#201
Sahih
It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said:The Messenger of Allah used to appear before the people during the Hajj season and say: 'Is there any man who can take me to his people, for the Quraish have prevented me from conveying the speech (i.e. the Message) of my Lord
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج کے دنوں میں اپنے آپ کو لوگوں کے سامنے پیش کرتے اور فرماتے: کیا کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو مجھے اپنی قوم میں لے جائے؟ اس لیے کہ قریش نے مجھے اپنے رب کے کلام کی تبلیغ سے روک دیا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عُثْمَانَ، - يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ الثَّقَفِيَّ - عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَعْرِضُ نَفْسَهُ عَلَى النَّاسِ فِي الْمَوْسِمِ فَيَقُولُ " أَلاَ رَجَلٌ يَحْمِلُنِي إِلَى قَوْمِهِ فَإِنَّ قُرَيْشًا قَدْ مَنَعُونِي أَنْ أُبَلِّغَ كَلاَمَ رَبِّي " .
#202
Hasan
It was narrated from Abu Darda' that:The Prophet said concerning the Verse: "Every day He is (engaged) in some affair." "His affairs include forgiving sins, relieving distress, raising some people and bringing others low
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے فرمان: «كل يوم هو في شأن» وہ ذات باری تعالیٰ ہر روز ایک نئی شان میں ہے ( سورة الرحمن: 29 ) کے سلسلے میں بیان فرمایا: اس کی شان میں سے یہ ہے کہ وہ کسی کے گناہ کو بخش دیتا ہے، کسی کی مصیبت کو دور کرتا ہے، کسی قوم کو بلند اور کسی کو پست کرتا ہے ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَزِيرُ بْنُ صَبِيحٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ حَلْبَسٍ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى {كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ} . قَالَ " مِنْ شَأْنِهِ أَنْ يَغْفِرَ ذَنْبًا وَيُفَرِّجَ كَرْبًا وَيَرْفَعَ قَوْمًا وَيَخْفِضَ آخَرِينَ " .
#203
Sahih
It was narrated from Mundhir bin Jarir that his father said:"The Messenger of Allah said: 'Whoever introduces a good practice that is followed, he will receive its reward and a reward equivalent to that of those who follow it, without that detracting from their reward in their slightest. And whoever introduces a bad practice that is followed, he will receive its sin and a burden of sin equivalent to that of those who follow it, without that detracting from their burden in the slightest
جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کوئی اچھا طریقہ ایجاد کیا اور اس پر لوگوں نے عمل کیا تو اسے اس کے ( عمل ) کا اجر و ثواب ملے گا، اور اس پر جو لوگ عمل کریں ان کے اجر کے برابر بھی اسے اجر ملتا رہے گا، اس سے ان عمل کرنے والوں کے ثواب میں کوئی کمی نہ ہو گی، اور جس نے کوئی برا طریقہ ایجاد کیا اس پر اور لوگوں نے عمل کیا تو اس کے اوپر اس کا گناہ ہو گا، اور اس پر عمل کرنے والوں کا گناہ بھی اسی پر ہو گا، اور ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہیں ہو گی ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً فَعُمِلَ بِهَا كَانَ لَهُ أَجْرُهَا وَمِثْلُ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا لاَ يَنْقُصُ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا وَمَنْ سَنَّ سُنَّةً سَيِّئَةً فَعُمِلَ بِهَا كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ لاَ يَنْقُصُ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْئًا " .
#204
Sahih
It was narrated that Abu Hurairah said:"A man came to the Prophet, who encouraged the people to give charity to him. A man said: 'I have such and such,' and there was no one left in that gathering who did not give him something in charity, to a greater or lesser extent. The Messenger of Allah said: 'Whoever initiates a good practice that is followed, he will receive a perfect reward for that, and a reward equivalent to that of those who follow it, without that detracting from their reward in the slightest. And whoever introduces a bad practice that is followed, he will receive the complete burden of sin for that, and a burden of sin equivalent to that of those who follow it without that detracting from their burden in the slightest
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس پر صدقہ و خیرات کرنے کی ترغیب دلائی، ایک صحابی نے کہا: میرے پاس اتنا اتنا مال ہے، راوی کہتے ہیں: اس مجلس میں جو بھی تھا اس نے تھوڑا یا زیادہ ضرور اس پر صدقہ کیا، تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے کوئی اچھی سنت جاری کی اور لوگوں نے اس پر عمل کیا تو اسے اس کے عمل کا پورا ثواب ملے گا، اور ان لوگوں کا ثواب بھی اس کو ملے گا جو اس سنت پر چلے، ان کے ثوابوں میں کوئی کمی بھی نہ کی جائے گی، اور جس نے کوئی غلط طریقہ جاری کیا، اور لوگوں نے اس پر عمل کیا، تو اس پر اس کا پورا گناہ ہو گا، اور ان لوگوں کا گناہ بھی اس پر ہو گا جنہوں نے اس غلط طریقہ پر عمل کیا، اور اس سے عمل کرنے والوں کے گناہوں میں کچھ بھی کمی نہ ہو گی ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَحَثَّ عَلَيْهِ فَقَالَ رَجُلٌ عِنْدِي كَذَا وَكَذَا . قَالَ فَمَا بَقِيَ فِي الْمَجْلِسِ رَجُلٌ إِلاَّ تَصَدَّقَ عَلَيْهِ بِمَا قَلَّ أَوْ كَثُرَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَنِ اسْتَنَّ خَيْرًا فَاسْتُنَّ بِهِ كَانَ لَهُ أَجْرُهُ كَامِلاً وَمِنْ أُجُورِ مَنِ اسْتَنَّ بِهِ وَلاَ يَنْقُصُ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا وَمَنِ اسْتَنَّ سُنَّةً سَيِّئَةً فَاسْتُنَّ بِهِ فَعَلَيْهِ وِزْرُهُ كَامِلاً وَمِنْ أَوْزَارِ الَّذِينَ اسْتَنَّ بِهِ وَلاَ يَنْقُصُ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْئًا " .
#205
Sahih
It was narrated from Anas bin Malik that:The Messenger of Allah said: "Every caller who invites people to misguidance and is followed, will have a burden of sin equal to that of those who follow him, without that detracting from their burden in the slightest. And every caller who invites people to true guidance and is followed, will have a reward equal to that of those who follow him, without that detracting from their reward in the slightest
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے لوگوں کو کسی گمراہی کی طرف بلایا، اور لوگ اس کے پیچھے ہو لیے تو اسے بھی اتنا ہی گناہ ہو گا جتنا اس کی پیروی کرنے والوں کو ہو گا، اور اس سے ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہ ہو گی، اور جس نے ہدایت کی طرف بلایا اور لوگ اس کے ساتھ ہو گئے، تو اسے بھی اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا اس کی پیروی کرنے والے کو اور اس سے اس کے ثواب میں کوئی کمی نہ ہو گی ۱؎۔
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنَّهُ قَالَ " أَيُّمَا دَاعٍ دَعَا إِلَى ضَلاَلَةٍ فَاتُّبِعَ فَإِنَّ لَهُ مِثْلَ أَوْزَارِ مَنِ اتَّبَعَهُ وَلاَ يَنْقُصُ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْئًا وَأَيُّمَا دَاعٍ دَعَا إِلَى هُدًى فَاتُّبِعَ فَإِنَّ لَهُ مِثْلَ أُجُورِ مَنِ اتَّبَعَهُ وَلاَ يَنْقُصُ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا " .
#206
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that:The Messenger of Allah said: "Whoever calls people to true guidance, will have a reward equal to that of those who follow him, without that detracting from their reward in the slightest. And whoever calls people to misguidance, will have a (burden of) sin equal to that of those who follow him, without that detracting from their sins in the slightest
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی ہدایت کی طرف بلائے تو اسے بھی اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا اس شخص کو ملے گا جس نے اس کی اتباع کی، اور اس سے ان کے ثواب میں کوئی کمی نہ ہو گی، اور جو کسی گمراہی کی طرف بلائے تو اسے بھی اتنا ہی گناہ ہو گا جتنا اس کی اتباع کرنے والوں کو ہو گا، اور اس سے ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہ ہو گی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ، مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى كَانَ لَهُ مِنَ الأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنِ اتَّبَعَهُ لاَ يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا وَمَنْ دَعَا إِلَى ضَلاَلَةٍ فَعَلَيْهِ مِنَ الإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنِ اتَّبَعَهُ لاَ يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ آثَامِهِمْ شَيْئًا " .
