#1501
Daif
It was narrated that Jabir said:“The Messenger of Allah (ﷺ), Abu Bakr and ‘Umar did not give us so much leeway in anything as they did with regard to the prayer for the deceased,” meaning that there was nothing affixed
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے جس قدر نماز جنازہ میں چھوٹ دی اتنی کسی چیز میں نہ دی یعنی اس کا وقت مقرر نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ مَا أَبَاحَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَلاَ أَبُو بَكْرٍ وَلاَ عُمَرُ فِي شَىْءٍ مَا أَبَاحُوا فِي الصَّلاَةِ عَلَى الْمَيِّتِ . يَعْنِي لَمْ يُوَقِّتْ .
#1502
Daif
It was narrated from ‘Uthman bin ‘Affan that the Prophet (ﷺ) offered the funeral prayer for ‘Uthman bin Maz’un, and he said four Takbir over him
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھائی، اور چار تکبیریں کہیں۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ إِلْيَاسَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، . أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ صَلَّى عَلَى عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ وَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا .
#1503
Hasan
Al-Hajari said:“I prayed with ‘Abdullah bin Abi Awfa Al-Aslami, the Companion of the Messenger of Allah (ﷺ), offering the funeral prayer for a daughter of his. He said Takbir over her four times, and he paused for a while after the fourth. I heard the people saying Subhan- Allah to him throughout the rows. Then he said the Salam and said: ‘Did you think that I was going to say a fifth Takbir?’ They said: ‘We were afraid of that.’ He said: ‘I was not going to do that, but the Messenger of Allah (ﷺ) used to say four Takbir, then pause for a while, and he would say whatever Allah willed he should say, then he would say the Salam.’”
ابراہیم بن مسلم ہجری کہتے ہیں کہ میں نے صحابی رسول عبداللہ بن ابی اوفی اسلمی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے ایک بیٹے کی نماز جنازہ پڑھی، تو انہوں نے اس میں چار تکبیریں کہیں، چوتھی تکبیر کے بعد کچھ دیر ٹھہرے، ( اور سلام پھیرنے میں توقف کیا ) تو میں نے لوگوں کو سنا کہ وہ صف کے مختلف جانب سے «سبحان الله»کہہ رہے ہیں، انہوں نے سلام پھیرا، اور کہا: کیا تم لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ میں پانچ تکبیریں کہوں گا؟ لوگوں نے کہا: ہمیں اسی کا ڈر تھا، عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ایسا کرنے والا نہیں تھا، لیکن چوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چار تکبیریں کہنے کے بعد کچھ دیر ٹھہرتے تھے، اور جو اللہ توفیق دیتا وہ پڑھتے تھے، پھر سلام پھیرتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ، حَدَّثَنَا الْهَجَرِيُّ، قَالَ صَلَيْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى الأَسْلَمِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَلَى جِنَازَةِ ابْنَةٍ لَهُ فَكَبَّرَ عَلَيْهَا أَرْبَعًا فَمَكَثَ بَعْدَ الرَّابِعَةِ شَيْئًا . قَالَ فَسَمِعْتُ الْقَوْمَ يُسَبِّحُونَ بِهِ مِنْ نَوَاحِي الصُّفُوفِ فَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ أَكُنْتُمْ تُرَوْنَ أَنِّي مُكَبِّرٌ خَمْسًا قَالُوا تَخَوَّفْنَا ذَلِكَ . قَالَ لَمْ أَكُنْ لأَفْعَلَ . وَلَكِنْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ يُكَبِّرُ أَرْبَعًا ثُمَّ يَمْكُثُ سَاعَةً فَيَقُولُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ ثُمَّ يُسَلِّمُ .
#1504
Sahih
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Prophet (ﷺ) said Takbir four times
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار بار تکبیریں «الله أكبر» کہیں
حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلاَّدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ خَلِيفَةَ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَبَّرَ أَرْبَعًا .
#1505
Sahih
It was narrated that ‘Abdur-Rahman bin Abi Laila said:“Zaid bin Arqan used to say the Takbir four times in the funeral prayer, and he said the Takbir five times for one funeral. I asked him (about that) and he said: ‘The Messenger of Allah (ﷺ) used to do that.’”
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ ہمارے جنازوں میں چار بار اللہ اکبر کہا کرتے تھے، ایک بار انہوں نے ایک جنازہ میں پانچ تکبیرات کہیں، میں نے ان سے وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانچ تکبیرات ۱؎ ( بھی ) کہتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، وَأَبُو دَاوُدَ عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ كَانَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ يُكَبِّرُ عَلَى جَنَائِزِنَا أَرْبَعًا وَأَنَّهُ كَبَّرَ عَلَى جِنَازَةٍ خَمْسًا فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يُكَبِّرُهَا .
