#2051
Daif
It was narrated from 'Abdullah bin 'Ali bin Yazid bin Rukanah, from his father, from his grandfather, that:he divorced his wife irrevocably, then he came to the Messenger of Allah (ﷺ) and asked him. He said: "What did you mean by that?" He said: "One (divorce)." He said: "By Allah did you only mean one (divorce) thereby?" He said: "By Allah, I meant one." Then he sent her back to him. (Da'if)Muhammad bin Majah said: I heard Abul-Hasan ' Ali bin Muhammad Tanafisi saying: "How noble is this Hadith." Ibn Majah said: 'Abu 'Ubaid left it (i.e., did not accept its narration) and Ahmad was fearful of it (i.e., of narrating it)
رکانہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق بتہ ( قطعی طلاق ) دے دی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے ان سے پوچھا: تم نے اس سے کیا مراد لی ہے ؟ انہوں نے کہا: ایک ہی مراد لی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: قسم اللہ کی کیا تم نے اس سے ایک ہی مراد لی ہے ؟، انہوں نے کہا: قسم اللہ کی میں نے اس سے صرف ایک ہی مراد لی ہے، تب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بیوی انہیں واپس لوٹا دی ۱؎۔ محمد بن ماجہ کہتے ہیں: میں نے محمد بن حسن بن علی طنافسی کو کہتے سنا: یہ حدیث کتنی عمدہ ہے۔ ابن ماجہ کہتے ہیں: ابوعبیدہ نے یہ حدیث ایک گوشے میں ڈال دی ہے، اور احمد اسے روایت کرنے کی ہمت نہیں کر سکے ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَسَأَلَهُ فَقَالَ " مَا أَرَدْتَ بِهَا " . قَالَ وَاحِدَةً . قَالَ " آللَّهِ مَا أَرَدْتَ بِهَا إِلاَّ وَاحِدَةً قَالَ آللَّهِ مَا أَرَدْتُ بِهَا إِلاَّ وَاحِدَةً . قَالَ فَرَدَّهَا عَلَيْهِ . قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَاجَهْ سَمِعْتُ أَبَا الْحَسَنِ عَلِيَّ بْنَ مُحَمَّدٍ الطَّنَافِسِيَّ يَقُولُ مَا أَشْرَفَ هَذَا الْحَدِيثَ . قَالَ ابْنُ مَاجَهْ أَبُو عُبَيْدٍ تَرَكَهُ نَاحِيَةً وَأَحْمَدُ جَبُنَ عَنْهُ .
#2052
Sahih
It was narrated that Aishah said:"The Messenger of Allah gave us the choice, and we chose him, and he did not consider it as something (i.e., an effective divorce)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو اختیار دیا تو ہم نے آپ ہی کو اختیار کیا، پھر آپ نے اس کو کچھ نہیں سمجھا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَاخْتَرْنَاهُ . فَلَمْ نَرَهُ شَيْئًا .
#2053
Sahih
It was narrated that Aishah said:"When the following was revealed: 'But if you desire Allah and His Messenger, (ﷺ) the Messenger of Allah (ﷺ) entered upon me and said: 'O Aishah I want to say something to you, and you do not have to hasten (in making a decision) until you have consulted your parents."' She said: "He knew, by Allah, that my parents would never tell me to leave him." She said: "Then he recited to me: ' O Prophet (Muhammad)! Say to your wives: " If you desire the life of this world, and its glitter.'" I said: 'Do I need to consult my parents about this? I choose Allah and His Messenger
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب آیت: «وإن كنتن تردن الله ورسوله» اتری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے پاس آ کر فرمایا: عائشہ! میں تم سے ایک بات کہنے والا ہوں، تم اس میں جب تک اپنے ماں باپ سے مشورہ نہ کر لینا جلد بازی نہ کرنا ، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اللہ کی قسم! آپ خوب جانتے تھے کہ میرے ماں باپ کبھی بھی آپ کو چھوڑ دینے کے لیے نہیں کہیں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر یہ آیت پڑھی: «يا أيها النبي قل لأزواجك إن كنتن تردن الحياة الدنيا وزينتها» ( سورة الأحزاب: 28 ) اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دیجئیے کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی آرائش و زیبائش پسند کرتی ہو تو آؤ میں تم کو کچھ دے کر اچھی طرح رخصت کر دوں، اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور یوم آخرت کو چاہتی ہو تو تم میں سے جو نیک ہیں اللہ نے ان کے لیے بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے … ( یہ سن کر ) میں بولی: کیا میں اس میں اپنے ماں باپ سے مشورہ لینے جاؤں گی! میں اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کر چکی ہوں ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَمَّا نَزَلَتْ {وَإِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ} دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ " يَا عَائِشَةُ إِنِّي ذَاكِرٌ لَكِ أَمْرًا فَلاَ عَلَيْكِ أَنْ لاَ تَعْجَلِي فِيهِ حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ قَالَتْ قَدْ عَلِمَ وَاللَّهِ أَنَّ أَبَوَىَّ لَمْ يَكُونَا لِيَأْمُرَانِي بِفِرَاقِهِ . قَالَتْ فَقَرَأَ عَلَىَّ {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا } . الآيَاتِ . فَقُلْتُ فِي هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَىَّ قَدِ اخْتَرْتُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ .
#2054
Daif
It was narrated from Ibn 'Abbas that the Prophet (ﷺ) said:"No woman asks for divorce when it is not absolutely necessary, but she will never smell the fragrance of paradise, although its fragrance can be detected from a distance of forty years' travel
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت بغیر کسی حقیقی وجہ اور واقعی سبب کے اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ نہ کرے تاکہ وہ جنت کی خوشبو پا سکے، جب کہ جنت کی خوشبو چالیس سال کی مسافت سے پائی جاتی ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ يَحْيَى بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ عَمِّهِ، عُمَارَةَ بْنِ ثَوْبَانَ عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " لاَ تَسْأَلُ الْمَرْأَةُ زَوْجَهَا الطَّلاَقَ فِي غَيْرِ كُنْهِهِ فَتَجِدَ رِيحَ الْجَنَّةِ . وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ عَامًا " .
