#4026
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“We are more likely to express doubt than Ibrahim when he said: “My Lord! Show me how You give life to the dead.’ He (Allah) said: ‘Do you not believe?’ He (Ibrahim) said: ‘Yes (I believe), but to be stronger in Faith.’[2:260] And may Allah have mercy on Lut. He wished to have a powerful support. And if i were to stay in prison as long as Yusuf stayed, I would have accepted the offer.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم ابراہیم علیہ السلام سے زیادہ شک کرنے کے حقدار ہیں ۱؎ جب انہوں نے کہا: اے میرے رب تو مجھ کو دکھا کہ تو مردوں کو کیسے زندہ کرے گا؟ تو اللہ نے فرمایا: کیا تجھے یقین نہیں ہے؟ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں ( لیکن یہ سوال اس لیے ہے ) کہ میرے دل کو اطمینان حاصل ہو جائے، اور اللہ تعالیٰ لوط علیہ السلام پر رحم کرے، وہ زور آور شخص کی پناہ ڈھونڈھتے تھے، اگر میں اتنے دنوں تک قید میں رہا ہوتا جتنے عرصہ یوسف علیہ السلام رہے، تو جس وقت بلانے والا آیا تھا میں اسی وقت اس کے ساتھ ہو لیتا ۲؎۔
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ إِذْ قَالَ {رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى قَالَ أَوَ لَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي} وَيَرْحَمُ اللَّهُ لُوطًا لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ طُولَ مَا لَبِثَ يُوسُفُ لأَجَبْتُ الدَّاعِيَ " .
#4027
Sahih
It was narrated that Anas bin Malik said:On the Day of Uhud, a molar of the Messenger of Allah (ﷺ) was broken and he was wounded. Blood started pouring down his face, and he started to wipe his face and say: “How can any people prosper if they soak the face of their Prophet with blood when he is calling them to Allah?” Then Allah revealed: “Not for you is the decision.”[3:]
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جنگ احد کے دن جب رسول اللہ صلی اللہعلیہ وسلم کے سامنے کے چار دانتوں میں سے ایک دانت ٹوٹ گیا، اور سر زخمی ہو گیا، تو خون آپ کے چہرہ مبارک پر بہنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خون کو اپنے چہرہ سے پونچھتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے: وہ قوم کیسے کامیاب ہو سکتی ہے جس نے اپنے نبی کے چہرے کو خون سے رنگ دیا ہو، حالانکہ وہ انہیں اللہ کی طرف دعوت دے رہا تھا، تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «ليس لك من الأمر شيء» اے نبی! آپ کو اس معاملے میں کچھ اختیار نہیں ہے ( سورة آل عمران: 128 ) ۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ كُسِرَتْ رَبَاعِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَشُجَّ فَجَعَلَ الدَّمُ يَسِيلُ عَلَى وَجْهِهِ وَجَعَلَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ وَيَقُولُ " كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ خَضَبُوا وَجْهَ نَبِيِّهِمْ بِالدَّمِ وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ " . فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَىْءٌ} .
#4028
Sahih
It was narrated that Anas said:“One day, Jibril (as) came to the Messenger of Allah (ﷺ) when he was sitting in a sorrowful state with his face soaked with blood, because some of the people of Makkah had struck him. He said: ‘What is the matter with you?’ He said: ‘These people did such and such to me.’ He said: ‘Would you like me to show you a sign?’ He said: ‘Yes, show me.’ He looked at a tree on the far side of the valley and said: ‘Call that tree.’ So he called it, and it came walking until it stood before him. He said: ‘Tell it to go back.’ So he told it, and it went back to its place. Then the Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘That is sufficient for me.’”
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن جبرائیل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اس وقت آپ غمگین بیٹھے ہوئے تھے، اور لہولہان تھے، اہل مکہ میں سے کچھ لوگوں نے آپ کو خشت زنی کر کے لہولہان کر دیا تھا، انہوں نے کہا: آپ کو کیا ہو گیا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں نے میرے ساتھ یہ سلوک کیا ہے ، جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا: آپ چاہتے ہیں کہ میں آپ کو کوئی نشانی دکھاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں دکھائیے ، پھر جبرائیل علیہ السلام نے وادی کے پیچھے ایک درخت کی طرف دیکھا، اور کہا: آپ اس درخت کو بلائیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آواز دی، وہ آ کر آپ کے سامنے کھڑا ہو گیا، پھر انہوں نے کہا: آپ اس سے کہیے کہ وہ واپس جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس جانے کو کہا، تو وہ اپنی جگہ چلا گیا، ( یہ دیکھ کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے لیے یہ نشانی ( معجزہ ) ہی کافی ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ جَاءَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ذَاتَ يَوْمٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَهُوَ جَالِسٌ حَزِينٌ قَدْ خُضِبَ بِالدِّمَاءِ قَدْ ضَرَبَهُ بَعْضُ أَهْلِ مَكَّةَ فَقَالَ مَا لَكَ فَقَالَ " فَعَلَ بِي هَؤُلاَءِ وَفَعَلُوا " . قَالَ أَتُحِبُّ أَنْ أُرِيَكَ آيَةً قَالَ " نَعَمْ أَرِنِي " . فَنَظَرَ إِلَى شَجَرَةٍ مِنْ وَرَاءِ الْوَادِي فَقَالَ ادْعُ تِلْكَ الشَّجَرَةَ . فَدَعَاهَا فَجَاءَتْ تَمْشِي حَتَّى قَامَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ قَالَ قُلْ لَهَا فَلْتَرْجِعْ فَقَالَ لَهَا فَرَجَعَتْ حَتَّى عَادَتْ إِلَى مَكَانِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " حَسْبِي " .
