#2276
Sahih Hadith
It was narrated that 'Umar bin Khattab said:"The last thing to be revealed was the Verse on usury but the Messenger of Allah (ﷺ) died before he had explained it to us. So give up usury (interest) and doubtful things
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آخری آیت جو نازل ہوئی، وہ سود کی حرمت والی آیت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تفسیر ہم سے بیان نہیں کی، لہٰذا سود کو چھوڑ دو، اور جس میں سود کا شبہ ہو اسے بھی ۱؎۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ إِنَّ آخِرَ مَا نَزَلَتْ آيَةُ الرِّبَا وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قُبِضَ وَلَمْ يُفَسِّرْهَا لَنَا فَدَعُوا الرِّبَا وَالرِّيبَةَ .
#2277
Sahih
It was narrated from 'Abdullah bin Mas'ud that :Xthe Messenger of Allah (ﷺ) cursed the one who consumes usury, the one who pays it, those who witness it and the one who writes it down
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کے کھانے والے پر، کھلانے والے پر، اس کی گواہی دینے والے پر، اور اس کا حساب لکھنے والے پر لعنت بھیجی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ لَعَنَ آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَكَاتِبَهُ .
#2278
Daif
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“There will come a time when there will be no one left who does not consume usury (interest), and whoever does not consume it will nevertheless be affected by it
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ کوئی ایسا نہ بچے گا جس نے سود نہ کھایا ہو، جو نہیں کھائے گا اسے بھی اس کا غبار لگ جائے گا ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي خَيْرَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لاَ يَبْقَى مِنْهُمْ أَحَدٌ إِلاَّ أَكَلَ الرِّبَا فَمَنْ لَمْ يَأْكُلْ أَصَابَهُ مِنْ غُبَارِهِ " .
#2279
Sahih
It was narrated from Ibn Mas'ud that the Prophet (ﷺ) said:"There is no one who deals in usury a great deal (to increase his wealth) but he will end up with little (i.e., his wealth will be decreased)
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے بھی سود سے مال بڑھایا، اس کا انجام یہ ہوتا ہے کہ اس کا مال گھٹ جاتا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ رُكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ عَمِيلَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " مَا أَحَدٌ أَكْثَرَ مِنَ الرِّبَا إِلاَّ كَانَ عَاقِبَةُ أَمْرِهِ إِلَى قِلَّةٍ " .
#2280
Sahih
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"When the Prophet (ﷺ) came (to Al-Madinah), they used to pay in advance for dates, two or three years in advance. He said: 'Whoever pays in advance for dates, let him pay for a known amount or a known weight, to be delivered at a known time.’”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے، اس وقت اہل مدینہ دو سال اور تین سال کی قیمت پہلے ادا کر کے کھجور کی بیع سلف کیا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کھجور میں بیع سلف کرے یعنی قیمت پیشگی ادا کر دے تو اسے چاہیئے کہ یہ بیع متعین ناپ تول اور مقررہ میعاد پر کرے ۱؎۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَهُمْ يُسْلِفُونَ فِي التَّمْرِ السَّنَتَيْنِ وَالثَّلاَثَ فَقَالَ " مَنْ أَسْلَفَ فِي تَمْرٍ فَلْيُسْلِفْ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ " .
#2281
Daif
It was narrated from Muhammad bin Hamzah bin Yusuf bin 'Abdullah bin Salam, from his father, that his grandfather 'Abdullah bin Salam said:"A man came to the Prophet (ﷺ) and said, 'The tribe of Banu so-and- so, who were descended from the Jews, have become Muslim, and they are starving, and I am afraid that they may apostatize.' The Prophet (ﷺ) said: 'Who has something with him?' A Jewish man said: 'I have such and such, and he named it, and I think he said three hundred Dinar for such and such 'an amount (of produce) from the garden of the tribe of Banu so-and-so.' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'For such and such a price at such and such a time, but not from the garden of the tribe of Banu so-and- so
عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اور اس نے آ کر عرض کیا: فلاں قبیلہ کے یہودی مسلمان ہو گئے ہیں، اور وہ بھوک میں مبتلا ہیں، مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ مرتد نہ ہو جائیں، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی کے پاس کچھ نقدی ہے ( کہ وہ ہم سے بیع سلم کرے ) ؟ ایک یہودی نے کہا: میرے پاس اتنا اور اتنا ہے، اس نے کچھ رقم کا نام لیا، میرا خیال ہے کہ اس نے کہا: میرے پاس تین سو دینار ہیں، اس کے بدلے میں بنی فلاں کے باغ اور کھیت سے اس اس قیمت سے غلہ لوں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیمت اور مدت کی تعیین تو منظور ہے لیکن فلاں کے باغ اور کھیت کی جو شرط تم نے لگائی ہے وہ منظور نہیں ۱؎۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْزَةَ بْنِ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلاَمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلاَمٍ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ إِنَّ بَنِي فُلاَنٍ أَسْلَمُوا - لِقَوْمٍ مِنَ الْيَهُودِ - وَإِنَّهُمْ قَدْ جَاعُوا فَأَخَافُ أَنْ يَرْتَدُّوا . فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَنْ عِنْدَهُ " . فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ عِنْدِي كَذَا وَكَذَا - لِشَىْءٍ قَدْ سَمَّاهُ أُرَاهُ قَالَ ثَلاَثُمِائَةِ دِينَارٍ بِسِعْرِ كَذَا وَكَذَا مِنْ حَائِطِ بَنِي فُلاَنٍ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " بِسِعْرِ كَذَا وَكَذَا إِلَى أَجَلِ كَذَا وَكَذَا وَلَيْسَ مِنْ حَائِطِ بَنِي فُلاَنٍ " .
#2282
Sahih
It was narrated that Abu Mujalid said:"Abdullah bin Shaddad and Abu Barzah had a dispute about paying in advance. They sent me to 'Abdullah bin Abu Awfa to ask him about it. He said: 'We used to make payments in advance at the time of the Messenger of Allah (ﷺ) and the time of Abu Bakr and 'Umar, for wheat, barley, raisins and dates, to people who did not yet possess those things.' I asked Ibn Abza, and he said something similar
عبداللہ بن ابی مجالد کہتے ہیں کہ عبداللہ بن شداد اور ابوبرزہ رضی اللہ عنہما کے درمیان بیع سلم کے سلسلہ میں جھگڑا ہو گیا، انہوں نے مجھے عبداللہ ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا، میں نے جا کر ان سے اس کے سلسلے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں اور ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما کے عہد میں گیہوں، جو، کشمش اور کھجور میں ایسے لوگوں سے بیع سلم کرتے تھے جن کے پاس اس وقت مال نہ ہوتا، پھر میں نے ابن ابزیٰ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا، تو انہوں نے بھی ایسے ہی کہا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، - قَالَ يَحْيَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ، وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنِ ابْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ، - قَالَ امْتَرَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ وَأَبُو بُرْدَةَ فِي السَّلَمِ فَأَرْسَلُونِي إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ كُنَّا نُسْلِمُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَعَهْدِ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ فِي الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ عِنْدَ قَوْمٍ مَا عِنْدَهُمْ . فَسَأَلْتُ ابْنَ أَبْزَى فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ .
#2283
Daif
It was narrated from Abu Sa'eed that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"When you have paid in advance for something, do not exchange it for something else." (Da'if)Another chain with similar wording
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کسی چیز میں بیع سلف کرو تو اسے کسی اور چیز کی طرف نہ پھیرو ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ خَيْثَمَةَ، عَنْ سَعْدٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِذَا أَسْلَفْتَ فِي شَىْءٍ فَلاَ تَصْرِفْهُ إِلَى غَيْرِهِ " . حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ زِيَادِ بْنِ خَيْثَمَةَ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَذَكَرَ مِثْلَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ سَعْدًا .
