سفید دھاگے کی وضاحت ہوگئی ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ { وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ} قَالَ كَانَ الرَّجُلُ يَأْخُذُ خَيْطًا أَبْيَضَ وَخَيْطًا أَسْوَدَ فَيَأْكُلُ حَتَّى يَسْتَبِينَهُمَا حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { مِنَ الْفَجْرِ} فَبَيَّنَ ذَلِكَ .
#2535
Sahl b. Sa'd (Allah be pleased with him) said:When this verse was revealed." Eat and drink till the white streak becomes distinct from the dark streak for you," the person who decided to observe fast tied on one of his feet a black thread and on the other a white thread. And he went on eating and drinking till he could distinguish (between their colour) on seeing them. It was after this that Allah reveal- ed (the words): min al-fajr. And they (the Muslims) came to know that (the word khait) refers to the night and day
ابو غسان ، ابو حازم ، سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو بعض آدمی جب ان میں سے کسی کا روزہ رکھنے کا ارادہ ہوتا تو ا پنے دونوں پاؤں میں سیاہ اور سفید دھاگے باندھ لیتے اور جب تک دونوں دھاگوں میں واضح امتیاز نظر نہ آتا تو کھاتے اور پیتے رہتے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے لفظ " مِنَ الْفَجْرِ " نازل فرمایا تو تب معلوم ہوا کہ سیاہ وسفید دھاگے سے رات اور دن مراد ہے ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا أَبُو غَسَّانَ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، - رضى الله عنه - قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ { وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ} قَالَ فَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا أَرَادَ الصَّوْمَ رَبَطَ أَحَدُهُمْ فِي رِجْلَيْهِ الْخَيْطَ الأَسْوَدَ وَالْخَيْطَ الأَبْيَضَ فَلاَ يَزَالُ يَأْكُلُ وَيَشْرَبُ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُ رِئْيُهُمَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ بَعْدَ ذَلِكَ { مِنَ الْفَجْرِ} فَعَلِمُوا أَنَّمَا يَعْنِي بِذَلِكَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ .
#2536
Abdullah b. Mas'ud (Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) had said:Bilal would pronounce Adhan (at the fag end of the night in order to inform the people about the time of the Sahri). So you eat and drink till you hear the Adhan of Ibn Umm Maktum (which was pro- nounced at the conclusion of the Sahri and the commencement of the fast)
لیث ، ابن شہاب ، سالم بن عبداللہ ، حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ رات کے و قت ہی اذان دے دیتے تھے لہذا تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ حضرت ابن مکتوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اذان سنو ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ، سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، - رضى الله عنه - عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " إِنَّ بِلاَلاً يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى تَسْمَعُوا تَأْذِينَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ " .
#2537
Abdullah b. 'Umar (Allah be pleased with both of them) reported:I heard the Messenger of Allah (ﷺ) as saying: Bilal announces Adhan during the night, so you eat and drink, till you hear the Adhan of Ibn Umm Maktum
یونس ، ابن شہاب ، سالم بن عبداللہ ، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ رات کے وقت ہی اذان دے دیتے ہیں ۔ لہذا تم کھاتے اور پیتے رہو یہاں تک کہ تم حضرت ابن مکتوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اذان سنو ۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ بِلاَلاً يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى تَسْمَعُوا أَذَانَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ " .
#2538
Ibn 'Umar (Allah be pleased with both of them) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) had two Mu'adhdhins, Bilal and son of Umm Maktum, the blind. The Messenger of Allah (ﷺ) said:Bilal announces Adhan at (the fag end of the) night (i. e. Sahri), so eat and drink till the son of Umm Maktum announces Adhan. And he (the narrator) said: And the (difference of time) between their (Adhans) was not more than this that one climbed down (from the minaret) and the other climbed up (to announce Adhan)
ابن نمیر ، عبیداللہ بن نافع ، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو مؤذن تھے حضرت بلال اور حضرت عبداللہ ابن مکتوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نابینا تھے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو رات کے و قت ہی اذان دے دیتے ہیں لہذا تم کھاتے اور پیتے رہو یہاں تک کہ حضرت ابن ام مکتوم اذان دیں راوی نے کہا کہ ان دونوں کی اذان میں کوئی فرق نہیں تھا ۔ سوائے اس کے کہ وہ ا ذان دے کر اترتے تھے اور یہ چڑھتے تھے ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - قَالَ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُؤَذِّنَانِ بِلاَلٌ وَابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ الأَعْمَى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ بِلاَلاً يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ " . قَالَ وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَهُمَا إِلاَّ أَنْ يَنْزِلَ هَذَا وَيَرْقَى هَذَا .
#2539
A hadith like this has been transmitted on the authority of 'A'isha (Allah be pleased with her)
ابن نمیر ، عبیداللہ ، قاسم ، سید عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا ہے ۔
وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ .
#2540
A hadith like this has been narrated on the authority of 'Ubaidullah on the two chains of transmitters
ابو اسامہ ، عبدہ ، حمادبن مسعدہ ، سب نے عبیداللہ سے ( پچھلی دونوں حدیثوں میں مذکوران کی ) سندوں کےساتھ ابن نمیر کی حدیث کی طرح روایت کی گئی ہے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، كُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، بِالإِسْنَادَيْنِ كِلَيْهِمَا . نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ .
#2541
Ibn Mas'ud (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying The Adhan of Bilal should not restrain anyone among you from eating Sahur (last meal before daybreak during the month of Ramadan) for he announces Adhan (or he calls) at (the fag end of) the night to make him turn who stands for prayer among you, and to awaken those who are sleeping among you. And he said:The dawn is not like it, as one says (and he lifted his hand) till he (dispersed his fingers) and said: It is like this
اسماعیل بن ابراہیم ، سلیمان تیمی ، ابی عثمان ، حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اذان کی وجہ سے نہ رکے یا آپ نے فرمایا کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پکار سحری کھانے سے نہ ر وکے کیونکہ وہ اذان دیتے ہیں یا فرمایا کہ وہ پکارتے ہیں تاکہ نماز میں کھڑا ہونے والا سحری کے لئے لوٹ جائے ۔ اور تم میں سے سونے والا جاگ جائے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرما کر ہاتھ سیدھاکیا اور اوپر کو بلند کیا یہاں تک کہ آپ فرماتے کہ صبح اس طرح نہیں ہوتی پھر انگلیوں کو پھیلا کر فرمایاس کہ صبح اس طرح ہوتی ہے ۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي، عُثْمَانَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، - رضى الله عنه - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَمْنَعَنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ أَذَانُ بِلاَلٍ - أَوْ قَالَ نِدَاءُ بِلاَلٍ - مِنْ سَحُورِهِ فَإِنَّهُ يُؤَذِّنُ - أَوْ قَالَ يُنَادِي - بِلَيْلٍ لِيَرْجِعَ قَائِمَكُمْ وَيُوقِظَ نَائِمَكُمْ " . وَقَالَ " لَيْسَ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا وَهَكَذَا - وَصَوَّبَ يَدَهُ وَرَفَعَهَا - حَتَّى يَقُولَ هَكَذَا " . وَفَرَّجَ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ .
#2542
This hadith has been narrated by Sulaiman al-Taimi with the same chain of transmitters (but with a slight variation of words) that he (the Holy Prophet) said:The dawn is not like it as it is said; he then gathered his fingers and lowered them. But he said, it is like this (and he placed the index finger upon the other one and spread his hand)
خالداحمر نے ، سلیمان تیمی ، سے اس سند کے ساتھ حضرت سلیمان تیمی سے یہ روایت اسی طرح نقل کی گئی ہے سوائے اس کے کہ اس میں انہوں نے فرمایا کہ فجر وہ نہیں جو اس طرح ہو اور آپ نے انگلیوں کو ملایا پھر انہیں زمین کی طرف جھکایا اور فرمایا کہ فجر وہ ہے جو اس طرح ہو اور شہادت کی انگلی کو شہادت کی انگلی پر رکھ کر دونوں ہاتھوں کو پھیلایا ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، - يَعْنِي الأَحْمَرَ - عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ " إِنَّ الْفَجْرَ لَيْسَ الَّذِي يَقُولُ هَكَذَا " . وَجَمَعَ أَصَابِعَهُ ثُمَّ نَكَسَهَا إِلَى الأَرْضِ " وَلَكِنِ الَّذِي يَقُولُ هَكَذَا " . وَوَضَعَ الْمُسَبِّحَةَ عَلَى الْمُسَبِّحَةِ وَمَدَّ يَدَيْهِ .
#2543
This hadith has been narrated on the authority of Sulaiman Taimi with the same chain of transmitters and, at the end, it was said that the first Adhan was meant to awaken those who were in slumber amongst them and in order to make them turn who stand in (prayer) among them (towards food at the commencement of the fast). Jarir (one of the narrators) said that the Messenger (ﷺ) did not say like this but he said like it (true dawn) that the streaks of (true dawn ) are horizontal and not vertical
ابو بکر ابن ابی شیبہ ، معتمر بن سلیمان ، اسحاق بن ابراہیم ، جریر ، معتمر بن سلیمان ، اس سند کے ساتھ حضرت سلیمان تیمی سے اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے ۔ اس میں ہے کہ حضرت بلال کی اذان اس وجہ سے ہوتی ہے کہ تم میں سے جو سورہا ہو وہ بیدار ہوجائے اور جو نماز پڑھ رہا ہو وہ لوٹ جائے ۔ اسحاق نے کہا : جریر نے اپنی حدیث میں کہا ہے کہ صبح اس طرح نہیں ہے مطلب یہ کہ چوڑائی میں ہے لمبائی میں نہیں ہے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ، إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، وَالْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، كِلاَهُمَا عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . وَانْتَهَى حَدِيثُ الْمُعْتَمِرِ عِنْدَ قَوْلِهِ " يُنَبِّهُ نَائِمَكُمْ وَيَرْجِعُ قَائِمَكُمْ " . وَقَالَ إِسْحَاقُ قَالَ جَرِيرٌ فِي حَدِيثِهِ " وَلَيْسَ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا وَلَكِنْ يَقُولُ هَكَذَا " . يَعْنِي الْفَجْرَ هُوَ الْمُعْتَرِضُ وَلَيْسَ بِالْمُسْتَطِيلِ .
