#2001
Sahih
Thabit said:“We were sitting with Anas bin Mahk, and a daughter of his was with him. Anas said: 'A woman came to the Prophet and offered herself to him. She said: " O Messenger of Allah, do you have any need of me?"' His daughter said: 'How little modesty she had!' He said: 'She was better than you, because she wanted (to marry) the Messenger of Allah, and she offered herself to him
ثابت کہتے ہیں کہ ہم انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے تھے، ان کے پاس ان کی ایک بیٹی تھی، انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور خود کو آپ پر پیش کیا اور بولی: کیا آپ کو میری حاجت ہے؟ یہ سن کر انس رضی اللہ عنہ کی بیٹی بولی: اس کو کتنی کم حیاء ہے! اس پر انس رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ تجھ سے بہتر ہے، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں رغبت کی، اس لیے خود کو آپ پر پیش کیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، قَالَ كُنَّا جُلُوسًا مَعَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَعِنْدَهُ ابْنَةٌ لَهُ فَقَالَ أَنَسٌ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَعَرَضَتْ نَفْسَهَا عَلَيْهِ . فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لَكَ فِيَّ حَاجَةٌ فَقَالَتِ ابْنَتُهُ مَا أَقَلَّ حَيَاءَهَا . فَقَالَ هِيَ خَيْرٌ مِنْكِ رَغِبَتْ فِي رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَعَرَضَتْ نَفْسَهَا عَلَيْهِ .
#2002
Sahih
It was narrated that Abu Hurairah said:"A man from Banu Fazdrah came to the Messenger of Allah, and said: 'O Messenger of Allah, my wife has given birth to a black boy! The Messenger of Allah said: 'Do you have camels?' He said: 'Yes.' He said: 'What color are they?' He said: 'Red.' He said: 'Are there any grey ones among them?' He said: 'Yes, there are some grey ones among them.' He said: 'Where does that come from?' He said: 'Perhaps it is hereditary.' He said: 'Likewise, perhaps this is hereditary
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی فزارہ کا ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! میری بیوی نے ایک کالا کلوٹا بچہ جنا ہے! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں ؟ اس نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کے رنگ کیا ہیں ؟ اس نے کہا: سرخ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا ان میں کوئی خاکی رنگ کا بھی ہے ؟ اس نے کہا: ہاں، ان میں خاکی رنگ کے بھی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان میں خاکی رنگ کہاں سے آیا ؟ اس نے کہا: کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا ہو گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہاں بھی ( تیرے لڑکے میں ) کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا ہو گا ۱؎۔ یہ الفاظ محمد بن صباح کے ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ . فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلاَمًا أَسْوَدَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ " فَمَا أَلْوَانُهَا " . قَالَ حُمْرٌ . قَالَ " هَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ " . قَالَ إِنَّ فِيهَا لَوُرْقًا . قَالَ " فَأَنَّى أَتَاهَا ذَلِكَ " . قَالَ عَسَى عِرْقٌ نَزَعَهَا . قَالَ " وَهَذَا لَعَلَّ عِرْقًا نَزَعَهُ " . وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الصَّبَّاحِ .