#2284
Daif
It was narrated that Najrani said:"I said to 'Abdullah bin 'Umar: 'Can I pay in advance for a date palm before it bears fruit?' He said: 'No.' I said: 'Why not?' He said: 'A man paid in advance for a grove of trees during the time of the Messenger of Allah (ﷺ), before they had produced any fruit, and they did not bear anything that year. The purchaser said: 'They belong to me until they produce but the seller said: 'I only sold the trees to you for this year! They referred their dispute to the Messenger of Allah who said to the seller: 'Did he take anything from your date palms?' He said: 'No.' He said: 'Then why do you regard his wealth as lawful for You? Give back what you took from him, and do not take payment in advance for date palms until their usefulness appears
نجرانی کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: کیا میں کسی درخت کے کھجور کی ان کے پھلنے سے پہلے بیع سلم کروں؟ انہوں نے کہا: نہیں، میں نے کہا: کیوں؟ کہا: ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں کھجور کے ایک باغ کے پھلوں میں ان کے پھلنے سے پہلے بیع سلم کی، لیکن اس سال کھجور کے درخت میں پھل آیا ہی نہیں، تو خریدار نے کہا: یہ درخت میرے رہیں گے جب تک ان میں کھجور نہ پھلے، اور بیچنے والے نے کہا: میں نے تو صرف اسی سال کا کھجور تیرے ہاتھ بیچا تھا، چنانچہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں معاملہ لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیچنے والے سے کہا: کیا اس نے تمہارے کھجور کے درختوں سے کچھ پھل لیے ؟ وہ بولا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تم کس چیز کے بدلے اس کا مال اپنے لیے حلال کرو گے، جو تم نے اس سے لیا ہے، اسے واپس کرو اور آئندہ کھجور کے درختوں میں بیع سلم اس وقت تک نہ کرو جب تک اس کے پھل استعمال کے لائق نہ ہو جائیں ۔
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ النَّجْرَانِيِّ، قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أُسْلِمُ فِي نَخْلٍ قَبْلَ أَنْ يُطْلِعَ قَالَ لاَ . قُلْتُ لِمَ قَالَ إِنَّ رَجُلاً أَسْلَمَ فِي حَدِيقَةِ نَخْلٍ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَبْلَ أَنْ يُطْلِعَ النَّخْلُ فَلَمْ يُطْلِعِ النَّخْلُ شَيْئًا ذَلِكَ الْعَامَ فَقَالَ الْمُشْتَرِي هُوَ لِي حَتَّى يُطْلِعَ . وَقَالَ الْبَائِعُ إِنَّمَا بِعْتُكَ النَّخْلَ هَذِهِ السَّنَةَ . فَاخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ لِلْبَائِعِ " أَخَذَ مِنْ نَخْلِكَ شَيْئًا " . قَالَ لاَ . قَالَ " فَبِمَ تَسْتَحِلُّ مَالَهُ ارْدُدْ عَلَيْهِ مَا أَخَذْتَ مِنْهُ وَلاَ تُسْلِمُوا فِي نَخْلٍ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاَحُهُ " .
#2285
Sahih
It was narrated from Abu Rafi' that:the Prophet (ﷺ) asked a man to give as a loan a young camel and said: “When the camels of the Sadaqah come, we will pay you back.” When the camels came, he said: " O Abu Rafi', pay this man back for his Young camel." But all I could find was a seven-year-old camel or that which is better. I told the Prophet (ﷺ) and he said: "Give it to him, for the best of People are those who are best in repaying
ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے ایک جوان اونٹ کی بیع سلم کی یعنی اسے قرض کے طور پر لیا، اور فرمایا: جب صدقہ کے اونٹ آئیں گے تو ہم تمہارا اونٹ کا قرض ادا کر دیں گے ، چنانچہ جب صدقہ کے اونٹ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابورافع! اس کے اونٹ کا قرض ادا کر دو ، ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے ڈھونڈا تو مجھے ویسا اونٹ نہیں ملا، سوائے ایک ایسے اونٹ کے جس نے اپنے سامنے کے چاروں دانت گرا رکھے تھے، جو اس کے اونٹ سے بہتر تھا، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی کو دے دو کیونکہ لوگوں میں بہتر وہ ہے جو اپنے قرض کی ادائیگی میں بہتر ہو ۱؎۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ اسْتَسْلَفَ مِنْ رَجُلٍ بَكْرًا وَقَالَ " إِذَا جَاءَتْ إِبِلُ الصَّدَقَةِ قَضَيْنَاكَ " . فَلَمَّا قَدِمَتْ قَالَ " يَا أَبَا رَافِعٍ اقْضِ هَذَا الرَّجُلَ بَكْرَهُ " . فَلَمْ أَجِدْ إِلاَّ رَبَاعِيًا فَصَاعِدًا فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ " أَعْطِهِ فَإِنَّ خَيْرَ النَّاسِ أَحْسَنُهُمْ قَضَاءً " .
