العربية
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى، بْنُ يَحْيَى - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ قُلْتُ لِمَالِكٍ حَدَّثَكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا وَالْبِكْرُ تُسْتَأْذَنُ فِي نَفْسِهَا وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا " . قَالَ نَعَمْ .
English
Ibn 'Abbas (Allah be pleased with him) reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:A woman without a husband has more right to her person than her guardian, and a virgin's consent must be asked from her, and her silence implies her consent اردو
سعید بن منصور اور قتیبہ بن سعید نے کہا : ہم سے امام مالک نے حدیث بیان کی ۔ یحییٰ بن یحییٰ نے کہا : میں نے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا : کیا آپ کو عبداللہ بن فضل نے نافع بن جبیر کے واسطے سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس عورت کا شوہر نہ رہا ہو وہ اپنے ولی کی نسبت اپنے بارے میں زیادہ حق رکھتی ہے ، اور کنواری سے اس کے ( نکاح کے ) بارے میں اجازت لی جائے اور اس کا خاموش رہنا اس کی اجازت ہے " ؟ تو امام مالک نے جواب دیا : ہاں