#1776
Sahih
It was narrated that ‘Aishah said:“I used to enter the house to relieve myself, and there was a sick person there, and I only inquired after him as I was passing through.” She said: “And the Messenger of Allah (ﷺ) would not enter the house except to relieve himself, then they were observing I’tikaf.”
عروہ بن زبیر اور عمرہ بنت عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں ( اعتکاف کی حالت میں ) گھر میں ضرورت ( قضائے حاجت ) کے لیے جاتی تھی، اور اس میں کوئی بیمار ہوتا تو میں اس کی بیمار پرسی چلتے چلتے کر لیتی تھی، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کی حالت میں ضرورت ہی کے تحت گھر میں جاتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ إِنْ كُنْتُ لأَدْخُلُ الْبَيْتَ لِلْحَاجَةِ وَالْمَرِيضُ فِيهِ فَمَا أَسْأَلُ عَنْهُ إِلاَّ وَأَنَا مَارَّةٌ . قَالَتْ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ لاَ يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلاَّ لِحَاجَةٍ إِذَا كَانُوا مُعْتَكِفِينَ .
#1777
Mawdu
It was narrated that Anas bin Malik said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘The person observing I’tikaf may attend funerals and visit the sick.’”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معتکف جنازہ کے ساتھ جا سکتا ہے، اور بیمار کی عیادت کر سکتا ہے ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا الْهَيَّاجُ الْخُرَاسَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الْخَالِقِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " الْمُعْتَكِفُ يَتْبَعُ الْجِنَازَةَ وَيَعُودُ الْمَرِيضَ " .
#1778
Sahih
It was narrated that ‘Aishah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) used to bring his head towards me when he was next door (observing I’tikaf), and I would wash it and comb his hair, when I was in my apartment and I was menstruating, and he was in the mosque.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کی حالت میں مسجد سے اپنا سر میری طرف بڑھا دیتے تو میں اسے دھو دیتی اور کنگھی کر دیتی، اس وقت میں اپنے حجرے ہی میں ہوتی، اور حائضہ ہوتی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں ہوتے ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يُدْنِي إِلَىَّ رَأْسَهُ وَهُوَ مُجَاوِرٌ فَأَغْسِلُهُ وَأُرَجِّلُهُ وَأَنَا فِي حُجْرَتِي وَأَنَا حَائِضٌ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ .
#1779
Sahih
It was narrated from Safiyyah bint Huyai, the wife of the Prophet (ﷺ), that she came to visit the Messenger of Allah (ﷺ) when he was in I’tikaf during the last ten days of the month of Ramadan. She spoke with him for a while during the evening, then she stood up to go back. The Messenger of Allah (ﷺ) got up to take her home. When she reached the door of the mosque that was by the home of Umm Salamah, the wife of the Prophet (ﷺ), two men from among the Ansar passed by them. They greeted the Messenger of Allah (ﷺ) with peace, then went away. The Messenger of Allah (ﷺ) said:“Take it easy, she is Safiyyah bint Huyai.” They said: “Glorious is Allah, O Messenger of Allah!” And they were very upset by that (i.e., that he thought they may have some doubts). The Messenger of Allah (ﷺ) said: “The Satan flows through the son of Adam like blood, and I was afraid that he might cast some doubt into your hearts.”
ام المؤمنین صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے کے لیے آئیں، اور آپ رمضان کے آخری عشرے میں مسجد کے اندر معتکف تھے، عشاء کے وقت کچھ دیر آپ سے باتیں کیں، پھر اٹھیں اور گھر جانے لگیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ انہیں پہنچانے کے لیے اٹھے، جب وہ مسجد کے دروازہ پہ پہنچیں جہاں پہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی رہائش گاہ تھی تو قبیلہ انصار کے دو آدمی گزرے، ان دونوں نے آپ کو سلام کیا، پھر چل پڑے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی جگہ ٹھہرو، یہ صفیہ بنت حیی ( میری بیوی ) ہیں ان دونوں نے کہا: سبحان اللہ، یا رسول اللہ! اور یہ بات ان دونوں پہ گراں گزری، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان انسان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے، مجھے خدشہ ہوا کہ کہیں شیطان تمہارے دل میں کوئی غلط بات نہ ڈال دے ۱؎۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ بْنِ مُوسَى بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَىٍّ، زَوْجِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنَّهَا جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ تَزُورُهُ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ فِي الْمَسْجِدِ فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ فَتَحَدَّثَتْ عِنْدَهُ سَاعَةً مِنَ الْعِشَاءِ ثُمَّ قَامَتْ تَنْقَلِبُ فَقَامَ مَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقْلِبُهَا حَتَّى إِذَا بَلَغَتْ بَابَ الْمَسْجِدِ الَّذِي كَانَ عِنْدَ مَسْكَنِ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مَرَّ بِهِمَا رَجُلاَنِ مِنَ الأَنْصَارِ فَسَلَّمَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ثُمَّ نَفَذَا فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " عَلَى رِسْلِكُمَا إِنَّهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَىٍّ " . قَالاَ سُبْحَانَ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَبُرَ عَلَيْهِمَا ذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنِ ابْنِ آدَمَ مَجْرَى الدَّمِ وَإِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَقْذِفَ فِي قُلُوبِكُمَا شَيْئًا " .