#207
Hasan Sahih
It was narrated that Abu Juhaifah said:"The Messenger of Allah said: 'Whoever introduces a good practice that is followed after him, will have a reward for that and the equivalent of their reward, without that detracting from their reward in the slightest. Whoever introduces an evil practice that is followed after him, will bear the burden of sin for that and the equivalent of their burden of sin, without that detracting from their burden in the slightest
ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے کوئی اچھی سنت جاری کی اور اس کے بعد لوگوں نے اس پر عمل کیا تو اسے اس کا اجر ملے گا، اور عمل کرنے والوں کے برابر بھی اجر ملے گا، اور عمل کرنے والوں کے ثواب سے کچھ بھی کمی نہ ہو گی، اور جس نے کوئی غلط طریقہ جاری کیا، اور اس کے بعد اس پر لوگوں نے عمل کیا تو اس پر اس کا گناہ ہو گا، اور عمل کرنے والوں کے مثل بھی گناہ ہو گا، اس سے عمل کرنے والوں کے گناہوں میں کچھ بھی کمی نہ ہو گی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْرَائِيلَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ كَانَ لَهُ أَجْرُهَا وَمِثْلُ أُجُورِهِمْ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا وَمَنْ سَنَّ سُنَّةً سَيِّئَةً فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهُ وَمِثْلُ أَوْزَارِهِمْ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْئًا " .
#208
Daif
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: 'There is no caller who invites people to a thing but on the Day of Resurrection he will be made to stand next to that to which he called others, even if he only called one another person
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی بھی کسی چیز کی طرف بلاتا ہے، قیامت کے دن اس حال میں کھڑا کیا جائے گا کہ وہ اپنی دعوت کو لازم پکڑے ہو گا، چاہے کسی ایک شخص نے ایک ہی شخص کو بلایا ہو ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَا مِنْ دَاعٍ يَدْعُو إِلَى شَىْءٍ إِلاَّ وُقِفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لاَزِمًا لِدَعْوَتِهِ مَا دَعَا إِلَيْهِ وَإِنْ دَعَا رَجُلٌ رَجُلاً " .
#209
Sahih
Kathir bin 'Abdullah bin 'Amr bin 'Awf Al-Muzani said:"My father told me narrating from my grandfather, that the Messenger of Allah said: 'Whoever revives a Sunnah of mine, which people then act upon, will have a reward equivalent to that of those who act upon it, without that detracting from their reward in the slightest. And whoever introduces an innovation (Bid'ah) that is acted upon, will have a burden of sins equivalent to that of those who act upon it, withot that detracting from the burden of those who act upon it in the slightest
عوف مزنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے میری سنتوں میں سے کسی سنت کو زندہ کیا، اور لوگوں نے اس پر عمل کیا تو اسے اتنا ثواب ملے گا جتنا اس پر عمل کرنے والوں کو ملے گا، اور اس سے عمل کرنے والوں کے ثواب میں سے کچھ بھی کمی نہ ہو گی، اور جس کسی نے کوئی بدعت ایجاد کی اور لوگوں نے اس پر عمل کیا تو اسے بھی اتنا ہی گناہ ملے گا جتنا اس پر عمل کرنے والوں کو ہو گا، اور اس پر عمل کرنے والوں کے گناہوں میں سے کچھ بھی کمی نہ ہو گی ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " مَنْ أَحْيَا سُنَّةً مِنْ سُنَّتِي فَعَمِلَ بِهَا النَّاسُ كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا لاَ يَنْقُصُ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا وَمَنِ ابْتَدَعَ بِدْعَةً فَعُمِلَ بِهَا كَانَ عَلَيْهِ أَوْزَارُ مَنْ عَمِلَ بِهَا لاَ يَنْقُصُ مِنْ أَوْزَارِ مَنْ عَمِلَ بِهَا شَيْئًا " .