#4029
Sahih
It was narrated from Hudhaifah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Count for me all those who have uttered (the word of) Islam.” We said: “O Messenger of Allah, do you fear for us when we number between six and seven hundred?” The Messenger of Allah (ﷺ) said: “You do not know, perhaps you will be tested.”
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمام مسلمانوں کی تعداد شمار کر کے مجھے بتاؤ ، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ ہم پر ( اب بھی دشمن کی طرف سے ) خطرہ محسوس کرتے ہیں، جب کہ اب ہماری تعداد چھ اور سات سو کے درمیان ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ نہیں جانتے شاید کہ تم آزمائے جاؤ ۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو واقعی ہم آزمائے گئے، یہاں تک کہ ہم میں سے اگر کوئی نماز بھی پڑھتا تو چھپ کر پڑھتا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " أَحْصُوا لِي كُلَّ مَنْ تَلَفَّظَ بِالإِسْلاَمِ " . قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَخَافُ عَلَيْنَا وَنَحْنُ مَا بَيْنَ السِّتِّمِائَةِ إِلَى السَّبْعِمِائَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّكُمْ لاَ تَدْرُونَ لَعَلَّكُمْ أَنْ تُبْتَلَوْا " . قَالَ فَابْتُلِينَا حَتَّى جَعَلَ الرَّجُلُ مِنَّا مَا يُصَلِّي إِلاَّ سِرًّا .
#4030
Daif Isnaad
It was narrated from Ubayy bin Ka’b that on the night when he (ﷺ) was taken on the Night Journey (Isra’), the Messenger of Allah (ﷺ) noticed a good fragrance and said:“O Jibril, what is this good fragrance?” He said: “This is the fragrance of the grave of the hairdresser and her two sons and her husband.” He said: “That began when Khadir, who was one of the nobles of the Children of Israel, used to pass by a monk in his cell. The monk used to meet him and he taught him Islam. When Khadir reached adolescence, his father married him to a woman. He taught her and made her promise not to teach it to anyone. He used not to touch women, so he divorced her, then his father married him to another woman, and he taught her and made her promise not to teach it to anyone. One of them kept the secret but the other disclosed it, so he fled until he came to an island in the sea. Two men came, gathering firewood, and saw him. One of them kept the secret but the other disclosed it and said: ‘I have seen Khadir.’ It was said: ‘Who else saw him besides you?’ He said: ‘So-and-so.’ (The other man) was questioned but he kept silent. According to their religion, the liar was to be killed. The woman who had kept the secret got married, and while she was combing the hair of Pharoah’s daughter, she dropped the comb and said: ‘May Pharoah perish!’ (The daughter) told her father about that. The woman had two sons and a husband. (Pharoah) sent for them, and tried to make the woman and her husband give up their religion, but they refused. He said: ‘I am going to kill you.’ They said: ‘It would be an act of kindness on your part, if you kill us, to put us in one grave.’ So he did that.” When the Prophet (ﷺ) was taken on the Night Journey (Isra’), he noticed a good fragrance and asked Jibril about it and he told him.”
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات ایک خوشبو محسوس کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبرائیل! یہ کیسی خوشبو ہے ؟، انہوں نے کہا: یہ اس عورت کی قبر کی خوشبو ہے جو فرعون کی بیٹی کو کنگھی کرتی تھی، اور اس کے دونوں بیٹوں اور شوہر کے قبر کی خوشبو ہے، ( جنہیں ایمان لانے کی وجہ سے فرعون نے قتل کر دیا تھا ) اور ان کے قصے کی ابتداء اس طرح ہے کہ خضر بنی اسرائیل کے شریف لوگوں میں تھے، ان کا گزر ایک ( راہب ) درویش کے عبادت خانے سے ہوتا تو وہ عابد راہب اوپر سے ان کو جھانکتا، اور ان کو اسلام کی تعلیم دیتا، آخر کار جب خضر جوان ہوئے تو ان کے والد نے ایک عورت سے ان کا نکاح کر دیا، خضر نے اس عورت کو اسلام کی تعلیم دی، اور اس سے عہد لے لیا کہ اس بات سے کسی کو باخبر مت کرنا، خضر عورتوں کے قریب نہیں جاتے تھے، آخر انہوں نے اس عورت کو طلاق دے دی، اس کے بعد ان کے والد نے ان کا نکاح دوسری عورت سے کر دیا، خضر نے اس سے بھی نہ بتانے کا عہد لے کر اسے دین کی تعلیم دی، لیکن ان میں سے ایک عورت نے اس راز کو چھپا لیا، اور دوسری نے ظاہر کر دیا ( کہ یہ دین کی تعلیم اسے خضر نے سکھائی ہے، فرعون نے ان کی گرفتاری کا حکم دیا یہ سنتے ہی ) وہ فرار ہو کر سمندر کے ایک جزیرہ میں چھپ گئے، وہاں دو شخص لکڑیاں چننے کے لیے آئے، اور ان دونوں نے خضر کو دیکھا، ان میں سے بھی ایک نے تو ان کا حال پوشیدہ رکھا، اور دوسرے نے ظاہر کر دیا اور کہا: میں نے خضر کو فلاں جزیرے میں دیکھا ہے، لوگوں نے اس سے پوچھا کہ کیا تمہارے ساتھ اور کسی شخص نے دیکھا ہے؟ اس نے کہا: فلاں شخص نے بھی دیکھا ہے، جب اس شخص سے سوال کیا گیا تو اس نے چھپایا، اور ان کا طریقہ یہ تھا کہ جو جھوٹ بولے، اسے قتل کر دیا جائے، الغرض اس شخص نے اس عورت سے نکاح کر لیا، جس نے اپنا دین چھپایا تھا، ( اور خضر کا نام نہیں بتایا تھا ) ، اسی دوران کہ یہ عورت فرعون کی بیٹی کے سر میں کنگھی کر رہی تھی، اتنے میں اس کے ہاتھ سے کنگھی گر پڑی اور اس کی زبان سے بے اختیار نکل گیا کہ فرعون تباہ و برباد ہو ( اپنی بے دینی کی وجہ سے ) بیٹی نے یہ کلمہ اس کی زبان سے سن کر اسے اپنے باپ کو بتا دیا، اور اس عورت کے دو بیٹے تھے، اور ایک شوہر تھا، فرعون نے ان سبھوں کو بلا بھیجا، اور عورت اور اس کے شوہر کو دین اسلام چھوڑ کر اپنے دین میں آنے کے لیے پھسلایا، ان دونوں نے انکار کیا، تو اس نے کہا: میں تم دونوں کو قتل کر دوں گا، ان دونوں نے جواب دیا: اگر تم ہمیں قتل کرنا چاہتے ہو تو ہم پر اتنا احسان کرنا کہ ہمیں ایک ہی قبر میں دفن کر دینا، چنانچہ فرعون نے ایسا ہی کیا، جب نبی اکرم صلی اللہعلیہ وسلم نے اسراء کی رات میں خوشبو محسوس کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل سے پوچھا تو انہوں نے آپ کو بتلایا کہ یہ انہیں لوگوں کی قبر ہے ( جس سے یہ خوشبو آ رہی ہے ) ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنَّهُ لَيْلَة�� أُسْرِيَ بِهِ وَجَدَ رِيحًا طَيِّبَةً فَقَالَ " يَا جِبْرِيلُ مَا هَذِهِ الرِّيحُ الطَّيِّبَةُ قَالَ هَذِهِ رِيحُ قَبْرِ الْمَاشِطَةِ وَابْنَيْهَا وَزَوْجِهَا . قَالَ وَكَانَ بَدْءُ ذَلِكَ أَنَّ الْخَضِرَ كَانَ مِنْ أَشْرَافِ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَكَانَ مَمَرُّهُ بِرَاهِبٍ فِي صَوْمَعَتِهِ فَيَطْلُعُ عَلَيْهِ الرَّاهِبُ فَيُعَلِّمُهُ الإِسْلاَمَ فَلَمَّا بَلَغَ الْخَضِرُ زَوَّجَهُ أَبُوهُ امْرَأَةً فَعَلَّمَهَا الْخَضِرُ وَأَخَذَ عَلَيْهَا أَنْ لاَ تُعْلِمَهُ أَحَدًا وَكَانَ لاَ يَقْرَبُ النِّسَاءَ فَطَلَّقَهَا ثُمَّ زَوَّجَهُ أَبُوهُ أُخْرَى فَعَلَّمَهَا وَأَخَذَ عَلَيْهَا أَنْ لاَ تُعْلِمَهُ أَحَدًا فَكَتَمَتْ إِحَدَاهُمَا وَأَفْشَتْ عَلَيْهِ الأُخْرَى فَانْطَلَقَ هَارِبًا حَتَّى أَتَى جَزِيرَةً فِي الْبَحْرِ فَأَقْبَلَ رَجُلاَنِ يَحْتَطِبَانِ فَرَأَيَاهُ فَكَتَمَ أَحَدُهُمَا وَأَفْشَى الآخَرُ وَقَالَ قَدْ رَأَيْتُ الْخَضِرَ . فَقِيلَ وَمَنْ رَآهُ مَعَكَ قَالَ فُلاَنٌ فَسُئِلَ فَكَتَمَ وَكَانَ فِي دِينِهِمْ أَنَّ مَنْ كَذَبَ قُتِلَ قَالَ فَتَزَوَّجَ الْمَرْأَةَ الْكَاتِمَةَ فَبَيْنَمَا هِيَ تَمْشُطُ ابْنَةَ فِرْعَوْنَ إِذْ سَقَطَ الْمُشْطُ فَقَالَتْ تَعِسَ فِرْعَوْنُ . فَأَخْبَرَتْ أَبَاهَا وَكَانَ لِلْمَرْأَةِ ابْنَانِ وَزَوْجٌ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمْ فَرَاوَدَ الْمَرْأَةَ وَزَوْجَهَا أَنْ يَرْجِعَا عَنْ دِينِهِمَا فَأَبَيَا فَقَالَ إِنِّي قَاتِلُكُمَا . فَقَالاَ إِحْسَانًا مِنْكَ إِلَيْنَا إِنْ قَتَلْتَنَا أَنْ تَجْعَلَنَا فِي بَيْتٍ فَفَعَلَ فَلَمَّا أُسْرِيَ بِالنَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَجَدَ رِيحًا طَيِّبَةً فَسَأَلَ جِبْرِيلَ فَأَخْبَرَهُ " .
#4031
Hasan
It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The greatest reward comes with the greatest trial. When Allah loves a people He tests them. Whoever accepts that wins His pleasure but whoever is discontent with that earns His wrath.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جتنی بڑی مصیبت ہوتی ہے اتنا ہی بڑا ثواب ہوتا ہے، اور بیشک اللہ تعالیٰ جب کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو اسے آزماتا ہے، پھر جو کوئی اس سے راضی و خوش رہے تو وہ اس سے راضی رہتا ہے، اور جو کوئی اس سے خفا ہو تو وہ بھی اس سے خفا ہو جاتا ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنَّهُ قَالَ " عِظَمُ الْجَزَاءِ مَعَ عِظَمِ الْبَلاَءِ وَإِنَّ اللَّهَ إِذَا أَحَبَّ قَوْمًا ابْتَلاَهُمْ فَمَنْ رَضِيَ فَلَهُ الرِّضَا وَمَنْ سَخِطَ فَلَهُ السُّخْطُ " .
