#4201
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Be moderate and adhere to moderation, for there is no one among you who will be saved by his deeds.” They said: “Not even you, O Messenger of Allah?” He said: “Not even me. Unless Allah encompasses me with mercy and grace from Him.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میانہ روی اختیار کرو، اور سیدھے راستے پر رہو، کیونکہ تم میں سے کسی کو بھی اس کا عمل نجات دلانے والا نہیں ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سوال کیا: اللہ کے رسول! آپ کو بھی نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور مجھے بھی نہیں! مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت وفضل سے مجھے ڈھانپ لے ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى، قَالاَ حَدَّثَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " قَارِبُوا وَسَدِّدُوا فَإِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْكُمْ بِمُنْجِيهِ عَمَلُهُ " . قَالُوا وَلاَ أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " وَلاَ أَنَا إِلاَّ أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللَّهُ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَفَضْلٍ " .
#4202
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Allah says: ‘I am the Most Self-Sufficient and I have no need for an associate. Thus he who does an action for someone else’s sake as well as Mine will have that action renounced by Me to him whom he associated with Me.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل فرماتا ہے: میں تمام شرکاء کے شرک سے مستغنی اور بے نیاز ہوں، جس نے کوئی عمل کیا، اور اس میں میرے علاوہ کسی اور کو شریک کیا، تو میں اس سے بری ہوں، اور وہ اسی کے لیے ہے جس کو اس نے شریک کیا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنَا أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ فَمَنْ عَمِلَ لِي عَمَلاً أَشْرَكَ فِيهِ غَيْرِي فَأَنَا مِنْهُ بَرِيءٌ وَهُوَ لِلَّذِي أَشْرَكَ " .
#4203
Hasan
It was narrated from Abu Sa’d bin Abu Fadalah Al-Ansari, who was one of the Companions, that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“When Allah assembles the first and the last on the Day of Resurrection, a day concerning which there is no doubt, a caller will cry out: ‘Whoever used to associate anyone else in an action that he did for Allah, let him seek his reward from someone other than Allah, for Allah is so self-sufficient that He has no need of any associate.’”
سعد بن ابی فضالہ انصاری رضی اللہ عنہ (صحابی تھے) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اگلوں اور پچھلوں کو جمع کرے گا، اس دن جس میں کوئی شک نہیں ہے، تو ایک پکارنے والا پکارے گا کہ جس نے کوئی کام اللہ تعالیٰ کے لیے کیا، اور اس میں کسی کو شریک کیا، تو وہ اپنا بدلہ شرکاء سے طلب کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ تمام شریکوں کی شرکت سے بے نیاز ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالُ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ زِيَادِ بْنِ مِينَاءَ، عَنْ أَبِي سَعْدِ بْنِ أَبِي فَضَالَةَ الأَنْصَارِيِّ، - وَكَانَ مِنَ الصَّحَابَةِ - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِذَا جَمَعَ اللَّهُ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ لِيَوْمٍ لاَ رَيْبَ فِيهِ نَادَى مُنَادٍ مَنْ كَانَ أَشْرَكَ فِي عَمَلٍ عَمَلَهُ لِلَّهِ فَلْيَطْلُبْ ثَوَابَهُ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ " .
#4204
Hasan
It was narrated that Abu Sa’eed said:“The Messenger of Allah (ﷺ) came out to us when we were discussing Dajjal (False Christ) and said: ‘Shall I not tell you of that which I fear more for you than Dajjal?’ We said: ‘Yes.’ He said: ‘Hidden polytheism, when a man stands to pray and makes it look good because he sees a man looking at him.’”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس نکل کر آئے، ہم مسیح دجال کا تذکرہ کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تم کو ایسی چیز کے بارے میں نہ بتا دوں جو میرے نزدیک مسیح دجال سے بھی زیادہ خطرناک ہے ؟ ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ پوشیدہ شرک ہے جو یہ ہے کہ آدمی نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے، تو اپنی نماز کو صرف اس وجہ سے خوبصورتی سے ادا کرتا ہے کہ کوئی آدمی اسے دیکھ رہا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ رُبَيْحِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَنَحْنُ نَتَذَاكَرُ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ فَقَالَ " أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِمَا هُوَ أَخْوَفُ عَلَيْكُمْ عِنْدِي مِنَ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ " . قَالَ قُلْنَا بَلَى . فَقَالَ " الشِّرْكُ الْخَفِيُّ أَنْ يَقُومَ الرَّجُلُ يُصَلِّي فَيُزَيِّنُ صَلاَتَهُ لِمَا يَرَى مِنْ نَظَرِ رَجُلٍ " .
