#2176
Sahih
It was narrated from Jabir bin 'Abdullah that the Prophet (ﷺ) said:"A city-dweller should not sell for a Bedouin. Leave people to (engage in trade) and Allah will grant them provision through one another
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شہری باہر سے آنے والے دیہاتی کا مال نہ بیچے، لوگوں کو چھوڑ دو، ( خود بیچیں ) اللہ تعالیٰ بعض کو بعض سے روزی دیتا ہے ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " لاَ يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ دَعُوا النَّاسَ يَرْزُقُ اللَّهُ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ " .
#2177
Sahih
Ibn Tawus narrated from his father that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah (ﷺ) forbade a city-dweller to sell for a Bedouin." (Sahih)I (Tawus) said to Ibn 'Abbas: "What is meant by the words: 'A city-dweller selling for a Bedouin?' He said: "He should not be a broker for him
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہری کو دیہاتی کا مال بیچنے سے منع فرمایا ہے۔ طاؤس کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول: «حاضر لباد» کا کیا مفہوم ہے؟ تو انہوں نے کہا: بستی والا باہر والے کا دلال نہ بنے
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ . قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ مَا قَوْلُهُ حَاضِرٌ لِبَادٍ قَالَ لاَ يَكُونُ لَهُ سِمْسَارًا .
#2178
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:"Do not meet the traders on the way, and whoever meets any of them and buys from him, the vendor has the choice of annulling the transaction when he comes to the marketplace
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: باہر سے آنے والے سامان تجارت کو بازار میں پہنچنے سے پہلے نہ لیا کرو، اگر کوئی اس طرح خریداری کر لے، تو بازار میں آنے کے بعد صاحب مال کو اختیار ہو گا، چاہے تو اس بیع کو باقی رکھے اور چاہے تو فسخ ( منسوخ ) کر دے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " لاَ تَلَقَّوُا الأَجْلاَبَ فَمَنْ تَلَقَّى مِنْهُ شَيْئًا فَاشْتَرَى فَصَاحِبُهُ بِالْخِيَارِ إِذَا أَتَى السُّوقَ " .
#2179
Sahih
It was narrated that Ibn 'Umar said:"The Messenger of Allah (ﷺ) forbade meeting traders on the way
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باہر سے آنے والے سامان تجارت کو بازار میں پہنچنے سے پہلے آگے جا کر خرید لینے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنْ تَلَقِّي الْجَلَبِ .
#2180
Sahih
It was narrated that 'Abdullah bin Mas'ud said:"The Messenger of Allah (ﷺ) forbade. meeting the owners of goods (away from the market)
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال بیچنے والوں سے بازار میں پہنچنے سے پہلے آگے جا کر ملنے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَحَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنْ تَلَقِّي الْبُيُوعِ .
#2181
Sahih
It was narrated from 'Abdullah bin 'Umar that the Messenger of Allah said:"When two men enter into a transaction, each of them has the choice (of annulling it) so long as they have not yet parted and are still together, or one of them has given the option or choice to the other. Once he has accepted the terms of the other, then the transaction is binding. If they part after concluding the transaction and neither of them has rescinded the transaction then the transaction is binding.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دو آدمی ایک مجلس میں خرید و فروخت کریں، تو دونوں میں سے ہر ایک کو بیع فسخ کرنے کا اختیار ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں، یا ان میں سے کوئی ایک دوسرے کو اختیار نہ دیدے، پھر اگر ایک نے دوسرے کو اختیار دے دیا پھر بھی ان دونوں نے بیع پکی کر لی تو بیع واجب ہو گئی، اس طرح بیع ہو جانے کے بعد اگر وہ دونوں مجلس سے جدا ہو گئے تب بھی بیع لازم ہو گئی ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " إِذَا تَبَايَعَ الرَّجُلاَنِ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا وَكَانَا جَمِيعًا أَوْ يُخَيِّرْ أَحَدُهُمَا الآخَرَ فَإِنْ خَيَّرَ أَحَدُهُمَا الآخَرَ فَتَبَايَعَا عَلَى ذَلِكَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ . وَإِنْ تَفَرَّقَا بَعْدَ أَنْ تَبَايَعَا وَلَمْ يَتْرُكْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا الْبَيْعَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ " .
#2182
Sahih Hadith
It was narrated from Abu Barzah Al-Aslami that the Messenger of Allah (ﷺ) said:”The two parties to a transaction have the choice (of annulling it) so long as they have not yet parted
ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بائع اور مشتری ( بیچنے اور خریدنے والے ) جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں دونوں کو ( بیع کے منسوخ کرنے کا ) اختیار ہے ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ جَمِيلِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْوَضِيءِ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الأَسْلَمِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا " .
#2183
Sahih
It was narrated from Samurah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"The two parties to a transaction have the choice (of annulling it) so long as they have not yet parted
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیچنے اور خریدنے والے دونوں کو ( بیع منسوخ کرنے کا ) اختیار ہے، جب تک کہ وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا " .
#2184
Hasan
It was narrated that Jabir bin' Abdullah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) bought a load of fodder from a Bedouin man. When the transaction was concluded, the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Choose (either to go ahead or to cancel the transaction).' The Bedouin said: 'May Allah grant you a long life of good transaction
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اعرابی ( دیہاتی ) سے ایک بوجھ چارا خریدا، پھر جب بیع مکمل ہو گئی، تو آپ نے اس سے فرمایا: تجھ کو اختیار ہے ( بیع کو باقی رکھ یا منسوخ کر دے ) تو دیہاتی نے کہا: اللہ آپ کی عمردراز کرے میں بیع کو باقی رکھتا ہوں ۱؎۔
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيَّانِ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ اشْتَرَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مِنْ رَجُلٍ مِنَ الأَعْرَابِ حِمْلَ خَبَطٍ فَلَمَّا وَجَبَ الْبَيْعُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " اخْتَرْ " . فَقَالَ الأَعْرَابِيُّ عَمْرَكَ اللَّهَ بَيِّعًا .
#2185
Sahih
It was narrated from Dawud bin Salih Al Madani that his father said:I heard Abu Sa'eed Al-Khudri say: "The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Transactions may only be done by mutual consent
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیع بیچنے والے اور خریدنے والے کی باہمی رضا مندی سے منعقد ہوتی ہے ۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ صَالِحٍ الْمَدَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّمَا الْبَيْعُ عَنْ تَرَاضٍ " .
#2186
Sahih
It was narrated from Qasim bin 'Abdur Rahman from his father that :Abdullah bin Mas'ud sold one of the slaves from the state[1] to Ash'ath bin Qais, and they differed concerning the price. Ibn Mas'ud said: "I sold him to you for twenty thousand,' but Ash'ath bin Qais said: "I bought him from you for ten thousand." 'Abdullah said: "If you want, I will tell you a Hadith which I heard from the Messenger of Allah (ﷺ)" He said: "Tell me it." He said: "I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'If two parties to a transaction differ, and they have no proof, and the sale item remains (unredeemed), then what the seller says is valid. Or they may cancel the transaction." He said: "I want to cancel the transaction." And he cancelled it
عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کے ہاتھ حکومت کے غلاموں میں سے ایک غلام بیچا، پھر دونوں میں قیمت کے بارے میں اختلاف ہو گیا، ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا کہنا تھا کہ میں نے آپ سے اسے بیس ہزار میں بیچا ہے، اور اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے اسے دس ہزار میں خریدا ہے، اس پر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر چاہیں تو میں ایک حدیث بیان کروں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے، اشعث رضی اللہ عنہ نے کہا: بیان کریں، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جب بیچنے والے اور خریدنے والے اختلاف کریں اور ان میں کسی کے پاس گواہ نہ ہوں، اور بیچی ہوئی چیز بعینہٖ موجود ہو تو بیچنے والے ہی کی بات معتبر ہو گی، یا دونوں بیع فسخ کر دیں ، انہوں نے کہا: میں مناسب یہی سمجھتا ہوں کہ بیع فسخ کر دوں، چنانچہ انہوں نے بیع فسخ کر دی۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالاَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَنْبَأَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، بَاعَ مِنَ الأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ رَقِيقًا مِنْ رَقِيقِ الإِمَارَةِ فَاخْتَلَفَا فِي الثَّمَنِ . فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ بِعْتُكَ بِعِشْرِينَ أَلْفًا . وَقَالَ الأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ إِنَّمَا اشْتَرَيْتُ مِنْكَ بِعَشْرَةِ آلاَفٍ . فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ إِنْ شِئْتَ حَدَّثْتُكَ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ . فَقَالَ هَاتِهِ . قَالَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ وَالْبَيْعُ قَائِمٌ بِعَيْنِهِ فَالْقَوْلُ مَا قَالَ الْبَائِعُ أَوْ يَتَرَادَّانِ الْبَيْعَ " . قَالَ فَإِنِّي أَرَى أَنْ أَرُدَّ الْبَيْعَ . فَرَدَّهُ .