#2003
Sahih
It was narrated from Ibn 'Umar that:a man frorn the desert people came to the Prophet and said: "O Messenger of Allah, my wife has given birth on my bed to a black boy, and there are no black people among my family." He said: "Do you have camels?" He said: "Yes." He said: "What color are they?" He said: "Red." He said: are there any black ones among them?" He said, "No." He said: "Are there any grey ones among them?" He said- "Yes." He said "How is that?" He said: "Perhaps it is hereditary." He said: "Perhaps (the color of) this son of yours is also hereditary
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک بدوی ( دیہاتی ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! میری بیوی نے ایک کالا کلوٹا لڑکا جنا ہے، اور ہم ایک ایسے گھرانے کے ہیں جس میں کبھی کوئی کالا نہیں ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں ؟ اس نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ان کے رنگ کیا ہیں ؟ اس نے کہا: سرخ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان میں کوئی سیاہ بھی ہے ؟ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا ان میں کوئی خاکی رنگ کا ہے ؟ اس نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ رنگ کہاں سے آیا ؟ اس نے کہا: ہو سکتا ہے کہ اسے کسی رگ نے کھینچ لیا ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر شاید تمہارے اس بچے کا بھی یہی حال ہو کہ اسے کسی رگ نے کھینچ لیا ہو ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبَاءَةُ بْنُ كُلَيْبٍ اللَّيْثِيُّ أَبُو غَسَّانَ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ بْنِ أَسْمَاءَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، . أَنَّ رَجُلاً، مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ أَتَى النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ عَلَى فِرَاشِي غُلاَمًا أَسْوَدَ وَإِنَّا أَهْلُ بَيْتٍ لَمْ يَكُنْ فِينَا أَسْوَدُ قَطُّ . قَالَ " هَلْ لَكَ مِنَ إِبِلٍ " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ " فَمَا أَلْوَانُهَا " . قَالَ حُمْرٌ . قَالَ " هَلْ فِيهَا أَسْوَدُ " . قَالَ لاَ . قَالَ " فَهَلْ فِيهَا أَوْرَقُ " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ " فَأَنَّى كَانَ ذَلِكَ " . قَالَ عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ . قَالَ " فَلَعَلَّ ابْنَكَ هَذَا نَزَعَهُ عِرْقٌ " .
#2004
Sahih
It was narrated that 'Aishah said:Ibn Zam'ah and Sa'd (Ibn Abu Waqqas) referred a dispute to the Prophet concerning the son of Zam'ah's slave woman. Sa'd said : " O Messenger of Allah my brother (Utbah bin Abu Waqqas) left instructions in his will that when I come to Makkah, I should look for the son of the slave woman of Zam'ah and take him into my care." 'Abd bin Zam’ah said: "He is my brother and the son of the slave woman of my father; he was born on my father's bed." The Prophet ffi saw that he resembled 'Utbah, and said: "He belongs to you, O 'Abd bin Zam'ah. The child is for the bed. Observe Hijab before him, O Saudah." (sahih)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ عبد بن زمعہ اور سعد رضی اللہ عنہما دونوں زمعہ کی لونڈی کے بچے کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جھگڑا لے گئے، سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! میرے بھائی ( عتبہ بن ابی وقاص ) نے مجھے وصیت کی ہے کہ جب میں مکہ جاؤں تو زمعہ کی لونڈی کے بچے کو دیکھوں، اور اس کو لے لوں، اور عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ میرا بھائی اور میرے باپ کی لونڈی کا بیٹا ہے، میرے باپ کے بستر پہ پیدا ہوا ہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچہ کی مشابہت عتبہ سے پائی تو فرمایا: عبد بن زمعہ! وہ بچہ تمہارا بھائی ہے ( گرچہ مشابہت سے عتبہ کا معلوم ہوتا ہے ) بچہ صاحب فراش ( شوہر یا مالک ) کا ہوتا ہے ۱؎، سودہ تم اس سے پردہ کرو ۲؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ إِنَّ عَبْدَ بْنَ زَمْعَةَ وَسَعْدًا اخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي ابْنِ أَمَةِ زَمْعَةَ . فَقَالَ سَعْدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْصَانِي أَخِي إِذَا قَدِمْتُ مَكَّةَ أَنْ أَنْظُرَ إِلَى ابْنِ أَمَةِ زَمْعَةَ فَأَقْبِضَهُ . وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ أَخِي وَابْنُ أَمَةِ أَبِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي . فَرَأَى النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ شَبَهَهُ بِعُتْبَةَ فَقَالَ " هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ . الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَاحْتَجِبِي عَنْهُ يَا سَوْدَةُ " .
#2005
Sahih
It was narrated from 'Umar that:the Messenger of Allah ruled that the child belonged to the bed
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلیاللہ علیہ وسلم نے صاحب فراش کے لیے بچے کا فیصلہ کیا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَضَى بِالْوَلَدِ لِلْفِرَاشِ .