#1780
Sahih
‘Aishah said:“One of the wives of the Messenger of Allah (ﷺ) observed I’tikaf with him, and she used to see red and yellow discharge, and sometime she would put a basin beneath her.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کی بیویوں میں سے کسی نے اعتکاف کیا، تو وہ سرخی اور زردی دیکھتی تھیں، تو کبھی اپنے نیچے طشت رکھ لیتی تھیں ۱؎۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ اعْتَكَفَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَائِهِ فَكَانَتْ تَرَى الْحُمْرَةَ وَالصُّفْرَةَ فَرُبَّمَا وَضَعَتْ تَحْتَهَا الطَّسْتَ .
#1781
Daif
It was narrated from Ibn ‘Abbas that:The Messenger of Allah (ﷺ) said concerning the person observing I’tikaf. “He is refraining from sin and he will be given a reward like that of one who does all kinds of good deeds.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معتکف کے بارے میں فرمایا: اعتکاف کرنے والا تمام گناہوں سے رکا رہتا ہے، اور اس کو ان نیکیوں کا ثواب جن کو وہ نہیں کر سکتا ان تمام نیکیوں کے کرنے والے کی طرح ملے گا ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أُمَيَّةَ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ مُوسَى الْبُخَارِيُّ، عَنْ عَبِيدَةَ الْعَمِّيِّ، عَنْ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ فِي الْمُعْتَكِفِ " هُوَ يَعْكِفُ الذُّنُوبَ وَيُجْرَى لَهُ مِنَ الْحَسَنَاتِ كَعَامِلِ الْحَسَنَاتِ كُلِّهَا " .
#1782
Mawdu
It was narrated from Abu Umamah that the Prophet (ﷺ) said:“Whoever spends the nights of the two ‘Eid in praying voluntary prayers, seeking reward from Allah, his heart will not die on the Day when hearts will die.”
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص عیدین کی راتوں میں ثواب کی نیت سے اللہ کی عبادت کرے گا، تو اس کا دل نہیں مرے گا جس دن دل مردہ ہو جائیں گے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمَرَّارُ بْنُ حَمُّويَهْ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " مَنْ قَامَ لَيْلَتَىِ الْعِيدَيْنِ لِلَّهِ مُحْتَسِبًا لَمْ يَمُتْ قَلْبُهُ يَوْمَ تَمُوتُ الْقُلُوبُ " .
#1783
Sahih
Ibn Abbas(RAH) narrated that:the Prophet send Muadh to Yemen, and said: “You are going to some people among the People of the Book. Call them to bear witness that none has the right to be worshipped but Allah, and that I am the messenger of Allah. If they obey that, then tell them that Allah has enjoined upon them five prayers every day and night. If they obey that, then tell them that Allah has enjoined upon them charity (Zakat) from their wealth, to be taken from the rich and given to their poor. If they obey that, then beware of (taking) the best of their wealth. And beware of the supplication of the oppressed, for there is no barrier between and Allah.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی جانب بھیجا، اور فرمایا: تم اہل کتاب ( یہود و نصاریٰ ) کے پاس پہنچو گے، تم انہیں اس بات کی دعوت دینا کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں اس کا رسول ہوں، اگر وہ اسے مان لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر رات و دن میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں، اگر وہ اسے مان لیں تو بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے مالوں میں ان پر زکاۃ فرض کی ہے، جو ان کے مالداروں سے لی جائے گی اور انہیں کے محتاجوں میں بانٹ دی جائیگی، اگر وہ اس کو مان لیں تو پھر ان کے عمدہ اور نفیس مال وصول کرنے سے بچے رہنا ۱؎ ( بلکہ زکاۃ میں اوسط مال لینا ) ، اور مظلوم کی بد دعا سے بھی بچنا، اس لیے کہ اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں ہے ۲؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ الْمَكِّيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ فَقَالَ " إِنَّكَ تَأْتِي قَوْمًا أَهْلَ كِتَابٍ فَادْعُهُمْ إِلَى شَهَادَةِ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً فِي أَمْوَالِهِمْ تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ فَتُرَدُّ فِي فُقَرَائِهِمْ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ فَإِيَّاكَ وَكَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهَا لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ " .
#1784
Sahih
Abdullah bin Masud (RAH) narrated that:the Messenger of Allah said: “There is no one who does not pay Zakat on his wealth but a bald headed snake will be made to appear to him on the Day of Resurrection, until it encircles his neck.” Then the messenger of Allah recited the following Verse from the Book of Allah the Most High: “And let not those who covetously withhold of that which Allah had bestowed on them of His Bounty(wealth) think that is good for them”
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی اپنے مال کی زکاۃ ادا نہیں کرتا اس کا مال قیامت کے دن ایک گنجا سانپ بن کر آئے گا، اور اس کے گلے کا طوق بن جائے گا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ثبوت کے لیے قرآن کی یہ آیت پڑھی: «ولا يحسبن الذين يبخلون بما آتاهم الله من فضله» یعنی اور جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ( کچھ ) مال دیا ہے، اور وہ اس میں بخیلی کرتے ہیں، ( فرض زکاۃ ادا نہیں کرتے ) تو اس بخیلی کو اپنے حق میں بہتر نہ سمجھیں بلکہ بری ہے، ان کے لیے جس ( مال ) میں انہوں نے بخیلی کی ہے، وہی قیامت کے دن ان ( کے گلے ) کا طوق ہوا چاہتا ہے، اور آسمانوں اور زمین کا وارث ( آخر ) اللہ تعالیٰ ہی ہو گا، اور جو تم کرتے ہو ( سخاوت یا بخیلی ) اللہ تعالیٰ کو اس کی خبر ہے ( سورۃ آل عمران: ۱۸۰ ) ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَعْيَنَ، وَجَامِعِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ، سَمِعَا شَقِيقَ بْنَ سَلَمَةَ، يُخْبِرُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " مَا مِنْ أَحَدٍ لاَ يُؤَدِّي زَكَاةَ مَالِهِ إِلاَّ مُثِّلَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ حَتَّى يُطَوِّقَ عُنُقَهُ " . ثُمَّ قَرَأَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مِصْدَاقَهُ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى (وَلاَ يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ} الآيَةَ .
#1785
Sahih
Abu Dharr narrated that:the Messenger of Allah said: “There is no now owner of camels, sheeps or cattle who does not pay Zakat on them, but they will come on the Day of Resurrection as big and as fat as they ever were, butting him with their horns and trampling him with their hooves. Every time the of them has passed, the first of them will come back to him, until judgment is passed upon the people.”
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی اونٹ، بکری اور گائے والا اپنے مال کی زکاۃ ادا نہیں کرتا، تو اس کے جانور قیامت کے دن اس سے بہت بڑے اور موٹے بن کر آئیں گے جتنے وہ تھے، وہ اسے اپنی سینگوں سے ماریں گے اور کھروں سے روندیں گے، جب اخیر تک سب جا نور ایسا کر چکیں گے تو پھر باربار تمام جانور ایسا ہی کرتے رہیں گے یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ وَلاَ غَنَمٍ وَلاَ بَقَرٍ لاَ يُؤَدِّي زَكَاتَهَا إِلاَّ جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْظَمَ مَا كَانَتْ وَأَسْمَنَهُ تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا كُلَّمَا نَفِدَتْ أُخْرَاهَا عَادَتْ عَلَيْهِ أُولاَهَا . حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ " .
#1786
Hasan Sahih
Abu Hurairah narrated that:the Messenger of Allah said: “The camels on which the dues (i.e. Zakat) were not paid will come, trampling their owners with their hooves. And cattle and sheep will come and trample at their owners with their hooves and butt them with their horns, And hoarded treasure will come in the form of a bald-headed snale, and will meet its owner on the Day of Resurrection. Its owner will flee from it two time, then it will come to him and he will flee again, and will say: 'What do I have to do with you?' and it will say: 'I am your hoarded treasure, I am your hoarded treasure.' He will try to shield himself with this hand and it will devour it.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جن اونٹوں کی زکاۃ نہیں دی گئی وہ آئیں گے اور اپنے مالک کو اپنے پاؤں سے روندیں گے، اور گائیں اور بکریاں آئیں گی وہ اپنے مالک کو اپنے کھروں سے روندیں گی اور اسے سینگوں سے ماریں گی، اور اس کا خزانہ ایک گنجا سانپ بن کر آئے گا، اور اپنے مالک سے قیامت کے دن ملے گا، اس کا مالک اس سے دور بھاگے گا، پھر وہ اس کے سامنے آئے گا تو وہ بھاگے گا، اور کہے گا: آخر تو میرے پیچھے کیوں پڑا ہے؟ وہ کہے گا: میں تیرا خزانہ ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں، آخر مالک اپنے ہاتھ کے ذریعہ اس سے اپنا بچاؤ کرے گا لیکن وہ اس کا ہاتھ ڈس لے گا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ، مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " تَأْتِي الإِبِلُ الَّتِي لَمْ تُعْطِ الْحَقَّ مِنْهَا تَطَأُ صَاحِبَهَا بِأَخْفَافِهَا وَتَأْتِي الْبَقَرُ وَالْغَنَمُ تَطَأُ صَاحِبَهَا بِأَظْلاَفِهَا وَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَيَأْتِي الْكَنْزُ شُجَاعًا أَقْرَعَ فَيَلْقَى صَاحِبَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَفِرُّ مِنْهُ صَاحِبُهُ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ يَسْتَقْبِلُهُ فَيَفِرُّ صَاحِبُهُ فَيَقُولُ مَالِي وَلَكَ . فَيَقُولُ أَنَا كَنْزُكَ أَنَا كَنْزُكَ . فَيَتَّقِيهِ بِيَدِهِ فَيَلْقَمُهَا .