#1506
Sahih
It was narrated from Kathir bin ‘Abdullah, from his father, from his grandfather, that the Messenger of Allah (ﷺ) said the Takbir five times
عمرو بن عوف مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ تکبیرات کہیں۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الرَّافِعِيُّ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَبَّرَ خَمْسًا .
#1507
Sahih
Abu Jubair bin Hayyah narrated that he heard Mughirah bin Shu’bah say:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘The (funeral) prayer should be offered for a child.’”
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: بچہ کی بھی نماز جنازہ پڑھی جائے گی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ، حَدَّثَنِي عَمِّي، زِيَادُ بْنُ جُبَيْرٍ حَدَّثَنِي أَبِي جُبَيْرُ بْنُ حَيَّةَ، أَنَّهُ سَمِعَ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " الطِّفْلُ يُصَلَّى عَلَيْهِ " .
#1508
Sahih
It was narrated from Jabir bin ‘Abdullah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“If a child utters a sound (after being born), the funeral prayer should be offered for him and (his relatives) may inherit from him.”
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بچہ ( پیدائش کے وقت ) روئے تو اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی، اور وہ وارث بھی ہو گا ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِذَا اسْتَهَلَّ الصَّبِيُّ صُلِّيَ عَلَيْهِ وَوُرِثَ " .
#1509
Very Daif
It was narrated that Abu Hurairah said:“The Prophet (ﷺ) said: ‘Offer the (funeral) prayer for your children, for they have gone ahead of you (i.e. to prepare your place in Paradise for you).”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے بچوں کی نماز جنازہ پڑھو، کیونکہ وہ تمہارے پیش رو ہیں ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْبَخْتَرِيُّ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " صَلُّوا عَلَى أَطْفَالِكُمْ فَإِنَّهُمْ مِنْ أَفْرَاطِكُمْ " .
#1510
Daif
Isma’il bin Abu Khalid said:“I said to ‘Abdullah bin Abi Awfa: ‘Did you see Ibrahim, the son of the Messenger of Allah (ﷺ)?’ He said: ‘He died when he was small, and if it had been decreed that there should be any Prophet after Muhammad (ﷺ), his son would have lived. But there is no Prophet after him.’”
اسماعیل بن ابی خالد کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحب زادے ابراہیم کو دیکھا ہے؟ انہوں نے کہا: ابراہیم بچپن ہی میں انتقال کر گئے، اور اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کا نبی ہونا مقدر ہوتا تو آپ کے بیٹے زندہ رہتے، لیکن آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَأَيْتَ إِبْرَاهِيمَ ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ مَاتَ وَهُوَ صَغِيرٌ وَلَوْ قُضِيَ أَنْ يَكُونَ بَعْدَ مُحَمَّدٍ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَبِيٌّ لَعَاشَ ابْنُهُ وَلَكِنْ لاَ نَبِيَّ بَعْدَهُ .
#1511
Daif
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“Then Ibrahim the son of the Messenger of Allah (ﷺ) died, the Messenger of Allah (ﷺ) prayed and said: ‘He has a wet-nurse in Paradise, and if he had lived he would have been a Siddiq and a Prophet. If he had lived his maternal uncles, the Egyptians, would have been set free and no Egyptian would ever have been enslaved.’”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ابراہیم کا انتقال ہو گیا، تو آپ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی، اور فرمایا: جنت میں ان کے لیے ایک دایہ ہے، اور اگر وہ زندہ رہتے تو صدیق اور نبی ہوتے، اور ان کے ننہال کے قبطی آزاد ہو جاتے، اور کوئی بھی قبطی غلام نہ بنایا جاتا ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لَمَّا مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ صَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَقَالَ " إِنَّ لَهُ مُرْضِعًا فِي الْجَنَّةِ وَلَوْ عَاشَ لَكَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا . وَلَوْ عَاشَ لَعَتَقَتْ أَخْوَالُهُ الْقِبْطُ وَمَا اسْتُرِقَّ قِبْطِيٌّ " .
#1512
Very Daif
Husain bin ‘Ali said:“When Qasim the son of the Messenger of Allah (ﷺ) died, Khadijah said: ‘O Messenger of Allah, the milk of Qasim’s mother is overflowing. Would that Allah had let him live until he had finished breastfeeding.’ The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘He will complete his breastfeeding in Paradise.’ She said: ‘If I know that, O Messenger of Allah, it makes it easier for me to bear.’ The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘If you wish, I will pray to Allah to let you hear his voice.’ She said: ‘O Messenger of Allah, rather I believe Allah and His Messenger.’”