#2055
Sahih
It was narrated from Thawban that the Messenger of Allah (ﷺ) said:'Any woman who asks her husband for a divorce when it is not absolutely necessary, the fragrance of Paradise will be forbidden to her
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کسی عورت نے اپنے شوہر سے بغیر کسی ایسی تکلیف کے جو طلاق لینے پر مجبور کرے طلاق کا مطالبہ کیا، تو اس پہ جنت کی خوشبو حرام ہے ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الأَزْهَرِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " أَيُّمَا امْرَأَةٍ سَأَلَتْ زَوْجَهَا الطَّلاَقَ فِي غَيْرِ مَا بَأْسٍ فَحَرَامٌ عَلَيْهَا رَائِحَةُ الْجَنَّةِ " .
#2056
Sahih
It was narrated from Ibn 'Abbas that:Jamilah bint Salul came to the Prophet (ﷺ) and said: "By Allah, I do not find any fault with Thabit regarding his religion nor his behavior, but I hate disbelief after becoming Muslim and I cannot stand him. "The Prophet (ﷺ) said to her: 'WiIl you give him back his garden?" She said: "Yes." So the Messenger of Allah (ﷺ) told him to take back his garden from her and no more than that
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جمیلہ بنت سلول رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کی قسم میں ( اپنے شوہر ) ثابت پر کسی دینی و اخلاقی خرابی سے غصہ نہیں کر رہی ہوں، لیکن میں مسلمان ہو کر کفر ( شوہر کی ناشکری ) کو ناپسند کرتی ہوں، میں ان کے ساتھ نہیں رہ پاؤں گی کیونکہ شکل و صورت سے وہ مجھے ناپسند ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: کیا ان کا دیا ہوا باغ واپس لوٹا دو گی ؟ انہوں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت کو حکم دیا کہ اپنی بیوی جمیلہ سے اپنا باغ لے لیں، اور زیادہ نہ لیں ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ جَمِيلَةَ بِنْتَ سَلُولَ، أَتَتِ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَتْ وَاللَّهِ مَا أَعْتِبُ عَلَى ثَابِتٍ فِي دِينٍ وَلاَ خُلُقٍ . وَلَكِنِّي أَكْرَهُ الْكُفْرَ فِي الإِسْلاَمِ لاَ أُطِيقُهُ بُغْضًا . فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ " . قَالَتْ نَعَمْ . فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنْ يَأْخُذَ مِنْهَا حَدِيقَتَهُ وَلاَ يَزْدَادَ .
#2057
Daif
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib, from his father, that his grandfather said:"Habibah bint Sahl was married to Thabit bin Qais bin Shammas, who was an ugly man. She said: 'O Messenger of Allah, (ﷺ) by Allah, were it not for fear of Allah when he enters upon me I would spit in his face.' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Will you give him back his garden?' She :said: 'Yes.' So she gave him back his garden and the Messenger of Allah (ﷺ) separated them
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ حبیبہ بنت سہل رضی اللہ عنہا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہما کے نکاح میں تھیں، وہ ناٹے اور بدصورت آدمی تھے، حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! اگر اللہ کا ڈر نہ ہوتا تو ثابت جب میرے پاس آئے تو میں ان کے منہ پر تھوک دیتی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم ان کا باغ واپس لوٹا دو گی ؟ کہا: ہاں، اور ان کا باغ انہیں واپس دے دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان جدائی کرا دی۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ كَانَتْ حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ تَحْتَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ وَكَانَ رَجُلاً دَمِيمًا . فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ لَوْلاَ مَخَافَةُ اللَّهِ إِذَا دَخَلَ عَلَىَّ لَبَصَقْتُ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ " . قَالَتْ نَعَمْ . قَالَ فَرَدَّتْ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ . قَالَ فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ .
#2058
Hasan Sahih
It was narrated from 'Ubadah bin Samit from Rubai' bint Mu'awwidh bin 'Afra'.:He said: "I said to her: 'Tell me your Hadith.' She said: 'I got Khul' from my husband, then I came to 'Uthman and asked him: "What waiting period do I have to observe?" He said: "You do not have to observe any waiting period, unless you had intercourse with him recently, in which case you should stay with him until you have menstruated." In that he was following the ruling of the Messenger of Allah (ﷺ) concerning Maryam Maghaliyyah, who was married to Thabit bin Qais and she got Khul' from him
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا سے کہا: تم مجھ سے اپنا واقعہ بیان کرو، انہوں نے کہا: میں نے اپنے شوہر سے خلع کرا لیا، پھر میں نے عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر پوچھا: مجھ پر کتنی عدت ہے؟ انہوں نے کہا: تم پر کوئی عدت نہیں مگر یہ کہ تمہارے شوہر نے حال ہی میں تم سے صحبت کی ہو، تو تم اس کے پاس رکی رہو یہاں تک کہ تمہیں ایک حیض آ جائے، ربیع رضی اللہ عنہا نے کہا: عثمان رضی اللہ عنہ نے اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کی پیروی کی، جو آپ نے بنی مغالہ کی خاتون مریم رضی اللہ عنہا کے سلسلے میں کیا تھا، جو ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی زوجیت میں تھیں اور ان سے خلع کر لیا تھا ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَلَمَةَ النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنِي عُبَادَةُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ ابْنِ عَفْرَاءَ، قَالَ قُلْتُ لَهَا حَدِّثِينِي حَدِيثَكِ، . قَالَتِ اخْتَلَعْتُ مِنْ زَوْجِي ثُمَّ جِئْتُ عُثْمَانَ . فَسَأَلْتُ مَاذَا عَلَىَّ مِنَ الْعِدَّةِ فَقَالَ لاَ عِدَّةَ عَلَيْكِ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ حَدِيثَ عَهْدٍ بِكِ فَتَمْكُثِينَ عِنْدَهُ حَتَّى تَحِيضِينَ حَيْضَةً . قَالَتْ وَإِنَّمَا تَبِعَ فِي ذَلِكَ قَضَاءَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي مَرْيَمَ الْمَغَالِيَّةِ . وَكَانَتْ تَحْتَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ فَاخْتَلَعَتْ مِنْهُ .