#1787
Sahih
Khalid bin Aslam, the freed slave of Umar bin Khattab, said:“I went out with Abdullah bin Umar, and a Bedouin met him and recited to him the words of Allah: 'And those who hoard up gold and silver (the money, the Zakah of which has not been paid) and spend them not in the way of Allah.' Ibn Umar Said to him: 'The one who hoards it and does not pay Zakat due on it, woe to him. But this was before the (ruling on) Zakat was revealed. When it was revealed, Allah made it a purification of wealth.' Then he turned away and said: 'I do not mind if I have the (the equivalent of) Uhud in gold, provided that I know how much it is and I pay Zakat on it, and I use it in obedience of Allah, the Mighty and Sublime'”
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے غلام خالد بن اسلم کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ جا رہا تھا کہ ان سے ایک اعرابی ( دیہاتی ) ملا، اور آیت کریمہ: «والذين يكنزون الذهب والفضة ولا ينفقونها في سبيل الله» ( سورة التوبة: 34 ) جو لوگ سونے اور چاندی کو خزانہ بنا کر رکھتے ہیں، اور اسے اللہ کی راہ میں صرف نہیں کرتے کے متعلق ان سے پوچھنے لگا کہ اس سے کون لوگ مراد ہیں؟ تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: جس نے اسے خزانہ بنا کر رکھا، اور اس کی زکاۃ ادا نہیں کی، تو اس کے لیے ہلاکت ہے، یہ آیت زکاۃ کا حکم اترنے سے پہلے کی ہے، پھر جب زکاۃ کا حکم اترا تو اللہ تعالیٰ نے اسے مالوں کی پاکی کا ذریعہ بنا دیا، پھر وہ دوسری طرف متوجہ ہوئے اور بولے: اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو جس کی تعداد مجھے معلوم ہو، اور اس کی زکاۃ ادا کرتا رہوں، اور اللہ کے حکم کے مطابق اس کو استعمال کرتا رہوں، تو مجھے کوئی پروا نہیں ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ أَسْلَمَ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَلَحِقَهُ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ لَهُ قَوْلُ اللَّهِ {وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلاَ يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ} قَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ مَنْ كَنَزَهَا فَلَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهَا فَوَيْلٌ لَهُ إِنَّمَا كَانَ هَذَا قَبْلَ أَنْ تُنْزَلَ الزَّكَاةُ فَلَمَّا أُنْزِلَتْ جَعَلَهَا اللَّهُ طَهُورًا لِلأَمْوَالِ . ثُمَّ الْتَفَتَ فَقَالَ مَا أُبَالِي لَوْ كَانَ لِي أُحُدٌ ذَهَبًا أَعْلَمُ عَدَدَهُ وَأُزَكِّيهِ وَأَعْمَلُ فِيهِ بِطَاعَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ .
#1788
Daif
Abu Hurairah narrated that:the Messenger of Allah said: “When you pay Zakat on your wealth, then you have done what is required to you.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نے اپنے مال کی زکاۃ ادا کر دی، تو تم نے وہ حق ادا کر دیا جو تم پر تھا
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ أَبِي السَّمْحِ، عَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " إِذَا أَدَّيْتَ زَكَاةَ مَالِكَ فَقَدْ قَضَيْتَ مَا عَلَيْكَ " .
#1789
Daif Munkar
Fatima bint Qais narrated that:she heard him, meaning the Prophet say: “There is nothing due on wealth other then Zakat.”
فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: مال میں زکاۃ کے علاوہ کوئی حق نہیں ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنَّهَا سَمِعَتْهُ - تَعْنِي النَّبِيَّ، ـ صلى الله عليه وسلم ـ - يَقُولُ " لَيْسَ فِي الْمَالِ حَقٌّ سِوَى الزَّكَاةِ " .
#1790
Hasan
Ali narrated that:the Messenger of Allah said: “I have exempted you from having to pay Zakat on horses and slaves, bring one quarter of one-tenth of every forty Dirhan: one Dirham.”