#4205
Daif
It was narrated from Shaddad bin Aws that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The thing that I fear most for my nation is associating others with Allah. I do not say that they will worship the sun or the moon or idols, but deeds done for the sake of anyone other than Allah, and hidden desires.”
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک سب سے زیادہ خطرناک چیز جس کا مجھ کو اپنی امت کے بارے میں ڈر ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک ہے، میں یہ نہیں کہتا کہ وہ سورج، چاند یا بتوں کی پوجا کریں گے، بلکہ وہ غیر اللہ کے لیے عمل کریں گے، اور دوسری چیز مخفی شہوت ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلاَنِيُّ، حَدَّثَنَا رَوَّادُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَىٍّ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَتَخَوَّفُ عَلَى أُمَّتِي الإِشْرَاكُ بِاللَّهِ أَمَا إِنِّي لَسْتُ أَقُولُ يَعْبُدُونَ شَمْسًا وَلاَ قَمَرًا وَلاَ وَثَنًا وَلَكِنْ أَعْمَالاً لِغَيْرِ اللَّهِ وَشَهْوَةً خَفِيَّةً " .
#4206
Sahih
It was narrated from Abu Sa’eed Al-Khudri that the Prophet (ﷺ) said:“Whoever wants to be heard of, Allah will make him heard of, and whoever wants to be seen, Allah will show him (i.e., make known to the people his true motives and intentions).”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو لوگوں میں شہرت و ناموری کے لیے کوئی نیک کام کرے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو ذلیل و رسوا کرے گا، اور جس نے ریاکاری کی تو اللہ تعالیٰ بھی اس کو لوگوں کے سامنے ذلیل و رسوا کر دکھائے گا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " مَنْ يُسَمِّعْ يُسَمِّعِ اللَّهُ بِهِ وَمَنْ يُرَاءِ يُرَاءِ اللَّهُ بِهِ " .
#4207
Sahih
It was narrated from Jundab that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whoever wants to be heard of, Allah will make him heard of, and whoever wants to be seen, Allah will show him (i.e., expose his real motives).”
جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو ریاکاری کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کی ریاکاری لوگوں کے سامنے نمایاں اور ظاہر کرے گا، اور جو شہرت کے لیے کوئی عمل کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو رسوا اور ذلیل کرے گا ۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ جُنْدَبٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَنْ يُرَاءِ يُرَاءِ اللَّهُ بِهِ وَمَنْ يُسَمِّعْ يُسَمِّعِ اللَّهُ بِهِ " .
#4208
Sahih
It was narrated from ‘Abdullah bin Mas’ud that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“There is no (permissible) envy except in two cases: A man whom Allah has given wealth and caused him to dispose of it in a proper manner, and a man to whom Allah has given wisdom, and he acts in accordance with it and teaches it (to others).”
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رشک و حسد کے لائق صرف دو لوگ ہیں: ایک وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے مال عطا کیا، اور پھر اس کو راہ حق میں لٹا دینے کی توفیق دی، دوسرا وہ جس کو علم و حکمت عطا کی تو وہ اس کے مطابق عمل کرتا ہے اور لوگوں کو سکھاتا ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لاَ حَسَدَ إِلاَّ فِي اثْنَتَيْنِ رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالاً فَسَلَّطَهُ عَلَى هَلَكَتِهِ فِي الْحَقِّ وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ حِكْمَةً فَهُوَ يَقْضِي بِهَا وَيُعَلِّمُهَا " .