#2059
Hasan Sahih
It was narrated that 'Aishah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) swore that he would not enter upon his wives for a month, and he stayed for twenty-nine days until, on the eve of the thirtieth, he entered upon me. I said: 'You swore not to enter upon us for a month.' He said: 'The month may be like this,' and he held up his (ten) fingers three times; 'or the month may be like this,' and he held up his fingers three times, keeping one finger down on the third time
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھائی کہ ایک ماہ تک اپنی بیویوں کے پاس نہیں جائیں گے، آپ ۲۹ دن تک رکے رہے، جب تیسویں دن کی شام ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے، میں نے کہا: آپ نے تو ایک ماہ تک ہمارے پاس نہ آنے کی قسم کھائی تھی؟! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہینہ اس طرح ہوتا ہے آپ نے دونوں ہاتھوں کی ساری انگلیوں کو کھلا رکھ کر تین بار فرمایا، اس طرح کل تیس دن ہوئے، پھر فرمایا: اور مہینہ اس طرح بھی ہوتا ہے اس بار دو دفعہ ساری انگلیوں کو کھلا رکھا، تیسری بار میں ایک انگلی بند کر لی۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ أَقْسَمَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنْ لاَ يَدْخُلَ عَلَى نِسَائِهِ شَهْرًا فَمَكَثَ تِسْعَةً وَعِشْرِينَ يَوْمًا حَتَّى إِذَا كَانَ مَسَاءَ ثَلاَثِينَ دَخَلَ عَلَىَّ فَقُلْتُ إِنَّكَ أَقْسَمْتَ أَنْ لاَ تَدْخُلَ عَلَيْنَا شَهْرًا . فَقَالَ " شَهْرٌ هَكَذَا " . يُرْسِلُ أَصَابِعَهُ فِيهَا ثَلاَثَ مَرَّاتٍ " وَشَهْرٌ هَكَذَا " . وَأَرْسَلَ أَصَابِعَهُ كُلَّهَا وَأَمْسَكَ إِصْبَعًا وَاحِدًا فِي الثَّالِثَةِ .
#2060
Daif
It was narrated from Aishah that:the Messenger of Allah (ﷺ) swore to keep away from his wives, because Zainab had sent back her gift and 'Aishah said: "She has disgraced you." He became angry and swore to keep away from them
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایلاء کیا، اس لیے کہ ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا نے آپ کا بھیجا ہوا ہدیہ واپس کر دیا تھا، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: زینب نے آپ کی بےقدری کی ہے، یہ سن کر آپ غصہ ہوئے اور ان سب سے ایلاء کر لیا ۱؎۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِنَّمَا آلَى لأَنَّ زَيْنَبَ رَدَّتْ عَلَيْهِ هَدِيَّتَهُ . فَقَالَتْ عَائِشَةُ لَقَدْ أَقْمَأَتْكَ . فَغَضِبَ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَآلَى مِنْهُنَّ .
#2061
Sahih
It was narrated from Umm Salamah that:the Messenger of Allah (ﷺ) swore to keep away from some of his wives for a month. On the twenty-ninth day, in the evening or the morning, it was said: "O Messenger of Allah, only twenty-nine days have passed." He said: "The month is twenty-nine days
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بعض بیویوں سے ایک ماہ کا ایلاء کیا، جب ۲۹ دن ہو گئے تو آپ صبح کو یا شام کو بیویوں کے پاس تشریف لے گئے، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! ابھی تو ۲۹ ہی دن ہوئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہینہ ۲۹ کا بھی ہوتا ہے ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ آلَى مِنْ بَعْضِ نِسَائِهِ شَهْرًا فَلَمَّا كَانَ تِسْعَةً وَعِشْرِينَ رَاحَ أَوْ غَدَا . فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا مَضَى تِسْعٌ وَعِشْرُونَ . فَقَالَ " الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ " .
#2062
Sahih
It was narrated that Salamah bin Sakhr Al-Bayadi said:"I was a man who had a lot of desire for women, and I do not think there was any man who had as great a share of that as me. When Ramadan began, I declared Zihar upon my wife (to last) until Ramadan ended. While she was talking to me one night, part of her body became uncovered. I jumped on her and had intercourse with her. The next morning I went to my people and told them, and said to them: 'Ask the Messenger of Allah (ﷺ) for me.' They said: 'We will not do that, lest Allah reveal Quran concerning us or the Messenger of Allah (ﷺ) says, something about us, and it will be a lasting source of disgrace for us. Rather we will leave you to deal with it yourself. Go yourself and tell the Messenger of Allah (ﷺ) about your problem.' So I went out and when I came to him, I told him what happened. The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Did you really do that?' I said: 'I really did that, and here I am, O Messenger of Allah. (ﷺ) I will bear Allah’s ruling on me with patience.' He said: 'Free a slave.' I said: 'By the One Who sent you with the truth, I do not own anything but myself.' He said: 'Fast for two consecutive months.' I said: 'O Messenger of Allah, the thing that happened to me was only because of fasting.' He said: 'Then give charity, or feed sixty poor persons.' I said: 'By the One Who sent you with the truttu we spent last night with no dinner.' He said: 'Then go to the collector of charity of Banu Zuraiq, and tell him to give you something, then feed sixty poor persons, and benefit from the rest
سلمہ بن صخر بیاضی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک ایسا آدمی تھا جسے عورتوں کی بڑی چاہت رہتی تھی، میں کسی مرد کو نہیں جانتا جو عورت سے اتنی صحبت کرتا ہو جتنی میں کرتا تھا، جب رمضان آیا تو میں نے اپنی بیوی سے رمضان گزرنے تک ظہار کر لیا، ایک رات وہ مجھ سے باتیں کر رہی تھی کہ اس کا کچھ بدن کھل گیا، میں اس پہ چڑھ بیٹھا، اور اس سے مباشرت کر لی، جب صبح ہوئی تو میں اپنے لوگوں کے پاس گیا، اور ان سے اپنا قصہ بیان کیا، میں نے ان سے کہا: تم لوگ میرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھو، تو انہوں نے کہا: ہم نہیں پوچھیں گے، ایسا نہ ہو کہ ہماری شان میں وحی اترے، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگوں کے سلسلے میں کچھ فرما دیں، اور اس کا عار ہمیشہ کے لیے باقی رہے لیکن اب یہ کام ہم تمہارے ہی سپرد کرتے ہیں، اب تم خود ہی جاؤ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا حال بیان کرو۔ سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں خود ہی چلا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ سے واقعہ بیان کیا، آپ نے فرمایا: تم نے یہ کام کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا: ہاں، اے اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں اور اپنے بارے میں اللہ کے حکم پر صابر ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ایک غلام آزاد کرو ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں تو صرف اپنی جان کا مالک ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لگاتار دو ماہ کے روزے رکھو، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول یہ بلا جو میرے اوپر آئی ہے روزے ہی کہ وجہ سے تو آئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو صدقہ دو، یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ ، میں نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ہم نے یہ رات اس حالت میں گزاری ہے کہ ہمارے پاس رات کا کھانا نہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی زریق کا صدقہ وصول کرنے والے کے پاس جاؤ، اور اس سے کہو کہ وہ تمہیں کچھ مال دیدے، اور اس میں سے ساٹھ مسکینوں کو کھلاؤ اور جو بچے اپنے کام میں لے لو ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ الْبَيَاضِيِّ، قَالَ كُنْتُ امْرَأً أَسْتَكْثِرُ مِنَ النِّسَاءِ لاَ أُرَى رَجُلاً كَانَ يُصِيبُ مِنْ ذَلِكَ مَا أُصِيبُ فَلَمَّا دَخَلَ رَمَضَانُ ظَاهَرْتُ مِنِ امْرَأَتِي حَتَّى يَنْسَلِخَ رَمَضَانُ فَبَيْنَمَا هِيَ تُحَدِّثُنِي ذَاتَ لَيْلَةٍ انْكَشَفَ لِي مِنْهَا شَىْءٌ فَوَثَبْتُ عَلَيْهَا فَوَاقَعْتُهَا فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ عَلَى قَوْمِي فَأَخْبَرْتُهُمْ خَبَرِي وَقُلْتُ لَهُمْ سَلُوا لِي رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ . فَقَالُوا مَا كُنَّا لِنَفْعَلَ إِذًا يُنْزِلَ اللَّهُ فِينَا كِتَابًا أَوْ يَكُونَ فِينَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَوْلٌ فَيَبْقَى عَلَيْنَا عَارُهُ وَلَكِنْ سَوْفَ نُسَلِّمُكَ لِجَرِيرَتِكَ اذْهَبْ أَنْتَ فَاذْكُرْ شَأْنَكَ لِرَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ . قَالَ فَخَرَجْتُ حَتَّى جِئْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " أَنْتَ بِذَاكَ " . فَقُلْتُ أَنَا بِذَاكَ وَهَا أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ صَابِرٌ لِحُكْمِ اللَّهِ عَلَىَّ . قَالَ " فَأَعْتِقْ رَقَبَةً " . قَالَ قُلْتُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَصْبَحْتُ أَمْلِكُ إِلاَّ رَقَبَتِي هَذِهِ . قَالَ " فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ " . قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَهَلْ دَخَلَ عَلَىَّ مَا دَخَلَ مِنَ الْبَلاَءِ إِلاَّ بِالصَّوْمِ قَالَ " فَتَصَدَّقْ وَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا " . قَالَ قُلْتُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَقَدْ بِتْنَا لَيْلَتَنَا هَذِهِ مَا لَنَا عَشَاءٌ . قَالَ " فَاذْهَبْ إِلَى صَاحِبِ صَدَقَةِ بَنِي زُرَيْقٍ فَقُلْ لَهُ فَلْيَدْفَعْهَا إِلَيْكَ وَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا وَانْتَفِعْ بِبَقِيَّتِهَا " .
#2063
Sahih
It was narrated from 'Urwah bin Zubair, that 'Aishah said:"Blessed is the One Whose hearing encompasses all things. I heard some of the words of Khawlah bint Tha'labah, but some of her words were not clear to me, when she complained to the Messenger of Allah (ﷺ) about her husband, and said: 'O Messenger of Allah, (ﷺ) he has consumed my youth and I split my belly for him (i.e., bore him many children), but when I grew old and could no longer bear children he declared Zihar upon me; O Allah, I complain to You.' She continued to complain until Jibra'il brought down these Verses: 'Indeed Allah has heard the statement of she who pleads with you (O Muhammad) concerning her husband, and complains to Allah" (58:)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا بابرکت ہے وہ ذات جو ہر چیز کو سنتی ہے، میں خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا کی بات سن رہی تھی، کچھ باتیں سمجھ میں نہیں آ رہی تھیں، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے شوہر کی شکایت کر رہی تھیں کہ میرا شوہر میری جوانی کھا گیا، میں اس کی اولاد جنتی رہی، جب میں بوڑھی ہو گئی اور ولادت کا سلسلہ منقطع ہو گیا، تو اس نے مجھ سے ظہار کر لیا، اے اللہ! میں تجھ ہی سے شکوہ کرتی ہوں، وہ ابھی وہاں سے ہٹی بھی نہیں تھیں کہ جبرائیل علیہ السلام یہ آیتیں لے کر اترے: «قد سمع الله قول التي تجادلك في زوجها وتشتكي إلى الله» ( سورة المجادلة: 1 ) اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو تجھ سے اپنے شوہر کے بارے میں جھگڑ رہی تھی اور اللہ سے شکوہ کر رہی تھی ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ تَبَارَكَ الَّذِي وَسِعَ سَمْعُهُ كُلَّ شَىْءٍ . إِنِّي لأَسْمَعُ كَلاَمَ خَوْلَةَ بِنْتِ ثَعْلَبَةَ وَيَخْفَى عَلَىَّ بَعْضُهُ وَهِيَ تَشْتَكِي زَوْجَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَهِيَ تَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَكَلَ شَبَابِي وَنَثَرْتُ لَهُ بَطْنِي حَتَّى إِذَا كَبِرَتْ سِنِّي وَانْقَطَعَ وَلَدِي ظَاهَرَ مِنِّي اللَّهُمَّ إِنِّي أَشْكُو إِلَيْكَ . فَمَا بَرِحَتْ حَتَّى نَزَلَ جِبْرَائِيلُ بِهَؤُلاَءِ الآيَاتِ {قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّهِ}.