#2286
Sahih
Sa'eed bin Hani' said:"I heard 'Irbad bin Sariyah say: 'I was with the Prophet (ﷺ) and a Bedouin said: "Pay me back for my young camel, and he gave him an older (i.e., better) camel." He said: 'O Messenger of Allah! It is older (i.e., better) than my camel.' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'The best of people are those who are best in repaying
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ هَانِئٍ، قَالَ سَمِعْتُ الْعِرْبَاضَ بْنَ سَارِيَةَ، يَقُولُ كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ اقْضِنِي بَكْرِي . فَأَعْطَاهُ بَعِيرًا مُسِنًّا فَقَالَ الأَعْرَابِيُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا أَسَنُّ مِنْ بَعِيرِي . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " خَيْرُ النَّاسِ خَيْرُهُمْ قَضَاءً " .
#2287
Sahih
It was narrated that Sa'ib said to the Prophet (ﷺ):"You were my partner during the Ignorance period and you were the best of partners, you did not contend or dispute
سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! زمانہ جاہلیت میں آپ میرے شریک تھے، تو آپ بہت بہترین شریک ثابت ہوئے نہ آپ میری مخالفت کرتے تھے نہ جھگڑتے تھے ۱؎۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، وَأَبُو بَكْرٍ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ قَائِدِ السَّائِبِ، عَنِ السَّائِبِ، قَالَ لِلنَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كُنْتَ شَرِيكِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَكُنْتَ خَيْرَ شَرِيكٍ كُنْتَ لاَ تُدَارِينِي وَكُنْتَ لاَ تُمَارِينِي .
#2288
Daif
It was narrated that 'Abdullah said:"Sa'd, 'Ammar and I entered into a partnership on the day of Badr, (agreeing to share) whatever was allotted to us. 'Ammar and I did not get anything, but Sa'd got two men (slaves)
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں سعد اور عمار تینوں بدر کے دن مال غنیمت میں شریک ہوئے، تو مجھ کو اور عمار کو کچھ نہ ملا، البتہ سعد کافروں کے دو آدمی پکڑ لائے۔
حَدَّثَنَا أَبُو السَّائِبِ، سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ اشْتَرَكْتُ أَنَا وَسَعْدٌ، وَعَمَّارٌ، يَوْمَ بَدْرٍ فِيمَا نُصِيبُ فَلَمْ أَجِئْ أَنَا وَلاَ عَمَّارٌ بِشَىْءٍ وَجَاءَ سَعْدٌ بِرَجُلَيْنِ .
#2289
Very Daif
lt was narrated from Salih bin Suhaib that his father said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'There are three things in which there is blessing: A sale with deferred payment; Muqaradhah (profit sharing); and mixing wheat with barley for one's house, but not for sale
صہیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین چیزوں میں برکت ہے: پہلی یہ کہ مقررہ مدت کے وعدے پر بیع کرنے میں، دوسری: مضاربت میں، تیسری: گیہوں اور جو ملانے میں جو کہ گھر کے کھانے کے لیے ہو، نہ کہ بیچنے کے لیے ۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ ثَابِتٍ الْبَزَّارُ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ دَاوُدَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " ثَلاَثٌ فِيهِنَّ الْبَرَكَةُ الْبَيْعُ إِلَى أَجَلٍ وَالْمُقَارَضَةُ وَإِخْلاَطُ الْبُرِّ بِالشَّعِيرِ لِلْبَيْتِ لاَ لِلْبَيْعِ " .
#2290
Sahih
It was narrated from 'Aishah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"The best of your provision is what you earn, and your children are part of what you earn
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے کھانوں میں سب سے پاکیزہ کھانا وہ ہے جو تمہارے ہاتھ کی کمائی کا ہو، اور تمہاری اولاد بھی تمہاری ایک قسم کی کمائی ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَمَّتِهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلْتُمْ مِنْ كَسْبِكُمْ وَإِنَّ أَوْلاَدَكُمْ مِنْ كَسْبِكُمْ " .