#2544
Samura b. Jandub reported Muhammad (ﷺ) as saying. The call of Bilal may not mislead any one of you (and he may, under the wrong impression gathered from it, refrain) from taking meal before the commencement of the fast (for the streaks) of this whiteness (which are vertical indicate the false dawn and the true dawn with which the fast commences is that when the streaks of light are) spread
عبدالوارث ، عبداللہ بن سوادۃ قشیری ، حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ فرماتے ہیں ۔ کہ تم میں سے کوئی سحری کےوقت حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اذان سے دھوکا نہ کھائے اور نہ ہی اس سفیدی سے جب تک کہ وہ پھیل نہ جائے ۔
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَوَادَةَ الْقُشَيْرِيِّ، حَدَّثَنِي وَالِدِي، أَنَّهُ سَمِعَ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ مُحَمَّدًا، صلى الله عليه وسلم يَقُولُ
#2545
Samura b. Jundub reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The Adhan of Bilal should not mislead you nor the whiteness (of the pillar) of dawn, for it is not the whiteness of the true dawn, but that of the false dawn which is vertical like a pillar and you can eat food till the streaks of whiteness spread like it
۔ اسماعیل بن علیۃ ، عبداللہ بن سوادۃ ، حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی آدمی حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اذان سے دھوکا نہ کھائے اور نہ ہی سفیدی سے جو کہ صبح کے وقت ستونوں کی طرح ہوتی ہے یہاں تک کہ وہ ظاہر ہوجائے ۔
وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَوَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، - رضى الله عنه - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَغُرَّنَّكُمْ أَذَانُ بِلاَلٍ وَلاَ هَذَا الْبَيَاضُ - لِعَمُودِ الصُّبْحِ - حَتَّى يَسْتَطِيرَ هَكَذَا ".
#2546
Samura b. Jundub (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The Adhan of Bilal may not mislead you with regard to your food at the commencement of the fast, nor the vertical (streaks) of whiteness in the horizon (for it is an indication of false dawn). You should stop eating (food) till (the whiteness) spreads like it. Hammad narrated it and with the gesture of his band he explained, the horizontal position (of the streaks of light)
حماد ، ابن زید ، عبداللہ بن سوادۃ قشیری ، حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی آدمی حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اذان سے اپنی سحری سے دھوکا نہ کھائے اور نہ ہی افق کی لمبی سفیدی سے یہاں تک کہ وہ پھیل جائے ۔ حماد نے اپنے دونوں ہاتھوں ( کے اشارے ) سے بیان کیا کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد چوڑائی میں پھیلنے والی ( سفیدی ) سے تھی ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، بْنُ سَوَادَةَ الْقُشَيْرِيُّ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، - رضى الله عنه - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَغُرَّنَّكُمْ مِنْ سَحُورِكُمْ أَذَانُ بِلاَلٍ وَلاَ بَيَاضُ الأُفُقِ الْمُسْتَطِيلُ هَكَذَا حَتَّى يَسْتَطِيرَ هَكَذَا " . وَحَكَاهُ حَمَّادٌ بِيَدَيْهِ قَالَ يَعْنِي مُعْتَرِضًا .
#2547
Samura b. Jundub addressed and narrated from the Messenger of Allah (ﷺ) having said (these words):Neither the call of Bilal should mislead you nor this whiteness (of false dawn) till (the true) dawn appears (or he said) till the dawn breaks
عبیداللہ بن معاذ ، شعبہ ، سوادہ ، حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ خطبہ دیتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے آپ نے فرمایا تم میں سے کوئی آدمی حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اذان سے دھوکا نہ کھائے اور نہ اس سفیدی سے یہاں تک کہ فجر ظاہر ہوجائے ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَوَادَةَ، قَالَ سَمِعْتُ سَمُرَةَ، بْنَ جُنْدَبٍ - رضى الله عنه - وَهُوَ يَخْطُبُ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " لاَ يَغُرَّنَّكُمْ نِدَاءُ بِلاَلٍ وَلاَ هَذَا الْبَيَاضُ حَتَّى يَبْدُوَ الْفَجْرُ - أَوْ قَالَ - حَتَّى يَنْفَجِرَ الْفَجْرُ " .
#2548
A hadith like this has been narrated on the authority of Samura b. Jundub
ابو داود ( طیالسی ) نے شعبہ سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ۔ ۔ ۔ اس کے بعد یہی ( حدیث ) بیان کی ۔
وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي سَوَادَةُ بْنُ حَنْظَلَةَ، الْقُشَيْرِيُّ قَالَ سَمِعْتُ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدَبٍ، - رضى الله عنه - يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَذَكَرَ هَذَا .
#2549
Anas (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Take meal a little before dawn, for there is a blessing in taking meal at that time
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سحری کھایا کرو کیونکہ سحری کے کھانے میں برکت ہوتی ہے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، ح . وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، رضى الله عنه ح . وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، - رضى الله عنه - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السُّحُورِ بَرَكَةً " .