#210
Very Daif
Kathir bin 'Abdullah narrated from his father, that his grandfather said:"I heard the Messenger of Allah say: 'Whoever revives a Sunnah of mine that dies out after I am gone, he will have a reward equivalent to that of those among the people who act upon it, without that detracting from their reward in the slightest. Whoever introduces an innovation (Bid'ah) with which Allah and his Messenger are not pleased, he will have a (burden of) sin equivalent to that of those among the people who act upon it, without that detracting from their sins in the slightest
عوف مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس شخص نے میری سنتوں میں سے کسی ایسی سنت کو زندہ کیا جو میرے بعد مردہ ہو چکی تھی تو اسے اتنا ثواب ملے گا جتنا اس پر عمل کرنے والوں کو ملے گا، اور ان کے ثوابوں میں کچھ کمی نہ ہو گی، اور جس نے کوئی ایسی بدعت ایجاد کی جسے اللہ اور اس کے رسول پسند نہیں کرتے ہیں تو اسے اتنا گناہ ہو گا جتنا اس پر عمل کرنے والوں کو ہو گا، اس سے ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہ ہو گی ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " مَنْ أَحْيَا سُنَّةً مِنْ سُنَّتِي قَدْ أُمِيتَتْ بَعْدِي فَإِنَّ لَهُ مِنَ الأَجْرِ مِثْلَ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنَ النَّاسِ لاَ يَنْقُصُ مِنْ أُجُورِ النَّاسِ شَيْئًا وَمَنِ ابْتَدَعَ بِدْعَةً لاَ يَرْضَاهَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ فَإِنَّ عَلَيْهِ مِثْلَ إِثْمِ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنَ النَّاسِ لاَ يَنْقُصُ مِنْ آثَامِ النَّاسِ شَيْئًا " .
#211
Sahih
It was narrated that 'Uthman bin 'Affan said that:The Messenger of Allah said: (According to one of the narrators) Shu'bah (he) said: 'The best of you' (and according to) Sufyan (he) said: "The most excellent of you is the one who learns the Qur'an and teaches it
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( شعبہ کہتے ہیں: ) تم میں سب سے بہتر ( کہا ) ، ( اور سفیان نے کہا: ) تم میں سب سے افضل ( کہا ) وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، وَسُفْيَانُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ شُعْبَةُ " خَيْرُكُمْ " . وَقَالَ سُفْيَانُ " أَفْضَلُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ " .
#212
Sahih
It was narrated that 'Uthmaan bin 'Affan said:"The Messenger of Allah said: 'The most excellent of you is the one who learns the Qur'an and teaches it
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سب سے افضل وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " أَفْضَلُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ " .
#213
Hasan Sahih
Mus'ab bin Sa'd narrated that his father said:"The Messenger of Allah said: 'The best of you is the one who learns the Qur'an and teaches it.' " 'Then he (Mus'ab) took me (the narrator) by the hand and made me sit here, and I started to teach Qur'an
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سب سے بہتر وہ لوگ ہیں جو قرآن سیکھیں اور سکھائیں ۔ عاصم کہتے ہیں: مصعب نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے میری اس جگہ پر بٹھایا تاکہ میں قرآن پڑھاؤں۔
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ نَبْهَانَ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " خِيَارُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ " . قَالَ وَأَخَذَ بِيَدِي فَأَقْعَدَنِي مَقْعَدِي هَذَا أُقْرِئُ .
