#1326
Hasan Sahih
It was narrated that Abu Hurairah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Whoever fasts Ramadan and spends its nights in prayer, out of faith and in hope of reward, his previous sins will be forgiven.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ایمان اور ثواب کی نیت کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے، اور ( اس کی راتوں میں ) قیام کیا، تو اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَقَامَهُ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
#1327
Sahih
It was narrated that Abu Dharr said:“We fasted Ramadan with the Messenger of Allah (ﷺ) and he did not lead us in praying Qiyam (prayers at night) during any part of it, until there were seven nights left. He led us in praying Qiyam on the seventh night until approximately one third of the night had passed. Then on the sixth night which followed it he did not lead us in prayer. Then he led us in praying Qiyam on the fifth night which followed it until almost half the night had passed. I said: ‘O Messenger of Allah, would that we had offered voluntary prayers throughout the whole night.’ He said: ‘Whoever stands with the Imam until he finishes, it is equivalent to spending the whole night in prayer.’ Then on the fourth night which followed it, he did not lead us in prayer, until the third night that followed it, when he gathered his wives and family, and the people gathered, and he led us in prayer until we feared that we would miss the Falah.” It was asked: “What is the Falah?” He said: “Suhur.” He said: “Then he did not lead us in prayer at night for the rest of the month.”
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے، آپ نے کسی بھی رات ہمارے ساتھ نماز تراویح نہ ادا فرمائی، یہاں تک کہ جب سات راتیں باقی رہ گئیں، تو ساتویں ( یعنی تیئیسویں ) رات کو آپ نے ہمارے ساتھ قیام کیا، یہاں تک کہ رات تہائی کے قریب گزر گئی، پھر اس کے بعد چھٹی ( یعنی چوبیسویں ) رات کو جو اس کے بعد آتی ہے، آپ نے قیام نہیں کیا یہاں تک کہ اس کے بعد والی پانچویں یعنی ( پچیسویں ) رات کو آپ نے ہمارے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ رات آدھی کے قریب گزر گئی، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کاش آپ باقی رات بھی ہمیں نفل پڑھاتے رہتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی امام کے ساتھ قیام کرے یہاں تک کہ وہ فارغ ہو جائے، تو وہ ساری رات کے قیام کے برابر ہے، پھر جب اس کے بعد والی چوتھی ( یعنی چھبیسویں ) رات آئی تو آپ نے اس میں قیام نہیں کیا، جب اس کے بعد والی تیسری ( یعنی ستائیسویں ) رات آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں اور گھر والوں کو جمع کیا، اور لوگ بھی جمع ہوئے، ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو آپ نے ہمارے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ ہمیں خدشہ ہوا کہ ہم سے «فلاح» فوت نہ ہو جائے، ان سے پوچھا گیا: «فلاح» کیا ہے؟ کہا: سحری: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ رمضان کے باقی دنوں میں تراویح باجماعت نہیں پڑھی ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُرَشِيِّ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ صُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رَمَضَانَ فَلَمْ يَقُمْ بِنَا شَيْئًا مِنْهُ حَتَّى بَقِيَ سَبْعُ لَيَالٍ فَقَامَ بِنَا لَيْلَةَ السَّابِعَةِ حَتَّى مَضَى نَحْوٌ مِنْ ثُلُثِ اللَّيْلِ ثُمَّ كَانَتِ اللَّيْلَةُ السَّادِسَةُ الَّتِي تَلِيهَا فَلَمْ يَقُمْهَا حَتَّى كَانَتِ الْخَامِسَةُ الَّتِي تَلِيهَا ثُمَّ قَامَ بِنَا حَتَّى مَضَى نَحْوٌ مِنْ شَطْرِ اللَّيْلِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ نَفَّلْتَنَا بَقِيَّةَ لَيْلَتِنَا هَذِهِ . فَقَالَ " إِنَّهُ مَنْ قَامَ مَعَ الإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ فَإِنَّهُ يَعْدِلُ قِيَامَ لَيْلَةٍ " . ثُمَّ كَانَتِ الرَّابِعَةُ الَّتِي تَلِيهَا فَلَمْ يَقُمْهَا حَتَّى كَانَتِ الثَّالِثَةُ الَّتِي تَلِيهَا . قَالَ فَجَمَعَ نِسَاءَهُ وَأَهْلَهُ وَاجْتَمَعَ النَّاسُ . قَالَ فَقَامَ بِنَا حَتَّى خَشِينَا أَنْ يَفُوتَنَا الْفَلاَحُ . قِيلَ وَمَا الْفَلاَحُ قَالَ السُّحُورُ . قَالَ ثُمَّ لَمْ يَقُمْ بِنَا شَيْئًا مِنْ بَقِيَّةِ الشَّهْرِ .