#2064
Sahih
It was narrated from Salamah bin Sakhr Al-Bayedi that:the Prophet (ﷺ) said concerning a man who declared Zihar upon his wife having intercourse with her before compensation: "Let him offer one expiation
سلمہ بن صخر بیاضی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہار کرنے والے شخص کے متعلق جو کفارہ کی ادائیگی سے پہلے جماع کر لے فرمایا: اس پر ایک ہی کفارہ ہے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ الْبَيَاضِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي الْمُظَاهِرِ يُوَاقِعُ قَبْلَ أَنْ يُكَفِّرَ قَالَ " كَفَّارَةٌ وَاحِدَةٌ " .
#2065
Hasan
It was narrated from Ibn 'Abbas that:a man declared Zihar upon his wife, then he had intercourse with her before offering expiation. He came to the Prophet (ﷺ) and told him about that. He said: "What made you do that?" He said: "I saw her ankles in the moonlight, and I could not control myself, and I had intercourse with her." The Messenger of Allah (ﷺ) smiled and told him not to go near her until he had offered expiation
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے ظہار کیا، اور کفارہ کی ادائیگی سے قبل ہی جماع کر لیا، چنانچہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے اس کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم نے ایسا کیوں کیا ؟ وہ بولا: اللہ کے رسول! میں نے اس کے پازیب کی سفیدی چاندنی رات میں دیکھی، میں بے اختیار ہو گیا، اور اس سے جماع کر بیٹھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے، اور اسے حکم دیا کہ کفارہ کی ادائیگی سے پہلے اس کے قریب نہ جائے۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلاً، ظَاهَرَ مِنِ امْرَأَتِهِ فَغَشِيَهَا قَبْلَ أَنْ يُكَفِّرَ فَأَتَى النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ " مَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ " . فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُ بَيَاضَ حِجْلَيْهَا فِي الْقَمَرِ فَلَمْ أَمْلِكْ نَفْسِي أَنْ وَقَعْتُ عَلَيْهَا . فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَأَمَرَهُ أَلاَّ يَقْرَبَهَا حَتَّى يُكَفِّرَ .
#2066
Sahih
It was narrated that Sahl bin Sa'd As-Sa'idi said:"Uwaimir came to 'Asim bin 'Adi and said: 'Ask the Messenger of Ailah (ﷺ) for me: "Do you think that if a man finds another man with his wife and kills him, he should be killed in retaliation, or what should he do?" 'Asim asked the Messenger of Allah (ﷺ) about that, and the Messenger of Allah (ﷺ) disapproved of the question. Then 'Uwaimir met him ('Asim) and asked him about that, saying: 'What did you do?’ He said: I did that and you have not brought me any good. I asked the Messenger of Allah (ﷺ) and he disapproved of this question.’ Uwaimir said: 'By Allah, I will go to the Messenger of Allah (ﷺ) myself and ask him.' So he went to the Messenger of Allah (ﷺ) and found that Qur'an had been revealed concerning them, and the Prophet (ﷺ) told them to go through the procedure of Li'an. 'Uwaimir said: 'O Messenger of Allah, (ﷺ) by Allah if I take her back, I would have been telling lies about her.' So he left her before the Messenger of Allah (ﷺ) told him to do so, and that became the Sunnah for two who engage in the procedure of Li'an. Then the Prophet (ﷺ) said: 'Wait and see. If she gives birth to a child who is black in color with widely-spaced dark eyes and large buttocks, then I think that he was telling the truth about her, but if she gives birth to a child with a red complexion like a Wahrah,[1] then I think that he was lying.' Then she gave birth to a child with features resembling those of the man concerning whom she was accused
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عویمر عجلانی ( رضی اللہ عنہ ) عاصم بن عدی ( رضی اللہ عنہ ) کے پاس آئے، اور کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میرے لیے یہ مسئلہ پوچھو کہ اگر کوئی مرد اپنی عورت کے ساتھ کسی اجنبی مرد کو ( زنا ) کرتے ہوئے پائے پھر اس کو قتل کر دے تو کیا اس کے بدلے اسے بھی قتل کر دیا جائے گا یا وہ کیا کرے؟ عاصم ( رضی اللہ عنہ ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے سوالات برے لگے ۱؎، پھر عویمر ( رضی اللہ عنہ ) عاصم ( رضی اللہ عنہ ) سے ملے اور پوچھا: تم نے کیا کیا؟ عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے کیا جو کیا یعنی پوچھا لیکن تم سے مجھے کوئی بھلائی نہیں پہنچی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے اس طرح کے سوالوں کو برا جانا، عویمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اللہ کی قسم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خود جاؤں گا اور آپ سے پوچھوں گا، چنانچہ وہ خود آپ کے پاس آئے تو دیکھا کہ ان دونوں کے بارے میں وحی اتر چکی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان لعان کرا دیا، عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! اب اگر اس عورت کو میں ساتھ لے جاؤں تو گویا میں نے اس پر تہمت لگائی چنانچہ انہوں نے اس کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے پہلے ہی چھوڑ دیا، پھر لعان کرنے والوں کے بارے میں یہ دستور ہو گیا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیکھو اگر عویمر کی عورت کالے رنگ کا، کالی آنکھوں والا، بڑی سرین والا بچہ جنے تو میں سمجھتا ہوں کہ عویمر سچے ہیں، اور اگر سرخ رنگ کا بچہ جنے جیسے وحرہ ( سرخ کیڑا ہوتا ہے ) تو میں سمجھتا ہوں وہ جھوٹے ہیں ۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر اس عورت کا بچہ بری شکل پہ پیدا ہوا۔