#2006
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that:the Prophet said: "The child is for the bed (i.e., belongs to the husband) and the fornicator gets nothing
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچہ صاحب فراش کا ہے اور زانی کے لیے پتھر ہے ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ . وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ " .
#2007
Sahih
Shurahbil bin Muslim said:"I heard Abu Um Amah Al-Bahili say: 'I heard the Messenger of Allah say: "The child is for the bed and the fornicator gets nothing
ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: بچہ صاحب فراش کا ہے، اور زانی کے لیے پتھر ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ " .
#2008
Daif
It was narrated from Ibn 'Abbas that:a woman came to the Prophet and became Muslim, and a man married her. Then her first husband came and said: "O Messenger of Allah, I became Muslim with her, and she knew that I was Muslim." So the Messenger of Allah took her away from her second husband and returned her to her first husband
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اسلام قبول کیا، اور اس سے ایک شخص نے نکاح کر لیا، پھر اس کا پہلا شوہر آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! میں اپنی عورت کے ساتھ ہی مسلمان ہوا تھا، اور اس کو میرا مسلمان ہونا معلوم تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو دوسرے شوہر سے چھین کر پہلے شوہر کے حوالے کر دیا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ جُمَيْعٍ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ امْرَأَةً، جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَأَسْلَمَتْ . فَتَزَوَّجَهَا رَجُلٌ . قَالَ فَجَاءَ زَوْجُهَا الأَوَّلُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ كُنْتُ أَسْلَمْتُ مَعَهَا وَعَلِمَتْ بِإِسْلاَمِي . قَالَ فَانْتَزَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مِنْ زَوْجِهَا الآخَرِ وَرَدَّهَا إِلَى زَوْجِهَا الأَوَّلِ .
#2009
Sahih
It was narrated from Ibn 'Abbas that:the Messenger of Allah returned his daughter to Abul-'As bin Rabi' after two years, on the basis of the first marriage contract
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی زینب رضی اللہ عنہا کو ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ کے پاس دو سال کے بعد اسی پہلے نکاح پر بھیج دیا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلاَّدٍ، وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رَدَّ ابْنَتَهُ عَلَى أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ بَعْدَ سَنَتَيْنِ بِنِكَاحِهَا الأَوَّلِ .
#2010
Daif
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib, from his father, from his grand father, that:the Messenger of Allah, returned his daughter Zainab to Abul-As bin Rabi', with a new marriage contract
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی زینب رضی اللہ عنہا کو ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ کے پاس نئے نکاح پر بھیج دیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رَدَّ ابْنَتَهُ زَيْنَبَ عَلَى أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ بِنِكَاحٍ جَدِيدٍ .
#2011
Sahih
It was narrated that Judamah bint Wahb Al-Asadiyyah said:"I heard the Messenger of Allah say: 'I wanted to forbid intercourse with a nursing mother, but then (I saw that) the Persians and the Romans do this, and it does not kill their children.' And I heard him say/when he was asked about coitus interruptus: 'It is the disguised form of b.rryirg children alive
جدامہ بنت وہب اسدیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: میں نے ارادہ کیا کہ بچہ کو دودھ پلانے والی بیوی سے جماع کرنے کو منع کر دوں، پھر میں نے دیکھا کہ فارس اور روم کے لوگ ایسا کر رہے ہیں، اور ان کی اولاد نہیں مرتی اور جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے «عزل»کے متعلق پوچھا گیا تھا، تو میں نے آپ کو فرماتے سنا: وہ تو «وأدخفی» ( خفیہ طور زندہ گاڑ دینا ) ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ الْقُرَشِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ جُدَامَةَ بِنْتِ وَهْبٍ الأَسَدِيَّةِ، أَنَّهَا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " قَدْ أَرَدْتُ أَنْ أَنْهَى عَنِ الْغِيَالِ فَإِذَا فَارِسُ وَالرُّومُ يُغِيلُونَ فَلاَ يَقْتُلُونَ أَوْلاَدَهُمْ " . وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ وَسُئِلَ عَنِ الْعَزْلِ فَقَالَ " هُوَ الْوَأْدُ الْخَفِيُّ " .
