#1401
Sahih
It was narrated that ‘Ubadah bin Samit said:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘Five prayers that Allah has enjoined upon His slaves, so whoever does them, and does not omit anything out of negligence, on the Day of Resurrection Allah will make a covenant with him that He will admit him to Paradise. But whoever does them but omits something from them out of negligence, will not have such a covenant with Allah; if He wills He will punish him, and if He wills, He will forgive him.’”
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: پانچ وقت کی نمازیں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر فرض کی ہیں، لہٰذا جو کوئی ان کو بجا لائے اور ان کے حق کو معمولی حقیر سمجھ کر ان میں کچھ کمی نہ کرے، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو جنت میں داخل کرنے کا وعدہ پورا کرے گا، اور جس کسی نے ان کو اس طرح ادا کیا کہ انہیں معمولی اور حقیر جان کر ان کے حق کی ادائیگی میں کوتاہی کی تو اس کے لیے اللہ تعالیٰ کے پاس کوئی وعدہ نہیں، چاہے تو اسے عذاب دے، اور چاہے تو بخش دے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، عَنِ الْمُخْدِجِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " خَمْسُ صَلَوَاتٍ افْتَرَضَهُنَّ اللَّهُ عَلَى عِبَادِهِ فَمَنْ جَاءَ بِهِنَّ لَمْ يَنْتَقِصْ مِنْهُنَّ شَيْئًا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهِنَّ فَإِنَّ اللَّهَ جَاعِلٌ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَهْدًا أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ وَمَنْ جَاءَ بِهِنَّ قَدِ انْتَقَصَ مِنْهُنَّ شَيْئًا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهِنَّ لَمْ يَكُنْ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ " .
#1402
Sahih
It was narrated from Sharik bin ‘Abdullah bin Abu Namir that he heard Anas bin Malik say:“While we were sitting in the mosque, a man entered riding a camel; he made it kneel in the mosque, then he hobbled it and said to them: ‘Which of you is Muhammad?’ The Messenger of Allah (ﷺ) was reclining among them, so they said: ‘This fair- skinned man who is reclining.’ The man said to him: ‘O son of ‘Abdul- Muttalib!’ The Prophet (ﷺ) said: ‘I am listening to you.’ The man said: O Muhammad! I am asking you and will be stern in asking, so do not bear any ill-feelings towards me.’ He said: ‘Ask whatever you think.’ The man said: ‘I adjure you by your Lord and the Lord of those who came before you, has Allah sent you to all of mankind?’ The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘By Allah, yes.; He said: ‘I adjure you by Allah, has Allah commanded you to pray the five prayers each day and night?’ The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘By Allah, yes.’ He said: ‘I adjure you by Allah, has Allah commanded you to fast this month of each year?’ The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘By Allah, yes.’ He said: ‘I adjure you by Allah, has Allah commanded you to take this charity from our rich and distribute it among our poor?’ The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘By Allah, yes.’ The man said: ‘I believe in what you have brought, and I am the envoy of my people who are behind me. I am Dimam bin Tha’labah, the brother of Banu Sa’d bin Bakr.’”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم مسجد نبوی میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں اونٹ پر سوار ایک شخص آیا، اور اسے مسجد میں بٹھایا، پھر اسے باندھ دیا، پھر پوچھنے لگا: تم میں محمد کون ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان ٹیک لگائے ہوئے بیٹھے تھے، لوگوں نے کہا: یہ ہیں جو سفید رنگ والے، اور تکیہ لگائے بیٹھے ہیں، اس شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے عبدالمطلب کے بیٹے! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: ہاں، میں نے تمہاری بات سن لی ، تو اس شخص نے کہا: اے محمد! میں آپ سے ایک سوال کرنے والا ہوں، اور سوال میں سختی برتنے والا ہوں، تو آپ دل میں مجھ پر ناراض نہ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم جو چاہو پوچھو ، اس شخص نے کہا: میں آپ کو آپ کے رب کی قسم دیتا ہوں، اور آپ سے پہلے لوگوں کے رب کی قسم دیتا ہوں، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو سب لوگوں کی جانب نبی بنا کر بھیجا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یا اللہ! ہاں ، پھر اس شخص نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو دن رات میں پانچ وقت نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یا اللہ! ہاں ، پھر اس شخص نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو سال کے اس مہینہ میں روزہ رکھنے کا حکم دیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یا اللہ! ہاں ، اس شخص نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں: کیا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ ہمارے مالداروں سے زکاۃ و صدقات لیں، اور اس کو ہمارے غریبوں میں تقسیم کریں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یا اللہ! ہاں ، تو اس شخص نے کہا: میں آپ کی لائی ہوئی شریعت پہ ایمان لایا، اور میں اپنی قوم کے ان لوگوں کے لیے پیغام رساں کی حیثیت سے ہوں جو پیچھے رہ گئے ہیں، اور میں قبیلہ بنو سعد بن بکر کا ایک فرد ضمام بن ثعلبہ ہوں۔