حسین بن علی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے قاسم کا انتقال ہو گیا، تو ام المؤمنین خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! قاسم جس پستان سے دودھ پیتے تھے اس میں دودھ جمع ہو گیا ہے، کاش کہ اللہ ان کو باحیات رکھتا یہاں تک کہ دودھ کی مدت پوری ہو جاتی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کی مدت رضاعت جنت میں پوری ہو رہی ہے تو خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! اگر یہ بات مجھے معلوم رہی ہوتی تو مجھ پر ان کا غم ہلکا ہو گیا ہوتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہو تو میں اللہ سے دعا کروں کہ وہ قاسم کی آواز تمہیں سنا دے ، خدیجہ رضی اللہ عنہا بولیں: ( نہیں ) بلکہ میں اللہ اور اس کے رسول کی تصدیق کرتی ہوں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِمْرَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي الْوَلِيدِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْحُسَيْنِ، عَنْ أَبِيهَا الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ لَمَّا تُوُفِّيَ الْقَاسِمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَتْ خَدِيجَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَرَّتْ لُبَيْنَةُ الْقَاسِمِ فَلَوْ كَانَ اللَّهُ أَبْقَاهُ حَتَّى يَسْتَكْمِلَ رَضَاعَهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّ تَمَامَ رَضَاعِهِ فِي الْجَنَّةِ " . قَالَتْ لَوْ أَعْلَمُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَهَوَّنَ عَلَىَّ أَمْرَهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنْ شِئْتِ دَعَوْتُ اللَّهَ تَعَالَى فَأَسْمَعَكِ صَوْتَهُ " . قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَلْ أُصَدِّقُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ .
#1513
Sahih
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“They (the martyrs) were brought to the Messenger of Allah (ﷺ) on the Day of Uhud, and he started to offer the funeral prayer for them, ten by ten. Hamzah lay where he lay, and they were taken away but he was left where he was.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ غزوہ احد کے دن شہداء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے گئے، تو آپ دس دس آدمیوں پر نماز جنازہ پڑھنے لگے، اور حمزہ رضی اللہ عنہ کی لاش اسی طرح رکھی رہی اور باقی لاشیں نماز جنازہ کے بعد لوگ اٹھا کر لے جاتے رہے، لیکن حمزہ رضی اللہ عنہ کی لاش جیسی تھی ویسی ہی رکھی رہی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أُتِيَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَوْمَ أُحُدٍ فَجَعَلَ يُصَلِّي عَلَى عَشَرَةٍ عَشَرَةٍ وَحَمْزَةُ هُوَ كَمَا هُوَ يُرْفَعُونَ وَهُوَ كَمَا هُوَ مَوْضُوعٌ .
#1514
Sahih
It was narrated from Jabir bin ‘Abdullah that the Messenger of Allah (ﷺ) used to put two or three of the slain of Uhud in one shroud. He would ask:“Which of them had memorized more Qur’an?” And if one of them was pointed out to him, he would put him in the niche-grave first. And he said: “I am a witness over them.” He commanded that they should be buried with their blood, and that the funeral prayer should not be offered for them and they should not be washed
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ احد کے شہداء میں سے دو دو تین تین کو ایک کپڑے میں لپیٹتے، پھر پوچھتے: ان میں سے قرآن کس کو زیادہ یاد ہے ؟ جب ان میں سے کسی ایک کی جانب اشارہ کیا جاتا، تو اسے قبر ( قبلہ کی طرف ) میں آگے کرتے، اور فرماتے: میں ان لوگوں پہ گواہ ہوں،، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کے خونوں کے ساتھ دفن کرنے کا حکم دیا، نہ تو آپ نے ان کی نماز جنازہ پڑھی، اور نہ غسل دلایا ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ وَالثَّلاَثَةِ مِنْ قَتْلَى أُحُدٍ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ثُمَّ يَقُولُ " أَيُّهُمْ أَكْثَرُ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ " . فَإِذَا أُشِيرَ لَهُ إِلَى أَحَدِهِمْ قَدَّمَهُ فِي اللَّحْدِ وَقَالَ " أَنَا شَهِيدٌ عَلَى هَؤُلاَءِ " . وَأَمَرَ بِدَفْنِهِمْ فِي دِمَائِهِمْ وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ وَلَمْ يُغَسَّلُوا .