#4209
Sahih
It was narrated from Salim that his father said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘There is no envy except in two cases. A man to whom Allah has given (knowledge of) the Qur’an, so he recites it night and day, and a man to whom Allah has given wealth, so he spends it night and day.’”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رشک و حسد کے لائق صرف دو لوگ ہیں: ایک وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن کا علم عطا کیا، تو وہ اسے دن رات پڑھتا ہے، دوسرا وہ جسے اللہ تعالیٰ نے مال عطا کیا، تو وہ اسے دن رات ( نیک کاموں میں ) خرچ کرتا ہے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لاَ حَسَدَ إِلاَّ فِي اثْنَتَيْنِ رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ فَهُوَ يَقُومُ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالاً فَهُوَ يُنْفِقُهُ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ " .
#4210
Daif
It was narrated from Anas that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Envy consumes good deeds just as fire consumes wood, and charity extinguishes bad deeds just as water extinguishes fire. Prayer is the light of the believer and fasting is a shield against the Fire.”
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑیوں کو، اور صدقہ و خیرات گناہوں کو اسی طرح بجھاتا ہے جس طرح پانی آگ کو، نماز مومن کا نور ہے اور روزہ آگ سے ڈھال ہے ۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالُ، وَأَحْمَدُ بْنُ الأَزْهَرِ، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ أَبِي عِيسَى الْحَنَّاطِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " الْحَسَدُ يَأْكُلُ الْحَسَنَاتِ كَمَا تَأْكُلُ النَّارُ الْحَطَبَ وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ كَمَا يُطْفِئُ الْمَاءُ النَّارَ وَالصَّلاَةُ نُورُ الْمُؤْمِنِ وَالصِّيَامُ جُنَّةٌ مِنَ النَّارِ " .
#4211
Sahih
It was narrated from Abu Bakrah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“There is no sin more deserving that Allah hasten the punishment in this world, in addition to what is stored up for him in the Hereafter – than injustice and severing the ties of kinship.”
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی گناہ ایسا نہیں ہے جس کے کرنے پر آخرت کے عذاب کے ساتھ جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے تیار کر رکھا ہے دنیا میں بھی سزا دینی زیادہ لائق ہو سوائے بغاوت اور قطع رحمی کے ۱؎۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيُّ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، وَابْنُ، عُلَيَّةَ عَنْ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَا مِنْ ذَنْبٍ أَجْدَرُ أَنْ يُعَجِّلَ اللَّهُ لِصَاحِبِهِ الْعُقُوبَةَ فِي الدُّنْيَا مَعَ مَا يَدَّخِرُ لَهُ فِي الآخِرَةِ - مِنَ الْبَغْىِ وَقَطِيعَةِ الرَّحِمِ " .
#4212
Very Daif
It was narrated from ‘Aishah, the Mother of the Believers, that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The most quickly rewarded of good deeds are kindness and upholding the ties of kinship, and the most quickly punished evil deeds are injustice and severing the ties of kinship.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے جلدی جن نیکیوں کا ثواب ملتا ہے وہ نیکی اور صلہ رحمی ہے، اور سب سے جلدی جن برائیوں پر عذاب آتا ہے وہ بغاوت و سرکشی اور قطع رحمی ہیں ۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " أَسْرَعُ الْخَيْرِ ثَوَابًا الْبِرُّ وَصِلَةُ الرَّحِمِ وَأَسْرَعُ الشَّرِّ عُقُوبَةً الْبَغْىُ وَقَطِيعَةُ الرَّحِمِ " .
#4213
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“It is sufficient evil for a man to look down on his Muslim brother.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شر سے آدمی کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلم بھائی کی تحقیر کرے ۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، - مَوْلَى بَنِي عَامِرٍ - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " حَسْبُ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ " .
#4214
Sahih
It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Allah has revealed to me that you should be humble towards one another and should not wrong one another.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی کی ہے کہ تم تواضع اختیار کرو، اور تم ایک دوسرے پر زیادتی نہ کرو ۔
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سِنَانِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّ اللَّهَ أَوْحَى إِلَىَّ أَنْ تَوَاضَعُوا وَلاَ يَبْغِي بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ " .
#4215
Daif
It was narrated from ‘Atiyyah As-Sa’di, who was one of the Companions of the Prophet (ﷺ), that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“A person will not reach the status of being one of those who have piety until he refrains from doing something in which there is no sin, for fear of falling into something in which there is sin.”
عطیہ سعدی رضی اللہ عنہ جو (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے تھے) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندہ متقیوں کے مقام کو نہیں پہنچ سکتا جب تک کہ وہ اس بات کو جس میں کوئی مضائقہ نہ ہو، اس چیز سے بچنے کے لیے نہ چھوڑ دے جس میں برائی ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ، وَعَطِيَّةُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ عَطِيَّةَ السَّعْدِيِّ، - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لاَ يَبْلُغُ الْعَبْدُ أَنْ يَكُونَ مِنَ الْمُتَّقِينَ حَتَّى يَدَعَ مَا لاَ بَأْسَ بِهِ حَذَرًا لِمَا بِهِ الْبَأْسُ " .
#4216
Sahih
It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Amr said:“It was said to the Messenger of Allah (ﷺ): ‘Which of the people is best?’ He said: ‘Everyone who is pure of heart and sincere in speech.’ They said: ‘Sincere in speech, we know what this is, but what is pure of heart?’ He said: ‘It is (the heart) that is pious and pure, with no sin, injustice, rancor or envy in it.’”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ لوگوں میں سب سے بہتر کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر صاف دل، زبان کا سچا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: زبان کے سچے کو تو ہم سمجھتے ہیں، صاف دل کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پرہیزگار صاف دل جس میں کوئی گناہ نہ ہو، نہ بغاوت، نہ کینہ اور نہ حسد ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، حَدَّثَنَا مُغِيثُ بْنُ سُمَىٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَىُّ النَّاسِ أَفْضَلُ قَالَ " كُلُّ مَخْمُومِ الْقَلْبِ صَدُوقِ اللِّسَانِ " . قَالُوا صَدُوقُ اللِّسَانِ نَعْرِفُهُ فَمَا مَخْمُومُ الْقَلْبِ قَالَ " هُوَ التَّقِيُّ النَّقِيُّ لاَ إِثْمَ فِيهِ وَلاَ بَغْىَ وَلاَ غِلَّ وَلاَ حَسَدَ " .
#4217
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“O Abu Hurairah, be cautious, and you will be the most devoted of people to Allah. Be content, and you will be the most grateful of people to Allah. Love for people what you love for yourself, and you will be a (true) believer. Be a good neighbor to your neighbors, and you will be a (true) Muslim. And laugh little, for laughing a lot deadens the heart.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوہریرہ! ورع و تقویٰ والے بن جاؤ، لوگوں میں سب سے زیادہ عبادت گزار ہو جاؤ گے، قانع بن جاؤ، لوگوں میں سب سے زیادہ شکر کرنے والے ہو جاؤ گے، اور لوگوں کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو، مومن ہو جاؤ گے، پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرو، مسلمان ہو جاؤ گے، اور کم ہنسا کرو، کیونکہ زیادہ ہنسی دل کو مردہ کر دیتی ہے ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، عَنْ بُرْدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الأَسْقَعِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " يَا أَبَا هُرَيْرَةَ كُنْ وَرِعًا تَكُنْ أَعْبَدَ النَّاسِ وَكُنْ قَنِعًا تَكُنْ أَشْكَرَ النَّاسِ وَأَحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ تَكُنْ مُؤْمِنًا وَأَحَسِنْ جِوَارَ مَنْ جَاوَرَكَ تَكُنْ مُسْلِمًا وَأَقِلَّ الضَّحِكَ فَإِنَّ كَثْرَةَ الضَّحِكِ تُمِيتُ الْقَلْبَ " .
#4218
Daif
It was narrated from Abu Dharr that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“There is no wisdom like reflection, and no honor like good manners.”
