#3326
Sahih
It was narrated that Sahl bin Sa’d said:“The Messenger of Allah (ﷺ) used to eat dates with melon.”
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تر کھجور تربوز کے ساتھ ملا کر کھایا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَعَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي هِلاَلٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَأْكُلُ الرُّطَبَ بِالْبِطِّيخِ .
#3327
Sahih
It was narrated from ‘Aishah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“A house in which there are no dates, its people will go hungry.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس گھر میں کھجور نہ ہو وہ گھر والے بھوکے ہیں ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الْحَوَارِيِّ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " بَيْتٌ لاَ تَمْرَ فِيهِ جِيَاعٌ أَهْلُهُ " .
#3328
Hasan
It was narrated from ‘Ubaidullah bin Abu Rafi’, from his grandmother Salma, that the Prophet (ﷺ) said:“A house in which there are no dates is like a house in which there is no food.”
سلمیٰ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس گھر میں کھجور نہ ہو وہ اس گھر کی طرح ہے جس میں کھانا ہی نہ ہو ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ جَدَّتِهِ، سَلْمَى أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " بَيْتٌ لاَ تَمْرَ فِيهِ كَالْبَيْتِ لاَ طَعَامَ فِيهِ " .
#3329
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that when the first fruits (of the season) were brought, the Messenger of Allah (ﷺ) would say:“O Allah, bless us in our city and in our fruits, in our Mudd and in our Sa’,* blessing upon blessing.” Then he would give it to the smallest of the children present
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب موسم کا پہلا پھل آتا تو فرماتے: «اللهم بارك لنا في مدينتنا وفي ثمارنا وفي مدنا وفي صاعنا بركة مع بركة» یعنی اے اللہ! ہمارے شہر میں، ہمارے پھلوں میں، ہمارے مد میں، اور ہمارے صاع میں، ہمیں برکت عطا فرما، پھر آپ اپنے سامنے موجود بچوں میں سب سے چھوٹے بچے کو وہ پھل عنایت فرما دیتے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَيَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنِي سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ إِذَا أُتِيَ بِأَوَّلِ الثَّمَرَةِ قَالَ " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا وَفِي ثِمَارِنَا وَفِي مُدِّنَا وَفِي صَاعِنَا بَرَكَةً مَعَ بَرَكَةٍ " . ثُمَّ يُنَاوِلُهُ أَصْغَرَ مَنْ بِحَضْرَتِهِ مِنَ الْوِلْدَانِ .
#3330
Mawdu
It was narrated from ‘Aishah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Eat unripe dates with ripe one and eat old dates with new ones, for Satan gets angry and says: ‘The son of Adam will survive so long as he eats old dates with new ones.’”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کچی کھجور اور خشک کھجور کو ملا کر کھاؤ، اور پرانی کو نئی کے ساتھ ملا کر کھاؤ، اس لیے کہ شیطان کو غصہ آتا ہے اور کہتا ہے: آدم کا بیٹا زندہ ہے یہاں تک کہ اس نے پرانی اور نئی دونوں چیزیں کھا لیں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " كُلُوا الْبَلَحَ بِالتَّمْرِ كُلُوا الْخَلَقَ بِالْجَدِيدِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَغْضَبُ وَيَقُولُ بَقِيَ ابْنُ آدَمَ حَتَّى أَكَلَ الْخَلَقَ بِالْجَدِيدِ " .
#3331
Sahih
Ibn ‘Umar said:“The Messenger of Allah (ﷺ) forbade eating two dates at once unless he asks his companions permission to do so.”
جبلہ بن سحیم سے روایت ہے کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ آدمی دو دو کھجوریں ملا کر کھائے، یہاں تک کہ وہ اپنے ساتھیوں سے اجازت لے لے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنْ يَقْرِنَ الرَّجُلُ بَيْنَ التَّمْرَتَيْنِ حَتَّى يَسْتَأْذِنَ أَصْحَابَهُ .
#3332
Sahih
It was narrated from Sa’d, the freed slave of Abu Bakr – and Sa’d used to serve the Messenger of Allah (ﷺ) and he liked this Hadith – that the Prophet (ﷺ) forbade eating two dates at once
ابوبکر رضی اللہ عنہ کے غلام سعد رضی اللہ عنہ (جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم تھے، اور آپ کو ان کی گفتگو اچھی لگتی تھی) سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ساتھ ملا کر کھانے سے منع فرمایا، یعنی کھجوروں کو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَعْدٍ، مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ - وَكَانَ سَعْدٌ يَخْدُمُ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَكَانَ يُعْجِبُهُ حَدِيثُهُ - أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَهَى عَنِ الإِقْرَانِ . يَعْنِي فِي التَّمْرِ .
#3333
Sahih
It was narrated that Anas bin Malik said:“I saw the Messenger of Allah (ﷺ) when he was brought some old dates; he started to inspect them.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کے پاس پرانی کھجوریں لائی گئیں، تو آپ اس میں سے اچھی کھجوریں چھانٹنے لگے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أُتِيَ بِتَمْرٍ عَتِيقٍ فَجَعَلَ يُفَتِّشُهُ .
#3334
Sahih
It was narrated that the two sons of Busr, who were of the tribe of Sulaim, said:“The Messenger of Allah (ﷺ) entered upon us. We placed a velvet cloth of ours beneath him and sprinkled water on it.* He sat on it, and Allah sent down Revelation to him in our house. We offered him butter and dates, and he (ﷺ) liked butter.”
بسر سلمی کے دو بیٹے (رضی اللہ عنہما) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، ہم نے آپ کے نیچے اپنی ایک چادر بچھائی جسے ہم نے پانی ڈال کر ٹھنڈا کر رکھا تھا، آپ اس پر بیٹھ گئے، پھر اللہ تعالیٰ نے ہمارے گھر میں آپ پر وحی نازل فرمائی، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مکھن اور کھجور پیش کیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکھن پسند فرماتے تھے۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ جَابِرٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ، عَنِ ابْنَىْ، بُسْرٍ السُّلَمِيَّيْنِ قَالاَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَوَضَعْنَا تَحْتَهُ قَطِيفَةً لَنَا صَبَبْنَاهَا لَهُ صَبًّا فَجَلَسَ عَلَيْهَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ الْوَحْىَ فِي بَيْتِنَا وَقَدَّمْنَا لَهُ زُبْدًا وَتَمْرًا وَكَانَ يُحِبُّ الزُّبْدَ ـ صلى الله عليه وسلم ـ .
#3335
Sahih
‘Abdul-‘Aziz bin Abu Hazim said:My father told me: I asked Sahl bin Sa’d: “Did you ever see dough made from well-sifted flour?” He said: “I never saw dough made from well-sifted flour until the Messenger of Allah (ﷺ) passed away.” I said: “Did they have sieves at the time of the Messenger of Allah (ﷺ)?” He said: “I never saw a sieve until the Messenger of Allah (ﷺ) passed away.” I said: “How did you eat barley that was not sifted?” He said: “We used to blow on it, and whatever flew away, flew away, and whatever was left we made dough with it.”
ابوحازم کہتے ہیں کہ میں نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ نے میدہ دیکھا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک میدہ نہیں دیکھا تھا، تو میں نے پوچھا: کیا لوگوں کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چھلنیاں نہ تھیں؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے کوئی چھلنی نہیں دیکھی یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی، میں نے عرض کیا: آخر کیسے آپ لوگ بلا چھنا جو کھاتے تھے؟ فرمایا: ہاں! ہم اسے پھونک لیتے تو اس میں اڑنے کے لائق چیز اڑ جاتی اور جو باقی رہ جاتا اسے ہم گوندھ لیتے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، سَأَلْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ هَلْ رَأَيْتَ النَّقِيَّ قَالَ مَا رَأَيْتُ النَّقِيَّ حَتَّى قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ . فَقُلْتُ فَهَلْ كَانَ لَهُمْ مَنَاخِلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ مَا رَأَيْتُ مُنْخُلاً حَتَّى قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ . قُلْتُ فَكَيْفَ كُنْتُمْ تَأْكُلُونَ الشَّعِيرَ غَيْرَ مَنْخُولٍ قَالَ نَعَمْ نَنْفُخُهُ فَيَطِيرُ مِنْهُ مَا طَارَ وَمَا بَقِيَ ثَرَّيْنَاهُ .
#3336
Hasan Isnaad
It was narrated from Umm Ayman that she sifted some flour and made a loaf of bread for the Prophet (ﷺ). He said:“What is this?” She said: “It is food that we make in our land, and I wanted to make a loaf of it for you. He said: “Fold it onto itself and knead it.”
ام ایمن رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے آٹا چھانا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس کی روٹی بنائی، آپ نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: یہ وہ کھانا ہے جو ہم اپنے علاقہ میں بناتے ہیں، میں نے چاہا کہ اس سے آپ کے لیے بھی روٹی تیار کروں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے ( چھان کر نکالی گئی بھوسی ) اس میں ڈال دو، پھر اسے گوندھو ۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَخْبَرَنِي بَكْرُ بْنُ سَوَادَةَ، أَنَّ حَنَشَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَهُ عَنْ أُمِّ أَيْمَنَ، أَنَّهَا غَرْبَلَتْ دَقِيقًا فَصَنَعَتْهُ لِلنَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رَغِيفًا فَقَالَ " مَا هَذَا " . قَالَتْ طَعَامٌ نَصْنَعُهُ بِأَرْضِنَا فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَصْنَعَ مِنْهُ لَكَ رَغِيفًا . فَقَالَ " رُدِّيهِ فِيهِ ثُمَّ اعْجِنِيهِ " .
#3337
Daif Isnaad
It was narrated that Anas bin Malik said:“The Messenger of Allah (ﷺ) never saw a thin loaf made from well-sifted flour with his own eyes, until he met Allah.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میدہ کی روٹی ایک آنکھ سے بھی نہیں دیکھی، یہاں تک کہ آپ اللہ تعالیٰ سے جا ملے۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ أَبُو الْجَمَاهِرِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ مَا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رَغِيفًا مُحَوَّرًا بِوَاحِدٍ مِنْ عَيْنَيْهِ حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ .
#3338
Daif Isnaad
It was narrated from Ibn ‘Ata that his father said:“Abu Hurairah visited his people, meaning, a village” – I (one of the narrators) think he said: “Yuna” – “And they brought him some of the first thin loaves of bread. He wept and said: ‘The Messenger of Allah (ﷺ) never saw such a thing with his own eyes.’”
عطا کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنی قوم کی زیارت کی یعنی راوی کا خیال ہے کہ ینانامی بستی میں تشریف لے گئے، وہ لوگ آپ کی خدمت میں پہلی بار کی پکی ہوئی چپاتیوں میں سے کچھ باریک چپاتیاں لے کر آئے، تو وہ رو پڑے اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ روٹی اپنی آنکھ سے کبھی نہیں دیکھی ( چہ جائے کہ کھاتے ) ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْرٍ، عِيسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ النَّحَّاسِ الرَّمْلِيُّ حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنِ ابْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ زَارَ أَبُو هُرَيْرَةَ قَوْمَهُ بِيُبْنَا فَأَتَوْهُ بِرُقَاقٍ مِنْ رُقَاقِ الأُوَلِ فَبَكَى وَقَالَ مَا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ هَذَا بِعَيْنِهِ قَطُّ .
#3339
Sahih
Qatadah said:“We used to go to (visit) Anas bin Malik.” (One of the narrators) Ishaq said: “And his baker was standing there.” (In another narration) Darimi said: “And his table was set. He said one day: ‘(Come and) eat, for the Messenger of Allah (ﷺ) never saw any thin loaf of bread until he met Allah, nor any roasted sheep (with skin).’”
قتادہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آتے تھے ( اسحاق کی روایت میں یہ اضافہ ہے: اس وقت ان کا نان بائی کھڑا ہوتا تھا، اور دارمی نے اس اضافے کے ساتھ روایت کی ہے کہ ان کا دستر خوان لگا ہوتا تھا یعنی تازہ روٹیوں کا کوئی اہتمام نہ ہوتا ) ، ایک دن انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: کھاؤ، مجھے نہیں معلوم کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنی آنکھ سے باریک چپاتی دیکھی بھی ہو، یہاں تک کہ آپ اللہ سے جا ملے، اور نہ ہی آپ نے کبھی مسلّم بھنی بکری دیکھی۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، قَالَ كُنَّا نَأْتِي أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ - قَالَ إِسْحَاقُ وَخَبَّازُهُ قَائِمٌ وَقَالَ الدَّارِمِيُّ وَخِوَانُهُ مَوْضُوعٌ - فَقَالَ يَوْمًا كُلُوا فَمَا أَعْلَمُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رَأَى رَغِيفًا مُرَقَّقًا بِعَيْنِهِ حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ وَلاَ شَاةً سَمِيطًا قَطُّ .
#3340
Mawdu
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“The first we heard of Faludhaj* was when Jibril (as) came to the Prophet (ﷺ) and said: ‘The world will be opened for your nation and they will conquer the world, until they eat Faludhaj.’ The Prophet (ﷺ) said: ‘What is Faludhaj?’ He said: ‘They mix ghee and honey together.’ At that, the Prophet (ﷺ) sobbed.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ سب سے پہلے ہم نے «فالوذج» کا نام اس وقت سنا جب جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے، اور عرض کیا: تمہاری امت ملکوں کو فتح کرے گی، اور اس پر دنیا کے مال و متاع کا ایسا فیضان ہو گا کہ وہ لوگ «فالوذج» کھائیں گے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کیا: «فالوذج» کیا ہے ؟ جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا: لوگ گھی اور شہد ایک ساتھ ملائیں گے، یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہچکیاں بندھ گئیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ السُّلَمِيُّ أَبُو الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ يَحْيَى، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَوَّلُ مَا سَمِعْنَا بِالْفَالُوذَجِ، أَنَّ جِبْرِيلَ، عَلَيْهِ السَّلاَمُ أَتَى النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ إِنَّ أُمَّتَكَ تُفْتَحُ عَلَيْهِمُ الأَرْضُ فَيُفَاضُ عَلَيْهِمْ مِنَ الدُّنْيَا حَتَّى إِنَّهُمْ لَيَأْكُلُونَ الْفَالُوذَجَ . فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " وَمَا الْفَالُوذَجُ " . قَالَ يَخْلِطُونَ السَّمْنَ وَالْعَسَلَ جَمِيعًا . فَشَهَقَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ لِذَلِكَ شَهْقَةً .
#3341
Daif
It was narrated that Ibn ‘Umar said:“One day, the Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘I wish that we had some white bread made of brown wheat, softened with ghee, that we could eat.’ A man from among the Ansar heard that, so he took some (of that food) and brought it to him. The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Where was this ghee kept?’ He said: ‘In a container made of mastigure skin.’ And he refused to eat it.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن فرمایا: میری خواہش ہے کہ اگر ہمارے پاس گھی میں چپڑی ہوئی گیہوں کی سفید روٹی ہوتی، تو ہم اسے کھاتے، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ یہ بات انصار میں ایک شخص نے سن لی، تو اس نے یہ روٹی تیار کی، اور اسے لے کر آپ کے پاس آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ گھی کس چیز میں تھا؟ اس نے جواب دیا: گوہ کی کھال کی کپی میں، ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھانے سے انکار کر دیا۔
حَدَّثَنَا هَدِيَّةُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى السِّيْنَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ذَاتَ يَوْمٍ " وَدِدْتُ لَوْ أَنَّ عِنْدَنَا خُبْزَةً بَيْضَاءَ مِنْ بُرَّةٍ سَمْرَاءَ مُلَبَّقَةٍ بِسَمْنٍ نَأْكُلُهَا " . قَالَ فَسَمِعَ بِذَلِكَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَاتَّخَذَهُ فَجَاءَ بِهِ إِلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " فِي أَىِّ شَىْءٍ كَانَ هَذَا السَّمْنُ " . قَالَ فِي عُكَّةِ ضَبٍّ . قَالَ فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَهُ .
#3342
Sahih
It was narrated that Anas bin Malik said:“Umm Sulaim made some bread for the Prophet (ﷺ), and she put a little ghee on it. Then she said: ‘Go to the Prophet (ﷺ) and invite him (to come and eat).’ So I went and told him: ‘My mother is inviting you (to come and eat).’ So he stood up, and said to the people who were with him: ‘Get up.’ I went ahead of him and told her. Then the Prophet (ﷺ) came and said: ‘Bring what you have made.’ She said: ‘I only made it for you alone.’ He said: ‘Bring it.’ Then he said: ‘O Anas, bring (them) in to me ten by ten.’ So I kept bringing them in ten by ten, and they ate their fill, and there were eighty of them.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ( میری والدہ ) ام سلیم رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے روٹی تیار کی، اور اس میں تھوڑا سا گھی بھی لگا دیا، پھر کہا: جاؤ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا لاؤ، میں نے آپ کے پاس آ کر عرض کیا کہ میری ماں آپ کو دعوت دے رہی ہیں تو آپ کھڑے ہوئے اور اپنے پاس موجود سارے لوگوں سے کہا کہ اٹھو، چلو ، یہ دیکھ کر میں ان سب سے آگے نکل کر ماں کے پاس پہنچا، اور انہیں اس کی خبر دی ( کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بہت سارے لوگوں کے ساتھ تشریف لا رہے ہیں ) اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم آ پہنچے، اور فرمایا: جو تم نے پکایا ہے، لاؤ ، میری ماں نے عرض کیا کہ میں نے تو صرف آپ کے لیے بنایا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لاؤ تو سہی ، پھر فرمایا: اے انس! میرے پاس لوگوں میں سے دس دس آدمی اندر لے کر آؤ ، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں دس دس آدمی آپ کے پاس داخل کرتا رہا، سب نے سیر ہو کر کھایا، اور وہ سب اسّی کی تعداد میں تھے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ صَنَعَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ لِلنَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ خُبْزَةً وَضَعَتْ فِيهَا شَيْئًا مِنْ سَمْنٍ ثُمَّ قَالَتِ اذْهَبْ إِلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَادْعُهُ قَالَ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ أُمِّي تَدْعُوكَ . قَالَ فَقَامَ وَقَالَ لِمَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنَ النَّاسِ " قُومُوا " . قَالَ فَسَبَقْتُهُمْ إِلَيْهَا فَأَخْبَرْتُهَا فَجَاءَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ " هَاتِي مَا صَنَعْتِ " . فَقَالَتْ إِنَّمَا صَنَعْتُهُ لَكَ وَحْدَكَ . فَقَالَ " هَاتِيهِ " . فَقَالَ " يَا أَنَسُ أَدْخِلْ عَلَىَّ عَشْرَةً عَشْرَةً " . قَالَ فَمَا زِلْتُ أُدْخِلُ عَلَيْهِ عَشْرَةً عَشْرَةً فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا وَكَانُوا ثَمَانِينَ .
#3343
Sahih
It was narrated that Abu Hurairah said:“By the One in Whose Hand is my soul, the Prophet of Allah (ﷺ) never ate his fill of wheat bread for three days in a row, until Allah took his soul.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلسل تین روز تک کبھی گیہوں کی روٹی سیر ہو کر نہیں کھائی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دے دی ۱؎۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا شَبِعَ نَبِيُّ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ تِبَاعًا مِنْ خُبْزِ الْحِنْطَةِ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ .
#3344
Sahih
it was narrated that ‘Aishah said:“The family of Muhammad (ﷺ) never ate their fill of wheat bread for three nights in a row, from the time they came to Al-Madinah until he passed away.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں نے جب سے وہ مدینہ آئے ہیں، کبھی بھی تین دن مسلسل گیہوں کی روٹی سیر ہو کر نہیں کھائی، یہاں تک کہ آپ وفات پا گئے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مُنْذُ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ ثَلاَثَ لَيَالٍ تِبَاعًا مِنْ خُبْزِ بُرٍّ حَتَّى تُوُفِّيَ ـ صلى الله عليه وسلم ـ .
#3345
Sahih
It was narrated that ‘Aishah said:“When the Prophet (ﷺ) passed away, there was nothing in my house that any living soul could eat, except a little bit of barley on a shelf of mine. I ate it for a long time, then I weighed it and soon it was all gone.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے، اور حال یہ تھا کہ میرے گھر میں کھانے کی کوئی چیز نہ تھی جسے کوئی جگر والا کھاتا، سوائے تھوڑے سے جو کے جو میری الماری میں پڑے تھے، میں انہیں میں سے کھاتی رہی یہاں تک کہ وہ ایک مدت دراز تک چلتے رہے، پھر میں نے انہیں تولا تو وہ ختم ہو گئے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَقَدْ تُوُفِّيَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَمَا فِي بَيْتِي مِنْ شَىْءٍ يَأْكُلُهُ ذُو كَبِدٍ إِلاَّ شَطْرُ شَعِيرٍ فِي رَفٍّ لِي فَأَكَلْتُ مِنْهُ حَتَّى طَالَ عَلَىَّ فَكِلْتُهُ فَفَنِيَ .
#3346
Sahih
It was narrated that ‘Aishah said:“The family of Muhammad (ﷺ) never ate their fill of barley bread until he was taken (i.e. died).”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل و عیال نے کبھی بھی جو کی روٹی سیر ہو کر نہیں کھائی یہاں تک کہ آپ کی وفات ہو گئی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ، يُحَدِّثُ عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مِنْ خُبْزِ الشَّعِيرِ حَتَّى قُبِضَ .
#3347
Hasan
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“The Messenger of Allah (ﷺ) used to spend many nights in a row hungry and his family could find no supper, and usually their bread was barley bread.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل کئی راتیں بھوکے گزارتے، اور ان کے اہل و عیال کو رات کا کھانا میسر نہیں ہوتا، اور اکثر ان کے کھانے میں جو کی روٹی ہوتی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَبِيتُ اللَّيَالِيَ الْمُتَتَابِعَةَ طَاوِيًا وَأَهْلُهُ لاَ يَجِدُونَ الْعَشَاءَ وَكَانَ عَامَّةَ خُبْزِهِمْ خُبْزُ الشَّعِيرِ .
#3348
Daif
It was narrated from Hasan that Anas bin Malik said:“The Messenger of Allah (ﷺ) wore wool, and his shows were sandals.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اون کا لباس اور پیوند لگا جوتا پہن لیتے تھے اور فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موٹا کھایا اور موٹا پہنا۔ حسن بصری سے پوچھا گیا کہ موٹا کھانے سے کیا مراد ہے؟ جواب دیا: جو کی موٹی روٹی جو پانی کے گھونٹ کے بغیر حلق سے نیچے نہیں اترتی تھی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ، - وَكَانَ يُعَدُّ مِنَ الأَبْدَالِ - حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ نُوحِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ لَبِسَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ الصُّوفَ وَاحْتَذَى الْمَخْصُوفَ . وَقَالَ أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بَشِعًا وَلَبِسَ خَشِنًا . فَقِيلَ لِلْحَسَنِ مَا الْبَشِعُ قَالَ غَلِيظُ الشَّعِيرِ مَا كَانَ يُسِيغُهُ إِلاَّ بِجُرْعَةِ مَاءٍ .
#3349
Sahih
Miqdam bin Madikarib said:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘A human being fills no worse vessel than his stomach. It is sufficient for a human being to eat a few mouthfuls to keep his spine straight. But if he must (fill it), then one third of food, one third for drink and one third for air.’”
مقدام بن معد یکرب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: آدمی نے پیٹ سے زیادہ برا کوئی برتن نہیں بھرا، آدمی کے لیے کافی ہے کہ وہ اتنے لقمے کھائے جو اس کی پیٹھ سیدھی رکھ سکیں، لیکن اگر آدمی پر اس کا نفس غالب آ جائے، تو پھر ایک تہائی پیٹ کھانے کے لیے، ایک تہائی پینے کے لیے، اور ایک تہائی سانس لینے کے لیے رکھے ۱؎۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَتْنِي أُمِّي، عَنْ أُمِّهَا، أَنَّهَا سَمِعَتِ الْمِقْدَامَ بْنَ مَعْدِيكَرِبَ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " مَا مَلأَ آدَمِيٌّ وِعَاءً شَرًّا مِنْ بَطْنٍ حَسْبُ الآدَمِيِّ لُقَيْمَاتٌ يُقِمْنَ صُلْبَهُ فَإِنْ غَلَبَتِ الآدَمِيَّ نَفْسُهُ فَثُلُثٌ لِلطَّعَامِ وَثُلُثٌ لِلشَّرَابِ وَثُلُثٌ لِلنَّفَسِ " .
#3350
Hasan
It was narrated that Ibn ‘Umar said:“A man burped in the presence of the Prophet (ﷺ) and he said: ‘Withhold your burps from us! For the most hungry of you on the Day of Resurrection will be those who most ate their fill in this world.’”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ڈکار لی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی ڈکار کو ہم سے روکو، اس لیے کہ قیامت کے دن تم میں سب سے زیادہ بھوکا وہ رہے گا جو دنیا میں سب سے زیادہ سیر ہو کر کھا تا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو يَحْيَى، عَنْ يَحْيَى الْبَكَّاءِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ تَجَشَّأَ رَجُلٌ عِنْدَ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ " كُفَّ جُشَاءَكَ عَنَّا فَإِنَّ أَطْوَلَكُمْ جُوعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرُكُمْ شِبَعًا فِي دَارِ الدُّنْيَا " .