#214
Sahih
It was narrated from Abu Musa Al-Ash'ari that:The Prophet said: "The likeness of the believer who recites the Qur'an is that of a citron, the taste and smell of which are good. The likeness of a believer who does not read the Qur'an is that of a date, the taste of which is good but it has no smell. The likeness of a hypocrite who reads the Qur'an is that of a sweet basil, the smell of which is good but its taste is bitter. And the likeness of a hypocrite who does not read the Qur'an is that of a colocynth (bitter apple), the taste of which is bitter and it has no smell
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن پڑھنے والے مومن کی مثال سنترے کی سی ہے کہ اس کا مزہ بھی اچھا ہے اور بو بھی اچھی ہے، اور قرآن نہ پڑھنے والے مومن کی مثال کھجور کی سی ہے کہ اس کا مزہ اچھا ہے لیکن کوئی بو نہیں ہے، اور قرآن پڑھنے والے منافق کی مثال ریحانہ ( خوشبودار گھاس وغیرہ ) کی سی ہے کہ اس کی بو اچھی ہے لیکن مزہ کڑوا ہے، اور قرآن نہ پڑھنے والے منافق کی مثال تھوہڑ ( اندرائن ) جیسی ہے کہ اس کا مزہ کڑوا ہے، اور اس میں کوئی خوشبو بھی نہیں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الأُتْرُجَّةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَرِيحُهَا طَيِّبٌ وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لاَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ التَّمْرَةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَلاَ رِيحَ لَهَا وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الرَّيْحَانَةِ رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي لاَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ طَعْمُهَا مُرٌّ وَلاَ رِيحَ لَهَا " .
#215
Daif
It was narrated that Anas bin Malik said:"The Messenger of Allah said: 'Allah has His own people among mankind.' They said: 'O Messenger of Allah, who are they?' He said: 'The people of the Qur'an, the people of Allah and those who are closest to Him
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سے کچھ اللہ والے ہیں ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ کون لوگ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ قرآن پڑھنے پڑھانے والے ہیں، جو اللہ والے اور اس کے نزدیک خاص لوگ ہیں ۱؎۔
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بُدَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّ لِلَّهِ أَهْلِينَ مِنَ النَّاسِ " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ هُمْ قَالَ " هُمْ أَهْلُ الْقُرْآنِ أَهْلُ اللَّهِ وَخَاصَّتُهُ " .
#216
Very Daif
It was narrated that 'Ali bin Abu Talib said:"The Messenger of Allah said: 'Whoever reads the Qur'an and memorizes it, Allah will admit him to Paradise and allow him to intercede for ten of his family members who all deserved to enter Hell
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے قرآن پڑھا اور اسے یاد کیا، اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا، اور اس کے اہل خانہ میں سے دس ایسے افراد کے سلسلے میں اس کی شفاعت قبول کرے گا جن پر جہنم واجب ہو چکی ہو گی ۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي عُمَرَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَاذَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ وَحَفِظَهُ أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ وَشَفَّعَهُ فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ كُلُّهُمْ قَدِ اسْتَوْجَبُوا النَّارَ " .
#217
Daif
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: 'Learn the Qur'an, recite it and go to bed, for the likeness of the Qur'an and the one who learns it and acts upon it is that of a sack filled with musk, which spreads its fragrance everywhere. And the likeness of one who learns it then goes to bed with it in his heart is that of a sack that is tied up from which no fragrance comes out
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن سیکھو اور اس کی تلاوت کرو، تب سوؤ کیونکہ قرآن اور اس کے سیکھنے والے اور رات کو قیام ( نماز تہجد ) میں قرآن پڑھنے والے کی مثال خوشبو بھری ہوئی تھیلی کی ہے جس کی خوشبو ہر طرف پھیل رہی ہو، اور اس شخص کی مثال جس نے قرآن سیکھا، مگر رات کو پڑھا نہیں ایسی خوشبو بھری تھیلی کی ہے جس کا منہ بندھا ہوا ہے ۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَوْدِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَطَاءٍ، مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ وَاقْرَءُوهُ وَارْقُدُوا فَإِنَّ مَثَلَ الْقُرْآنِ وَمَنْ تَعَلَّمَهُ فَقَامَ بِهِ كَمَثَلِ جِرَابٍ مَحْشُوٍّ مِسْكًا يَفُوحُ رِيحُهُ كُلَّ مَكَانٍ وَمَثَلُ مَنْ تَعَلَّمَهُ فَرَقَدَ وَهُوَ فِي جَوْفِهِ كَمَثَلِ جِرَابٍ أُوكِيَ عَلَى مِسْكٍ " .
