العربية
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُنْتُ أَغَارُ عَلَى اللاَّتِي وَهَبْنَ أَنْفُسَهُنَّ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَقُولُ وَتَهَبُ الْمَرْأَةُ نَفْسَهَا فَلَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ} قَالَتْ قُلْتُ وَاللَّهِ مَا أَرَى رَبَّكَ إِلاَّ يُسَارِعُ لَكَ فِي هَوَاكَ
English
A'isha (Allah be pleased with her) reported:I felt jealous of the women who offered themselves to Allah's Messenger (ﷺ) and said: Then when Allah, the Exalted and Glorious, revealed this:" You may defer any one of them you wish, and take to yourself any you wish; and if you desire any you have set aside (no sin is chargeable to you)" (xxxiii. 51), I ('A'isha.) said: It seems to me that your Lord hastens to satisfy your desire اردو
ابواسامہ نے ہمیں ہشام سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد ( عروہ ) سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں ان عورتوں پر غیرت کرتی تھی جو اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بطور ہبہ پیش کرتی تھیں ، میں کہتی : کیا کوئی عورت بھی خود کو ہبہ کر سکتی ہے؟ جب اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا : " آپ ان عورتوں میں سے جسے چاہیں پیچھے کر دیں اور جسے چاہیں اپنے پاس جگہ دیں اور جسے آپ نے الگ کر دیا تھا ان میں سے بھی جسے آپ کا دل چاہے لائیں ۔ " کہا : تو میں نے کہا : اللہ کی قسم! میں آپ کے رب کو نہیں دیکھتی مگر وہ آپ کے لیے آپ کی خواہش ( کو پورا کرنے ) میں جلدی کرتا ہے