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ فِي الْمَسْجِدِ دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى رَحْلٍ فَأَنَاخَهُ فِي الْمَسْجِدِ ثُمَّ عَقَلَهُ ثُمَّ قَالَ لَهُمْ أَيُّكُمْ مُحَمَّدٌ وَرَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مُتَّكِئٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ . قَالَ فَقَالُوا هَذَا الرَّجُلُ الأَبْيَضُ الْمُتَّكِئُ . فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ يَا ابْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ . فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " قَدْ أَجَبْتُكَ " . فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ يَا مُحَمَّدُ إِنِّي سَائِلُكَ وَمُشَدِّدٌ عَلَيْكَ فِي الْمَسْأَلَةِ فَلاَ تَجِدَنَّ عَلَىَّ فِي نَفْسِكَ . فَقَالَ " سَلْ مَا بَدَا لَكَ " . قَالَ لَهُ الرَّجُلُ نَشَدْتُكَ بِرَبِّكَ وَرَبِّ مَنْ قَبْلَكَ آللَّهُ أَرْسَلَكَ إِلَى النَّاسِ كُلِّهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " اللَّهُمَّ نَعَمْ " . قَالَ فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تُصَلِّيَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " اللَّهُمَّ نَعَمْ " . قَالَ فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تَصُومَ هَذَا الشَّهْرَ مِنَ السَّنَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " اللَّهُمَّ نَعَمْ " . قَالَ فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تَأْخُذَ هَذِهِ الصَّدَقَةَ مِنْ أَغْنِيَائِنَا فَتَقْسِمَهَا عَلَى فُقَرَائِنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " اللَّهُمَّ نَعَمْ " . فَقَالَ الرَّجُلُ آمَنْتُ بِمَا جِئْتَ بِهِ وَأَنَا رَسُولُ مَنْ وَرَائِي مِنْ قَوْمِي . وَأَنَا ضِمَامُ بْنُ ثَعْلَبَةَ أَخُو بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ .
#1403
Hasan
Sa’eed bin Musayyab said that Abu Qatadah bin Rib’i told him that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Allah said: ‘I have enjoined on your nation five prayers, and I have made a covenant with Myself that whoever maintains them, I will admit them to Paradise, and whoever does not maintain them, has no such covenant with Me.’”
ابوقتادہ بن ربعی رضی اللہ عنہ خبر دیتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے تمہاری امت پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں، اور میں نے اپنے پاس سے یہ وعدہ کیا ہے کہ جو انہیں ان کے اوقات پر پڑھنے کی پابندی کرے گا، میں اسے جنت میں داخل کروں گا، اور جو ان کی پابندی نہیں کرے گا، تو اس کے لیے میرے پاس کوئی وعدہ نہیں ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا ضُبَارَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّلِيلِ، أَخْبَرَنِي دُوَيْدُ بْنُ نَافِعٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ قَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ إِنَّ أَبَا قَتَادَةَ بْنَ رِبْعِيٍّ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ افْتَرَضْتُ عَلَى أُمَّتِكَ خَمْسَ صَلَوَاتٍ وَعَهِدْتُ عِنْدِي عَهْدًا أَنَّهُ مَنْ حَافَظَ عَلَيْهِنَّ لِوَقْتِهِنَّ أَدْخَلْتُهُ الْجَنَّةَ وَمَنْ لَمْ يُحَافِظْ عَلَيْهِنَّ فَلاَ عَهْدَ لَهُ عِنْدِي " .
#1404
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“One prayer in this mosque of mine is better than a thousand prayers anywhere else, except The Sacred Mosque (Al-Masjid Al-Haram).” (Another chain) from Abu Hurairah from the Prophet (ﷺ) with similar wording
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری مسجد میں ایک نماز دوسری مسجدوں کی ہزار نماز سے افضل ہے ۱؎، سوائے مسجد الحرام کے ۲؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ الْمَدِينِيُّ، أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ رَبَاحٍ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الأَغَرِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " صَلاَةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلاَةٍ فِيمَا سِوَاهُ. إِلاَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ " . حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَحْوَهُ .
#1405
Sahih
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Prophet (ﷺ) said:“One prayer in this mosque of mine is better than one thousand prayers in any other mosque except the Sacred Mosque.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری مسجد میں ایک نماز پڑھنی دوسری مسجدوں میں ہزار نماز پڑھنے سے افضل ہے، سوائے مسجد الحرام کے ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " صَلاَةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلاَةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ إِلاَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ " .
#1406
Sahih
It was narrated from Jabir that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“One prayer in my mosque is better than one thousand prayers elsewhere, except the Sacred Mosque, and one prayer in the Sacred Mosque is better than one hundred thousand prayers elsewhere.”
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری مسجد میں ایک نماز پڑھنی دوسری مسجدوں میں ہزار نماز پڑھنے سے افضل ہے سوائے مسجد الحرام کے، اور مسجد الحرام میں ایک نماز پڑھنی دوسری مسجدوں کی ایک لاکھ نماز سے افضل ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " صَلاَةٌ فِي مَسْجِدِي أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلاَةٍ فِيمَا سِوَاهُ. إِلاَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ. وَصَلاَةٌ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ أَفْضَلُ مِنْ مِائَةِ أَلْفِ صَلاَةٍ فِيمَا سِوَاهُ " .
#1407
Daif
It was narrated that Maimunah the freed (female) slave of the Prophet (ﷺ) said:I said: “O Messenger of Allah, tell us about Baitil- Maqdis.” He said: “It is the land of the Resurrection and the Gathering. Go and pray there, for one prayer there is like one thousand prayers elsewhere.” I said: “What if I cannot travel and go there?” He said: “Then send a gift of oil to light its lamps, for whoever does that is like one who goes there.”
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی لونڈی میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم کو بیت المقدس کا مسئلہ بتائیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تو حشر و نشر کی زمین ہے، وہاں جاؤ اور نماز پڑھو، اس لیے کہ اس میں ایک نماز دوسری مسجدوں کی ہزار نماز کی طرح ہے میں نے عرض کیا: اگر وہاں تک جانے کی طاقت نہ ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو تم تیل بھیج دو جسے وہاں کے چراغوں میں جلایا جائے، جس نے ایسا کیا گویا وہ وہاں گیا ۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ، عَنْ أَخِيهِ، عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ عَنْ مَيْمُونَةَ، مَوْلاَةِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفْتِنَا فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ . قَالَ " أَرْضُ الْمَحْشَرِ وَالْمَنْشَرِ ائْتُوهُ فَصَلُّوا فِيهِ فَإِنَّ صَلاَةً فِيهِ كَأَلْفِ صَلاَةٍ فِي غَيْرِهِ " . قُلْتُ أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ أَتَحَمَّلَ إِلَيْهِ قَالَ " فَتُهْدِي لَهُ زَيْتًا يُسْرَجُ فِيهِ فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَهُوَ كَمَنْ أَتَاهُ " .
#1408
Sahih
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Amr that the Prophet (ﷺ) said:“When Sulaiman bin Dawud finished building Baitil-Maqdis, he asked Allah for three things: judgment that was in harmony with His judgment, a dominion that no one after him would have, and that no one should come to this mosque, intending only to pray there, but he would emerge free of sin as the day his mother bore him.” The Prophet (ﷺ) said: “Two prayers were granted, and I hope that the third was also granted.”
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب سلیمان بن داود علیہما السلام بیت المقدس کی تعمیر سے فارغ ہوئے، تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے تین چیزیں مانگیں، ایک تو یہ کہ میں مقدمات میں جو فیصلہ کروں، وہ تیرے فیصلے کے مطابق ہو، دوسرے مجھ کو ایسی حکومت دے کہ میرے بعد پھر ویسی حکومت کسی کو نہ ملے، تیسرے یہ کہ جو کوئی اس مسجد میں صرف نماز ہی کے ارادے سے آئے وہ اپنے گناہوں سے ایسا پاک ہو جائے جیسے اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اس کو جنا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو باتیں تو اللہ تعالیٰ نے سلیمان علیہ السلام کو عطا فرمائیں، مجھے امید ہے کہ تیسری چیز بھی انہیں عطا کی گئی ہو گی ۱؎۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَهْمِ الأَنْمَاطِيُّ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ السَّيْبَانِيِّ، يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الدَّيْلَمِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " لَمَّا فَرَغَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ مِنْ بِنَاءِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سَأَلَ اللَّهَ ثَلاَثًا حُكْمًا يُصَادِفُ حُكْمَهُ وَمُلْكًا لاَ يَنْبَغِي لأَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ وَأَلاَّ يَأْتِيَ هَذَا الْمَسْجِدَ أَحَدٌ لاَ يُرِيدُ إِلاَّ الصَّلاَةَ فِيهِ إِلاَّ خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ " . فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " أَمَّا اثْنَتَانِ فَقَدْ أُعْطِيَهُمَا وَأَرْجُو أَنْ يَكُونَ قَدْ أُعْطِيَ الثَّالِثَةَ " .
