#3076
Sahih
Sufyan said:“The Messenger of Allah (ﷺ) performed Hajj three times, twice before he emigrated, and once after he had emigrated, and once after he had emigrated to Al-Madinah. He performed ‘Umrah along with his Hajj. The total number of camels brought by the Prophet (ﷺ) and ‘Ali was one hundred. Among them was a (male) camel belonging to Abu Jahl, which had a silver ring in its nose. The Prophet (ﷺ) slaughtered sixty-three with his own hand, and ‘Ali slaughtered the rest.”
سفیان ثوری کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین حج کئے ۱؎، دو حج ہجرت سے پہلے، اور ایک حج ہجرت کے بعد مدینہ سے آ کر کیا، اس حج کے ساتھ آپ نے عمرہ کو بھی ملایا ( یعنی قران کیا ) اس حج میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ جو اونٹ لے کر آئے تھے، اور جو علی رضی اللہ عنہ ( یمن سے ) لے کر آئے تھے سب ملا کر کل سو اونٹ تھے، جن میں سے ایک اونٹ ابوجہل کا بھی تھا، اس کی ناک میں چاندی کا ایک چھلہ تھا، ان میں سے ۶۳ اونٹوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے نحر کیا، اور جو باقی رہ گئے انہیں علی رضی اللہ عنہ نے نحر کیا، سفیان سے پوچھا گیا کہ یہ حدیث کس نے روایت کی ہے تو انہوں نے کہا: جعفر صادق نے اپنے والد سے، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے اور ابن ابی لیلیٰ نے حکم سے، حکم نے مقسم سے اور مقسم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے۔
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَجَّ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ثَلاَثَ حَجَّاتٍ حِجَّتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُهَاجِرَ وَحَجَّةً بَعْدَ مَا هَاجَرَ مِنَ الْمَدِينَةِ وَقَرَنَ مَعَ حَجَّتِهِ عُمْرَةً وَاجْتَمَعَ مَا جَاءَ بِهِ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَمَا جَاءَ بِهِ عَلِيٌّ مِائَةَ بَدَنَةٍ مِنْهَا جَمَلٌ لأَبِي جَهْلٍ فِي أَنْفِهِ بُرَةٌ مِنْ فِضَّةٍ فَنَحَرَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِيَدِهِ ثَلاَثًا وَسِتِّينَ وَنَحَرَ عَلِيٌّ مَا غَبَرَ . قِيلَ لَهُ مَنْ ذَكَرَهُ قَالَ جَعْفَرٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرٍ وَابْنُ أَبِي لَيْلَى عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ .
#3077
Sahih
It was narrated from ‘Ikrimah:“Hajjaj bin ‘Amr Ansari narrated to me, he said: ‘I heard the Prophet (ﷺ) say: “Whoever breaks a bone or becomes lame, has exited Ihram, but he must perform another Hajj.”
حجاج بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس حاجی کی ہڈی ٹوٹ جائے، یا لنگڑا ہو جائے، تو وہ حلال ہو جائے ( احرام کھول ڈالے ) اب اس پر دوسرا حج ہے ۱؎۔ عکرمہ کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث ابن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے بیان کی تو ان دونوں نے کہا: حجاج نے سچ کہا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ، عُلَيَّةَ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ، حَدَّثَنِي الْحَجَّاجُ بْنُ عَمْرٍو الأَنْصَارِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " مَنْ كُسِرَ أَوْ عَرِجَ فَقَدْ حَلَّ وَعَلَيْهِ حَجَّةٌ أُخْرَى " . فَحَدَّثْتُ بِهِ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَأَبَا، هُرَيْرَةَ فَقَالاَ صَدَقَ .
