#501
Daif
It was narrated that Anas bin Malik said:"The Messenger of Allah milked a sheep and drank some of its milk, then he called for water and rinsed his mouth and said: 'It has some greasiness in it
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بکری دودھ کر دودھ پیا، پھر پانی منگوا کر کلی کی اور فرمایا: اس میں چکناہٹ ہوتی ہے ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ السَّوَّاقُ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ حَلَبَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ شَاةً وَشَرِبَ مِنْ لَبَنِهَا ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَمَضْمَضَ فَاهُ وَقَالَ " إِنَّ لَهُ دَسَمًا " .
#502
Sahih
Urwah bin Az-Subair narrated from 'Aishah, that:The Messenger of Allah kissed one of his women (i.e., wives), then he went to perform the prayer, and he did not perform ablution. I ('Urwah bin Zubair) said: "That was not anyone but you,' and she smiled
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی بیوی کا بوسہ لیا، پھر نماز کے لیے نکلے اور وضو نہیں کیا، ( عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ ) میں نے ( ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے ) کہا: وہ آپ ہی رہی ہوں گی! تو وہ ہنس پڑیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَبَّلَ بَعْضَ نِسَائِهِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلاَةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ . قُلْتُ مَا هِيَ إِلاَّ أَنْتِ . فَضَحِكَتْ .
#503
Daif
It was narrated from 'Aishah:"The Messenger of Allah would perform ablution, then he would kiss, then he would perform prayer without performing ablution again. And sometimes he did that with me
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرتے پھر بوسہ لیتے، اور بغیر وضو کئے نماز پڑھتے، اور بعض دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ بھی ایسا کیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ زَيْنَبَ السَّهْمِيَّةِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ يَتَوَضَّأُ ثُمَّ يُقَبِّلُ وَيُصَلِّي وَلاَ يَتَوَضَّأُ وَرُبَّمَا فَعَلَهُ بِي .
#504
Sahih
It was narrated that 'Ali said:"The Messenger of Allah was asked about prostatic fluid and he said: 'For that ablution (is necessary), and for semen, bath is necessary
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مذی ۱؎ کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا: اس میں وضو ہے، اور منی ۲؎ میں غسل ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنِ الْمَذْىِ فَقَالَ " فِيهِ الْوُضُوءُ وَفِي الْمَنِيِّ الْغُسْلُ " .
#505
Sahih
It was narrated from Miqdad bin Aswad that:He asked the Prophet about a man who approached his wife, but did not ejaculate. He said: "If anyone of you finds that, he should sprinkle water over his private part (meaning he must wash it) and perform ablution
مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے متعلق سوال کیا جو اپنی بیوی سے قریب ہوتا ہے، اور اسے انزال نہیں ہوتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب ایسا ہو تو آدمی اپنی شرمگاہ پر پانی ڈال لے یعنی اسے دھو لے، اور وضو کر لے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الأَسْوَدِ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنِ الرَّجُلِ يَدْنُو مِنِ امْرَأَتِهِ فَلاَ يُنْزِلُ قَالَ " إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَنْضِحْ فَرْجَهُ - يَعْنِي لِيَغْسِلْهُ - وَيَتَوَضَّأْ " .
#506
Hasan
It was narrated that Sahl bin Hunaif said:"I used to suffer from a great deal of prostatic fluid, and I took many baths because of that. I asked the messenger of Allah about that, and he said: 'Ablution is sufficient for you in this case.' I said: 'O Messenger of Allah! What about the prostatic fluid that gets onto my clothes?' he said: 'it is sufficient for you to pour a handful of water on the part of your clothes wherever you see it has reached
سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے شدت سے مذی آتی تھی جس کی وجہ سے میں کثرت سے غسل کیا کرتا تھا، چنانچہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: اس سے وضو کافی ہے ، میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! جو کپڑے میں لگ جائے اس کا حکم کیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ایک چلو پانی لو، اور جہاں پہ دیکھو کہ مذی لگ گئی ہے وہاں پہ چھڑک دو، بس یہ تمہارے لیے کافی ہو گا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، وَعَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، قَالَ كُنْتُ أَلْقَى مِنَ الْمَذْىِ شِدَّةً فَأُكْثِرُ مِنْهُ الاِغْتِسَالَ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ " إِنَّمَا يُجْزِيكَ مِنْ ذَلِكَ الْوُضُوءُ " . قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ بِمَا يُصِيبُ ثَوْبِي قَالَ " إِنَّمَا يَكْفِيكَ كَفٌّ مِنْ مَاءٍ تَنْضِحُ بِهِ مِنْ ثَوْبِكَ حَيْثُ تَرَى أَنَّهُ أَصَابَ " .