#4032
Sahih
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The believer who mixes with people and bears their annoyance with patience will have a greater reward than the believer who does not mix with people and does not put up with their annoyance.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ مومن جو لوگوں سے مل جل کر رہتا ہے، اور ان کی ایذاء پر صبر کرتا ہے، تو اس کا ثواب اس مومن سے زیادہ ہے جو لوگوں سے الگ تھلگ رہتا ہے، اور ان کی ایذاء رسانی پر صبر نہیں کرتا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " الْمُؤْمِنُ الَّذِي يُخَالِطُ النَّاسَ وَيَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُمْ أَعْظَمُ أَجْرًا مِنَ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لاَ يُخَالِطُ النَّاسَ وَلاَ يَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُمْ " .
#4033
Sahih
It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“There are three things, whoever has them has found the taste of faith (One of the narrators) Bundar said: ‘The sweetness of faith; When he loves a man and only loves him for the sake of Allah. When Allah and His Messenger are more beloved to him than anything else; and when being thrown into the fire is dearer to him than going back to disbelief after Allah has saved him from it.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس میں تین باتیں ہوں گی وہ ایمان کا ذائقہ پائے گا، ( بندار کی روایت میں ہے کہ وہ ایمان کی حلاوت ( مٹھاس ) پائے گا ) ایک وہ شخص جو کسی سے صرف اللہ کے لیے محبت کرتا ہو، دوسرے وہ جسے اللہ اور اس کا رسول دنیا کی تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہوں، تیسرے وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے کفر سے نجات دی، اس کے بعد اسے آگ میں ڈالا جانا تو پسند ہو، لیکن کفر کی طرف پلٹ جانا پسند نہ ہو ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " ثَلاَثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ طَعْمَ الإِيمَانِ - وَقَالَ بُنْدَارٌ حَلاَوَةَ الإِيمَانِ - مَنْ كَانَ يُحِبُّ الْمَرْءَ لاَ يُحِبُّهُ إِلاَّ لِلَّهِ . وَمَنْ كَانَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا . وَمَنْ كَانَ أَنْ يُلْقَى فِي النَّارِ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَرْجِعَ فِي الْكُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنْقَذَهُ اللَّهُ مِنْهُ " .
#4034
Hasan
It was narrated from Abu Darda’ that my close friend (ﷺ) advised me:“Do not associate anything with Allah, even if you are cut and burned. Do not neglect any prescribd prayer deliberately, for whoever neglects it deliberately no longer has the protection of Allah. And do not drink wine, for it is the key to all evil.”
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو وصیت کی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک مت کرنا اگرچہ تم ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے جاؤ، اور جلا دئیے جاؤ، اور فرض نماز کو جان بوجھ کر مت چھوڑنا، کیونکہ جس نے جان بوجھ کر اسے چھوڑا تو اس پر سے اللہ کی پناہ اٹھ گئی، اور تم شراب مت پینا، کیونکہ شراب تمام برائیوں کی کنجی ہے ۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ح وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا رَاشِدٌ أَبُو مُحَمَّدٍ الْحِمَّانِيُّ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ أَوْصَانِي خَلِيلِي ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنْ " لاَ تُشْرِكْ بِاللَّهِ شَيْئًا وَإِنْ قُطِّعْتَ وَحُرِّقْتَ وَلاَ تَتْرُكْ صَلاَةً مَكْتُوبَةً مُتَعَمِّدًا فَمَنْ تَرَكَهَا مُتَعَمِّدًا فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ وَلاَ تَشْرَبِ الْخَمْرَ فَإِنَّهَا مِفْتَاحُ كُلِّ شَرٍّ " .
#4035
Sahih
Mu’awiyah said:“I heard the Prophet (ﷺ) say: ‘There is nothing left of this world except trials and tribulations.’”
معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: دنیا میں فتنوں اور مصیبتوں کے سوا کچھ باقی نہ رہا ۔
حَدَّثَنَا غِيَاثُ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّحْبِيُّ، أَنْبَأَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، سَمِعْتُ ابْنَ جَابِرٍ، يَقُولُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ رَبِّهِ، يَقُولُ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ، يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا إِلاَّ بَلاَءٌ وَفِتْنَةٌ " .
#4036
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“There will come to the people years of treachery, when the liar will be regarded as honest, and the honest man will be regarded as a liar; the traitor will be regarded as faithful, and the faithful man will be regarded as a traitor; and the Ruwaibidah will decide matters.’ It was said: ‘Who are the Ruwaibidah?’ He said: ‘Vile and base men who control the affairs of the people.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مکر و فریب والے سال آئیں گے، ان میں جھوٹے کو سچا سمجھا جائے گا اور سچے کو جھوٹا، خائن کو امانت دار اور امانت دار کو خائن، اور اس زمانہ میں «رويبضة» بات کرے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا: «رويبضة» کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حقیر اور کمینہ آدمی، وہ لوگوں کے عام انتظام میں مداخلت کرے گا
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ قُدَامَةَ الْجُمَحِيُّ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي الْفُرَاتِ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " سَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ سَنَوَاتٌ خَدَّاعَاتٌ يُصَدَّقُ فِيهَا الْكَاذِبُ وَيُكَذَّبُ فِيهَا الصَّادِقُ وَيُؤْتَمَنُ فِيهَا الْخَائِنُ وَيُخَوَّنُ فِيهَا الأَمِينُ وَيَنْطِقُ فِيهَا الرُّوَيْبِضَةُ قِيلَ وَمَا الرُّوَيْبِضَةُ قَالَ الرَّجُلُ التَّافِهُ فِي أَمْرِ الْعَامَّةِ " .