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تدبیر جیسی کوئی عقل نہیں ہے، اور ( حرام سے ) رک جانے جیسی کوئی پرہیزگاری نہیں ہے، اور اچھے اخلاق سے بڑھ کر کوئی عالیٰ نسبی ( حسب و نسب والا ہونا ) نہیں ہے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رُمْحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنِ الْمَاضِي بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لاَ عَقْلَ كَالتَّدْبِيرِ وَلاَ وَرَعَ كَالْكَفِّ وَلاَ حَسَبَ كَحُسْنِ الْخُلُقِ " .
#4219
Sahih
It was narrated from Samurah bin Jundab that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Being honorable is wealth and noble character is piety.’
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عالیٰ نسبی ( اچھے حسب و نسب والا ہونا ) مال ہے، اور کرم ( جود و سخا اور فیاضی ) تقویٰ ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلاَنِيُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سَلاَّمُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " الْحَسَبُ الْمَالُ وَالْكَرَمُ التَّقْوَى " .
#4220
Daif
It was narrated from Abu Dharr that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“I know a word – (one of the narrators) ‘Uthman said: “a Verse” – which if all the people followed it, it would suffice them.” They said: “O Messenger of Allah, which Verse?” He said: “And whosoever fears Allah, He will make a way out for him.” [65:]
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں، ( راوی عثمان بن ابی شیبہ نے کلمہ کی جگہ آیت کہا ) اگر تمام لوگ اس کو اختیار کر لیں تو وہ ان کے لیے کافی ہے ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: اللہ کے رسول! کون سی آیت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «ومن يتق الله يجعل له مخرجا» اور جو اللہ سے ڈرے گا وہ اس کے لیے نجات کا راستہ نکال دے گا ( سورۃ الطلاق: ۲ – ۳ ) ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالاَ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ كَهْمَسِ بْنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي السَّلِيلِ، ضُرَيْبِ بْنِ نُقَيْرٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنِّي لأَعْرِفُ كَلِمَةً - وَقَالَ عُثْمَانُ آيَةً - لَوْ أَخَذَ النَّاسُ كُلُّهُمْ بِهَا لَكَفَتْهُمْ " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَّةُ آيَةٍ قَالَ " وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا " .
#4221
Sahih
It was narrated from Abu Bakr bin Abu Zuhair Ath-Thaqafi, that his father said:“The Messenger of Allah (ﷺ) addressed us in Nabawah” or Banawah – he (one of the narrators) said: “Nabawah is near Ta’if” – “And said: ‘Soon you will be able to tell the people of Paradise from the people of Hell.’ They said: ‘How O Messenger of Allah?’ He said: ‘By praise and condemnation. You are Allah’s witnesses over one another.’”
ابوزہیر ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نباوہ یا بناوہ ( طائف کے قریب ایک مقام ہے ) میں خطبہ دیا، اور فرمایا: تم جلد ہی جنت والوں کو جہنم والوں سے تمیز کر لو گے ، لوگوں نے سوال کیا: کیسے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھی تعریف اور بری تعریف کرنے سے تم ایک دوسرے کے اوپر اللہ تعالیٰ کے گواہ ہو ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ الْجُمَحِيُّ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ صَفْوَانَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ الثَّقَفِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِالنَّبَا أَوِ النَّبَاوَةِ - قَالَ وَالنَّبَاوَةُ مِنَ الطَّائِفِ - قَالَ " يُوشِكُ أَنْ تَعْرِفُوا أَهْلَ الْجَنَّةِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ " . قَالُوا بِمَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " بِالثَّنَاءِ الْحَسَنِ وَالثَّنَاءِ السَّيِّئِ أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ " .
#4222
Sahih
It was narrated that Kulthum Al-Khuza’i said:“A man came to the Prophet (ﷺ) and said: ‘O Messenger of Allah, how can I know, when I have done something good, that I have done well, and if I have done something bad, that I have done a bad deed?’ The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘If your neighbors say that you have done something good, then you have done well, and if they say that you have done something bad, then you have done something bad.’”