#1328
Daif
It was narrated that Nadr bin Shaiban said:“I met Abu Salamah bin ‘Abdur-Rahman and said: ‘Tell me a Hadith that you heard from your father, in which mention is made of the month of Ramadan.’ He said: ‘Yes, my father narrated to me that the Messenger of Allah (ﷺ) mentioned the month of Ramadan and said: “A month which Allah has enjoined upon you to fast, and in which I have established Qiyam (prayers at night) as Sunnah for you. So whoever fasts it and spends its nights in prayer out of faith and in hope of reward; he will emerge from his sins as on the day his mother bore him.”
نضر بن شیبان کہتے ہیں کہ میں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے ملا اور کہا: آپ مجھ سے کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے، جو آپ نے رمضان سے متعلق اپنے والد سے سنی ہو، ابوسلمہ نے کہا: ہاں، میرے والد نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ رمضان کا ذکر کیا تو فرمایا: وہ ایسا مہینہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے اوپر اس کے روزے کو فرض قرار دیا ہے، اور میں نے اس کے قیام اللیل کو تمہارے لیے مسنون قرار دیا ہے، لہٰذا جو شخص ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے اس مہینے میں روزے رکھے، اور راتوں میں نفل پڑھے، وہ اپنے گناہوں سے اس طرح نکل جائے گا جیسے اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے جنا تھا ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيِّ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ شَيْبَانَ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، وَالْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ الْحُدَّانِيُّ، كِلاَهُمَا عَنِ النَّضْرِ بْنِ شَيْبَانَ، قَالَ لَقِيتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقُلْتُ حَدِّثْنِي بِحَدِيثٍ، سَمِعْتَهُ مِنْ، أَبِيكَ يَذْكُرُهُ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ . قَالَ نَعَمْ . حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ذَكَرَ شَهْرَ رَمَضَانَ فَقَالَ " شَهْرٌ كَتَبَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ صِيَامَهُ وَسَنَنْتُ لَكُمْ قِيَامَهُ فَمَنْ صَامَهُ وَقَامَهُ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ " .
#1329
Sahih
It was narrated that Abu Hurairah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘At night Satan ties a rope in which there are three knots to the nape of the neck of anyone of you. If he wakes up and remembers Allah, one knot is untied. If he performs ablution, another knot is untied, and if he gets up to pray, all the knots are untied, so he wakes up energetic and cheerful, he has already earned something good. But if he does not do that, he wakes up bad-tempered, having earned nothing good.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر شخص کی گدی پر رات میں شیطان رسی سے تین گرہیں لگا دیتا ہے، اگر وہ بیدار ہوا اور اللہ کو یاد کیا، تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، پھر جب اٹھ کر وضو کیا تو ایک گرہ اور کھل جاتی ہے، پھر جب نماز کے لیے کھڑا ہوا تو ساری گرہیں کھل جاتی ہیں، اس طرح وہ چست اور خوش دل ہو کر صبح کرتا ہے، جیسے اس نے بہت ساری بھلائی حاصل کر لی ہو، اور اگر ایسا نہ کیا تو سست اور بری حالت میں صبح کرتا ہے، جیسے اس نے کوئی بھی بھلائی حاصل نہیں کی ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " يَعْقِدُ الشَّيْطَانُ عَلَى قَافِيَةِ رَأْسِ أَحَدِكُمْ بِاللَّيْلِ بِحَبْلٍ فِيهِ ثَلاَثُ عُقَدٍ فَإِنِ اسْتَيْقَظَ فَذَكَرَ اللَّهَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ فَإِذَا قَامَ فَتَوَضَّأَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ فَإِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاَةِ انْحَلَّتْ عُقَدُهُ كُلُّهَا فَيُصْبِحُ نَشِيطًا طَيِّبَ النَّفْسِ قَدْ أَصَابَ خَيْرًا وَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ أَصْبَحَ كَسِلاً خَبِيثَ النَّفْسِ لَمْ يُصِبْ خَيْرًا " .