#507
Daif
It was narrated from Ibn 'Abbas that:He came to Ubayy bin Ka'b accompanied by 'Umar. Ubayy came out to them and said: "I noticed some prostatic fluid, so I washed my penis and performed ablution. 'Umar said: "Is that sufficient?" He said: "Yes." He ('Umar) asked: "Did you hear that from the messenger of Allah?" He said: "Yes
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ عمر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے ہاں گئے۔ وہ ( گھر سے ) باہر تشریف لائے۔ ( بات چیت کے دوران ان میں ابی نے ) فرمایا: مجھے مذی آ گئی تھی تو میں نے عضو خاص کو دھو کر وضو کیا ہے ( اس لیے باہر آنے میں دیر ہوئی ) عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا یہ ( وضو کر لینا ) کافی ہوتا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! فرمایا: کیا آپ نے یہ مسئلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( خود ) سنا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ أَبِي حَبِيبِ بْنِ يَعْلَى بْنِ مُنْيَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ أَتَى أُبَىَّ بْنَ كَعْبٍ وَمَعَهُ عُمَرُ فَخَرَجَ عَلَيْهِمَا فَقَالَ إِنِّي وَجَدْتُ مَذْيًا فَغَسَلْتُ ذَكَرِي وَتَوَضَّأْتُ . فَقَالَ عُمَرُ أَوَ يُجْزِئُ ذَلِكَ قَالَ نَعَمْ . قَالَ أَسَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ نَعَمْ .
#508
Sahih
It was narrated from Ibn 'Abbas that:The Prophet got up during the night and went to the toilet and relieved himself, then he washed his face and hands, and went back to sleep. (Sahih) Another chain with similar wording
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں بیدار ہوئے، بیت الخلاء گئے اور قضائے حاجت کی، پھر اپنے چہرے اور دونوں ہتھیلیوں کو دھویا، پھر سو گئے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، سَمِعْتُ سُفْيَانَ، يَقُولُ لِزَائِدَةَ بْنِ قُدَامَةَ يَا أَبَا الصَّلْتِ هَلْ سَمِعْتَ فِي، هَذَا شَيْئًا فَقَالَ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَدَخَلَ الْخَلاَءَ فَقَضَى حَاجَتَهُ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ ثُمَّ نَامَ . حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلاَّدٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَنْبَأَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، أَنْبَأَنَا بُكَيْرٌ، عَنْ كُرَيْبٍ، قَالَ فَلَقِيتُ كُرَيْبًا فَحَدَّثَنِي عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
#509
Sahih
It was narrated that Anas bin Malik said:"The Messenger of Allah used to perform ablution for every prayer, and we used to perform all of the prayers with one ablution
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے، اور ہم ساری نماز ایک وضو سے پڑھ لیا کرتے تھے
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلاَةٍ وَكُنَّا نَحْنُ نُصَلِّي الصَّلَوَاتِ كُلَّهَا بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ .
#510
Sahih
Sulaiman bin Buraidah narrated from his father that:The Prophet used to perform ablution for every prayer, but on the day of the conquest of Makkah, he performed all of the prayers with one ablution
بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کیا کرتے تھے، لیکن فتح مکہ کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک وضو سے ساری نماز پڑھیں ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلاَةٍ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ صَلَّى الصَّلَوَاتِ كُلَّهَا بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ .
#511
Sahih
Fadl bin Mubashshir said:"I saw Jabir bin 'Abdullah performing every prayer with one ablution, and I said: 'What is this?' He said: 'I saw the Messenger of Allah doing this, and I am doing as the Messenger of Allah did
فضل بن مبشر کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو ایک ہی وضو سے کئی نماز پڑھتے دیکھا، تو میں نے کہا: یہ کیا ہے؟ عرض کیا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا ہے، چنانچہ میں بھی ویسے ہی کرتا ہوں جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُبَشِّرٍ، قَالَ رَأَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُصَلِّي الصَّلَوَاتِ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ . فَقُلْتُ مَا هَذَا فَقَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَصْنَعُ هَذَا فَأَنَا أَصْنَعُ كَمَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ .
#512
Daif
It was narrated that Abu Ghutaif Al-Hudhali said:"I was listening to 'Abdullah bin 'Umar bin Khattab in the mosque, and when the time for prayer came, he got up, performed ablution, and offered prayer, then he went back to where he had been sitting. When the time for 'Asr (Afternnon prayer) came, he got up, performed ablution, and offered prayer, then he went back to where he had been sitting. When the time for Maghrib (Sunset prayer) came, he got up, performed ablution, and offered prayer, then he went back to where he had been sitting. I said: 'May Allah improve you (i.e., your condition) Is it obligatory or Sunnah to perform ablution for every prayer?' He said: 'Did you notice that?' I said: 'Yes.' He said: 'No (it is not obligatory). If I perform ablution for Morning prayer I can perform all of the prayers with this ablution, so as long as I do not get impure. But I heard the Messenger of Allah say: "Whoever performs ablution while he is pure, he will have ten merits." So I wanted to earn the merits
ابوغطیف ہذلی کہتے ہیں کہ میں نے مسجد میں عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سے ان کی مجلس میں سنا، پھر جب نماز کا وقت ہوا، تو وہ اٹھے وضو کیا، اور نماز ادا کی، پھر مجلس میں دوبارہ حاضر ہوئے، پھر جب عصر کا وقت آیا تو اٹھے وضو کیا، اور نماز پڑھی، پھر اپنی مجلس میں واپس آئے، پھر جب مغرب کا وقت ہوا تو اٹھے وضو کیا، اور نماز ادا کی پھر اپنی مجلس میں دوبارہ حاضر ہوئے تو میں نے کہا: اللہ آپ کو سلامت رکھے، کیا یہ وضو ( ہر نماز کے لیے ) فرض ہے یا سنت؟ کہا: کیا تم نے میرے اس کام کو سمجھ لیا اور یہ سمجھا ہے کہ یہ میں نے اپنی طرف سے کیا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، بولے: نہیں، ( ہر نماز کے لیے وضو کرنا فرض نہیں ) اگر میں نماز فجر کے لیے وضو کرتا تو اس سے وضو نہ ٹوٹنے تک ساری نماز پڑھتا، لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جس شخص نے وضو ہوتے ہوئے وضو کیا، تو اس کے لیے دس نیکیاں ہیں ، اور مجھ کو ان نیکیوں ہی کا شوق ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي غُطَيْفٍ الْهُذَلِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فِي مَجْلِسِهِ فِي الْمَسْجِدِ فَلَمَّا حَضَرَتِ الصَّلاَةُ قَامَ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى ثُمَّ عَادَ إِلَى مَجْلِسِهِ فَلَمَّا حَضَرَتِ الْعَصْرُ قَامَ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى ثُمَّ عَادَ إِلَى مَجْلِسِهِ فَلَمَّا حَضَرَتِ الْمَغْرِبُ قَامَ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى ثُمَّ عَادَ إِلَى مَجْلِسِهِ فَقُلْتُ أَصْلَحَكَ اللَّهُ أَفَرِيضَةٌ أَمْ سُنَّةٌ الْوُضُوءُ عِنْدَ كُلِّ صَلاَةٍ قَالَ أَوَ فَطِنْتَ إِلَىَّ وَإِلَى هَذَا مِنِّي فَقُلْتُ نَعَمْ . فَقَالَ لاَ لَوْ تَوَضَّأْتُ لِصَلاَةِ الصُّبْحِ لَصَلَّيْتُ بِهِ الصَّلَوَاتِ كُلَّهَا مَا لَمْ أُحْدِثْ وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " مَنْ تَوَضَّأَ عَلَى كُلِّ طُهْرٍ فَلَهُ عَشْرُ حَسَنَاتٍ " . وَإِنَّمَا رَغِبْتُ فِي الْحَسَنَاتِ .
