العربية
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ فِرَاسٍ، قَالَ سَمِعْتُ ذَكْوَانَ، يُحَدِّثُ عَنْ زَاذَانَ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، دَعَا بِغُلاَمٍ لَهُ فَرَأَى بِظَهْرِهِ أَثَرًا فَقَالَ لَهُ أَوْجَعْتُكَ قَالَ لاَ . قَالَ فَأَنْتَ عَتِيقٌ . قَالَ ثُمَّ أَخَذَ شَيْئًا مِنَ الأَرْضِ فَقَالَ مَا لِي فِيهِ مِنَ الأَجْرِ مَا يَزِنُ هَذَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ ضَرَبَ غُلاَمًا لَهُ حَدًّا لَمْ يَأْتِهِ أَوْ لَطَمَهُ فَإِنَّ كَفَّارَتَهُ أَنْ يُعْتِقَهُ " .
English
Zadhan reported that Ibn Umar called his slave and he found the marks (of beating) upon his back. He said to him:I have caused you pain. He said: No. But he (Ibn Umar) said: You are free. He then took hold of something from the earth and said: There is no reward for me even to the weight equal to it. I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: He who beats a slave without cognizable offence of his or slaps him (without any serious fault), then expiation for it is that he should set him free اردو
شعبہ نے ہمیں فراس سے باقی ماندہ سابقہ سند سے حدیث بیان کی کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے غلام کو بلایا اور اس کی پشت پر ( ضرب کا ) نشان دیکھا تو اس سے کہا : میں نے تمہیں دکھ دیا ہے؟ اس نے کہا : نہیں ۔ انہوں نے کہا : تم آزاد ہو ۔ کہا : پھر انہوں نے زمین سے کوئی چیز پکڑی اور کہا : میرے لیے اس میں اتنا بھی اجر نہیں ہے جو اس کے برابر ہو ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا ، آپ فرما رہے تھے : "" جس نے اپنے غلام کو حد لگانے کے لیے ( ایسے کام پر ) مارا جو اس نے نہیں کیا یا اسے طمانچہ مارا تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ اسے آزاد کر دے