#1409
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“No one should prepare a mount (travel) to visit any mosque except three: the Sacred Mosque, this mosque of mine, and Aqsa Mosque.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین مساجد: مسجد الحرام، میری اس مسجد ( یعنی مسجد نبوی ) اور مسجد الاقصیٰ کے علاوہ کسی اور مسجد کی جانب ( ثواب کی نیت سے ) سفر نہ کیا جائے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " لاَ تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلاَّ إِلَى ثَلاَثَةِ مَسَاجِدَ مَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَسْجِدِي هَذَا وَالْمَسْجِدِ الأَقْصَى " .
#1410
Sahih
It was narrated from Abu Sa’eed and ‘Abdullah bin ‘Amr bin ‘As that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Do not prepare a mount (travel) to visit any mosque except three: the Sacred Mosque, Aqsa Mosque, and this mosque of mine.”
ابو سعید خدری اور عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین مساجد: مسجد الحرام، مسجد الاقصیٰ اور میری اس مسجد ( یعنی مسجد نبوی ) کے علاوہ کسی اور مسجد کی طرف ( ثواب کی نیت سے ) سفر نہ کیا جائے ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ قَزَعَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " لاَ تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلاَّ إِلَى ثَلاَثَةِ مَسَاجِدَ إِلَى الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِلَى الْمَسْجِدِ الأَقْصَى وَإِلَى مَسْجِدِي هَذَا " .
#1411
Sahih
Abul-Abrad, the freed slave of Banu Khatmah, said that he heard Usaid bin Zuhair Ansari who was one of the Companions of the Prophet (ﷺ) narrating that the Prophet (ﷺ) said:“One prayer in the Quba’ Mosque is like ‘Umrah.”
اسید بن ظہیر انصاری رضی اللہ عنہ (جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے تھے) کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسجد قباء میں نماز پڑھنا ایک عمرہ کے برابر ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَبْرَدِ، مَوْلَى بَنِي خَطْمَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أُسَيْدَ بْنَ ظُهَيْرٍ الأَنْصَارِيَّ، وَكَانَ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنَّهُ قَالَ " صَلاَةٌ فِي مَسْجِدِ قُبَاءٍ كَعُمْرَةٍ " .
#1412
Sahih
(Sahl) bin Hunaif said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Whoever purifies himself in his house, then comes to the Quba’ Mosque and offers one prayer therein, will have a reward like that for ‘Umrah.”
سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے گھر میں وضو کرے، پھر مسجد قباء آئے اور اس میں نماز پڑھے، تو اسے ایک عمرہ کا ثواب ملے گا ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْكِرْمَانِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، يَقُولُ قَالَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَنْ تَطَهَّرَ فِي بَيْتِهِ، ثُمَّ أَتَى مَسْجِدَ قُبَاءٍ، فَصَلَّى فِيهِ صَلاَةً، كَانَ لَهُ كَأَجْرِ عُمْرَةٍ " .
#1413
Daif
It was narrated that Anas bin Malik said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘A man’s prayer in his house is equal (in reward) to one prayer; his prayer in the mosque of the tribes is equal to twenty-five prayers; his prayer in the mosque in which Friday prayer is offered is equal to five-hundred prayers; his prayer in Aqsa Mosque is equal to fifty thousand prayers; his prayer in my mosque is equal to fifty thousand prayers; and his prayer in the Sacred Mosque is equal to one hundred thousand prayers.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کی نماز اپنے گھر میں ایک نماز کے برابر ہے، محلہ کی مسجد میں پچیس نماز کے برابر ہے، اور جامع مسجد میں پانچ سو نماز کے برابر ہے، مسجد الاقصیٰ میں پچاس ہزار نماز کے برابر ہے، مسجد نبوی میں پچاس ہزار نماز کے برابر ہے، اور خانہ کعبہ میں ایک لاکھ نماز کے برابر ہے ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا رُزَيْقٌ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الأَلْهَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " صَلاَةُ الرَّجُلِ فِي بَيْتِهِ بِصَلاَةٍ وَصَلاَتُهُ فِي مَسْجِدِ الْقَبَائِلِ بِخَمْسٍ وَعِشْرِينَ صَلاَةً وَصَلاَتُهُ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي يُجَمَّعُ فِيهِ بِخَمْسِمِائَةِ صَلاَةٍ وَصَلاَةٌ فِي الْمَسْجِدِ الأَقْصَى بِخَمْسِينَ أَلْفِ صَلاَةٍ وَصَلاَةٌ فِي مَسْجِدِي بِخَمْسِينَ أَلْفِ صَلاَةٍ وَصَلاَةٌ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ بِمِائَةِ أَلْفِ صَلاَةٍ " .