#513
Sahih
Abbad bin Tamim narrated that his paternal uncle said:"A complaint was made to the Prophet about a man who sensed something (some doubt about his ablution) during prayer. He said: 'No (he does not have to perform ablution) unless he notices a smell or hears a sound
عباد بن تمیم کے چچا عبداللہ بن زید بن عاصم انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس شخص کا معاملہ لے جایا گیا جس نے نماز میں ( حدث کا ) شبہ محسوس کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، شک و شبہ سے وضو نہیں ٹوٹتا جب تک کہ وہ گوز کی آواز نہ سن لے، یا بو نہ محسوس کرے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، وَعَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ شُكِيَ إِلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ الرَّجُلُ يَجِدُ الشَّىْءَ فِي الصَّلاَةِ فَقَالَ " لاَ حَتَّى يَجِدَ رِيحًا أَوْ يَسْمَعَ صَوْتًا " .
#514
Sahih
It was narrated that Abu Sa'eed Al-Khudri said:"The Prophet was asked about doubts (concerning ablution) during prayer. He said: 'he should not leave until he hears a sound or detects an odor
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز میں حدث کا شبہ ہو جانے کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تک کہ آواز نہ سن لے یا بو نہ محسوس کر لے نماز نہ توڑے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنْبَأَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنِ التَّشَبُّهِ فِي الصَّلاَةِ فَقَالَ " لاَ يَنْصَرِفْ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا " .
#515
Sahih
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: 'No ablution (is needed) unless there is an odor or a sound
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بغیر آواز یا بو کے وضو واجب نہیں ہے ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالُوا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لاَ وُضُوءَ إِلاَّ مِنْ صَوْتٍ أَوْ رِيحٍ " .
#516
Sahih
It was narrated that 'Amr bin 'Ata' said:"I saw Sa'ib bin Yazid sniffing his garment, and I said: 'Why (are you doing) that?' He said: 'I heard the Messenger of Allah say: "No ablution (is needed) unless there is an odor or a sound
محمد بن عمرو بن عطاء کہتے ہیں کہ میں نے سائب بن یزید رضی اللہ عنہما کو اپنا کپڑا سونگھتے دیکھا، میں نے پوچھا: اس کا سبب کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: بغیر بو سونگھے یا آواز سنے وضو واجب نہیں ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، قَالَ رَأَيْتُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ يَشَمُّ ثَوْبَهُ فَقُلْتُ مِمَّ ذَلِكَ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " لاَ وُضُوءَ إِلاَّ مِنْ رِيحٍ أَوْ سَمَاعٍ " .
#517
Sahih
It was narrated from 'Ubaidullah bin 'Abdullah bin 'Umar that his father said:"I heard the Messenger of Allah being asked about water in the wilderness that is frequented by beasts and predators. The Messenger of Allah said: "If the water reaches the amount of two Qullah, nothing can make it impure (Najis).'" (Sahih) Another chain with similar wording
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحراء اور میدان میں واقع ان گڈھوں کے پانی کے بارے میں پوچھا گیا جن سے مویشی اور درندے پانی پیتے رہتے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب پانی دو قلہ ( دو بڑے مٹکے کے برابر ) ہو تو اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلاَّدٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ سُئِلَ عَنِ الْمَاءِ يَكُونُ بِالْفَلاَةِ مِنَ الأَرْضِ وَمَا يَنُوبُهُ مِنَ الدَّوَابِّ وَالسِّبَاعِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِذَا بَلَغَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ لَمْ يُنَجِّسْهُ شَىْءٌ " . حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَحْوَهُ .
#518
Sahih
It was narrated from 'Ubaidullah bin 'Abdullah bin 'Umar that his father said:"The Messenger of Allah said: 'If the water is the amount of two or three Qullah, nothing can make it impure (Najis).'" (Sahih) Another chain with similar wording
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب پانی دو یا تین قلہ ہو تو اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ الْمُنْذِرِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا لَمْ يُنَجِّسْهُ شَىْءٌ " . قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، وَأَبُو سَلَمَةَ وَابْنُ عَائِشَةَ الْقُرَشِيُّ قَالُوا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
#519
Daif
It was narrated from Abu Sa'eed Al-Khudri that:The Prophet was asked about the water basins located between Makkah and Al-Madinah, which were visited by wild animals, dogs and donkeys, and about using them for means of purification. He said: "Whatever they (the animals) have carried in their bellies is for them, and whatever is left over is for us, and is pure
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ مکہ اور مدینہ کے درمیان جو حوض و تالاب واقع ہیں، اور ان پر درندے، کتے اور گدھے پانی پینے آتے ہیں، تو ایسے حوضوں و تالابوں کا اور ان کے پانی سے طہارت حاصل کرنے کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کچھ انہوں نے اپنی تہ میں سمیٹ لیا، وہ ان کا حصہ ہے، اور جو پانی حوض ( تالاب ) میں بچا، وہ ہمارے لیے پاک کرنے والا ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ سُئِلَ عَنِ الْحِيَاضِ الَّتِي بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ تَرِدُهَا السِّبَاعُ وَالْكِلاَبُ وَالْحُمُرُ وَعَنِ الطَّهَارَةِ مِنْهَا فَقَالَ " لَهَا مَا حَمَلَتْ فِي بُطُونِهَا وَلَنَا مَا غَبَرَ طَهُورٌ " .
#520
Sahih
It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said:"We came to a pond in which there was the carcass of a donkey, so we refrained from using the water until the Messenger of Allah came to us and said: 'Water is not made impure by anything.' Then we drank from it and gave it to our animals to drink, and we carried some with us
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم ایک تالاب پر پہنچے تو دیکھا کہ اس میں ایک گدھے کی لاش پڑی ہوئی ہے ہم اس ( کے استعمال ) سے رک گئے، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس پہنچے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ( یہ سنا ) تو ہم نے پیا پلایا، اور پانی بھر کر لاد لیا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ طَرِيفِ بْنِ شِهَابٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ انْتَهَيْنَا إِلَى غَدِيرٍ فَإِذَا فِيهِ جِيفَةُ حِمَارٍ . قَالَ فَكَفَفْنَا عَنْهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ " إِنَّ الْمَاءَ لاَ يُنَجِّسُهُ شَىْءٌ " . فَاسْتَقَيْنَا وَأَرْوَيْنَا وَحَمَلْنَا .
#521
Daif
It was narrated that Abu Umamah Al-Bahili said:"The Messenger of Allah said: 'Water is not made impure by anything except that which changes its smell, taste and color
ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی مگر جو چیز اس کی بو، مزہ اور رنگ پر غالب آ جائے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيَّانِ، قَالاَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ، أَنْبَأَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّ الْمَاءَ لاَ يُنَجِّسُهُ شَىْءٌ إِلاَّ مَا غَلَبَ عَلَى رِيحِهِ وَطَعْمِهِ وَلَوْنِهِ " .
#522
Hasan Sahih
It was narrated that Lubabah bint Harith said:"Husain bin 'Ali urinated in the lap of the Prophet and I said: 'O Messenger of Allah, give me your garment and put on another garment.' He said: 'Water should be sprinkled on the urine of a baby boy, and the urine of a baby girl should be washed away
لبابہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں پیشاب کر دیا، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھے اپنا کپڑا دے دیجئیے اور دوسرا کپڑا پہن لیجئیے ( تاکہ میں اسے دھو دوں ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچے کے پیشاب پہ پانی چھڑکا جاتا ہے، اور بچی کے پیشاب کو دھویا جاتا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ، عَنْ لُبَابَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، قَالَتْ بَالَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ فِي حِجْرِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْطِنِي ثَوْبَكَ وَالْبَسْ ثَوْبًا غَيْرَهُ فَقَالَ " إِنَّمَا يُنْضَحُ مِنْ بَوْلِ الذَّكَرِ وَيُغْسَلُ مِنْ بَوْلِ الأُنْثَى " .