#1330
Sahih
It was narrated that ‘Abdullah said:“Mention was made to the Messenger of Allah (ﷺ) of a man who slept until morning came. He said: ‘That is because Satan urinated in his ears.’”
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایسے شخص کا ذکر کیا گیا جو صبح تک سوتا رہا، آپ نے فرمایا: شیطان نے اس شخص کے کانوں میں پیشاب کر دیا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رَجُلٌ نَامَ لَيْلَةً حَتَّى أَصْبَحَ قَالَ " ذَلِكَ الشَّيْطَانُ بَالَ فِي أُذُنَيْهِ " .
#1331
Sahih
It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Amr said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Do not be like so-and-so, who used to pray voluntary night prayers then stopped praying voluntary night prayers.”
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم فلاں شخص کی طرح نہ ہو جانا جو رات میں تہجد پڑھتا تھا، پھر اس نے اسے چھوڑ دیا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لاَ تَكُنْ مِثْلَ فُلاَنٍ كَانَ يَقُومُ اللَّيْلَ فَتَرَكَ قِيَامَ اللَّيْلِ " .
#1332
Daif
It was narrated that Jabir bin ‘Abdullah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘The mother of Sulaiman bin Dawud said to Sulaiman: “O my son, do not sleep too much at night, for sleeping too much at night will leave a man poor on the Day of Resurrection.”
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سلیمان بن داود علیہما السلام کی ماں نے سلیمان سے کہا: بیٹے! تم رات میں زیادہ نہ سویا کرو اس لیے کہ رات میں بہت زیادہ سونا آدمی کو قیامت کے دن فقیر کر دے گا ۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَدَثَانِيُّ، قَالُوا حَدَّثَنَا سُنَيْدُ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ لِسُلَيْمَانَ يَا بُنَىَّ لاَ تُكْثِرِ النَّوْمَ بِاللَّيْلِ فَإِنَّ كَثْرَةَ النَّوْمِ بِاللَّيْلِ تَتْرُكُ الرَّجُلَ فَقِيرًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
#1333
Daif
It was narrated that Jabir said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Whoever prays a great deal at night, his face will be handsome during the day.’”
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص رات میں زیادہ نمازیں پڑھے گا، دن میں اس کے چہرے سے نور ظاہر ہو گا ۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّلْحِيُّ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ مُوسَى أَبُو يَزِيدَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَنْ كَثُرَتْ صَلاَتُهُ بِاللَّيْلِ حَسُنَ وَجْهُهُ بِالنَّهَارِ " .
#1334
Sahih
It was narrated that ‘Abdullah bin Salam said:“When the Messenger of Allah (ﷺ) came to Al-Madinah, the people rushed towards him and it was said: ‘The Messenger of Allah (ﷺ) has come!’ I came along with the people to see him, and when I looked at the face of the Messenger of Allah (ﷺ), I realized that his face was not the face of a liar. The first thing he said was: “O people, spread (the greeting of) Salam, offer food to people and pray at night when people are sleeping, you will enter Paradise in peace.”
عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آئے تو لوگ آپ کی طرف دوڑ پڑے، اور انہوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے ہیں، تو لوگوں کے ساتھ آپ کو دیکھنے کے لیے میں بھی آیا، جب میں نے کوشش کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک دیکھا، تو پہچان لیا کہ آپ کا چہرہ کسی جھوٹے کا چہرہ نہیں ہے، پہلی بات آپ نے جو کہی وہ یہ تھی کہ لوگو! سلام کو عام کرو، کھانا کھلاؤ، اور رات کو نماز پڑھو، جب کہ لوگ سوئے ہوں، تب تم جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ گے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَوْفِ بْنِ أَبِي جَمِيلَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلاَمٍ، قَالَ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ الْمَدِينَةَ انْجَفَلَ النَّاسُ إِلَيْهِ . وَقِيلَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ . فَجِئْتُ فِي النَّاسِ لأَنْظُرَ إِلَيْهِ فَلَمَّا اسْتَبَنْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَرَفْتُ أَنَّ وَجْهَهُ لَيْسَ بِوَجْهِ كَذَّابٍ فَكَانَ أَوَّلَ شَىْءٍ تَكَلَّمَ بِهِ أَنْ قَالَ " يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَفْشُوا السَّلاَمَ وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ وَصَلُّوا بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلاَمٍ " .
#1335
Sahih
It was narrated that Abu Sa’eed and Abu Hurairah said that the Prophet (ﷺ) said:‘When a man wakes up at night and wakes his wife, and they pray two Rak’ah, they will be recorded among the men and women who remember Allah much.”
ابوسعید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی رات میں بیدار ہو اور اپنی بیوی کو جگائے، اور دونوں دو رکعت نماز پڑھیں، تو وہ دونوں «ذاکرین» ( اللہ کی یاد کثرت سے کرنے والے ) اور «ذاکرات» ( کثرت سے یاد کرنے والیوں ) میں سے لکھے جائیں گے ۱؎۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الأَقْمَرِ، عَنِ الأَغَرِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي، هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " إِذَا اسْتَيْقَظَ الرَّجُلُ مِنَ اللَّيْلِ وَأَيْقَظَ امْرَأَتَهُ فَصَلَّيَا رَكْعَتَيْنِ كُتِبَا مِنَ الذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ " .
#1336
Hasan Sahih
It was narrated that Abu Hurairah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘May Allah have mercy on a man who gets up at night and prays, and wakes his wife, and she prays; and if she refuses he sprinkles water in her face. And May Allah have mercy on a woman who gets up at night and prays, and wakes her husband and he prays; and if he refuses, she sprinkles water in his face.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے، جو رات میں بیدار ہوا، اور نماز پڑھی، اور اپنی بیوی کو بھی جگایا، اس نے نماز پڑھی، اگر نہ اٹھی تو اس کے چہرہ پہ پانی چھڑکا، اللہ تعالیٰ اس عورت پر رحم کرے، جو رات میں بیدار ہوئی، پھر اس نے نماز پڑھی اور اپنے شوہر کو جگایا، اس نے بھی نماز پڑھی اگر نہ اٹھا تو اس کے منہ پر پانی چھڑکا ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " رَحِمَ اللَّهُ رَجُلاً قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّى وَأَيْقَظَ امْرَأَتَهُ فَصَلَّتْ فَإِنْ أَبَتْ رَشَّ فِي وَجْهِهَا الْمَاءَ رَحِمَ اللَّهُ امْرَأَةً قَامَتْ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّتْ وَأَيْقَظَتْ زَوْجَهَا فَصَلَّى فَإِنْ أَبَى رَشَّتْ فِي وَجْهِهِ الْمَاءَ " .
#1337
Daif
It was narrated that ‘Abdur-Rahman bin Sa’ib said:“Sa’d bin Abu Waqqas came to us when he had become blind. I greeted him with Salam and he said: ‘Who are you?’ So I told him, and he said: ‘Welcome, O son of my brother. I have heard that you recite Qur’an in a beautiful voice. I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: “This Qur’an was revealed with sorrow, so when you recite it, then weep. If you cannot weep then pretend to weep, and make your voice melodious in reciting it. Whoever does not make his voice melodious, he is not one of us.”
عبدالرحمٰن بن سائب کہتے ہیں کہ ہمارے پاس سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ آئے، وہ نابینا ہو گئے تھے، میں نے ان کو سلام کیا، تو انہوں نے کہا: تم کون ہو؟ میں نے انہیں ( اپنے بارے میں ) بتایا: تو انہوں نے کہا: بھتیجے! تمہیں مبارک ہو، مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم قرآن اچھی آواز سے پڑھتے ہو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: یہ قرآن غم کے ساتھ اترا ہے لہٰذا جب تم قرآن پڑھو، تو رؤو، اگر رو نہ سکو تو بہ تکلف رؤو، اور قرآن پڑھتے وقت اسے اچھی آواز کے ساتھ پڑھو۱؎، جو قرآن کو اچھی آواز سے نہ پڑھے، وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَشِيرِ بْنِ ذَكْوَانَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو رَافِعٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ السَّائِبِ، قَالَ قَدِمَ عَلَيْنَا سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ وَقَدْ كُفَّ بَصَرُهُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ مَنْ أَنْتَ فَأَخْبَرْتُهُ . فَقَالَ مَرْحَبًا بِابْنِ أَخِي بَلَغَنِي أَنَّكَ حَسَنُ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ نَزَلَ بِحُزْنٍ فَإِذَا قَرَأْتُمُوهُ فَابْكُوا فَإِنْ لَمْ تَبْكُوا فَتَبَاكَوْا وَتَغَنَّوْا بِهِ فَمَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِهِ فَلَيْسَ مِنَّا " .