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے گھوڑوں اور غلاموں کی زکاۃ معاف کر دی ہے، لیکن نقد پیسوں میں سے چالیسواں حصہ دو، ہر چالیس درہم میں ایک درہم کے حساب سے ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنِّي قَدْ عَفَوْتُ لَكُمْ عَنْ صَدَقَةِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ وَلَكِنْ هَاتُوا رُبُعَ الْعُشُورِ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمًا " .
#1791
Sahih
Ibn 'Umar and 'Aishah narrated that:that from every twenty Dinar or more. The Prophet used to take half a Dinar and from forty Dinar, one Dinar
عبداللہ بن عمر اور ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر بیس دینار یا اس سے زیادہ میں آدھا دینار لیتے تھے، اور چالیس دینار میں ایک دینار کے حساب سے لیتے تھے۔
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالاَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَعَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ يَأْخُذُ مِنْ كُلِّ عِشْرِينَ دِينَارًا فَصَاعِدًا نِصْفَ دِينَارٍ وَمِنَ الأَرْبَعِينَ دِينَارًا دِينَارًا .
#1792
Sahih
It was narrated that :Aishah said: “I heard the Messenger of Allah(ﷺ) say: 'There is not Zakat on wealth until Hawl (one year) has passed.' ”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: کسی بھی مال پر اس وقت تک زکاۃ نہیں ہے جب تک کہ اس پر سال نہ گزر جائے ۱؎۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا حَارِثَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " لاَ زَكَاةَ فِي مَالٍ حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ " .
#1793
Sahih
Abu Sa'eed Al-Khudri narrated that :he heard the Prophet say: ”There is no sadaqah on anything less than five Awsaq of dates, five Awaq of silver and five camels.”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: پانچ وسق سے کم کھجور میں زکاۃ نہیں ہے، اور پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکاۃ نہیں ہے، اور پانچ اونٹوں سے کم میں زکاۃ نہیں ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ، وَعَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " لاَ صَدَقَةَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسَاقٍ مِنَ التَّمْرِ وَلاَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ وَلاَ فِيمَا دُونَ خَمْسٍ مِنَ الإِبِلِ " .
#1794
Sahih
It was narrated from Jabir bin 'Abdullah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"There is no Sadaqah on less than five camels; there is no Sadaqah on less than five Awaq; and there is no Sadaqah on less than five Awsaq
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ اونٹ سے کم میں زکاۃ نہیں ہے، اور پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکاۃ نہیں ہے، اور پانچ وسق سے کم اناج یا میوہ میں زکاۃ نہیں ہے ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسَاقٍ صَدَقَةٌ " .
#1795
Hasan
Ali bin Abu Talib narrated that :Abbas asked the Prophet about paying his Sadaqah before it is due, and he granted him permission to do that
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عباس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی زکاۃ پیشگی ادا کرنے کے متعلق پوچھا تو آپ نے انہیں اس کی رخصت دی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ حُجَيَّةَ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّ الْعَبَّاسَ، سَأَلَ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي تَعْجِيلِ صَدَقَتِهِ قَبْلَ أَنْ تَحِلَّ فَرَخَّصَ لَهُ فِي ذَلِكَ .
#1796
Sahih
Abdullah bin Abu Awfa said:“Whenever a man brought Sadaqah to the Messenger of Allah, he would bless him. I brought him the Sadaqah of my wealth and he said: 'Allhumma, salli ala ali abi awfa(O Allah! Send blessing upon the family of Abu Awfa).' ”
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی اپنے مال کی زکاۃ لاتا تو آپ اس کے لیے دعا فرماتے، میں بھی آپ کے پاس اپنے مال کی زکاۃ لے کر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللهم صل على آل أبي أوفى» اے اللہ! ابواوفی کی اولاد پر اپنی رحمت نازل فرما ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى، يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِذَا أَتَاهُ الرَّجُلُ بِصَدَقَةِ مَالِهِ صَلَّى عَلَيْهِ فَأَتَيْتُهُ بِصَدَقَةِ مَالِي فَقَالَ " اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى " .
#1797
Mawdu
Abu Hurairah narrated that :the Messenger of Allah(ﷺ) said: “When you give Zakat, do not forget its reward, and say 'Allahummaj-'alha maghnaman wa la taj-'alha maghrama (O Allah! Make it a gain and do not make it a loss).' ” (Maudu)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم زکاۃ دو اس کا ثواب نہ بھول جاؤ، بلکہ یوں کہو: «اللهم اجعلها مغنما ولا تجعلها مغرما» اے اللہ! تو اسے ہمارے لیے مال غنیمت بنا دے، اسے تاوان نہ بنا ۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْبَخْتَرِيِّ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِذَا أَعْطَيْتُمُ الزَّكَاةَ فَلاَ تَنْسَوْا ثَوَابَهَا أَنْ تَقُولُوا اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا مَغْنَمًا وَلاَ تَجْعَلْهَا مَغْرَمًا " .