#1414
Hasan
It was narrated from Tufail bin Ubayy bin Ka’b that his father said:“The Messenger of Allah (ﷺ) used to pray facing the trunk of a date- palm tree when the mosque was still a hut, and he used to deliver the sermon leaning on that trunk. A man from among his Companions said: ‘Would you like us to make you something upon which you can stand on Fridays so that the people will be able to see you and hear your sermon?’ He said: ‘Yes.’ So he made three steps for him, as a pulpit. When they put the pulpit in place, they put it in the place where it stands now. When the Messenger of Allah (ﷺ) wanted to stand on the pulpit, he passed by the tree trunk from which he used to deliver the sermon, and when he went beyond the trunk, it moaned and split and cracked. The Messenger of Allah (ﷺ) came down when he heard the voice of the trunk, and rubbed it with his hand until it fell silent. Then he went back to the pulpit and when he prayed, he prayed facing it. When the mosque was knocked down (for renovation) and (the pillars, etc.) were changed, Ubayy bin Ka’b took that trunk and kept it in his house until it became very old and the termites consumed it and it became grains of dust.”
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب مسجد چھپر کی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے ایک تنے کی طرف نماز پڑھتے تھے، اور اسی تنے پر ٹیک لگا کر خطبہ دیتے تھے، تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک شخص نے کہا: کیا آپ اجازت دیتے ہیں کہ ہم آپ کے لیے کوئی ایسی چیز بنائیں جس پر آپ جمعہ کے دن کھڑے ہو کر خطبہ دیں تاکہ لوگ آپ کو دیکھ سکیں، اور آپ انہیں اپنا خطبہ سنا سکیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں پھر اس شخص نے تین سیڑھیاں بنائیں، یہی منبر کی اونچائی ہے، جب منبر تیار ہو گیا، تو لوگوں نے اسے اس مقام پہ رکھا جہاں اب ہے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر کھڑے ہونے کا ارادہ کیا، تو اس تنے کے پاس سے گزرے جس کے سہارے آپ خطبہ دیا کرتے تھے، جب آپ تنے سے آگے بڑھ گئے تو وہ رونے لگا، یہاں تک کہ پھوٹ پھوٹ کر رویا، اس وقت آپ منبر سے اترے اور اس پر اپنا ہاتھ پھیرا، تب وہ خاموش ہوا، ۱؎ پھر آپ منبر پہ لوٹے، جب آپ نماز پڑھتے تھے تو اسی تنے کی جانب پڑھتے تھے، پھر جب ( عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں تعمیر نو کے لیے ) مسجد ڈھائی گئی، اور اس کی لکڑیاں بدل دی گئیں، تو اس تنے کو ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے لے لیا، اور وہ ان کے گھر ہی میں رہا یہاں تک کہ پرانا ہو گیا، پھر اسے دیمک کھا گئی، اور وہ گل کر ریزہ ریزہ ہو گیا۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنِ الطُّفَيْلِ بْنِ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يُصَلِّي إِلَى جِذْعٍ إِذْ كَانَ الْمَسْجِدُ عَرِيشًا وَكَانَ يَخْطُبُ إِلَى ذَلِكَ الْجِذْعِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ هَلْ لَكَ أَنْ نَجْعَلَ لَكَ شَيْئًا تَقُومُ عَلَيْهِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ حَتَّى يَرَاكَ النَّاسُ وَتُسْمِعَهُمْ خُطْبَتَكَ قَالَ " نَعَمْ " . فَصَنَعَ لَهُ ثَلاَثَ دَرَجَاتٍ فَهِيَ الَّتِي عَلَى الْمِنْبَرِ فَلَمَّا وُضِعَ الْمِنْبَرُ وَضَعُوهُ فِي مَوْضِعِهِ الَّذِي هُوَ فِيهِ فَلَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنْ يَقُومَ إِلَى الْمِنْبَرِ مَرَّ إِلَى الْجِذْعِ الَّذِي كَانَ يَخْطُبُ إِلَيْهِ فَلَمَّا جَاوَزَ الْجِذْعَ خَارَ حَتَّى تَصَدَّعَ وَانْشَقَّ فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ لَمَّا سَمِعَ صَوْتَ الْجِذْعِ فَمَسَحَهُ بِيَدِهِ حَتَّى سَكَنَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الْمِنْبَرِ فَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلَّى إِلَيْهِ فَلَمَّا هُدِمَ الْمَسْجِدُ وَغُيِّرَ أَخَذَ ذَلِكَ الْجِذْعَ أُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ وَكَانَ عِنْدَهُ فِي بَيْتِهِ حَتَّى بَلِيَ فَأَكَلَتْهُ الأَرَضَةُ وَعَادَ رُفَاتًا .
#1415
Sahih
It was narrated from Anas that the Prophet (ﷺ) used to deliver the sermon leaning on a tree trunk. When he started to use the pulpit, he went to the pulpit, and the trunk made a sorrowful sound. So he came to it and embraced it, and it calmed down. He said:“If I had not embraced it, it would have continued to grieve until the Day of Resurrection.”