#1338
Sahih
It was narrated that ‘Aishah the wife of the Prophet (ﷺ) said:“One night at the time of the Messenger of Allah (ﷺ) I was late returning from the ‘Isha’, then I came and he said: ‘Where were you?’ I said: ‘I was listening to the recitation of a man among your Companions, for I have never heard a recitation or a voice like his from anyone.’ He got up and I got up with him, to go and listen to him. Then he turned to me and said: ‘This is Salim, the freed slave of Abu Hudhaifah. Praise is to Allah Who has created such men among my Ummah.’”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک روز میں نے عشاء کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے میں دیر کر دی، جب میں آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کہاں تھیں؟ میں نے کہا: آپ کے اصحاب میں سے ایک شخص کی تلاوت سن رہی تھی، ویسی تلاوت اور ویسی آواز میں نے کسی سے نہیں سنی، یہ سنتے ہی آپ کھڑے ہوئے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں بھی کھڑی ہوئی، آپ نے اس شخص کی قراءت سنی، پھر آپ میری جانب متوجہ ہوئے، اور فرمایا: یہ ابوحذیفہ کے غلام سالم ہیں، اللہ کا شکر ہے کہ اس نے میری امت میں ایسا شخص پیدا کیا ۱؎۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ سَابِطٍ الْجُمَحِيَّ، يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَتْ أَبْطَأْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ لَيْلَةً بَعْدَ الْعِشَاءِ ثُمَّ جِئْتُ فَقَالَ " أَيْنَ كُنْتِ " . قُلْتُ كُنْتُ أَسْتَمِعُ قِرَاءَةَ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِكَ لَمْ أَسْمَعْ مِثْلَ قِرَاءَتِهِ وَصَوْتِهِ مِنْ أَحَدٍ . قَالَتْ فَقَامَ وَقُمْتُ مَعَهُ حَتَّى اسْتَمَعَ لَهُ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَىَّ فَقَالَ " هَذَا سَالِمٌ، مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ. الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي أُمَّتِي مِثْلَ هَذَا " .
#1339
Sahih
It was narrated that Jabir said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Among the people who recite the Qur’an with the most beautiful voices is the man who, when you hear him, you think that he fears Allah.’”
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سب سے عمدہ آواز میں قرآن پڑھنے والا وہ ہے کہ جب تم اس کی قراءت سنو تو تمہیں ایسا لگے کہ وہ اللہ سے ڈرتا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الضَّرِيرُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَمِّعٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ صَوْتًا بِالْقُرْآنِ، الَّذِي إِذَا سَمِعْتُمُوهُ يَقْرَأُ، حَسِبْتُمُوهُ يَخْشَى اللَّهَ " .
#1340
Daif
It was narrated that Fadalah bin ‘Ubaid said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Allah listens more attentively to a man with a beautiful voice who recites Qur’an out loud than the master of a singing slave listens to his slave.’”
فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ خوش الحان شخص کا قرآن اس سے زیادہ متوجہ ہو کر سنتا ہے جتنا کہ گانا سننے والا اپنی توجہ گانے والی کی طرف لگاتا ہے ۔
حَدَّثَنَا رَاشِدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ رَاشِدٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ مَيْسَرَةَ، مَوْلَى فَضَالَةَ عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لَلَّهُ أَشَدُّ أَذَنًا إِلَى الرَّجُلِ الْحَسَنِ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ يَجْهَرُ بِهِ مِنْ صَاحِبِ الْقَيْنَةِ إِلَى قَيْنَتِهِ " .
#1341
Hasan Sahih
It was narrated that Abu Hurairah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) entered the mosque and heard a man reciting Qur’an. He asked: ‘Who is this?’ It was said: ‘(He is) ‘Abdullah bin Qais.’ He said: ‘He has been given (sweet melodious voice) from the Mazamir of the family of Dawud.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کی قراءت سنی تو پوچھا: یہ کون ہے؟ عرض کیا گیا: عبداللہ بن قیس ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں داؤد ( علیہ السلام ) کی خوش الحانی میں سے حصہ ملا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ الْمَسْجِدَ فَسَمِعَ قِرَاءَةَ رَجُلٍ فَقَالَ " مَنْ هَذَا " . فَقِيلَ هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ . فَقَالَ " لَقَدْ أُوتِيَ هَذَا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ " .
#1342
Sahih
It was narrated from Bara’ (bin ‘Azib) that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Beautify the Qur’an with your voices.”
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن کو اپنی آوازوں سے زینت دو ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ طَلْحَةَ الْيَامِيَّ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْسَجَةَ، قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، يُحَدِّثُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " زَيِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِكُمْ " .
#1343
Sahih
It was narrated that ‘Abdur-Rahman bin ‘Abdin Al-Qari said:“I heard ‘Umar bin Khattab say: ‘The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Whoever sleeps and misses his daily portion of Qur’an, or any part of it, let him read it between the Fajr prayer and the Zuhr prayer, and it will be recorded as if he had read it during the night.”
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنا پورا وظیفہ ( ورد ) یا اس کا کچھ حصہ چھوڑ کر سو جائے، اور اسے فجر و ظہر کے درمیان پڑھ لے، تو اس کو ایسا لکھا جائے گا گویا اس نے رات میں پڑھا ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ، وَعُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَاهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَنْ نَامَ عَنْ جُزْئِهِ، أَوْ عَنْ شَىْءٍ مِنْهُ، فَقَرَأَهُ فِيمَا بَيْنَ صَلاَةِ الْفَجْرِ وَصَلاَةِ الظُّهْرِ - كُتِبَ لَهُ كَأَنَّمَا قَرَأَهُ مِنَ اللَّيْلِ " .
#1344
Sahih
It was narrated that Abu Darda’ conveyed that the Prophet (ﷺ) said:“Whoever goes to bed intending to wake up and pray during the night, but is overwhelmed by sleep until morning comes, what he intended will be recorded for him, and his sleep is a charity given to him by his Lord.”
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے بستر پہ آئے، اور ارادہ رکھتا ہو کہ رات میں اٹھ کر نماز پڑھے گا، پھر اسے ایسی نیند آئی کہ صبح ہو گئی، تو اس کا ثواب اس کی نیت کے مطابق لکھا جائے گا، اور اس کا سونا اس کے رب کی طرف سے اس پر صدقہ ہو گا ۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللّ��هِ الْحَمَّالُ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ الأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " مَنْ أَتَى فِرَاشَهُ وَهُوَ يَنْوِي أَنْ يَقُومَ فَيُصَلِّيَ مِنَ اللَّيْلِ فَغَلَبَتْهُ عَيْنُهُ حَتَّى يُصْبِحَ - كُتِبَ لَهُ مَا نَوَى وَكَانَ نَوْمُهُ صَدَقَةً عَلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ " .
#1345
Daif
It was narrated from ‘Uthman bin ‘Abdullah bin Aws that his grandfather Aws bin Hudhaifah said:“We came to the Messenger of Allah (ﷺ) in the delegation of Thaqif. The allies of Quraish stayed at the house of Mughirah bin Shu’bah, and the Messenger of Allah (ﷺ) camped Bani Malik in a tent belonging to him. He used to come to us every night after the ‘Isha’ and speak to us standing on his two feet, until he started to shift his weight from one foot to the other. Most of what he told us was what he had suffered from his people, the Quraish. He said: ‘(The two sides) were not equal. We were weak and oppressed and humiliated, and when we went out to Al-Madinah, the outcome of the battles between us varied; sometimes we would defeat them and sometimes they would defeat us.’ One night he was later than he usually was, and I said: ‘O Messenger of Allah, you have come to us late tonight.’ He said: ‘It occurred to me that I had not read my daily portion of Qur’an and I did not want to come out until I had completed it.’” Aws said: “I asked the Companions of the Messenger of Allah (ﷺ): ‘How did you used to divide up the Qur’an?’ They said: ‘A third, a fifth, a seventh, a ninth, an eleventh, a thirteenth, and Hizbul-Mufassal.’”
اوس بن حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ثقیف کے ایک وفد میں آئے، تو لوگوں نے قریش کے حلیفوں کو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے پاس اتارا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو مالک کو اپنے ایک خیمہ میں اتارا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات عشاء کے بعد ہمارے پاس تشریف لاتے، اور کھڑے کھڑے باتیں کرتے یہاں تک کہ ایک پاؤں سے دوسرے پاؤں پر بدل بدل کر کھڑے رہتے، اور اکثر وہ حالات بیان کرتے جو اپنے خاندان قریش سے آپ کو پیش آئے تھے، اور فرماتے: ہم اور وہ برابر نہ تھے، ہم کمزور اور بے حیثیت تھے، لیکن جب ہم مدینہ آئے تو لڑائی کا ڈول ہمارے اور ان کے درمیان رہا، ہم ان کے اوپر ڈول نکالتے اور وہ ہمارے اوپر ڈول نکالتے ۱؎ ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے وقت مقررہ پر آنے میں تاخیر کی؟ تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے آج رات تاخیر کی؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا قرآن کا وظیفہ پڑھنے سے رہ گیا تھا، میں نے مناسب نہیں سمجھا کہ اس کو پورا کئے بغیر نکلوں ۔ اوس کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے پوچھا: آپ لوگ قرآن کے وظیفے کیسے مقرر کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: پہلا حزب تین سورتوں کا ( بقرہ، آل عمران اور نساء ) دوسرا حزب پانچ سورتوں کا ( مائدہ، انعام، اعراف، انفال اور براءۃ ) ، تیسرا حزب سات سورتوں کا ( یونس، ہود، یوسف، رعد، ابراہیم، حجر اور نمل ) ، چوتھا حزب نو سورتوں کا ( بنی اسرائیل، کہف، مریم، طہٰ، انبیاء، حج، مومنون، نور اور فرقان ) ، پانچواں حزب گیارہ سورتوں کا ( شعراء، نحل، قصص، عنکبوت، روم، لقمان، سجدہ، احزاب، سبا، فاطر اور یٰسین ) ، اور چھٹا حزب تیرہ سورتوں کا ( صافات، ص، زمر، ساتوں حوامیم، محمد، فتح اور حجرات ) ، اور ساتواں حزب مفصل کا ( سورۃ ق سے آخر قرآن تک ) ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْلَى الطَّائِفِيِّ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ جَدِّهِ، أَوْسِ بْنِ حُذَيْفَةَ قَالَ قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي وَفْدِ ثَقِيفٍ فَنَزَّلُوا الأَحْلاَفَ عَلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ وَأَنْزَلَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بَنِي مَالِكٍ فِي قُبَّةٍ لَهُ فَكَانَ يَأْتِينَا كُلَّ لَيْلَةٍ بَعْدَ الْعِشَاءِ فَيُحَدِّثُنَا قَائِمًا عَلَى رِجْلَيْهِ حَتَّى يُرَاوِحَ بَيْنَ رِجْلَيْهِ وَأَكْثَرُ مَا يُحَدِّثُنَا مَا لَقِيَ مِنْ قَوْمِهِ مِنْ قُرَيْشٍ وَيَقُولُ " وَلاَ سَوَاءَ كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ مُسْتَذَلِّينَ فَلَمَّا خَرَجْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ كَانَتْ سِجَالُ الْحَرْبِ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ نُدَالُ عَلَيْهِمْ وَيُدَالُونَ عَلَيْنَا " . فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ لَيْلَةٍ أَبْطَأَ عَنِ الْوَقْتِ الَّذِي كَانَ يَأْتِينَا فِيهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ أَبْطَأْتَ عَلَيْنَا اللَّيْلَةَ . قَالَ " إِنَّهُ طَرَأَ عَلَىَّ حِزْبِي مِنَ الْقُرْآنِ فَكَرِهْتُ أَنْ أَخْرُجَ حَتَّى أُتِمَّهُ " . قَالَ أَوْسٌ فَسَأَلْتُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَيْفَ تُحَزِّبُونَ الْقُرْآنَ قَالُوا ثَلاَثٌ وَخَمْسٌ وَسَبْعٌ وَتِسْعٌ وَإِحْدَى عَشْرَةَ وَثَلاَثَ عَشْرَةَ وَحِزْبُ الْمُفَصَّلِ .
