العربية
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ - حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، سَعْدٍ أَنَّهُ قَالَ أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَهْطًا وَأَنَا جَالِسٌ فِيهِمْ . بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ . وَزَادَ فَقُمْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَارَرْتُهُ فَقُلْتُ مَا لَكَ عَنْ فُلاَنٍ .
English
Sa'd reported:The Messenger of Allah (ﷺ) bestowed upon a group of persons (booty) and I was sitting with them. The remaining part of the hadith is the same as mentioned (above) with the additionI stood up and went to the Messenger of Allah (ﷺ) and whispered to him: Why did you omit such and such a man? اردو
صالح نے ابن شہاب سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے عامر بن سعد نے اپنے والد ( حضرت ) سعد رضی اللہ عنہ سے خبر دی ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے کچھ لوگوں کو ( عطیہ ) دیا اورمیں ان میں بیٹھا تھا ..... آگے ابن شہاب کے بھتیجے کی اپنے چچا سے روایت کی طرح ہے اور اتنا اضافہ ہے : ’’میں اٹھ کر رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا اور سرگوشی کرتے ہوئے آپ سے عرض کی : فلاں سے آپ نے اعراض کیوں فرمایا