#2187
Sahih
It was narrated that Hakim bin Hizam said:"I said: 'O Messenger of Allah, a man is asking me to sell him something that I do not possess; Shall I sell it to him?' He said: 'Do not sell what is not with you
حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! ایک آدمی مجھ سے ایک چیز خریدنا چاہتا ہے، اور وہ میرے پاس نہیں ہے، کیا میں اس کو بیچ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو چیز تمہارے پاس نہیں ہے اس کو نہ بیچو ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ يُوسُفَ بْنَ مَاهَكَ، يُحَدِّثُ عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ يَسْأَلُنِي الْبَيْعَ وَلَيْسَ عِنْدِي أَفَأَبِيعُهُ قَالَ " لاَ تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ " .
#2188
Hasan Sahih
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib, from his father, that his grandfather said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'It is not permissible to sell something that is not with you, nor to profit from what you do not possess
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو چیز تمہارے پاس نہ ہو اس کا بیچنا جائز نہیں، اور نہ اس چیز کا نفع جائز ہے جس کے تم ضامن نہیں ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لاَ يَحِلُّ بَيْعُ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ وَلاَ رِبْحُ مَا لَمْ يُضْمَنْ " .
#2189
Sahih
It was narrated from 'Ata that 'Attab bin Asid said that :when the Messenger of Allah (ﷺ) sent him to Makkah, he forbade him from profiting off of what he did not possess
عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مکہ بھیجا، تو اس چیز کے نفع سے منع کیا جس کے وہ ضامن نہ ہوں۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ، قَالَ لَمَّا بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِلَى مَكَّةَ نَهَاهُ عَنْ شِفِّ مَا لَمْ يُضْمَنْ .
#2190
Daif
It was narrated from 'Uqbah bin 'Amir or Samurah bin Jundab that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"Any man who sells to two men, it is for the one who was first
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ یا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے ایک چیز دو آدمیوں کے ہاتھ بیچی، تو جس کے ہاتھ پہلے بیچی اس کو وہ چیز ملے گی ۔
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَوْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " أَيُّمَا رَجُلٍ بَاعَ بَيْعًا مِنْ رَجُلَيْنِ فَهُوَ لِلأَوَّلِ مِنْهُمَا " .
#2191
Daif
It was narrated from Samurah that the Messenger of Allah (ﷺ), said:"If two (separate) authorized persons make a sale (of the same thing), then the first transaction is the one that is valid
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دو اختیار رکھنے والے ایک چیز کی بیع کریں تو جس نے پہلے بیع کی، اس کا اعتبار ہو گا ۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ الْعَسْقَلاَنِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِذَا بَاعَ الْمُجِيزَانِ فَهُوَ لِلأَوَّلِ " .
#2192
Daif
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib, from his father, from his grandfather that :the Prophet (ﷺ) forbade the deal involving earnest money
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعانہ ( عربان کی بیع ) سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، قَالَ بَلَغَنِي عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْعُرْبَانِ .
#2193
Daif
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib, from his father, from his grandfather that :the Prophet (ﷺ) forbade the deal involving earnest money. (Hasan)Abu 'Abdullah said: Earnest money refers to when a man buys an animal for one hundred Dinar, then he gives the seller two Dinar in advance and says: "If I do not buy the animal, then the two Dinar are yours." And it was said that it refers, and Allah knows best, to when a man buys something, and gives the seller a Dirham or less or more, and says: "If I take it (all well and good), and if I do not, then the Dirham is yours
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( عربان کی بیع ) سے منع فرمایا ہے۔ ابوعبداللہ ( ابن ماجہ ) کہتے ہیں کہ عربان: یہ ہے کہ آدمی ایک جانور سو دینار میں خریدے، اور بیچنے والے کو اس میں سے دو دینار بطور بیعانہ دیدے، اور کہے: اگر میں نے جانور نہیں لیا تو یہ دونوں دینار تمہارے ہیں۔ بعض لوگوں نے کہا ہے واللہ اعلم: ( عربان یہ ہے کہ ) آدمی ایک چیز خریدے پھر بیچنے والے کو ایک درہم یا زیادہ یا کم دے، اور کہے اگر میں نے یہ چیز لے لی تو بہتر، ورنہ یہ درہم تمہارا ہے۔
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الرُّخَامِيُّ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ أَبُو مُحَمَّدٍ، كَاتِبُ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ الأَسْلَمِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْعُرْبَانِ . قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْعُرْبَانُ أَنْ يَشْتَرِيَ الرَّجُلُ دَابَّةً بِمِائَةِ دِينَارٍ فَيُعْطِيَهُ دِينَارَيْنِ أَرْبُونًا فَيَقُولَ إِنْ لَمْ أَشْتَرِ الدَّابَّةَ فَالدِّينَارَانِ لَكَ .
#2194
Sahih
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) forbade Gharar transaction sand Hasah transactions
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع غرر اور بیع حصاۃ سے منع فرمایا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ سَلَمَةَ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ وَعَنْ بَيْعِ الْحَصَاةِ .
#2195
Sahih
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah (ﷺ) forbade Gharar transactions
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع غرر سے منع کیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ .
#2196
Daif
It was narrated that Abu Sa'eed Al-Khudri said:“The Messenger of Allah (ﷺ) forbade selling what is in the wombs of cattle until they give birth, and selling what is in their udders unless it is measured out, and selling a slave who has fled, and selling spoils of war until it has been distributed, and selling Sadaqah until it has been received, and what a diver is going to bring up
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کے پیٹ میں جو ہو اس کے خریدنے سے منع فرمایا یہاں تک کہ وہ جن دے، اور جو ان کے تھنوں میں ہے اس کے خریدنے سے بھی منع فرمایا ہے الا یہ کہ اسے دوھ کر اور ناپ کر خریدا جائے، اسی طرح بھاگے ہوئے غلام کو خریدنے سے، اور غنیمت ( لوٹ ) کا مال خریدنے سے بھی منع فرمایا یہاں تک کہ وہ تقسیم کر دیا جائے اور صدقات کو خریدنے سے ( منع کیا ) یہاں تک کہ وہ قبضے میں آ جائے، اور غوطہٰ خور کے غوطہٰ کو خریدنے سے ( منع کیا ) ۱؎۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا جَهْضَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْيَمَامِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْبَاهِلِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ الْعَبْدِيِّ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنْ شِرَاءِ مَا فِي بُطُونِ الأَنْعَامِ حَتَّى تَضَعَ وَعَمَّا فِي ضُرُوعِهَا إِلاَّ بِكَيْلٍ وَعَنْ شِرَاءِ الْعَبْدِ وَهُوَ آبِقٌ وَعَنْ شِرَاءِ الْمَغَانِمِ حَتَّى تُقْسَمَ وَعَنْ شِرَاءِ الصَّدَقَاتِ حَتَّى تُقْبَضَ وَعَنْ ضَرْبَةِ الْغَائِصِ .