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ، مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ جَاءَ عُوَيْمِرٌ إِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ فَقَالَ سَلْ لِي رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَرَأَيْتَ رَجُلاً وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً فَقَتَلَهُ أَيُقْتَلُ بِهِ أَمْ كَيْفَ يَصْنَعُ فَسَأَلَ عَاصِمٌ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنْ ذَلِكَ فَعَابَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ الْمَسَائِلَ . ثُمَّ لَقِيَهُ عُوَيْمِرٌ فَسَأَلَهُ فَقَالَ مَا صَنَعْتَ فَقَالَ صَنَعْتُ أَنَّكَ لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَعَابَ الْمَسَائِلَ فَقَالَ عُوَيْمِرٌ وَاللَّهِ لآتِيَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَلأَسْأَلَنَّهُ . فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَوَجَدَهُ قَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ فِيهِمَا فَلاَعَنَ بَيْنَهُمَا فَقَالَ عُوَيْمِرٌ وَاللَّهِ لَئِنِ انْطَلَقْتُ بِهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ كَذَبْتُ عَلَيْهَا . قَالَ فَفَارَقَهَا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَصَارَتْ سُنَّةً فِي الْمُتَلاَعِنَيْنِ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " انْظُرُوهَا فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَسْحَمَ أَدْعَجَ الْعَيْنَيْنِ عَظِيمَ الأَلْيَتَيْنِ فَلاَ أُرَاهُ إِلاَّ قَدْ صَدَقَ عَلَيْهَا وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أُحَيْمِرَ كَأَنَّهُ وَحَرَةٌ فَلاَ أُرَاهُ إِلاَّ كَاذِبًا " . قَالَ فَجَاءَتْ بِهِ عَلَى النَّعْتِ الْمَكْرُوهِ .
#2067
Sahih
It was narrated from Ibn 'Abbas that:Hilal bin Umayyah accused his wife in the presence of the Prophet (ﷺ) of (committing adultery) with Sharik bin Sahma'. The Prophet said: "Bring proof or you will feel the Hadd (punishment) on your back." Hilal bin Umayyah said: "By the One Who sent you with the truth, I am telling the truth, and Allah will send down revelation concerning my situation which will spare my back." Then the following was revealed: "And for those who accuse their wives, but have no witnesses except themselves, let the testimony of one of them be four testimonies (i.e., testifies four times) by Allah that he is one of those who speak the truth. And the fifth (testimony should be) the invoking of the curse of Allah on him if he be of those who tell a lie (against her). But it shall avert the punishment (of stoning to death) from her, it she bears witness four times by Allah, that he (her husband) is telling a lie. And the fifth (testimony) should be that the wrath of Allah be upon her if he (her husband) speaks the truth." The Prophet (ﷺ), turned and sent for them, and they came. Hilal bin Umayyah stood up and bore witness, and the Prophet (ﷺ) said: "Allah knows that one of you is lying. Will either of you repent?" Then she stood up and affirmed her innocence. On the fifth time, meaning that the wrath of Allah be upon her if he (her husband) speaks the truth, they said to her: "It will invoke the wrath of Allah." Ibn 'Abbas said: "She hesitated and backed up, until we thought that she was going to recant. Then she said: 'By Allah, I cannot dishonor my people for ever.' Then the Prophet (ﷺ) said: 'Wait and see. If she gives birth to a child with black eyes, fleshy buttocks and big calves, then he is the son of Sharik bin Sahma'.' And she gave birth to such a child. Then the Prophet (ﷺ) said: 'Had it not the matter been settled by the Book of Allah, I would have punished her severely
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے شریک بن سحماء کے ساتھ ( بدکاری کا ) الزام لگایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم گواہ لاؤ ورنہ تمہاری پیٹھ پر کوڑے لگیں گے، ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں بالکل سچا ہوں، اور اللہ تعالیٰ میرے بارے میں کوئی ایسا حکم اتارے گا جس سے میری پیٹھ حد لگنے سے بچ جائے گی، راوی نے کہا: پھر یہ آیت اتری: «والذين يرمون أزواجهم ولم يكن لهم شهداء إلا أنفسهم» جو لوگ اپنی بیویوں کو تہمت لگاتے ہیں اور ان کے پاس اپنے سوا کوئی گواہ نہیں ہوتے… یہاں تک کہ اخیر آیت: «والخامسة أن غضب الله عليها إن كان من الصادقين» ( سورة النور: ۶-۹ ) تک پہنچے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوٹے اور ہلال اور ان کی بیوی دونوں کو بلوایا، وہ دونوں آئے، ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور گواہیاں دیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے، تو کوئی ہے توبہ کرنے والا ، اس کے بعد ان کی بیوی کھڑی ہوئی اور اس نے گواہی دی، جب پانچویں گواہی کا وقت آیا یعنی یہ کہنے کا کہ عورت پہ اللہ کا غضب نازل ہو اگر مرد سچا ہو تو لوگوں نے عورت سے کہا: یہ گواہی ضرور واجب کر دے گی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ یہ سن کر وہ عورت جھجکی اور واپس مڑی یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ اب وہ اپنی گواہی سے پھر جائے گی، لیکن اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں تو اپنے گھر والوں کو زندگی بھر کے لیے رسوا اور ذلیل نہیں کروں گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیکھو اگر اس عورت کو کالی آنکھوں والا، بھری سرین والا، موٹی پنڈلیوں والا بچہ پیدا ہو، تو وہ شریک بن سحماء کا ہے ، بالآخر اسی شکل کا لڑکا پیدا ہوا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اللہ کی کتاب کا فیصلہ جو ہو چکا نہ ہوا ہوتا تو میں اس عورت کے ساتھ ضرور کچھ سزا کا معاملہ کرتا ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، قَالَ أَنْبَأَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ هِلاَلَ بْنَ أُمَيَّةَ، قَذَفَ امْرَأَتَهُ عِنْدَ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِشَرِيكِ بْنِ سَحْمَاءَ فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " الْبَيِّنَةُ أَوْ حَدٌّ فِي ظَهْرِكَ " . فَقَالَ هِلاَلُ بْنُ أُمَيَّةَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنِّي لَصَادِقٌ وَلَيُنْزِلَنَّ اللَّهُ فِي أَمْرِي مَا يُبَرِّئُ ظَهْرِي . قَالَ فَنَزَلَتْ {وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلاَّ أَنْفُسُهُمْ} . حَتَّى بَلَغَ {وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ} . فَانْصَرَفَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمَا فَجَاءَا فَقَامَ هِلاَلُ بْنُ أُمَيَّةَ فَشَهِدَ وَالنَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ فَهَلْ مِنْ تَائِبٍ " . ثُمَّ قَامَتْ فَشَهِدَتْ فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ الْخَامِسَةِ {أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ} . قَالُوا لَهَا إِنَّهَا الْمُوجِبَةُ . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَتَلَكَّأَتْ وَنَكَصَتْ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهَا سَتَرْجِعُ فَقَالَتْ وَاللَّهِ لاَ أَفْضَحُ قَوْمِي سَائِرَ الْيَوْمِ . فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " انْظُرُوهَا فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ الْعَيْنَيْنِ سَابِغَ الأَلْيَتَيْنِ خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ فَهُوَ لِشَرِيكِ بْنِ سَحْمَاءَ " . فَجَاءَتْ بِهِ كَذَلِكَ فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لَوْلاَ مَا مَضَى مِنْ كِتَابِ اللَّهِ لَكَانَ لِي وَلَهَا شَأْنٌ " .
#2068
Sahih
It was narrated that 'Abdullah said:"We were in the mosque one Friday night when a man said: 'If a man finds a man with his wife and kills him, will you kill him, and if he speaks,will you flog him. By Allah I will mention that to the Prophet (ﷺ). So he mentioned that to the Prophet (ﷺ), and Allah revealed the Verses of Li'an. Then after that the man came and accused his wife, so the Prophet (ﷺ) told them to go through the procedure of Li'an and he said: 'Perhaps she will give birth to a black child.’ Then she gave birth to a black child with curly hair
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم جمعہ کی رات کو مسجد میں تھے کہ ایک شخص آ کر کہنے لگا اگر کوئی اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائے، پھر اس کو مار ڈالے، تو تم لوگ اس کو مار ڈالو گے، اور اگر زبان سے کچھ کہے تو تم اسے کوڑے لگاؤ گے، اللہ کی قسم میں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر ضرور کروں گا، آخر اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، تب اللہ تعالیٰ نے لعان کی آیتیں نازل فرمائیں، پھر وہ آیا اور اس نے اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان لعان کرایا اور فرمایا: میرا گمان ہے کہ شاید اس عورت کا بچہ کالا ہی پیدا ہو چنانچہ ایسا ہی ہوا، اس کے یہاں کالا گھونگھریالے بال والا بچہ پیدا ہوا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلاَّدٍ الْبَاهِلِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنَّا فِي الْمَسْجِدِ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ . فَقَالَ رَجُلٌ لَوْ أَنَّ رَجُلاً وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً فَقَتَلَهُ قَتَلْتُمُوهُ وَإِنْ تَكَلَّمَ جَلَدْتُمُوهُ وَاللَّهِ لأَذْكُرَنَّ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ . فَذَكَرَهُ لِلنَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَاتِ اللِّعَانِ . ثُمَّ جَاءَ الرَّجُلُ بَعْدَ ذَلِكَ يَقْذِفُ امْرَأَتَهُ فَلاَعَنَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بَيْنَهُمَا وَقَالَ " عَسَى أَنْ تَجِيءَ بِهِ أَسْوَدَ " . فَجَاءَتْ بِهِ أَسْوَدَ جَعْدًا .
#2069
Sahih
It was narrated from Ibn 'Umar that:a man invoked curses on his wife, and refused to accept her child. The Messenger of Allah (ﷺ) separated them, and left the child with the woman
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک مرد نے اپنی بیوی سے لعان کیا، اور اس کے بچے کا انکار کر دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں میں جدائی کرا دی اور بچہ کو ماں کو دیدیا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلاً، لاَعَنَ امْرَأَتَهُ وَانْتَفَى مِنْ وَلَدِهَا فَفَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بَيْنَهُمَا وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالْمَرْأَةِ .
#2070
Daif
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"A man from among the Ansar manried a wornan from Bal'ijlan. He entered upon her and spent the night with her, then in the morning he said: 'I did not find her to be a virgin.' Her case was taken to the Prophet (ﷺ), and he called the girl and asked her. She said: 'No, I was a virgin.' So he told thern to go through the procedure of Li'an, and gave her the bridal-money.” (D a'if)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ قبیلہ انصار کے ایک شخص نے قبیلہ بنی عجلان کی ایک عورت سے شادی کی، اور اس کے پاس رات گزاری، جب صبح ہوئی تو کہنے لگا: میں نے اسے کنواری نہیں پایا، آخر دونوں کا مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک لے جایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکی کو بلایا، اور اس سے پوچھا تو اس نے کہا: میں تو کنواری تھی، پھر آپ نے حکم دیا تو دونوں نے لعان کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو مہر دلوا دیا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَلَمَةَ النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ ذَكَرَ طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ تَزَوَّجَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ امْرَأَةً مِنْ بَلْعِجْلاَنَ فَدَخَلَ بِهَا فَبَاتَ عِنْدَهَا فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ مَا وَجَدْتُهَا عَذْرَاءَ فَرُفِعَ شَأْنُهَا إِلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَدَعَا الْجَارِيَةَ فَسَأَلَهَا فَقَالَتْ بَلَى قَدْ كُنْتُ عَذْرَاءَ . فَأَمَرَ بِهِمَا فَتَلاَعَنَا وَأَعْطَاهَا الْمَهْرَ .
#2071
Daif
It was nanated from 'Amr bin Shu'aib, from his father, from his grandfather, that:the Prophet (ﷺ) said: "There are four kinds of women for whom there is no Li'an: a Christian woman married to a Muslim, a Jewish woman married to a Muslim, a free woman married to a slave, and a slave woman married to a free man
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چار قسم کی عورتوں میں لعان نہیں ہے، ایک تو نصرانیہ جو کسی مسلمان کے نکاح میں ہو، دوسری یہودیہ جو کسی مسلمان کے نکاح میں ہو، تیسری آزاد عورت جو کسی غلام کے نکاح میں ہو، چوتھی لونڈی جو کسی آزاد مرد کے نکاح میں ہو ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْحَضْرَمِيُّ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنِ ابْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " أَرْبَعٌ مِنَ النِّسَاءِ لاَ مُلاَعَنَةَ بَيْنَهُنَّ النَّصْرَانِيَّةُ تَحْتَ الْمُسْلِمِ وَالْيَهُودِيَّةُ تَحْتَ الْمُسْلِمِ وَالْحُرَّةُ تَحْتَ الْمَمْلُوكِ وَالْمَمْلُوكَةُ تَحْتَ الْحُرِّ " .
#2072
Sahih
It was narrated that 'Aishah said:"The Messenger of Allah swore to keep away from his wives and declared them as unlawful for him, so he made something permissible forbidden, and he offered expiation for having sworn to do so
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں سے ایلاء کیا، اور اپنے اوپر حلال کو حرام ٹھہرا لیا ۱؎ اور قسم کا کفارہ ادا کیا ۲؎۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ، حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ آلَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مِنْ نِسَائِهِ وَحَرَّمَ فَجَعَلَ الْحَرَامَ حَلاَلاً . وَجَعَلَ فِي الْيَمِينِ كَفَّارَةً .
#2073
Sahih
It was narrated from Sa'eed bin Jubair that Ibn 'Abbas said:"For the one who makes unlawful is the swearing." (Sahih)And Ibn 'Abbas used to say: "You had the best example in the Messenger of Allah." (33:)
سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: حلال کو حرام کرنے میں قسم کا کفارہ ہے، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے تھے:«لقد كان لكم في رسول الله أسوة حسنة» ( سورة الاحزاب: 21 ) تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فِي الْحَرَامِ يَمِينٌ . وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ .
#2074
Sahih
It was narrated from Aishah that:she freed Barirah and the Messenger of Allah (ﷺ) gave her the choice, and she (Barirah) had a free husband
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کر دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اختیار دے دیا، ( کہ وہ اپنے شوہر کے پاس رہیں یا اس سے جدا ہو جائیں ) اور ان کے شوہر آزاد تھے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا أَعْتَقَتْ بَرِيرَةَ فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَكَانَ لَهَا زَوْجٌ حُرٌّ .
#2075
Sahih
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The husband of Barirah was a slave called Mughith. It is as if I can see him now, walking behind her and weeping, with tears running down his cheeks. The Prophet (ﷺ) said to 'Abbas: 'O Abbas, are you not amazed by the love of Mughith for Barirah, and the hatred of Barirah for Mughith?' And the Prophet said to her: Why don’t you take him back, for he is the father of your child?' She said: 'O Messenger of Allah, are you commanding me (to do so)?' He said: 'No, rather I am interceding.' She said: 'I have no need of him
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کا شوہر غلام تھا اس کو مغیث کہا جاتا تھا، گویا کہ میں اس وقت اس کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ بریرہ کے پیچھے پھر رہا ہے، اور رو رہا ہے اور اس کے آنسو اس کے گالوں پہ بہہ رہے ہیں، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عباس رضی اللہ عنہ سے فرما رہے ہیں: عباس! کیا تمہیں بریرہ سے مغیث کی محبت اور مغیث سے بریرہ کی نفرت پہ تعجب نہیں ہے ؟ چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ رضی اللہ عنہا سے کہا: کاش تو مغیث کے پاس لوٹ جاتی، وہ تیرے بچے کا باپ ہے ، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ مجھے حکم دے رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: نہیں، میں صرف سفارش کر رہا ہوں ، تو وہ بولی: مجھے مغیث کی کوئی ضرورت نہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ خَلاَّدٍ الْبَاهِلِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ عَبْدًا يُقَالُ لَهُ مُغِيثٌ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَطُوفُ خَلْفَهَا وَيَبْكِي وَدُمُوعُهُ تَسِيلُ عَلَى خَدِّهِ فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ لِلْعَبَّاسِ " يَا عَبَّاسُ أَلاَ تَعْجَبُ مِنْ حُبِّ مُغِيثٍ بَرِيرَةَ وَمِنْ بُغْضِ بَرِيرَةَ مُغِيثًا " . فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لَوْ رَاجَعْتِيهِ فَإِنَّهُ أَبُو وَلَدِكِ " . قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَأْمُرُنِي قَالَ " إِنَّمَا أَشْفَعُ " . قَالَتْ لاَ حَاجَةَ لِي فِيهِ .