#3078
Sahih
It was narrated from ‘Ikrimah, from ‘Abdullah bin Rafi’, the freed slave of Umm Salamah, that he said:“I asked Hajjaj bin ‘Amr about a Muhrim being prevented (from completing Hajj). He said: ‘The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever breaks a bone, falls sick or becomes lame, has exited Ihram, and he has to perform Hajj the following year.” 'Ikrimah (a subnarrator) said: I narrated it to Ibn 'Abbas and Abu Hurairah. They said he spoke the truth
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے غلام عبداللہ بن رافع کہتے ہیں کہ میں نے حجاج بن عمرو رضی اللہ عنہ سے محرم کے رک جانے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جس شخص کی ہڈی ٹوٹ گئی، یا بیمار ہو گیا، یا لنگڑا ہو گیا تو وہ حلال ہو گیا اور اس پر آئندہ سال حج ہے ۱؎۔ عکرمہ کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث ابن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے بیان کی تو انہوں نے کہا: حجاج نے سچ کہا۔ عبدالرزاق کہتے ہیں کہ مجھے یہ حدیث ہشام صاحب دستوائی کی کتاب میں ملی، تو اسے لے کر میں معمر کے پاس آیا، تو انہوں نے یہ حدیث مجھے پڑھ کر سنائی یا میں نے ا نہیں پڑھ کر سنائی
حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ، - مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ - قَالَ سَأَلْتُ الْحَجَّاجَ بْنَ عَمْرٍو عَنْ حَبْسِ الْمُحْرِمِ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَنْ كُسِرَ أَوْ مَرِضَ أَوْ عَرِجَ فَقَدْ حَلَّ وَعَلَيْهِ الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ " . قَالَ عِكْرِمَةُ فَحَدَّثْتُ بِهِ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَأَبَا، هُرَيْرَةَ فَقَالاَ صَدَقَ . قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ فَوَجَدْتُهُ فِي جُزْءِ هِشَامٍ صَاحِبِ الدَّسْتَوَائِيِّ فَأَتَيْتُ بِهِ مَعْمَرًا فَقَرَأَ عَلَىَّ أَوْ قَرَأْتُ عَلَيْهِ .
#3079
Sahih
It was narrated that ‘Abdullah bin Ma’qil said:“I sat with Ka’b bin ‘Ujrah in the mosque and asked him about this Verse: ‘He must pay a compensation of either fasting (three days) or giving charity (feeding six poor persons) or offering sacrifice (one sheep).’ [2:196] Ka’b said: it was revealed concerning me. I had trouble with my head, so I was carried to the Messenger of Allah (ﷺ), with lice crawling on my face. He said: ‘I did not think that you were suffering as much as I see. Do you have a sheep?’ I said: ‘No.’ Then this Verse was revealed: “He must pay a Fidyah (ransom) of either fasting (three days) or giving Sadaqah (charity – feeding six poor persons) or offering sacrifice (one sheep).” [2:196] He said: ‘Fasting is three days, charity is to be given to six poor persons, giving each one half of a Sa’ of food, and the sacrifice is a sheep.’”
عبداللہ بن معقل کہتے ہیں کہ میں مسجد میں کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تو میں نے ان سے آیت کریمہ: «ففدية من صيام أو صدقة أو نسك» ( سورۃ البقرہ: ۱۹۶ ) کے متعلق پوچھا تو آپ نے کہا کہ یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی ہے، میرے سر میں تکلیف تھی تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس حال میں لایا گیا کہ جوئیں ( میرے سر میں اتنی کثرت سے تھیں کہ ) میرے منہ پر گر رہی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نہیں سمجھتا تھا کہ تمہیں اس قدر تکلیف ہو گی، کیا ایک بکری تمہیں مل سکتی ہے ؟ میں نے عرض کیا: نہیں، تب یہ آیت اتری: «ففدية من صيام أو صدقة أو نسك» یعنی فدیہ ہے صوم کا یا صدقہ کا یا قربانی کا ، تو صوم تین دن کا ہے، اور صدقہ چھ مسکینوں کو کھانا دینا ہے، ہر مسکین کو آدھا صاع، اور قربانی ایک بکری کی ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَصْبَهَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ، قَالَ قَعَدْتُ إِلَى كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ فِي الْمَسْجِدِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذِهِ الآيَةِ، {فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ} . قَالَ كَعْبٌ فِيَّ أُنْزِلَتْ كَانَ بِي أَذًى مِنْ رَأْسِي فَحُمِلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى وَجْهِي فَقَالَ " مَا كُنْتُ أُرَى الْجُهْدَ بَلَغَ مِنْكَ مَا أَرَى أَتَجِدُ شَاةً " . قُلْتُ لاَ . قَالَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ {فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ} . قَالَ فَالصَّوْمُ ثَلاَثَةُ أَيَّامٍ وَالصَّدَقَةُ عَلَى سِتَّةِ مَسَاكِينَ لِكُلِّ مِسْكِينٍ نِصْفُ صَاعٍ مِنْ طَعَامٍ وَالنُّسُكُ شَاةٌ .
#3080
Hasan
It was narrated that Ka’b bin ‘Ujrah said:“The Prophet (ﷺ) commanded me, when I was suffering, from live, to shave my head and fast for three days or feed six poor persons. He knew that I did not have an animal I could sacrifice.”
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جس وقت جوؤں نے مجھے پریشان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اپنا سر منڈوا ڈالوں، اور تین دن روزے رکھوں، یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے کہ میرے پاس قربانی کے لیے کچھ نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ أَمَرَنِي النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ حِينَ آذَانِي الْقَمْلُ أَنْ أَحْلِقَ رَأْسِي وَأَصُومَ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أُطْعِمَ سِتَّةَ مَسَاكِينَ وَقَدْ عَلِمَ أَنْ لَيْسَ عِنْدِي مَا أَنْسُكُ .
#3081
Sahih
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Prophet (ﷺ) was treated with cupping when he was fasting and in the state of Ihram
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے کی حالت میں پچھنے لگوائے، اور آپ احرام کی حالت میں تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ احْتَجَمَ وَهُوَ صَائِمٌ مُحْرِمٌ .
#3082
Sahih
It was narrated from Jabir that the Prophet (ﷺ) was treated with cupping when he was in the state of Ihram, because he did not feel well
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کی حالت میں ایک درد کی وجہ سے جو آپ کو ہوا تھا، پچھنے لگوائے۔
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الضَّيْفِ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ مِنْ رَهْصَةٍ أَخَذَتْهُ .
#3083
Daif Isnaad
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Prophet (ﷺ) used to put oil on his head when he was in the state of Ihram, but not oil that was perfumed
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احرام کی حالت میں اپنے سر میں زیتون کا تیل لگاتے تھے جو «مقتت» ( خوشبودار ) نہ ہوتا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ يَدَّهِنُ رَأْسَهُ بِالزَّيْتِ وَهُوَ مُحْرِمٌ غَيْرَ الْمُقَتَّتِ .
#3084
Sahih
It was narrated from Ibn ‘Abbas that a man’s neck was broken by his mount (from falling) while he was in the state of Ihram. The Prophet (ﷺ) said:“Wash him with water and lote leaves, and shroud him in his two garments, but do not cover his face or his head, for he will be raised on the Day of Resurrection reciting the Talbiyah.” Another chain reports the same except a different verb was used for the break of the neck and he said "do not bring him near perfume, for he will be raised on the Day of Resurrection reciting the Talbiyah.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ احرام کی حالت میں ایک شخص کی اونٹنی نے اس کی گردن توڑ ڈالی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو پانی اور بیر کی پتی سے غسل دو، اور اس کے دونوں کپڑوں ہی میں اسے کفنا دو، اس کا منہ اور سر نہ ڈھانپو کیونکہ وہ قیامت کے دن لبیک کہتا ہوا اٹھایا جائے گا ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلاً، أَوْقَصَتْهُ رَاحِلَتُهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ وَلاَ تُخَمِّرُوا وَجْهَهُ وَلاَ رَأْسَهُ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا " . حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، مِثْلَهُ إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ أَعْقَصَتْهُ رَاحِلَتُهُ . وَقَالَ " لاَ تُقَرِّبُوهُ طِيبًا فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا " .
#3085
Sahih
It was narrated that Jabir said:“The Messenger of Allah (ﷺ) stipulated (the penalty of) a man for a hyena killed by a man in Ihram, and he considered it as game.”
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محرم کے شکار کئے ہوئے بجو کے کفارہ میں ایک مینڈھا متعین فرمایا، اور اسے شکار قرار دیا ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي الضَّبُعِ يُصِيبُهُ الْمُحْرِمُ كَبْشًا وَجَعَلَهُ مِنَ الصَّيْدِ .