#1515
Daif
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) commanded that the weapons and armor should be removed from the slain of Uhud, and they should be buried in their clothes stained with blood
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہداء احد کے بارے میں حکم دیا کہ ان سے ہتھیار اور پوستین اتار لی جائے، اور ان کو انہیں کپڑوں میں خون سمیت دفنایا جائے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَمَرَ بِقَتْلَى أُحُدٍ أَنْ يُنْزَعَ عَنْهُمُ الْحَدِيدُ وَالْجُلُودُ وَأَنْ يُدْفَنُوا فِي ثِيَابِهِمْ بِدِمَائِهِمْ .
#1516
Sahih
It was narrated from Aswad bin Qais that he heard Nubaih Al-‘Anazi say:“I heard Jabir bin ‘Abdullah say: ‘The Messenger of Allah (ﷺ) commanded that the slain of the battle of Uhud should be returned to the battlefield; they had been moved to Al-Madinah.’”
جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہداء احد کے بارے میں حکم دیا کہ وہ اپنی شہادت گاہوں کی جانب لوٹا دئیے جائیں، لوگ انہیں مدینہ لے آئے تھے ۱؎۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَسَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، سَمِعَ نُبَيْحًا الْعَنَزِيَّ، يَقُولُ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَمَرَ بِقَتْلَى أُحُدٍ أَنْ يُرَدُّوا إِلَى مَصَارِعِهِمْ وَكَانُوا نُقِلُوا إِلَى الْمَدِينَةِ .
#1517
Hasan
It was narrated that Abu Hurairah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Whoever offers the funeral prayer in the mosque will have nothing (i.e., no reward).’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص نماز جنازہ مسجد میں پڑھے تو اس کے لیے کچھ نہیں ہے ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ صَالِحٍ، مَوْلَى التَّوْأَمَةِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَنْ صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ فِي الْمَسْجِدِ فَلَيْسَ لَهُ شَىْءٌ " .
#1518
Sahih
It was narrated that ‘Aishah said:“By Allah! The Messenger of Allah (ﷺ) did not offer the funeral prayer for Suhail bin Baida’ anywhere but in the mosque.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہیل بن بیضاء رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ مسجد ہی میں پڑھی۔ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث زیادہ قوی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ وَاللَّهِ مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَلَى سُهَيْلِ ابْنِ بَيْضَاءَ إِلاَّ فِي الْمَسْجِدِ . قَالَ ابْنُ مَاجَهْ حَدِيثُ عَائِشَةَ أَقْوَى .
#1519
Sahih
‘Uqbah bin ‘Amir Al-Juhani said:“There are three times during the day when the Messenger of Allah (ﷺ) forbade us to offer the funeral prayer or bury our dead: When the sun has fully risen (until it is higher up in the sky), when it is overhead at noon until it has passed the meridian, and when it is starting to set until it has set.”
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو تین اوقات میں نماز پڑھنے، اور مردوں کو دفن کرنے سے منع فرماتے تھے: ایک تو جب سورج نکل رہا ہو، اور دوسرے جب کہ ٹھیک دوپہر ہو، یہاں تک کہ زوال ہو جائے یعنی سورج ڈھل جائے، تیسرے جب کہ سورج ڈوبنے کے قریب ہو یہاں تک کہ ڈوب جائے ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، جَمِيعًا عَنْ مُوسَى بْنِ عُلَىِّ بْنِ رَبَاحٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ، سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، يَقُولُ: ثَلاَثُ سَاعَاتٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَنْهَانَا أَنْ نُصَلِّيَ فِيهِنَّ أَوْ نَقْبِرَ فِيهِنَّ مَوْتَانَا حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ بَازِغَةً، وَحِينَ يَقُومُ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ حَتَّى تَمِيلَ الشَّمْسُ، وَحِينَ تَضَيَّفُ لِلْغُرُوبِ حَتَّى تَغْرُبَ .
#1520
Hasan
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) placed a man in his grave at night, and he lit a lamp in his grave
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو رات میں دفن کیا، اور اس کی قبر کے پاس ( روشنی کے لیے ) چراغ جلایا ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ، عَنْ مِنْهَالِ بْنِ خَلِيفَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَدْخَلَ رَجُلاً قَبْرَهُ لَيْلاً وَأَسْرَجَ فِي قَبْرِهِ .
#1521
Sahih
It was narrated from Jabir bin ‘Abdullah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Do not bury your dead at night unless you are forced to.”
جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے مردوں کو رات میں دفن نہ کرو، مگر یہ کہ تم مجبور کر دئیے جاؤ ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَوْدِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ الْمَكِّيِّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لاَ تَدْفِنُوا مَوْتَاكُمْ بِاللَّيْلِ إِلاَّ أَنْ تُضْطَرُّوا " .
#1522
Daif
It was narrated from Jabir bin ‘Abdullah that the Prophet (ﷺ) said:“Offer the funeral prayer for your dead by night or by day.”