#218
Sahih
It was narrated that Nafi' bin 'Abdul-Harith met 'Umar bin Khattab in 'Usfan, when 'Umar had appointed him as his governer in Makkah.:'Umar asked: "Whom have you appointed as your deputy over the people of the valley?" He said: "I have appointed Ibn Abza over them." 'Umar said: "Who is Ibn Abza?" Nafi' said: "One of our freed slaves." 'Umar said: "Have you appointed a freed slave over them?" Nafi' said: "He has great knowledge of the Book of Allah, is well versed in the rules of inheritance (Fara'id) and is a (good) judge." 'Umar said: "Did not your prophet say: 'Allah raises some people (in status) because of this book and brings others low because of it?
عامر بن واثلہ ابوالطفیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نافع بن عبدالحارث کی ملاقات عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے مقام عسفان میں ہوئی، عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے ان کو مکہ کا عامل بنا رکھا تھا، عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تم کس کو اہل وادی ( مکہ ) پر اپنا نائب بنا کر آئے ہو؟ نافع نے کہا: میں نے ان پر اپنا نائب ابن ابزیٰ کو مقرر کیا ہے، عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ابن ابزیٰ کون ہے؟ نافع نے کہا: ہمارے غلاموں میں سے ایک ہیں ۱؎، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے ان پہ ایک غلام کو اپنا نائب مقرر کر دیا؟ نافع نے عرض کیا: ابن ابزیٰ کتاب اللہ ( قرآن ) کا قاری، مسائل میراث کا عالم اور قاضی ہے، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر بات یوں ہے تو تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: اللہ تعالیٰ اس کتاب ( قرآن ) کے ذریعہ بہت سی قوموں کو سربلند، اور بہت سی قوموں کو پست کرتا ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ، مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ أَبِي الطُّفَيْلِ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ عَبْدِ الْحَارِثِ، لَقِيَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بِعُسْفَانَ - وَكَانَ عُمَرُ اسْتَعْمَلَهُ عَلَى مَكَّةَ - فَقَالَ عُمَرُ مَنِ اسْتَخْلَفْتَ عَلَى أَهْلِ الْوَادِي قَالَ اسْتَخْلَفْتُ عَلَيْهِمُ ابْنَ أَبْزَى . قَالَ وَمَنِ ابْنُ أَبْزَى قَالَ رَجُلٌ مِنْ مَوَالِينَا . قَالَ عُمَرُ فَاسْتَخْلَفْتَ عَلَيْهِمْ مَوْلًى قَالَ إِنَّهُ قَارِئٌ لِكِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى عَالِمٌ بِالْفَرَائِضِ قَاضٍ . قَالَ عُمَرُ أَمَا إِنَّ نَبِيَّكُمْ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " إِنَّ اللَّهَ يَرْفَعُ بِهَذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ " .
#219
Daif
It was narrated that Abu Dharr said:"The Messenger of Allah said to me: 'O Abu Dharr! For you to come out in the morning and learn one Verse from the Book of Allah is better for you than praying one hundred Rak'ah, and for you to come out and learn a matter of knowledge, whether it is acted upon or not, is better for you than praying one thousand Rak'ah
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ابوذر! اگر تم صبح کو قرآن کی ایک آیت بھی سیکھ لو تو تمہارے لیے سو رکعت پڑھنے سے بہتر ہے، اور اگر تم صبح علم کا ایک باب سیکھو خواہ اس پر عمل کیا جائے یا نہ کیا جائے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ تم ایک ہزار رکعت پڑھو ۱؎۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ غَالِبٍ الْعَبَّادَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ الْبَحْرَانِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " يَا أَبَا ذَرٍّ لأَنْ تَغْدُوَ فَتَعَلَّمَ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تُصَلِّيَ مِائَةَ رَكْعَةٍ وَلأَنْ تَغْدُوَ فَتَعَلَّمَ بَابًا مِنَ الْعِلْمِ عُمِلَ بِهِ أَوْ لَمْ يُعْمَلْ خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تُصَلِّيَ أَلْفَ رَكْعَةٍ " .