کلثوم خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص نے آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! جب میں اچھا کام کروں تو مجھے کیسے پتا چلے گا کہ میں نے اچھا کام کیا، اور جب برا کروں تو کیسے سمجھوں کہ میں نے برا کام کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: جب تمہارے پڑوسی کہیں کہ تم نے اچھا کام کیا ہے تو سمجھ لو کہ تم نے اچھا کیا ہے، اور جب وہ کہیں کہ تم نے برا کام کیا ہے تو سمجھ لو کہ تم نے برا کیا ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ كُلْثُومٍ الْخُزَاعِيِّ، قَالَ أَتَى النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ لِي أَنْ أَعْلَمَ إِذَا أَحْسَنْتُ أَنِّي قَدْ أَحْسَنْتُ وَإِذَا أَسَأْتُ أَنِّي قَدْ أَسَأْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِذَا قَالَ جِيرَانُكَ إِنَّكَ قَدْ أَحْسَنْتَ فَقَدْ أَحْسَنْتَ وَإِذَا قَالُوا إِنَّكَ قَدْ أَسَأْتَ فَقَدْ أَسَأْتَ " .
#4223
Sahih
It was narrated that ‘Abdullah said:“A man said to the Messenger of Allah (ﷺ): ‘How can I know when I have done well and when I have done something bad?’ The Prophet (ﷺ) said: ‘If you hear your neighbors saying that you have done well, then you have done well, and if you hear them saying that you have done something bad, then you have done something bad.’”
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: جب میں کوئی اچھا کام کروں تو کیسے سمجھوں کہ میں نے اچھا کام کیا ہے؟ اور جب برا کام کروں تو کیسے جانوں کہ میں نے برا کام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم اپنے پڑوسیوں کو کہتے ہوئے سنو کہ تم نے اچھا کام کیا ہے، تو سمجھ لو کہ تم نے اچھا کام کیا ہے، اور جب تمہارے پڑوسی کہیں کہ تم نے برا کام کیا ہے، تو سمجھ لو کہ تم نے برا کام کیا ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِرَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ : كَيْفَ لِي أَنْ أَعْلَمَ إِذَا أَحْسَنْتُ وَإِذَا أَسَأْتُ قَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ : " إِذَا سَمِعْتَ جِيرَانَكَ يَقُولُونَ قَدْ أَحْسَنْتَ فَقَدْ أَحْسَنْتَ وَإِذَا سَمِعْتَهُمْ يَقُولُونَ : قَدْ أَسَأْتَ فَقَدْ أَسَأْتَ " .
#4224
Hasan Sahih
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The people of Paradise are those whose ears Allah fills with the praise of people when they are listening, and the people of Hell- fire are those whom He fills their ears with condemnation when they are listening.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنتی وہ ہے جس کے کان اللہ تعالیٰ لوگوں کی اچھی تعریف سے بھر دے، اور وہ اسے سنتا ہو، اور جہنمی وہ ہے جس کے کان اللہ تعالیٰ لوگوں کی بری تعریف سے بھر دے، اور وہ اسے سنتا ہو ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَزَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبُو هِلاَلٍ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ أَبِي ثُبَيْتٍ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ : " أَهْلُ الْجَنَّةِ مَنْ مَلأَ اللَّهُ أُذُنَيْهِ مِنْ ثَنَاءِ النَّاسِ خَيْرًا وَهُوَ يَسْمَعُ، وَأَهْلُ النَّارِ مَنْ مَلأَ أُذُنَيْهِ مِنْ ثَنَاءِ النَّاسِ شَرًّا وَهُوَ يَسْمَعُ " .
#4225
Sahih
It was narrated from Abu Dharr:“I said to the Prophet (ﷺ): ‘(What do you say about when) a man does a deed for the sake of Allah, and people love him for it?’ He said: ‘That is the immediate glad tidings of the believer.’”
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ایک شخص اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی کام کرتا ہے تو کیا اس کی وجہ سے لوگ اس سے محبت کرنے لگتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو مومن کے لیے نقد ( جلد ملنے والی ) خوشخبری ( بشارت ) ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ قُلْتُ لَهُ : الرَّجُلُ يَعْمَلُ الْعَمَلَ لِلَّهِ فَيُحِبُّهُ النَّاسُ عَلَيْهِ قَالَ : " ذَلِكَ عَاجِلُ بُشْرَى الْمُؤْمِنِ " .