#2012
Daif
It was narrated from Muhajir bin Abu Muslim, from Asma' bint Yazid bin Sakary who was his freed slave womary that:she heard the Messenger of Allah say: "Do not kill your children secretly, for by the One in Whose Hand is my soul, intercourse with a breastfeeding woman catches up with people when they are riding their horses (in battle) and wrestles them to the ground
اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: اپنی اولاد کو خفیہ طور پر قتل نہ کرو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے «غیل» سوار کو گھوڑے کی پیٹھ پر سے گرا دیتا ہے ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُهَاجِرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ الْمُهَاجِرَ بْنَ أَبِي مُسْلِمٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ السَّكَنِ، وَكَانَتْ، مَوْلاَتَهُ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " لاَ تَقْتُلُوا أَوْلاَدَكُمْ سِرًّا فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ الْغَيْلَ لَيُدْرِكُ الْفَارِسَ عَلَى ظَهْرِ فَرَسِهِ حَتَّى يَصْرَعَهُ " .
#2013
Daif
It was narrated that Abu Umamah said:"A woman came to the Prophet with two of her children, carrying one and leading the other. The Messenger of Allah said: 'They carry children and give birth to them and are compassionate. If they do not annoy their husbands, those among them who perform prayer will enter Paradise
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی، اس کے ساتھ دو بچے تھے، ایک کو وہ گود میں اٹھائے ہوئی تھی اور دوسرے کو کھینچ رہی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچوں کو اٹھانے والی، انہیں جننے والی، اور ان پر شفقت کرنے والی عورتیں اگر اپنے شوہروں کو تکلیف نہ دیتیں تو جو ان میں سے نماز کی پابند ہیں جنت میں جاتیں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ أَتَتِ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ امْرَأَةٌ مَعَهَا صَبِيَّانِ لَهَا قَدْ حَمَلَتْ أَحَدَهُمَا وَهِيَ تَقُودُ الآخَرَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " حَامِلاَتٌ وَالِدَاتٌ رَحِيمَاتٌ لَوْلاَ مَا يَأْتِينَ إِلَى أَزْوَاجِهِنَّ دَخَلَ مُصَلِّيَاتُهُنَّ الْجَنَّةَ " .
#2014
Sahih
It was narrated from Mu'adh bin Jabal that:the Messenger of Allah said: "No woman annoys her husband but his wife among houris (of Paradise) safs: 'Do not annoy him, may Allah destroy you, for he is just a temporary guest with you and soon he will leave you and join us
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی عورت اپنے شوہر کو تکلیف دیتی ہے تو حورعین میں سے اس کی بیوی کہتی ہے: اللہ تجھے ہلاک کرے، اسے تکلیف نہ دے، وہ تیرے پاس چند روز کا مہمان ہے، عنقریب تجھے چھوڑ کر ہمارے پاس آ جائے گا ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لاَ تُؤْذِي امْرَأَةٌ زَوْجَهَا إِلاَّ قَالَتْ زَوْجَتُهُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ لاَ تُؤْذِيهِ قَاتَلَكِ اللَّهُ فَإِنَّمَا هُوَ عِنْدَكِ دَخِيلٌ أَوْشَكَ أَنْ يُفَارِقَكِ إِلَيْنَا " .
#2015
Daif
It was narrated from Ibn 'Umar that:the Prophet, said: "What is Haram does not make what is Halal into what is Haram.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حرام کام حلال کو حرام نہیں کرتا ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُعَلَّى بْنِ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " لاَ يُحَرِّمُ الْحَرَامُ الْحَلاَلَ " .
#2016
Sahih
It was narrated from 'Umar bin Khattab that:the Messenger of Allah divorced Hafsah then took her back
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دے دی پھر رجوع کر لیا۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ، وَمَسْرُوقُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ، قَالُوا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ صَالِحِ بْنِ حَىٍّ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، . أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ طَلَّقَ حَفْصَةَ ثُمَّ رَاجَعَهَا .