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے ایک تنے کے سہارے خطبہ دیتے تھے، جب منبر تیار ہو گیا تو آپ منبر کی طرف چلے، وہ تنا رونے لگا تو آپ نے اسے اپنے گود میں لے لیا، تو وہ خاموش ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں اسے گود میں نہ لیتا تو وہ قیامت تک روتا رہتا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلاَّدٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، . وَعَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ يَخْطُبُ إِلَى جِذْعٍ فَلَمَّا اتَّخَذَ الْمِنْبَرَ ذَهَبَ إِلَى الْمِنْبَرِ فَحَنَّ الْجِذْعُ فَأَتَاهُ فَاحْتَضَنَهُ فَسَكَنَ . فَقَالَ " لَوْ لَمْ أَحْتَضِنْهُ لَحَنَّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " .
#1416
Sahih
It was narrated that Abu Hazim said:“The people differed concerning the pulpit of the Messenger of Allah (ﷺ) and what it was made of. So they came to Sahl bin Sa’d and asked him. He said: ‘There is no one left who knows more about that than I. It is made of tamarisk (a type of tree) from Ghabah. It was made by so-and-so, the freed slave of so- and-so (a woman), (who was) a carpenter. He brought it and he (the Prophet (ﷺ)) stood on it when it was put in position. He faced the Qiblah and the people stood behind him. He recited Qur’an, then bowed and raised his head, then he moved backwards until he prostrated on the ground, then he went back to the pulpit and recited Qur’an, then bowed and raised his head, then he moved backwards until he prostrated on the ground.”
ابوحازم کہتے ہیں کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کے بارے میں اختلاف کیا کہ وہ کس چیز کا بنا ہوا تھا، تو لوگ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اور ان سے پوچھا؟ انہوں نے کہا: اب لوگوں میں کوئی ایسا باقی نہیں رہا جو اس منبر کا حال مجھ سے زیادہ جانتا ہو، وہ غابہ ۱؎ کے جھاؤ کا تھا، جس کو فلاں بڑھئی نے بنایا تھا، جو فلاں عورت کا غلام تھا، بہرحال وہ غلام منبر لے کر آیا، جب وہ رکھا گیا تو آپ اس پر کھڑے ہوئے، اور قبلہ کی طرف رخ کیا، اور لوگ آپ کے پیچھے کھڑے ہوئے، آپ نے قراءت کی پھر رکوع کیا، اور رکوع سے اپنا سر اٹھایا، اور الٹے پاؤں پیچھے ہٹے، اور زمین پہ سجدہ کیا، پھر منبر کی طرف لوٹ گئے، اور قراءت کی، پھر رکوع کیا پھر رکوع سے اٹھ کر سیدھے کھڑے ہوئے، پھر الٹے پاؤں پیچھے لوٹے، ( اور منبر سے اتر کر ) زمین پر سجدہ کیا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مِنْ أَىِّ شَىْءٍ هُوَ فَأَتَوْا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ فَسَأَلُوهُ فَقَالَ مَا بَقِيَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ أَعْلَمَ بِهِ مِنِّي هُوَ مِنْ أَثْلِ الْغَابَةِ عَمِلَهُ فُلاَنٌ مَوْلَى فُلاَنَةَ نَجَّارٌ فَجَاءَ بِهِ فَقَامَ عَلَيْهِ حِينَ وُضِعَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَقَامَ النَّاسُ خَلْفَهُ فَقَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَرَجَعَ الْقَهْقَرَى حَتَّى سَجَدَ بِالأَرْضِ ثُمَّ عَادَ إِلَى الْمِنْبَرِ فَقَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ فَقَامَ ثُمَّ رَجَعَ الْقَهْقَرَى حَتَّى سَجَدَ بِالأَرْضِ .
#1417
Sahih
It was narrated that Jabir bin ‘Abdullah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) used to stand by the root of a tree, or by a tree trunk, then he started to use a pulpit. The tree trunk made a grieving sound.” Jabir said: “So that the people in the mosque could hear it. Until the Messenger of Allah (ﷺ) came to it and rubbed it, and it calmed down. Some of them said: ‘If he had not come to it, it would have grieved until the Day of Resurrection.’”
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت کی جڑ، یا یوں کہا: ایک تنے کے سہارے کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منبر بنوا لیا، تو وہ تنا سسکیاں لے لے کر رونے لگا، یہاں تک کہ اس کے رونے کی آواز مسجد والوں نے بھی سنی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے، اس پر اپنا ہاتھ پھیرا، تو وہ خاموش ہو گیا، بعض نے کہا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس نہ آتے تو وہ قیامت تک روتا رہتا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُومُ فِي أَصْلِ شَجَرَةٍ - أَوْ قَالَ إِلَى جِذْعٍ - ثُمَّ اتَّخَذَ مِنْبَرًا . قَالَ فَحَنَّ الْجِذْعُ - قَالَ جَابِرٌ - حَتَّى سَمِعَهُ أَهْلُ الْمَسْجِدِ حَتَّى أَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَمَسَحَهُ فَسَكَنَ . فَقَالَ بَعْضُهُمْ لَوْ لَمْ يَأْتِهِ لَحَنَّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ .
#1418
Sahih
It was narrated from Abu Wa’il that ‘Abdullah said:“I prayed one night with the Messenger of Allah (ﷺ) and he kept standing until I thought of doing something bad.” I said: “What was that?”He said: “I thought of sitting down and leaving him.”
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک رات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، آپ برابر کھڑے رہے یہاں تک کہ میں نے ایک برے کام کا ارادہ کر لیا، ( راوی ابووائل کہتے ہیں: ) میں نے پوچھا: وہ کیا؟ کہا: میں نے یہ ارادہ کر لیا کہ میں بیٹھ جاؤں، اور آپ کو ( کھڑا ) چھوڑ دوں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ صَلَّيْتُ ذَاتَ لَيْلَةٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَلَمْ يَزَلْ قَائِمًا حَتَّى هَمَمْتُ بِأَمْرِ سَوْءٍ . قُلْتُ وَمَا ذَاكَ الأَمْرُ قَالَ هَمَمْتُ أَنْ أَجْلِسَ وَأَتْرُكَهُ .
#1419
Sahih
It was narrated from Ziyad bin ‘Ilaqah that he heard Mughirah say:“The Messenger of Allah (ﷺ) stood (in prayer) until his feet became swollen. It was said: ‘O Messenger of Allah, Allah has forgiven you your past and future sins.’ He said: ‘Should I not be a thankful slave?’”
مغیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے، یہاں تک کہ آپ کے پیروں میں ورم آ گیا، تو عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے اور پچھلے تمام گناہ بخش دئیے ہیں ( پھر آپ اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہیں ) ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں ( اللہ کا ) شکر گزار بندہ نہ بنوں ۱؎۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاَقَةَ، سَمِعَ الْمُغِيرَةَ، يَقُولُ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ حَتَّى تَوَرَّمَتْ قَدَمَاهُ . فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ . قَالَ " أَفَلاَ أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا " .
#1420
Sahih
It was narrated that Abu Hurairah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) used to pray until his feet became swollen. It was said: ‘O Messenger of Allah, Allah has forgiven you your past and future sins.’ He said: ‘Should I not be a thankful slave?’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے یہاں تک کہ آپ کے پاؤں سوج جاتے، آپ سے عرض کیا گیا: اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے اور پچھلے سارے گناہ معاف کر دئیے ہیں ( پھر آپ اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہیں ) ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يُصَلِّي حَتَّى تَوَرَّمَتْ قَدَمَاهُ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ اللَّهَ قَدْ غَفَرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ . قَالَ " أَفَلاَ أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا " .
#1421
Sahih
It was narrated that Jabir bin ‘Abdullah said:“The Prophet (ﷺ) was asked: ‘Which prayer is best?’ He said: ‘That with the longer Qunut.’”
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سی نماز افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس میں قیام لمبا ہو ۔
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَىُّ الصَّلاَةِ أَفْضَلُ قَالَ " طُولُ الْقُنُوتِ " .
#1422
Hasan Sahih
It was narrated from Kathir bin Murrah that Abu Fatimah told him:“I said: ‘O Messenger of Allah! Tell me of a deed that I can adhere to and act upon.’ He said: “You should prostrate, for you will not prostrate to Allah but He will raise you in status one degree thereby and erase from you one sin.”
ابوفاطمہ رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے ایسا عمل بتائیے جس پر میں جما رہوں اور اس کو کرتا رہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے اوپر سجدے کو لازم کر لو، اس لیے کہ جب بھی تم کوئی سجدہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے تمہارا ایک درجہ بلند کرے گا، اور ایک گناہ مٹا دے گا ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيَّانِ، قَالاَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، أَنَّ أَبَا فَاطِمَةَ، حَدَّثَهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ، أَسْتَقِيمُ عَلَيْهِ وَأَعْمَلُهُ . قَالَ " عَلَيْكَ بِالسُّجُودِ فَإِنَّكَ لاَ تَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلاَّ رَفَعَكَ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ بِهَا عَنْكَ خَطِيئَةً " .
#1423
Sahih
Ma’dan bin Abu Talhah Al-Ya’muri said:“I met Thawban and said to him: ‘Tell me a Hadith that Allah may benefit me thereby.’ But he remained silent. Then I said the same and he remained silent. That happened three times. Then he said to me: ‘You should prostrate to Allah; for I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: “No one prostrates to Allah but Allah will raise him one degree in status thereby and will erase one of his sins.” Ma’dan said: “Then I met Abu Darda’ and asked him the same question, and he gave a similar answer.”