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے مردوں کی نماز جنازہ رات اور دن میں جس وقت چاہو پڑھو ۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " صَلُّوا عَلَى مَوْتَاكُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ " .
#1523
Sahih
It was narrated that Ibn ‘Umar said:“When ‘Abdullah bin Ubayy died, his son came to the Prophet (ﷺ) and said: ‘O Messenger of Allah, give me your shirt so that I may shroud him in it.’ The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Notify me when he is ready (i.e., when he has been washed and shrouded).’ When the Prophet (ﷺ) wanted to offer the funeral prayer for him: ‘You should not do that.’ The Prophet (ﷺ) offered the funeral prayer for him, and the Prophet (ﷺ) said to him: ‘I have been given two choices: “...ask forgiveness for them (hypocrites) or ask not forgiveness for them...’” [9:80] Then Allah revealed: ‘And never pray (the funeral prayer) for any of them (hypocrites) who dies, nor stand at his grave.’” [9:]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب ( منافقین کے سردار ) عبداللہ بن ابی کا انتقال ہو گیا تو اس کے ( مسلمان ) بیٹے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے اپنا کرتہ دے دیجئیے، میں اس میں اپنے والد کو کفناؤں گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( اس کا جنازہ تیار کر کے ) مجھے اطلاع دینا ، جب آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھنی چاہی تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آپ سے کہا: یہ آپ کے لیے مناسب نہیں ہے، بہرحال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز جنازہ پڑھی، اور عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: مجھے دو باتوں میں اختیار دیا گیا ہے «استغفر لهم أو لا تستغفر لهم» ( سورة التوبة: 80 ) تم ان کے لیے مغفرت طلب کرو یا نہ کرو اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی: «ولا تصل على أحد منهم مات أبدا ولا تقم على قبره» ( سورة التوبة: 84 ) منافقوں میں سے جو کوئی مر جائے تو نہ اس کی نماز جنازہ پڑھیں اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہوں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ لَمَّا تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَىٍّ جَاءَ ابْنُهُ إِلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْطِنِي قَمِيصَكَ أُكَفِّنْهُ فِيهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " آذِنُونِي بِهِ " . فَلَمَّا أَرَادَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ قَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مَا ذَاكَ لَكَ . فَصَلَّى عَلَيْهِ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " أَنَا بَيْنَ خِيرَتَيْنِ {اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لاَ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ } " . فَأَنْزَلَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ {وَلاَ تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلاَ تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ} .
#1524
Munkar
It was narrated that Jabir said:“The leader of the hypocrites in Al- Madinah died, and left instructions that the Prophet (ﷺ) should offer the funeral prayer for him and shroud him in his shirt. He offered the funeral prayer for him and shrouded him in his shirt, and stood by his grave. Then Allah revealed the words: ‘And never pray (the funeral prayer) for any of them (hypocrites) who dies, nor stand at his grave.” [9:]
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ منافقین کا سردار ( عبداللہ بن ابی ) مدینہ میں مر گیا، اس نے وصیت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ پڑھیں، اور اس کو اپنی قمیص میں کفنائیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھی، اور اسے اپنے کرتے میں کفنایا، اور اس کی قبر پہ کھڑے ہوئے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی: «ولا تصل على أحد منهم مات أبدا ولا تقم على قبره» منافقوں میں سے جو کوئی مر جائے تو اس کی نماز جنازہ نہ پڑھیں، اور اس کی قبر پہ مت کھڑے ہوں۔
حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ، وَسَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ مَاتَ رَأْسُ الْمُنَافِقِينَ بِالْمَدِينَةِ وَأَوْصَى أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَأَنْ يُكَفِّنَهُ فِي قَمِيصِهِ فَصَلَّى عَلَيْهِ وَكَفَّنَهُ فِي قَمِيصِهِ وَقَامَ عَلَى قَبْرِهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ {وَلاَ تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلاَ تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ} .
#1525
Daif
It was narrated from Wathilah bin Asqa’ that the Messenger of Allah (ﷺ) said:‘Offer prayer for everyone who dies, and strive in Jihad under every chief.”
واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر میت کی نماز پڑھو، اور ہر امیر ( حاکم ) کے ساتھ ( مل کر ) جہاد کرو ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ نَبْهَانَ، حَدَّثَنَا عُتْبَةُ بْنُ يَقْظَانَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الأَسْقَعِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " صَلُّوا عَلَى كُلِّ مَيِّتٍ وَجَاهِدُوا مَعَ كُلِّ أَمِيرٍ " .