#2017
Daif
It was narrated from Abu Musa that:the Messenger of Allah said: What is wrong with people who play with the limits imposed by Allah, and one of them says: "I divorce you, I take you back, I divorce you?
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں کا کیا حال ہے جو اللہ کے حدود سے کھیل کرتے ہیں، ان میں سے ایک اپنی بیوی سے کہتا ہے: میں نے تجھے طلاق دے دی پھر تجھ سے رجعت کر لی، پھر تجھے طلاق دے دی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَلْعَبُونَ بِحُدُودِ اللَّهِ يَقُولُ أَحَدُهُمْ قَدْ طَلَّقْتُكِ قَدْ رَاجَعْتُكِ . قَدْ طَلَّقْتُكِ " .
#2018
Daif
It was narrated from 'Abdullah bin 'Umar that:the Messenger of Allah said: "The most hated of permissible things to Allah is divorce
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حلال چیزوں میں اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ اور مبغوض چیز طلاق ہے ۔
حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْوَلِيدِ الْوَصَّافِيِّ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " أَبْغَضُ الْحَلاَلِ إِلَى اللَّهِ الطَّلاَقُ " .
#2019
Sahih
It was narrated that Ibn 'Umar said:"I divorced my wife when she was menstruating. 'Umar mentioned that to the Messenger of Allah and he said: 'Tell him to take her back until she becomes pure (i.e., her period ends), then she has her period (again), then she becomes pure (again), then if he wishes he may divorce her before having sexual relations with her, and if he wishes he may keep her. This is the waiting period that Allah has enjoined
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی، عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں حکم دو کہ اپنی بیوی سے رجوع کر لیں یہاں تک کہ وہ عورت حیض سے پاک ہو جائے پھر اسے حیض آئے، اور اس سے بھی پاک ہو جائے، پھر ابن عمر اگر چاہیں تو جماع سے پہلے اسے طلاق دے دیں، اور اگر چاہیں تو روکے رکھیں یہی عورتوں کی عدت ہے جس کا اللہ نے حکم دیا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ طَلَّقْتُ امْرَأَتِي وَهِيَ حَائِضٌ فَذَكَرَ ذَلِكَ عُمَرُ لِرَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ " مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ ثُمَّ تَطْهُرَ ثُمَّ إِنْ شَاءَ طَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يُجَامِعَهَا وَإِنْ شَاءَ أَمْسَكَهَا فَإِنَّهَا الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ " .
#2020
Sahih
It was narrated that Abdullah said:"Divorce according to the Sunnah means divorcing her when she is pure, ( i.e., not menstruating) and without having had intercourse with her (during that cycle)
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ طلاق سنی یہ ہے کہ عورت کو اس طہر میں ایک طلاق دے جس میں اس سے جماع نہ کیا ہو ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ طَلاَقُ السُّنَّةِ أَنْ يُطَلِّقَهَا طَاهِرًا مِنْ غَيْرِ جِمَاعٍ .
#2021
Sahih
It was narrated that 'Abdullah said:"Divorce according to the Sunnah means divorcing her with one divorce in each cycle when she is pure, then when she becomes pure the third time, then he pronounces divorce again, and after that she must wait one more menstrual cycle
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں طلاق سنی یہ ہے کہ عورت کو ہر طہر میں ایک طلاق دے، جب تیسری بار پاک ہو تو آخری طلاق دیدے، اور اس کے بعد عدت ایک حیض ہو گی ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ طَلاَقُ السُّنَّةِ يُطَلِّقُهَا عِنْدَ كُلِّ طُهْرٍ تَطْلِيقَةً فَإِذَا طَهُرَتِ الثَّالِثَةَ طَلَّقَهَا وَعَلَيْهَا بَعْدَ ذَلِكَ حَيْضَةٌ .
