العربية
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ، يُحَدِّثُ عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ جَاءَ أَهْلُ نَجْرَانَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْعَثْ إِلَيْنَا رَجُلاً أَمِينًا . فَقَالَ " لأَبْعَثَنَّ إِلَيْكُمْ رَجُلاً أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ حَقَّ أَمِينٍ " . قَالَ فَاسْتَشْرَفَ لَهَا النَّاسُ - قَالَ - فَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ .
English
Hudhaifa reported that the people of Najran came to Allah's Messenger (ﷺ) and said:Allah's Messenger, send along with us a man of trust; whereupon he said: I would definitely send to you a man of trust, a man of trust in the true sense of the term. Thereupon his Companions looked up eagerly and he sent Abu Ubaida b. Jarrah اردو
شعبہ نے کہا : میں نے ابو اسحٰق کو صلہ بن زفر سے حدیث بیان کرتے ہو ئے سنا ، انھوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اہل نجران آئے اور کہنے لگے ۔ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے پاس ایک امین شخص بھیجیے ۔ آپ نے فر ما یا : میں تمھا رے پاس ایسا شخص بھیجوں گا جو ایسا امین ہے جس طرح امین ہو نے کا حق ہے ۔ لو گوں نے اس بات پراپنی نگا ہیں اٹھا ئیں ( کہ اس کا مصداق کو ن ہے ) کہا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو روانہ فرما یا ۔