#2291
Sahih
It was narrated from Jabir bin 'Abdullah that a man said:"O Messenger of Allah, I have wealth and a son, and my father wants to take all my wealth." He said: "You and your wealth belong to your father
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! میرے پاس مال اور اولاد دونوں ہیں، اور میرے والد میرا مال ختم کرنا چاہتے ہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اور تمہارا مال دونوں تمہارے والد کے ہیں ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَجُلاً، قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي مَالاً وَوَلَدًا وَإِنَّ أَبِي يُرِيدُ أَنْ يَجْتَاحَ مَالِي فَقَالَ " أَنْتَ وَمَالُكَ لأَبِيكَ " .
#2292
Sahih
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib, from his father, that his grandfather said:"A man came to the Messenger of Allah (ﷺ), and said: 'My father is taking all my wealth.' He said: 'You and your wealth belong to your father.' And the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Your children are among the best of your earnings, so eat from your wealth.’”
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: میرے والد نے میری دولت ختم کر دی ( اس کے بارے میں فرمائیں؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اور تمہاری دولت دونوں تمہارے والد کے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری اولاد تمہاری بہترین کمائی ہے لہٰذا تم ان کے مال میں سے کھاؤ ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ إِنَّ أَبِي اجْتَاحَ مَالِي . فَقَالَ " أَنْتَ وَمَالُكَ لأَبِيكَ " . وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّ أَوْلاَدَكُمْ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِكُمْ فَكُلُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ " .
#2293
Sahih
It was narrated that 'Aishah said:'Hind came to the Prophet (ﷺ) and said: 'O Messenger of Allah, Abu Sufyan is a stingy man and he does not give me enough for me and my child, except for what I take from his wealth without him realizing.' He said: Take what is sufficient for you and your child, on a reasonable basis
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہند رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئیں، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ابوسفیان بخیل آدمی ہیں، مجھے اتنا نہیں دیتے جو مجھے اور میری اولاد کے لیے کافی ہو سوائے اس کے جو میں ان کی لاعلمی میں ان کے مال میں سے لے لوں ( اس کے بارے میں فرمائیں؟ ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مناسب انداز سے اتنا لے لو جو تمہیں اور تمہاری اولاد کے لیے کافی ہو ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَأَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ قَالُوا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ جَاءَتْ هِنْدٌ إِلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ وَلاَ يُعْطِينِي مَا يَكْفِينِي وَوَلَدِي إِلاَّ مَا أَخَذْتُ مِنْ مَالِهِ وَهُوَ لاَ يَعْلَمُ . فَقَالَ " خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ " .
#2294
Sahih
It was narrated from 'Aishah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"When a woman spends" and my father said: - "When a woman feeds (the poor) from her husband's house, without spending too much, she will have her reward, and he will be rewarded likewise because he earned it , and she will be rewarded for what she spent. The same applies to the storekeeper, without anything being detracted from their rewards.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب عورت اپنے شوہر کے گھر میں سے خرچ کرے ( کی روایت میں خرچ کرے کے بجائے جب عورت کھلائے ہے ) اور اس کی نیت مال برباد کرنے کی نہ ہو تو اس کے لیے اجر ہو گا، اور شوہر کو بھی اس کی کمائی کی وجہ سے اتنا ہی اجر ملے گا، اور عورت کو خرچ کرنے کی وجہ سے، اور خازن کو بھی اتنا ہی اجر ملے گا بغیر اس کے کہ ان کے اجر میں کچھ کمی ہو ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِذَا أَنْفَقَتِ الْمَرْأَةُ - وَقَالَ أَبِي فِي حَدِيثِهِ إِذَا أَطْعَمَتِ الْمَرْأَةُ - مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ كَانَ لَهَا أَجْرُهَا وَلَهُ مِثْلُهُ بِمَا اكْتَسَبَ وَلَهَا بِمَا أَنْفَقَتْ وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِكَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُوِرِهِمْ شَيْئًا " .