#523
Sahih
It was narrated that 'Aishah said:"A baby boy was brought to the Prophet who then urinated on him. He sprinkled over it with water and did not wash it
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بچہ لایا گیا، اس نے آپ کے اوپر پیشاب کر دیا، آپ نے اس پر صرف پانی بہا لیا، اور اسے دھویا نہیں
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ أُتِيَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِصَبِيٍّ فَبَالَ عَلَيْهِ فَأَتْبَعَهُ الْمَاءَ وَلَمْ يَغْسِلْهُ .
#524
Sahih
It was narrated that Umm Qais bint Mihsan said:"I came to the Messenger of Allah with a son of mine who was not yet eating solid food, and he (the baby) urinated on him. He called for water and sprinkled it over (the urine)
ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اپنے ایک شیرخوار بچے کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس نے آپ کے اوپر پیشاب کر دیا، آپ نے پانی منگوا کر اس پر چھڑک دیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، قَالَتْ دَخَلْتُ بِابْنٍ لِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ فَبَالَ عَلَيْهِ فَدَعَا بِمَاءٍ فَرَشَّ عَلَيْهِ .
#525
Sahih
It was narrated from 'Ali that :The Prophet said concerning the urine of a nursing infant: "Water should be sprinkled over the urine of a boy, and the urine of a girl should be washed." Abul-Hasan bin Salamah said: "Ahmad bin Musa bin Ma'qil narrated to us that Abul-Yaman Al-Misri said: 'I asked Shafi'i about the Hadith of the Prophet, "Water should be sprinkled over the urine of a baby boy, and the urine of a baby girl should be washed," when the two types of water (urine) are the same. He said, "This is because the urine of the boy is of water and clay, but the urine of the girl is of flesh and blood." Then he said to me: "Did you understand?" I said: "No." He said: "When Allah the Most High created Adam, He created Eve (Hawwa') from his short rib, so the boy's urine is from water and clay, and the girl's urine is from flesh and blood." Then he said to me: "Did you understand?" I said: "Yes." He said: "May Allah cause you benefit from this
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شیرخوار بچے کے پیشاب کے بارے میں فرمایا: بچے کے پیشاب پہ چھینٹا مارا جائے، اور بچی کا پیشاب دھویا جائے ۔
حَدَّثَنَا حَوْثَرَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، أَنْبَأَنَا أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ فِي بَوْلِ الرَّضِيعِ " يُنْضَحُ بَوْلُ الْغُلاَمِ وَيُغْسَلُ بَوْلُ الْجَارِيَةِ " . قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُوسَى بْنِ مَعْقِلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ الْمِصْرِيُّ، قَالَ سَأَلْتُ الشَّافِعِيَّ عَنْ حَدِيثِ النَّبِيِّ، ـ صلى الله عليه وسلم ـ " يُرَشُّ مِنْ بَوْلِ الْغُلاَمِ وَيُغْسَلُ مِنْ بَوْلِ الْجَارِيَةِ " . وَالْمَاءَانِ جَمِيعًا وَاحِدٌ قَالَ لأَنَّ بَوْلَ الْغُلاَمِ مِنَ الْمَاءِ وَالطِّينِ وَبَوْلَ الْجَارِيَةِ مِنَ اللَّحْمِ وَالدَّمِ . ثُمَّ قَالَ لِي فَهِمْتَ أَوْ قَالَ لَقِنْتَ قَالَ قُلْتُ لاَ . قَالَ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَمَّا خَلَقَ آدَمَ خُلِقَتْ حَوَّاءُ مِنْ ضِلَعِهِ الْقَصِيرِ فَصَارَ بَوْلُ الْغُلاَمِ مِنَ الْمَاءِ وَالطِّينِ وَصَارَ بَوْلُ الْجَارِيَةِ مِنَ اللَّحْمِ وَالدَّمِ . قَالَ قَالَ لِي فَهِمْتَ قُلْتُ نَعَمْ . قَالَ لِي نَفَعَكَ اللَّهُ بِهِ .