العربية
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، - يَعْنِي ابْنَ مُوسَى - حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْحِجْرِ . وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي الأَحْوَصِ وَقَالَ فِيهِ فَقُلْتُ فَمَا شَأْنُ بَابِهِ مُرْتَفِعًا لاَ يُصْعَدُ إِلَيْهِ إِلاَّ بِسُلَّمٍ وَقَالَ " مَخَافَةَ أَنْ تَنْفِرَ قُلُوبُهُمْ " .
English
A'isha reported:I asked Allah's Messenger (ﷺ) about Hijr, and the rest of the hadith is the same. I also said: Why is it that the door has been made on a higher level, and one cannot (get into it) but with the help of a ladder? The rest of the hadith is the same as reported above and the concluding words are: (I do not change it) out of the apprehension that their hearts may disapprove of it اردو
شیبان نے ہمیں اشعت بن ابو شعثاء سے حدیث بیان کی انھوں نے اسود بن یزید سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حطیم کے بارے میں سوال کیا ۔ آگے ابو حوص کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی اور اس میں کہا : میں نے عرض کی : اس کا دروازہ کسی وجہ سے اونچا ہے اس پر سیڑھی کے بغیر چڑھا نہیں جا سکتا ۔ اور ( شیبان نے یہ بھی ) کہا : اس ڈر سے کہ ان کے دل اسے نا پسند کریں گے ۔