معدان بن ابی طلحہ یعمری کہتے ہیں کہ میں ثوبان رضی اللہ عنہ سے ملا، اور ان سے کہا: آپ مجھ سے کوئی حدیث بیان کریں، امید ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس سے فائدہ دے گا، یہ سن کر وہ خاموش رہے، پھر میں نے دوبارہ وہی بات کہی، تو بھی وہ خاموش رہے، تین بار ایسا ہی ہوا، پھر انہوں نے کہا: تم اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کے لیے سجدہ لازم کر لو، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جو بندہ اللہ تعالیٰ کے لیے ایک سجدہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے، اور ایک گناہ مٹا دیتا ہے ۔ معدان کہتے ہیں کہ پھر میں ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے ملا، اور ان سے پوچھا تو انہوں نے بھی ایسا ہی بیان کیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو أَبُو عَمْرٍو الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ هِشَامٍ الْمُعَيْطِيُّ، حَدَّثَهُ مَعْدَانُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيُّ، قَالَ لَقِيتُ ثَوْبَانَ فَقُلْتُ لَهُ حَدِّثْنِي حَدِيثًا عَسَى اللَّهُ أَنْ يَنْفَعَنِي بِهِ . قَالَ فَسَكَتَ ثُمَّ عُدْتُ فَقُلْتُ مِثْلَهَا فَسَكَتَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَقَالَ لِي عَلَيْكَ بِالسُّجُودِ لِلَّهِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلاَّ رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً " . قَالَ مَعْدَانُ ثُمَّ لَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ .
#1424
Sahih
It was narrated from ‘Ubadah bin Samit that he heard the Messenger of Allah (ﷺ) say:“No one prostrates to Allah but Allah will record one Hasanah (good reward) for him, and will erase thereby one bad deed and raise him in status one degree. So prostrate a great deal.”
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو کوئی بندہ اللہ تعالیٰ کے لیے ایک سجدہ کرے گا، اللہ اس کے بدلے ایک نیکی لکھے گا، اور اس کا ایک گناہ مٹا دے گا، اور اس کا ایک درجہ بلند فرمائے گا، لہٰذا تم کثرت سے سجدے کرو ۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ الْمُرِّيِّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ، عَنِ الصُّنَابِحِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلاَّ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا حَسَنَةً وَمَحَا عَنْهُ بِهَا سَيِّئَةً وَرَفَعَ لَهُ بِهَا دَرَجَةً فَاسْتَكْثِرُوا مِنَ السُّجُودِ " .
#1425
Sahih
It was narrated that Anas bin Hakim Dabbi said:“Abu Hurairah said to me: ‘When you go to your country, tell them that I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: “The first thing for which the Muslim will be brought to account on the Day of Resurrection will be the prescribed prayers. If they are complete, all well and good, otherwise it will be said: ‘Look and see whether he has any voluntary prayers.’ If he has any voluntary prayers, his prescribed prayers will be completed from his voluntary prayers. Then the same will be done with regard to all his obligatory deeds.”
انس بن حکیم کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا کہ جب تم اپنے شہر والوں کے پاس پہنچو تو ان کو بتاؤ کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: مسلمان بندے سے قیامت کے دن سب سے پہلے جس چیز کا حساب لیا جائے گا وہ فرض نماز ہو گی، اگر اس نے اسے کامل طریقے سے ادا کی ہے تو ٹھیک ہے، ورنہ کہا جائے گا کہ دیکھو کیا اس کے پاس کچھ نفل ہے؟ اگر اس کے پاس نفل نمازیں ہوں گی تو اس سے فرض میں کمی پوری کی جائے گی، پھر باقی دوسرے فرائض اعمال کے ساتھ ایسا ہی کیا جائے گا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ حَكِيمٍ الضَّبِّيِّ، قَالَ قَالَ لِي أَبُو هُرَيْرَةَ إِذَا أَتَيْتَ أَهْلَ مِصْرِكَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنِّي، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، الصَّلاَةُ الْمَكْتُوبَةُ فَإِنْ أَتَمَّهَا، وَإِلاَّ قِيلَ: انْظُرُوا هَلْ لَهُ مِنْ تَطَوُّعٍ؟ فَإِنْ كَانَ لَهُ تَطَوُّعٌ أُكْمِلَتِ الْفَرِيضَةُ مِنْ تَطَوُّعِهِ. ثُمَّ يُفْعَلُ بِسَائِرِ الأَعْمَالِ الْمَفْرُوضَةِ مِثْلُ ذَلِكَ " .