#4037
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“By the One in Whose Hand is my soul, this world will not pass away until a man will pass by a grave, and will roll on it and say: ‘Would that I were in the place of the occupant of this grave!’ And the reason for that will not be any religious motive, rather it will be because of calamity.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، دنیا اس وقت تک ختم نہ ہو گی جب تک آدمی قبر پر جا کر نہ لوٹے، اور یہ تمنا نہ کرے کہ کاش! اس قبر والے کی جگہ میں دفن ہوتا، اس کا سبب دین و ایمان نہیں ہو گا، بلکہ وہ دنیا کی بلا اور فتنے کی وجہ سے یہ تمنا کرے گا ۔
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِي إِسْمَاعِيلَ الأَسْلَمِيِّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لاَ تَذْهَبُ الدُّنْيَا حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ عَلَى الْقَبْرِ فَيَتَمَرَّغَ عَلَيْهِ وَيَقُولُ يَا لَيْتَنِي كُنْتُ مَكَانَ صَاحِبِ هَذَا الْقَبْرِ وَلَيْسَ بِهِ الدِّينُ إِلاَّ الْبَلاَءُ " .
#4038
Daif
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“You will be picked over just as (good) dates are selected (separated) from its bad ones. So the best of you will be taken and the worst of you will be left, so die if you can.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہعلیہ وسلم نے فرمایا: تم ایسے چن لیے جاؤ گے جیسے عمدہ کھجوریں ردی کھجوروں میں سے چنی جاتی ہیں، تمہارے نیک لوگ گزر جائیں گے، اور برے لوگ باقی رہ جائیں گے، تو اگر تم سے ہو سکے تو تم بھی مر جانا ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ، - يَعْنِي مَوْلَى مُسَافِعٍ - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لَتُنْتَقَوُنَّ كَمَا يُنْتَقَى التَّمْرُ مِنْ أَغْفَالِهِ فَلْيَذْهَبَنَّ خِيَارُكُمْ وَلَيَبْقَيَنَّ شِرَارُكُمْ فَمُوتُوا إِنِ اسْتَطَعْتُمْ " .
#4039
Very Daif
It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Adhering to religion will only become harder and worldly affairs will only become more difficult, and people will only become more stingy, and the Hour will only come upon the worst of people, and the only Mahdi (after Muhammad (ﷺ)) is ‘Eisa bin Maryam.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دن بہ دن معاملہ سخت ہوتا چلا جائے گا، اور دنیا تباہی کی طرف بڑھتی جائے گی، اور لوگ بخیل ہوتے جائیں گے، اور قیامت بدترین لوگوں پر ہی قائم ہو گی، اور مہدی عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے علاوہ کوئی نہیں ہے ۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الْجَنَدِيُّ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " لاَ يَزْدَادُ الأَمْرُ إِلاَّ شِدَّةً وَلاَ الدُّنْيَا إِلاَّ إِدْبَارًا وَلاَ النَّاسُ إِلاَّ شُحًّا وَلاَ تَقُومُ السَّاعَةُ إِلاَّ عَلَى شِرَارِ النَّاسِ وَلاَ الْمَهْدِيُّ إِلاَّ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ " .
#4040
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“I and the Hour have been sent like these two,” and he held up his two fingers together
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اور قیامت دونوں اس طرح بھیجے گئے ہیں ، آپ نے اپنی دونوں انگلیاں ملا کر بتایا ۱؎۔
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، وَأَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ " . وَجَمَعَ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ .
#4041
Sahih
It was narrated that Hudhaifah bin Asid said:"The Prophet (ﷺ) looked out at us from a room, when we were talking about the Hour. He said: 'The Hour will not begin until there are ten signs: Dajjal, (False Christ), the smoke, and the rising of the sun from the west
حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف اپنے کمرے سے جھانکا، ہم لوگ آپس میں قیامت کا ذکر کر رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تک دس نشانیاں ظاہر نہ ہو جائیں گی قیامت قائم نہ ہو گی، جن میں سے دجال، دھواں اور سورج کا پچھم سے نکلنا بھی ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ فُرَاتٍ الْقَزَّازِ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ، قَالَ اطَّلَعَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مِنْ غُرْفَةٍ وَنَحْنُ نَتَذَاكَرُ السَّاعَةَ فَقَالَ " لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَكُونَ عَشْرُ آيَاتٍ الدَّجَّالُ وَالدُّخَانُ وَطُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا " .
#4042
Sahih
‘Awf bin Malik Al-Ashja’i said:“I came to the Messenger of Allah (ﷺ) during the campaign of Tabuk, when he was in a tent made of leather, so I sat in front of the tent. The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Enter, O ‘Awf.’ I said, ‘All of me, O Messenger of Allah?’ He said: ‘All of you.’ Then he said: ‘O ‘Awf, remember six things (that will occur) before the Hour comes, one of which is my death.’ I was very shocked and saddened at that. He said: ‘Count that as the first. Then (will come) the conquest of Baitul-Maqdis (Jerusalem); then a disease which will appear among you and cause you and your offspring to die as martyrs and will purify your deeds; then there will be (much) wealth among you, so that if a man were to be given one hundred Dinar he would still be dissatisfied; and there will be tribulation among you that will not leave any Muslim house untouched;* then there will be a treaty between you and the Romans, then they will betray you and march against you with eighty banners, under each of which will be twelve thousand (troops).’”
عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ غزوہ تبوک میں چمڑے کے ایک خیمے میں ٹھہرے ہوئے تھے، میں خیمے کے صحن میں بیٹھ گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عوف! اندر آ جاؤ ، میں نے عرض کیا: پورے طور سے، اللہ کے رسول؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں پورے طور سے ، پھر آپ نے فرمایا: عوف! قیامت سے پہلے چھ نشانیاں ہوں گی، انہیں یاد رکھنا، ان میں سے ایک میری موت ہے ، میں یہ سن کر بہت رنجیدہ ہوا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو ایک، دوسری بیت المقدس کی فتح ہے، تیسری ایک بیماری ہے جو تم میں ظاہر ہو گی اس کے ذریعہ اللہ تمہیں اور تمہاری اولاد کو شہید کر دے گا، اور اس کے ذریعہ تمہارے اعمال کو پاک کرے گا، چوتھی تم میں مال کی کثرت ہو گی حتیٰ کہ آدمی کو سو دینار ملیں گے تو وہ اس سے بھی راضی نہ ہو گا، پانچویں تمہارے درمیان ایک فتنہ برپا ہو گا جس سے کوئی گھر باقی نہ رہے گا جس میں وہ نہ پہنچا ہو، چھٹی تمہارے اور اہل روم کے درمیان ایک صلح ہو گی، لیکن پھر وہ لوگ تم سے دغا کریں گے، اور تمہارے مقابلہ کے لیے اسی جھنڈوں کے ساتھ فوج لے کر آئیں گے، ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار فوج ہو گی ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنِي بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيُّ، حَدَّثَنِي عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الأَشْجَعِيُّ، قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَهُوَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ وَهُوَ فِي خِبَاءٍ مِنْ أَدَمٍ فَجَلَسْتُ بِفِنَاءِ الْخِبَاءِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " ادْخُلْ يَا عَوْفُ " . فَقُلْتُ بِكُلِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " بِكُلِّكَ " . ثُمَّ قَالَ " يَا عَوْفُ احْفَظْ خِلاَلاً سِتًّا بَيْنَ يَدَىِ السَّاعَةِ إِحْدَاهُنَّ مَوْتِي " . قَالَ فَوَجَمْتُ عِنْدَهَا وَجْمَةً شَدِيدَةً . فَقَالَ " قُلْ إِحْدَى ثُمَّ فَتْحُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ ثُمَّ دَاءٌ يَظْهَرُ فِيكُمْ يَسْتَشْهِدُ اللَّهُ بِهِ ذَرَارِيَّكُمْ وَأَنْفُسَكُمْ وَيُزَكِّي بِهِ أَمْوَالَكُمْ ثُمَّ تَكُونُ الأَمْوَالُ فِيكُمْ حَتَّى يُعْطَى الرَّجُلُ مِائَةَ دِينَارٍ فَيَظَلَّ سَاخِطًا وَفِتْنَةٌ تَكُونُ بَيْنَكُمْ لاَ يَبْقَى بَيْتُ مُسْلِمٍ إِلاَّ دَخَلَتْهُ ثُمَّ تَكُونُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ بَنِي الأَصْفَرِ هُدْنَةٌ فَيَغْدِرُونَ بِكُمْ فَيَسِيرُونَ إِلَيْكُمْ فِي ثَمَانِينَ غَايَةٍ تَحْتَ كُلِّ غَايَةٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا " .
#4043
Daif
It was narrated from Hudhaifah bin Yaman that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The Hour will not begin until you kill your ruler and fight one another with swords, and your world is inherited by the worst of you.”
حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت قائم نہ ہو گی یہاں تک کہ تم اپنے امام کو قتل کرو گے، اور اپنی تلواریں لے کر باہم لڑو گے، اور تمہارے بدترین لوگ تمہاری دنیا کے مالک بن جائیں گے ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو، - مَوْلَى الْمُطَّلِبِ - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَقْتُلُوا إِمَامَكُمْ وَتَجْتَلِدُوا بِأَسْيَافِكُمْ وَيَرِثُ دُنْيَاكُمْ شِرَارُكُمْ " .