#2295
Hasan
Shurahbil bin Muslim Al-Khawlani said:I heard Abu Umamah Al-Bahili say: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: " No woman should spend anything from her house without her husband's permission." They said: "O Messenger of Allah, not even food?" He said: "That is among the best of our wealth
ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: عورت اپنے گھر میں سے اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر کچھ خرچ نہ کرے لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کھانا بھی کسی کو نہ دے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، کھانا بھی نہ دے، یہ تو ہمارے مالوں میں سب سے بہتر مال ہے ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَوْلاَنِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " لاَ تُنْفِقُ الْمَرْأَةُ مِنْ بَيْتِهَا شَيْئًا إِلاَّ بِإِذْنِ زَوْجِهَا " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلاَ الطَّعَامَ قَالَ " ذَلِكَ أَفْضَلُ أَمْوَالِنَا " .
#2296
Daif
It was narrated from Muslim Al-Mula'i that he heard Anas bin Malik say:"The Messenger of Allah (ﷺ) used to accept the invitation of a slave
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غلام کی دعوت قبول کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ح وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُسْلِمٍ الْمُلاَئِيِّ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يُجِيبُ دَعْوَةَ الْمَمْلُوكِ .
#2297
Sahih
It was narrated that 'Umair, the freed slave of Aabi Lahm, said:"My master used to give me food and I would feed others from it, then he stopped me," or he said: "He beat me. So I asked the Prophet,” -or- "he asked him and I said: 'I will not stop.' He said: 'Both of you will be rewarded
عمیر مولی آبی اللحم رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرے مالک مجھے کوئی چیز دیتے تو میں اس میں سے اوروں کو بھی کھلا دیتا تھا تو انہوں نے مجھ کو ایسا کرنے سے روکا یا کہا: انہوں نے مجھے مارا، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا اسی مالک نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: میں نے عرض کیا: میں اس سے باز نہیں آ سکتا، یا میں اسے چھوڑ نہیں سکتا ( کہ مسکین کو کھانا نہ کھلاؤں ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں کو اس کا اجر ملے گا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عُمَيْرٍ، - مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ - قَالَ كَانَ مَوْلاَىَ يُعْطِينِي الشَّىْءَ فَأُطْعِمُ مِنْهُ فَمَنَعَنِي - أَوْ قَالَ فَضَرَبَنِي - فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَوْ سَأَلَهُ فَقُلْتُ لاَ أَنْتَهِي أَوْ لاَ أَدَعُهُ . فَقَالَ " الأَجْرُ بَيْنَكُمَا " .
#2298
Sahih
It was narrated that Abu Bishr Ja'far bin Abu Jyas said:“I heard 'Abbad bin Shurahbil, a man from Banu Ghubar, say: ‘We suffered a year of famine, and I came to Al-Madinah. I came to one of its gardens and took an ear of corn, I rubbed it, ate some and put the rest in my garment. The owner of the garden came and beat me and took my garment. I came to the Prophet (ﷺ) and told him (what had happened). He said to the man: "You did not feed him when he was hungry and you did not teach him when he was ignorant."' Then the Prophet (ﷺ) told him to give back his garment and ordered that a Wasq or half a Wasq of food be brought to him
ابوبشر جعفر بن أبی ایاس کہتے ہیں میں نے عباد بن شرحبیل رضی اللہ عنہ جو بنی غبر کے ایک فرد ہیں کو کہتے سنا کہ ایک سال قحط ہوا تو میں مدینہ آیا، وہاں اس کے باغوں میں سے ایک باغ میں گیا، اور اناج کی ایک بالی اٹھا لی، اور مل کر اس میں سے کچھ کھایا، اور کچھ اپنے کپڑے میں رکھ لیا، اتنے میں باغ کا مالک آ گیا، اس نے مجھے مارا اور میرا کپڑا چھین لیا، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے واقعہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باغ والے سے کہا: تم نے اس کو کھانا نہیں کھلایا جبکہ یہ بھوکا تھا، اور نہ تم نے اس کو تعلیم دی جبکہ یہ جاہل تھا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے کپڑے واپس کرنے اور ساتھ ہی ایک وسق یا نصف وسق غلہ دینے کا حکم دیا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبَّادَ بْنَ شُرَحْبِيلَ، - رَجُلاً مِنْ بَنِي غُبَرَ - قَالَ أَصَابَنَا عَامُ مَخْمَصَةٍ فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَأَتَيْتُ حَائِطًا مِنْ حِيطَانِهَا فَأَخَذْتُ سُنْبُلاً فَفَرَكْتُهُ وَأَكَلْتُهُ وَجَعَلْتُهُ فِي كِسَائِي فَجَاءَ صَاحِبُ الْحَائِطِ فَضَرَبَنِي وَأَخَذَ ثَوْبِي فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ لِلرَّجُلِ " مَا أَطْعَمْتَهُ إِذْ كَانَ جَائِعًا أَوْ سَاغِبًا وَلاَ عَلَّمْتَهُ إِذْ كَانَ جَاهِلاً " . فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَرَدَّ إِلَيْهِ ثَوْبَهُ وَأَمَرَ لَهُ بِوَسْقٍ مِنْ طَعَامٍ أَوْ نِصْفِ وَسْقٍ .
