العربية
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ لَقِيَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فِي بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ " . فَقَالَ هُوَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " آمَنْتُ بِاللَّهِ وَمَلاَئِكَتِهِ وَكُتُبِهِ مَا تَرَى " . قَالَ أَرَى عَرْشًا عَلَى الْمَاءِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " تَرَى عَرْشَ إِبْلِيسَ عَلَى الْبَحْرِ وَمَا تَرَى " . قَالَ أَرَى صَادِقَيْنِ وَكَاذِبًا أَوْ كَاذِبَيْنِ وَصَادِقًا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لُبِسَ عَلَيْهِ دَعُوهُ " .
English
Abu Sa'id reported that Allah's Messenger (ﷺ) met him (Ibn Sayyad) and so did Abu Bakr and 'Umar on some of the roads of Medina. Allah's Messenger (ﷺ) said:Do you bear testimony to the fact that I am the Messenger of Allah? Thereupon he said: Do you bear testimony to the fact that I am the messenger of Allah? Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: I affirm my faith in Allah and in His Angels and in His Books, and what do you see? He said: I see the throne over water. Whereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: You see the throne of Iblis upon the water, and what else do you see? He said: I see two truthfuls and a liar or two liars and one truthful. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: Leave him He has been confounded اردو
حریری نے ابو نضرہ سے اور انھوں نے حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : مدینہ کے ایک راستے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس ( ابن صیاد ) سے ملاقات ہوئی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : " کیا تو یہ گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ " اس نے کہا : کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا؛ " میں اللہ پر ، اس کےفرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر ایمان لایا ہوں ، تجھے کیا نظر آتا ہے؟ " اس نے کہا : مجھے پانی پر ایک تخت نظر آتا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم سمندر پر ابلیس کا تخت دیکھ رہے ہو ، تجھے اور کیا نظر آتا ہے؟ " اس نے کہا : میں دو سچوں اور ایک جھوٹے کویا دو جھوٹوں اور ایک سچے کو د یکھتا ہوں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ( اس کا معاملہ خود ) اس کے سامنے گڈ مڈ کردیاگیا ہے ۔ اسے چھوڑ د و ۔