#4044
Sahih
It was narrated that Abu Hurairah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) came out one day to the people, and a man came to him and said: ‘O Messenger of Allah, when will the Hour be?’ He said: ‘The one who is asked about it does not know more than the one who is asking. But I will tell you of its portents. When the slave woman gives birth to her mistress, that is one of its portents. When the barefoot and naked become leaders of the people, that is one of its portents. When shepherds compete in constructing buildings, that is one of its portents. (The Hour) is one of five (things) which no one knows except Allah.’ Then the Messenger of Allah (ﷺ) recited the words: “Verily, Allah, with Him (alone) is the knowledge of the Hour, He sends down the rain, and knows that which is in the wombs. (to the end of the Verse).”[31:]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک روز لوگوں کے پاس باہر بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں ایک شخص آپ کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! قیامت کب قائم ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس سے سوال کیا گیا ہے وہ سوال کرنے والے سے زیادہ نہیں جانتا، لیکن میں تمہیں قیامت کی نشانیاں بتاتا ہوں، جب لونڈی اپنی مالکہ کو جنے، تو یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ہے، اور جب ننگے پاؤں، ننگے بدن لوگ لوگوں کے سردار بن جائیں، تو یہ بھی اس کی نشانیوں میں سے ہے، اور جب بکریاں چرانے والے عالی شان عمارتوں پر فخر کرنے لگ جائیں، تو یہ بھی اس کی نشانیوں میں ہے، اور قیامت کا علم ان پانچ باتوں میں سے ہے جنہیں اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: «إن الله عنده علم الساعة وينزل الغيث ويعلم ما في الأرحام» اللہ ہی کو معلوم ہے کہ قیامت کب ہو گی، وہی بارش نازل کرتا ہے، وہی جانتا ہے کہ ماں کے پیٹ میں کیا ہے ( سورة لقما ن: 34 ) ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَوْمًا بَارِزًا لِلنَّاسِ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى السَّاعَةُ فَقَالَ " مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ وَلَكِنْ سَأُخْبِرُكَ عَنْ أَشْرَاطِهَا إِذَا وَلَدَتِ الأَمَةُ رَبَّتَهَا فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا وَإِذَا كَانَتِ الْحُفَاةُ الْعُرَاةُ رُءُوسَ النَّاسِ فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا وَإِذَا تَطَاوَلَ رِعَاءُ الْغَنَمِ فِي الْبُنْيَانِ فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا فِي خَمْسٍ لاَ يَعْلَمُهُنَّ إِلاَّ اللَّهُ " . فَتَلاَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ {إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الأَرْحَامِ} الآيَةَ .
#4045
Sahih
It was narrated that Anas bin Malik said:“Shall I not tell you a Hadith that I heard from the Messenger of Allah (ﷺ), which no one will tell you after me? I heard it from him (saying): ‘Among the portents of the Hour are that knowledge will be taken away and ignorance will prevail, illegal sex will become widespread and wine will be drunk, and men will disappear and women will be left, until there is one man in charge of fifty women.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کیا میں تم سے وہ حدیث نہ بیان کروں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے، اور میرے بعد تم سے وہ حدیث کوئی بیان کرنے والا نہیں ہو گا، میں نے اسے آپ ہی سے سنا ہے کہ قیامت کی نشانیاں یہ ہیں کہ علم اٹھ جائے گا، جہالت پھیل جائے گی، زنا عام ہو جائے گا، شراب پی جانے لگے گی، مرد کم ہو جائیں گے، عورتیں زیادہ ہوں گی حتیٰ کہ پچاس عورتوں کا «قيم» ( سر پرست و کفیل ) ایک مرد ہو گا ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ أَلاَ أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ، رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ لاَ يُحَدِّثُكُمْ بِهِ أَحَدٌ بَعْدِي سَمِعْتُهُ مِنْهُ " إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ وَيَظْهَرَ الْجَهْلُ وَيَفْشُوَ الزِّنَا وَيُشْرَبَ الْخَمْرُ وَيَذْهَبَ الرِّجَالُ وَيَبْقَى النِّسَاءُ حَتَّى يَكُونَ لِخَمْسِينَ امْرَأَةً قَيِّمٌ وَاحِدٌ " .
#4046
Hasan Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The Hour will not begin until the Euphrates uncovers a mountain of gold and people fight over it, and out of every ten, nine will be killed.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک دریائے فرات میں سونے کے پہاڑ نہ ظاہر ہو جائیں، اور لوگ اس پر باہم جنگ کرنے لگیں، حتیٰ کہ دس آدمیوں میں سے نو قتل ہو جائیں گے، اور ایک باقی رہ جائے گا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَحْسِرَ الْفُرَاتُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ فَيَقْتَتِلُ النَّاسُ عَلَيْهِ فَيُقْتَلُ مِنْ كُلِّ عَشَرَةٍ تِسْعَةٌ " .
#4047
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The Hour will not begin until wealth becomes abundant and tribulations appear, and Harj increases.” They said: “What is Harj, O Messenger of Allah?” He said: “Killing, killing, killing,” three times
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی، جب تک مال کی خوب فراوانی نہ ہو جائے، اور فتنہ عام نہ ہو جائے «هرج» کثرت سے ہونے لگے، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! «هرج» کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: قتل، قتل، قتل ۔
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَفِيضَ الْمَالُ وَتَظْهَرَ الْفِتَنُ وَيَكْثُرَ الْهَرْجُ " . قَالُوا وَمَا الْهَرْجُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " الْقَتْلُ الْقَتْلُ الْقَتْلُ " . ثَلاَثًا .
#4048
Sahih
It was narrated that Ziyad bin Labid said:“The Prophet (ﷺ) mentioned something and said: ‘That will be at the time when knowledge (of Qur’an) disappears.’ I said: ‘O Messenger of Allah, how will knowledge disappear when we read the Qur’an and teach it to our children, until the Day of Resurrection?’ He said: ‘May your mother be bereft of you, Ziyad! I thought that you were the wisest man in Al- Madinah. Is it not the case that these Jews and Christians read the Tawrah and the Injil, but they do not act upon anything of what is in them?’”