#2299
Daif
It was narrated that Rafi' bin 'Amr Al-Ghifari said:"When I was a boy, I used to throw stones at our date-palm trees"[1] - or he said: "the date-palm trees of the Ansar." I was brought to the Prophet (ﷺ) and he said: 'O boy' - (one of the narrators) Ibn Kasib said: He said: 'O my son - why are you throwing stones at the date-palm trees?' I said: 'So I can eat.' He said: 'Do not throw stones at the date-palm trees. Eat from what falls to the ground from them.' Then he patted me on the head and said: 'O Allah give him enough to eat.'”
رافع بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اور ایک لڑکا دونوں مل کر اپنے یا انصار کے کھجور کے درخت پر پتھر مار رہے تھے، تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لڑکے! ( ابن کاسب کا قول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا: میرے بیٹے! ) تم کیوں کھجور کے درختوں پر پتھر مارتے ہو ؟، رافع بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ میں ( کھجور ) کھاؤں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: درختوں پر پتھر نہ مارو جو نیچے گرے ہوں انہیں کھاؤ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: اے اللہ! اسے آسودہ کر دے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَيَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي الْحَكَمِ الْغِفَارِيَّ، قَالَ حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي، عَنْ عَمِّ، أَبِيهَا رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ قَالَ كُنْتُ وَأَنَا غُلاَمٌ، أَرْمِي نَخْلَنَا - أَوْ قَالَ نَخْلَ الأَنْصَارِ - فَأُتِيَ بِيَ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ " يَا غُلاَمُ - وَقَالَ ابْنُ كَاسِبٍ فَقَالَ يَا بُنَىَّ - لِمَ تَرْمِي النَّخْلَ " . قَالَ قُلْتُ آكُلُ . قَالَ " فَلاَ تَرْمِي النَّخْلَ وَكُلْ مِمَّا يَسْقُطُ فِي أَسَافِلِهَا " . قَالَ ثُمَّ مَسَحَ رَأْسِي وَقَالَ " اللَّهُمَّ أَشْبِعْ بَطْنَهُ " .
#2300
Sahih
It was narrated from Abu Sa'eed that the Prophet (ﷺ) said:"When you come to a shepherd, call him three times. If he answers (all well and good), otherwise drink (milk from the flock) without taking advantage. And when you come to a garden call the owner of the garden three times. If he answers (all well and good), otherwise eat (from the produce of the garden) without taking advantage
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کسی چرواہے کے پاس آؤ تو تین بار اسے آواز دو، اگر وہ جواب دے تو بہتر، ورنہ اپنی ضرورت کے مطابق بغیر خراب کئے دودھ دوہ کر پی لو، اور جب تم کسی باغ میں آؤ تو باغ والے کو تین بار آواز دو، اگر وہ جواب دے تو بہتر، ورنہ اپنی ضرورت کے مطابق پھل توڑ کر کھا لو، البتہ خراب مت کرو ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " إِذَا أَتَيْتَ عَلَى رَاعٍ فَنَادِهِ ثَلاَثَ مِرَارٍ فَإِنْ أَجَابَكَ وَإِلاَّ فَاشْرَبْ فِي غَيْرِ أَنْ تُفْسِدَ وَإِذَا أَتَيْتَ عَلَى حَائِطِ بُسْتَانٍ فَنَادِ صَاحِبَ الْبُسْتَانِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَإِنْ أَجَابَكَ وَإِلاَّ فَكُلْ فِي أَنْ لاَ تُفْسِدَ " .