العربية
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، رَفَعَهُ مَرَّةً قَالَ " تُعْرَضُ الأَعْمَالُ فِي كُلِّ يَوْمِ خَمِيسٍ وَاثْنَيْنِ فَيَغْفِرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ لِكُلِّ امْرِئٍ لاَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا إِلاَّ امْرَأً كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ فَيُقَالُ ارْكُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا ارْكُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا " .
English
Abu Huraira reported it as a marfu' hadith (and the words are):The deeds are presented on every Thursday and Monday and Allah, the Exalted and Glorious. grants pardon to every person who does not associate anything with Allah except the person in whose (heart) there is rancour against his brother. It would be said: Put both of them off until they are reconciled اردو
سفیان نے مسلم بن ابی مریم سے ، انہوں نے ابوصالح سے روایت کی ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے ایک بار اس حدیث کو مرفوعا بیان کیا ، کہا : ہر پیر اور جمعرات کو اعمال پیش کیے جاتے ہیں ، اس دن اللہ تعالیٰ ہر اس شخص کی مغفرت کر دیتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا ، اس شخص کے سوا کہ اس کے اور اس کے بھائی کے درمیان عداوت اور کینہ ہو ، تو ( ان کے بارے میں ) کہا جاتا ہے : ان دونوں کو رینے دو یہاں تک کہ یہ آپس میں صلح کر لیں ، ان دونوں کو رہنے دو یہاں تک کہ یہ آپس میں صلح کر لیں ۔