زیاد بن لبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بات کا ذکر کیا اور فرمایا: یہ اس وقت ہو گا جب علم اٹھ جائے گا ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! علم کیسے اٹھ جائے گا جب کہ ہم قرآن پڑھتے اور اپنی اولاد کو پڑھاتے ہیں اور ہماری اولاد اپنی اولاد کو پڑھائے گی اسی طرح قیامت تک سلسلہ چلتا رہے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زیاد! تمہاری ماں تم پر روئے، میں تو تمہیں مدینہ کا سب سے سمجھدار آدمی سمجھتا تھا، کیا یہ یہود و نصاریٰ تورات اور انجیل نہیں پڑھتے؟ لیکن ان میں سے کسی بات پر بھی یہ لوگ عمل نہیں کرتے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ زِيَادِ بْنِ لَبِيدٍ، قَالَ ذَكَرَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ شَيْئًا فَقَالَ " ذَاكَ عِنْدَ أَوَانِ ذَهَابِ الْعِلْمِ " . قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ يَذْهَبُ الْعِلْمُ وَنَحْنُ نَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَنُقْرِئُهُ أَبْنَاءَنَا وَيُقْرِئُهُ أَبْنَاؤُنَا أَبْنَاءَهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ قَالَ " ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ زِيَادُ إِنْ كُنْتُ لأَرَاكَ مِنْ أَفْقَهِ رَجُلٍ بِالْمَدِينَةِ أَوَلَيْسَ هَذِهِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى يَقْرَءُونَ التَّوْرَاةَ وَالإِنْجِيلَ لاَ يَعْمَلُونَ بِشَىْءٍ مِمَّا فِيهِمَا " .
#4049
Sahih
It was narrated from Hudhaifah bin Yaman that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Islam will wear out as embroidery on a garment wears out, until no one will know what fasting, prayer, (pilgrimage) rites and charity are. The Book of Allah will be taken away at night, and not one Verse of it will be left on earth. And there will be some people left, old men and old women, who will say: “We saw our fathers saying these words: ‘La ilaha illallah’ so we say them too.” Silah said to him: “What good will (saying): La ilaha illallah do them, when they do not know what fasting, prayer, (pilgrimage) rites and charity are?” Hudhaifah turned away from his. He repeated his question three times, and Hudhaifah turned away from him each time. Then he turned to him on the third time and said: “O Silah! It will save them from Hell,” three times
حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام ایسا ہی پرانا ہو جائے گا جیسے کپڑے کے نقش و نگار پرانے ہو جاتے ہیں، حتیٰ کہ یہ جاننے والے بھی باقی نہ رہیں گے کہ نماز، روزہ، قربانی اور صدقہ و زکاۃ کیا چیز ہے؟ اور کتاب اللہ ایک رات میں ایسی غائب ہو جائے گی کہ اس کی ایک آیت بھی باقی نہ رہ جائے گی ۱؎، اور لوگوں کے چند گروہ ان میں سے بوڑھے مرد اور بوڑھی عورتیں باقی رہ جائیں گے، کہیں گے کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو یہ کلمہ «لا إله إلا الله» کہتے ہوئے پایا، تو ہم بھی اسے کہا کرتے ہیں ۲؎۔ صلہ نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا: جب انہیں یہ نہیں معلوم ہو گا کہ نماز، روزہ، قربانی اور صدقہ و زکاۃ کیا چیز ہے تو انہیں فقط یہ کلمہ «لا إله إلا الله» کیا فائدہ پہنچائے گا؟ تو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ان سے منہ پھیر لیا، پھر انہوں نے تین بار یہ بات ان پر دہرائی لیکن وہ ہر بار ان سے منہ پھیر لیتے، پھر تیسری مرتبہ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اے صلہ! یہ کلمہ ان کو جہنم سے نجات دے گا، اس طرح تین بار کہا ۳؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " يَدْرُسُ الإِسْلاَمُ كَمَا يَدْرُسُ وَشْىُ الثَّوْبِ حَتَّى لاَ يُدْرَى مَا صِيَامٌ وَلاَ صَلاَةٌ وَلاَ نُسُكٌ وَلاَ صَدَقَةٌ وَلَيُسْرَى عَلَى كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي لَيْلَةٍ فَلاَ يَبْقَى فِي الأَرْضِ مِنْهُ آيَةٌ وَتَبْقَى طَوَائِفُ مِنَ النَّاسِ الشَّيْخُ الْكَبِيرُ وَالْعَجُوزُ يَقُولُونَ أَدْرَكْنَا آبَاءَنَا عَلَى هَذِهِ الْكَلِمَةِ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ فَنَحْنُ نَقُولُهَا " . فَقَالَ لَهُ صِلَةُ مَا تُغْنِي عَنْهُمْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَهُمْ لاَ يَدْرُونَ مَا صَلاَةٌ وَلاَ صِيَامٌ وَلاَ نُسُكٌ وَلاَ صَدَقَةٌ فَأَعْرَضَ عَنْهُ حُذَيْفَةُ ثُمَّ رَدَّهَا عَلَيْهِ ثَلاَثًا كُلَّ ذَلِكَ يُعْرِضُ عَنْهُ حُذَيْفَةُ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْهِ فِي الثَّالِثَةِ فَقَالَ يَا صِلَةُ تُنْجِيهِمْ مِنَ النَّارِ . ثَلاَثًا .
#4050
Sahih
It was narrated from ‘Abdullah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Just before the Hour, there will be days when knowledge will disappear, ignorance will become widespread and there will be much Harj. And Harj means killing.”
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے قریب کچھ دن ایسے ہوں گے جن میں علم اٹھ جائے گا، جہالت بڑھ جائے گی، اور «هرج» زیادہ ہو گا ، «هرج»: قتل کو کہتے ہیں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي وَوَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " يَكُونُ بَيْنَ يَدَىِ السَّاعَةِ أَيَّامٌ يُرْفَعُ فِيهَا الْعِلْمُ وَيَنْزِلُ فِيهَا الْجَهْلُ وَيَكْثُرُ فِيهَا الْهَرْجُ " . وَالْهَرْجُ الْقَتْلُ .