#2022
Sahih
It was narrated that Yunus bin Jubair, Abu Ghallab, said:"I asked Ibn 'Umar about a man who divorced his wife when she was menstruating. He said: 'Do you know 'Abdullah bin 'Umar? He divorced his wife when she was menstruating then 'Umar came to the Prophet (ﷺ) (and told him what had happened). He ordered him to take her back.' I said: 'Will that be counted (as a divorce)?' He said: 'Do You think he was helpless and behaving foolishly? [i.e., Yes, it counts (as a divorce]
ابو غلاب یونس بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جس نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی تو انہوں نے کہا: کیا تم عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو پہچانتے ہو؟ انہوں نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی تھی تو عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا تھا کہ ابن عمر رجوع کر لیں، میں نے پوچھا: کیا اس طلاق کا شمار ہو گا؟ انہوں نے کہا: تم کیا سمجھتے ہو، اگر وہ عاجز ہو جائے یا دیوانہ ہو جائے ( تو کیا وہ شمار نہ ہو گی یعنی ضرور ہو گی ) ۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ أَبِي غَلاَّبٍ، قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ رَجُلٍ، طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَقَالَ تَعْرِفُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَأَتَى عُمَرُ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَأَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا . قُلْتُ أَيُعْتَدُّ بِتِلْكَ قَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ عَجَزَ وَاسْتَحْمَقَ
#2023
Sahih
It was narrated from Ibn 'Umar that:he divorced his wife when she was menstruating, and 'Umar mentioned that to the Prophet (ﷺ). He said: "Tell him to take her back then divorce her when she is pure (not menstruating) or pregnant
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی، تو عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں حکم دو کہ رجوع کر لیں، پھر طہر کی یا حمل کی حالت میں طلاق دیں ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَذَكَرَ ذَلِكَ عُمَرُ لِلنَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ " مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ لِيُطَلِّقْهَا وَهِيَ طَاهِرٌ أَوْ حَامِلٌ " .
#2024
Sahih
It was narrated that 'Amir Sha'bi said:"I said to Fatimah bint Qais: 'Tell me about your divorce.' She said: 'My husband divorced me three times when he was leaving for Yemen, and the Messenger of Allah (ﷺ) allowed that
عامر شعبی کہتے ہیں کہ میں نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے کہا: آپ مجھ سے اپنی طلاق کے بارے میں بیان کریں، تو انہوں نے کہا: میرے شوہر نے یمن کے سفر پر نکلتے وقت مجھے تین طلاق دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو جائز رکھا ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، قَالَ قُلْتُ لِفَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ حَدِّثِينِي عَنْ طَلاَقِكِ، . قَالَتْ طَلَّقَنِي زَوْجِي ثَلاَثًا وَهُوَ خَارِجٌ إِلَى الْيَمَنِ فَأَجَازَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ .
#2025
Sahih
Imran bin Husain:was asked about a man who divorced his wife then had intercourse with her, and there were no witnesses to his divorcing her or his taking her back. 'Imran said: "You have divorced (her) in a manner that is not according to the Sunnah, and you have taken her back in a manner that is not according to the Sunnah. Bring people to witness your divorcing her and taking her back
مطرف بن عبداللہ بن شخیر سے روایت ہے کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو اپنی بیوی کو طلاق دیدے پھر اس سے جماع کرے، اور اپنی طلاق اور رجعت پہ کسی کو گواہ نہ بنائے؟ تو عمران رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے سنت کے خلاف طلاق دی، اور سنت کے خلاف رجعت کی، اپنی طلاق اور رجعت پہ گواہ بناؤ ۱؎۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلاَلٍ الصَّوَّافُ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ الْحُصَيْنِ، سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ، يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ ثُمَّ يَقَعُ بِهَا وَلَمْ يُشْهِدْ عَلَى طَلاَقِهَا وَلاَ عَلَى رَجْعَتِهَا . فَقَالَ عِمْرَانُ طَلَّقْتَ بِغَيْرِ سُنَّةٍ وَرَاجَعْتَ بِغَيْرِ سُنَّةٍ أَشْهِدْ عَلَى طَلاَقِهَا وَعَلَى رَجْعَتِهَا .