#220
Sahih
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: 'When Allah wills good for a person, He causes him to understand the religion
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جس کی بھلائی چاہتا ہے اسے دین میں فہم و بصیرت عنایت کر دیتا ہے ۔
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ " .
#221
Hasan
It was narrated that Yunus bin Maisarah bin Halbas said:"I heard Mu'awiyah bin Abu Sufyan narrating that the Messenger of Allah said: "Goodness is a (natural) habit while evil is a stubbornness (constant prodding from Satan). When Allah wills good for a person, He causes him to understand the religion
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خیر ( بھلائی ) انسان کی فطری عادت ہے، اور شر ( برائی ) نفس کی خصومت ہے، اللہ تعالیٰ جس کی بھلائی چاہتا ہے اسے دین میں بصیرت و تفقہ عطاء کرتا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ جَنَاحٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنَّهُ قَالَ " الْخَيْرُ عَادَةٌ وَالشَّرُّ لَجَاجَةٌ وَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ " .
#222
Mawdu
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah said: 'One Faqih (knowledgeable man) is more formidable against the Shaitan than one thousand devoted worshippers
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان پر ایک فقیہ ( عالم ) ہزار عابد سے بھاری ہے ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ جَنَاحٍ أَبُو سَعْدٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " فَقِيهٌ وَاحِدٌ أَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنْ أَلْفِ عَابِدٍ " .
#223
Sahih
It was narrated that Kathir bin Qais said:"I was sitting with Abu Darda' in the mosque of Damascus when a man came to him and said: 'O Abu Darda', I have come to you from Al-Madinah, the city of the Messenger of Allah, for a Hadith which I have heard that you narrate from the Prophet.' He said: 'Did you not come for trade?' He said: 'No.' He said: 'Did you not come for anything else?' He said: 'No.' He said: 'I heard the Messenger of Allah say: "Whoever follows a path in the pursuit of knowledge, Allah will make easy for him a path to Paradise. The angels lower their wings in approval of the seeker of knowledge, and everyone in the heavens and on earth prays for forgiveness for the seeker of knowledge, even the fish in the sea. The superiority of the scholar over the worshipper is like the superiority of the moon above all other heavenly bodies. The scholars are the heirs of the Prophets, for the Prophets did not leave behind a Dinar or Dirham, rather they left behind knowledge, so whoever takes it has taken a great share
کثیر بن قیس کہتے ہیں کہ میں ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے پاس دمشق کی مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ آپ کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: اے ابوالدرداء! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر مدینہ سے ایک حدیث کے لیے آیا ہوں، مجھے یہ خبر ملی ہے کہ آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ حدیث روایت کرتے ہیں؟! ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے پوچھا: آپ کی آمد کا سبب تجارت تو نہیں؟ اس آدمی نے کہا: نہیں، کہا: کوئی اور مقصد تو نہیں؟ اس آدمی نے کہا: نہیں، ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو شخص علم دین کی تلاش میں کوئی راستہ چلے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے، اور فرشتے طالب علم سے خوش ہو کر اس کے لیے اپنے بازو بچھا دیتے ہیں، آسمان و زمین کی ساری مخلوق یہاں تک کہ مچھلیاں بھی پانی میں طالب علم کے لیے مغفرت کی دعا کرتی ہیں، اور عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہی ہے جیسے چاند کی فضیلت سارے ستاروں پر، بیشک علماء ہی انبیاء کے وارث ہیں، اور انبیاء نے کسی کو دینار و درہم کا وارث نہیں بنایا بلکہ انہوں نے علم کا وارث بنایا ہے، لہٰذا جس نے اس علم کو حاصل کیا، اس نے ( علم نبوی اور وراثت نبوی سے ) پورا پورا حصہ لیا ۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ جَمِيلٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ أَبِي الدَّرْدَاءِ فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ أَتَيْتُكَ مِنَ الْمَدِينَةِ مَدِينَةِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ لِحَدِيثٍ بَلَغَنِي أَنَّكَ تُحَدِّثُ بِهِ عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ . قَالَ فَمَا جَاءَ بِكَ تِجَارَةٌ قَالَ لاَ . قَالَ وَلاَ جَاءَ بِكَ غَيْرُهُ قَالَ لاَ . قَالَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِنَّ الْمَلاَئِكَةَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَهَا رِضًا لِطَالِبِ الْعِلْمِ وَإِنَّ طَالِبَ الْعِلْمِ يَسْتَغْفِرُ لَهُ مَنْ فِي السَّمَاءِ وَالأَرْضِ حَتَّى الْحِيتَانِ فِي الْمَاءِ وَإِنَّ فَضْلَ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِ الْقَمَرِ عَلَى سَائِرِ الْكَوَاكِبِ إِنَّ الْعُلَمَاءَ هُمْ وَرَثَةُ الأَنْبِيَاءِ إِنَّ الأَنْبِيَاءَ لَمْ يُوَرِّثُوا دِينَارًا وَلاَ دِرْهَمًا إِنَّمَا وَرَّثُوا الْعِلْمَ فَمَنْ أَخَذَهُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ " .
#224
Very Daif
It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"Seeking knowledge is a duty upon every Muslim, and he who imparts knowledge to those who do not deserve it, is like one who puts a necklace of jewels, pearls and gold around the neck of swines
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علم دین حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے، اور نااہلوں و ناقدروں کو علم سکھانے والا سور کے گلے میں جواہر، موتی اور سونے کا ہار پہنانے والے کی طرح ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ شِنْظِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ وَوَاضِعُ الْعِلْمِ عِنْدَ غَيْرِ أَهْلِهِ كَمُقَلِّدِ الْخَنَازِيرِ الْجَوْهَرَ وَاللُّؤْلُؤَ وَالذَّهَبَ " .
#225
Sahih
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: 'Whoever relieves a Muslim of some worldly distress, Allah will relieve him of some of the distress of the Day of Resurrection, and whoever conceals (the faults of) a Muslim, Allah will conceal him (his faults) in this world and the Day of Resurrection. And whoever relives the burden from a destitute person, Allah will relieve him in this world and the next. Allah will help His slave so long as His slave helps his brother. Whoever follows a path in pursuit of knowledge, Allah will make easy fro him a path to paradise. No people gather in one of the houses of Allah, reciting the Book of Allah and teaching it to one another, but the angels will surround them, tranquility will descend upon them, mercy will envelop them and Allah will mention them to those who are with Him. And whoever is hindered because of his bad deeds, his lineage will be of no avail to him
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے کسی مسلمان کی دنیاوی پریشانیوں میں سے کسی پریشانی کو دور کر دیا، اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی پریشانیوں میں سے بعض پریشانیاں دور فرما دے گا، اور جس شخص نے کسی مسلمان کے عیب کو چھپایا اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کے عیب کو چھپائے گا، اور جس شخص نے کسی تنگ دست پر آسانی کی، اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس پر آسانی کرے گا، اور اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی مدد کرتا رہتا ہے جب تک وہ اپنے بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے، اور جو شخص علم دین حاصل کرنے کے لیے کوئی راستہ چلے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کے راستہ کو آسان کر دیتا ہے، اور جب بھی اللہ تعالیٰ کے کسی گھر میں کچھ لوگ اکٹھا ہو کر قرآن کریم پڑھتے ہیں یا ایک دوسرے کو پڑھاتے ہیں، تو فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں، اور ان پر سکینت نازل ہوتی ہے، انہیں رحمت ڈھانپ لیتی ہے اور اللہ تعالیٰ ان کا ذکر اپنے مقرب فرشتوں میں کرتا ہے، اور جس کے عمل نے اسے پیچھے کر دیا، تو آخرت میں اس کا نسب اسے آگے نہیں کر سکتا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ يَسَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ وَمَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ وَمَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللَّهِ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ إِلاَّ حَفَّتْهُمُ الْمَلاَئِكَةُ وَنَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ وَذَكَرَهُمُ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ وَمَنْ أَبْطَأَ بِهِ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ " .