#326
Daif
It was narrated from 'Eisa bin Yazdad Al-Yamani that his father said:"The Messenger of Allah said: 'When anyone of you urinates, let him squeeze his penis three times (to remove the remaining urine drops)." (Da'if) Another chain with similar wording
یزداد یمانی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص پیشاب کرے تو اپنے عضو تناسل کو تین مرتبہ سونت لے ( زور سے دبا کر کھینچے تاکہ اس کے اندر جو قطرات ہیں، وہ نکل جائیں ) ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ يَزْدَادَ الْيَمَانِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِذَا بَالَ أَحَدُكُمْ فَلْيَنْتُرْ ذَكَرَهُ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ " . قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زَمْعَةُ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
#327
Daif
It was narrated that 'Aishah said:"The Prophet went out to urinate, and 'Umar followed him with water. He said: 'What is this, O 'Umar?' He said: 'Water.' He said: 'I have not been commanded to perform ablution every time I urinate. If I did that it would have become a Sunnah
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کے لیے باہر تشریف لے گئے، اور عمر رضی اللہ عنہ پیچھے سے پانی لے کر پہنچے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: عمر یہ کیا ہے؟ کہا: پانی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے یہ حکم نہیں دیا گیا کہ جب بھی پیشاب کروں، تو وضو کروں، اور اگر میں ایسا کروں تو یہ سنت واجبہ بن جائے گی ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَحْيَى التَّوْأَمِ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتِ انْطَلَقَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَبُولُ فَاتَّبَعَهُ عُمَرُ بِمَاءٍ فَقَالَ " مَا هَذَا يَا عُمَرُ " . قَالَ مَاءٌ . قَالَ " مَا أُمِرْتُ كُلَّمَا بُلْتُ أَنْ أَتَوَضَّأَ وَلَوْ فَعَلْتُ لَكَانَتْ سُنَّةً " .
#328
Hasan
Abu Sa'eed Al-Himyari narrated that :Mu'adh bin Jabal used to narrate something that the Companions of the Messenger of Allah had not heard, and he used to keep quiet about what they had heard. News of this report reached 'Abdullah bin 'Amr, and he said: "By Allah, I never heard the Messenger of Allah say this, and Mu'adh will put you into difficulty with regard to relieving yourself." News of that reached Mu'adh, so he met with him ('Abdullah). Mu'adh said: "O 'Abdullah! Denying a Hadith from the Messenger of Allah is hypocrisy, and its sn is upon the one who said it (if it is not true). I did indeed hear the Messenger of Allah say: 'Beware of the three things which provoke curses: Relieving oneself in watering places, in places of shade and in the middle of the street
ابوسعید حمیری بیان کرتے ہیں کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ایسی احادیث بیان کرتے تھے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے نہیں سنی ہوتی تھیں، چنانچہ جو حدیثیں سنی ہوئی ہوتیں ان کے بیان سے خاموش رہتے، عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کو ان کی یہ حالت اور بیان کردہ روایات پہنچیں تو انہوں نے کہا: قسم اللہ کی! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا فرماتے ہوئے نہیں سنا، قریب ہے کہ معاذ تم کو قضائے حاجت کے مسئلے میں فتنے میں مبتلا کر دیں، یہ خبر معاذ رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو وہ ان سے جا کر ملے اور کہا: اے عبداللہ بن عمرو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی حدیث کو جھٹلانا نفاق ہے، اگر کہنے والے نے کوئی بات جھوٹ کہی تو اس کا گناہ اسی پر ہو گا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو واقعی یہ کہتے ہوئے سنا ہے: تین ایسی چیزوں سے بچو جو لعنت کا سبب ہیں: مسافروں کے وارد ہونے کی جگہوں پر، سائے دار درختوں کے نیچے، اور عام راستوں پر قضائے حاجت کرنے سے ۱؎۔
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْحِمْيَرِيَّ، حَدَّثَهُ قَالَ كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ يَتَحَدَّثُ بِمَا لَمْ يَسْمَعْ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَيَسْكُتُ عَمَّا سَمِعُوا فَبَلَغَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو مَا يَتَحَدَّثُ بِهِ فَقَالَ وَاللَّهِ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ هَذَا وَأَوْشَكَ مُعَاذٌ أَنْ يَفْتِنَكُمْ فِي الْخَلاَءِ . فَبَلَغَ ذَلِكَ مُعَاذًا فَلَقِيَهُ فَقَالَ مُعَاذٌ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو إِنَّ التَّكْذِيبَ بِحَدِيثٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نِفَاقٌ وَإِنَّمَا إِثْمُهُ عَلَى مَنْ قَالَهُ لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " اتَّقُوا الْمَلاَعِنَ الثَّلاَثَ الْبَرَازَ فِي الْمَوَارِدِ وَالظِّلِّ وَقَارِعَةِ الطَّرِيقِ " .
#329
Hasan
It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said:"The Messenger of Allah said: 'Beware of stopping to rest and praying in the middle of the road, for it is the refuge of snakes and carnivorous animals, and beware of relieving yourselves in the middle of the road, for this is an act that provokes curses
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیچ راستے میں رات کو پڑاؤ ڈالنے اور نماز پڑھنے سے بچو، اس لیے کہ وہ سانپوں اور درندوں کے باربار آنے اور جانے کا راستہ ہے، اور وہاں قضائے حاجت سے بھی بچو اس لیے کہ یہ لعنت کے اسباب میں سے ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ زُهَيْرٍ، قَالَ قَالَ سَالِمٌ سَمِعْتُ الْحَسَنَ، يَقُولُ حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِيَّاكُمْ وَالتَّعْرِيسَ عَلَى جَوَادِّ الطَّرِيقِ وَالصَّلاَةَ عَلَيْهَا فَإِنَّهَا مَأْوَى الْحَيَّاتِ وَالسِّبَاعِ وَقَضَاءَ الْحَاجَةِ عَلَيْهَا فَإِنَّهَا مِنَ الْمَلاَعِنِ " .
#330
Daif
Salim narrated from his father that:The Prophet forbade praying in the middle of the road, or defecating there, or urinating
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے راستے میں نماز پڑھنے یا پاخانہ پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ قُرَّةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَهَى أَنْ يُصَلَّى عَلَى قَارِعَةِ الطَّرِيقِ أَوْ يُضْرَبَ الْخَلاَءُ عَلَيْهَا أَوْ يُبَالَ فِيهَا .
#331
Hasan Sahih
It was narrated that Mugirah bin Shu'bah said:"Whenever the Prophet went to relieve himself, he would go far away
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت کے لیے تشریف لے جاتے تو دور جاتے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِذَا ذَهَبَ الْمَذْهَبَ أَبْعَدَ .
#332
Sahih
It was narrated that Anas said:"I was with the Prophet on a journey. He went away to relieve himself, then he came and called for water and performed ablution
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ قضائے حاجت کے لیے الگ تھلگ ہوئے پھر واپس آئے، وضو کے لیے پانی مانگا اور وضو کیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْمُثَنَّى، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي سَفَرٍ فَتَنَحَّى لِحَاجَتِهِ ثُمَّ جَاءَ فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ .
#333
Sahih
It was narrated from Ya'la bin Murrah that:When the Prophet went to relieve himself, he would go far away
یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت کے لیے تشریف لے جاتے تو دور نکل جاتے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ إِذَا ذَهَبَ إِلَى الْغَائِطِ أَبْعَدَ .
#334
Sahih
It was narrated that 'Abdur-Rahman bin Abu Qurad said:"I went for Hajj with the Prophet and he went far away to relieve himself
عبدالرحمٰن بن ابوقراد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا، آپ قضائے حاجت کے لیے دور نکل گئے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ، - قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاسْمُهُ عُمَيْرُ بْنُ يَزِيدَ - عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ، وَالْحَارِثِ بْنِ فُضَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي قُرَادٍ، قَالَ حَجَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَذَهَبَ لِحَاجَتِهِ فَأَبْعَدَ .
#335
Sahih
It was narrated that Jabir said:"We went out on a journey with the Messenger of Allah, and the Messenger of Allah would not relieve himself until he had disappeared and could not be seen by anyone
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں نکلے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے اس وقت تک نہ بیٹھتے جب تک کہ نظروں سے اوجھل نہ ہو جاتے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي سَفَرٍ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ لاَ يَأْتِي الْبَرَازَ حَتَّى يَتَغَيَّبَ فَلاَ يُرَى .
#336
Sahih
It was narrated from Bilal bin Al-Harith Al-Muzani that:When the Messenger of Allah wanted to relieve himself, he would go far away
بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت کے لیے جاتے تو دور نکل جاتے۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَثِيرِ بْنِ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ بِلاَلِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُزَنِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ إِذَا أَرَادَ الْحَاجَةَ أَبْعَدَ .
#337
Daif
It was narrated from Abu Hurairah that:The Prophet said: "Whoever uses stones to clean himself, let him use an odd number of stones. Whoever does that has done well, and whoever does not, there is no harm in it. Whoever uses a tooth stick should spit out (whatever he removes) and whoever removes (the particle of food) by dislodging it with his tongue should swallow it. Whoever does that has done well, and whoever does not, tere is no harm in it. Whoever goes to the toilet should conceal himself, and if he cannot find anything except a pile of sand (behind which to conceal himself), then he should use that, for the Shaitan plays with the backside of the son of Adam. Whoever does that has done well, and whoever does not, there is no harm in it
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو استنجاء میں پتھر استعمال کرے تو طاق استعمال کرے، جس نے ایسا کیا اچھا کیا، اور جس نے ایسا نہ کیا تو کوئی حرج نہیں، اور جو خلال کرے ( اور دانتوں سے کچھ نکلے ) تو اسے تھوک دے، اور جو چیز زبان کی حرکت سے نکلے اسے نگل جائے، جس نے ایسا کیا اچھا کیا، اور جس نے نہیں کیا تو کوئی حرج نہیں، اور جو شخص قضائے حاجت کے لیے باہر میدان میں جائے تو آڑ میں ہو جائے، اگر آڑ کی جگہ نہ پائے اور ریت کا کوئی تودہ ہو تو اسی کی آڑ میں ہو جائے، اس لیے کہ شیطان انسانوں کی شرمگاہوں سے کھیل کرتا ہے، جس نے ایسا کیا اچھا کیا، اور جس نے ایسا نہیں کیا تو کوئی حرج نہیں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ حُصَيْنٍ الْحِمْيَرِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدِ الْخَيْرِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " مَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لاَ فَلاَ حَرَجَ وَمَنْ تَخَلَّلَ فَلْيَلْفِظْ وَمَنْ لاَكَ فَلْيَبْتَلِعْ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لاَ فَلاَ حَرَجَ وَمَنْ أَتَى الْخَلاَءَ فَلْيَسْتَتِرْ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ إِلاَّ كَثِيبًا مِنْ رَمْلٍ فَلْيَمْدُدْهُ عَلَيْهِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَلْعَبُ بِمَقَاعِدِ ابْنِ آدَمَ مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لاَ فَلاَ حَرَجَ " .
#338
Daif
A similar report was narrated by 'Abdul-Malik bin As-Sabbah with a similar chain, with the additional words:"Whoever applies kohl to his eyes, let him add it an odd number of times. Whoever does that has done well, and whoever does not, there is no harm in it. And whoever dislodges (a particle of food from between the teeth) by dislodging it with his tongue, let him swallow it
اس سند سے اسی کے ہم معنی حدیث مروی ہے اور اس میں اتنا اضافہ ہے: جو سرمہ لگائے تو طاق لگائے، جس نے ایسا کیا اچھا کیا، اور جس نے نہیں کیا تو کوئی حرج نہیں، اور جو کچھ زبان کی حرکت سے نکلے اسے نگل جائے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الصَّبَّاحِ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ وَزَادَ فِيهِ " وَمَنِ اكْتَحَلَ فَلْيُوتِرْ مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لاَ فَلاَ حَرَجَ وَمَنْ لاَكَ فَلْيَبْتَلِعْ " .
#339
Sahih
It was narrated from Ya'la bin Murrah that his father said:"I was with the Prophet on a journey, and he wanted to relieve himself. He said to me: 'Go to those two small date-palm trees and tell them: "The Messenger of Allah orders you to come together.'" So they came together and he concealed himself behind them, and relieved himself. Then he said to me: 'Go to them and tell them: "Go back, each one of you, to your places.'" So I said that to them and they went back
مرہ بن وہب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا، آپ نے قضائے حاجت کا ارادہ کیا اور مجھ سے کہا: تم کھجور کے ان دونوں چھوٹے درختوں کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں باہم مل جانے کا حکم دے رہے ہیں ، چنانچہ حکم پاتے ہی وہ دونوں درخت باہم مل گئے ۲؎، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آڑ میں قضائے حاجت کی اور پھر مجھ سے فرمایا: ان دونوں کے پاس جاؤ اور کہو کہ اپنی اپنی جگہ واپس لوٹ جائیں ۔ مرہ کہتے ہیں: میں نے جا کر ان سے یہ کہا تو وہ دونوں درخت اپنی اپنی جگہ واپس لوٹ گئے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي سَفَرٍ فَأَرَادَ أَنْ يَقْضِيَ حَاجَتَهُ فَقَالَ لِي " ائْتِ تِلْكَ الأَشَاءَتَيْنِ " . - قَالَ وَكِيعٌ يَعْنِي النَّخْلَ الصِّغَارَ . قَالَ أَبُو بَكْرٍ الْقِصَارَ - " فَقُلْ لَهُمَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَأْمُرُكُمَا أَنْ تَجْتَمِعَا " . فَاجْتَمَعَتَا فَاسْتَتَرَ بِهِمَا فَقَضَى حَاجَتَهُ ثُمَّ قَالَ لِي " ائْتِهِمَا فَقُلْ لَهُمَا لِتَرْجِعْ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْكُمَا إِلَى مَكَانِهَا " . فَقُلْتُ لَهُمَا فَرَجَعَتَا .