#1798
Sahih
Ibn Shihab narrated from Salim bin Abdullah, from his father, from the Prophet(ﷺ):Ibn Shihab said: “Salim read to me a letter that the Messenger of Allah had written concerning Sadaqat, before Allah caused him to pass away, in which it was said: 'For five camels one sheep; for ten, two sheep; for twenty, four sheep. For twenty five, a Bint Makhad(a one year old she-camel), up to thirty-five; if there is no Bint Makhad, then a Bin Labun ( a two-year-old male camel). If there are more than thirty-five even one, then a Bint Labun ( a two-year-old she-camel) must be given up to forty-five. If there are more than forty-five, even one, then a Hiqqah (a three-year-old she-camel), up to sixty camels. If there are more than sixty, even one more, then a Jadha'ah ( a four-year-old she-camel) must be given, up to seventy-five. If there are more than seventy-five, even one more, then two Bint Labun must be given, upto ninety. If there are more than ninety, even one more, then two Hiqqah must be given, up to one hundred and twenty. If there are many camels, then for each fifty, one Hiqqah must be given and for each forty a Bint Labun' ”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ مجھے سالم نے ایک تحریر پڑھوائی، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکاۃ کے بیان میں اپنی وفات سے پہلے لکھوائی تھی، اس تحریر میں میں نے یہ لکھا پایا: پانچ اونٹ میں ایک بکری ہے، اور دس اونٹ میں دو بکریاں ہیں، اور پندرہ اونٹ میں تین بکریاں ہیں، اور بیس اونٹ میں چار بکریاں ہیں، اور پچیس سے پینتیس اونٹوں تک میں ایک بنت مخاض ۱؎ ہے، اگر بنت مخاض نہ ہو تو ابن لبون ۲؎ ہے، اور اگر پینتیس سے ایک بھی زیادہ ہو جائے تو ۴۵ تک بنت لبون ۳؎ ہے، اور اگر ۴۵ سے بھی زیادہ ہو جائے تو ساٹھ تک ایک حقہ ۴؎ ہے، اور اگر ساٹھ سے ایک بھی زیادہ ہو جائے، تو ۷۵ تک ایک جذعہ ۵؎، اور اگر ۷۵ سے ایک بھی زیادہ ہو جائے تو نوے تک دو بنت لبون ہیں، اور اگر نوے سے ایک بھی زیادہ ہو جائے تو ۱۲۰ تک دو حقے ہیں، اور اگر ۱۲۰ سے زیادہ ہوں تو ہر پچاس میں ایک حقہ، اور ہر چالیس میں ایک بنت لبون ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ أَقْرَأَنِي سَالِمٌ كِتَابًا كَتَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي الصَّدَقَاتِ قَبْلَ أَنْ يَتَوَفَّاهُ اللَّهُ فَوَجَدْتُ فِيهِ " فِي خَمْسٍ مِنَ الإِبِلِ شَاةٌ وَفِي عَشْرٍ شَاتَانِ وَفِي خَمْسَ عَشْرَةَ ثَلاَثُ شِيَاهٍ وَفِي عِشْرِينَ أَرْبَعُ شِيَاهٍ وَفِي خَمْسٍ وَعِشْرِينَ بِنْتُ مَخَاضٍ إِلَى خَمْسٍ وَثَلاَثِينَ فَإِنْ لَمْ تُوجَدْ بِنْتُ مَخَاضٍ فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ فَإِنْ زَادَتْ عَلَى خَمْسٍ وَثَلاَثِينَ وَاحِدَةً فَفِيهَا بِنْتُ لَبُونٍ إِلَى خَمْسَةٍ وَأَرْبَعِينَ فَإِنْ زَادَتْ عَلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ وَاحِدَةً فَفِيهَا حِقَّةٌ إِلَى سِتِّينَ فَإِنْ زَادَتْ عَلَى سِتِّينَ وَاحِدَةً فَفِيهَا جَذَعَةٌ إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ فَإِنْ زَادَتْ عَلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ وَاحِدَةً فَفِيهَا ابْنَتَا لَبُونٍ إِلَى تِسْعِينَ فَإِنْ زَادَتْ عَلَى تِسْعِينَ وَاحِدَةً فَفِيهَا حِقَّتَانِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَإِذَا كَثُرَتْ فَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ " .
#1799
Hasan
It was narrated that:that Abu Sa'eed Al-Khudri said: “The Messenger of Allah said: 'There is no Sadaqah on any less then five camels, or for four. If the number of camels reaches five then one sheep must be given, up to nine. If the number reaches ten, then two sheep must be given, up to fourteen. If the number reaches fifteen, then three sheep must be given, up to nineteen. If the number reaches twenty, then four sheep must be given, up to twenty-four. If the number reaches twenty-five, then a Bint Makhad (a one year old she-camel), must be given up to thirty-five; if there is not Bint Makhad, then a Bin Labun (a two-year-old male camel). If there are more camels then a Bint Labun (a two-year-old she-camel) up to forty-five. If there are more camels then a Hiqqah (a three-year-old she-camel) must be given up to sixty. If there are more camels then a Jadha'ah (a five-year-old she-camel) must be given up to seventy-five. If there are more camels, then two Bint Labun must be given, up to ninety. If there are more camels, then two Hiqqah must be given, up to one hundred and twenty. The for each fifty, one Hiqqah, and for each forty, a Bint Labun.' ”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ اونٹوں سے کم میں زکاۃ نہیں ہے، اور چار میں کچھ نہیں ہے، جب پانچ اونٹ ہو جائیں تو نو تک ایک بکری ہے، جب دس ہو جائیں تو چودہ تک دو بکریاں ہیں، اور جب پندرہ ہو جائیں تو ۱۹ تک تین بکریاں ہیں، اور جب بیس ہو جائیں تو ۲۴ تک چار بکریاں ہیں، اور جب پچیس ہو جائیں تو ۳۵ تک بنت مخاض ( ایک سال کی اونٹنی ) ہے، اور اگر ایک سال کی اونٹنی نہ ہو تو ایک ابن لبون ( دو سال کا ایک اونٹ ) ہے، اور اگر ۳۵ سے ایک اونٹ بھی زیادہ ہو جائے تو ۴۵ تک بنت لبون ( دو سال کی ایک اونٹنی ) ہے، اور اگر ۴۵ سے ایک اونٹ بھی زیادہ ہو جائے تو ساٹھ تک حقہ ( تین سال کی ایک اونٹنی ) ہے، اور اگر ۶۰ سے ایک اونٹ بھی زیادہ ہو جائے تو ۷۵ تک جذعہ ( چار سال کی ایک اونٹنی ) ہے، اور اگر ۷۵ سے ایک اونٹ بھی زیادہ ہو جائے تو ۹۰ تک دو بنت لبون ( دو سال کی دو اونٹنیاں ) ہیں، اور اگر ۹۰ سے ایک اونٹ بھی زیادہ ہو جائے تو ۱۲۰ تک دو حقہ ( تین سال کی دو اونٹنیاں ) ہیں، پھر ہر پچاس میں ایک حقہ ( تین سال کی ایک اونٹنی ) ، اور ہر چالیس میں بنت لبون ( دو سال کی ایک اونٹنی ) ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ خُوَيْلِدٍ النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السُّلَمِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسٍ مِنَ الإِبِلِ صَدَقَةٌ وَلَيْسَ فِي الأَرْبَعِ شَىْءٌ فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا فَفِيهَا شَاةٌ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ تِسْعًا فَإِذَا بَلَغَتْ عَشْرًا فَفِيهَا شَاتَانِ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ أَرْبَعَ عَشْرَةَ فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسَ عَشْرَةَ فَفِيهَا ثَلاَثُ شِيَاهٍ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ تِسْعَ عَشْرَةَ فَإِذَا بَلَغَتْ عِشْرِينَ فَفِيهَا أَرْبَعُ شِيَاهٍ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ أَرْبَعًا وَعِشْرِينَ فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ فَفِيهَا بِنْتُ مَخَاضٍ إِلَى خَمْسٍ وَثَلاَثِينَ فَإِذَا لَمْ تَكُنْ بِنْتُ مَخَاضٍ فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ فَإِنْ زَادَتْ بَعِيرًا فَفِيهَا بِنْتُ لَبُونٍ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ خَمْسًا وَأَرْبَعِينَ فَإِنْ زَادَتْ بَعِيرًا فَفِيهَا حِقَّةٌ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ سِتِّينَ فَإِنْ زَادَتْ بَعِيرًا فَفِيهَا جَذَعَةٌ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ خَمْسًا وَسَبْعِينَ فَإِنْ زَادَتْ بَعِيرًا فَفِيهَا بِنْتَا لَبُونٍ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ تِسْعِينَ فَإِنْ زَادَتْ بَعِيرًا فَفِيهَا حِقَّتَانِ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ عِشْرِينَ وَمِائَةً ثُمَّ فِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ " .
#1800
Sahih
Anas bin Malik narrated that:Abu Bakr Siddiq wrote to him: “In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful. This is the obligation of Sadaqah which the Messenger of Allah enjoined upon the Muslims, as Allah commanded the Messenger of Allah. The ages of camels to be given (in Zakat) may be made up in sheep. So if a man has camels on which the Sadaqah is a Jadha'ah (a four-year-old she-camel) and he does not have a Jadha'ah but he has a Hiqqah (a three year old she-camel), then the Hiqqah should be accepted from him, and two sheep should be given (in addition), if they are readily available, or twenty Dirham. If a man has camels on which the Sadaqah is a Hiqqah, and he only has a Bin Labun( a two-year-old she-camel), then the Bint Labun should be accepted from him, along with two sheep or twenty Dirhams.If a man has camels on which the sadaqah is a Bint Labun, and he does not have one, but he has a Hiqqah, then it should be accepted from him, and the Zakat collector should give him back twenty Dirham or two sheep. If a man has camels on which Sadaqah is a Bint Labun, and he does not have one, but he has a Bint Makhad(a one-year-old she-camel), then the Bint Makhad should be accepted from him, along with twenty Dirham or two sheep. If a man has camels on which the Sadaqah is a Bint Makhad, and he does not have one, but he has a Bint Labun, then the Bint Labun should be accepted from him, and the Zakat collector should give him back twenty Dirhams or two sheep. Whoever does not have a Bint Makhad, but he has a Bint Labun (a two-year-old male camel), then it should be accepted from him and nothing else should be given along with it.' ”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انہیں لکھا: «بسم الله الرحمن الرحيم» یہ فریضہ زکاۃ کا نصاب ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں پر فرض قرار دیا ہے، اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اس کا حکم دیا، زکاۃ کے اونٹوں کی مقررہ عمروں میں کمی بیشی کی تلافی اس طرح ہو گی کہ جس کو زکاۃ میں جذعہ ( ۴ چار سال کی اونٹنی ) ادا کرنی ہو جو اس کے پاس نہ ہو بلکہ حقہ ( تین سالہ اونٹنی ) ہو تو وہی لے لی جائے گی، اور کمی کے بدلے دو بکریاں لی جائیں گی، اگر اس کے پاس ہوں، ورنہ بیس درہم لیا جائے گا، اور جس شخص کو حقہ بطور زکاۃ ادا کرنا ہو اور اس کے پاس وہ نہ ہو بلکہ بنت لبون ہو تو اس سے بنت لبون قبول کر لی جائے گی، اور وہ اس کے ساتھ دو بکریاں یا بیس درہم دے گا، اور جس کو زکاۃ میں بنت لبون ادا کرنی ہو اور اس کے پاس بنت لبون نہ ہو بلکہ حقہ ہو تو اس سے حقہ لیا جائے گا، اور زکاۃ وصول کرنے والا اسے بیس درہم یا دو بکریاں دے گا، اور جسے زکاۃ میں بنت لبون ادا کرنی ہو، اس کے پاس بنت لبون نہ ہو بلکہ بنت مخاض ہو تو اس سے بنت مخاض لی جائے گی، اور ساتھ میں زکاۃ دینے والا بیس درہم یا دو بکریاں دے گا، اور جس کو زکاۃ میں بنت مخاض ادا کرنی ہو اور اس کے پاس وہ نہ ہو بلکہ بنت لبون ہو تو اس سے بنت لبون لے لی جائے گی، اور زکاۃ وصول کرنے والا اسے بیس درہم یا دو بکریاں واپس دے گا، اور جس کے پاس بنت مخاض نہ ہو بلکہ ابن لبون ہو تو اس سے وہی لے لیا جائے گا، اور اس کو اس کے ساتھ کچھ اور نہ دینا ہو گا ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ ثُمَامَةَ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ، كَتَبَ لَهُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ . هَذِهِ فَرِيضَةُ الصَّدَقَةِ الَّتِي فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَلَى الْمُسْلِمِينَ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَإِنَّ مِنْ أَسْنَانِ الإِبِلِ فِي فَرَائِضِ الْغَنَمِ مَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ مِنَ الإِبِلِ صَدَقَةُ الْجَذَعَةِ وَلَيْسَ عِنْدَهُ جَذَعَةٌ وَعِنْدَهُ حِقَّةٌ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ الْحِقَّةُ وَيَجْعَلُ مَكَانَهَا شَاتَيْنِ إِنِ اسْتَيْسَرَتَا أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ الْحِقَّةِ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ إِلاَّ بِنْتُ لَبُونٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ بِنْتُ لَبُونٍ وَيُعْطِي مَعَهَا شَاتَيْنِ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ بِنْتَ لَبُونٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ وَعِنْدَهُ حِقَّةٌ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ الْحِقَّةُ وَيُعْطِيهِ الْمُصَدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ بِنْتَ لَبُونٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ وَعِنْدَهُ بِنْتُ مَخَاضٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ ابْنَةُ مَخَاضٍ وَيُعْطِي مَعَهَا عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ . وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ بِنْتَ مَخَاضٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ وَعِنْدَهُ ابْنَةُ لَبُونٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ بِنْتُ لَبُونٍ وَيُعْطِيهِ الْمُصَدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ فَمَنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ ابْنَةُ مَخَاضٍ عَلَى وَجْهِهَا وَعِنْدَهُ ابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ فَإِنَّهُ يُقْبَلُ مِنْهُ وَلَيْسَ مَعَهُ شَىْءٌ .