#3086
Daif
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said, concerning an ostrich egg taken by a Muhrim:“Its cost (must be paid as a penalty).”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شتر مرغ کے انڈوں کے بارے میں جو محرم کو ملیں، فرمایا: اسے اس کی قیمت دینی ہو گی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ أَبِي الْمُهَزِّمِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ فِي بَيْضِ النَّعَامِ يُصِيبُهُ الْمُحْرِمُ " ثَمَنُهُ " .
#3087
Sahih
It was narrated from ‘Aishah that the Prophet (ﷺ) said:“There are five vermin that might be killed whether one is in or outside the sacred precincts: the snake, the speckled crow, the mouse, the vicious dog, and the kite.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ موذی جانور ہیں جنہیں حرم اور حرم سے باہر دونوں جگہوں میں قتل کیا جائے گا: سانپ، چتکبرا کوا، چوہیا، کاٹنے والا کتا، اور چیل ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " خَمْسٌ فَوَاسِقُ يُقْتَلْنَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ الْحَيَّةُ وَالْغُرَابُ الأَبْقَعُ وَالْفَأْرَةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ وَالْحِدَأَةُ " .
#3088
Sahih
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“There are five animals, for which there is no sin on a person if he kills them” – or he said: “if he kills them when in Ihram – the scorpion, the crow, the kite, the mouse and the vicious dog.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ قسم کے جانور ہیں جنہیں احرام کی حالت میں مارنے میں گناہ نہیں: بچھو، کوا، چیل، چوہیا اور کاٹ کھانے والا کتا ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ لاَ جُنَاحَ عَلَى مَنْ قَتَلَهُنَّ - أَوْ قَالَ فِي قَتْلِهِنَّ - وَهُوَ حَرَامٌ الْعَقْرَبُ وَالْغُرَابُ وَالْحِدَأَةُ وَالْفَأْرَةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ " .
#3089
Daif
It was narrated from Abu Sa’eed that the Prophet (ﷺ) said:‘The one in Ihram may kill the snake, the scorpion, the aggressive predator, the vicious dog and the harmful mouse.” It was said to him: “Why is it said that they are harmful?” He said:* “Because the Messenger of Allah (ﷺ) woke up because of one, and it had taken the wick (of the lamp) to burn down the house.”
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: محرم سانپ، بچھو، حملہ آور درندے، کاٹ کھانے والے کتے، اور فسادی چوہیا کو قتل کر سکتا ہے ، ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: اسے فسادی کیوں کہا گیا؟ کہا: اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی وجہ سے جاگتے رہے، وہ بتی لے گئی تھی تاکہ گھر میں آگ لگا دے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنَّهُ قَالَ " يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ الْحَيَّةَ وَالْعَقْرَبَ وَالسَّبُعَ الْعَادِيَ وَالْكَلْبَ الْعَقُورَ وَالْفَأْرَةَ الْفُوَيْسِقَةَ " . فَقِيلَ لَهُ لِمَ قِيلَ لَهَا الْفُوَيْسِقَةُ قَالَ لأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ اسْتَيْقَظَ لَهَا وَقَدْ أَخَذَتِ الْفَتِيلَةَ لِتُحْرِقَ بِهَا الْبَيْتَ .
#3090
Sahih
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“Sa;b bin Jaththamah told us: ‘The Messenger of Allah (ﷺ) passed by me when I was in Abwa’ or Waddan, and I gave him some meat of a wild donkey, but he gave it back to me, and when he saw from my face that I was upset, he said: ‘The only reason that we are giving it back is that we are in Ihram.’”
صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس گزرے، میں ابواء یا ودان میں تھا، میں نے آپ کو ہدیہ میں ایک نیل گائے دی، آپ نے اسے لوٹا دیا، پھر جب آپ نے میرے چہرہ پر ناگواری دیکھی تو فرمایا: ہم یہ تمہیں نہیں لوٹاتے، لیکن ہم احرام باندھے ہوئے ہیں ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا صَعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ، قَالَ مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَأَنَا بِالأَبْوَاءِ أَوْ بِوَدَّانَ فَأَهْدَيْتُ لَهُ حِمَارَ وَحْشٍ فَرَدَّهُ عَلَىَّ فَلَمَّا رَأَى فِي وَجْهِيَ الْكَرَاهِيَةَ . قَالَ " إِنَّهُ لَيْسَ بِنَا رَدٌّ عَلَيْكَ وَلَكِنَّا حُرُمٌ " .
#3091
Sahih
It was narrated that ‘Ali bin Abu Talib said:“The Prophet (ﷺ) brought some meat from some game when he was in Ihram, and he did not eat it.”
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شکار کا گوشت لایا گیا، اور آپ احرام کی حالت میں تھے تو آپ نے اسے نہیں کھایا۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِلَحْمِ صَيْدٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَلَمْ يَأْكُلْهُ .
#3092
Isnaad Malool
It was narrated from Talhah bin ‘Ubaidullah that the Prophet (ﷺ) gave him some wild donkey meat, and told him to distribute it among his Companions, who were in Ihram
طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک نیل گائے دی، اور حکم دیا کہ اسے اپنے ساتھیوں میں تقسیم کر دیں، اور وہ سب محرم تھے
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَعْطَاهُ حِمَارَ وَحْشٍ وَأَمَرَهُ أَنْ يُفَرِّقَهُ فِي الرِّفَاقِ وَهُمْ مُحْرِمُونَ .
#3093
Sahih
It was narrated from ‘Abdullah bin Abu Qatadah that his father said:“I went out with the Messenger of Allah (ﷺ) at the time of Hudaibiyah, and his Companions entered Ihram, but I did not. I saw a donkey do I hunted it. I mentioned that to the Messenger of Allah (ﷺ) and told him: ‘I had not entered Ihram, and I was hunting it for you.’ The Prophet (ﷺ) told his Companions to eat it, but he did not eat from it, because I told him that I had hunted it for him.”
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں حدیبیہ کے زمانہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلا، آپ کے صحابہ نے احرام باندھ لیا، اور میں بغیر احرام کے تھا، میں نے ایک نیل گائے دیکھی تو اس پر حملہ کر کے اس کا شکار کر لیا، پھر میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، اور عرض کیا کہ میں بغیر احرام کے تھا، اور میں نے اس کا شکار آپ ہی کے لیے کیا ہے، یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے کہا کہ وہ اسے کھا لیں، اور جب میں نے آپ کو یہ بتایا کہ یہ شکار میں نے آپ کے لیے کیا ہے تو آپ نے اس میں سے نہیں کھایا ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فَأَحْرَمَ أَصْحَابُهُ وَلَمْ أُحْرِمْ فَرَأَيْتُ حِمَارًا فَحَمَلْتُ عَلَيْهِ وَاصْطَدْتُهُ فَذَكَرْتُ شَأْنَهُ لِرَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَذَكَرْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ أَحْرَمْتُ وَأَنِّي إِنَّمَا اصْطَدْتُهُ لَكَ فَأَمَرَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَصْحَابَهُ فَأَكَلُوا وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ حِينَ أَخْبَرْتُهُ أَنِّي اصْطَدْتُهُ لَهُ .
#3094
Sahih
‘Aishah the wife of the Prophet (ﷺ) said; “The Messenger of Allah (ﷺ) used to send the sacrificial animal from Al-Madinah, and I would twist the garlands for his sacrificial animal, then, he would not (because of that) avoid the things that the one in Ihram avoids.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہدی کا جانور مدینہ سے بھیجتے تھے، میں آپ کے ہدی کے جانوروں کے لیے قلادہ ۱؎ ( پٹہ ) بٹتی تھی، پھر آپ ان چیزوں سے پرہیز نہیں کرتے تھے جن سے محرم پرہیز کرتا ہے ۲؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يُهْدِي مِنَ الْمَدِينَةِ فَأَفْتِلُ قَلاَئِدَ هَدْيِهِ ثُمَّ لاَ يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُ الْمُحْرِمُ .
#3095
Sahih
It was narrated that ‘Aishah the wife of the Prophet (ﷺ) said:“I used to twist the garlands for the sacrificial animal of the Prophet (ﷺ), and his sacrificial animal would be garlanded and sent (to Makkah), and he would stay (in Al-Madinah) without avoiding any of the things that the one in Ihram avoids.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی ۱؎ کے لیے قلادہ ( پٹہ ) بٹتی تھی، آپ وہ قلادہ اپنی ہدی والے جانور کے گلے میں ڈالتے، پھر اس کو روانہ فرما دیتے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ ہی میں مقیم رہتے، اور جن باتوں سے محرم پرہیز کرتا ہے ان میں سے کسی بات سے آپ پرہیز نہیں کرتے تھے ۲؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَتْ كُنْتُ أَفْتِلُ الْقَلاَئِدَ لِهَدْىِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَيُقَلِّدُ هَدْيَهُ ثُمَّ يَبْعَثُ بِهِ ثُمَّ يُقِيمُ لاَ يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُهُ الْمُحْرِمُ .
#3096
Sahih
It was narrated that ‘Aishah said:“On one occasion the Messenger of Allah (ﷺ) sent sheep to the House, and he garlanded them.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار بیت اللہ کی طرف ہدی کے لیے بکریاں بھیجیں، تو آپ نے ان کے گلے میں بھی قلادہ ( پٹہ ) ڈال کر بھیجا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ أَهْدَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مَرَّةً غَنَمًا إِلَى الْبَيْتِ فَقَلَّدَهَا .
#3097
Sahih
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Prophet (ﷺ) marked the sacrificial animal on the right side of the hump and wiped away the blood
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدی کے اونٹ کے داہنے کوہان میں اشعار کیا، اور اس سے خون صاف کیا، علی بن محمد نے اپنی روایت میں کہا کہ اشعار ذو الحلیفہ میں کیا، اور دو جوتیاں اس کے گلے میں لٹکائیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ الأَعْرَجِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَشْعَرَ الْهَدْىَ فِي السَّنَامِ الأَيْمَنِ وَأَمَاطَ عَنْهُ الدَّمَ . وَقَالَ عَلِيٌّ فِي حَدِيثِهِ بِذِي الْحُلَيْفَةِ وَقَلَّدَ نَعْلَيْنِ .
#3098
Sahih
It was narrated from ‘Aishah that the Prophet (ﷺ) garlanded, and marked, and sent (the sacrificial animals), but he did not avoid anything that the one in Ihram avoids
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدی کو قلادہ پہنایا، اس کا اشعار کیا، اور اسے ( مکہ ) بھجوایا، اور ان باتوں سے پرہیز نہیں کیا جن سے محرم پرہیز کرتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ أَفْلَحَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَلَّدَ وَأَشْعَرَ وَأَرْسَلَ بِهَا وَلَمْ يَجْتَنِبْ مَا يَجْتَنِبُ الْمُحْرِمُ .
#3099
Sahih
It was narrated that ‘Ali bin Abu Talib said:“The Messenger of Allah (ﷺ) commanded me to look after his sacrificial camels, to share out their covers and skins, and not to give the butcher any of it. He said: ‘We will give him (his wages).’”
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے ہدی کے اونٹوں کی نگرانی کا حکم دیا، اور کہا کہ میں ان کی جھولیں اور ان کی کھالیں ( غریبوں اور محتاجوں میں ) بانٹ دوں، اور ان میں سے قصاب کو کچھ نہ دوں، آپ نے فرمایا: ہم اسے اجرت اپنے پاس سے دیں گے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنْ أَقُومَ عَلَى بُدْنِهِ وَأَنْ أَقْسِمَ جِلاَلَهَا وَجُلُودَهَا وَأَنْ لاَ أُعْطِيَ الْجَازِرَ مِنْهَا شَيْئًا وَقَالَ " نَحْنُ نُعْطِيهِ " .
#3100
Sahih
It was narrated from Ibn ‘Abbas that among the sacrificial animals the Prophet (ﷺ) included a (male) camel belonging to Abu Jahl, which had a silver nose ring
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہدی کے جانوروں میں ابوجہل کا ایک اونٹ بھیجا جو ( جنگ میں بطور غنیمت آپ کو ملا تھا ) جس کی ناک میں چاندی کا ایک چھلا تھا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَهْدَى فِي بُدْنِهِ جَمَلاً لأَبِي جَهْلٍ بُرَتُهُ مِنْ فِضَّةٍ .