#340
Sahih
It was narrated that 'Abdullah bin Ja'far said:"The thing that the Prophet most liked to conceal himself behind when relieving himself was a hillock or a stand of date-palm trees
عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قضائے حاجت کے وقت آڑ کے لیے ٹیلے یا کھجوروں کے جھنڈ سب سے زیادہ پسندیدہ تھے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ كَانَ أَحَبَّ مَا اسْتَتَرَ بِهِ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ لِحَاجَتِهِ هَدَفٌ أَوْ حَائِشُ نَخْلٍ .
#341
Daif
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah turned towards a mountain pass and urinated, until I took pity on him because of the way he parted his legs when he urinated
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم راستہ چھوڑ کر ایک گھاٹی کی جانب مڑے اور پیشاب کیا، یہاں تک کہ مجھے ترس آتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیروں کو پیشاب کے وقت بہت زیادہ کشادہ کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ خُوَيْلِدٍ، حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ عَدَلَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِلَى الشِّعْبِ فَبَالَ حَتَّى أَنِّي آوِي لَهُ مِنْ فَكِّ وَرِكَيْهِ حِينَ بَالَ .
#342
Daif
It was narrated from Abu Sa`eed al-Khudri that:The Messenger of Allah said: "No two people should converse while relieving themselves, each of them looking at the private parts of the other, for Allah, the Mighty and Sublime, hates that." (Da'if) Other chains with similar wording
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قضائے حاجت کے وقت دو آدمی آپس میں کانا پھوسی نہ کریں کہ آپس میں ہر ایک دوسرے کی شرمگاہ دیکھ رہا ہو، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اس سے سخت ناراض ہوتا ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، أَنْبَأَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ عِيَاضٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " لاَ يَتَنَاجَى اثْنَانِ عَلَى غَائِطِهِمَا يَنْظُرُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا إِلَى عَوْرَةِ صَاحِبِهِ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَمْقُتُ عَلَى ذَلِكَ " . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْوَرَّاقُ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ هِلاَلٍ، . قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى هُوَ الصَّوَابُ . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، نَحْوَهُ .
#343
Sahih
It was narrated from Jabir that:The Messenger of Allah forbade urinating into standing water
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنَّهُ نَهَى عَنْ أَنْ يُبَالَ فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ .
#344
Sahih
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: 'No one among you should urinate into standing water
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھہرے ہوئے پانی میں کوئی شخص ہرگز پیشاب نہ کرے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لاَ يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ " .
#345
Daif
It was narrated that Ibn 'Umar said:"The Messenger of Allah said: 'No one among you should urinate into standing water
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھہرے ہوئے پانی میں کوئی شخص ہرگز پیشاب نہ کرے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لاَ يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ النَّاقِعِ " .