#2197
Sahih Hadith
It was narrated from Ibn 'Umar that :the Prophet (ﷺ) forbade selling Hablul-Habalah
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حمل کے حمل کو بیچنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَهَى عَنْ بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ .
#2198
Daif
It was narrated from Anas bin Malik that :a man from among the Ansar came to the Prophet (ﷺ) and begged from him. He said, "Do you have anything in your house?" He said: "Yes, a blanket, part of which we cover ourselves with and part we spread beneath us, and a bowl from which we drink water." He said: "Givethem to me." So he brought them to him, and the Messenger of Allah (ﷺ) took them in his hand and said, "Who will by these two things?" A man said: "I will by them for one Dirham." He said: "Who will offer more than a Dirham?" two or three times. A man said: "I will buy them for two Dirham." So he gave them to him and took the two Dirham, which he gave to the Ansari and said: "Buy food with one of them and give it to your family, and buy an axe with the other and bring it to me." So he did that, and the Messenger of Allah (ﷺ) took it and fixed a handle to it, and said: "Go and gather firewood, and I do not want to see you for fifteen days." So he went and gathered firewood and sold it, then he came back, and he had earned ten Dirham. (The Prophet (ﷺ)) said: "Buy food with some of it and clothes with some." Then he said: "This is better for you than coming with begging (appearing) as a spot on your face on the Day of Resurrection. Begging is only appropriate for one who is extremely poor or who is in severe debt, or one who must pay painful blood money.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انصار کا ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا، وہ آپ سے کوئی چیز چاہ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: تمہارے گھر میں کوئی چیز ہے ؟، اس نے عرض کیا: جی ہاں! ایک کمبل ہے جس کا ایک حصہ ہم اوڑھتے اور ایک حصہ بچھاتے ہیں، اور ایک پیالہ ہے جس سے ہم پانی پیتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ دونوں چیزیں میرے پاس لے آؤ ، وہ گیا، اور ان کو لے آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو اپنے ہاتھ میں لیا پھر فرمایا: انہیں کون خریدتا ہے ؟ ایک شخص بولا: میں یہ دونوں چیزیں ایک درہم میں لیتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک درہم پر کون بڑھاتا ہے ؟ یہ جملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یا تین بار فرمایا، ایک شخص بولا: میں انہیں دو درہم میں لیتا ہوں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دونوں چیزیں اس شخص کے ہاتھ بیچ دیں، پھر دونوں درہم انصاری کو دئیے اور فرمایا: ایک درہم کا اناج خرید کر اپنے گھر والوں کو دے دو، اور دوسرے کا ایک کلہاڑا خرید کر میرے پاس لاؤ ، اس نے ایسا ہی کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کلہاڑے کو لیا، اور اپنے ہاتھ سے اس میں ایک لکڑی جما دی اور فرمایا: جاؤ اور لکڑیاں کاٹ کر لاؤ ( اور بیچو ) اور پندرہ دن تک میرے پاس نہ آؤ ، چنانچہ وہ لکڑیاں کاٹ کر لانے لگا اور بیچنے لگا، پھر وہ آپ کے پاس آیا، اور اس وقت اس کے پاس دس درہم تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کچھ کا غلہ خرید لو، اور کچھ کا کپڑا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تمہارے لیے اس سے بہتر ہے کہ تم قیامت کے دن اس حالت میں آؤ کہ سوال کرنے کی وجہ سے تمہارے چہرے پر داغ ہو، یاد رکھو سوال کرنا صرف اس شخص کے لیے درست ہے جو انتہائی درجہ کا محتاج ہو، یا سخت قرض دار ہو یا تکلیف دہ خون بہا کی ادائیگی میں گرفتار ہو ۱؎۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الأَخْضَرُ بْنُ عَجْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلاً، مِنَ الأَنْصَارِ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَسْأَلُهُ فَقَالَ " لَكَ فِي بَيْتِكَ شَىْءٌ " . قَالَ بَلَى حِلْسٌ نَلْبَسُ بَعْضَهُ وَنَبْسُطُ بَعْضَهُ وَقَدَحٌ نَشْرَبُ فِيهِ الْمَاءَ . قَالَ " ائْتِنِي بِهِمَا " . قَالَ فَأَتَاهُ بِهِمَا فَأَخَذَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ " مَنْ يَشْتَرِي هَذَيْنِ " . فَقَالَ رَجُلٌ أَنَا آخُذُهُمَا بِدِرْهَمٍ . قَالَ " مَنْ يَزِيدُ عَلَى دِرْهَمٍ " . مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا قَالَ رَجُلٌ أَنَا آخُذُهُمَا بِدِرْهَمَيْنِ . فَأَعْطَاهُمَا إِيَّاهُ وَأَخَذَ الدِّرْهَمَيْنِ فَأَعْطَاهُمَا الأَنْصَارِيَّ وَقَالَ " اشْتَرِ بِأَحَدِهِمَا طَعَامًا فَانْبِذْهُ إِلَى أَهْلِكَ وَاشْتَرِ بِالآخَرِ قَدُومًا فَأْتِنِي بِهِ " . فَفَعَلَ فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَشَدَّ فِيهِ عُودًا بِيَدِهِ وَقَالَ " اذْهَبْ فَاحْتَطِبْ وَلاَ أَرَاكَ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا " . فَجَعَلَ يَحْتَطِبُ وَيَبِيعُ فَجَاءَ وَقَدْ أَصَابَ عَشْرَةَ دَرَاهِمَ فَقَالَ " اشْتَرِ بِبَعْضِهَا طَعَامًا وَبِبَعْضِهَا ثَوْبًا " . ثُمَّ قَالَ " هَذَا خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تَجِيءَ وَالْمَسْأَلَةُ نُكْتَةٌ فِي وَجْهِكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لاَ تَصْلُحُ إِلاَّ لِذِي فَقْرٍ مُدْقِعٍ أَوْ لِذِي غُرْمٍ مُفْظِعٍ أَوْ دَمٍ مُوجِعٍ " .
#2199
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:Whoever agrees with a Muslim to cancel a transaction Allah will forgive his sins on the Day of Resurrection
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی مسلمان کے اقالے کو مان لے ( یعنی اس کے ساتھ بیع کے فسخ پر راضی ہو جائے ) تو اللہ تعالیٰ ( اس احسان کے بدلہ میں ) قیامت کے دن اس کے گناہوں کو مٹا دے گا ۔
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ يَحْيَى أَبُو الْخَطَّابِ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ سُعَيْرٍ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَنْ أَقَالَ مُسْلِمًا أَقَالَهُ اللَّهُ عَثْرَتَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
#2200
Sahih
It was nanated that Anas bin Malik said:"Prices rose during the time of the Messenger of Allah (ﷺ), and they said: 'O Messenger of Allah, prices have risen, so fix the prices for us.' He said: 'Indeed Allah is the Musa'ir, [1] the Qabid, (Restrainer) the Basit,[2] the Razzaq (Provider). And I am hopeful that I meet my Lord and none of you are seeking (recompense from) me for an injustice involving blood or wealth
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ایک دفعہ قیمتیں چڑھ گئیں، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے لیے ایک نرخ ( بھاؤ ) مقرر کر دیجئیے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ ہی نرخ مقرر کرنے والا ہے، کبھی کم کر دیتا ہے اور کبھی زیادہ کر دیتا ہے، وہی روزی دینے والا ہے، اور مجھے امید ہے کہ میں اپنے رب سے اس حال میں ملوں کہ کوئی مجھ سے جان یا مال میں کسی ظلم کا مطالبہ کرنے والا نہ ہو ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، وَحُمَيْدٍ، وَثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ غَلاَ السِّعْرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ غَلاَ السِّعْرُ فَسَعِّرْ لَنَا . فَقَالَ " إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمُسَعِّرُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ الرَّازِقُ إِنِّي لأَرْجُو أَنْ أَلْقَى رَبِّي وَلَيْسَ أَحَدٌ يَطْلُبُنِي بِمَظْلَمَةٍ فِي دَمٍ وَلاَ مَالٍ " .