#1346
Sahih
It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Amr said:“I memorized the Qur’an and recited it all in one night. The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘I am afraid that you may live a long life and that you may get bored. Recite it over the period of a month.’ I said: ‘Let me benefit from my strength in my youth.’ He said: ‘Recite it in ten days.’ I said: ‘Let me benefit from my strength and my youth.’ He said: ‘Recite it in seven days.’ I said: ‘Let me benefit from my strength and my youth,’ but he refused (to alter it any further).”
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے قرآن حفظ کیا، اور پورا قرآن ایک ہی رات میں پڑھنے کی عادت بنا لی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ڈر ہے کہ کچھ ہی عرصہ گزرنے کے بعد تم اکتا جاؤ گے، لہٰذا تم اسے ایک مہینے میں پڑھا کرو میں نے کہا: مجھے اپنی قوت اور جوانی سے فائدہ اٹھانے دیجئیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو دس دن میں پڑھا کرو میں نے کہا: مجھے اپنی قوت اور جوانی سے فائدہ اٹھانے دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے تو سات دن میں پڑھا کرو میں نے کہا: مجھے اپنی قوت اور جوانی سے فائدہ اٹھانے دیجئیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلاَّدٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ حَكِيمِ بْنِ صَفْوَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ جَمَعْتُ الْقُرْآنَ فَقَرَأْتُهُ كُلَّهُ فِي لَيْلَةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنِّي أَخْشَى أَنْ يَطُولَ عَلَيْكَ الزَّمَانُ وَأَنْ تَمَلَّ فَاقْرَأْهُ فِي شَهْرٍ " . فَقُلْتُ دَعْنِي أَسْتَمْتِعْ مِنْ قُوَّتِي وَشَبَابِي . قَالَ " فَاقْرَأْهُ فِي عَشْرَةٍ " . قُلْتُ دَعْنِي أَسْتَمْتِعْ مِنْ قُوَّتِي وَشَبَابِي . قَالَ " فَاقْرَأْهُ فِي سَبْعٍ " . قُلْتُ دَعْنِي أَسْتَمْتِعْ مِنْ قُوَّتِي وَشَبَابِي . فَأَبَى .
#1347
Sahih
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Amr that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“No one properly understands who reads the Qur’an in less than three days.”
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے قرآن تین دن سے کم میں پڑھا، اس نے سمجھ کر نہیں پڑھا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلاَّدٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " لَمْ يَفْقَهْ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلاَثٍ " .
#1348
Sahih
It was narrated that ‘Aishah said:“I did not know of the Prophet of Allah (ﷺ) reciting the entire Qur’an until morning.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ مجھے نہیں معلوم کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی رات میں پورا قرآن پڑھا ہو۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لاَ أَعْلَمُ نَبِيَّ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَرَأَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ حَتَّى الصَّبَاحِ .
#1349
Hasan Sahih
It was narrated that Umm Hani’ bint Abi Talib said:“I used to hear the Prophet (ﷺ) reciting at night when I was on the roof of my house.”
ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت اپنے گھر کی چھت پہ لیٹی ہوئی سنتی رہتی تھی۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ أَبِي الْعَلاَءِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَتْ كُنْتُ أَسْمَعُ قِرَاءَةَ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِاللَّيْلِ وَأَنَا عَلَى عَرِيشِي .
#1350
Hasan
It was narrated that Jasrah bint Dijajah said:“I heard Abu Dharr say: ‘The Prophet (ﷺ) stood reciting a Verse and repeating it until morning came. That Verse was: “If you punish them, they are Your slaves, and if You forgive them, verily You, only You, are the All- Mighty, the All-Wise.’”” [5:]
جسرۃ بنت دجاجہ کہتی ہیں کہ میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نماز میں کھڑے ہوئے، اور ایک آیت کو صبح تک دہراتے رہے، اور وہ آیت یہ تھی: «إن تعذبهم فإنهم عبادك وإن تغفر لهم فإنك أنت العزيز الحكيم» اگر تو ان کو عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں، اور اگر تو ان کو بخش دے، تو تو عزیز ( غالب ) ، اور حکیم ( حکمت والا ) ہے ( سورة المائدة: 118 ) ۔
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ قُدَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ جَسْرَةَ بِنْتِ دَجَاجَةَ، قَالَتْ سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ، يَقُولُ قَامَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِآيَةٍ حَتَّى أَصْبَحَ يُرَدِّدُهَا وَالآيَةُ {إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ} .