#346
Sahih
It was narrated that `Abdur-Rahman bin Hasanah said:"The Messenger of Allah came out to us holding a small shield in his hand. He put it down, then he sat down and urinated towards it. Some of the people said: 'Look at him, he urinates like a woman!' The Prophet heard that and said: 'Woe to you! Do you not know what happened to one of the children of Israel? If any urine touched any part of their clothes, they would cut that out with scissors. He told them not to do that, so he was tormented in his grave.'" (Da'if) Another chain with similar wording
عبدالرحمٰن بن حسنہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے، اس وقت آپ کے ہاتھ میں ایک ڈھال تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رکھا اور اس کی آڑ میں بیٹھ کر پیشاب کیا، کچھ لوگوں نے ( بطور استہزاء ) کہا کہ انہیں دیکھو ایسے پیشاب کرتے ہیں جیسے عورت پیشاب کرتی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا اور فرمایا: افسوس ہے تم پر، بنی اسرائیل کے ایک شخص کو جو مصیبت پہنچی، تمہیں اس کی خبر نہیں؟ ان کے کپڑوں میں پیشاب لگ جاتا تو اسے قینچی سے کاٹتے تھے، ایک شخص نے انہیں اس عمل سے روک دیا، تو اسے اس کی قبر میں عذاب دیا گیا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ حَسَنَةَ، قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَفِي يَدِهِ الدَّرَقَةُ فَوَضَعَهَا ثُمَّ جَلَسَ فَبَالَ إِلَيْهَا فَقَالَ بَعْضُهُمُ انْظُرُوا إِلَيْهِ يَبُولُ كَمَا تَبُولُ الْمَرْأَةُ . فَسَمِعَهُ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ " وَيْحَكَ أَمَا عَلِمْتَ مَا أَصَابَ صَاحِبَ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانُوا إِذَا أَصَابَهُمُ الْبَوْلُ قَرَضُوهُ بِالْمَقَارِيضِ فَنَهَاهُمْ عَنْ ذَلِكَ فَعُذِّبَ فِي قَبْرِهِ " . قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَنَا الأَعْمَشُ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
#347
Sahih
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah passed by two new graves, and he said: 'They are being punished, but they are not being punished for anything major. One of them was heedless about preventing urine from getting on his clothes, and the other used to walk about spreading malicious gossip
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر دو نئی قبروں کے پاس سے ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے، اور یہ عذاب کسی بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں ہو رہا ہے ( کہ جس سے بچنا مشکل تھا ) ، ایک شخص تو پیشاب ( کی چھینٹوں ) سے نہیں بچتا تھا، اور دوسرا غیبت ( چغلی ) کیا کرتا تھا
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِقَبْرَيْنِ جَدِيدَيْنِ فَقَالَ " إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لاَ يَسْتَنْزِهُ مِنْ بَوْلِهِ وَأَمَّا الآخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ " .
#348
Sahih
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: 'Most of the torment of the grave is because of urine
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زیادہ تر قبر کا عذاب پیشاب کی وجہ سے ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " أَكْثَرُ عَذَابِ الْقَبْرِ مِنَ الْبَوْلِ " .
#349
Hasan Sahih
Bahr bin Marrar narrated that his grandfather Abu Bakrah said:"The Messenger of Allah passed by two graves, and he said: 'They are being punished but they are not being punished for anything major. One of them is being punished because of urine, and the other is being punished because of backbiting
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے، اور یہ عذاب کسی بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں ہو رہا ہے ( جس سے بچنا مشکل تھا ) ایک شخص کو تو پیشاب کی چھینٹے سے نہ بچنے کی وجہ سے عذاب دیا جا رہا ہے، اور دوسرا غیبت ( چغلی ) کرنے کی وجہ سے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ، حَدَّثَنِي بَحْرُ بْنُ مَرَّارٍ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِقَبْرَيْنِ فَقَالَ " إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ أَمَّا أَحَدُهُمَا فَيُعَذَّبُ فِي الْبَوْلِ وَأَمَّا الآخَرُ فَيُعَذَّبُ فِي الْغِيبَةِ " .
#350
Sahih
It was narrated that Muhajir bin Qunfudh bin (Umair) bin Jud'an said:"I came to the Prophet when he was performing ablution and greeted him with the Salam, but he did not return (the greeting). When he had finished his ablution he said: 'Nothing prevented me from returning your greeting but the fact that I need to have ablution.'" (Da'if) Another chain with similar wording
مہاجر بن قنفذ بن عمرو بن جدعان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو فرما رہے تھے، میں نے آپ کو سلام کیا، آپ نے سلام کا جواب نہیں دیا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو سے فارغ ہوئے تو فرمایا: تمہارے سلام کا جواب دینے میں رکاوٹ والی چیز یہ تھی کہ میں باوضو نہ تھا
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّلْحِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ حُضَيْنِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ وَعْلَةَ أَبِي سَاسَانَ الرَّقَاشِيِّ، عَنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذِ بْنِ عُمَيْرِ بْنِ جُدْعَانَ، قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَىَّ السَّلاَمَ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ وُضُوئِهِ قَالَ " إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي مِنْ أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ إِلاَّ أَنِّي كُنْتُ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ " . قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا الأَنْصَارِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ .